20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 20:41

وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِیْۚ Open ayah 20:41 in the Quran reader

اور میں نے تجھ کو خاص اپنے لئے منتخب کیا ہے۔

-4 1 اور میں نے تجھ کو خاص اپنے لئے منتخب کیا اور بنایا ہے۔ یعنی اپنی توحید کی تبلیغ کے لئے ہم نے تمہارا انتخاب کیا ہے اور تمہاری ساخت اس لئے کی ہے کہ جہاں ہم کہیں تم ہمارا پیام لے کر وہاں جائو۔
Ayah 20:42

اِذْهَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْكَ بِاٰیٰتِیْ وَ لَا تَنِیَا فِیْ ذِكْرِیْۚ Open ayah 20:42 in the Quran reader

اب تو اور تیرا بھائی دونوں میری نشانیاں لے کر جائو اور تم دونوں میری یاد میں سستی نہ کرنا

-42 اب تو اور تیرا بھائی میری نشانیاں اور معجزات لے کر جائو اور تم دونوں میری یاد اور میرے ذکر میں سستی نہ کرنا۔ یعنی وہ نشانیاں جن کی تعداد نو ہے اور جن کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ آیا ہے یا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی لکڑی اور ہاتھ کے روشن ہونے کی طرف اشارہ ہو اور جمع کا لفظ ان کی عظمت اور تعداد اعجاز کی وجود کے اعتبار سے ہو بہرحال ! دلائل و معجزات کے ہمراہ جانے کا حکم ہوا اور لاتینآ محض اہتمام کے لئے فرمایا ورنہ انبیاء علیہم ال صلوۃ والسلام تو ذکر الٰہی میں خود ہی بہت چست ہوتے ہیں چونکہ سخت دشمن سے مقابلہ تھا اس لئے ذکر الٰہی میں تاکید فرمائی کیونکہ ذکر الٰہی اور اللہ تعالیٰ کو ہر وقت یاد کرتے رہنا ہی اطمینان قلب کا موجب ہے۔
Ayah 20:43

اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰىۚۖ Open ayah 20:43 in the Quran reader

تم دونوں فرعون کے پاس جائو وہ حد سے بہت تجاوز کرچکا ہے

-43 تم دونوں فرعون کے پاس جائو کیونکہ وہ حد سے بہت آگے نکل چکا ہے۔ یعنی شرع کی حد سے بڑھ گیا ہے اور عبودیت کی حد سے آگے نکل گیا ہے ظلم اور سفاکی پر کمر باندھ لی ہے۔
Ayah 20:44

فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى Open ayah 20:44 in the Quran reader

پھر وہاں جا کر اس سے نرم بات کرنا شاید وہ نصیحت مان لے یا ڈر جائے

-44 پھر تم وہاں جا کر فرعون سے نرم بات اور نرمی کے ساتھ گفتگو کرنا شاید و ہ نصیحت قبول کرلے۔ یا اللہ تعالیٰ کے ذاب اور اس کی گرفت سے ڈر جائے۔ یعنی موقعہ نرمی کرنے کا ہے سختی اور درشتی کا نہیں کبھی ایسا نہ ہو کہ گفتگو کی تلخی سے حق بات کو قبول نہ کرے اور اچٹ جائے۔
Ayah 20:45

قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ اَوْ اَنْ یَّطْغٰى Open ayah 20:45 in the Quran reader

دونوں بھائیوں نے عرض کیا اے ہمارے رب ! ہم اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں وہ ہم پر زیادتی کر بیٹھے یا وہ اور زیادہ سرکشی نہ کرنے لگے۔

-45 اس حکم کے بعد دونوں بھائیوں نے عرض کیا اے ہمارے پروردگار ہم اس بات سے ڈرتے ہیں اور ہم کو اس امر کا اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر کوئی زیادتی نہ کر بیٹھے یا وہ اور زیادہ سرکشی نہ کرنے لگے۔ یعنی تبلیغ سے پہلے ہی کوئی زیادتی کرے یا دوران تبلیغ میں کافرانہ حرکات کا مرتکب ہو اور ان حرکات میں حد سے تجاوز کرے۔
Ayah 20:46

قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى Open ayah 20:46 in the Quran reader

خدا نے فرمایا تم ڈرو نہیں بیشک میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہوں۔

-46 حضرت حق تعالیٰ نے فرمایا تم بالکل خوف نہ کرو اور کچھ اندیشہ نہ کرو بلاشبہ می تم دونوں کے ساتھ ہوں سب سنتا اور دیکھتا ہوں۔ یعنی میں تمہارا محافظ اور نگراں ہوں خوف کی کوئی وجہ نہیں۔
Ayah 20:47

فَاْتِیٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْ١ؕ قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى Open ayah 20:47 in the Quran reader

اچھا تو اب تم اس کے پاس جائو اور اس سے کہو کہ ہم دونوں تیرے پروردگار کے فرستادے ہیں سو تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ کر دے اور ان کو کسی طرح تکلیف نہ پہنچا بلاشبہ ہم تیرے رب کی طرف سے تیرے پاس نشان یعنی معجزہ لے کر آئے ہیں اور اس شخص پر سلامتی ہو جو صحیح راہ کی پیروی کرے۔

-47 اچھا تو اب تم اس فرعون کے پاس جائو اور جا کر اس سے کہو کہ ہم دونوں تیرے پروردگار کے فرستادے اور رسول ہیں لہٰذا تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ کر دے اور ہمارے ساتھ جانے دے اور ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہونچا بلاشبہ ہم تیرے پروردگار کی جانب سے تیرے پاس نشان لے کر آئے ہیں اور اس شخص پر امن و سلامتی کا نزول یا سایہ ہو جو صحیح راہ کی پیروی کرے اور سیدھی راہ چلے۔ چونکہ فرعون نے بنی اسرائیل کو ہر قسم کی قیود کا پابند کر رکھا تھا اس لئے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نے ان کی آزادی کے لئے اپیل کی اور سمجھایا کہ ان کو تکلیف نہ پہونچا اور ان کے جانے آنے پر جو پابندیاں عائد کر رکھی ہیں ان سے آزاد کر دے۔ یہ جہاں چاہیں وہاں رہیں بسیں اور ہم اپنی نبوت پر تیرے پروردگار کی طرف سے دلیل بھی لے کر آئے ہیں یعنی ہماری تحریک کوئی بنائوٹی اور مصنوعی تحریک نہیں ہے بلکہ یہ ایک آسمانی تحریک ہے اور ہم اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے بھیجے گئے ہیں اور جو ہماری بات سن کر قبول کرے گا اور ہمارا بتایا ہوا طریقہ اختیار کرے گا اس کو دونوں جہان میں عذاب الٰہی اور اس کی گرفت سے سلامتی نصیب ہوگی۔
Ayah 20:48

اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى Open ayah 20:48 in the Quran reader

بیشک ہم پر یہ بات وحی کی گئی ہے کہ ہر قسم کا عذاب اس شخص کو ہوگا جو جھٹلائے اور روگردانی کرے۔

-48 اور بلاشبہ ہم کو یہ حکم بھیجا گیا ہے اور ہم کو یہ بات وحی کی گئی ہے کہ ہر قسم کا عذاب اس شخص پر ہوگا جو تکذیب کا مرتکب ہو اور احکام الٰہی سے روگردانی کرے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کا وہی شخص دنیا میں یا آخرت میں یا دونوں جہان میں مستحق ہوگا جو دین حق کی تکذیب کرے اور راہ حق سے روگردانی کرے اور پیٹھ پھیرے۔
Ayah 20:49

قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:49 in the Quran reader

فرعون نے کہا اے موسیٰ وہ تم دونوں کا رب کون ہے۔

-49 فرعون نے یہ سب سن کر بات کو ٹلانے کی غرض سے کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) تم دونوں کا پروردگار کون ہے۔ یعنی ذات وصفات کی بحث میں الجھانا چاہا جیسا کہ سورة شعراء میں ہے ۔ وما رب العالمین فرعون یا تو دہری ہوگا۔ صائع عالم کا قائل ہوگا یا خود خدائی کا مدعی ہوگا۔ جیسا کہ سورة قصص میں ہے ماعلمت لکم من الہ غیری۔
Ayah 20:50

قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى Open ayah 20:50 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شئی کو اس کے مناسب اس کی صورت کو شکل عطا فرمائی پھر اس کی رہنمائی کی۔

-50 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے برجستہ جواب دیا ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر شئی کو اس کے مناسب اور اس کی استعداد کے موافق شکل و صورت عطا فرمائی پھر اس کی رہنمائی فرمائی اور اس کو راہ بتائی۔ یعنی ہر جاندار کو اس کی استعداد کے موافق ساخت عطا کی پھر ہر قسم کے منافع اور مصالح کے حصول کی سمجھ عطا فرمائی بلکہ زندہ رہین کے اسباب میں اس کی رہنمائی فرمائی۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی کھانے پینے کا ہوش دیا بچے کو وہ دودھ پینا نہ سکھائے تو کون سکھا سکے۔
Ayah 20:51

قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:51 in the Quran reader

فرعون نے کہا اچھا تو پہلی قوموں کا کیا حال ہوا یعنی جو تکذیب کیا کرتی تھیں۔

-5 1 اس کے بعد فرعون نے ایک اور شبہ کیا اور کہا اچھا تو پہلے لوگوں کا کیا حال ہوا ۔ یعنی تم جو کہتے ہو کہ جو شخص تکذیب کرتا ہے اور منہ موڑتا ہے تو وہ شخص عذاب کا مستحق ہے تو پچھلی امتوں میں سے جن لوگوں نے دین حق کی تکذیب کی اور پیغمبروں کو جھٹلایا ان کا کیا حشر ہوا ان کے تفصیلی حالات مجھے بتائو اس پر پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا۔
Ayah 20:52

قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ كِتٰبٍ١ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘ Open ayah 20:52 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا ان لوگوں کا علم میرے رب کے پاس کتاب یعنی لوح محفوظ میں ہے میرا رب نہ غلطی کرتا ہے اور نہ وہ بھولتا ہے ۔

-52 موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ان سب کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس دفتر میں موجود ہے میرا پروردگار نہ غلطی کرتا ہے اور نہ وہ بھولتا ہے۔ یعنی ان کا تفصیلی علم پیغمبر کو جاننا ضروری نہیں ان سب کے اعمال اور ان اعمال کے انجام کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس لوح محفوظ میں یا ان لوگوں کے دفتر حساب میں محفوظ ہے جن کو دنیا میں عذاب کیا گیا اور جن کو عذاب نہیں کیا گیا وہ سب اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہونے والے ہیں اور ان کو ان کے اعمال کے موافق سزا ملنے والی ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں فرعون شاید دہری مزاج تھا آدمیوں کی پیدائش سمجھتا تھا جیسے برسات کا سبزہ تو اول کسی نے پیدا کیا آپ ہی پیدا ہوگیا نہ آخر باقی رہا گل کر مٹی ہوگیا جب سنا کہ سب کے سر پر ایک رب ہے تب یہ پوچھا کہ اگلی خلق کہاں گئی بتایا کہ ان کا حساب لکھا ہوا موجود ہے ایک ایک آدمی پھر حاضر ہوگا۔ 12
Ayah 20:53

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ سَلَكَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى Open ayah 20:53 in the Quran reader

وہ رب وہ ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا اور تمہارے لئے اس زمین میں راستے جاری کئے اور آسمان کی جانب سے پانی نازل کیا پھر ہم نے اس پانی کے ذیرعہ مختلف انواع و اقسام کی نباتات اگائیں۔

-53 وہ پروردگار وہ ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا اور اس میں تمہارے چلنے کو راستے بنائے اور راہیں جاری کیں اور آسمان کی جانب سے پانی نازل فرمایا پھر ہم نے اس پانی کے ذریعہ مختلف انواع و اقسام کی نباتات اگائیں۔
Ayah 20:54

كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:54 in the Quran reader

تم کو اجازت دی کہ تم بھی کھائو اور اپنے چوپایوں کو بھی چرائو کچھ شک نہیں کہ ان باتوں میں اہل عقل کے لئے بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔

-54 اور تم کو اجازت دی کہ اس نباتات میں سے خود بھی کھائو اور اپنے چوپایوں کو بھی چرائو بلاشبہ اہل عقل کے لئے ان امور میں بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی ایسی عام صفات بیان فرمائیں جسے ہر عام آدمی بھی سمجھ سکتا ہے ۔ زمین کو فرش بنایا جس پر رہتے ہو ایک جگہ سے دوسری جگہ آنے جانے کے لئے راستے بنائے آسمان سے پانی برسنے کو بھی ہر شخص دیکھتا ہے اور اس پر پانی کے فوائد بھی واقف ہے۔ حضرت حق تعالیٰ نے فرمایا کہ اس پانی سے ہم نے مختلف قسم کی نباتات پیدا فرمائیں جس کا عام مشاہدہ سب کرتے ہیں پھر اس پیداوار کے متعلق اجازت دیتے ہوئے فرمایا کہ جو تمہارے مناسب ہو تم کھائو اور جو مویشیوں کے قابل ہو وہ ان کو کھلا ئو اہل عقل و دانش کے لئے ان امور میں بڑی بڑی نشانیاں اور بڑے بڑے دلائل اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید کے مضمر ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ اللہ کا کلام فرماتا ہے دہریوں کی آنکھ کھولنے کو اس کی تدبیریں اور قدرتیں دیکھ لو اگر عقل ہے تو سمجھ لو گے۔ 12
Ayah 20:55

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى Open ayah 20:55 in the Quran reader

ہم نے تم کو اسی زمین سے پیدا کیا ہے اور تم کو پھر اسی میں لوٹا دیں گے اور اسی سے پھر تم سب کو دوبارہ نکالیں گے۔

-55 ہم نے تم کو اسی زمین سے پیدا کیا ہے اور تم کو پھر اسی زمین میں لوٹا دیں گے اور اسی زمین سے تم کو دوبارہ نکالیں گے۔ ینی مٹی سے پیدا کئے گئے ہو مٹی ہی میں مل کر خاک ہو جائو گے پھر اس مٹی سے دوبارہ قیامت میں نکال لے جائو گے۔
Ayah 20:56

وَ لَقَدْ اَرَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى Open ayah 20:56 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے فرعون کو اپنی سب ہی نشانیاں دکھائیں مگر وہ تکذیب ہی کرتا رہا اور انکار ہی کرتا رہا۔

-56 اور یقینا ہم نے فرعون کو اپنی تمام نشانیاں دکھلا دیں سو وہ پھر بھی جھٹلاتا اور انکار ہی کرتا رہا۔ زمین سے پیدا ہونا زمین میں مل جانا اور قیامت کے دن زمین سے نکل آنا یہ دین حق اور ملت اسلامیہ کا ایسا مسئلہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ تک ہر پیغمبر نے اس کا ذکر کیا ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ہر قسم کے معجزات فرعونیوں کو دکھائے لیکن فرعون نہیں مانا اور طرح طرح کی بہانے بازیاں کرتا رہا اور اعجاز موسوی کو جادو بتاتا رہا اور جادوگروں کو جمع کر کے موسیٰ کے مقابلہ کی فکر میں لگا رہا چناچہ تکذیب و انکار کے بعد اس کی حرکات ناشائستہ کا بیان فرمایا۔
Ayah 20:57

قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:57 in the Quran reader

فرعون نے کہا اے موسیٰ علیہالسلام کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ تو اپنے جادو کے زور سے ہم کو ہمارے ملک سے باہر نکال دے۔

-57 فرعون کہنے لگا اے موسیٰ (علیہ السلام) کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ تو اپنے جادو سے ہم کو ہمارے ملک سے باہر نکال دے یعنی ہماری حکومت ہم سے چھیننا اور ہمارے ملک سے ہم کو بےدخل کرنا چاہتا ہے اور جادو کے زور سے ہم کو شکست دینے پر آمادہ ہے۔
Ayah 20:58

فَلَنَاْتِیَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى Open ayah 20:58 in the Quran reader

اچھا تو اب ہم بھی تیرے مقابلہ میں ایسا ہی جادو لائیں گے تو اپنے اور ہمارے درمیان ایک ایسا وعدہ ٹھہرا لے کہ جس کا نہ ہم خلاف کریں اور نہ تو اس کا خلاف کرے۔ یہ مقابلہ کسی ہموار میدان میں ہو۔

-58 لہٰذا ہم بھی اب تیرے مقابلے میں ایسا ہی جادو لائیں گے تو اپنے اور ہمارے درمیان ایک ایسا وعدہ مقرر کرے جس کا نہ تو ہم خلاف کریں اور نہ تو اس کا خلاف کرے اور یہ مقابلہ کسی ہموار میدان میں ہو۔ یعنی ایک تاریخ مقرر کرلو تاکہ اس دن مقابلہ ہو کر فیصلہ ہوجائے تم بھی اس تاریخ کا خلاف نہ کرو ہم بھی نہ کریں یہ مقابلہ کھلے اور صاف میدان میں ہو تاکہ سب لوگ اچھی طرح سے دیکھ لیں۔
Ayah 20:59

قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى Open ayah 20:59 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تمہارے وعدہ کا دن وہی ہے جو جشن منانے کا دن ہے اور یہ کہ سب لوگ چاشت کے وقت تک جمع کر لئے جائیں ۔

-59 حضرت موسیٰ نے فرمایا تمہارے وعدے کا دن وہی ہے جس دن تمہارے جشن کا میلا ہوا کرتا ہے بس وہی دن وعدے کا وقت ہے اور یہ لوگ دن چڑھے اور چاشت کے وقت جمع ہوجائیں یعنی جس دن تمہارے ہاں جشن ہوتا ہے اور جشن کا میلہ بھرتا ہے وہی دن مقرر کرلو اور دن چڑھنے تک لوگوں کو جمع کرلیا جائے اول تو خود ہی لوگ میلے میں آتے ہیں تمہارے طرف سے تاکید ہوجائے گی تو لوگ بکثرت جمع ہوجائیں گے اور سب کے سامنے مقابلہ کا فیصلہ ہوجائے گا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں دنگل میں مقابلہ کرنے سے دونوں کو غرض تھی وہ چاہے کہ ان کو ہرا دحے سب کے روبرو دے چاہیں کہ دے ہارے جشن کا دن سارے مصر کے شہر میں مقرر تھا فرعون کی سال گر کا۔ 12
Ayah 20:60

فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَیْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى Open ayah 20:60 in the Quran reader

اس پر فرعون مجلس سے چلا گیا اور اس نے اپنی مکاری کا سامان جمع کرنا شروع کردیا اور آخر کار وعدے کے دن آموجود ہوا۔

-60 دن کی بات طے ہونے کے بعد فرعون ملس سے چلا گیا اور اپنی جگہ لوٹ گیا اور اپنے مکرو فریب کا سامان جمع کرنے لگا اور آخر کار وعدے کے دن سب کو لیکر آموجود ہوا۔ یعنی جب مقابلہ کی تاریخ اور جگہ وغیرہ طے ہوگئی تو فرعون مجلس سے لوٹ گیا اور اپنے مکرو فریب کی غرض سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے لگا اور آخر کار مقررہ وقت پر تمام حمایتیوں کو لیکر آموجود ہوا۔
Ayah 20:61

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ١ۚ وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى Open ayah 20:61 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے کہا تمہارے لئے خرابی ہو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ افتراء نہ باندھو کہیں ایسا نہ ہو کہ خدا تم کو کسی عذاب سے بالکل تباہ و برباد کر دے اور جس نے خدا پر افتراء پردازی کی وہ اپنے مقصد میں ناکام رہا۔

-6 1 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مقابلہ شروع ہونے سے پہلے ایک عام خطاب فرمایا اور مخالفوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تمہارے لئے خرابی ہو اللہ تعالیٰ کے اوپر جھوٹ افترا اور بہتان نہ لگائو کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ تم کو کسی عذاب سے نیست و نابود کر دے اور کسی سزا سے تم کو برباد کر دے اور جس نے افتراء پردازی کا شیوہ اختیار کیا وہ برباد ہوا اور اپنے مقصد میں ناکام ہوا۔ یعنی یا تو یہ جادوگروں کو فرمایا یا اعیان سلطنت اور جادوگروں کو سب کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں اور انبیاء کے معجزات کو جادو کہہ کر ان کا مقابلہ نہ کرو ورنہ مارے جائو گے اور تباہ و برباد کردیئے جائو گے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں جب فرعون نے ساحر جمع کئے اور سب امیروں کو اسی بات پر اٹھا تب حضرت موسیٰ نے ہر شخص کو نصیحت کردی جدا جدا۔ 12
Ayah 20:62

فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰى Open ayah 20:62 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) کے اس کہنے پر جادوگر اپنے کام میں باہم اختلاف کرنے لگے اور چپکے چپکے سرگوشیاں کرتے رہے۔

-62 حضرت موسیٰ کے سمجھنانے اور کہنے سے جادو گر اپنے کام میں باہم اختلاف کرنے لگے اور چپکے چپکے سرگوشیاں کرنے لگے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تقریر نے ان جادوگروں پر اثر کیا اور وہ باہم مقابلہ کے متعلق کچھ اختلاف کرنے لگے بعض کی رائے مقابلہ کے خلاف تھی بعض مقابلہ کی تائید میں تھے اور چونکہ مجمع میں فرعن اور اس کے امراء بھی موجود تھے اس لئے کچھ چپکے چپکے مشورہ کرتے رہے اور علانیہ اپنی گفتگو کا اظہار نہیں کیا اور آخر کار انہوں ں نے فرعون کی حمایت اور اس کی معاونت کا اعلان کردیا اور وہی کہا جو فرعون اور اس کے امراء عام طور سے کہتے تھے۔
Ayah 20:63

قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى Open ayah 20:63 in the Quran reader

جادوگروں نے کہا بیشک یہ دونوں بھائی جادوگر ہیں ان کی خواہش یہ ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو تمہارے ملک سے نکال باہر کریں اور تمہاری بہترین و شائستہ تہذیب کو اٹھا ڈالیں۔

-63 جادوگروں نے کہا بلاشبہ یہ دونوں بھائی جادوگر ہیں ان کا مقصد یہ ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو تمہارے ملک سے باہر نکال دیں اور تمہاری تہذیب اور شائستہ چلن کو بالکل اٹھا دیں۔ حکومت کے دبائو سے حکومت کی پالیسی کے مطابق کہنے لگے فرعون کی تہذیب اور اس کے چلن کو اچھا کہا اور یہ خطرہ ظاہر کیا کہ یہ تم کو نکال کر اپنی تہذیب اور اپنا مذہبی چلن یہاں رائج کریں۔
Ayah 20:64

فَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا١ۚ وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى Open ayah 20:64 in the Quran reader

سو اب تم بھی سب مل کر اپنی تدبیر کا پختہ انتظام کرو اور صفیں باندھ کر آئو یعنی مقابلہ میں اور آج وہی کامیاب رہا جو غالب آیا۔

-64 لہٰذا اب تم بھی سب مل کر اپنی تدبیر کا پختہ انتظام کرلو پھر صفیں باندھ کر مقابلہ میں آئو اور آج وہی شخص کامیاب ہوا جو غالب رہا۔ یعنی جس نے غلبہ پا لیا جیت اسی کی ہے اور وہی اپنے مقصد میں کامیاب ہے۔
Ayah 20:65

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى Open ayah 20:65 in the Quran reader

جادوگروں نے مقابلہ میں آ کر کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) یا تو تو ڈال یا ہم ڈالنے میں پہل کرنے والے نہیں۔

-65 جادوگروں نے مقابلہ کے وقت کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) تو اپنی لاٹھی پہلے ڈالتا ہے یا ہم پہلے ڈالنے والے بنیں۔ مطلب یہ ہے کہ پہل کون کرے پہل تیری طرف سے ہو یا ہماری طرف سے۔
Ayah 20:66

قَالَ بَلْ اَلْقُوْا١ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى Open ayah 20:66 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا نہیں تم ہی پہلے ڈالو پھر اچانک ان جادوگروں کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو سے موسیٰ (علیہ السلام) کے خیال میں ایسی معلوم ہونے لگیں کہ جیسے وہ دوڑ رہی ہیں۔

-66 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا نہیں بلکہ تم ہی پہلے ڈالو پھر اچانک ان جادوگروں کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کی نظربندی اور جادو سے موسیٰ (علیہ السلام) کو ایسے معلوم ہونے لگیں کہ جیسے وہ سانپ بن کر دوڑ رہی ہیں۔ یعنی جب تم باطل سے حق کا مقابلہ کرنے آئے ہو اور تم کو یہ زعم ہے کہ تم کامیاب اور غالب ہو تو تم پہلے اپنے کرتب دکھا دو تاکہ باطل پوری طرح کھل کر میدان میں آجائے اور پھر سب کو حق کا غلبہ معلوم ہوجائے چناچہ جب انہوں نے اپنا شعبدہ دکھایا تو ان کی دید بندی کے اثر سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور دیگر حاضرین کو ان کی رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر دوڑتی ہوئی معلوم ہوئیں اور ایسا خیال ہوا کہ بیشمار سانپ میدان میں دوڑ رہے ہیں۔
Ayah 20:67

فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰى Open ayah 20:67 in the Quran reader

یہ دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دل میں تھوڑا سا خوف محسوس کیا۔

-67 یہ دیکھ کر موسیٰ نے اپنے دل میں تھوڑا سا ڈر اور خوف محسوس کیا۔ یعنی یہ معمولی سا وسوسہ گزرا کہ اگرچہ یہ ان کی محض دید بندی ہے اور حقیقت کچھ بھی نہیں لیکن مبادا عوام حق و باطل میں کوئی تمیز نہ کرسکیں گے کیونکہ یہ رسیاں بھی سانپ معلوم ہو رہی ہیں اور وہ حقیقی سانپ بھی ان کو سانپ ہی دکھائی دے گا اس لئے شاید امتیاز نہ کرسکیں اس قسم کے وسوسہ سے یقین کو کوئی نقصان نہیں پہونچتا۔
Ayah 20:68

قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى Open ayah 20:68 in the Quran reader

ہم نے کہا تو ڈر نہیں یقینا تو ہی غالب رہے گا۔

-68 ہم نے موسیٰ سے کہا تو ڈر نہیں یقینا تو ہی غالب رہے گا۔ اہل حق کے ساتھ حضرت حق کا ایسا ہی معاملہ ہوتا ہے اس وسوسہ کو جو اتفاقیہ طور پر گرد و پیش کے حالات سے پیدا ہوا تھا اور جس میں بشریت کو بھی دخل تھا ۔ لاتخف کہہ کر دفع فرما دیا اور ارشاد ہوا۔
Ayah 20:69

وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍ١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى Open ayah 20:69 in the Quran reader

اور جو چیز تیرے داہنے ہاتھ میں ہے اسے میدان میں ڈال دے کہ وہ اس سب کو نگل جائے جو انہوں نے بنایا ہے ۔ کیونکہ جو کچھ انہوں نے بنایا ہے وہ جادوگروں کا کرتب اور فریب ہے اور جادوگر خواہ کہیں بھی جائے کامیاب نہیں ہوتا۔

-69 اور جو چیزتیرے داہنے ہاتھ میں ہے یعنی لاٹھی اس کو میدان میں ڈال دے وہ عصا اس تمام سوانگ کو جو انہوں نے بنایا ہے نگل جائے گا سو ائے اس کے نہیں کہ جو کچھ انہوں نے بنایا ہے وہ جادوگروں کا فریب اور کرتب ہے اور جادوگر خواہ کہیں بھی جائے اس کو کامیاب نصیب نہیں ہوتی۔ یعنی اپنا عصا ڈال دے وہ ان جادوگروں کے تمام مکر و فریب کو ختم کر دے گا اور جو ڈھونگ انہوں نے رچایا ہے وہ اس سب کو نگل جائے گا اور انہوں نے جو کچھ بنایا ہے وہ جادوگروں کے فقط دائوں ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں ار جادوگر خواہ کہیں بھی آئے جائے حق کے اور معجزے کے مقابلے میں کامیاب نہیں ہوا کرتا اور فلاح نہیں پاتا۔
Ayah 20:70

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى Open ayah 20:70 in the Quran reader

موسیٰ کے عصا پھینکے کے بعد جادوگر سجدے میں گرپڑے اور کہنے لگے ہم ہارون (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے رب پر ایمان لے آئے۔

-70 حضرت موسیٰ کے عصا پھینکنے اور جادو کے سوانگ ختم ہونے کے بعد فوراً ہی جادو گر سجدے میں گرپڑے اور کہنے لگے ہم ہارون (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے رب پر ایمان لے آئے۔ یعنی اعجاز موسوی کو دیکھ کر سمجھ گئے کہ موسیٰ اور ہارون اللہ تعالیٰ کے فرستادے ہیں ان کا مقابلہ نہیں ہوسکتا ۔ چناچہ رب العالمین پر ایمان لانے کا اعلان کردیا اور رب ہارون و موسیٰ کہہ کر اس اشتباہ کو دور کردیا جو فرعون کا دعویٰ تھا یعنی وہ خود کو رب العالمین سمجھتا تھا اس لئے جادوگروں نے رب ہارون و موسیٰ فرمایا تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ ہمارا مومن بہ فرعون نہیں ہے۔
Ayah 20:71

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ١٘ وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:71 in the Quran reader

فرعون نے یہ دیکھ کر کہا اس سے پیشتر کہ میں تم کو اجازت دوں تم موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے بیشک وہ موسیٰ (علیہ السلام) تم سب کا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے سو آپ میں تم سب کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پائوں کٹوائوں گا اور تم سب کو کھجوروں کے ٹھنڈ پر سولی دوں گا اور یقینا تم کو اس بات کا پتہ لگ جائے گا کہ مجھ میں اور موسیٰ کے رب میں کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیر پا ہے۔

-7 1 فرعون یہ دیکھ کر بہت سٹ پٹایا اور جادوگروں سے کہنے لگا کہ تم میری اجازت اور حکم دینے سے پہلے ہی موسیٰ پر ایمان آئے میں نے تم کو اجازت نہیں دی اور تم اس پر ایمان لے آئے بلاشبہ وہ موسیٰ تم سب کا بڑا اور استاد ہے جس نے تم کو یہ جادو سکھایا اور تعلیم کیا ہے لہٰذا ! اب تم سب کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پائوں کٹوائوں گا اور تم کو کھجوروں کے ٹھنڈ پر سولی دوں گا اور یقینا تم کو یہ بات معلوم ہوجائے گی کہ ہم دونوں یعنی میں اور موسیٰ کے پروردگار میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیرپا ہوتا ہے۔ یعنی اعجاز موسوی کے بعد جادوگروں کے نعرہ حق نے رنگ بدل دیا فرعون نے یہ دیکھ کر جادوگروں کو الزام دیا کہ جادو سکھانے میں یہ تمہارا استاد ہے تم استاد شاگردوں نے میری حکومت کے تختہ الٹنے کی سازش کی ہے یہ الزام لگانے کے بعد سزا کی دھمکی دی کہ تمہارے ہاتھ پائوں کٹوا کر تم کو سولی دوں گا اور عبرت کے طور پر یہ بھی کہا کہ اونچی چیز پر لٹکائوں گا تاکہ لوگوں کو عبرت ہو کہ حکومت سے بغاوت کا سب انجام دیکھیں اور چونکہ حضرت موسیٰ اپنی تقریر میں عذاب الٰہی سے ڈرا چکے تھے اس لئے اپنے عذاب کا مقبالہ کم بخت نے خدا کے عذاب سے کیا۔ مطلب یہ تھا کہ میرا عذاب سخت بھی ہے اور دریپا بھی ل یکن جادوگروں کے قلب میں اسلام اپنا گھر کرچکا تھا اس لئے انہوں نے نہایت دلیری اور ہمت سے جواب دیا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں تمہارا بڑا جس نے جادو سکھایا یہ شاید رب کو کہنے لگا۔ 12
Ayah 20:72

قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍ١ؕ اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 20:72 in the Quran reader

ان نو مسلم جادوگروں نے جواب دیا کہ ہم ان صاف دلائل کے مقابلہ میں جو ہم کو پہنچ چکے ہیں اس خدا کے مقابلہ میں جس نے ہم کو پیدا کیا ہے تجھ کو ہرگز ترجیح نہیں دے سکتے تو جو کچھ کرنا چاہے وہ کر ڈال تو صرف اس دنیا کی زندگی ہی میں حکم چلا سکتا ہے۔

-72 ان نو مسلم جادوگروں نے جواب دیا کہ ہم ان صاف اور واضح دلائل کے مقابیل میں جو ہم کو پہنچ چکے ہیں اور اس اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں جس نے ہم کو پیدا کیا ہے تجھ کو ہرگز ترجیح نہیں دیں گے اور نہتجھ کو اختیار کریں گے بس تجھ کو جو کچھ کرنا ہے وہ کر گزر اور کر ڈال تو محض اس دنیا کی زندگی ہی میں جو کچھ کرے کرلے اور کر ہی کیا سکتا ہے تو اسی زندگی ہی میں اپنا حکم چلا سکتا ہے۔ نو مسلم جادوگروں نے دلیرانہ جواب دیتے ہوئے صاف کہہ دیا کہ جس خدا نے اپنے واضح دلائل ہم تک پہنچائے اور جس نے ہم کو پیدا کیا ہم اس کے مقابلہ میں تجھ کو ت رجیح نہیں دے سکتے۔ رہی سزا تو ہم ہر قسم کی سزا بھی جھیلنے کو تیار ہیں تیری سزا ہی کیا دنیا کی زنگدی میں تو اپنا حکم چلا سکتا ہے اور ہمارے اجسام کو تکلیف پہونچا سکتا ہے باقی روح پر تیرا کوئی اختیار نہیں تو ہمارے اعتقاد کو نہیں بدل سکتا۔
Ayah 20:73

اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَكْرَهْتَنَا عَلَیْهِ مِنَ السِّحْرِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:73 in the Quran reader

بس اب ہم اپنے رب پر ایمان لا چکے ہیں تاکہ وہ ہمارے گناہ معاف کر دے اور اس جادو کو بھی معاف کر دے جس کا ارتکاب تو نے ہم پر زبردستی کر کے کرایا ہے اور اللہ تعالیٰ بدرجہا بہتر اور سدا باقی رہنے والا ہے۔

-73 بس اب ہم اپنے پروردگار پر ایمان لا چکے ہیں تاکہ وہ ہمارے گناہ معاف فرما دے اور اس جادو کو بھی معاف فرما دے جس کا ارتکاب تو نے ہم سے زبردستی کرایا ہے اور اللہ تعالیٰ بدرجہا بہتر ہے وہ ہمیشہ رہنے والا اور سدا باقی رہنے والا ہے۔ یعنی ہم تو اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے تاکہ وہ ہمارے کفر وغیرہ کو معاف کر دے اور تو نے جو ہم کو مجبور کر کے خدا کے پیغمبروں کا جادو سے مقابلہ کرایا ہے اس کو بھی معاف فرما دے اللہ تعالیٰ اپنی ذات وصفات کے اعتبار سے بھی بدرجا بہتر اور سزا و جزا کے اعتبار سے بھی دائم اور ہمیشہ رہنے والا ہے لہٰذا اس کا عذاب بھی دائمی ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں زور آوری کروایا کہتے ہیں کہ جادو گر حضرت موسیٰ کی نشانی دیکھ کر سمجھ گئے تھے کہ یہ جادو نہیں مقابلہ نہ کریئے پھر فرعن کی خاطر سے کیا شاید فرعون جو ڈراتا تھا سو ان پر نہ کرسکا دل میں ڈر گیا موسیٰ (علیہ السلام) کی نشانی سے۔ 112
Ayah 20:74

اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ١ؕ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى Open ayah 20:74 in the Quran reader

بلاشبہ جو شخص مجرم بن کر اپنے رب کے روبرو حاضر ہوگا تو اس کے لئے جہنم ہے یہ مجرم اس جہنم میں نہ مرے ہی گا اور نہ جئے ہی گا۔

-74 بلاشبہ ! جو اپنے پروردگار کی حضور میں مجرم اور باغی بن کر حاضر ہوا تو اس کے لئے دوزخ اور جہنم مقرر ہے جس میں نہ وہ مرے ہی گا اور نہ جئے ہی گا ۔ یعنی جو شخص کافربن کر اس کے حضور میں حاضر ہوگا اس کو جہنم کا عذاب ہوگا اور جہنم کے عذاب کی یہ حالت ہے کہ وہاں موت تو ہے ہی نہیں اور جس زندگی میں زندگی کا آرام نہ ہو وہ زندگی نہ ہونے کے برابر۔
Ayah 20:75

وَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ Open ayah 20:75 in the Quran reader

اور جو شخص اس کے حضور میں مومن بن کر حاضر ہوا درآنحالیکہ وہ نیک اعمال کا بھی پابند تھا تو ایسے لوگوں کے لئے بڑے اونچے اونچے درجے ہوں گے

-75 اور جو شخص اس کے حضور میں مومن اور ایمان دار بن کر حاضر ہوا اور آنحالیکہ وہ نیک اعمال کا بھی پابند تھا اور نیک اعمال کیا کرتا تھا تو ایسے لوگوں کے لئے بڑے اونچے اونچے درجے ہوں گے۔
Ayah 20:76

جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠ Open ayah 20:76 in the Quran reader

وہ بلند درجے دائمی باغات ہیں کہ جن کے نیچے نہریں بہہ رہونگی یہ لوگ ان دائمی باغوں میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی صلہ ہے اس شخص کا جو پاک رہا۔

-76 وہ بلند درجے دائمی باغات ہوں گے جن کے یا میں نہریں جاری ہوں گی یہ لوگ ان دائمی باغوں میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی صلہ ہے اس شخص کا جو پاک رہا۔ یعنی کفر و معاصی سے پاک اور صاف رہا۔
Ayah 20:77

وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى١ۙ۬ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا١ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى Open ayah 20:77 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس حکم بھیجا کہ میرے بندوں کو راتوں رات نکال لے جا پھر ان کے لئے دریا میں خشک راستہ بنا دے نہ تو تجھ کو دشمن کی گرفت کا اندیشہ ہو اور نہ غرق ہونے کا ڈر ہو۔

-77 اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی اور موسیٰ کے پاس حکم بھیجا کہ میرے بندوں کو راتوں رات نکال لے جا پھر ان کے لئے دریا میں خشک راستہ بنا دے نہ تجھ کو دشمن کے تعاقب اور گرفت کا اندیشہ اور نہ دریا میں غرق ہونے کا ڈر ہو۔ یعنی فرعون کے مظالم کچھ اور دن جاری رہے اور جب مظالم کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی کے ذریعہ بتایا کہ تورات کو میرے بندوں کو لے کر نکل جا راستہ میں دریائے قلزم پڑے گا اس پر لاٹھی ماریو دریا میں خشک راستہ بن جائے گا اس راستہ سے دریا کو عبور کرلینا اور دشمن کی گرفت کا خطرہ نہ کیجیو اور نہ ڈوبنے اور غرق ہونے سے ڈریو یعنی ان باتوں میں سے کوئی بات نہ ہوگی۔
Ayah 20:78

فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْؕ Open ayah 20:78 in the Quran reader

فرعون نے اپنے لشکروں کو لیکر بنی اسرائیل کا پیچھا کیا پھر دریا نے ان فرعونیوں کو جیسا ڈھانکنا تھا ڈھانک لیا یعنی غرق کردیا

-78 چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) رات کو بنی اسرائیل کو ہمراہ لے کر نکل گئے فرعون نے اپنے لشکروں کو لے کر ان کا تعاقب اور پیچھا کیا پھر فرعونیوں کو دریا نے ڈھانک لیا جیسا کہ ڈھانک لیا۔ یعنی جب فرعون کو معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر چلے گئے تو وہ بھی اپنا لشکر لے کر پیچھے چلا اور دریا میں راستہ دیکھ کر سب کے سب دریا میں گھس پڑے تو دریا کا پانی مل گیا بنی اسرائیل پار کھڑے ان کا ڈوبنا اور غرق ہونا دیکھتے رہے اور فرعون و آل فرعون ہلاک کردیئے گئے۔
Ayah 20:79

وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى Open ayah 20:79 in the Quran reader

اور فرعن نے اپنی قوم کو غلط راہ پر ڈالا اور ان کو نیک راہ نہ بتائی۔

-79 اور فرعون نے اپنی قوم اور اپنے لوگوں کو غلط راہ پر چلایا اور صحیح راہ ان کو نہیں بتائی۔ یعنی کہتا تو یہ تھا وما اھدیکم الا سبیل الرشاد اور کیا یہ کہ سیدھی راہ جو ترقی اور نجات کی تھی اس سے بھٹکا دیا اور غلط راستے پر ڈال دیا لہٰذا غلط اور گمراہ لیڈر کی راہنمائی سے جو نقصان پہنچتا ہے وہ پہونچا۔
Ayah 20:80

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى Open ayah 20:80 in the Quran reader

اے بنی اسرائیل بیشک ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی اور تم سے کوہ طور کی داہنی جانب کا وعدہ کیا یعنی توریت دینے کے لئے اور ہم نے تم پر من اور سلویٰ نازل کیا۔

-80 اب بنی اسرائیل کو خطاب فرمایت ہوئے ارشاد ہوتا ہے اے بنی اسرائیل بیشک ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی اور تم سے کوہ طور کی داہنی جانب کا وعدہ کیا اور ہم نے تم پر من اور سلویٰ نازل کیا۔ یعنی فرعون کی غلامی سے آزاد ہونے کے بعد جب تم نے دستور العمل کی خواہش کی تو ہم نے توریت عطا کرنے کا وعدہ کیا اور کوہ طور کی داہنی جانب موسیٰ کو بلا کر توریت عطا فرمائی اور تم کو تیہ کے میدان میں من وسلویٰ کھانے کو دیا من وسلویٰ کی تفسیر پہلے پارے میں گزر چکی ہے وہاں ملاحظہ کرلیا جائے۔ من وسلویٰ دیتے وقت ارشاد فرمایا۔