20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayahs 20:81–82

كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ لَا تَطْغَوْا فِیْهِ فَیَحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبِیْ١ۚ وَ مَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْهِ غَضَبِیْ فَقَدْ هَوٰى Open ayah 20:81 in the Quran reader

کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تمہیں عطا کی ہیں اور اس میں زیادتی نہ کرنا تو (ایسی صورت میں) تم پر میرا غضب نازل ہوگا اور جس پر میرا غضب نازل ہوجائے تو وہ (گویا) پٹخ دیا گیا

وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى Open ayah 20:82 in the Quran reader

اور میں تو یقیناً بہت ہی معاف فرمانے والا ہوں ہر اس شخص کے لیے جس نے توبہ کی ایمان لایا نیک اعمال کیے اور پھر سیدھی راہ پر چلتا رہا

آیت 81 کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ وَلَا تَطْغَوْا فِیْہِ ” لیکن منع کرنے کے باوجود بنی اسرائیل نے اس معاملے میں زیادتی کی۔ زیادتی کی ایک صورت تو یہ تھی کہ وہ اسے سینت سینت کر رکھتے تھے ‘ اس خدشے سے کہ شاید کل یہ نازل نہ ہو اور یوں توکل علی اللہ کی نفی کرتے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس میں اس طرح بھی زیادتی کی کہ کچھ ہی عرصہ بعد اس کی ناقدری کرتے ہوئے اس کے مقابلے میں دوسری چیزوں کا مطالبہ شروع کردیا۔
Ayah 20:83

وَ مَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:83 in the Quran reader

اور اے موسیٰ ؑ ٰ ! یہ تمہیں کس چیز نے جلدی پر آمادہ کیا اپنی قوم کو چھوڑ کر

آیت 83 وَمَآ اَعْجَلَکَ عَنْ قَوْمِکَ یٰمُوْسٰی ” اس سے پہلے سورة مریم کی آیت 64 اور آیت 84 میں عجلت سے منع کیا جا چکا ہے۔ آیت 64 میں حضور ﷺ کو بالواسطہ انداز میں فرمایا گیا کہ آپ ﷺ وحی کے جلد آنے کے بارے میں خواہش نہ کیا کریں ‘ کیونکہ یہ تو اللہ کی مشیت کے مطابق ہی نازل ہوگی۔ چناچہ فرشتے کی زبان سے آپ ﷺ کو مخاطب کر کے کہلوایا گیا : وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّکَ ج کہ ہم تو آپ ﷺ کے رب کے حکم سے ہی نازل ہوتے ہیں۔ جبکہ آیت 84 میں آپ ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا : فَلَا تَعْجَلْ عَلَیْہِمْ ط ”تو آپ ﷺ ان پر عذاب کے بارے میں جلدی نہ کریں“۔ اب آیت زیر نظر میں جلدی کرنے پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جواب طلبی ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تورات دینے کے لیے ایک معین وقت پر کوہ طور پر بلایا تو آپ علیہ السلام فرط اشتیاق سے قبل از وقت وہاں پہنچ گئے۔ اس پر آپ علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ آپ علیہ السلام اپنی قوم کو پیچھے چھوڑ کر وقت سے پہلے یہاں کیوں آگئے ہیں ؟
Ayah 20:84

قَالَ هُمْ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِیْ وَ عَجِلْتُ اِلَیْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى Open ayah 20:84 in the Quran reader

موسیٰ ؑ ٰ نے عرض کیا کہ بس وہ میرے پیچھے پیچھے ہی (آرہے) ہیں اور اے میرے پروردگار ! میں نے تو تیری طرف (آنے میں اس لیے) جلدی کی تاکہ تو راضی ہوجائے

آیت 84 قَالَ ہُمْ اُولَآءِ عَلآی اَثَرِیْ ” آپ علیہ السلام کی قوم کا قافلہ تو معمول کی رفتار سے آ رہا ہوگا اور آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور مکالمے کے شوق میں تیز رفتاری سے سفر طے کرتے ہوئے وقت مقررہ سے پہلے وہاں پہنچ گئے تھے۔ چناچہ آپ علیہ السلام نے اس کی وجہ بھی یہی بتائی : وَعَجِلْتُ اِلَیْکَ رَبِّ لِتَرْضٰی ” گویا اللہ تعالیٰ کے حضور آپ علیہ السلام فرط جذبات کا اظہار کر رہے تھے۔ اقبالؔ کے مصرع میں ذرا تصرف کے ساتھ ”تو میرا شوق دیکھ مرا اشتیاق دیکھ !“ والی کیفیت تھی۔ آپ علیہ السلام کا خیال تھا اس سے اللہ تعالیٰ خوش ہوں گے اور شاباش ملے گی ‘ مگر یہاں تو لینے کے دینے پڑگئے ‘ الٹی explanation call ہوگئی۔
Ayah 20:85

قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ Open ayah 20:85 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا : تو ہم نے تمہارے بعد تمہاری قوم کو فتنے میں ڈال دیا ہے اور انہیں گمراہ کردیا ہے سامری نے

آیت 85 قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَکَ مِنْم بَعْدِکَ ” اگرچہ یہاں صراحت کے ساتھ ایسے الفاظ استعمال نہیں ہوئے مگر انداز سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ علیہ السلام کی اس عجلت پسندی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی قوم کو فتنے میں مبتلا کردیا۔ وَاَضَلَّہُمُ السَّامِرِیُّ ” اس انداز تخاطب میں یہ تفصیل بھی مضمر ہے کہ اگر آپ علیہ السلام اپنی قوم کے ساتھ ساتھ رہتے ‘ ان کا تزکیہ کرتے رہتے ‘ وہ لوگ آپ علیہ السلام کی تعلیم و تربیت سے مسلسل بہرہ مند ہوتے رہتے تو یقیناً ان کی عقل و فہم مزید پختہ ہوتی اور اس طرح اس فتنے کی نوبت نہ آتی۔ لیکن جب آپ علیہ السلام انہیں چھوڑ کر آگئے تو اس کے نتیجے میں ایک فتنہ گر شخص کو اپنا شیطانی کھیل کھیلنے کا موقع مل گیا۔ سامری کے بارے میں ایک رائے تو یہ ہے کہ اس کا تعلق قبطی قوم سے تھا اور کسی وجہ سے وہ بنی اسرائیل کے ساتھ مل چکا تھا۔ لیکن اس سلسلے میں معتبر رائے یہی ہے کہ وہ بنی اسرائیل میں سے ہی تھا مگر منافق تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اسے خاص کد تھی۔ بالکل اسی طرح جیسے ابو عامر راہب کو حضور ﷺ سے کد تھی۔ ابو عامر راہب کا ذکر سورة التوبہ کے مطالعے کے دوران آیا تھا۔ بنیادی طور پر وہ خزرجی تھا۔ ابتدائی عمر میں بہت نیک اور عبادت گزار تھا ‘ بعد میں اس نے عیسائیت قبول کر کے رہبانیت اختیار کرلی۔ حضور ﷺ سے اسے خصوصی طور پر بغض تھا اور اس کا یہ بغض اس حد تک بڑھا ہوا تھا کہ وہ اپنی ساری زندگی آپ علیہ السلام کے خلاف جدوجہد اور سازشوں میں مصروف رہا۔ چناچہ جیسا کردار ابوعامر راہب کا امت محمد ﷺ میں رہا ‘ اس سے ملتا جلتا کردار حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت میں سامری کا تھا۔
Ayahs 20:86–87

فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۚ۬ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا١ؕ۬ اَفَطَالَ عَلَیْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ Open ayah 20:86 in the Quran reader

تو لوٹے موسیٰ ؑ اپنی قوم کی طرف بہت غضبناک اور سخت رنجیدہ حالت میں انہوں نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! کیا تم سے تمہارے رب نے اچھا وعدہ نہیں کیا تھا تو کیا یہ مدت تم پر بہت طویل ہوگئی تھی یا تم لوگوں نے یہ چاہا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب نازل ہو تو تم نے میرے وعدے کی خلاف ورزی کر ڈالی

قَالُوْا مَاۤ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِیُّۙ Open ayah 20:87 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے آپ کے وعدے کی خلاف ورزی اپنے اختیار سے نہیں کی بلکہ ہم پر بوجھ تھا اس قوم کے زیورات کا تو ہم نے وہ پھینک دیے اور اسی طرح سامری نے بھی کچھ پھینکا

قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْکُمْ رَبُّکُمْ وَعْدًا حَسَنًا ط ” اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ تم لوگوں کو اپنی کتاب کی صورت میں جامع ہدایت عطا فرمائے گا۔ میں تو اللہ کے اس وعدے کے مطابق طور پر گیا تھا کہ تمہارے لیے اس کی کتاب اور ہدایت لے کر آؤں : اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْکُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ ” گویا تمہاری یہ حرکت اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
Ayah 20:88

فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَاۤ اِلٰهُكُمْ وَ اِلٰهُ مُوْسٰى١۬ فَنَسِیَؕ Open ayah 20:88 in the Quran reader

پھر اس نے ان کے لیے ایک بچھڑا برآمد کردیا ایک دھڑ جس سے ڈکرانے کی آواز آتی تھی تو انہوں نے کہا کہ یہ ہے تمہارا معبود اور موسیٰ ؑ کا معبود مگر وہ (موسیٰ ؑ ٰ) بھول گیا ہے

آیت 88 فَاَخْرَجَ لَہُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّہٗ خُوَارٌ ” اس سلسلے میں جو مختلف روایات ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ مصر میں اگرچہ اسرائیلی قوم کی حیثیت غلامانہ تھی مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے تعلق کی وجہ سے ان کی دیانت داری مسلمّ تھی۔ چناچہ قبطی قوم کے لوگ اپنے زیورات اور دوسری قیمتی چیزیں اکثر ان کے پاس امانت رکھوایا کرتے تھے۔ جب یہ لوگ مصر سے نکلے تو قبطی قوم کے بہت سے زیورات بھی وہ اپنے ساتھ لے آئے جو ان میں سے اکثر لوگوں کے پاس بطور امانت پڑے تھے۔ البتہ اس کا ان کے ذہن پر ایک بوجھ تھا کہ یہ ہمارے لیے جائز بھی ہیں یا نہیں ؟ اس حوالے سے سامری نے بھی انہیں قائل کرلیا کہ اس بوجھ سے نجات حاصل کرنے کے لیے ان کو یہ زیورات پھینک دینے چاہئیں۔ چناچہ جب ان لوگوں نے وہ زیوارت پھینک دیے تو سامری نے انہیں پگھلا کر گائے کے بچھڑے کی شکل کا ایک مجسمہ بنا ڈالا ‘ اور اس میں خاص مہارت سے کچھ ایسے سوراخ رکھے کہ جب ان میں سے ہوا کا گزر ہوتا تو بیل کے ڈکرانے کی سی آواز پیدا ہوتی۔ اس کی دوسری توجیہہ وہ ہے جو سامری نے خود بیان کی اور اس کا ذکر آئندہ آیات میں آئے گا۔ فَقَالُوْا ہٰذَآ اِلٰہُکُمْ وَاِلٰہُ مُوْسٰی فَنَسِیَ ” یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مغالطہ ہوا ہے جو وہ علیہ السلام اپنے رب سے ملاقات کے لیے کوہ طور پر چلے گئے ہیں ‘ حالانکہ ہمارا اور ان علیہ السلام کا رب تو یہاں موجود ہے۔
Ayah 20:89

اَفَلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِعُ اِلَیْهِمْ قَوْلًا١ۙ۬ وَّ لَا یَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا۠ Open ayah 20:89 in the Quran reader

تو کیا وہ دیکھتے نہیں تھے کہ وہ (بچھڑا) ان کی طرف کوئی بات لوٹاتا نہیں تھا اور نہ ہی اسے ان کے لیے کسی نقصان کا اختیار تھا اور نہ نفع کا

آیت 89 اَفَلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِعُ اِلَیْہِمْ قَوْلاً لا ” کیا انہیں نظر نہیں آتا تھا کہ وہ بچھڑا ان کی کسی بات کو جواب نہیں دے سکتا تھا۔ اس میں سے تو ایک بےمعنی بھاں بھاں کی آواز نکلتی تھی اور بس !
Ayah 20:90

وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِیْ وَ اَطِیْعُوْۤا اَمْرِیْ Open ayah 20:90 in the Quran reader

اور ہارون ؑ انہیں پہلے ہی کہہ چکا تھا اے میری قوم کے لوگو ! تمہیں تو اس (بچھڑے) کے ذریعے سے فتنے میں ڈالا گیا ہے اور یقیناً تمہارا رب (یہ بچھڑا نہیں بلکہ) رحمن ہے چناچہ تم لوگ میری پیروی کرو اور میری بات مانو

آیت 90 وَلَقَدْ قَالَ لَہُمْ ہٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ ” حضرت ہارون علیہ السلام ان لوگوں کو پہلے ہی ان الفاظ میں سمجھانے کی پوری کوشش کرچکے تھے :
Ayahs 20:91–92

قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَیْهِ عٰكِفِیْنَ حَتّٰى یَرْجِعَ اِلَیْنَا مُوْسٰى Open ayah 20:91 in the Quran reader

انہوں نے کہا : ہم تو اسی پر اعتکاف کرتے رہیں گے یہاں تک کہ موسیٰ ؑ خود ہمارے پاس واپس آجائیں

قَالَ یٰهٰرُوْنُ مَا مَنَعَكَ اِذْ رَاَیْتَهُمْ ضَلُّوْۤاۙ Open ayah 20:92 in the Quran reader

موسیٰ ؑ ٰ نے کہا : اے ہارون ! آپ ؑ کو کس چیز نے روکا تھا جب آپ ؑ نے انہیں دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں

آیت 91 قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَیْہِ عٰکِفِیْنَ حَتّٰی یَرْجِعَ اِلَیْنَا مُوْسٰی ” یہ جواب پوری بنی اسرائیل قوم کی طرف سے نہیں تھا بلکہ صرف ان لوگوں کی طرف سے تھا جو ان میں سے بچھڑا پرستی کے مشرکانہ عقیدے میں مبتلا ہوئے تھے اور پھر اس پر اڑ گئے تھے۔ انہوں نے حضرت ہارون علیہ السلام کو جواب دیا کہ ہم تو اب اسی کی پرستش کرتے رہیں گے ‘ یہاں تک کہ موسیٰ علیہ السلام خود آکر اس بارے میں کوئی فیصلہ کریں۔ یہ لوگ اس سے پہلے بھی ایک بت پرست قوم کی دیکھا دیکھی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مطالبہ کرچکے تھے الاعراف : 138 کہ ان لوگوں کے بتوں جیسا ہمیں بھی کوئی معبود بنا دیں جس کے سامنے بیٹھ کر ہم پوجا پاٹ کرسکیں۔
Ayah 20:93

اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَیْتَ اَمْرِیْ Open ayah 20:93 in the Quran reader

کہ آپ ؑ نے میری پیروی نہ کی یا پھر آپ ؑ نے نافرمانی کی میرے حکم کی

آیت 93 اَلَّا تَتَّبِعَنِ ط ” اس کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے ”جو آپ میرے پیچھے نہ آگئے“۔ یعنی آپ علیہ السلام میرے پیچھے کوہ طور پر کیوں نہ آگئے اور آکر کیوں نہ مجھے بتایا کہ وہ لوگ یوں گمراہ ہوگئے ہیں۔ اَفَعَصَیْتَ اَمْرِیْ ” اگرچہ عمر میں حضرت ہارون علیہ السلام بڑے تھے مگر منصب نبوت کے اعتبار سے چونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا رتبہ ان سے بڑا تھا اس لیے آپ علیہ السلام نے اس انداز میں حضرت ہارون علیہ السلام سے جواب طلبی کی۔
Ayahs 20:94–95

قَالَ یَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَ لَا بِرَاْسِیْ١ۚ اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ Open ayah 20:94 in the Quran reader

ہارون ؑ نے کہا : اے میری ماں کے بیٹے ! آپ ؑ (اس طرح) میری ڈاڑھی اور میرے سر (کے بالوں) کو مت کھینچیں مجھے تو یہ اندیشہ تھا کہ آپ ؑ یہ نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفریق پیدا کردی اور میری بات یاد نہ رکھی

قَالَ فَمَا خَطْبُكَ یٰسَامِرِیُّ Open ayah 20:95 in the Quran reader

موسیٰ ؑ ٰ نے کہا : اے سامری ! تمہارا کیا معاملہ ہے

اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ ” کہ تم نے ان کو تقسیم کر کے ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کردیا۔ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ ” حضرت ہارون علیہ السلام سے باز پرس کرنے کے بعد اب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سامری سے جواب طلب کیا۔
Ayah 20:96

قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَ كَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ Open ayah 20:96 in the Quran reader

اس نے کہا کہ میں نے (ایک ایسی چیز) دیکھی تھی جو انہوں نے نہیں دیکھی تو میں نے لے لی ایک مٹھیّ (مٹی کی) رسول کے نقش پا سے تو وہ میں نے (اس میں) پھینک دی اور اسی طرح میرے نفس نے یہ راستہ مجھے بتایا

وَکَذٰلِکَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ ” رسول سے مراد یہاں حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام کہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے تھے تو سامری نے انہیں دیکھ لیا۔ سامری چونکہ راہب تھا ‘ وہ روحانی اور نفسیاتی نوعیت کے مجاہدے بھی کرتا رہتا تھا۔ اس لیے حضرت جبرائیل کسی اور کو تو نظر نہ آئے مگر اسے نظر آگئے۔ زمین پر جہاں آپ علیہ السلام کا قدم پڑ رہا تھا وہاں سے اس نے کچھ مٹی اٹھا لی۔ یہی مٹی اس نے اس بھٹی میں ڈال دی جس میں وہ بچھڑا تیار کرنے کے لیے زیورات کو پگھلا رہا تھا۔ یوں حضرت روح الامین علیہ السلام کے قدموں کی مٹی کی تاثیر سے اس بچھڑے سے وہ آواز آنے لگی۔ یہ گویا اس معاملے کے بارے میں سامری کی وضاحت ہے۔
Ayah 20:97

قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِی الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ١۪ وَ اِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْهِ عَاكِفًا١ؕ لَنُحَرِّقَنَّهٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا Open ayah 20:97 in the Quran reader

موسیٰ ؑ ٰ نے کہا : دفع ہوجاؤ ! اب تمہارے لیے زندگی میں یہی (سزا) ہے کہ تم کہتے رہوگے کہ مجھے کوئی نہ چھوئے اور تمہارے لیے ایک وعدہ ہے جس کی ہرگز خلاف ورزی نہیں کی جائے گی اور دیکھو اپنے اس معبود کو جس کا تم اعتکاف کرتے رہے ہو (ہم اس کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہیں) ہم اسے جلا (کر راکھ کر) دیں گے پھر اس (کی راکھ) کو سمندر میں بکھیر دیں گے

آیت 97 قَالَ فَاذْہَبْ فَاِنَّ لَکَ فِی الْْحَیٰوۃِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَص ” سامری بطور سزا جس بیماری میں مبتلا کیا گیا تھا اس کی تفصیل تو نہیں ملتی مگر ان الفاظ سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ عملاً وہ اچھوت بن کر رہ گیا تھا۔ نہ وہ کسی کے قریب جاسکتا تھا اور نہ ہی کوئی دوسرا شخص اس کے پاس آسکتا تھا۔ بعض روایات میں اس طرح کی تفصیلات ملتی ہیں کہ اگر کوئی شخص اس کے قریب جاتا تو دونوں سخت بخار میں مبتلا ہوجاتے تھے اور یوں باقی تمام زندگی اسے معاشرتی مقاطعہ کی سزا بھگتنا پڑی۔
Ayah 20:98

اِنَّمَاۤ اِلٰهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَسِعَ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا Open ayah 20:98 in the Quran reader

حقیقت میں تمہارا معبود تو صرف اللہ ہے جس کے سوا کوئی اور معبود ہے ہی نہیں اسے ہرچیز کا علم حاصل ہے

وَسِعَ کُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا ” اسرائیلی قوم کے بگڑے ہوئے عقائد اور ان کی عمومی ذہنیت کی جو تفصیلات ہمیں قرآن سے ملتی ہیں اگر ان کا بغور مطالعہ کیا جائے تو ہندو برہمن کی سوچ ‘ ذہنیت اور عقائد کی اس سے بہت قریبی مشابہت نظر آتی ہے۔ اس سلسلے میں میری ذاتی رائے ہے کہ آج سے ساڑھے تین ہزار سال قبل چودہ سو سال قبل مسیح کے لگ بھگ جب آریا نسل کے لوگ ہندوستان کی طرف محو سفر تھے تو ان کے ساتھ کسی مقام پر کچھ اسرائیلی قبائل بھی شامل ہوگئے تھے۔ یہ تقریباً وہی زمانہ تھا جب مصر سے بنی اسرائیل کا خروج Exodus ہوا۔ بنی اسرائیل کی تاریخ میں ان کے کچھ ایسے قبائل کا ذکر ملتا ہے جنہیں وہ اپنے گم شدہ قبائل The lost tribes of the house of Israel کہتے ہیں۔ یہ وہ قبائل ہیں جو صحرا میں گم ہوگئے تھے اور ان کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ وہ کہاں چلے گئے۔ میرے خیال کے مطابق بنی اسرائیل کے وہ گم شدہ قبائل کسی نہ کسی طرح آریاؤں آریا لوگ حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے حضرت حام کی نسل سے تھے کے ان گروہوں سے آملے تھے جو اس زمانے میں ہندوستان کی طرف کوچ کر رہے تھے اور اس طرح آریاؤں کے ساتھ وہ لوگ بھی ہندوستان میں آ بسے تھے۔ اس سلسلے میں میرا گمان یہ ہے کہ ہندوبرہمن انہی اسرائیلیوں کی نسل سے ہیں۔ میرے اس گمان کی بنیاد ہندوؤں اور اسرائیلیوں کے رسم و رواج اور عقائد میں پائی جانے والی گہری مشابہت ہے۔ مثلاً جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سامری کے بچھڑے کو جلا کر اس کی راکھ کو سمندر میں بہایا تھا ‘ بالکل اسی طرح ہندو اپنے ُ مردوں کو جلا کر ان کی راکھ کو گنگا وغیرہ میں بہاتے ہیں۔ اسرائیلیوں نے بچھڑے کو اپنا معبود بنایا تھا ‘ ہندو بھی مذہبی طور پر گائے کو مقدس مانتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہندو روایتی طور پر اپنے لیے وہی شوخ یا زرد گیروا رنگ پسند کرتے ہیں جو قرآن میں بنی اسرائیل کے لیے مخصوص گائے کا رنگ بتایا گیا ہے البقرہ : 69۔ پھر سامری کے اچھوت ہوجانے کے تصور کو بھی ہندوؤں نے بعینہٖ اپنایا اور اس کے تحت اپنے معاشرے کے ایک طبقے کو اچھوت قرار دے ڈالا۔ اسی طرح بنی اسرائیل کے سروں پر پہاڑ کے اٹھائے جانے سے متعلق قرآنی بیان الاعراف : 171 سے مماثل ہندوؤں میں یہ عقیدہ بھی پایا جاتا ہے کہ ہنومان جی پہاڑ کو اٹھا لائے تھے۔ الغرض اسرائیلیوں اور ہندوؤں کے باہم مشترک عقائد اور رسم و رواج میرے اس خیال کو تقویت دیتے ہیں کہ ہندوستان کے برہمن اسرائیلیوں ہی کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں میرا خیال یہ بھی ہے کہ اپنشدز کی تحریروں میں صحف ابراہیم کے اثرات بھی پائے جاتے ہیں۔ میں نے ایک زمانے میں ان کا مطالعہ کیا تھا تو معلوم ہوا کہ ان کی تحریروں میں توحید کا عنصر بہت زیادہ نمایاں ہے۔ قرآن حکیم میں صحف ابراہیم علیہ السلام اور صحف موسیٰ علیہ السلام کا ذکر صراحت کے ساتھ موجود ہے الاعلیٰ : 19۔ ”صحف موسیٰ علیہ السلام ٰ“ تو عہد نامہ قدیم Old Testament کی پہلی پانچ کتابوں کی صورت میں آج بھی موجود ہیں ‘ اگرچہ تحریف شدہ ہیں ‘ لیکن صحف ابراہیم علیہ السلام کا بظاہر کہیں کوئی سراغ نہیں ملتا۔ دوسری طرف اپنشد زکی تحریروں میں توحید کی تعلیمات کا پایا جانا ان میں الہامی اثرات کی موجود گی کا واضح ثبوت ہے۔ اسی بنا پر میں اس نظریے کا قائل ہوں کہ اپنشدز یا تو صحف ابراہیم علیہ السلام ہی کی تحریف شدہ شکلیں ہیں یا کم از کم صحف ابراہیم علیہ السلام کی تعلیمات کے اثرات کسی نہ کسی طرح ان تک ضرور پہنچے ہیں۔
Ayahs 20:99–101

كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ١ۚ وَ قَدْ اٰتَیْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًاۖۚ Open ayah 20:99 in the Quran reader

(تواے نبی ﷺ !) اس طرح ہم سنا رہے ہیں آپ کو حالات اس (زمانے) کے جو گزر چکا ہے اور ہم نے آپ ﷺ کو خاص اپنے پاس سے ذکرعطا کیا ہے

مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٗ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وِزْرًاۙ Open ayah 20:100 in the Quran reader

جس کسی نے اس (قرآن) سے اعراض کیا تو وہ قیامت کے دن ایک بھاری بوجھ اٹھائے گا

خٰلِدِیْنَ فِیْهِ١ؕ وَ سَآءَ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ حِمْلًاۙ Open ayah 20:101 in the Quran reader

یہ لوگ اس (کیفیت) میں ہمیشہ رہیں گے اور ان کے لیے بہت برا ہوگا قیامت کے دن کا وہ بوجھ

آیت 99 کَذٰلِکَ نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ ج ” اس طرح بذریعہ وحی پچھلی اقوام کے تفصیلی حالات حضور ﷺ کو فراہم کیے جا رہے ہیں۔ وَقَدْ اٰتَیْنٰکَ مِنْ لَّدُنَّا ذِکْرًا ” ہم نے اپنے فضل خاص سے آپ ﷺ کو یہ قرآن عطا کیا ہے۔ اس میں پچھلے زمانے کی خبریں بھی ہیں اور یاد دہانی اور تذکیر و نصیحت بھی۔
Ayahs 20:102–103

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ زُرْقًاۚۖ Open ayah 20:102 in the Quran reader

جس دن صور پھونکا جائے گا اور ہم مجرموں کو اس دن اکٹھا کریں گے (اس حالت میں) کہ ان کی آنکھیں نیلی پڑی ہوں گی

یَّتَخَافَتُوْنَ بَیْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا Open ayah 20:103 in the Quran reader

چپکے چپکے وہ ایک دوسرے سے کہہ رہے ہوں گے کہ تم نہیں رہے ہو (دنیا میں) مگر صرف دس دن

آیت 102 یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَنَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَءِذٍ زُرْقًا ” انتہائی خوف کی کیفیت میں انسان کی آنکھوں میں نیلاہٹ پیدا ہوجاتی ہے۔ چناچہ اس دن خوف اور دہشت سے مجرموں کی آنکھیں نیلی پڑچکی ہوں گی۔
Ayah 20:104

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُهُمْ طَرِیْقَةً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا۠ Open ayah 20:104 in the Quran reader

ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ وہ کہیں گے جب ان میں سے بہترین سمجھ بوجھ والا شخص کہے گا کہ تم نہیں رہے ہو مگر (زیادہ سے زیادہ) ایک دن

آیت 104 نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُہُمْ طَرِیْقَۃً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا ” اَمْثَلْکے معنی مثالی کے ہیں ‘ یعنی ان میں سے بہترین طریقے والا ‘ انتہائی شائستہ ‘ مہذب cultured اور سب سے زیادہ پڑھا لکھا شخص۔ یہ گویا ان کا لال بجھکڑہو گا جو دنیا میں بزعم خود مثالی شخصیت کا مالک اور دانشور تھا۔ یہی ترکیب قبل ازیں آیت 63 میں بھی ہم پڑھ چکے ہیں۔ وہاں فرعون کا وہ بیان نقل ہوا تھا جس میں اس نے اپنے ملک کے آئین و تمدن کو ”طَرِیْقَتِکُمُ الْمُثْلٰی“ قرار دیا تھا۔ یہاں پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حالات پر مشتمل پانچ رکوع اختتام پذیر ہوئے۔ اس سے آگے سورة کے اختتام تک وہی مضامین ہیں جو عام طور پر مکی سورتوں میں ملتے ہیں۔
Ayahs 20:105–106

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ Open ayah 20:105 in the Quran reader

اور (اے نبی ﷺ !) یہ لوگ آپ سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھتے ہیں آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ میرا رب ان کو ریزہ ریزہ کر کے بکھیر دے گا

فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاۙ Open ayah 20:106 in the Quran reader

اور چھوڑ دے گا اس (زمین) کو صاف چٹیل میدان بنا کر

آیت 105 وَیَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْجِبَالِ ” واقعات قیامت کے سلسلے میں جب آپ ﷺ ان کو بتاتے ہیں کہ روز محشر روئے زمین ایک صاف اور ہموار میدان کا نقشہ پیش کرے گی تو یہ لوگ سوال کرتے ہیں کہ اتنے بڑے بڑے پہاڑی سلسلوں کا کیا بنے گا ؟ وہ کہاں چلے جائیں گے ؟
Ayah 20:107

لَّا تَرٰى فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًاؕ Open ayah 20:107 in the Quran reader

آپ نہ تو اس میں کوئی ٹیڑھ دیکھیں گے اور نہ کوئی ٹیلا

آیت 107 لَّا تَرٰی فِیْہَا عِوَجًا وَّلَآ اَمْتًا ” تب زمین ایک ہموار چٹیل میدان کی صورت اختیار کر جائے گی اور دیکھنے والا اس میں کوئی نشیب و فراز محسوس نہیں کرے گا۔
Ayahs 20:108–109

یَوْمَئِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَهٗ١ۚ وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا هَمْسًا Open ayah 20:108 in the Quran reader

جس دن پیچھے چل پڑیں گے سب لوگ ایک پکارنے والے کے ممکن نہیں کہ اس سے ذرا کج ہو سکیں اور تمام آوازیں رحمن کے سامنے پست ہوجائیں گی چناچہ تم نہیں سن سکو گے مگر ایک بھنبھناہٹ سی

یَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا Open ayah 20:109 in the Quran reader

اس دن کوئی شفاعت ہرگز مفید نہیں ہوگی مگر جس کے لیے رحمن نے اجازت دی ہو اور اس کے لیے اس نے بات پسند کی ہو

آیت 108 یَوْمَءِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَہٗ ج ” تمام انسانوں کو اس دن جب اکٹھے ہونے کے لیے پکارا جائے گا تو ہر کوئی اس پکار پر لبیک کہے گا۔ کسی کے لیے ممکن نہیں ہوگا کہ اس حکم کو نظر انداز کر کے ادھر ادھر ہو سکے۔
Ayah 20:110

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا Open ayah 20:110 in the Quran reader

وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور وہ احاطہ نہیں کرسکتے اس کے علم کا

آیت 110 یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِہٖ عِلْمًا ” یہی بات سورة البقرۃ ‘ آیت 255 آیت الکرسی میں الفاظ کے تھوڑے سے فرق کے ساتھ اس طرح بیان فرمائی گئی ہے : یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْج وَلاَ یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ الاَّ بِمَاشَآءَج ”وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے ‘ اور وہ احاطہ نہیں کرسکتے اس کے علم کا کچھ بھی ‘ مگر یہ کہ جو وہ خود چاہے۔“
Ayahs 20:111–112

وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ١ؕ وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا Open ayah 20:111 in the Quran reader

اور یقیناً خائب و خاسر ہوا وہ جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا Open ayah 20:112 in the Quran reader

اور جس کسی نے نیک اعمال کیے ہوں گے اور وہ مؤمن ہوگا تو اسے نہ کسی بےانصافی کا اندیشہ ہوگا اور نہ کسی زیادتی کا

آیت 111 وَعَنَتِ الْوُجُوْہُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ ط ”اور سب کے چہرے جھکے ہوئے ہوں گے اس ہستی کے حضور جو الحی القیوم ہے۔“ قرآن مجید کا یہ تیسرا مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ کے یہ دو نام الحیّ اور القیوم ایک ساتھ آئے ہیں۔ اس سے پہلے سورة البقرۃ ‘ آیت 255 آیت الکرسی اور سورة آل عمران ‘ آیت 2 میں یہ دونوں نام اکٹھے آ چکے ہیں۔ الحی القیوم کے بارے میں عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ”اسم اللہ الاعظم“ یعنی اللہ کا عظیم ترین نام اسم اعظم ہے جس کے حوالے سے جو دعا کی جائے وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔ وَقَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا ” یعنی کسی طرح کے شرک کا مرتکب ہوا۔
Ayah 20:113

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا Open ayah 20:113 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے نازل کیا ہے اس (کلام) کو عربی قرآن بنا کر اور پھیر پھیر کر بیان کی ہیں ہم نے اس میں تمام وعیدیں شاید کہ وہ تقویٰ اختیار کریں یا (شاید) وہ پیدا کرے ان (کے دلوں) میں کچھ یاد دہانی

لَعَلَّہُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَہُمْ ذِکْرًا ” ہو سکتا ہے قرآن کی تاثیر سے ان کے اندر کوئی مثبت سوچ یا ایمان کا جذبہ پیدا ہوجائے۔
Ayah 20:114

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ١٘ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا Open ayah 20:114 in the Quran reader

تو بہت بلند وبالا ہے اللہ بادشاہ حقیقی اور آپ ﷺ جلدی نہ کیجیے اس قرآن کے ساتھ اس سے پہلے کہ آپ ﷺ پر اس کی وحی مکمل ہوجائے اور آپ ﷺ یہ کہتے رہا کیجیے کہ اے میرے رب ! میرے علم میں اضافہ فرما

وَلَا تَعْجَلْ بالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰٓی اِلَیْکَ وَحْیُہٗز ” ”عجلت“ کا مضمون یہاں چوتھی مرتبہ آیا ہے۔ وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو آیت نمبر 83 کی تشریح۔ آپ ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ قرآن کے معاملے میں جلدی نہ کریں۔ آپ ﷺ کا شوق بجا مگر وحی سے متعلق تمام معاملات وقت ‘ مقدار ‘ مضمون وغیرہ اللہ کی حکمت اور مشیت کے مطابق طے پائیں تو اسی میں خیر اور بہتری ہے۔ وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا ” جیسے جیسے قرآن نازل ہو رہا ہے ‘ آپ ﷺ اس کے اسرار و رموز سے متعلق اپنے فہم و تدبر اور بصیرت باطنی میں اضافے کے لیے اللہ تعالیٰ سے مسلسل دعا کرتے رہیں۔
Ayah 20:115

وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠ Open ayah 20:115 in the Quran reader

اور ہم نے اس سے پہلے آدم ؑ سے ایک عہد لیا تھا تو وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں ارادے کی پختگی نہیں پائی

آیت 115 وَلَقَدْ عَہِدْنَآ اِلآی اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ ” یعنی مخصوص درخت کے پاس نہ جانے کا عہد ‘ جس کا ذکر قرآن میں متعدد بار ہوا ہے۔ فَنَسِیَ وَلَمْ نَجِدْ لَہٗ عَزْمًا ” آیت زیر نظر میں ”عزم“ کے دو ترجمے کیے گئے ہیں اور دونوں صحیح ہیں۔ ایک ارادے کی پختگی۔ اس لحاظ سے وَلَمْ نَجِدْ لَہٗ عَزْمًا کا مفہوم یہ ہوگا کہ ہم نے آدم علیہ السلام کے اندر ارادے کی پختگی ‘ ہمت اور عزیمت نہیں پائی۔ وہ اللہ سے کیے گئے اپنے عہد کو نبھا نہ سکے اور اس اعتبار سے انہوں نے کمزوری کا مظاہرہ کیا۔ یہ دراصل انسانی خلقت کے اندر موجود اس کمزوری کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر سورة النساء میں اس طرح آیا ہے : وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا کہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ اس کا دوسرا ترجمہ یہ کیا گیا ہے کہ ہم نے اس کے اندر سرکشی کا ارادہ نہیں پایا۔ یعنی آدم علیہ السلام نے جان بوجھ کر اس عہد کی خلاف ورزی نہیں کی تھی۔ ہم نے ان علیہ السلام کی نیت میں سرکشی ‘ بغاوت اور نافرمانی کا کوئی ارادہ نہیں دیکھا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ بھول گئے تھے ‘ ان پر نسیان طاری ہوگیا تھا ‘ جس کی وجہ سے انہیں وقتی طور پر اللہ کا وہ عہد یاد نہیں رہا تھا۔ نسیان دراصل انسان کی ایک فطری کمزوری ہے اور اسی حوالے سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ عظیم دعا سکھائی ہے : رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِیْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا ج البقرۃ : 286 کہ اے ہمارے پروردگار ! ہمارا مواخذہ نہ کرنا اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے خطا ہوجائے۔
Ayahs 20:116–119

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى Open ayah 20:116 in the Quran reader

اور (یاد کرو) جب کہ ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ سجدہ کرو آدم ؑ کو تو ان سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے اس نے انکار کردیا

فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى Open ayah 20:117 in the Quran reader

تو ہم نے کہا : اے آدم ؑ ! یقیناً یہ دشمن ہے تمہارا بھی اور تمہاری بیوی کا بھی تو (دیکھو !) یہ تم دونوں کو کہیں جنت سے نکلوا نہ دے کہ پھر تم مشقت میں پڑجاؤ

اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ Open ayah 20:118 in the Quran reader

یقیناً اس میں نہ تو تمہیں بھوک ستاتی ہے اور نہ عریانی (کا خدشہ) ہے

وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَ لَا تَضْحٰى Open ayah 20:119 in the Quran reader

اور یہ کہ نہ تمہیں اس میں پیاس (پریشان کرتی) ہے اور نہ دھوپ (کی کوئی تکلیف)

اب یہاں قصہ آدم و ابلیس پانچویں مرتبہ بیان ہونے جا رہا ہے۔ اس سے پہلے سورة البقرۃ رکوع : 4 ‘ سورة الاعراف رکوع : 2 ‘ سورة بنی اسرائیل رکوع : 7 اور سورة الحجر رکوع : 3 میں اس کا ذکر ہوچکا ہے۔
Ayah 20:120

فَوَسْوَسَ اِلَیْهِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا یَبْلٰى Open ayah 20:120 in the Quran reader

تو وسوسہ ڈالا اس کے ذہن میں شیطان نے اس نے کہا : اے آدم ؑ ! کیا میں بتاؤں تجھے ہمیشہ رہنے والے درخت اور ایسی بادشاہی کے بارے میں جو کبھی پرانی نہ ہو

قَالَ یٰٓاٰدَمُ ہَلْ اَدُلُّکَ عَلٰی شَجَرَۃِ الْخُلْدِ وَمُلْکٍ لَّا یَبْلٰی ” کہ اس درخت کا پھل کھانے کے بعد آپ علیہ السلام کو دوام حاصل ہوجائے گا اور زندگی کے لیے کبھی فنا کا خدشہ نہیں ہوگا۔ گویا شیطان نے اپنی پہلی سازش کا جال انسان کی اسی کمزوری کو بنیاد بنا کر بنا تھا جس کا ذکر سورة مریم کی آیت 92 کے ضمن میں گزر چکا ہے۔ یہاں اہرام مصر کے حوالے سے درج ذیل الفاظ ایک دفعہ پھر سے ذہن میں تازہ کرلیجیے : They defined cry of mans will To survive and conquer the storms of time یعنی انسان وقت کے طوفانوں کو فتح کرلینا چاہتا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ اس کی ہستی کو اس دنیا میں دوام اور تسلسل نصیب ہو۔ چناچہ شیطان نے انسانِ اوّل کی اسی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر فانی زندگی اور ہمیشہ کی بادشاہی مل جانے کا جھانسہ دے کر اسے ممنوعہ درخت کا پھل کھانے پر آمادہ کرلیا۔