20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayah 20:1
Ayah 20:2

مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ Open ayah 20:2 in the Quran reader

ہم نے آپ ﷺ پر قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ ﷺ مشقت میں پڑیں

آیت 2 مَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْآٰی ” آپ ﷺ کی ذمہ داری صرف پیغام پہنچا دینے کی حد تک ہے۔ اب اگر یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے تو آپ ﷺ ان کے پیچھے خود کو ہلکان نہ کریں۔ یہی مضمون اس سے پہلے سورة الکہف میں اس طرح آچکا ہے : فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ عَآٰی اٰثَارِہِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِہٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا ”تو اے نبی ﷺ ! آپ شاید اپنے آپ کو غم سے ہلاک کرلیں گے ان کے پیچھے ‘ اگر وہ ایمان نہ لائے اس بات قرآن پر“۔ سورة الشعراء میں بھی فرمایا گیا : لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ ”شاید کہ آپ ﷺ ہلاک کر ڈالیں اپنے آپ کو اس وجہ سے کہ وہ ایمان نہیں لا رہے“۔ بہر حال یہ تو اس آیت کا وہ ترجمہ اور مفہوم ہے جو عمومی طور پر اختیار کیا گیا ہے ‘ لیکن میرے نزدیک اس کا زیادہ بہتر مفہوم یہ ہے کہ اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ پر یہ قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ ﷺ ناکام ہوں۔ اس لیے کہ شَقِیَ یَشْقٰی کے معنی ناکام و نامراد ہونے کے ہیں۔ عربی زبان کے بہت سے مادے ایسے ہیں جن کے حروف کی آپس میں مشابہت پائی جاتی ہے۔ مثلاً ”رب ب“ مادہ سے رَبَّ یَرُبُّ کا معنی ہے : مالک ہونا ‘ انتظام کرنا۔ اس سے لفظ ”رب“ بنا ہے۔ ”ر ب و“ سے رَبَا یَرْبُوْ رَبْوًاکا مفہوم ہے : مال زیادہ ہونا ‘ بڑھنا۔ اس سے ربا سود مستعمل ہے۔ جبکہ ”ر ب ی“ سے رَبّٰی یُرَبِّیْ تَرْبِیَۃً کا معنی و مراد ہے : پرورش کرنا ‘ نشوونما دینا۔ ان مادوں کے معنی اگرچہ الگ الگ ہیں مگر حروف کے اشتراک کی وجہ سے ان میں بہت مشابہت پائی جاتی ہے۔ اسی طرح ”ش ق ی“ اور ”ش ق ق“ بھی دو مختلف المعانی لیکن باہم مشابہ مادے ہیں۔ ایسے مشابہ مادوں سے مشتق اکثر اسماء و افعال بھی باہم مشابہ ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے بہت سے الفاظ ذو معنی بھی قرار پاتے ہیں۔ چناچہ تَشْقٰی کو اگر ”ش ق ق“ سے مشتق مانا جائے تو اس کے معنی مشقت اور محنت کے ہوں گے اور اگر اس کا تعلق ”ش ق ی“ سے تسلیم کیا جائے تو معنی ناکامی و نامرادی کے ہوں گے۔ یہاں اگر اس لفظ کا دوسرا ترجمہ مراد لیا جائے تو یہ آیت حضور ﷺ کے لیے گویا ایک بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اے نبی ﷺ یہ قرآن قول فیصل بن کر نازل ہوا ہے ‘ لہٰذا آپ ﷺ کے اس مشن میں ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ عنقریب کامیابی آپ ﷺ کے قدم چومے گی۔
Ayahs 20:3–5

اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰىۙ Open ayah 20:3 in the Quran reader

یہ تو صرف یاد دہانی ہے اس کے لیے جو ڈرتا ہے

تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰىؕ Open ayah 20:4 in the Quran reader

اس کی تنزیل اس ہستی کی طرف سے ہے جس نے پیدا کیا زمین کو اور بلند آسمانوں کو

اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى Open ayah 20:5 in the Quran reader

(یعنی) رحمن ! جو عرش پر متمکنّ ہے

آیت 3 اِلَّا تَذْکِرَۃً لِّمَنْ یَّخْشٰی ” یعنی جن کے دلوں میں کچھ خوف خدا ہے ان کے لیے یہ نصیحت ہے۔
Ayah 20:6

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰى Open ayah 20:6 in the Quran reader

اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے جو کچھ زمین میں ہے جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اور جو کچھ زمین کے سب سے نچلے طبقے کے نیچے ہے

آیت 6 لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا وَمَا تَحْتَ الثَّرٰی ” الثَّرٰی کے معنی گیلی مٹی کے ہیں ‘ یعنی گیلی مٹی کے نیچے بھی جو کچھ ہے وہ بھی اللہ ہی کی ملکیت ہے۔
Ayah 20:7

وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰى Open ayah 20:7 in the Quran reader

اور اگر تم بلند آواز سے کوئی بات کرو وہ تو یقیناً جانتا ہے چھپی بات کو بھی اور نہایت مخفی بات کو بھی

آیت 7 وَاِنْ تَجْہَرْ بالْقَوْلِ ” اللہ کو پکارتے ہوئے ‘ اس سے دعایا مناجات کرتے ہوئے اگر تم لوگ اپنی آوازوں کو بلند کرو یا آہستہ رکھو ‘ اسے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا :
Ayahs 20:8–9

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى Open ayah 20:8 in the Quran reader

وہ اللہ ہے ! اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ اسی کے ہیں تمام اچھے نام

وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 20:9 in the Quran reader

اور کیا آپ ﷺ تک پہنچی ہے موسیٰ ؑ کی خبر

آیت 8 اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَط لَہُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی ” اب یہاں سے آگے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قصہ شروع ہو رہا ہے جس کے بارے میں بیشتر تفصیلات سورة الاعراف کے مطالعے کے دوران گزر چکی ہیں۔ چناچہ یہاں وہ تفصیلات پھر سے دہرائی نہیں جائیں گی۔
Ayahs 20:10–11

اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى Open ayah 20:10 in the Quran reader

جب اس نے ایک آگ دیکھی تو اس ؑ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ آپ ذرا (یہاں) ٹھہرئیے مجھے آگ نظر آئی ہے تاکہ میں لے آؤں تمہارے لیے اس میں سے کوئی انگارہ یا میں پاؤں اس آگ (کی جگہ) سے کوئی راہنمائی

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ یٰمُوْسٰىؕ Open ayah 20:11 in the Quran reader

پھر جب وہ آیا اس (آگ) کے پاس تو ندا دی گئی : اے موسیٰ

آیت 10 اِذْ رَاٰ نَارًا ” یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی اہلیہ کے ساتھ مدین سے مصر کی طرف واپس آ رہے تھے۔ اندھیری رات تھی ‘ سردی کا موسم تھا اور راستے کے بارے میں بھی ان کے پاس یقینی معلومات نہیں تھیں۔ اس صورت حال میں جب آپ علیہ السلام کو آگ نظر آئی ہوگی تو یقیناً آپ علیہ السلام بہت خوش ہوئے ہوں گے۔ لَّعَلِّیْٓ اٰتِیْکُمْ مِّنْہَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَی النَّارِ ہُدًی ” ممکن ہے مجھے وہاں سے کوئی چنگاری مل جائے جس کی مدد سے ہم آگ جلا کر تاپ سکیں ‘ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہاں سے مجھے راستے کے بارے میں کوئی راہنمائی مل جائے۔ ایسا نہ ہو کہ رات کے اندھیرے میں ہم کسی غلط راستے پر چلتے رہیں۔
Ayah 20:12

اِنِّیْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىؕ Open ayah 20:12 in the Quran reader

یہ تو میں تمہارا پروردگار ہوں چناچہ اپنی جوتیاں اتار دو کیونکہ اس وقت تم مقدس وادی طویٰ میں ہو

آیت 12 اِنِّیْٓ اَنَا رَبُّکَ ” یعنی جسے تم آگ سمجھ کر یہاں آئے ہو اس آگ کے پردے میں خود میں ہوں تمہارا رب تمہارا پروردگار !
Ayah 20:13

وَ اَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰى Open ayah 20:13 in the Quran reader

اور میں نے تم کو چن لیا ہے تو اب ذرا توجہ سے سنو جو وحی تم پر کی جا رہی ہے

آیت 13 وَاَنَا اخْتَرْتُکَ ” میں نے آپ ﷺ کو اپنے رسول کے طور پر پسند کرلیا ہے اور ایک بڑے مشن کے لیے آپ علیہ السلام کا انتخاب کرلیا ہے۔
Ayahs 20:14–15

اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ١ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ Open ayah 20:14 in the Quran reader

یقیناً میں ہی اللہ ہوں ! کوئی اور معبود نہیں سوائے میرے پس تم میری ہی بندگی کرو اور نماز قائم رکھو میری یاد کے لیے

اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى Open ayah 20:15 in the Quran reader

(اور یہ بات بھی یاد رکھو کہ) بیشک قیامت آکر رہے گی میں اسے مخفی ہی رکھوں گا تاکہ بدلہ دیا جائے ہر جان کو جو اس نے کوشش کی ہو

آیت 14 اِنَّنِیْٓ اَنَا اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنَا ” یہ آیت اس لحاظ سے ممتاز و منفرد ہے کہ اللہ کی انا نیت انا نیت کبریٰ کے اظہار کے لیے جو الفاظ یہاں اس مقام پر استعمال ہوئے ہیں ‘ میرے علم کی حد تک قرآن میں کسی اور مقام پر نہیں ہوئے۔ علامہ اقبال نے یہ الفاظ استعمال کیے ہیں کہ ایک تو ہماری انائے صغیر The finite ego ہے اور اس کے مقابلے میں اللہ کی انائے کبیر The Infinite Ego ہے۔ اس انائے کبیر The Great I am کا اس آیت میں بھرپور انداز میں اظہار ہوا ہے۔
Ayahs 20:16–17

فَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى Open ayah 20:16 in the Quran reader

تو (دیکھنا کہیں) تمہیں اس سے رو گرداں نہ کردے کوئی ایسا شخص جو اس پر ایمان نہیں رکھتا اور جو اپنی خواہشات کی پیروی کرتا ہے (اگر ایسا ہوا) تو تم ہلاک ہوجاؤ گے

وَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:17 in the Quran reader

اور اے موسیٰ ؑ ٰ ! یہ تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے

آیت 16 فَلَا یَصُدَّنَّکَ عَنْھَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِھَا وَاتَّبَعَ ھَوٰٹہُ فَتَرْدٰی ” عَنْھَا کی ضمیر کا تعلق السَّاعَۃ قیامت سے بھی ہوسکتا ہے اور الصَّلٰوۃ نماز سے بھی۔ چناچہ اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ آخرت کا منکر کوئی شخص آپ علیہ السلام کو بھی اس سے برگشتہ نہ کر دے۔ لیکن اگر عَنْھَا کا تعلق الصّٰلوۃ سے مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ اگر کوئی شخص نماز کا منکر ہے تو وہ آپ کو بھی اس سے بدظن کرنے کا باعث نہ بن جائے۔
Ayahs 20:18–20

قَالَ هِیَ عَصَایَ١ۚ اَتَوَكَّؤُا عَلَیْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِیْ وَ لِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى Open ayah 20:18 in the Quran reader

کہا : یہ میرا عصا ہے میں اس پر ٹیک بھی لگا لیتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لیے (درختوں سے) پتے بھی جھاڑ لیتا ہوں اور اس میں میرے لیے اور بھی کئی کام ہوتے ہیں

قَالَ اَلْقِهَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:19 in the Quran reader

فرمایا : اے موسیٰ ؑ اس کو ذرا پھینکو تو سہی

فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِیَ حَیَّةٌ تَسْعٰى Open ayah 20:20 in the Quran reader

تو انہوں نے اسے پھینک دیا تو وہ دفعتاً ایک سانپ بن گیا دوڑتا ہوا

آیت 18 قَالَ ہِیَ عَصَایَج ” بظاہر عصا کے بارے میں سوال کا بس یہی جواب کافی تھا ‘ لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس سلسلے میں زیادہ تفصیل بیان کردی۔ زیادہ تر مفسرین کے نزدیک اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے مخاطبت اور مکالمے کے شوق و ذوق میں اپنی بات کو بڑھانے کی کوشش کی تھی۔ چناچہ آپ علیہ السلام نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے عرض کیا :
Ayahs 20:21–23

قَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْ١ٙ سَنُعِیْدُهَا سِیْرَتَهَا الْاُوْلٰى Open ayah 20:21 in the Quran reader

فرمایا : اس کو پکڑ لو اور ڈرو نہیں ابھی ہم اس کو لوٹا دیں گے اس کی پہلی حالت پر

وَ اضْمُمْ یَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 20:22 in the Quran reader

اور ذرا اپنا ہاتھ ملاؤ اپنی بغل کے ساتھ وہ نکلے گا چمکتا ہوا بغیر کسی بیماری کے یہ دوسری نشانی ہے

لِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰىۚ Open ayah 20:23 in the Quran reader

تا کہ ہم اپنی بڑی نشانیوں میں سے کچھ نشانیاں تمہیں دکھائیں

آیت 21 قَالَ خُذْہَا وَلَا تَخَفْوقفۃ ” سورۃ النمل آیت 10 اور سورة القصص آیت 31 میں اس واقعہ کے حوالے سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خوفزدہ ہوجانے کا ذکر بھی آیا ہے : فَلَمَّا رَاٰہَا تَہْتَزُّ کَاَنَّہَا جَآنٌّ وَّلّٰی مُدْبِرًا وَّلَمْ یُعَقِّبْ ط ”جب انہوں نے دیکھا کہ وہ لاٹھی حرکت کر رہی ہے جیسے کہ وہ ایک سانپ ہو ‘ تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا“۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ آپ ڈریں نہیں بلکہ واپس آئیں اور اس کو پکڑ لیں۔ بہر حال یہاں پر وہ تفصیل بیان نہیں ہوئی۔
Ayah 20:24

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى۠ Open ayah 20:24 in the Quran reader

اب تم جاؤ فرعون کی طرف وہ بڑا سرکش ہوگیا ہے

آیت 24 اِذْہَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰی ” فرعون کی سر کشی اب حد سے تجاوز کر رہی ہے۔ چناچہ آپ علیہ السلام جائیں اور اسے بھلائی اور دین حق کی دعوت دیں۔ اسے یہ بھی کہیں کہ وہ بنی اسرائیل پر ظلم نہ کرے اور انہیں واپس اپنے وطن فلسطین جانے کی اجازت دے دے۔
Ayahs 20:25–27

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ Open ayah 20:25 in the Quran reader

موسیٰ ؑ ٰ نے عرض کیا : اے میرے پروردگار ! میرے لیے میرے سینے کو کھول دے

وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:26 in the Quran reader

اور میرے اس کام کو میرے لیے آسان کر دے

وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ Open ayah 20:27 in the Quran reader

اور میری زبان کی گرہ (لکنت) کو کھول دے

آیت 25 قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ” یہ بہت اہم دعا ہے اور یہ ہر اس شخص کو یاد ہونی چاہیے جو دین کی دعوت کا مشن لے کر نکلا ہو۔ چناچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار ! تو نے جو عظیم الشان مشن میرے حوالے کیا ہے اس کے لیے اپنی خصوصی مدد میرے شامل حال کر دے اور اس کام کے لیے میرے سینے کو کھول دے۔
Ayah 20:28

یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪ Open ayah 20:28 in the Quran reader

(تاکہ) میری بات کو وہ اچھی طرح سمجھ سکیں

آیت 28 یَفْقَہُوْا قَوْلِیْ ” ظاہر ہے لکنت والے شخص کی گفتگو کو سمجھنے میں لوگ دقت محسوس کرتے ہیں۔
Ayah 20:29

وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْۙ Open ayah 20:29 in the Quran reader

اور میرے لیے ایک وزیر بھی بنا دے میرے خاندان میں سے

آیت 29 وَاجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَہْلِیْ ” لفظ ”وزیر“ کا مادہ وزر بوجھ ہے۔ اس لحاظ سے اس کے معنی ہیں : بوجھ اٹھانے والا۔ یعنی ذمہ داریوں میں مدد کرنے اور سہارا بننے والا۔
Ayahs 20:30–34

هٰرُوْنَ اَخِیۙ Open ayah 20:30 in the Quran reader

میرے بھائی ہارون کو

اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْۙ Open ayah 20:31 in the Quran reader

اس کے ذریعے سے میری کمر کو مضبوط کر دے

وَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:32 in the Quran reader

اور اسے میرے اس کام میں شریک بنا دے

كَیْ نُسَبِّحَكَ كَثِیْرًاۙ Open ayah 20:33 in the Quran reader

تا کہ ہم تیری تسبیح کریں کثرت کے ساتھ

وَّ نَذْكُرَكَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 20:34 in the Quran reader

اور تیرا ذکر کریں کثرت کے ساتھ

آیت 30 ہٰرُوْنَ اَخِی ” آپ علیہ السلام نے اس وزارت کے لیے اپنے بھائی کا نام بھی خودہی تجویز کردیا۔
Ayah 20:35

اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا Open ayah 20:35 in the Quran reader

یقیناً تو ہمیں دیکھ رہا ہے

آیت 35 اِنَّکَ کُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا ” تو خود ہمارے حالات کا چشم دید گواہ ہے۔
Ayahs 20:36–37

قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:36 in the Quran reader

فرمایا : اے موسیٰ ؑ تمہیں عطا کردیا گیا جو تم نے طلب کیا

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْكَ مَرَّةً اُخْرٰۤىۙ Open ayah 20:37 in the Quran reader

اور ہم تو تم پر احسان کرچکے ہیں ایک مرتبہ پہلے بھی

آیت 36 قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَکَ یٰمُوْسٰی ” تمہاری درخواست ہم نے من و عن قبول کرلی۔
Ayah 20:38

اِذْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ مَا یُوْحٰۤىۙ Open ayah 20:38 in the Quran reader

جب ہم نے تمہاری والدہ کی طرف وحی کی تھی جو (اب تمہیں) وحی کی جا رہی ہے

آیت 38 اِذْ اَوْحَیْنَآ اِلآی اُمِّکَ مَا یُوْحٰٓی ” یعنی اب ہم آپ علیہ السلام کو وحی کے ذریعے بتا رہے ہیں کہ آپ علیہ السلام کی والدہ کو اس وقت ہم نے کیا وحی کی تھی ؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے زمانے میں بھی فرعون کا حکم تھا کہ بنی اسرائیل میں سے کسی کے ہاں اگر بیٹا پیدا ہو تو اسے قتل کردیا جائے اور صرف ان کی بیٹیوں کو زندہ رہنے دیا جائے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو وحی یا الہام کے ذریعے ان کے نومولود بچے کے بارے میں ہدایت کی :
Ayah 20:39

اَنِ اقْذِفِیْهِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْهِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِهِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّیْ وَ عَدُوٌّ لَّهٗ١ؕ وَ اَلْقَیْتُ عَلَیْكَ مَحَبَّةً مِّنِّیْ١ۚ۬ وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَیْنِیْۘ Open ayah 20:39 in the Quran reader

کہ اس کو ایک صندوق میں بند کرو پھر اسے دریا میں ڈال دو چناچہ دریا اسے ساحل پر ڈال دے گا (وہاں سے) اس کو اٹھا لے جائے گا وہ جو میرا بھی دشمن ہے اور اس (بچے) کا بھی دشمن ہے میں نے تم پر اپنی محبت کا پرتو ڈال دیا تاکہ تم کو پالا جائے میری آنکھوں کے سامنے

فَلْیُلْقِہِ الْیَمُّ بالسَّاحِلِ یَاْخُذْہُ عَدُوٌّ لِّیْ وَعَدُوٌّ لَّہٗ ط ” حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی طرف کی جانے والی وحی کے بارے میں یہاں مزید تفصیل بیان نہیں فرمائی گئی ‘ بلکہ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام سے براہ راست خطاب شروع ہو رہا ہے۔ یہ قرآن کا خاص اسلوب ہے کہ کچھ چیزیں پڑھنے اور سننے والے پر چھوڑ دی جاتی ہیں کہ وہ سیاق وسباق کے مطابق خود سمجھ جائے۔ بہر حال اس واقعہ کی مزید تفصیلات یوں ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے آپ علیہ السلام کو صندوق میں بند کر کے دریا میں ڈال دیا۔ آپ علیہ السلام کی بڑی بہن اپنی والدہ کی ہدایت کے مطابق صندوق پر نظر رکھے ساحل کے ساتھ ساتھ چلتی رہی۔ صندوق کے شاہی محل میں پہنچنے کی خبر بھی بچی کے ذریعے والدہ کو مل گئی۔ ادھر فرعون بچے کو قتل کرنے پر تلا ہوا تھا۔ اس کی بیوی حضرت آسیہ رض جو بنی اسرائیل میں سے تھیں اور نیک خاتون تھیں نے اس کو سمجھایا کہ ہمارے ہاں اولاد نہیں ہے ‘ یہ بچہ میری اور آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ثابت ہوگا ‘ ہم اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے ‘ چناچہ آپ اسے قتل نہ کریں۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اپنی محبت کا پرتو ڈال کر آپ علیہ السلام کے چہرے کو انتہائی پر کشش بنا دیا تھا۔ چناچہ آپ علیہ السلام کی صورت ایسی من مو ہنی تھی کہ ہر شخص دیکھتے ہی آپ علیہ السلام کا گرویدہ ہوجاتا تھا۔ وَاَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیْج وَلِتُصْنَعَ عَلٰی عَیْنِیْ ”اور اے موسیٰ علیہ السلام ! لِتُصْنَعَ کے لفظی معنی ہیں : ”تاکہ تم کو بنایا جائے“۔ اسی مادہ سے لفظ مَصْنَع مشتق ہے جس کے معنی کارخانہ کے ہیں۔ یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تربیت کا کارخانہ فرعون کا محل قرار پایا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر اپنی محبت کا پرتو ڈال کر آپ علیہ السلام کی شکل میں ایسی کشش پیدا کردی تھی کہ دشمن بھی دیکھتے تو گرویدہ ہوجاتے۔ یہ سب کچھ اس لیے کیا گیا کہ آپ علیہ السلام کی پرورش کے انتظامات خصوصی طور پر شاہی محل میں کیے جانے منظور تھے۔
Ayah 20:40

اِذْ تَمْشِیْۤ اُخْتُكَ فَتَقُوْلُ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى مَنْ یَّكْفُلُهٗ١ؕ فَرَجَعْنٰكَ اِلٰۤى اُمِّكَ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ١ؕ۬ وَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّیْنٰكَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا١۫۬ فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ١ۙ۬ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ یّٰمُوْسٰى Open ayah 20:40 in the Quran reader

جب تمہاری بہن چلتی جا رہی تھی تو اس نے کہا : کیا میں تمہیں بتاؤں اس (خاندان) کے بارے میں جو اس کی کفالت کرے تو یوں ہم نے لوٹا دیا تمہیں تمہاری والدہ کی طرف تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی رہے اور وہ غم نہ کھائے اور (پھر) تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تو ہم نے تم کو اس غم سے بھی نجات دلائی اور پھر ہم نے تمہیں (مزید بہت سی) آزمائشوں سے گزارا پھر تم کئی سال اہل مدین میں رہے پھر تم یہاں آگئے ایک طے شدہ فیصلے کے مطابق اے موسیٰ ؑ ٰ

آیت 40 اِذْ تَمْشِیْٓ اُخْتُکَ ” اور وہ چلتے چلتے فرعون کے محل تک پہنچ گئی جہاں بچے کو فوری طور پر دودھ پلانے کے انتظامات کیے جا رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کسی بھی عورت کا دودھ پینے سے منع کردیا تھا۔ جب بہت سی عورتیں بلائی گئیں اور وہ سب کی سب آپ علیہ السلام کو دودھ پلانے میں ناکام رہیں تو آپ علیہ السلام کی بہن جو یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی بول پڑی : فَتَقُوْلُ ہَلْ اَدُلُّکُمْ عَلٰی مَنْ یَّکْفُلُہٗ ط ” آپ علیہ السلام کی بہن نے اپنی ہی والدہ کے بارے میں ان لوگوں کو مشورہ دیا۔ چناچہ جب آپ علیہ السلام کی والدہ کو بلایا گیا تو آپ علیہ السلام نے ان کا دودھ فوراً پی لیا۔ فَرَجَعْنٰکَ الآی اُمِّکَ کَیْ تَقَرَّ عَیْنُہَا وَلَا تَحْزَنَ ط ” چنانچہ مامتا کی تسلی و تسکین کے لیے بچے کو واپس والدہ کی گود میں پہنچا دیا گیا۔ مقام غور ہے ! اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کے جذبات و احساسات کا کس حد تک پاس ہے۔ وَقَتَلْتَ نَفْسًا ” پھر جب آپ علیہ السلام جوان ہوئے اور مصر میں آپ علیہ السلام کے ہاتھوں ایک قبطی قتل ہوگیا : فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْٓ اَہْلِ مَدْیَنَ ” آپ علیہ السلام کے مدین پہنچنے اور وہاں ٹھہرنے کے بارے میں تفصیل سورة القصص میں بیان ہوئی ہے۔ یہاں صرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ثُمَّ جِءْتَ عَلٰی قَدَرٍ یّٰمُوْسٰی ” یعنی اس وقت آپ علیہ السلام کا یہاں پہنچنا کسی حسن اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طے شدہ پروگرام کا حصہ ہے۔ میں نے آپ علیہ السلام کے سب معاملات کے متعلق باقاعدہ منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ آپ علیہ السلام نے اس سے پہلے جو کچھ کیا ‘ آپ علیہ السلام جہاں جہاں رہے ‘ یہ سب اس منصوبہ بندی کا حصہ تھا اور اب اسی منصوبہ بندی اور ایک طے شدہ فیصلے کے مطابق آپ علیہ السلام اس جگہ پہنچ گئے ہو۔