19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayah 19:1

كٓهٰیٰعٓصٓ۫ۚ Open ayah 19:1 in the Quran reader

كۗهٰيٰعۗصۗ

آیت 1 كۗهٰيٰعۗصۗ قرآن مجید کی یہ واحد سورت ہے جس کے آغاز میں اکٹھے پانچ حروف مقطعات ہیں۔ اگرچہ سورة الشوریٰ کے شروع میں بھی پانچ حروف مقطعات ہیں لیکن وہاں یہ دو آیات میں ہیں۔ دو حروف حٰمٓ پہلی آیت میں جبکہ تین حروف عٓسٓقٓ دوسری آیت میں ہیں۔ بہر حال سورة مریم کو اس لحاظ سے انفرادیت حاصل ہے کہ اس کے آغاز میں اکٹھے پانچ حروف مقطعات آئے ہیں۔
Ayah 19:2

ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِیَّاۖۚ Open ayah 19:2 in the Quran reader

یہ ذکر ہے آپ کے رب کی رحمت کا جو اس نے اپنے بندے زکریا پر کی

آیت 2 ذِکْرُ رَحْمَتِ رَبِّکَ عَبْدَہٗ زَکَرِیَّا ” یہاں ذکر تو حضرت عیسیٰ کا کرنا مقصود ہے مگر آپ کے ذکر سے پہلے حضرت یحییٰ کا ذکر کیا جا رہا ہے کیونکہ حضرت یحییٰ کی ولادت بھی تو ایک بہت بڑا معجزہ تھی۔ حضرت زکریا بہت بوڑھے ہوچکے تھے اور آپ کی اہلیہ بھی نہ صرف بوڑھی تھیں بلکہ عمر بھر بانجھ بھی رہی تھیں۔ ان حالات میں ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش کوئی معمول کا واقعہ نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس واقعہ کو یہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت خاص کا مظہر قرار دیا گیا ہے۔
Ayah 19:3

اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا Open ayah 19:3 in the Quran reader

جب اس نے پکارا اپنے رب کو چپکے چپکے

آیت 3 اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَاۗءً خَفِيًّا یعنی حضرت زکریا نے دل ہی دل میں اپنے رب سے دعا کی۔
Ayah 19:4

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِیًّا Open ayah 19:4 in the Quran reader

اس نے عرض کیا اے میرے پروردگار بلا شبہ میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں اور میرا سر بھڑک اٹھا ہے بڑھاپے سے اور اے میرے پروردگار میں تجھے پکار کر کبھی بھی نامراد نہیں رہا

وَاشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا یعنی بڑھاپے کے سبب میرے سر کے بال مکمل طور پر سفید ہوگئے ہیں۔ وَّلَمْ اَکُنْم بِدُعَآءِکَ رَبِّ شَقِیًّا چنانچہ آج میں بڑی ہمت کر کے تجھ سے ایک بہت ہی غیر معمولی دعا کرنے جا رہا ہوں۔ دنیوی حالات اور طبیعی قوانین کے اعتبار سے تو ایسا ہونا ممکن نہیں ‘ مگر تو چاہے تو ناممکن بھی ممکن ہوجاتا ہے۔
Ayah 19:5

وَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ وَ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّاۙ Open ayah 19:5 in the Quran reader

اور مجھے اندیشہ ہے اپنے بھائی بندوں سے اپنے بعد اور میری بیوی بانجھ ہے تو تو مجھے خاص اپنے پاس سے ایک ولی عطا کر

آیت 5 وَاِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِ یْ مجھے اپنے ورثاء میں کوئی ایسا شخص نظر نہیں آتا جو میرے بعد ہیکل سلیمانی کا متولی اور میرا جانشین بننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ وَکَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَہَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّا یہاں ”ولی“ لفظ بہت اہم ہے ‘ یعنی مجھے ایسا ساتھی عطا کر جو میرے مشن میں میرا دوست وبازو بن سکے۔
Ayah 19:6

یَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ١ۖۗ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا Open ayah 19:6 in the Quran reader

جو وارث ہو میرا اور آل یعقوب کا اور اے میرے پروردگار ! اس کو بنائیو پسندیدہ

آیت 6 یَّرِثُنِیْ وَیَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ مجھے ایک ایسے ساتھی کی ضرورت ہے جو میری دینی و روحانی وراثت کو سنبھال سکے ‘ اور میری وراثت کیا ! یہ تو آل یعقوب علیہ السلام کی وراثت ہے۔ اس مقدس مشن کو آگے بڑھانے کے لیے مجھے ایک ایسا وارث عطا کر جو واقعی اس منصب کا اہل ہو۔ وَاجْعَلْہُ رَبِّ رَضِیًّا رَضِیّ فعیل کے وزن پر ہے ‘ چناچہ اس میں راضی وہ جو راضی ہو اور مرضِیّ جس کو راضی کردیا گیا ہو دونوں کیفیتوں کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ جیسے سورة البینہ آیت 8 میں فرمایا گیا : رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ ط کہ اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوگئے۔ اسی طرح سورة الفجر میں نفس مطمئنہ کے حوالے سے فرمایا گیا : ارْجِعِیْٓ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً ”تو لوٹ جا اپنے پروردگار کی طرف اس حال میں کہ تو اس سے راضی ‘ وہ تجھ سے راضی“۔۔ اس دعا کے جواب میں حضرت زکریا علیہ السلام کو بشارت دی گئی :
Ayah 19:7

یٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ اِ۟سْمُهٗ یَحْیٰى١ۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا Open ayah 19:7 in the Quran reader

اے زکریا ؑ ! ہم تمہیں بشارت دیتے ہیں ایک لڑکے کی جس کا نام یحییٰ ہوگا ہم نے اس سے پہلے اس کا کوئی ہم نام نہیں بنایا

آیت 7 یٰزَکَرِیَّآ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلٰمِ نِ اسْمُہٗ یَحْیٰیلا لَمْ نَجْعَلْ لَّہٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس کا کوئی نظیر نہیں بنایا ‘ یعنی اس جیسی صفات کسی میں پیدا نہیں کیں۔
Ayahs 19:8–9

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِیًّا Open ayah 19:8 in the Quran reader

اس نے کہا : اے میرے پروردگار ! میرے ہاں بیٹا کیسے ہوجائے گا جبکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں پہنچ چکا ہوں بڑھاپے کے باعث سوکھ جانے کی حالت کو

قَالَ كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ وَّ قَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ تَكُ شَیْئًا Open ayah 19:9 in the Quran reader

فرمایا : ایسے ہی ہوگا ! تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ یہ مجھ پر آسان ہے اور تمہیں بھی تو میں نے پیدا کیا اس سے پہلے جبکہ تم کچھ بھی نہیں تھے

آیت 8 قَالَ رَبِّ اَ نّٰی یَکُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ یہ وہی بات ہے جو حضرت زکریا علیہ السلام کے حوالے سے ہم سورة آل عمران آیت 40 میں بھی پڑھ چکے ہیں۔ وَّکَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْکِبَرِ عِتِیًّا یعنی بڑھاپے کی وجہ سے میرے جسم میں حیات کے سارے سوتے خشک ہوچکے ہیں۔
Ayah 19:10

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا Open ayah 19:10 in the Quran reader

عرض کیا : اے میرے پروردگار ! میرے لیے کوئی نشانی مقرر فرمادے فرمایا : تمہارے لیے نشانی یہ ہے کہ تم گفتگو نہیں کرسکو گے لوگوں سے تین راتیں متواتر

قَالَ اٰیَتُکَ اَلَّا تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا گویا بطور نشانی اللہ تعالیٰ نے تین دنوں تک حضرت زکریا علیہ السلام کی قوت گویائی سلب کرلی۔ سورة آل عمران آیت 41 میں اس مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا ہے : قَالَ اٰیَتُکَ اَلاَّ تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَۃَ اَیَّامٍ الاَّ رَمْزًا ط یعنی آپ علیہ السلام تین دن تک لوگوں سے گفتگو نہیں کرسکو گے مگر اشاروں کنایوں میں۔
Ayah 19:11

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:11 in the Quran reader

پھر وہ حجرے سے نکل کر اپنی قوم کی طرف آیا اور انہیں اشارے سے کہا کہ تم لوگ تسبیح بیان کرو صبح وشام

آیت 11 فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِہٖ مِنَ الْمِحْرَابِ اپنی عبادت ‘ رازو نیاز اور مناجات کے بعد حضرت زکریا علیہ السلام اپنے حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے لوگوں کی طرف آئے۔ فَاَوْحٰٓی اِلَیْہِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُکْرَۃً وَّعَشِیًّا آپ علیہ السلام نے لوگوں کو اشاروں کنایوں سے سمجھایا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بہت اہم فیصلہ ہونے جا رہا ہے ‘ لہٰذا تم لوگ صبح وشام کثرت سے اللہ کی تسبیح وتحمید کرتے رہو۔ عربی میں ”وحی“ کے لغوی معنی ہیں : الاعلام بالسِّر والخِفاء ‘ یعنی کسی کو اشارے سے کوئی بات اس طرح بتانا کہ دوسروں کو پتا نہ چلے۔ انبیاء ورسل علیہ السلام کی طرف جو وحی آتی ہے اس کی کیفیت بھی یہی ہوتی ہے۔ وحی کی مختلف صورتوں کا تذکرہ بیان القرآن ‘ جلد اول کے آغاز میں ”تعارف قرآن“ کے ضمن میں آچکا ہے۔ آگے سورة الشوریٰ میں بھی اس کا ذکر آئے گا۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی ولادت کے بعد اب ان کو براہ راست مخاطب کیا جا رہا ہے :
Ayahs 19:12–13

یٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ١ؕ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّاۙ Open ayah 19:12 in the Quran reader

اے یحییٰ کتاب کو مضبوطی سے تھام لو اور ہم نے اس کو عطا کردی حکمت و دانائی بچپن ہی میں

وَّ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ زَكٰوةً١ؕ وَ كَانَ تَقِیًّاۙ Open ayah 19:13 in the Quran reader

اور ہماری طرف سے سوزو گداز والی محبت اور پاکیزگی (اسے عطا ہوئی) اور وہ بہت متقی تھا

آیت 12 یٰیَحْیٰی خُذِ الْکِتٰبَ بِقُوَّۃٍ کتاب سے مراد یہاں زبور ‘ تورات اور دیگر صحائف ہیں جو اس وقت بنی اسرائیل کے درمیان موجود تھے۔ وَاٰتَیْنٰہُ الْحُکْمَ صَبِیًّا اب حضرت یحییٰ علیہ السلام کے خصوصی اوصاف بیان کیے جا رہے ہیں۔ یوں سمجھئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام John The Baptist and Jesus of Nazarat دونوں ایسی غیر معمولی شخصیات ہیں کہ ان جیسے اوصاف دوسرے انبیاء و رسل علیہ السلام میں بھی نہیں پائے گئے۔ چناچہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بچپن ہی میں حکمت عطا کردی گئی۔
Ayah 19:14

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَیْهِ وَ لَمْ یَكُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا Open ayah 19:14 in the Quran reader

اور وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا تھا اور خود سر و نافرمان نہیں تھا

آیت 14 وَّبَرًّام بِوَالِدَیْہِ وَلَمْ یَکُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا یہ اوصاف اللہ تعالیٰ کی خصوصی عطا کے طور پر حضرت یحییٰ علیہ السلام کی گھٹیّ میں ڈال دیے گئے۔
Ayah 19:15

وَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا۠ Open ayah 19:15 in the Quran reader

اور سلام اس پر جس دن اس کی ولادت ہوئی جس دن اسے موت آئے اور جس دن وہ اٹھایا جائے زندہ کر کے

آیت 15 وَسَلٰمٌ عَلَیْہِ یَوْمَ وُلِدَ وَیَوْمَ یَمُوْتُ وَیَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا یہاں پر حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کا قصہ اختتام کو پہنچا اور اب آگے حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قصہ بیان کیا جا رہا ہے۔
Ayah 19:16

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَ١ۘ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِیًّاۙ Open ayah 19:16 in the Quran reader

اور (اب) ذکر کیجیے اس کتاب (قرآن) میں مریم کا جبکہ وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر ایک شرقی گوشے میں جا بیٹھی

آیت 16 وَاذْکُرْ فِی الْْکِتٰبِ مَرْیَمَ 7 اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَہْلِہَا مَکَانًا شَرْقِیًّا حضرت مریم سلامٌ علیہا نے اپنے لوگوں سے الگ تھلگ ہو کر ہیکل سلیمانی کے مشرقی گوشے میں خود کو مقیدّ کرلیا۔ یہ گویا اللہ تعالیٰ کے لیے اعتکاف کی کیفیت تھی۔
Ayah 19:17

فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا١۪۫ فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا Open ayah 19:17 in the Quran reader

تو اس نے اپنے آپ کو ان سے پردے میں کرلیا پس ہم نے بھیجا اس کی طرف اپنا ایک فرشتہ تو اس نے صورت اختیار کی اس (مریم) کے سامنے ایک مکمل انسان کی

آیت 17 فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِہِمْ حِجَابًا انہوں نے گوشے میں پردہ تان کر خلوت کا ماحول بنا لیا تاکہ یکسوئی سے اللہ کی عبادت کرسکیں۔ فَاَرْسَلْنَآ اِلَیْہَا رُوْحَنَا یہاں پر روح بمعنی فرشتہ ہے۔ قبل ازیں تفصیلاً بیان ہوچکا ہے کہ فرشتہ بھی روح ہے ‘ وحی بھی روح ہے ‘ قرآن بھی روح ہے اور روح انسانی بھی روح ہے۔ فَتَمَثَّلَ لَہَا بَشَرًاسَوِیًّا یعنی فرشتہ ان کے سامنے ایک مکمل انسان کی صورت میں نمودار ہوا۔
Ayahs 19:18–20

قَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا Open ayah 19:18 in the Quran reader

مریم نے کہا : میں رحمن کی پناہ مانگتی ہوں تم سے اگر تم کوئی متقی شخص ہو

قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ١ۖۗ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا Open ayah 19:19 in the Quran reader

اس نے کہا : میں تو آپ کے رب کا فرستادہ ہوں تاکہ میں آپ کو ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروں

قَالَتْ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِیًّا Open ayah 19:20 in the Quran reader

مریم نے کہا : میرے ہاں بیٹا کیسے ہوگا ؟ جبکہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں اور نہ ہی میں کوئی بدچلن عورت ہوں

آیت 18 قَالَتْ اِنِّیْٓ اَعُوْذُ بالرَّحْمٰنِ مِنْکَ اِنْ کُنْتَ تَقِیًّا اچانک ایک مرد کو اپنی خلوت گاہ میں دیکھ کر حضرت مریم سلامٌ علیہا گھبرا گئیں کہ وہ کسی بری نیت سے نہ آیا ہو۔ چناچہ انہوں نے اسے مخاطب کر کے کہا کہ میں تم سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں ‘ اور اگر تم اللہ سے ڈرنے والے ہو ‘ تمہارے دل میں اللہ کا کچھ بھی خوف ہے تو کسی برے ارادے سے باز رہنا۔
Ayah 19:21

قَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ١ۚ وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّا١ۚ وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا Open ayah 19:21 in the Quran reader

اس (فرشتے) نے کہا : ایسے ہی ہوگا آپ کا رب فرماتا ہے کہ یہ مجھ پر آسان ہے تاکہ ہم اسے بنائیں ایک نشانی لوگوں کے لیے اور رحمت اپنی طرف سے اور یہ ایک طے شدہ امر ہے

آیت 21 قَالَ کَذٰلِکِ یعنی کسی مرد کے تعلق کے بغیر ہی اللہ تعالیٰ آپ کو بیٹا عطا فرمائے گا۔ قَالَ رَبُّکِ ہُوَ عَلَیَّ ہَیِّنٌج وَلِنَجْعَلَہٗٓ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَۃً مِّنَّاج وَکَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا یعنی اس بچے کو ہم لوگوں کے لیے معجزہ اور اپنی رحمت کا ذریعہ بنانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ چناچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بھی معجزہ تھی ‘ آپ علیہ السلام کا رفع سماوی بھی معجزہ تھا اور اس کے علاوہ بھی آپ علیہ السلام کو بہت سے معجزات عطا ہوئے تھے۔ غرض آپ علیہ السلام کی شخصیت ہر لحاظ سے غیر معمولی ‘ ممیز اور ممتاز تھی۔
Ayah 19:22

فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِیًّا Open ayah 19:22 in the Quran reader

تو اسے اس (بچے) کا حمل ٹھہر گیا چناچہ وہ اسے لے کر ایک دور جگہ پر چلی گئی

آیت 22 فَحَمَلَتْہُ فَانْتَبَذَتْ بِہٖ مَکَانًا قَصِیًّا اس پریشانی میں کہ حمل بڑھے گا تو لوگ کیا کہیں گے ‘ حضرت مریم تنہائی کی غرض سے بیت اللحم چلی گئیں ‘ جو ہیکل سلیمانی سے آٹھ میل کے فاصلے پر تھا۔“
Ayah 19:23

فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ١ۚ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا Open ayah 19:23 in the Quran reader

پھر لے آیا اسے درد زہ ایک کھجور کے تنے کے پاس۔ (اس کیفیت میں) اس نے کہا : کاش میں اس سے پہلے مرچکی ہوتی اور ایک بھولی بسری چیز ہوچکی ہوتی

آیت 23 فَاَجَآءَ ہَا الْمَخَاضُ اِلٰی جِذْعِ النَّخْلَۃِ ولادت کے وقت جب درد زہ کی شدت بڑھی تو حضرت مریم نے سہارے کے لیے ایک کھجور کے تنے کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ یہ درد کی شدت کو برداشت کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ اگر عورت وضع حمل کے وقت کسی چیز کو مضبوطی سے تھام لے تو اس میں درد کو برداشت کرنے کی ہمت پیدا ہوجاتی ہے۔ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ ہٰذَا وَکُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا اللہ کی وہ بندی ممکنہ اندیشوں سے کانپ رہی تھی کہ اب میں اس بچے کا کیا کروں گی ؟ لوگوں کو کیا منہ دکھاؤں گی ؟ دنیا کیا کہے گی ؟ کاش یہ وقت آنے سے پہلے ہی مجھے موت آگئی ہوتی اور میری یاد تک لوگوں کے ذہنوں سے محو ہوچکی ہوتی۔
Ayahs 19:24–25

فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا Open ayah 19:24 in the Quran reader

تو اس نے پکارا اسے اس کے نیچے سے کہ آپ غمگین نہ ہوں (دیکھئے) آپ کے رب نے آپ کے (قدموں کے) نیچے ایک چشمہ رواں کردیا ہے

وَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا٘ Open ayah 19:25 in the Quran reader

اور آپ اس کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلایئے آپ پر تازہ پکی ہوئی کھجوریں جھڑ پڑیں گی

آیت 24 فَنَادٰٹہَا مِنْ تَحْتِہَآ یہاں عام مفسرین کا خیال یہ ہے کہ جس فرشتے نے پہلے بشارت دی تھی اسی نے اب بھی انہیں آواز دی۔ مِنْ تَحْتِہَآ کا مفہوم یہی لیا گیا ہے کہ اس وقت حضرت مریم نسبتاً بلند جگہ پر ہوں گی اور وہ فرشتہ ذرا نشیب میں ہوگا۔ ویسے بھی وضع حمل کے موقع پر فرشتے کا آپ کے بالکل قریب رہنامناسب نہیں تھا۔ لیکن مِنْ تَحْتِہَا کی ایک قراءت مَنْ تَحْتَہَآ بھی ہے ‘ یعنی اسے پکارا اس نے جو اس کے نیچے تھا۔ اس ترجمے کے مطابق مفہوم یہ ہوگا کہ ولادت کے فوراً بعد بچہ بول پڑا اور میں یہاں اسی مفہوم کو ترجیح دیتا ہوں۔ اس لیے کہ اگر اس وقت بچے نے کلام نہ کیا ہوتا تو حضرت مریم کو کیسے یقین آتا کہ یہ بچہ لوگوں کے سوالات کا خود ہی جواب دے گا اور وہ بچے کو لے کر لوگوں کے سامنے آنے پر کیونکر تیار ہوجاتیں۔ بہر حال وہ جو نیچے تھا اس نے آپ کو پکار کر کہا : اَ لَّا تَحْزَنِیْ اگر یہ حضرت مسیح علیہ السلام یعنی نومولود ہی کا کلام ہے تو گویا آپ علیہ السلام اپنی والدہ کو تسلی دے رہے ہیں کہّ امی جان ! آپ بالکل پریشان نہ ہوں۔
Ayah 19:26

فَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًا١ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا١ۙ فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ Open ayah 19:26 in the Quran reader

پس آپ کھایئے اور پیجئے اور (اپنی) آنکھیں ٹھنڈی کیجیے اور اگر آپ دیکھیں کسی آدمی کو (اور وہ آپ سے پوچھے) تو اس سے (اشارے سے) کہہ دیں کہ میں نے نذر مانی ہے رحمن کے لیے روزے کی لہٰذا میں بات نہیں کروں گی آج کسی انسان سے

آیت 26 فَکُلِیْ وَاشْرَبِیْ وَقَرِّیْ عَیْنًا حضرت مریم سلامٌ علیہا نے یہ تمام معجزات اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ بچہ بھی بول پڑا ‘ چشمہ بھی جاری ہوگیا ‘ اور کھجور کے سوکھے تنے کو ہلانے سے تازہ پکی ہوئی کھجوریں بھی ان کے سامنے آن گریں۔ یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد ان میں حالات کا مقابلہ کرنے کی جرأت پیدا ہوئی اور انہوں نے بچے کو لے کر آبادی میں آنے کا فیصلہ کیا۔ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًالا فَقُوْلِیْٓ اِنِّیْ نَذَرْتُ للرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُکَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّا ان کی شریعت میں روزے کی حالت میں کھانے پینے کی پابندی کے علاوہ بات چیت کرنے پر بھی پابندی تھی۔
Ayah 19:27

فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ١ؕ قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا Open ayah 19:27 in the Quran reader

پھر وہ لے آئی اس کو اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس لوگوں نے کہا : اے مریم ! یقیناً تم ایک طوفان گھڑ لائی ہو

آیت 27 فَاَتَتْ بِہٖ قَوْمَہَا تَحْمِلُہٗ حضرت مریم بڑے حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے نومولود بچے کو اٹھائے ہوئے اپنی قوم کی طرف آگئیں۔ بچے کی گفتگو والا معجزہ دیکھ لینے کے بعد آپ کو تسلی تھی کہ وہ خود ہی لوگوں کے سوالات کے جواب دے گا۔ آیت 24 کے حوالے سے بچے کے کلام کرنے کا تذکرہ عام طور پر تفاسیر میں نہیں ملتا اور ”مِنْ تَحْتِھَا“ سے یہی سمجھا گیا ہے کہ اس موقع پر فرشتے ہی نے آپ کو پکارا تھا۔ بہرحال میری رائے یہ ہے کہ حضرت مریم کو اس وقت نیچے سے پکارنے والا آپ کا نومولود بیٹا تھا ‘ جس کی گفتگو سے آپ کو حوصلہ ملا اور آپ بچے کے ساتھ لوگوں کا سامنا کرنے پر آمادہ ہوئیں۔ واللہ اعلم ! قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِءْتِ شَیْءًا فَرِیًّا ان کو دیکھتے ہی لوگوں نے طرح طرح کی باتیں کرنا شروع کردیں کہ تم نے یہ کیا غضب کیا ! تمہاری گود میں یہ کس کا بچہ ہے ؟ یہ تم نے بہت بری حرکت کی ہے ‘ وغیرہ۔
Ayahs 19:28–34

یٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّاۖۚ Open ayah 19:28 in the Quran reader

اے ہارون کی بہن ! نہ تو تمہارا والد برا آدمی تھا اور نہ ہی تمہاری والدہ بدکار تھی

فَاَشَارَتْ اِلَیْهِ١ؕ قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا Open ayah 19:29 in the Quran reader

تو اس نے اس (بچے) کی طرف اشارہ کردیا۔ لوگوں نے کہا کہ ہم اس سے کیسے بات کریں جو گود میں پڑابچہ ہے

قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ Open ayah 19:30 in the Quran reader

اس (بچے) نے کہا : میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب عطا کی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے

وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ١۪ وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّا٢۪ۖ Open ayah 19:31 in the Quran reader

اور مجھے بابرکت بنایا ہے جہاں کہیں بھی میں ہوں گا اور مجھے اس نے تاکید کی ہے نماز کی اور زکوٰۃ کی جب تک میں زندہ رہوں

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ١٘ وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا Open ayah 19:32 in the Quran reader

اور (اس نے مجھے بنایا) بھلائی کرنے والا اپنی والدہ کے ساتھ اور اس نے مجھے ُ تند خو بدبخت نہیں بنایا

وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا Open ayah 19:33 in the Quran reader

اور سلام ہے مجھ پر جس دن میں جنا گیا اور جس دن میں مروں گا اور جس دن مجھے اٹھایا جائے گا زندہ کر کے

ذٰلِكَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ١ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 19:34 in the Quran reader

یہ ہیں عیسیٰ ؑ ٰ ابن مریم ! یہ ہے حق کی بات جس کے بارے میں یہ لوگ شک کرتے ہیں

آیت 28 یٰٓاُخْتَ ہٰرُوْنَ مَا کَانَ اَبُوْکِ امْرَاَ سَوْ ءٍ وَّمَا کَانَتْ اُمُّکِ بَغِیًّا حضرت مریم کو ہارون کی بہن کہنے کی وجہ یا تو یہ ہوسکتی ہے کہ ان کا ہارون نامی کوئی بھائی ہو ‘ یا یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے ہونے کی وجہ سے ایک برگزیدہِ جدّ امجد کے طور پر آپ علیہ السلام کا نام لیا گیا ہو کہ دیکھو کس عظیم شخصیت کی نسل سے تمہارا تعلق ہے اور حرکت تم نے کس قدر گری ہوئی کی ہے۔
Ayahs 19:35–36

مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُؕ Open ayah 19:35 in the Quran reader

اللہ کے شایان شان نہیں کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے وہ (اس سے) پاک ہے۔ جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے کہتا ہے ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے

وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 19:36 in the Quran reader

اور یقیناً اللہ ہی ہے میرا رب بھی اور تمہارا رب بھی تو تم اسی کی بندگی کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے

آیت 35 مَا کَانَ لِلّٰہِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍلا سُبْحٰنَہٗط اِذَا قَضآی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ یعنی حضرت مسیح علیہ السلام کی ولادت کے سلسلے میں باپ کا حصہ اللہ تعالیٰ کے ایک حرف ”کُن“ کے ذریعے سے پورا ہوا ‘ جبکہ باقی سارا عمل عام فطری اور طبعی طریقے سے تکمیل پذیر ہوا۔ اسی لیے آپ علیہ السلام کو کلمۃٌ منہُ آل عمران : 45 یعنی اللہ کا خاص کلمہ قرار دیا گیا ہے۔
Ayahs 19:37–39

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 19:37 in the Quran reader

پھر اختلافات پیدا کرلیے (مختلف) گروہوں نے آپس میں۔ تو بربادی ہے ان کافروں کے لیے اس بڑے دن کی پیشی سے

اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ١ۙ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 19:38 in the Quran reader

کیا ہی اچھا وہ سن رہے ہوں گے اور کیا ہی اچھا وہ دیکھ رہے ہوں گے جس دن وہ ہمارے پاس آئیں گے لیکن آج یہ ظالم کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ١ۘ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 19:39 in the Quran reader

اور (اے نبی ﷺ !) آپ انہیں خبر دار کردیجیے اس یوم حسرت سے جب ہر معاملے کا فیصلہ کردیا جائے گا۔ البتہ (اب) یہ لوگ غفلت میں مبتلا ہیں لہٰذا یہ ایمان نہیں لائیں گے

آیت 37 فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْم بَیْنِہِمْج فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ مَّشْہَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی ہوگی اور تمام حقائق کھل کر سامنے آئیں گے تو حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں بھی حقیقت واضح ہوجائے گی۔ چناچہ اس بارے میں جن لوگوں نے من گھڑت عقیدے بنائے اور پھر ان غلط عقائد پر ہی جمے رہے حتیٰ کہ اسی حالت میں انہیں موت آگئی ‘ ایسے لوگوں کے لیے اس دن ہلاکت و بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
Ayah 19:40

اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 19:40 in the Quran reader

یقیناً ہم ہی وارث ہوں گے زمین کے اور جو کوئی اس پر موجود ہے (اس کے بھی) اور یہ سب لوگ ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گے

آیت 40 اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَمَنْ عَلَیْہَا اس دن روئے زمین کی حکمرانی اور دنیوی مال و متاع کی ملکیت کے عارضی دعویدار سب کے سب ختم ہوجائیں گے اور اس سب کچھ کی وراثت ظاہری طور پر بھی ہمیں منتقل ہوجائے گی۔