20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 20:1–4

مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ Open ayah 20:2 in the Quran reader

(اے نبی ! ) ہم نے تم پر اس لیے قرآن نازل نہیں کیا کہ تم زحمت اٹھائو

اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰىۙ Open ayah 20:3 in the Quran reader

بلکہ وہ تو ایک نصیحت ہے اس کے لیے جو خدا سے ڈرتا ہے

تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰىؕ Open ayah 20:4 in the Quran reader

(اور یہ) اس کی طرف سے نازل ہوا ہے کہ جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا۔

ترکیب : الا تذکرۃ اسثتناء منقطع ہے ای لکن انزلناہ للتذکرۃ وقیل ھو مصدر ای لکن ذکرنا یتذکرۃ۔ تنزیلا بدل من اللفظ بفعلہ الناصب لہ۔ العلی جمع علیا تانیث اعلیٰ ۔ الرحمن بالجر بھی پڑھا ہے صفۃ لمن خلق فیکون علی العرش استویٰ خبراً محذوفاً اے ھو۔ وکذا ان رفع علی المدح دون الابتداء۔ تفسیر : ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مکہ میں ابتدائِ نزول قرآن کے وقت جناب رسول ﷺ تہجد کی نماز میں کبھی اس پائوں پر کبھی اس پائوں پر کھڑے ہو کر اس قدر طویل قیام کرتے تھے کہ قدم مبارک ورم کر آتے تھے جس کو دیکھ کر کفار قریش کہتے تھے کہ اس پر قرآن کیا نازل ہوا زحمت میں پڑگیا۔ اس پر یہ سورة نازل ہوئی اور یہ بھی منقول ہے کہ قرآن سے آنحضرت ﷺ لوگوں کو اس قدر وعظ و پند فرماتے تھے کہ نفس کے سب آرام جاتے رہے تھے۔ اس پر کفار کے جھگڑے مزید برآں تھے۔ تب کفار کہنے لگے کہ قرآن کیا اترا یہ شخص مشقت و مصیبت میں پڑگیا۔ طہ حروف مقطعات ہیں جن کی بحث مقدمہ تفسیر میں ہوچکی۔ فرماتا ہے کہ اے نبی ! میں نے قرآن اس لیے نہیں نازل کیا کہ آپ مصیبت میں پڑجاؤ بلکہ خدا ترس لوگوں کے لیے نصیحت کرنے کے لیے اور یہ کسی ایسے ویسے کا نازل کیا ہوا نہیں ہے بلکہ اس کا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس نے تخت حکومت پر بیٹھ کر تمام عالم کی تدبیر کی سب کا بندوبست و افی کردیا۔ الرحمن علی العرش استوی 1 ؎ چونکہ وہ رحمن ہے اس کی رحمت کا مقتضٰی یہ بھی ہوا کہ اس نے اپنے بندوں کی اصلاحِ آخرت و تزکیہ ارواح و نفوس کے لیے قرآن نازل کیا وہ ان کی تدبیر سے کیوں ساکت رہتا کیونکہ لہ مافی السموات زمین و آسمانوں میں جو کچھ ہے سب اسی کی مخلوق ‘ اسی کی ملک ہے۔ سب پر اس کی نظر رحمت ہے ہر چیز کی حاجت روا کرتا ہے انسان کی حاجت معلم روحانی و صحیفہ آسمانی کی طرف اشد تھی۔ الثرٰی زمین کے نیچے کے طبقہ کو کہتے ہیں۔ ان آیات میں جس طرح اس کی قدرت و ارادہ کا ثبوت ہے اسی طرح اس کی رحمت کا بھی کہ جس کی وجہ سے قرآن نازل ہوا مگر قدرت و ارادہ علم بغیر ممکن نہیں اس لیے صفت علم کے ثبوت کے لیے فرماتا ہے وان تجہر بالقول الخ فاعلم انہ غنی عن جہرک فانہ یعلم السرواخفٰی (بیضاوی) اگر تو دعا و ذکر پکار کر کرے تو اس کو اس کی حاجت نہیں کیونکہ اس کو پوشیدہ بات جو بہت آہستہ کہی جاتی ہے اور وہ جو اس سے بھی مخفی ہو یعنی دل کی بات سب معلوم ہے۔ اور جبکہ یہ ثابت ہوگیا کہ وہ تمام صفات الوہیۃ کو جامع ہے تو یہ بھی ثابت ہوگیا کہ خدائی خاص اسی کا حصہ ہے اس لیے فرمایا اللہ لا الہ الاھو اور چونکہ رحمن کے نام سے وہ چونکتے تھے تو فرمایا کہ لہ الاسماء الحسنٰی کہ اس کے سب نام نیک اور عمدہ ہیں رحمن کسی اور کا نام نہیں یہ بھی اسی کا نام ہے جو مقام رحمت پر استعمال کیا گیا ہے۔ واللہ اعلم
Ayah 20:5

اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى Open ayah 20:5 in the Quran reader

رحمن نے جو عرش پر جلوہ گر 2 ؎ ہے۔

2 ؎ استوی قال ثعلب والزجاج والفراء الاستوا الاقبال علی الشیء وقیل ھو کنایۃ عن العز والملک و السلطان و امالاستواء بمعنی استقر فلم یثبت والارجح استواء ًیلیق بہ فانہ من صفاۃ تعالیٰ وکیفیتہ مجہول۔ 12 منہ علی العرش استوی پر فرقہ آریہ و غیرہا بہت کچھ اعتراض کرتے ہیں کہ اس سے خدا کا مجسم اور متمکن ہونا ثابت ہے جو اس کے تقدس کے خلاف ہے مگر اس گروہ نے اور ان لوگوں نے کہ جن کی تقلید سے یہ اعتراض کیا ہے مفسرین کے اقوال پر نظر نہیں کی نہ علماء کی اس تحقیقات کو سنا جو اس مسئلہ کی بابت ہوئی ہے۔ قدما کہتے ہیں کہ اس لفظ پر ہمارا ایمان ہے اور استوی سے یہی استویٰ مراد ہے جو اس کی شان کے لائق ہے نہ وہ جو کہ اس کے خلاف ہے۔ متاخرین یقین رکھتے ہیں کہ عرش سے مراد کوئی لکڑی یا سونے چاندی کا تخت نہیں کہ خدا اس پر بیٹھا ہو وہ اس سے قطعاً پاک ہے بلکہ یہ کنایہ ہے جس سے مراد تخت حکومت ہے استوی سے مراد اس پر اس کا متصرفانہ تسلط ہے۔ مخلوق کو پیدا کیا ‘ آسمان و زمین سب کچھ بنایا ‘ پھر ان پر حکومت و تصرف اور ان کی تدبیر و ترتیب کی۔ عرش سے مراد ایک ایسا آسمان لیا جائے جو سب کے اوپر ہے اور سب کو محیط ہے جس نے عالم نا موت کا احاطہ کرلیا ہے پھر اس کے اوپر عالم ملکوت و ناسوت اور لاہوت بھی ہے جہاں ملائکہ مقربین اور سب سے وراء الوری ذات پاک ہے۔ اس بات کو شرع نے بطور کنایہ کے بادشاہوں کے تخت پر بیٹھنے اور حضوری میں ملائکہ کھڑے رہنے سے اور تخت کو آٹھ فرشتوں کے سر پر اٹھائے رکھنے سے تعبیر کیا ہے اور ایسے باریک اسرار استعاروں اور کنایوں اور تشبیہوں سے بیان کئے جاتے ہیں پھر اس کو ظاہر پر محمول کر کے اعتراض کرنا معترض کے خود فہم کا قصور ہے اور سمجھا ہے تو اس کی بدنفسی ہے۔ 12 منہ
Ayahs 20:6–8

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰى Open ayah 20:6 in the Quran reader

اسی کا ہے جو کچھ کہ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ کہ زمین میں ہے اور جو کچھ کہ ان کے درمیان ہے اور جو کچھ کہ تحت الثریٰ میں ہے

وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰى Open ayah 20:7 in the Quran reader

(اور اے مخاطب ! ) اگر تو پکار کر بات کہے (تو کیا) وہ تو مخفی اور اس سے بھی مخفی بات جانتا ہے

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى Open ayah 20:8 in the Quran reader

وہی اللہ ہے کہ جس کے سوا کوئی اور معبود نہیں۔ اس کے سب نام اچھے ہیں۔

الثری التراب الندی قال لم کن ندیا فھو تراب والمراد مرکز الارض فانہ تحت حقیقی من کل جہۃ وماقیل المرادیہ الثری الذی تحت الصخرۃ التی علیہا ثورفانہ من الاسرائیلیات لاتلفت الیہ الجہر رفع الصوت والسرخلافہ واما اخفی باخطرہ ببالہ وقیل الشر الانسان فی نفسہٖ والاخفی ما اخفی علی ابن آدم۔ 12 منہ
Ayahs 20:9–24

وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 20:9 in the Quran reader

اور کیا تمہیں موسیٰ کی بات بھی پہنچی ؟

اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى Open ayah 20:10 in the Quran reader

(معلوم ہوئی) جبکہ اس نے آگ دیکھی تو اپنی گھروالی سے کہا کہ ٹھہرو مجھے آگ دکھائی دی ہے۔ شاید کہ میں اس میں سے تمہارے پاس کوئی چنگاری لائوں یا وہاں کسی راہبر کو پائوں۔

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ یٰمُوْسٰىؕ Open ayah 20:11 in the Quran reader

پھر وہ جب ان کے پاس آئے تو آواز آئی کے اے موسیٰ !

اِنِّیْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىؕ Open ayah 20:12 in the Quran reader

میں ہوں تمہارا رب بس تم اپنی جوتیاں اتار لو کیونکہ تم پاک وادی میں ہو جو طوی ہے

وَ اَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰى Open ayah 20:13 in the Quran reader

اور ہم نے تم کو برگزیدہ کیا پس جو کچھ وحی کی جاتی ہے

اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ١ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ Open ayah 20:14 in the Quran reader

اس کو غور سے سنو۔ میں ہی تو اللہ ہوں میرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ پس میری ہی عبادت کیا کرو اور میری ہی یاد کے لیے نماز پڑھا کرو۔

اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى Open ayah 20:15 in the Quran reader

بیشک قیامت آنے والی ہے میں اس کو مخفی رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر ایک کو اس کی کوشش کا بدلہ دیا جائے۔

فَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى Open ayah 20:16 in the Quran reader

پھر یہ نہ ہو کہ جو شخص اس کا یقین نہیں کرتا اور وہ اپنی خواہش پر چلتا ہے تم کو اس کی فکر سے باز رکھے پھر تم تباہ ہوجائو

وَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:17 in the Quran reader

اور اے موسیٰ ! تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا چیز ہے ؟

قَالَ هِیَ عَصَایَ١ۚ اَتَوَكَّؤُا عَلَیْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِیْ وَ لِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى Open ayah 20:18 in the Quran reader

کہا یہ میرا عصا ہے اس پر سہارا لگایا کرتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے واسطے پتے جھاڑا کرتا ہوں اور میرے لیے اس میں اور بھی فائدے ہیں۔

قَالَ اَلْقِهَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:19 in the Quran reader

فرمایا اے موسیٰ ! اس کو ڈال دو ۔

فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِیَ حَیَّةٌ تَسْعٰى Open ayah 20:20 in the Quran reader

پھر اس کو موسیٰ نے ڈال دیا تو جب ہی وہ سانپ بن کر دوڑنے لگا۔

قَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْ١ٙ سَنُعِیْدُهَا سِیْرَتَهَا الْاُوْلٰى Open ayah 20:21 in the Quran reader

فرمایا اس کو پکڑ لو اور مت ڈرو۔ ہم اس کو ابھی اس کی پہلی حالت پر کئے دیتے ہیں

وَ اضْمُمْ یَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 20:22 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ اپنی بغل میں رکھ لو تو بغیر اس کے کہ اس میں کوئی عیب ہو ایک اور دوسری نشانی ہو کر چمکتا ہوا نکلے گا

لِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰىۚ Open ayah 20:23 in the Quran reader

تاکہ ہم تمہیں اپنی بڑی نشانیوں میں سے اور بھی کچھ دکھائیں۔

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى۠ Open ayah 20:24 in the Quran reader

فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہوگیا ہے۔

ترکیب : اذ ظرف ہے حدیث کا یا مفعول اذکر کا۔ ھدیً اے ہادیا یدلنی علی الطریق۔ نودی کا مفعول مالم یسم فاعلہ محذوف اے نودی یا موسیٰ الخ بیان نداء طوٰی اسم علم للوادی وھو بدل منہ۔ لذکری متعلق ہے اقم سے لتجزی متعلق ہے آیۃ سے سیرتھا منصوب بنرع الخافض ای حال تھا بیضاء حال ہے من غیرسوء متعلق ہے تخرج سے۔ تفسیر : قرآن کے نازل ہونے سے کفار سخت متعجب تھے اس لیے اس کو آنحضرت ﷺ کی زحمت کا سبب قرار دیتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر توریت نازل ہونے کے یہود و نصاریٰ اور ان کے اتباع کفار عرب بھی قائل تھے۔ اس لیے یہاں سے موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ بیان فرماتا ہے کہ دیکھو ان کو کس طرح سے الہام ہوا۔ آگ لینے گئے تھے نبوت مل گئی۔ یہ اس کے فضل کی بات ہے پس اگر محمد ﷺ پر خدا نے تمام عالم کو تاریکی کے پردوں سے نکالنے کے لیے قرآن نازل کیا تو کیا عجب ہے ؟ یہ ہے موسیٰ ( علیہ السلام) کے بیان کرنے کا باعث۔ اذ رای ناراً الخ اس وقت کا ذکر ہے کہ جب موسیٰ مدین سے اپنی بیوی کو لے کر مصر کو جا رہے تھے راستہ میں رات میں بیوی کو سردی معلوم ہوئی۔ موسیٰ کو دور سے ایک آگ کا شعلہ نظر آیا۔ یہ آگ لینے وہاں گئے اور یہ بھی سمجھے کہ ضرور یہاں کوئی آدمی ہوگا اس سے رستہ بھی ملے گا۔ مگر جب وہاں پہنچے تو ایک سبز درخت سے شعلہ نظر آیا جس کو دیکھ کر تعجب ہوا اور اصل وہ آگ نہ تھی نورالٰہی کی تجلی تھی۔ تب موسیٰ کو آواز دی گئی فرشتے نے آواز دی یاخدا تعالیٰ کی طرف سے ندا ہوئی ہوجیسی ندا کہ اس کی ذات کے لائق ہو۔ تب خدا سے کلام اور الہام شروع ہوا۔ پھر آیات میں آخر تک اسی کا ذکر ہے جو موسیٰ ( علیہ السلام) اور خدا تعالیٰ سے باہم کلام ہوا۔ جوتیاں نکالنے کو فرمایا ادب کے لحاظ سے کیونکہ وہ مقام وادی مقدس میں طوٰی ہے جو کوہ طور کے پاس ہے۔ ثابت ہوا کہ مقامات مقدسہ میں جوتیاں اتار لینا گوپاک ہوں ادب کی بات ہے۔ بعض کہتے ہیں جوتیوں میں ناپاکی تھی یا گدھے کے کچے چمڑے کی تھیں اس لیے اتارنے کو فرمایا۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو اس موقع پر خدا تعالیٰ نے یہ اصول دین تعلیم فرمائے۔ اول انی انا اللہ کہ میں ایک الہ ہوں میرے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں۔ یہ توحید ہے اس لیے فاعبدنی کہ میری ہی عبادت کرنا یہ دوسری بات تھی عبادت عام ہے۔ ذکر ہو ‘ مراقبہ ہو ‘ دعا ہو ‘ حاجات میں پکارنا ہو ‘ مدد مانگنا ہو ‘ زکوٰۃ و خیرات ہو۔ یہ احکام شریعت انہیں میں احکام عشرہ بھی آگئے جن کی بابت کوہ طور پر تاکید ہوئی پھر اس میں سے اقم الصلوٰۃ لذکری بالخصوص مؤکدہ فرمایا۔ تیسری بات ان الساعۃ کہ قیامت ضرور قائم ہونے والی ہے جس کو میں مخفی رکھنا چاہتا ہوں وقت اور سال مقرر نہیں کرتا تاکہ خدا پرستوں کو ہر وقت کھٹکا لگا رہے۔ شریعت و عبادت کے حکم کے بعد قیامت کی خبر دینا اس بات پر تنبیہ ہے کہ یہ عبث کام نہیں اس کے ثمرات نئی زندگانی میں جو جاودانی ہوگی ضرور ملیں گے۔ چوتھی بات فلا یصدنک اس پر قائم رہنا کسی جبار منکر نفس کے مرید کے اثر اور روک سے اس سے باز نہ آنا یہ استقامت اور ثبات قدمی ہے جو دین کے لیے ضروری ہے اور اس لیے بھی اس کی تاکید کی کہ انہیں ایک جبار دنیا پرست کے پاس پیغام لے کر جانا تھا۔ اس کے بعد اس کے پاس پہنچنے کی تمہید شروع ہوتی ہے۔ فقال وما تلک الخ کہ تمہارے ہاتھ میں یہ کیا ہے خدا کو معلوم تھا مگر اس پر ایک معجزہ دینا تھا اس لیے پوچھا۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا میرا عصا ہے جس سے یہ یہ کام لیتا ہوں بیکار لٹھ لیے نہیں پھرتا ہوں۔ حکم دیا کہ اس کو زمین پر ڈال دے، ڈالا تو سانپ بن کر پھن پھنانے لگا۔ موسیٰ ( علیہ السلام) ڈر گئے۔ فرمایا مت ڈرو اس کو اٹھایا تو پھر وہی عصا تھا۔ یہ ایک معجزہ عطا ہوا پھر فرمایا اپنی بغل میں ہاتھ دبا کر باہر نکالو تو آفتاب کی طرح چمکنے لگا۔ یہ دو معجزے ان کو ان کی صداقت کے نشان میں عطا ہوئے۔ پہلے میں جبروتِ الٰہی کا اظہار تھا جو فرعون جیسے سرکش کے لیے ضروری بات تھی۔ دوسرے میں رہنمائی اور روشنی طریقہ کی طرف اشارہ تھا جو مقصود انبیاء علیھم السلام ہے اس کے بعد حکم دیا کہ فرعون کے پاس جاؤ اور یہ کہو اس لیے کہ وہ بڑا سرکش ہوگیا ہے۔