Ayah 20:2آسمان اور زمین پیدا کرنے والے کی طرف سے قرآن نازل ہوا ہے جو ڈرنے والوں کے لیے نصیحت ہے
یہاں سے سورة طہٰ کی ابتدا ہو رہی ہے لفظ طہٰ ، الماوردیگر حروف مقطعات کی طرح متشابہات میں سے ہے اس کا معنی اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ صاحب معالم التنزیل ج 3 ص 211 نے مفسر کلبی سے نقل کیا ہے کہ مکہ مکرمہ میں جب رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہوئی تو آپ نے محنت اور مشقت کے ساتھ بہت زیادہ عبادت گزاری شروع فرمائی طویل قیام کی وجہ سے کبھی داہنے پاؤں پر اور کبھی بائیں پاؤں پر کھڑے ہوتے تھے اور ساری رات نماز پڑھتے تھے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ (ما انزلنا علیک القران لتشقی) نازل فرمائی اور ایک روایت میں یوں ہے کہ جب مشرکین نے دیکھا کہ آپ خوب زیادہ عبادت کرتے ہیں تو کہنے لگے کہ اے محمد ! یہ قرآن جو تم پر نازل ہوا ہے یہ تمہیں مشقت میں ڈالنے ہی کے لیے اترا ہے اس پر آیت کریمہ (ما انزلنا علیک القران لتشقی) نازل ہوئی یعنی ہم نے قرآن کو آپ پر اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ تکلیف اٹھائیں۔ آیت بالا کی تفسیر میں ایک دوسری وجہ بھی بعض مفسرین نے اختیار کی ہے ان حضرات کے نزدیک آیت کا مطلب یہ ہے کہ منکرین جو سرکشی کرتے ہیں اور تکذیب میں آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں آپ کو اس پر قلق اور رنج نہ ہونا چاہیے یہ قرآن آپ پر اس لیے نازل نہیں کیا گیا کہ آپ مصیبت میں پڑیں اور تکلیف اٹھائیں آپ کے ذمہ تبلیغ ہے جب آپ نے اس فریضہ کو انجام دے دیا اور برابر انجام دے رہے ہیں تو آپ کو اس فکر میں پڑنے اور رنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے اس تفسیر کی بناء پر آیت شریفہ کا مضمون سورة کہف کی آیت کریمہ (فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ عَلآی اٰثَارِھِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِھٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا) کے موافق ہوجائے گا۔ (ذکرہ صاحب الروح ج 16 ص 149)
Ayah 20:3(اِلَّا تَذْکِرَۃً لِّمَنْ یَّخْشٰی) یعنی یہ قرآن ہم نے اس شخص کی نصیحت کے لیے اتارا ہے جو اللہ سے ڈرتا ہے، قرآن مجید نصیحت تو تمام انسانوں کے لیے ہے لیکن خاص کر جوف و خشیت والوں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ جو لوگ قرآن سن کر متاثر نہیں ہوتے اور اس کے مضامین پر ایمان نہیں لاتے ان کا سننا نہ سننا برابر ہے۔ قال صاحب الروح و خص الخاشی بالذکر بالذکر مع ان القرآن تذکرۃ للناس کلھم لتنزیل غیرہ منزلۃ العدم غیر منتفع بہ۔ سورة یٰسین میں فرمایا (اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّکْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بالْغَیْبِ ) (آپ تو صرف ایسے شخص کو ڈراتے ہیں جو نصیحت پر چلے اور بغیر دیکھے رحمن سے ڈرے) ۔
جو لوگ اللہ تعالیٰ کو جانتے ہیں اور مانتے ہیں اور بغیر دیکھے اس سے ڈرتے ہیں ایسے ہی لوگ نصیحت پر کان دھرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ اور اللہ کی کتاب کی نصیحت کو قبول کرتے ہیں۔
Ayahs 20:4–6(تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰی) (یہ قرآن اس ذات کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جس نے زمین کو اور بلند آسمانوں کو پیدا فرمایا)
(اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی) (رحمن عرش پر مستوی ہوا) استوی علی العرش کے بارے میں سورة اعراف کی آیت (اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ ) (ع 8) کی تفسیر ملاحظہ کرلی جائے۔ (انوار البیان ص 440 ج 3)
آسمانوں اور زمین میں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور جو ماتحت الثریٰ ہے اللہ تعالیٰ اس سب کو جانتا ہے
(لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَھُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰی) (اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور جو ان دونوں کے درمیان ہے اور جو تحت الثری ہے) اللہ تعالیٰ ساری مخلوق کا خالق اور مالک ہے علوی اور سفلی جہت میں جو کچھ ہے وہ اسی کی مخلوق اور مملوک ہے اور ساتویں زمین کے نیچے جو کچھ ہے وہ بھی اسی کا ہے۔
ثری نمناک یعنی تر مٹی کو کہتے ہیں صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے اس کا مطلب بتاتے ہوئے فرمایا ما تحت الارض السابعۃ یعنی ساتویں زمین کے نیچے جو کچھ ہے وہ اسے بھی جانتا ہے۔ زمینوں کے سات ہونے کی تصریح احادیث میں وارد ہوئی ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ کا فرمانا اسی کے مطابق ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے ایک بالشت کے برابر بھی ظلم کر کے زمین کا کچھ حصہ لیا تو قیامت کے دن اس کے گلے میں ساتوں زمینوں کا طوق ڈال دیا جائے گا۔ بخاری کی ایک روایت میں یوں ہے کہ جس نے ناحق زمین کا کچھ حصہ لے لیا تو قیامت کے دن اسے ساتویں زمین تک دھنسا دیا جائے گا۔ مسند احمد میں یوں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی شخص نے ظلم کر کے بالشت بھر زمین کا کوئی حصہ لے لیا اللہ تعالیٰ اسے مجبور کرے گا کہ وہ کھودے یہاں تک کہ ساتویں زمین کے آخر تک کھودتا جائے۔ پھر اسے قیامت کا دن ختم ہونے تک اس کے گلے میں طوق ڈال دیا جائے گا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلے ہوں۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 256)
Ayah 20:7اللہ تعالیٰ زور سے کہی ہوئی بات اور خفی بات کو بھی جانتا ہے
(وَ اِنْ تَجْھَرْ بالْقَوْلِ فَاِنَّہٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰی) (اے مخاطب اگر تو زور سے بات کرے تو وہ چپکے سے کہی ہوئی بات کو اور جو اس سے خفی ہو اس سب کو جانتا ہے) زور کی آواز تو سنتا ہی ہے جو کوئی چپکے سے بات کرے وہ اسے بھی جانتا ہے اور جو زبان سے ظاہر نہ کرے اس لیے (یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰی) فرمایا یعنی یسمع کی بجائے لفظ یعلم فرماتا ہے کہ یہ سمجھ لیا جائے کہ وہ آواز والی بات کو سنتا ہے اور جانتا ہے اور اس کے علاوہ جو بات زبان سے نہ نکلی اور دل میں ہو وہ اسے بھی جانتا ہے۔
Ayah 20:8(اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَلَہُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی) (اللہ ایسا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کے لیے اسمائے حسنیٰ ہیں) جو اس کے بےمثال اوصاف اور کمالات پر دلالت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کے بارے میں سورة اعراف (رکوع 22) اور سورة بنی اسرائیل کے آخری رکوع کی تفسیر کی مراجعت کرلی جائے۔ (انوار البیان جلد دوم)
Ayahs 20:9–18مدین سے واپس ہوتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آگ نظر آنا اور نبوت سے سرفراز کیا جانا اور دعوت حق لے کر فرعون کے پاس جانے کا حکم ہونا
پہلے بتایا جا چکا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں بنی اسرائیل یعنی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کے تمام قبیلے (جو تعداد میں بارہ تھے) مصر میں جا کر آباد ہوگئے تھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی وفات کے بعد وہاں ان لوگوں کی کوئی حیثیت نہ رہی پردیسی ہونے کی وجہ سے مصر کے اصل باشندے یعنی قبطی لوگ انہیں بری طرح ستاتے تھے سخت کاموں میں پیلتے تھے اور بیگاریں لیتے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں پیدا فرمایا پھر اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام فرمایا کہ فرعون ہی کے گھر میں انہوں نے ایک قبطی (یعنی مصری قوم کے آدمی) کو دیکھا کہ وہ ایک بنی اسرائیل کے آدمی سے لڑرہا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے ایک گھونسا مارا اس سے وہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک شخص نے بتایا کہ فرعون کے لوگ مشورہ کر رہے ہیں کہ تمہیں قتل کردیں لہٰذا یہاں سے نکل جاؤ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وہاں سے نکل گئے اور مدین میں قیام فرمایا، وہاں دس سال رہے شادی بھی وہیں ہوئی جب وہاں سے اپنی بیوی کو لیکر واپس مصر آرہے تھے تو یہ واقعہ پیش آیا جو یہاں سورة طہ میں اور سورة نمل میں اور سورة قصص میں مذکور ہے۔ ہوا یہ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے گھر والوں کو راستہ میں سردی بھی لگی اور راستہ بھی بھول گئے۔ اسی حال میں تھے کہ طور پہاڑ پر آگ نظر آئی۔ اسے دیکھ کر اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم یہیں رہو مجھے آگ نظر آرہی ہے میں جاتا ہوں ابھی تمہارے لیے کوئی خبر لاؤں گا کوئی رہبر ملے گا تو راستہ معلوم کرلو نگایا آگ کا کوئی شعلہ لے آؤں گا تاکہ تم آگ جلا کر تاپ لو۔ (اس سے معلوم ہوا کہ اپنی حاجات کے ساتھ اہل خانہ کی حاجت روائی کا بھی خیال کرنا لازم ہے چونکہ ان کی اہلیہ بھی سردی سے متاثر ہو رہی تھیں اس لیے ان کے گرمی حاصل کرنے کے لیے آگ کا شعلہ لانے کا ارادہ فرمایا) جب آگے بڑھے اور آگ کی جگہ پہنچے تو وہاں ماجراہی دوسرا تھا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو نبوت سے سر فراز فرمانا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آواز آئی کہ اے موسیٰ میں تمہارا رب ہوں تم جس جگہ پر ہو یہ مقدس پاک میدان ہے جس کا نام طویٰ ہے تم اپنی جوتیاں اتار دو ۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جوتیاں گدھے کی کھال سے بنی ہوئی تھیں جس کو دباغت نہیں دی گئی تھی اور عکرمہ و مجاہد نے فرمایا کہ جوتیاں اتارنے کا حکم اس لیے ہوا کہ مقدس سر زمین کی مٹی ان کے قدموں کو لگ جائے (معالم التنزیل ج 3 ص 213) اللہ جل شانہ نے خطاب کرتے ہوئے مزید فرمایا (وَ اَنَا اخْتَرْتُکَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰی) (اور میں نے تمہیں چن لیا لہٰذا جو وحی کی جاتی ہے اسے ٹھیک طریقہ سے سنو) (اِنَّنِیْٓ اَنَا اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنَافَاعْبُدْنِیْ وَ اَقِمِ الصَّلوٰۃَ لِذِکْرِیْ ) (بلا شبہ میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں لہٰذا تم میری عبادت کرو اور میری یاد کے لیے نماز کو قائم کرو) یوں تو موسیٰ (علیہ السلام) پہلے ہی سے مومن تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی ربوبیت اور الوہیت کی مزید معرفت عطا فرمائی اور انہیں اپنی عبادت کی تلقین فرمائی اور قیامت کے آنے اور قیامت کے دن ہر عمل کرنے والے کو اپنے اپنے عمل کا بدلہ دیئے جانے کا تذکرہ بھی فرمایا اور موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا کہ قیامت آنے کا بھی عقیدہ رکھو، جو لوگ قیامت کو نہیں مانتے اور اپنی خواہشات نفس کے پیچھے چلتے ہیں اللہ کے احکام اور اخبار کی تصدیق نہیں کرتے ان کی بات نہ ماننا اگر منکرین میں سے کسی کی بات مان لی تو تم ہلاک ہوجاؤ گے۔ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے تو یہ بات بہت بعید ہے کہ کسی منکر مکذب کی بات مانیں ان کو خطاب کر کے دوسروں کو تنبیہ فرما دی کہ منکرین قیامت کی بات مان کر بربادنہ ہوجانا۔
چونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کی طرف بھیجنا تھا اور ایسی نشانی بھی دینی تھی جس سے فرعون پر حجت قائم ہوجائے کہ یہ واقعی اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دونشانیاں عطا فرما دیں۔ ان میں سے ایک تو ان کا عصا تھا اور دوسرا ید بیضاء تھا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے ؟ چونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے مدین میں دس سال بکریاں چرائی تھیں اس لیے ان کے ہاتھ میں ایک لکڑی رہتی تھی جو اس وقت بھی ان کے ہاتھ میں تھی جواب میں عرض کیا کہ یہ میری لاٹھی ہے۔ اور تھوڑے سے جواب پر اکتفاء نہیں کیا چونکہ خالق کائنات جل مجدہ سے باتیں ہونے کا موقع تھا اس لیے بات لمبی کردی اور اور مزید عرض کیا کہ میں اس پر ٹیک بھی لگاتا ہوں اور اس کے ذریعہ اپنی بکریوں کے لیے پتے بھی جھاڑتا ہوں اور ان کے علاوہ بھی دوسرے کاموں میں استعمال کرتا ہوں (مثلاً موذی جانوروں کو مارنا اور اس کے ذریعہ پانی کا مشکیزہ اور زادراہ اٹھانا وغیرہ)
Ayahs 20:19–24(قَالَ اَلْقِھَا یٰمُوْسٰی) (باری تعالیٰ شانہ کا ارشاد ہوا کہ اس لاٹھی کو زمین پر ڈال دو ) فالقاھا (سو اسے انہوں نے ڈال دیا) (فَاِذَا ھِیَ حَیَّۃٌ تَسْعٰی) (سوا چانک وہ دوڑتا ہوا سانپ بن گئی) سورة نمل میں ہے کہ جب انہوں نے اسے سانپ کی شکل میں حرکت کرتے ہوئے دیکھا تو پیچھے ہٹ گئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا (خُذْھَا وَلَاتَخَفْ ) (اس کو پکڑ لو اور ڈرو نہیں) سورة نمل میں یہ الفاظ بھی ہیں (اِِنِّیْ لاَ یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَ ) (کہ میرے سامنے پیغمبر ڈرا نہیں کرتے) اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ہم اس کو اس کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گے۔ (چنانچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس پر ہاتھ رکھا اور اٹھانے لگے تو وہ لاٹھی ویسی ہی ہوگئی جیسی پہلے تھی) یہ ایک نشانی ہوئی۔ دوسری نشانی عطا فرمانے کے لیے باری تعالیٰ شانہ کا ارشاد ہوا (وَاضْمُمْ یَدَکَ اِلٰی جَنَاحِکَ ) (تم اپنے ہاتھ کو اپنی بغل میں ملا لو) (تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ ) (وہ بغیر عیب کے سفید ہونے کی حالت میں نکلے گا) چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی بغل میں ہاتھ ڈالا پھر واپس نکالا تو وہ خوب زیادہ سفید روشن تھا۔ اور یہ سفیدی کسی عیب یعنی برص وغیرہ کی بیماری کی وجہ سے نہ تھی اسی کو من غیر سوء فرمایا۔ یہ دونشانیاں ہوئیں پھر فرمایا (لِنُرِیَکَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْکُبْرٰی) (تاکہ ہم تمہیں اپنی بڑی آیات میں سے دکھائیں) اس کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جو بڑے بڑے معجزات دیئے گئے تھے ان میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ کا روشن ہونا سب سے بڑی نشانی تھی۔ یہ دونوں نشانیاں دیکر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کے پاس بھیج دیا اور فرمایا (اِذْھَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰی) (فرعون کے پاس جاؤ بیشک اس نے سرکشی اختیار کر رکھی ہے) اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دعا کرنے اور اپنے بھائی ہارون کو اپنا وزیر بنانے اور پھر فرعون کے پاس جانے اور جادو گروں کے مقابلہ کرنے کا ذکر ہے جو آئندہ دو رکوع میں ہے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے نور ربانی کو نار سمجھا
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب آگ کی جگہ پر پہنچے تو (مقدس سر زمین طویٰ کی اس جانب کے کنارے سے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے داہنی طرف تھی) ایک درخت سے آواز آئی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے کلام فرمایا جیسا کہ سورة قصص میں مذکور ہے۔ یہ جو آگ نظر آئی تھی اس کے بارے میں علامہ بغوی معالم التنزل ج 3 ص 213 میں لکھتے ہیں قال اھل التفسیر لم یکن الذی راہ موسیٰ نارا بل کان نورا ذکر بلفظ النار لان موسیٰ حسبہ نارا یعنی اہل تفسیر نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جو کچھ دیکھا تھا وہ حقیقت میں آگ نہیں تھی بلکہ وہ نور تھا چونکہ انہوں نے اسے دور سے آگ محسوس کیا تھا اس لیے نار سے تعبیر فرمایا۔ پھر فرماتے ہیں وقال اکثر المفسرین ھو نور الرب عزوجل وھو قول ابن عباس و عکرمۃ و غیر ھما (اور اکثر مفسرین نے فرمایا ہے کہ وہ رب جل شانہ کا نور تھا حضرت ابن عباس اور حضرت عکرمہ وغیرہما کا یہی ارشاد ہے) ۔
حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا حجابہ النور لو کشفہ لاحرقت سبحات وجھہ ما انتھی الیہ بصرہ من خلقہ یعنی اس کی ذات کا پردہ نور ہے اگر وہ پردہ ہٹا دے تو اس کی ذات کے انوار ساری مخلوق کو جلا دیں جہاں تک اس کی نظر ہے (رواہ مسلم) یعنی مخلوق کے پردے مادی پردے ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ جو اپنی مخلوق سے محجوب ہے وہ اپنے عزو جلال کے نور سے محتجب یہ انوار اٹھ جائیں تو ساری مخلوق جل کر خاک ہوجائے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جس نور کو آگ کی صورت میں محسوس کیا تھا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ وہی حجاب والا نور تھا۔ جسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دور سے آگ محسوس کیا۔ صاحب روح المعانی 16 ص 126 نے وہب بن منبہ ؓ سے بحوالہ کتاب الزہد لامام احمد وغیرہ نقل کیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب آگ کے قریب پہنچے تو وہاں ایک عجیب حیرت انگیز منظر دیکھا ایک بڑی آگ ہے جو ایک ہرے بھرے درخت کے اوپر شعلے مار رہی ہے مگر حیرت یہ ہے کہ درخت کی کوئی شاخ یا پتہ نہیں جلتا بلکہ آگ کی وجہ سے درخت کے جسم میں تری اور تازگی اور رونق میں اور اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) اس انتظار میں رہے کہ شاید کوئی چنگاری زمین پر گرے تو اسے اٹھالیں دیر تک دیکھتے رہے لیکن کوئی چنگاری نہ گری انہوں نے گھاس کے کچھ تنکے جمع کئے اور انہیں آگ کے قریب کیا تاکہ ان میں آگ لگ جائے تو انہیں لیکر چلے جائیں لیکن اس میں بھی آگ نہ لگی اور بعض روایات میں ہے کہ آگ ان کی طرف بڑھی تو وہ خود پیچھے ہٹ گئے بہرحال آگ لینے کے مقصد سے تشریف لائے تھے وہ مقصد پورا نہ ہوا اسی عجیب و غریب حالت وحیرت میں تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک غیبی آواز آگئی انی انا ربک فاخلع نعلیک 1 ھ مختصراً ۔
نماز ذکر اللہ کے لیے ہے :
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی عبادت کا حکم فرمایا پھر ایک خاص طریقہ عبادت یعنی نماز کا خاص طور پر حکم دیا اور فرمایا (وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِّکْرِیْ ) اس سے معلوم ہوا کہ نماز کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انبیاء سابقین (علیہ السلام) اور ان کی امتوں کو بھی نماز پڑھنے کا حکم تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب سر زمین مکہ میں اپنی اہلیہ اور بچے کو چھوڑا تو بار گاہ الٰہی میں یوں عرض کیا (رَبَّنَآ اِنِّیْٓ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ ) (اے ہمارے رب میں نے اپنی ذریت کو آپ کے بیت محرم کے پاس ایسی وادی میں ٹھہرایا ہے جو کھیتی باڑی والی نہیں ہے اے ہمارے رب تاکہ وہ نماز قائم کریں) اور دعا میں یوں عرض کیا (رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوۃِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ ) (اے میرے رب مجھے نماز کا قائم کرنے والا بنا اور میری ذریت میں سے بھی اور اے ہمارے رب ہماری دعا قبول فرما) درحقیقت نماز بہت بڑی چیز ہے اور شہادتین کے بعد سب سے بڑی عبادت ہے۔ سفر میں حضر میں حرج میں مرض میں امن میں خوف میں ہر حال میں نماز فرض ہے۔ یہ تو ہے کہ لمبے سفر میں (جس کی مقدار کتب فقہ میں لکھی ہے) چار رکعت کی جگہ دو رکعت مشروع کردی گئی لیکن بالکل ہی معاف نہیں جب تک ہوش و حواس قائم ہیں انسان نماز پڑھنے کا مکلف ہے۔ نماز کی بڑی خصوصیات ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہر فرض نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے اور کسی عبادت کے لیے اذان نہیں رکھی گئی۔ پھر اذان بھی اول سے آخر تک اللہ کا ذکر ہے اور نماز بھی اول سے آخر تک ذکر اللہ ہے۔ اللہ اکبر سے شروع کی جاتی ہے اور السلام علیکم پر ختم کی جاتی ہے درمیان میں تلاوت ہے اذکار ہیں تسبیح اور تقدیس ہے۔ تکبیر وتہلیل ہے۔ تشہد ہے اور صلوٰۃ علی النبی ﷺ ہے اور آخر میں دعا ہے یہ سب ذکر ہی ہے پھر نماز کے بعد تسبیحات پڑھنے کی تعلیم دی ہے اور نماز میں سارے اعضاء عبادت میں لگ جاتے ہیں زبان سے ذکر ہے آنکھیں بھی پابند ہیں ہاتھ باندھے ہوئے ہیں۔ پاؤں بھی ایک جگہ رکھے گئے ہیں دل میں خشوع کی کیفیت ہے پورے جسم سے خشوع اور عجز و نیاز ظاہر ہو رہا ہے یہ سب ایسے ہیں جو بندے کو سراپا خالق ومالک جل مجدہ کی طرف متوجہ کردیتے ہیں نماز دنیا میں بھی اول ہے اور آخرت میں سب سے پہلے اس کی پوچھ ہوگی، یہ جو فرمایا (اَقِمِ الصَّلوٰۃ لِذِکْرِیْ ) کہ نماز کو میری یاد کے لیے قائم کرو اس میں لفظ ذکر عام ہے زبان سے تو نماز میں اللہ کا ذکر ہوتا ہی ہے حضور قلب بھی ہونا چاہئے تاکہ دل سے بھی ذاکر اور خاشع ہو جب دل میں خشوع اور خضوع ہوتا ہے تو اعضاء جو ارح پر بھی ظاہر میں اس کا اثر پڑتا ہے۔ اور جب نماز اچھی طرح پڑھی جائے اور دل میں ذکر اللہ کی کیفیت جاگزین ہوجائے تو پھر نماز کی طرف پوری رغبت ہوجاتی ہے نفس نماز سے کتراتا ہے تو قلب اسے رجوع کرا دیتا ہے اور نماز پر آمادہ کردیتا ہے جس قدر اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوگی اسی قدر نماز کی رغبت ہوگی دل بھی لگے گا فرائض اچھی طرح پڑھے جائیں گے سنن اور نوافل کا بھی اہتمام ہوگا۔
بکریاں چرانے میں حکمت اور مصلحت :
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب مدین تشریف لے گئے تو وہاں ایک صالح بزرگ تھے انہوں نے ان سے اس شرط پر اپنی ایک لڑکی سے نکاح کردیا کہ تم آٹھ سال تک میری بکریاں چراؤ اور اگر دس سال تک چرادو تو یہ خدمت تمہاری اپنی طرف سے ہوگی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دس سال کی مدت پوری فرمائی وہاں بکریاں چراتے رہے۔
حضرت عتبہ بن ندر ؓ نے بیان فرمایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے آپ نے سورة طسم یعنی سورة قصص پڑھی۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ پر پہنچے تو فرمایا کہ بلاشبہ موسیٰ نے اپنی جان کو آٹھ سال یا دس سال اپنی شرمگاہ کی پاکیزگی اور اپنے پیٹ کی خوراک کے لیے اجرت پردے دیا تھا (رواہ احمد وابن ماجہ کمافی المشکوۃ ص 218) مطلب یہ ہے کہ اتنی طویل مدت تک اپنے خسر کی بکریاں چرائیں جس سے پیٹ بھر نے کا انتظام بھی ہوگیا اور شرمگاہ کے پاک رکھنے کا بھی کیونکہ یہ خدمت بیوی کے مہر کے حساب میں لگائی گئی تھی۔ (کما قالہ بعض العلماء)
بکریاں چرانے کا کام تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) نے کیا ہے اور اس میں حکمت یہ ہے کہ بکریوں کے چرانے میں نفس کو مشقت بھی ہوتی ہے جسے برداشت کرنا پڑتا ہے اور ضعیف کے ساتھ اچھا معاملہ کرنے کی بھی مشق ہوجاتی ہے بکری ضعیف جانور ہے اگر وہ بھاگ جائے تو پکڑ کر لانا پڑتا ہے اسے مارو تو ہڈی پسلی ٹوٹنے کا اندیشہ رہتا ہے ضبط و تحمل کے بغیر چارہ نہیں ہوتا پھر اس کے مزاج میں تواضع بھی ہے اسی لیے حدیث شریف میں فرمایا کہ اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہوں میں نمازیں نہ پڑھو اور بکریوں کے رہنے کی جگہوں میں نمازیں پڑھ لیا کرو۔ مشکوۃ المصابیح) اونٹوں میں شرکا مادہ ہے حملہ کرنے کا اندیشہ رہتا ہے بکری بیچاری سیدھی سادھی عاجز مخلوق ہے اس سے حملہ کا کوئی اندیشہ نہیں جب بکریوں کے ساتھ کوئی شخص گزارہ کرے اور ایک عرصہ تک چرائے تو اس کے عوام الناس سے خطاب کرنے اور ان کے ساتھ نباہنے اور ان سے جو تکلیفیں پہنچیں انہیں برداشت کرنے کی عادت بن جاتی ہے اس لیے حکمت کا تقاضا ہوا کہ ہر نبی بکریاں چرائے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ نے کوئی نبی نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ کیا آپ نے بھی بکریاں چرائی ہیں ؟ فرمایا ہاں میں بھی مکہ والوں کی بکریاں چراتا تھا۔ جس کی مزدوری چند قیراط تھی۔ (صحیح بخاری ج 1 ص 301)
قیراط اس زمانہ میں چاندی کے ایک بہت چھوٹے سے ٹکڑے کو کہا جاتا تھا جس کی مقدار پانچ جو کے برابر ہوتی تھی اس کے ذریعہ لین دین ہوتا تھا اور مز دور کو مزدوری میں بھی دیا جاتا تھا۔
فائدہ : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تذکرہ میں ان کی لاٹھی کے بارے میں کہیں حیۃ اور کہیں جان اور کہیں ثعبان کا لفظ آیا ہے۔ ثعبان بڑے اژدھے کو اور جان پتلے اور چھوٹے سانپ کو کہا جاتا ہے اور حیۃ عام ہے یہاں بعض مفسرین کو اشکال ہوا کہ ایک ہی چیز کو تین طرح جو تعبیر فرمایا اس سے تعارض کا ابہام ہوتا ہے۔ بات یہ ہے کہ ثعبان کا لفظ صرف اس موقع پر آیا ہے جب پہلی بار حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے پاس پہنچے اور اسے ید بیضاء دکھایا پھر اپنے عصاء کو ڈال دیا تو وہ ثعبان بن گیا۔ اس موقع کے علاوہ یہ لفظ کسی جگہ استعمال نہیں ہوا۔ وادی طویٰ پر جب عصاء ڈالنے کے لیے اللہ جل شانہ کا ارشاد ہوا اور اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی عصاء ڈال دی سورة طہ میں یہ ہے کہ وہ حیۃ بن گئی اور سورة قصص اور سورة نمل میں ہے کہ وہ جان بن گئی اس میں کوئی تعارض نہیں ہے کیونکہ لفظ حیۃ ہر چھوٹے بڑے سانپ کے لیے بولا جاتا ہے۔ اب رہا جادو گروں کے مقابلہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جو اپنی عصا کو ڈالا وہاں تو یہ ہے کہ انہوں نے اپنی لاٹھی ڈال دی۔ وہ جادو گروں کی بنائی ہوئی چیزوں کو لقمہ بنانے لگی سورة اعراف اور سورة طہ اور سورة شعراء میں تینوں جگہ یہی ہے ان مواقع میں حیۃ یا ثعبان یا جان میں سے کوئی لفظ نہیں لہٰذا کسی قسم کا کوئی تعارض نہیں ہے۔ تعارض جب ہوتا جبکہ ایک ہی جگہ میں ثعبان اور جان دونوں کا ذکر ہوتا۔
Ayahs 20:25–36حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا شرح صدر اور طاقت لسان کے لیے دعا کرنا اور اپنے بھائی ہارون کو شریک کار بنانے کی درخواست کرنا اور دعا کا قبول ہونا
جب موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سر فراز فرما کر اور دو بڑی بڑی نشانیاں (عصا اور یدبیضاء) عطا فرما کر فرعون کے پاس جانے کا حکم فرمایا تو انہوں نے عرض کیا کہ اے میرے رب جس کام کا حکم فرمایا ہے اس کے لیے میرا سینہ کھول دیجئے اور میرے کام کو آسان فرمائیے۔ شرح صدر اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے خطاب فرمایا (اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ ) (کیا ہم نے آپ کا سینہ نہیں کھول دیا) جب شرح صدر ہوتا ہے تبھی کام کرنے کی ہمت ہوتی ہے اور کام آگے بڑھتا ہے شرح صدر کی دعا میں حوصلہ ہمت کا بڑھنا بات کہنے پر قادر ہونا مخاطبوں سے نہ جھجکنا علی الاعلان بات کہنا بات کہنے کے طریقے منکشف ہونا علوم کا مستحضر ہونا اور علوم میں اضافہ ہونا اور تعلیم کی صورتوں کا قلب پروارد ہونا یہ سب کچھ آجاتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی عرض کیا کہ میری زبان میں جو گرہ ہے اسے کھول دیجئے تاکہ میرے مخاطب میری بات کو سمجھ لیں۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ زبان میں ان کی پیدائشی لکنت تھی اور ایک قول یہ بھی ہے کہ بچپن میں جب وہ فرعون کے ہاں اس کے محل میں رہتے تھے اس وقت انہوں نے فرعون کی داڑھی پکڑلی تھی اس پر فرعون کو خیال ہوا کہ کہیں یہ لڑکا وہی تو نہیں ہے جس کے بارے میں پیشین گوئی کرنے والوں نے بتایا ہے کہ میری حکومت چلے جانے کا ذریعہ بنے گا۔ اس پر جب اس نے انہیں قتل کرنے کا ارادہ کیا تو فرعون کی بیوی نے کہا یہ ناسمجھ بچہ ہے نادان ہے داڑھی پکڑنے سے اس طرح کا اثر لینا اور قتل کرنے کا ارادہ کرنا درست نہیں اس کی نادانی کی آزمائش کرلی جائے لہٰذا ان کے سامنے جواہر اور آگ کے انگارے رکھ دو پھر دیکھو کیا کرتا ہے جب دونوں چیزیں سامنے رکھ دی گئیں تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے آگ کا انگارہ اٹھا کر منہ میں رکھ لیا تھا جس کی وجہ سے زبان جل گئی زخم تو اچھا ہوگیا لیکن لکنت باقی رہ گئی اس لکنت کی وجہ سے انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ جو میرے مخاطب ہوں وہ میری بات سمجھ سکیں۔ بعض علماء تفسیر نے یہاں یہ نکتہ بتایا ہے کہ انہوں نے (یَفْقَھُوْا قَوْلِیْ ) بھی دعا میں کہہ دیا تھا اس لیے پوری زبان کی لکنت زائل نہیں ہوئی کچھ باقی رہ گئی تھی۔ اسی لیے فرعون نے عیب لگاتے ہوئے یوں کہا تھا (اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ ھٰذَا الَّذِیْ ھُوَ مَہِیْنٌ وَّلاَ یَکَادُ یُبِیْنُ ) (کیا میں بہتر ہوں یا یہ بہتر ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں اور وہ بات بھی ٹھیک طرح سے نہیں کرسکتا) چونکہ پوری زبان کی گرہ زائل نہیں ہوئی اس میں کچھ لکنت باقی تھی۔ (اگرچہ بات سمجھانے کے بقدر بات کرلیتے تھے) اس لیے فرعون کو یہ بات کہنے کا موقع ملا تھا اگرچہ یہ احتمال بھی ہے کہ اس نے عناداً ایسا کہا ہو۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ دعا بھی کی کہ اے میرے رب میرے کنبہ میں سے ایک وزیر یعنی معاون بنا دیجئے پھر اس کی خود ہی تعیین کردی اور عرض کیا کہ یہ معاون میرے بھائی ہارون ہوں ان کے ذریعہ میری قوت کو مضبوط کر دیجئے اور انہیں میرے کام میں شریک کر دیجئے یعنی انہیں بھی نبوت عطا فرما کر تبلیغ کا کام سپرد فرما دیجئے تاکہ میں اور وہ دونوں مل کر نبوت کا کار مفوضہ انجام دیں۔
سورة قصص میں ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کو اپنا معاون بنانے کے لیے یوں دعا کی (وَ اَخِیْ ھٰرُوْنُ ھُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْہُ مَعِیَ رِدْاً یُّصَدِّقُنِیْٓ اِنِّیْٓ اَخَافُ اَنْ یُّکَذِّبُوْنِ ) (اور میرے بھائی ہارون کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے سو آپ ان کو میرے ساتھ رسالت سپرد کر دیجئے۔ جو میرے مددگار ہوں اور میری تصدیق کریں بیشک مجھے ڈر ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلا دیں) اس کے بعد سورة قصص میں دعا قبول فرمانے کا ذکر ہے ارشاد ہے۔ (قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَکَ بِاَخِیْکَ وَ نَجْعَلُ لَکُمَا سُلْطٰنًا فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْکُمَا بِاٰیٰتِنَآ اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَکُمَا الْغٰلِبُوْنَ ) (اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم عنقریب تمہارے بھائی کے ذریعہ تمہارے بازو کو مضبوط کردیں گے اور تم دونوں کے لیے ایک شوکت عطا کردیں گے لہٰذا ان لوگوں کو تم پر دسترس نہ ہوگی۔ تم ہمارے معجزوں کو لیکر جاؤ تم دونوں اور جو تمہارا اتباع کرے گا غالب ہو گے) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کے معاون ہونے کی دعا کرنے کے ساتھ یوں بھی عرض کیا۔ (کَیْ نُسَبِّحُکَ کَثِیْرًا وَّ نَذْکُرُکَ کَثِیْرًا) (ہم کثرت سے آپ کی پاکی بیان کریں اور کثرت سے آپ کا ذکر کریں) اس سے معلوم ہوا کہ تبلیغ و دعوت کے کام میں ذکر اور تسبیح میں مشغول رہنے کی خاص اہمیت ہے۔ ہر ایک ذکر میں مشغول ہوگا تو ایک دوسرے کے لیے یاد دلانے کا ذریعہ بنے گا اور اللہ کے ذکر سے دل کو تقویت بھی پہنچے گی۔
دعا کے آخر میں یہ بھی ہے کہ (اِنَّکَ کُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا) (کہ اے میرے رب بلاشبہ آپ ہمیں دیکھنے والے ہیں) ہماری حاجت کا بھی آپ کو پتہ ہے اور جو کچھ فرعون کے ساتھ گزرے گی اس کا بھی آپ کو علم ہے بس ہمیشہ ہماری مدد فرمائیے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مذکورہ تمام دعائیں قبول ہوئیں جیسا کہ ارشاد فرمایا (قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَکَ یٰمُوْسٰی) (اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ تمہاری درخواست قبول کرلی گئی) دعائیں کر کے اور دعاؤں کی قبولیت کی خوشخبری پا کر وادی مقدس سے روانہ ہوئے اور مصر پہنچ کر آپ نے حضرت ہارون کو ساتھ لیا اور فرعون کے پاس تبلیغ کے لیے پہنچ گئے جیسا کہ چند آیات کے بعد اسی رکوع میں آرہا ہے۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ شانہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بچپن والی تربیت کا پھر ان کے مدین جانے کا تذکرہ فرمایا ہے۔
Ayahs 20:37–40حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بچپن میں تابوت میں ڈال کر بہا دیا جانا پھر فرعون کے گھر والوں کا اٹھا لینا اور فرعون کے محل میں ان کی تربیت ہونا
چونکہ فرعون اور اس کی قوم کے لوگ بنی اسرائیل پر بہت ظلم کرتے تھے اس لیے مصر سے چلے جانے کی ضرورت تھی لیکن فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کو یہ بھی گوارہ نہ تھا کہ انہیں وہاں سے جانے دیں۔ پھر مزید بات یہ ہوئی کہ کاہنوں نے فرعون کو یہ بتایا کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے جو تیری حکومت کے زوال کا ذریعہ بنے گا لہٰذا اس نے یہ کام شروع کردیا کہ بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہوتا تھا اسے قتل کردیتا تھا اور جو لڑکی پیدا ہوتی تھی اسے زندہ رہنے دیتا تھا، جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش ہوئی تو ان کی والدہ بڑی گھبرائیں اور انہیں خطرہ ہوا کہ کہیں میرے لڑکے کو بھی قتل نہ کر دے اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ اس بچہ کو ایک صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دو اور تم نہ ڈرنا اور نہ غم کرنا ہم اسے تمہارے پاس واپس پہنچادیں گے اور اے پیغمبر بنادیں گے۔ کمافی سورة القصص (اِنَّا رَآدُّوْہُ اِلَیْکِ وَ جَاعِلُوْہُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ) انہوں نے بچے کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا، بچہ صندوق میں تھا اور صندوق پانی میں بہہ رہا تھا۔ دریا نے اس صندوق کو ایک کنارہ پر لگا دیا وہیں فرعون کا محل تھا اس کے گھر والوں نے دیکھا کہ کنارہ پر ایک صندوق موجود ہے اس کو جو اٹھایا تو دیکھا کہ اس میں ایک بچہ ہے۔ یہ وہی بچہ تھا جو فرعون کا دشمن اور فرعون کے لیے مصیبت بننے والا تھا۔ سورة طہ میں فرمایا (یَاْخُذْہُ عَدُوٌّ لِّیْ وَ عَدُوٌّ لَّہٗ ) (اس بچہ کو وہ شخص لے لے گا جو میرا دشمن ہے اور اس بچہ کا بھی دشمن ہے) اور سورة قصص میں فرمایا (فَالْتَقَطَہٗٓ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَکُوْنَ لَھُمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا) (سو اس بچہ کو فرعون کے لوگوں نے اٹھالیا تاکہ ان کے لیے دشمن بنے اور غم کا باعث ہوجائے) فرعون کو احساس ہوا کہ یہ بچہ کہیں وہی نہ ہو جو میری حکومت کے زوال کا باعث بن جائے لہٰذا اسے قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ (مشہور ہے کہ فرعون لاولد تھا) اس کی بیوی نے کہا کہ یہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اسے قتل نہ کر۔ ہوسکتا ہے کہ ہمیں نفع پہنچادے یا ہم اسے بیٹا ہی بنالیں۔ اسی طرح مشورہ ہوا اور انہیں انجام کی خبر نہ تھی۔
کمافی سورة القصص (وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَکَ لَا تَقْتُلُوْہُ عَسٰٓی اَنْ یَّنْفَعَنَآ اَوْ نَتَّخِذَہٗ وَلَدًا وَّ ھُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ ) اللہ تعالیٰ شانہ نے مزید یہ کرم فرمایا کہ لوگوں کے دلوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی محبت ڈال دی جو شخص بھی انہیں دیکھتا گود میں لیتا اسے ان پر پیار آتا تھا اور اس پیار کی وجہ سے فرعون نے بھی اپنی بیوی کی بات مان لی کہ اسے بیٹا بنالیں گے اور اس بات کا امکان ہوتے ہوئے کہ ممکن ہے یہ بنی اسرائیل ہی میں سے لڑکا ہو قتل کرنے سے باز رہا۔ اسی کو فرمایا (وَ اَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیْ ) اور میں نے تجھ پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی (وَ لِتُصْنَعَ عَلٰی عَیْنِیْ ) اور تاکہ تم میری نگرانی میں پرورش پاؤ۔ ادھر تو بچہ کو فرعون کے گھر والوں نے اٹھالیا اور اس بچہ کے پالنے اور بیٹا بنانے کے مشورے ہوگئے اور ادھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو بہت بیقراری ہوگئی قریب تھا کہ اس بیقراری میں بات ظاہر کر دیتیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو مضبوط رکھا انہوں نے ضبط و تحمل سے کام لیا اور ساتھ ہی یہ سوچا کہ پتہ تو چلانا چاہیے کہ بچہ کہاں پہنچا ؟ لہٰذا انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن سے کہا کہ جدھر کو بچہ گیا ہے ادھر کو چلی جاؤ اور بچے کا سراغ لگاؤ اس لڑکی نے حضرت موسیٰ کو دور سے دیکھ لیا اور پتہ چل گیا کہ بچہ خیریت سے ہے اور شاہی محل میں ہے، لیکن آل فرعون کو اس کا کچھ پتہ نہیں چلا کہ اس کی بہن اسے دیکھ رہی ہے۔ کمافی سورة القصص (وَ قَالَتْ لِاُخْتِہٖ قُصِّیْہِ فَبَصُرَتْ بِہٖ عَنْ جُنُبٍ وَّ ھُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ ) ۔
آل فرعون نے بچہ کی پرورش کا فیصلہ کرلیا لیکن اب دودھ پلانے والی کی تلاش ہوئی جو بھی عورت اس کام کے لیے بلائی جاتی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کا دودھ لینے سے انکار کردیتے، وہ جو ان کی بہن دور سے دیکھ رہی تھی اس نے کہا کہ میں تمہیں ایسا گھرانہ بتادیتی ہوں جو اس کو دودھ پلائے اور اس کی اچھی طرح پرورش بھی کرے اور اس کی خیر خواہی میں لگا رہے۔ فرعون کے گھر والوں کو تو دودھ پلانے والی عورت کی ضرورت ہی تھی انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن سے کہا اچھا تم جس عورت کو مناسب حال سمجھ رہی ہو اس کو بلا لاؤ۔ چناچہ وہ اپنے گھر گئیں اور اپنی والدہ کو (جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بھی والدہ تھیں) بلا کرلے آئیں۔ جب انہوں نے بچہ کو گود میں لیا اور دودھ پلانے لگیں تو بڑی خوشی کے ساتھ اپنی ماں سے چمٹ کر انہوں نے دودھ پی لیا فرعون کے گھر والوں نے کہا کہ اچھا بی بی تم اس بچہ کو لے جاؤ۔ تم ہی اس کی پرورش کرو اور اس خدمت کے عوض ہمارے ہاں سے وظیفہ بھی ملتا رہے گا۔ چناچہ وہ اپنے بچہ کو گھر لے آئیں اسی کو فرمایا سورة طہ میں (اِذْ تَمْشِیْٓ اُخْتُکَ فَتَقُوْلُ ھَلْ اَدُلُّکُمْ عَلٰی مَنْ یَّکْفُلُہٗ فَرَجَعْنٰکَ الآی اُمِّکَ کَیْ تَقَرَّ عَیْنُھَا وَ لَا تَحْزَنَ ) (جب تمہاری بہن چل رہی تھی اور کہہ رہی تھی کیا میں تمہیں ایسے گھرانے کا پتہ بتادوں جو اس کی کفالت کرے پھر ہم نے تم کو تمہاری ماں کی طرف لوٹا دیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غمگین نہ ہو)
اور سورة قصص میں فرمایا (وَ حَرَّمْنَا عَلَیْہِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ ھَلْ اَدَلُّکُمْ عَلآی اَھْلِ بَیْتٍ یَّکْفُلُوْنَہٗ لَکُمْ وَ ھُمْ لَہٗ نٰصِحُوْنَ فَرَدَدْنٰہُ الآی اُمِّہٖ کَیْ تَقَرَّعَیْنُھَا وَلَا تَحْزَنَ وَ لِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّ لٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ) (اور ہم نے پہلے ہی موسیٰ پر دودھ پلانے والیوں کی بندش کر رکھی تھی سو وہ یعنی ان کی بہن کہنے لگیں کیا میں تم لوگوں کو کسی ایسے گھرانے کا پتہ نہ بتاؤں جو تمہارے لیے اس بچہ کی پرورش کریں اور اس کی خیر خواہی کریں غرض ہم نے موسیٰ کو ان کی والدہ کے پاس واپس پہنچایا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور تاکہ وہ غم میں نہ رہیں اور تاکہ اس بات کو جان لیں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے۔ لیکن اکثر لوگ یقین نہیں رکھتے) ۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی حفاظت اور کفالت کی صور تحال بیان فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک اور انعام یاد دلایا اور فرمایا (وَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّیْنٰکَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنّٰکَ فُتُوْنًا) (اور تو نے ایک جان کو قتل کردیا سو ہم نے تمہیں غم سے نجات دی اور تمہیں محنتوں میں ڈالا) اس کا تفصیلی واقعہ سورة قصص میں مذکور ہے۔ اجمالی طور پر یہاں بیان کیا جاتا ہے۔ اور وہ یہ کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) بڑے ہوگئے تو باہر نکلتے اور بازاروں
میں دوسرے انسانوں کی طرح چلتے پھرتے تھے اور انہیں یہ معلوم ہوگیا تھا کہ میں فرعون کا بیٹا نہیں ہوں بنی اسرائیل میں سے ہوں اور مجھے جس نے دودھ پلایا ہے وہ میری والدہ ہی ہے۔ ان کی قوم پر آل فرعون کی طرح سے جو مظالم ہوتے تھے انہیں بھی دیکھتے رہتے تھے۔ ایک دن یہ ہوا کہ باہر نکلے تو دیکھا کہ ایک شخص بنی اسرائیل میں سے اور ایک شخص قوم فرعون سے لڑ رہے ہیں۔ ان کی قوم کے آدمی نے ان سے مدد مانگی لہٰذا انہوں نے فرعون کی قوم کے آدمی کو ایک گھونسہ رسید کردیا۔ گھونسہ لگنا تھا کہ یہ شخص وہیں ڈھیر ہوگیا یہ بات تو مشہور ہوگئی کہ فرعون کی قوم کے ایک آدمی کو کسی نے قتل کردیا ہے لیکن یہ پتہ نہ چلا کہ مارنے والا کون ہے ؟ اگلے دن پھر ایسا واقعہ پیش آیا کہ ان کی قوم کا وہی شخص جس نے کل مدد چاہی تھی آج پھر کسی سے لڑرہا تھا یہ دوسرا شخص قبطی یعنی قوم فرعون کا تھا اسرائیلی نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھ کر پھر مدد مانگی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ارادہ کیا کہ اس شخص کو پکڑ کر ماریں جو قوم فرعون سے تھا اور جس کے مقابلہ میں اسرائیلی شخص مدد طلب کر رہا تھا، ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ اسرائیلی یہ سمجھا کہ مجھے مار رہے ہیں، وہ کہنے لگا کہ آج تم مجھے قتل کرنا چاہتے ہو جیسا کہ کل ایک آدمی کو قتل کرچکے ہو۔ اسرائیلی کی زبان سے یہ کلمہ نکلا اور فرعونی کے کان میں پڑگیا اس نے فرعون کو خبر پہنچادی لہٰذا وہ بہت برہم ہوا اور اب یہ مشورے ہونے لگے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیا جائے۔ اب فرعون کے اہلکار موسیٰ (علیہ السلام) کی تلاش میں تھے کہ ایک شخص ان کے پاس دوڑتا ہوا آیا اور اس نے کہا کہ اے موسیٰ فرعونی لوگ تمہارے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں تاکہ تمہیں قتل کردیں لہٰذا تم ان کی سر زمین سے نکل جاؤ، یہ سن کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ڈرتے ہوئے وہاں سے نکلے اور مدین چلے گئے اور مدین تک پہنچنے میں اور وہاں رہنے میں بہت سی تکلیفیں اٹھائیں۔ وہاں چند سال رہے اس کے بعد واپس مصر آئے اور راستے میں نبوت سے سر فراز ہوئے یہ جو فرمایا (وَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّیْنٰکَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنّٰکَ فُتُوْنًا فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْٓ اَھْلِ مَدْیَنَ ثُمَّ جِءْتَ عَلٰی قَدَرٍ یّٰمُوْسٰی) اس میں اسی تفصیل کا اجمال ہے۔