20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayahs 20:41–47

وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِیْۚ Open ayah 20:41 in the Quran reader

اور میں نے تم کو بنایا ہے خاص اپنے لیے

اِذْهَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْكَ بِاٰیٰتِیْ وَ لَا تَنِیَا فِیْ ذِكْرِیْۚ Open ayah 20:42 in the Quran reader

جاؤ تم اور تمہارا بھائی میری ان نشانیوں کے ساتھ اور میرے ذکر سے سستی نہ کرنا

اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰىۚۖ Open ayah 20:43 in the Quran reader

جاؤ تم دونوں فرعون کے پاس یقیناً وہ بہت سرکش ہوگیا ہے

فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى Open ayah 20:44 in the Quran reader

تو (دیکھو !) اس کے ساتھ نرم (انداز میں) بات کرنا شاید کہ اس طرح وہ سوچے یا ڈرے

قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ اَوْ اَنْ یَّطْغٰى Open ayah 20:45 in the Quran reader

انہوں نے عرض کیا : اے ہمارے پروردگار ! ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ (اچانک) ہمارے اوپر بھڑک اٹھے گا یا زیادتی کرے گا

قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى Open ayah 20:46 in the Quran reader

فرمایا : تم ڈرو نہیں یقیناً میں تم دونوں کے ساتھ ہوں میں ہر بات سنتا اور دیکھتا رہوں گا

فَاْتِیٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْ١ؕ قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى Open ayah 20:47 in the Quran reader

پس تم دونوں جاؤ اس (فرعون) کے پاس اور اس سے کہو کہ بلاشبہ ہم دونوں رسول ہیں تیرے رب کی جانب سے پس ہمارے ساتھ بھیج دے بنی اسرائیل کو اور انہیں عذاب میں مبتلا مت رکھ یقیناً ہم آئے ہیں ایک نشانی لے کر تیرے رب کی طرف سے۔ اور سلامتی ان پر ہے جو ہدایت کا اتباع کریں

آیت 41 وَاصْطَنَعْتُکَ لِنَفْسِیْ ” اِصْطَنَعْتُ ‘ صَنَعْتُ سے باب افتعال ہے۔ ص کی مناسبت سے ت یہاں ط سے بدل گئی ہے۔ یعنی میں نے آپ علیہ السلام کی شخصیت کو خصوصی طور پر تیار کیا ہے۔ شاہی محل کے اندر مخصوص ماحول میں آپ علیہ السلام کی پرورش کرائی ہے اور بعض خصوصی صلاحیتیں آپ علیہ السلام کی شخصیت میں پیدا کی ہیں۔ اس لیے کہ مجھے آپ علیہ السلام سے ایک بڑا کام لینا ہے۔
Ayah 20:48

اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى Open ayah 20:48 in the Quran reader

ہماری طرف یہ وحی کی جاچکی ہے کہ اس پر عذاب آئے گا جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرلیا

آیت 48 اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَآ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰی مَنْ کَذَّبَ وَتَوَلّٰی ” چنانچہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ السلام نے فرعون کے دربار میں پہنچ کر اللہ کا پیغام پوری تفصیل کے ساتھ اس تک پہنچا دیا۔
Ayah 20:49

قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:49 in the Quran reader

فرعون نے کہا کہ اے موسیٰ ! تم دونوں کا رب ہے کون

آیت 49 قَالَ فَمَنْ رَّبُّکُمَا یٰمُوْسٰی ” ہم تو کسی ایسے رب سے واقف نہیں ہیں جس کے بارے میں تم دونوں بات کر رہے ہو۔ تمہارا ربّ ہے کون ؟
Ayah 20:50

قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى Open ayah 20:50 in the Quran reader

موسیٰ ؑ ٰ نے کہا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شے کو اس کی خلقت عطا کی پھر ہدایت دی

آیت 50 قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْٓ اَعْطٰی کُلَّ شَیْءٍ خَلْقَہٗ ثُمَّ ہَدٰی ” یعنی اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کو ایک خاص شکل اور ہیئت کے مطابق تخلیق کیا ہے اور پھر ہر مخلوق کی خلقت کے عین مطابق اسے جبلی ہدایت بھی عطا کی ہے۔ مثلاً اس نے بکری کو جبلی ہدایت دی ہے کہ اس کی غذا گوشت نہیں ہے ‘ گھاس وغیرہ ہے اور شیر کو جبلی ہدایت دی ہے کہ اس کی غذا گھاس نہیں ‘ گوشت ہے ‘ اسی طرح ہرچیز کو جبلی طور پر اس نے مخصوص عادات واطوار اور خصوصیات کا پابند کردیا ہے۔
Ayah 20:51

قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:51 in the Quran reader

فرعون نے کہا : تو پھر پہلی نسلوں کا کیا حال ہوگا

آیت 51 قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰی ” یعنی اگر ہم تمہارا یہ دعویٰ تسلیم کرلیں کہ تم اللہ کے رسول ہو اور تمہاری پیروی میں ہی ہدایت ہے تو پھر ہمارے آباء و اَجداد جو اس سے پہلے فوت ہوچکے ہیں ‘ ہماری کئی نسلیں جو اس دنیا سے جا چکی ہیں ‘ ان کے پاس تو کوئی رسول نہیں آیا تھا ‘ ان تک ایسی کوئی دعوت نہیں پہنچی تھی اور وہ اسی طریقے پر فوت ہوئے جسے تم گمراہی قرار دے رہے ہو۔ تو ان سب لوگوں کے بارے میں تمہارا کیا فتویٰ ہے ؟ ان سب کا کیا بنے گا ؟ یہ ایک ٹیڑھا سوال تھا جس کا جواب بڑے حکیمانہ انداز میں دینے کی ضرورت تھی۔ ہمارے جیسا کوئی داعی ہوتا تو کہہ دیتا کہ وہ سب جہنمی ہیں ! ایسے جواب کے ردِّ عمل کے طور پر مخاطبین کی اپنے اسلاف کے بارے میں عصبیت و حمیت کو ہوا ملتی اور صورت حال بگڑ جاتی۔ بہر حال حکمت تبلیغ کا تقاضا یہی ہے کہ دعوت کے دوران مخاطبین کے جذبات اور مخصوص موقع محل کو مد نظر رکھا جائے تاکہ کسی بھی قسم کی منفی صورت حال پیدا نہ ہونے پائے۔ چناچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کمال حکمت سے جواب دیا :
Ayahs 20:52–57

قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ كِتٰبٍ١ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘ Open ayah 20:52 in the Quran reader

موسیٰ ؑ ٰ نے کہا کہ ان کا علم میرے رب کے پاس ایک کتاب کے اندر ہے۔ میرا رب نہ تو بھٹکتا ہے اور نہ ہی بھولتا ہے

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ سَلَكَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى Open ayah 20:53 in the Quran reader

وہی جس نے زمین کو تمہارے لیے بچھونا بنایا اور اس میں تمہارے (چلنے کے) لیے راستے بنائے اور آسمان سے پانی نازل کیا پھر ہم نے اس (پانی) سے نکالے طرح طرح کے نباتات

كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:54 in the Quran reader

کھاؤ تم خود بھی اور چراؤ اپنے مویشیوں کو بھی۔ یقیناً اس میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى Open ayah 20:55 in the Quran reader

اسی (زمین) سے ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے اور اسی میں ہم تمہیں لوٹائیں گے اور اسی میں سے ہم تمہیں ایک مرتبہ پھر نکالیں گے

وَ لَقَدْ اَرَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى Open ayah 20:56 in the Quran reader

اور ہم نے اس (فرعون) کو دکھا دیں اپنی ساری نشانیاں پھر بھی اس نے جھٹلایا اور انکار کیا

قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:57 in the Quran reader

اس نے کہا : اے موسیٰ ؑ ٰ ! کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ اپنے اس جادو کے بل پر ہمیں ہماری سر زمین سے نکال باہر کرو

آیت 52 قَالَ عِلْمُہَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ کِتٰبٍج لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَلَا یَنْسَی ” میرا رب ہی جانتا ہے کہ ایسے لوگ جن کے پاس اللہ کی طرف سے دعوت لے کر کوئی رسول نہیں آیا ‘ ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا۔ میرا رب ان تمام لوگوں کے حالات سے خوب واقف ہے ‘ نہ تو اس سے غلطی ہوتی ہے اور نہ ہی وہ بھولتا ہے۔ چناچہ ان کے بارے میں وہ خود ہی مناسب فیصلہ کرے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کے درباریوں کو یہ مسکت جواب دینے کے بعد اپنی تقریر جاری رکھی :
Ayah 20:58

فَلَنَاْتِیَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى Open ayah 20:58 in the Quran reader

تو ہم بھی ضرورلائیں گے تمہارے مقابلے میں ایسا ہی جادو توّ معین کرلو ہمارے اور اپنے مابین وعدے کا ایک مقرر وقت نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے اور نہ تم کرنا (یہ مقابلہ ہو) ایک کھلے میدان میں

فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَبَیْنَکَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُہٗ نَحْنُ وَلَآ اَنْتَ مَکَانًا سُوًی ” ایک کھلے میدان میں ہم سب جمع ہوجائیں۔ وہاں تم بھی اپنی یہ نشانیاں پیش کرو ‘ اور ہمارے جادو گر بھی اپنے جادو کے کمالات دکھائیں۔ فرعون کا خیال تھا کہ اس کے بلائے ہوئے جادوگر اس سے بہتر جادو دکھا دیں گے اور اس طرح موسیٰ کا دعویٰ باطل ثابت ہوجائے گا۔
Ayah 20:59

قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى Open ayah 20:59 in the Quran reader

موسیٰ ؑ ٰ نے کہا : تمہارے وعدے کا دن ہوگا جشن کا دن اور یہ کہ لوگ جمع کرلیے جائیں دن چڑھے

آیت 59 قَالَ مَوْعِدُکُمْ یَوْمُ الزِّیْنَۃِ ” ان کے ہاں یہ کوئی تہوار تھا جس کے سلسلے میں وہ لوگ بڑی تعداد میں کسی میدان میں جمع ہو کر جشن مناتے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حکمت سے کام لیتے ہوئے اسی تہوار کے اجتماع کو مقابلے کے لیے مخصوص کرلیا۔ وَاَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًی ” یہ ضحی کا وقت وہی ہے جس وقت ہم عیدین کے موقع پر نماز ادا کرتے ہیں۔ یعنی جب دھوپ ذرا سی اٹھ جائے اس وقت لوگوں کو جمع کرلیا جائے۔
Ayah 20:60

فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَیْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى Open ayah 20:60 in the Quran reader

تو اب فرعون نے رخ پھیرا چناچہ اس نے اپنے سارے ہتھکنڈے جمع کرلیے پھر وہ (مقابلے میں) آگیا

آیت 60 فَتَوَلّٰی فِرْعَوْنُ ” جب حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مقابلہ طے ہوگیا تو فرعون نے اپنی پوری توجہ اس کے لیے تیاری کرنے پر مرکوز کردی۔ فَجَمَعَ کَیْدَہٗ ثُمَّ اَتٰی ” اس نے اپنی پوری مملکت سے ماہر جادو گروں کو اکٹھا کیا اور یوں پوری تیاری کے ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے کے لیے میدان میں اترا تاکہ ثابت کرسکے کہ آپ علیہ السلام کا دعویٰ باطل ہے۔
Ayah 20:61

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ١ۚ وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى Open ayah 20:61 in the Quran reader

موسیٰ ؑ ٰ نے انہیں (خبردار کرتے ہوئے) کہا : تمہاری بد بختی ! اللہ پر جھوٹ مت گھڑو کہ وہ تمہیں غارت کر دے کسی عذاب کے ذریعے سے اور یقیناً وہ ناکام ہوا جس کسی نے بھی (اللہ پر) افترا کیا

آیت 61 قَالَ لَہُمْ مُّوْسٰی وَیْلَکُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا فَیُسْحِتَکُمْ بِعَذَابٍج ” حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آخری حجت کے طور پر انہیں خبردار کیا کہ دیکھو تم لوگ اللہ پر افترا بازی نہ کرو ‘ میں جو کچھ پیش کر رہا ہوں یہ جادو نہیں ہے ‘ یہ اللہ کا عطا کردہ معجزہ ہے۔
Ayah 20:62

فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰى Open ayah 20:62 in the Quran reader

تو وہ باہم جھگڑ پڑے اپنے اس معاملے میں اور پھر لگے چپکے چپکے مشورہ کرنے

آیت 62 فَتَنَازَعُوْٓا اَمْرَہُمْ بَیْنَہُمْ وَاَسَرُّوا النَّجْوٰی ” جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے براہ راست جادوگروں سے خطاب کیا تو وہ مرعوب ہوگئے۔ نبوت کا رعب بھی تھا اور آپ علیہ السلام کی شخصیت کی خداداد وجاہت بھی ‘ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد قبل ازیں آیت 39 میں وارد ہوچکا ہے : وَاَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیْ ج کہ میں نے اپنی طرف سے تم پر اپنی خاص محبت ڈال دی تھی۔ چناچہ جادوگر یہ سب کچھ برداشت نہ کرسکے۔ آپ علیہ السلام کی تقریر سنتے ہی مقابلے کا معاملہ ان میں متنازعہ ہوگیا۔ چناچہ وہ ایک دوسرے کو قائل کرنے کے لیے باہم سرگوشیوں میں مصروف ہوگئے۔ اس آیت کا ایک مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تقریر سے فرعون کے درباریوں میں باہم اختلاف پیدا ہوگیا اور وہ آپس میں چپکے چپکے سرگوشیاں کرنے لگے کہ یہ مقابلہ نہ کرایا جائے۔ لیکن بالآخر وہ اتفاقِ رائے سے اس نتیجے پر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے :
Ayah 20:63

قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى Open ayah 20:63 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ یہ دونوں جادو گر ہی ہیں جو چاہتے ہیں کہ تمہیں تمہاری سرزمین سے نکال باہر کریں اپنے جادو (کے زور) سے اور تمہاری مثالی تہذیب کو برباد کردیں

آیت 63 قَالُوْٓا اِنْ ہٰذٰٹنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰکُمْ مِّنْ اَرْضِکُمْ بِسِحْرِہِمَا وَیَذْہَبَا بِطَرِیْقَتِکُمُ الْمُثْلٰی ” مُثْلیٰ مؤنث ہے اَمْثَل کا ‘ جس کے معنی ہیں سب سے زیادہ مثالی۔ حق کے مقابلے میں باطل ذہنیت کا باہمی اتفاق ملاحظہ ہو کہ جو دلیل اس وقت فرعون اور اس کے درباریوں کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلاف سوجھی تھی آج بھی شیطانی قوتیں مسلمانوں کے خلاف اسی دلیل کے تحت پروپیگنڈا کر رہی ہیں۔ ابلیسی سوچ کے نقیبوں نے آج بھی پوری دنیا میں شور برپا کر رکھا ہے کہ Muslim Fundamentalism ہماری مثالی تہذیب و ثقافت کے لیے خطرہ ہے۔ ہم نے بڑی محنت سے مختلف اداروں کو فروغ دیا ہے ‘ دنیا میں انسانی حقوق کا تصور متعارف کرایا ہے ‘ جان جوکھوں میں ڈال کر مرد و زن کی مساوات اور عورتوں کی آزادی کی جنگ لڑی ہے۔ مگر مسلمان بنیاد پرست ہماری تہذیب و ثقافت کی ان مثالی achievements کو ملیا میٹ کردینا چاہتے ہیں۔
Ayahs 20:64–65

فَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا١ۚ وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى Open ayah 20:64 in the Quran reader

چناچہ تم مجتمع کرو اپنی ساری تدبیریں (اور اپنے وسائل و ذرائع) پھر آؤ (مقابلہ میں) صف باندھ کر اور آج کامیاب وہی رہے گا جو غالب آئے گا

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى Open ayah 20:65 in the Quran reader

جادوگروں نے کہا : اے موسیٰ ! یا تو تم پہلے ڈالو اور یا پھر ہم ہی پہلے ڈالنے والے بنتے ہیں

آیت 64 فَاَجْمِعُوْا کَیْدَکُمْ ثُمَّ اءْتُوْا صَفًّا ج ” تم لوگ اپنے تمام دستیاب مادی و فنی وسائل بروئے کار لاتے ہوئے موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوجاؤ۔
Ayah 20:66

قَالَ بَلْ اَلْقُوْا١ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى Open ayah 20:66 in the Quran reader

موسیٰ ؑ ٰ نے کہا : بلکہ تم ہی ڈالو تو دفعتاً ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کے اثر سے اس کو ایسے نظر آنے لگیں گویا وہ دوڑ رہی ہیں

آیت 66 قَالَ بَلْ اَلْقُوْاج ” تو یوں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جادوگروں کو پہل کرنے کی دعوت دے دی۔ فَاِذَا حِبَالُہُمْ وَعِصِیُّہُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْہِ مِنْ سِحْرِہِمْ اَنَّہَا تَسْعٰی ” حِبال جمع ہے حبل رسی کی اور عِصِیّ جمع ہے عصا لاٹھی کی۔ یعنی جادوگروں نے میدان میں رسیاں اور لاٹھیاں پھینک دیں جو ان کے جادو کے اثر سے دیکھنے والوں کو سانپوں کی طرح بھاگتی دوڑتی نظر آنے لگیں۔
Ayahs 20:67–68

فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰى Open ayah 20:67 in the Quran reader

تو موسیٰ ؑ نے اپنے جی میں کچھ ڈر محسوس کیا

قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى Open ayah 20:68 in the Quran reader

ہم نے فرمایا کہ ڈرو نہیں یقیناً تم ہی غالب رہو گے

آیت 67 فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِہٖ خِیْفَۃً مُّوْسٰی۔ ” حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ خوف لاحق ہوا کہ جو معجزہ میرے پاس ہے اسی نوعیت کی چیز تو جادوگروں نے بھی دکھا دی ہے۔ چناچہ اب یہ سارے تماشائی تالیاں پیٹیں گے کہ موسیٰ کو شکست ہوگئی اور وہ جو عظیم الشان مشن اللہ تعالیٰ نے میرے سپرد کیا ہے اس کا کیا بنے گا ؟
Ayah 20:69

وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍ١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى Open ayah 20:69 in the Quran reader

اب تم ذرا پھینکو اس (عصا) کو جو تمہارے دائیں ہاتھ میں ہے یہ نگل جائے گا اس سب کو جو کچھ انہوں نے بنایا ہے۔ جو کچھ انہوں نے بنایا ہے یہ تو بس ایک فریب ہے جادوگر کا اور جادو گر کبھی کامیاب نہیں ہوا کرتا چاہے کہیں سے بھی آئے

آیت 69 وَاَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِکَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْاط اِنَّمَا صَنَعُوْا کَیْدُ سٰحِرٍ ط ” یعنی یہ جو کچھ میدان میں سانپوں کی صورت میں نظر آ رہا ہے اس کی حقیقت کچھ نہیں ‘ محض نظر کا دھوکا ہے۔ عرف عام میں اس کیفیت کو ”نظر بندی“ کہا جاتا ہے۔
Ayah 20:70

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى Open ayah 20:70 in the Quran reader

پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں وہ پکار اٹھے کہ ہم ایمان لے آئے ہارون ؑ اور موسیٰ ؑ کے رب پر

آیت 70 فَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سُجَّدًا ” اس نکتے کی وضاحت سورة الاعراف کے مطالعہ کے دوران کی جا چکی ہے کہ آخر کیا وجہ تھی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فتح کے بعد جادو گر تو سر تسلیم خم کرنے پر مجبور ہوگئے ‘ لیکن دوسری طرف نہ فرعون پر اس کا کچھ اثر ہوا اور نہ ہی اس کے درباریوں سمیت دوسرے لوگوں پر۔ دراصل فرعون اور اس کے درباریوں نے تو یہی سمجھا کہ یہ جادوگروں کا آپس میں مقابلہ تھا جس میں بڑے جادوگر نے چھوٹے جادوگروں کو مات دے دی۔ جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابل جادو گر جو اپنے فن کے ماہر تھے وہ اپنے کمال فن کی انتہا سے بھی آگاہ تھے اور اس کی حدود limits سے بھی خوب واقف تھے۔ جیسے آج ایک طبیعیات دان Physicist خوب جانتا ہے کہ فزکس کے میدان میں اب تک کیا کیا ایجادات ہوچکی ہیں اور اس کے کمالات کی رسائی کہاں تک ہے۔ چناچہ جادوگروں پر یہ حقیقت منکشف ہونے میں ذرا بھی دیر نہ لگی کہ نہ تو ان کے مد مقابل شخصیت کوئی جادوگر ہے اور نہ ہی یہ اژدھا کسی جادوئی کرشمے کا کمال ہے ! چناچہ وہ بغیر حیل و حجت سر تسلیم خم کرنے پر مجبور ہوگئے اور :
Ayah 20:71

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ١٘ وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:71 in the Quran reader

فرعون نے کہا : (تو کیا) تم اس پر ایمان لے آئے ہو اس سے پہلے کہ میں تمہیں اجازت دیتا یقیناً یہی تمہارا گرو ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے تو میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالوں گا اور تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی (دے کر لٹکا) دوں گا اور یقیناً تمہیں (جلد) معلوم ہوجائے گا کہ ہم میں سے کون زیادہ سخت سزا دینے والا ہے اور کون زیادہ باقی رہنے والا ہے

آیت 71 قَالَ اٰمَنْتُمْ لَہٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَکُمْ ط ” فرعون نے مخصوص شہنشاہانہ انداز میں جادوگروں کو ڈانٹ پلائی کہ تمہاری یہ جرأت ! تم لوگوں نے مابدولت کی اجازت کے بغیر موسیٰ کے رب پر ایمان لانے کا اعلان بھی کردیا ! حالانکہ میری اجازت کے بغیر تو اس کے بارے میں تمہیں زبان بھی نہیں کھولنا چاہیے تھی۔ اِنَّہٗ لَکَبِیْرُکُمُ الَّذِیْ عَلَّمَکُمُ السِّحْرَ ج ” اب فرعون کو ایک اور چال سوجھی۔ جس طرح عزیز مصر کی بیوی نے اپنے خاوند کو سامنے دروازے پر دیکھ کر یکدم پینترا بدلا تھا اور موقف اختیار کیا تھا کہ یوسف اس کی آبرو کے درپے ہوا تھا ‘ اسی طرح فرعون نے جادوگروں کو مخاطب ہو کر کہا کہ تم لوگوں نے جو مقابلہ کیا ہے یہ محض دکھاوا تھا۔ موسیٰ دراصل تمہارا استاد ہے ‘ تم لوگوں نے اسی سے جادو سیکھ رکھا ہے۔ اندر سے تم لوگ آپس میں ملے ہوئے ہو۔ تمہاری یہ شکست تم لوگوں کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے اور اس طرح تم لوگوں نے مل ملا کر ہمارے خلاف ایک بہت بڑی سازش کی ہے۔ چناچہ اس نے گرجتے ہوئے جادوگروں کو دھمکی دی : وَلَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَآ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبْقٰی ” تم لوگوں کو میرے اور موسیٰ کے اختیار و مرتبے کا فرق بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ ہم میں سے کون زیادہ سخت سزا دے سکتا ہے اور کس کو بقاء و دوام حاصل ہے۔
Ayah 20:72

قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍ١ؕ اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 20:72 in the Quran reader

انہوں نے کہا : اب ہم تمہیں ہرگز ترجیح نہیں دے سکتے ان واضح دلائل پر جو ہمارے پاس آ چکے ہیں اور اس ذات پر جس نے ہمیں پیدا کیا ہے چناچہ تو کرلے جو کچھ تجھے کرنا ہے توُ تو صرف فیصلہ کرسکتا ہے اسی دنیا کی زندگی کا

آیت 72 قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَکَ عَلٰی مَا جَآءَ نَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَالَّذِیْ فَطَرَنَا ” اب ہمارے رب کی طرف سے ہم پر حق واضح کردیا گیا ہے ‘ حقیقت ہم پر منکشف ہوچکی ہے ‘ ہم اپنے رب پر ایمان لا چکے ہیں ‘ اب ہمارے لیے تیری مرضی و منشا کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔ فَاقْضِ مَآ اَنْتَ قَاضٍ ط ” اب تو ہمیں جو سزا دینا چاہے دے لے ‘ خواہ ہمارے ٹکڑے ٹکڑے کر دے ‘ مگر ہم جس حق پر ایمان لائے ہیں اب اس سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ اِنَّمَا تَقْضِیْ ہٰذِہِ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا ” تو ہمارے ساتھ زیادہ سے زیادہ کر بھی کیا سکتا ہے ؟ صرف ہماری اس دنیوی زندگی ہی کے بارے میں کوئی فیصلہ کرسکتا ہے نا ! جو آج نہیں تو کل ‘ کل نہیں تو پرسوں ویسے بھی ختم ہونے والی ہے۔ اگر تو اسے کل کے بجائے آج ختم کر دے گا تو اس میں ہمارے لیے پریشانی کی کوئی بات نہیں :
Ayahs 20:73–74

اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَكْرَهْتَنَا عَلَیْهِ مِنَ السِّحْرِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:73 in the Quran reader

ہم اپنے رب پر ایمان لا چکے ہیں تاکہ وہ بخش دے ہماری خطاؤں کو اور اس جادو کو جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا اور اللہ ہی بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے

اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ١ؕ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى Open ayah 20:74 in the Quran reader

یقینا جو کوئی آئے گا اپنے رب کے پاس مجرم کی حیثیت سے تو اس کے لیے جہنم ہی ہے نہ وہ اس میں مرے گا اور نہ ہی جیے گا

آیت 73 اِنَّآ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَلَنَا خَطٰیٰنَا وَمَآ اَکْرَہْتَنَا عَلَیْہِ مِنَ السِّحْرِ ط ” تیرے مجبور کرنے پر ہم نے اپنے جادو کے بل پر اللہ کے پیغمبر کا مقابلہ کرنے کی جو جسارت کی ہے ہم اپنے رب سے اس جرم کی معافی مانگتے ہیں۔ ان جادوگروں سے تو یہی کہا گیا ہوگا کہ تمہیں ایک بہت بڑے جادوگر کا مقابلہ کرنا ہے ‘ لیکن جب یہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں آئے تو آپ علیہ السلام کی با رعب شخصیت سے مرعوب ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور مقابلہ کرنے کے بارے میں تذبذب کا شکار ہوگئے۔ قبل ازیں آیت 62 میں ان کی اس کیفیت کی جھلک دکھائی گئی ہے۔ اب جادوگروں کے اس اقراری بیان سے مزید واضح ہوگیا کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ لینے اور آپ علیہ السلام کی تقریر سن لینے کے بعد آپ علیہ السلام سے مقابلہ نہیں کرنا چاہتے تھے ‘ لیکن بالآخر فرعون کے مجبور کرنے پر وہ اس پر آمادہ ہوگئے تھے۔ وَاللّٰہُ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی ” حق کو قبول کرلینے اور اللہ پر ایمان لا چکنے کے بعد اب ہم پر یہ حقیقت منکشف ہوچکی ہے کہ بقاء و دوام صرف اللہ ہی کو حاصل ہے اور اسی کا راستہ سب سے بہتر راستہ ہے۔
Ayahs 20:75–76

وَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ Open ayah 20:75 in the Quran reader

اور جو کوئی آئے گا اس کے پاس مؤمن کی حیثیت سے (اور اس حالت میں کہ) اس نے نیک اعمال بھی کیے ہوں تو یہ لوگ ہیں جن کے لیے اعلیٰ درجات ہوں گے

جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠ Open ayah 20:76 in the Quran reader

رہنے کے ایسے باغات جن کے دامن میں نہریں بہتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی بدلہ ہے اس کا جس نے اپنے آپ کو پاک کیا

آیت 75 وَمَنْ یَّاْتِہٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓءِکَ لَہُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰی ” یعنی ایسے لوگ جن کے پاس ایمان حقیقی کے ساتھ ساتھ نیک اعمال کی پونجی بھی ہوگی ان کے لیے بلند درجے ہوں گے۔
Ayah 20:77

وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى١ۙ۬ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا١ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى Open ayah 20:77 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ ؑ کو وحی کردی تھی کہ میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جاؤ پس ان کے لیے سمندر کے اندر ایک خشک راستہ بنالو (اس کیفیت میں کہ) نہ پکڑے جانے کا خوف ہو اور نہ (ڈوبنے کا) کوئی اندیشہ

آیت 77 وَلَقَدْ اَوْحَیْنَآ اِلٰی مُوْسٰٓیلا اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ ” ان کے مصر سے نکلنے کے لیے ایک رات کا مخصوص وقت طے کردیا گیا تھا کہ اس رات جب قبطی لوگ اپنے اپنے گھروں میں نیند کے مزے لے رہے ہوں تو حضرت موسیٰ علیہ السلام تمام اسرائیلیوں کو لے کر چپکے سے صحرائے سینا کی طرف نکل کھڑے ہوں۔
Ayahs 20:78–79

فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْؕ Open ayah 20:78 in the Quran reader

تو فرعون نے ان کا تعاقب کیا اپنے لشکروں کے ساتھ تو ڈھانپ لیا انہیں سمندر میں سے جس چیزنے بھی ڈھانپ لیا

وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى Open ayah 20:79 in the Quran reader

اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور ہدایت نہ دی

آیت 78 فَاَتْبَعَہُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِہٖ فَغَشِیَہُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَہُمْ ” اس کی تفصیل قرآن میں دوسرے مقامات پر موجود ہے ‘ یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے سمندر پر عصا مارا۔ اس سے سمندر پھٹ گیا ‘ دونوں طرف کا پانی بڑی بڑی چٹانوں کی طرح ] کَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِ۔ الشعراء [ کھڑا ہوگیا اور درمیان میں خشک راستہ بن گیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اس راستے سے اپنی قوم کو لے کر نکل گئے۔ لیکن جب فرعون اپنے لشکروں سمیت اس میں داخل ہوا تو دونوں طرف کا پانی مل گیا اور اس طرح سے وہ سب کے سب غرق ہوگئے۔
Ayah 20:80

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى Open ayah 20:80 in the Quran reader

اے بنی اسرائیل ! ہم نے تم لوگوں کو نجات دی تمہارے دشمن سے پھر ہم نے تم لوگوں کو بلایا کوہ طور کی داہنی جانب اور (صحرا میں تمہاری غذا کے لیے) تم پر من وسلویٰ نازل کیا

آیت 80 یٰبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰکُمْ مِّنْ عَدُوِّکُمْ وَوٰعَدْنٰکُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ ” یہ اسی مقام کا ذکر ہے جہاں پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز کیا گیا تھا۔