Ayah 20:11۔ حروف مقطعات میں سے ہے اصل معنی تو اللہ ہی کو معلوم۔ ملاحظہ ہو سورة بقر کے شروع کا حاشیہ۔ البتہ حضرت ابن عباس ؓ اور متعدد تابعی حضرات سے اس کے معنی یارج (اے شخص ! ) کے مختلف زبانوں کے لحاظ سے مروی ہیں۔ معناہ یا رجل وھو مروی عن ابن عباس ؓ والحسن و مجاھد و سعید بن جبیر وقتادۃ وعکرمہ والکلبی (کبیر) اور حضرت ابن عباس ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ کافروں نے یہ کہنا شروع بھی کیا تھا کہ یہ شخص مصیبت میں پڑگیا۔ فان قومہ قالوا لقد شقی ھذا الرجل (ابن جریر) اس لئے یہ معنی سیاق پر زیادہ چسپاں ہیں۔ سعید بن جبیر سے یہ قول بھی مروی ہے کہ یہ اسم الطیب الطاھر الھادی کا مخفف ہے (کبیر) اور حضرت ابن عباس ؓ سے یہ ہے کہ یہ اسماء الہی میں سے ایک اسم ہے (ابن جریر) لیکن امام ابن جریر نے ترجیح یا رجل کے معنی کو دی ہے اس لئے کہ یہی معنی صحابہ ؓ وتابعین میں معروف تھے۔
Ayah 20:22۔ قرآن مجید سے رسول اللہ ﷺ کے تعب ومشقت اٹھانے کی خاص صورتیں دو ہیں۔ ایک یہ کہ آپ کافروں کے ردوانکار پر غم وحزن بہت زیادہ کرتے تھے، دوسرے یہ کہ شب میں آپ قراءت قرآن کے وقت قیام بہت زائد طویل فرماتے تھے وقس علی ھذا۔ آیت دونوں صورتوں کی نفی کررہی ہے۔ اور آپ کو گویا یہ تعلیم ہورہی ہے کہ آپ کا کام تو صرف تذکیر وتبلیغ ہے جسے ماننا ہوگا مانے گا، نہ ماننا ہوگا نہ مانے گا۔ آپ اتنے فکرمند نہ رہیے۔ علی ھذا رات کی نماز میں بھی اس درجہ مشقت نہ اٹھائیے جس قدر آسانی تحمل ہوسکے بس اسی قدر پڑھیے اہل اشارات کہتے ہیں کہ اگر تفسیر اول قبول کی جائے تو آیت اصل ٹھہرتی ہے۔ اہل دل پر نزول سکینت کی۔ اور تفسیر ثانی مراد لی جائے تو اصل ٹھہرتی ہے مجاہدہ میں تعدیل کی۔ بعض نے کہا ہے کہ مقصود خطاب امت سے کرنا ہے اور شقی خاب کے مرادف ہے۔ اس صورت میں مراد یہ یہ ہوگی کہ اے مومنو۔ قرآن کے نزول کی یہ غرض وغایت نہیں کہ تم حالت محرومی ومغلوبی میں رہو۔
Ayah 20:33۔ قرآن کی غرض وغایت تو بھلائی اور خیرخواہی اصلاح اور سدھا رہے، لیکن اس سے مستفید صرف وہی لوگ ہوسکتے ہیں جن کے قلب میں خوف خدا موجود ہے۔
Ayahs 20:4–54۔ (آیت) ” الرحمن “۔ میں یہ اشارہ آگیا کہ وہ وہ خدا ہے جس کی رحمت ورحمانیت کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ (آیت) ” استوی “۔ استواء کے معنی استیلاء کے ہیں اور خود استیلاء سے مراد اقتدار واختیار ہے اور جو شبہات عام طور پر آیت پر وارد ہوتے ہیں، اس مفہوم کے لینے سے سب کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ انا اذا فسرنا الاستیلاء بالاقتدار زالت ھذہ المطاعن کلھا (کبیر) عرش اور استوی دونوں پر حاشیے سورة اعراف پارہ 8 میں گزر چکے۔ (آیت) ” خلق ..... العلی “۔ زمین و آسمان نہ کوئی خود آفریدہ مخلوق ہیں اور نہ خالق۔ بلکہ تمامتر اللہ ہی کی محتاج اپنے وجود دنیا میں ہیں۔ (آیت) ” سموت “۔ میں خود ہی بلندی کا مفہوم شامل ہے۔ صفت علا لاکر اور اس کی تاکید اور ذہن کی اس طرف تنبیہ مقصود ہے۔
Ayah 20:65۔ یعنی ساری کائنات میں مکانی حیثیت سے جہاں کہیں بھی کوئی شے ہے سب اس کی مملوک ہے۔ (آیت) ” تحت الثری “۔ ثری تو وہ گیلی مٹی ہے جو خود ہی سطح زمین کے نیچے ہے۔ الثری فی اللغۃ التراب الندی (کبیر) (آیت) ” تحت الثری “ اس سے بھی نیچے ہوئی۔ مقصود اللہ کی قدرت اور وسعت سلطنت کو بیان کرنا ہے۔ مشرک جاہلی قوموں نے (اور انہیں میں بعض قدیم مہذب ومتمدن قومیں بھی شامل ہیں) زمین کے نیچے کے الگ دیوی دیوتا مانے ہیں۔ ہمہ دان وہمہ بین خالق کا کلام اس شرک کی بھی تردید کو پیش نظر رکھے ہوئے ہے۔
Ayah 20:76۔ وہ ہمہ بین وہمہ دان تو مخفی اور مخفی در مخفی چیزوں کا بھی علم رکھتا ہے۔ سو پکار کر کہی ہوئی چیزوں کا علم اسے کیسے نہ ہوگا۔ گویا اصل کلام یوں ہوگا۔ وان یجھر بالقول فاعلم ان اللہ تعالیٰ یعلمہ فانہ یعلم السر واخفی فضلا عنہ (روح) (آیت) ” السر واخفی “۔ سر تو وہ ہے جسے انسان اپنے دل میں چھپائے رکھے اور اخفی وہ ہے جس کا علم خود اس کو بھی نہ ہو۔ السر مااسررت فی نفسک واخفی من ذلک مالم تحدث بہ نفسک (ابن جریر۔ عن سعید بن جبیر) السر ما حدث بہ العبد غیرہ فی خفی واخفی منہ ما اضمرہ فی نفسہ ممالم یحدث بہ غیرہ (جصاص عن ابن عباس ؓ اوپر بیان اس کی قدرت کا تھا۔ اب بیان علم کا ہورہا ہے کہ وہ بھی اسی طرح کا مل وہمہ گیر ہے۔
Ayah 20:87۔ (اعلی سے اعلی صفات و کمالات پر دلالت کرنے والے) بعض محققین کے نزدیک خود لفظ اسماء مرادف ہے صفات کے۔ جاء الاسم بمعنی الصفۃ (روح) خود قرآن مجید ہی میں ایک دوسری جگہ اسم صفت کے معنی میں آیا ہے۔ (آیت) ” وجعلوا للہ شرکآء، قل سموھم “۔ (رعد۔ 33) ملاحظہ ہو سورة بقرہ پ 1 میں (آیت) ” وعلم ادم الاسمآء کلھا “۔ پر حاشیہ۔ مطلب یہ ہوا کہ وہ اپنی ذات سے بالکل منفرد ہے گو اس کے اسماء صفاتی بکثرت ہوں۔ اے ھو واحد بذاتہ وان افترقت عبارات صفاتہ (مدارک)
Ayah 20:98۔ یعنی قصہ موسیٰ بھی سننے کے قابل ہے جو حکم ومعارف اور علوم توحید ونبوت سے پر ہے۔
Ayah 20:109۔ (اس وقت جب وہ مدین سے اپنی زوجہ محترمہ کو رخصت کرا کے مصر لارہے تھے، موسم سردی کا تھا، اور رات اندھیری تھی) (آیت) ” نارا “۔ مشرقی ممالک میں رات کو سفر کرنے کا یہی دستور عام ہے اور یہ دستور بھی عام ہے کہ سردی میں رات کو باہر آگ کے بڑے بڑے الاؤ جلا کر بیٹھتے ہیں۔ اندھیرے میں ان کی روشنی بڑی دور سے نظر آتی ہے۔ رانارا “۔ جو روشنی آپ نے دیکھی وہ آپ کو آگ ہی کی معلوم ہوئی۔ یہ ضرور نہیں کہ فی الواقع وہ آگ ہی رہی ہو۔ اہل لطائف کہتے ہیں کہ اس آیت میں اصل ہے صوفیہ کے مسئلہ تمثیل کی۔ موسیٰ کے سامنے نور قدیم، نار حادث کی شکل میں متمثل ہوا۔
10۔ یعنی میرے پیچھے پیچھے نہ آؤ میں اکیلا جاتا ہوں۔ (آیت) ” امکثوا “۔ صیغہ جمع ہے یہ بھی ممکن ہے کہ یہ محض تفخیم کے لیے ہو۔ اور مقصود اس سے اظہار عزت و تکریم ہو۔ جیسا کہ بعض کا خیال ہے۔ فقد یخاطب الواحد بلفظ الجماعۃ تفخیما (کبیر) لیکن اغلب یہ ہے کہ علاوہ زوجہ محترمہ کے کوئی چھوٹا سا قافلہ ساتھ ہو۔ جیسا کہ ابن حیان وغیرہ کی رائے ہے اور صیغہ جمع کا اطلاق حقیقت ہی پر ہو۔ وخاطب امرأتہ وولدیہ والخادم (بحر) والخطاب للمراۃ والولد والخادم (روح) روایت توریت سے بھی اسی آخری خیال کی تائید ہوتی ہے۔ آپ (علیہ السلام) جب چلے ہیں تو آپ کے ساتھ بکریوں کا گلہ بھی تھا۔ اور جب گلہ تھا تو کچھ گلہ بان بھی ضرور ہمراہ ہوں گے۔ ” تب اس نے گلے کو بیابان کے ایک طرف ہانک دیا اور خود پہاڑ حرب کے نزدیک آیا “۔ (خروج۔ 2: 1)
11۔ اندھیرے میں آپ لوگ راستہ بھی بھولے ہوئے تھے، خیال ہوا کہ الاؤ پر جانے سے راستہ کا بھی پتہ چل جائے گا۔ اور عجب نہیں کہ آگ بھی ہاتھ آجائے۔ ؛ صوفیہ کہتے ہیں کہ ممکن ہے صاحب کشف خود اپنے کشف کی حقیقت سے بیخبر ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ایک آگ کی سی روشنی مکشوف ہوئی اور وہ اسے متعارف آگ ہی سمجھے۔
Ayah 20:1112۔ (من جانب اللہ) اس آواز کی کیفیت وصفت سے متعلق بڑی بڑی بحثیں چھڑ گئی ہیں، لیکن قول حق مفسر تھانوی (رح) کا ہے :۔ ” اس نداء کی کیفیت وصفت نہ کہیں منصوص ہے نہ قیاس سے ادراک کی جاسکتی ہے۔ اس لیے تعیین بالتخمین رجم بالغیب ہے۔ البتہ یہ امر یقینی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یقین کے ساتھ یہ امر معلوم ہوگیا تھا کہ یہ نداء من جانب اللہ ہے۔ خواہ یہ یقین علم ضروری سے حاصل ہوا ہو یا کسی علم استدلالی ہے۔ واللہ اعلم “۔ تو ریت کی مسخ شدہ روایت یوں ہے۔ :” اس وقت خداوند کا فرشتہ ایک بوٹے میں سے آگ کے شعل میں اس پر ظاہر ہوا۔ اس نے نگاہ کی تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک بوٹا آگ میں روشن ہے اور وہ جل نہیں جاتا۔ تب موسیٰ نے کہا میں اب نزدیک جاؤں اور اس بڑے منظر کو دیکھوں کہ یہ بوٹا کیوں نہیں جل جاتا۔ جب خداوند نے دیکھا کہ وہ دیکھنے کو نزدیک آیا تو خدا نے اسے بوٹے کے اندر سے پکارا اور کہا کہ اے موسیٰ اے موسیٰ وہ بولا میں یہاں ہوں “۔ (خروج۔ 3: 2۔ 4)
Ayah 20:1213۔” خلع نعلین یا تو بوجہ ان کے غیر طاہر ہونے کے تھا یا اس لیے کہ مقام کا ادب ہو۔ یا اس لیے کہ مقام متبرک سے قدم بھی مس کرے کہ اس کی برکت زائد پہنچے۔ اور (آیت) ” انک بالواد “۔ الخ۔ ہر حال میں علت ہوسکتا ہے “۔ (تھانوی (رح) توریت میں تصریح ہے کہ یہ حکم مقام کے تقدس واحترام کی رعایت سے تھا۔” تب اس نے کہا یہاں نزدیک مت آ۔ اپنے پاؤں سے جوتا اتار۔ کیونکہ یہ جگہ جہاں تو کھڑا ہے مقدس زمین ہے “۔ (خروج۔ 3: 5) ہمارے ہاں کے بھی اکثر اکابر اسی طرف گئے ہیں۔ امرہ بذلک لان القوۃ تواضع وادب (بیضاوی) قیل انما امرہ بخلع نعلیہ تعظیما للبقعۃ (ابن کثیر) قال الاصم لان القوۃ ادخل فی التواضع وحسن الادب (روح) یحمل ذلک علی تعظیم البقعۃ من ان یطاھا الا حافیا لیکون معظما لھا وخاضعا عند سماع کلام ربہ (کبیر) لان القوۃ تواضع للہ (مدارک) اسرائیلی تہذیب میں جو تہ اتار دینا تعظیم و تکریم کا ایک معروف و متعارف طریقہ تھا۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔
14۔ (اور تقاضائے ادب یہی ہے کہ برہنہ پاداخل ہو) (آیت) ” طو ی۔ نام ہے اس میدان کا جو جزیرہ نمائے سینا میں کوہ سینا کے عین دامن میں واقع ہے۔ بیان لسبب ورد الامر بذلک من شرف البقعۃ وقدسھا (روح) صوفیہ کہتے ہیں، آیت میں اصل ہے مقامات مقدسہ کے ادب وتعظیم کی۔
Ayah 20:1315۔ (اپنی نبوت و رسالت کے لیے) اہل لطائف کہتے ہیں کہ تمہیدی مکالمہ کے بعد جب قلب موسوی قابل ومتحمل ہوگیا براہ راست تجلیات خداوندی کا، تو اب اس پر رسالت کے بار عظیم کی تفویض ہوئی۔
Ayah 20:1416۔ اس میں نماز کی غایت بیان کردی کہ اس سے اصل مقصود یاد الہی کو دل میں دل تازہ رکھنا ہے۔ معناہ اقم الصلوۃ لتذ کرنی فیھا (ابن جریر) لتذ کرنی (کشاف) اور یہی معنی مجاہد تابعی سے بھی منقول ہیں۔ (روح) اور واقعہ بھی یہی ہے کہ کسی کے دل پر اگر حاکم اعلی، ہمہ بین وہمہ دان حاکم کی ہمہ وقتی معیت وحاکمیت کا خیال اگر پوری طرح مستولی ہوجائے تو اس سے کوئی قصور سرزدہی کیوں ہونے پائے۔ آیت کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ میری یاد آنے پر نماز پڑھ لیا کرو۔ چناچہ یہیں سے بعض فقہاء نے قضاء صلوۃ فائتہ کا استنباط کیا ہے۔
Ayah 20:1517۔ توحید و رسالت ان دوعقائد کی تعلیم پچھلی آیت میں آچکی تھی۔ اب عقیدۂ معاد کا ذکر ہو رہا ہے اور یہی تینوں اصلی اور مرکزی عقائد ہیں دین الہی و شریعت خداوندی کے۔ آیت میں بیان قیامت کی غایت کا آگیا۔ وہ اسی ناسوتی زندگی کی تکمیل کے لیے ہے، نتائج کا ظہور پوری طرح اس محدود ومختصر دنیوی زندگی میں ہو نہیں پاتا۔ ظہور کامل کے لیے ایک یوم موعود کا پیش آنا بالکل مطابق عقل اور عین تقاضائے عدل ہے۔ جو لوگ عقیدۂ حشر کے منکر ہیں، حیرت ہوتی ہے کہ ان کے سطحی دماغ اس موجودہ زندگی کی محدودیت پر قانع کیسے ہوجاتے ہیں۔ (آیت) ” لتجزی “ کا تعلق (آیت) ” اتیۃ “۔ سے ہے (آیت) ” اکاد اخفیھا “۔ کا فقرہ درمیان میں بطور جملہ معترضہ کے آگیا ہے۔
Ayah 20:1618۔ یعنی کہیں تم کسی دشمن دین کی صحبت سے متاثر ہو کر فکر آخرت اور خیال عاقبت سے غافل نہ ہوجانا، موسیٰ (علیہ السلام) مقرب خاص ہیں اور اب پیغمبر بھی بن چکے ہیں، یہ ارشاد ان تک سے ہورہا ہے کہ کہیں تم دشمنان دین کی صبحت کا اثر نہ قبول کرلینا ورنہ خدائی قانون میں سزا تمہارے لیے بھی رکھی ہوئی ہے ! ہم دنیا داروں کیلئے تو رونگٹے کھڑے ہوجانے کا مقام ہے۔ محققین نے کہا ہے کہ آیت میں اباحت کا ابطلا ہے۔ نیز اس حقیقت کا اثبات کہ تکلیفات شرعیہ ہستی کا مل سے بھی ساقط نہیں ہوتیں۔
Ayahs 20:17–1819۔ سوال سے عجب نہیں جو یہ مقصد ہو کہ عصا کا عصا ہونا، اور اس کے مخصوص فوائد وخصائص حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذہن میں از سر نو تازہ ہوجائیں تاکہ پھر اس میں جو انقلاب امر الہی سے دیکھیں اس کا خارق ہونا اور زیادہ نمایاں ہوجائے فن تعلیم کے ماہر جو استاد ہوتے ہیں وہ بھی طلبہ سے اکثر سوال اسی غرض سے کرتے ہیں۔ اہل اشارات نے اس سے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ کاملین بھی اسباب کے ساتھ تمسک کرتے رہتے ہیں۔
Ayahs 20:19–2020۔ عصائے موسوی کا معجزہ توریت میں بھی درج ہے :۔” تب خدا نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا کہ یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ وہ بولا عصا۔ پھر اس نے کہا اسے زمین پر پھینک دے، اس نے زمین پر پھینک دیا اور وہ سانپ بن گیا “۔ (خروج 4: 2۔ 4) یہ واضح رہے کہ مصر میں جہاں موسیٰ (علیہ السلام) کو تبلیغ کرنا تھی، سانپ کی حیثیت ایک دیوتا کی تھی، اور اس کی پوجا ہوا کرتی تھی، ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔
Ayah 20:2121۔ یعنی یہ پھر سے عصا بنا جاتا ہے۔ اور تمہیں کوئی گزند نہ پہنچے گا۔ س۔ ” ابھی “ یعنی تمہارے اسے پکڑتے ہی۔ ایسے خوارق عادات انبیاء کی تاریخ میں کچھ نئے یا انوکھے نہیں۔ معجزہ میں پیغمبر کے کسی ذاتی کمال یا کوشش کو دخل نہیں ہوتا، بلکہ وہ تمامتر ایک فعل خدا وندی ہی ہوتا ہے۔ براہ راست اور بلاتوسط اسباب عادیہ۔ اس حقیقت کی خاص نظیر یہ عصا والا واقعہ بھی ہے۔ معجزہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا، اور آپ خود ہی اس سے ڈرے بھی ! ” موسیٰ (علیہ السلام) کا ڈرجانا بعض نے کہا ہے کہ طبعی ہے جو کسی طرح جلالت شان کے منافی نہیں، اور بعض نے کہا ہے کہ جو حادثہ مخلوق کی جانب سے ہو اس میں تو نہ ڈرنا کمال ہے جیسے ابراہیم (علیہ السلام) آتش نمرود سے نہیں ڈرے اور جو امر خالق کی طرف سے ہو اس میں ڈرنا ہی کمال ہے کہ وہ فی الواقع حق تعالیٰ سے ڈرنا ہے۔ جیسے ہوا تیز ہونے کے وقت جناب رسول اللہ ﷺ کا گھبراجانا حدیثوں میں آیا ہے۔ سو چونکہ اس تبدل میں مخلوق کا واسطہ نہ تھا اس سے ڈرگئے کہ یہ کوئی قہر الہی نہ ہو اور دوسری آیت میں انک من الامنین سے تسلی دینا اسی طرف مشیر ہے “۔ (تھانوی (رح) اور یہ تو قول بہرحال ثابت و روشن ہے کہ امور طبعی کاملین میں بھی باقی رہتے ہیں۔ توریت میں یہ صورت واقعہ یوں درج ہے :۔” اور موسیٰ اس کے آگے سے بھاگا، تب خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ اپنا ہاتھ بڑھا، اور دم پکڑ لے۔ اس نے ہاتھ بڑھایا اور اسے پکڑ لیا، وہ اس کے ہاتھ میں عصا ہوگا “۔ (خروج۔ 4: 4)
Ayah 20:2222۔ (ہماری قدرت اور تمہاری نبوت کی) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جو متعدد معجزات عطا ہوئے تھے، ان میں سے یہ دو معجزے شروع ہی سے عنایت ہوگئے تھے اور ان کا ذکر بھی خاص اہتمام سے کیا گیا ” یدبیضا “ جو ہمارے ہاں زبان زد ہے یہی مشہور معجزہ ہے۔ (آیت) ” من غیرسوا “۔ مراد یہ ہے کہ یہ ہاتھ کی سفیدی کوئی مرض وغیرہ کی صورت نہیں، قرآن کو تصریح کے ساتھ یہ ٹکڑ اس لیے کہنا پڑا کہ توریت والوں نے صورت واقعہ کو مسخ کرکے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو برص کا مریض ہی بنا دیا ! خود توریت کے الفاظ ہیں :۔” پھر خداوند نے اسے کہا کہ تو اپنا ہاتھ اپنی چھاتی پر چھپا کر رکھ، چناچہ اس نے اپنا ہاتھ اپنی چھپا کر رکھا، اور جب اس نے اسے نکالا تو دیکھا کہ اس کا ہاتھ برف کے مانند سفید ” مبروص “ تھا “ (خروج۔ 4: 6) اور بعد کے لوگوں نے اس پر اور اور روایات بھی اضافہ کردیں۔ (آیت) ” ایۃ اخری “۔ پہلا نشان وہ عصا کے سانپ بن جانے کا تھا۔ دوسرا نشان یہ ہوا۔
Ayah 20:2323۔ وہ ” بڑی نشانیاں “ کیا تھیں ؟ عام طور سے مراد دوسرے اور عظیم تر معجزات سے لی گئی ہے جو آپ کو بعد میں عطا ہوئے۔
Ayah 20:2424۔ فرعون یعنی بادشاہ مصر۔ اس پر توریت اور ساری تاریخوں کا اتفاق ہے کہ جو فرعون حضرت موسیٰ کا معاصر تھا، وہ متکبر، جابر وفاسق تھا، اور خدا کا اوتار تو بہرحال ہر فرعون مصر سمجھا ہی جاتا تھا۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔
Ayah 20:2525۔ (کہ تبلیغ میں انقباض اور مخالفت وتکذیب سے دل تنگی نہ ہو اور میں سفارت خداوندی اور رسالت کے بار عظیم کا تحمل پوری طرح کرسکوں) (آیت) ” صدری “۔ صدر کے لفظی معنی سینہ کے ہیں لیکن راغب نے ایک قول یہ نقل کیا ہے کہ قرآن مجید میں جہاں لفظ قلب یا صدر آیا ہے، وہاں مراد عضوجسمانی نہیں، بلکہ علم وعقل اور انسان کے سارے قوائے باطنی ہیں، اور اس آیت کی شرح میں لکھا ہے کہ مراد اس سے اپنے قوائے باطن کی اصلاح کی دعا کرنا ہے۔ ابن زید تابعی سے معنی جرأت وہمت کے منقول ہیں (ابن جریر) اور اور بھی سب نے یہاں صدر کے معنی مجاز ہی لیے ہیں۔ یعنی تحمل شدائد کا حوصلہ۔ اشرح الصدر بسطہ من رانی ومسکنۃ من جھۃ اللہ تعالیٰ منہ (روح) اس دعا سے ظاہر ہے کہ دعا اور توکل کامل میں کوئی منافات نہیں، بلکہ کاملین تو اور زیادہ دعا کی طرف رجوع کرتے رہتے ہیں۔
Ayah 20:2626۔ (کہ اسباب کا میابی جمع اور اسباب ناکامی رفع ہوتے جائیں)
Ayah 20:2727۔ اس لکنت زبان کے اسباب مختلف روایت ہوئے ہیں، بہرحال سبب طبعی کچھ بھی رہا ہو، لکنت ہے “۔ (خروج۔ 4: 10)
Ayahs 20:28–3228۔ توریت میں بھی یہ واقعات درج ہیں مگر محرف ومسخ شدہ شکل میں، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے حضرت ہارون (علیہ السلام) کو شریک کار کرنے کی درخواست کا کوئی ذکر توریت میں نہیں، حضرت ہارون (علیہ السلام) کا ذکر جہاں ہے بھی، بہ طور شریک نبوت نہیں بلکہ بحیثیت ترجمان اور نائب کے۔” تب خداوند کا غصہ پر بھڑکا اور اس نے کہا کیا نہیں ہے لاویوں میں سے ہارون تیرا بھائی ؟ میں جانتا ہوں کہ وہ فصیح ہے۔ اور دیکھ کہ وہ بھی تیری ملاقات کو آتا ہے اور تجھے دیکھ کے دل میں خوش ہوگا، اور تو اسے کہے گا اور اسے باتیں بتائے گا ...... اور وہ تیرے عوض لوگوں سے باتیں کرے گا۔ اور وہ وہاں وہی تیری زبان کی جگہ ہوگا اور تو اس کے لیے خدا کی جگہ ہوگا “۔ (خروج۔ 4: 14۔ 16) حضرت ہارون (علیہ السلام) کی فصاحت اور طلاقت لسانی مشہور ومسلم ہے، تو ریت کے اقتباس میں تو ابھی گزر ہی چکا کہ ” وہ فصیح ہے “۔ جیوش انسائیکلوپیڈیا میں بھی ذکر ان کے فصیح البیان ہونے کا ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا ہے کہ (آیت) ” واجعل لی وزیر “۔ الخ سے بھی کاملین کا تمسک اسباب کے ساتھ کرنا ثابت ہوتا ہے۔ ” معاون مانگنے میں اہل کی تخصیص شاید اس لیے ہو کہ ان کو طبعی الفت بھی زائد ہوگی، ان سے زیادہ معاونت ہوسکتی ہے “۔ (تھانوی (رح)
Ayahs 20:33–3429۔ دو آدمی مل کر تبلیغ و دعوت کا کام قدرۃ زیادہ قوت سے اور تسبیح وتذکیر کا کام بہتر طریق پر کرسکتے ہیں، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ دونوں آیتوں میں دلالت ہے اس پر کہ اسباب سے بھی اکابر کا قصد دین اور استعانت فی الدین ہی ہوتا ہے۔
Ayah 20:3530۔ (اور ہماری احتیاج سے خوب واقف ہیں)
Ayahs 20:36–3731۔ یعنی اب کی تمہاری درخواست پر کیوں نہ تمہارے ساتھ لطف ونوازش کا معاملہ ہوگا۔ تمہارے ساتھ تو ہمارا یہ معاملہ بلاتمہاری خواہش و درخواست کے ایک بار بہت پہلے ہوچکا ہے۔
Ayah 20:3832۔ (اپنی اہمیت کی بناء پر) یہ وحی، وحی نبوت نہ تھی، وحی الہام تھی، اور الہام غیر انبیاء کے لیے بھی جائز وثابت ہے۔ بعض مسیحی فاضلوں نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد ماجد عمران کا گھر لب دریا تھا۔ نیل اسی طرف سے بہتا ہوا فرعون کے محل کے نیچے سے گزرتا تھا، اور ایک وقت مقررہ پر دختر فرعون (قرآن نے اس کی تصحیح کرکے بتایا کہ نہیں بلکہ آسیہ زوجہ فرعون) کے حضور تک پہنچ جائے۔ عورتیں یوں بھی نرم دل اور ترس کھانے والی ہوتی ہیں پھر یہ بچہ تو ہے بھی اس قدر پیاری اور موہنی صورت والا۔ عجب کیا جو اس محترم خاتون کو اس پر رحم آجائے، اور خود فرعون پر بھی اگر اثر کسی کے کہنے سننے کا ہوسکتا ہے تو اسی خاتون محترم کا۔ بس یہی سوچ سمجھ مادر مہربان نے صورتحال کا صحیح اندازہ کرکے موسیٰ کو بجرے پر بٹھا، پہاڑ کے رخ چھوڑ دیا۔ اور نتیجہ بالآخر بالکل حسب مراد نکلا۔ یہ بیانات تاریخ پر نہیں بلکہ تمامتر ظن وتخمین پر مبنی ہیں۔ لیکن بالفرض صحیح ہوں جب بھی نفس واقعہ کے اعجازی پہلو پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ الہام الہی بہرحال الہام الہی ہی ہے خواہ بالکل مجمل اور براہ راست ہوا ہو یا تفصیلا یہ درمیانی زینے سب عقل کو سمجھا دیئے گئے ہوں۔
Ayah 20:3933۔ (اے موسیٰ (علیہ السلام) ! اور تمہیں محبوب بنا دیا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قدیم تذکرہ نویسوں کا بیان ہے کہ بڑے حسین و جمیل تھے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ توریت وانجیل دونوں میں یہی مذکور ہے :۔ ’ انہوں نے دیکھا کہ بچہ خوبصورت ہے “ (عبرانیون۔ 11: 23) ” موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوا جو نہایت خوبصورت تھا “ (اعمال۔ 7 : 20) (آیت) ” عدو لی وعدولہ “۔ فرعون کا مراد ہونا بالکل ظاہر ہے جو حق تعالیٰ کا بھی دشمن تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) کا بھی۔
34۔ سحر، نجوم، کہانت کے فنون اس زمانہ کے مہذب ومتمدن ملکوں میں اسی طرح پھیلے ہوئے تھے، جیسے آج مادی علوم وفنون ہیں۔ اور مصر تو ان قدیم فنون کا ایک مرکز خاص تھا۔ فرعون کو منجموں اور کاہنوں کے ذریعہ سے معلوم ہوگیا تھا کہ عنقریب اسرئیلی قوم میں ایک لڑکا ایسا پیدا ہوگا، جو فرعون اور حکومت فرعون کے زوال اقتدار کا سبب بنے گا، فرعون نے اسی وقت سے یہ حکم جاری کر رکھا تھا کہ اسرائیلیوں میں جو بھی لڑکا پیدا ہو اسی وقت ختم کردیا جائے۔ جب ولادت حضرت موسیٰ کی ہوئی تو آپ کی والدہ ماجدہ قدرتا بہت پریشان ہوئی، اس وقت آپ کو الہاما یہ تدبیر سمجھائی گئی کہ ایک صندوق لے کر اس میں بچے کو لٹا صندوق دریائے نیل میں بہا دیا جائے۔ نیل شاہی محل کے نیچے سے گزرا تھا اور دریا کا بہاؤ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مکان سے اسی رخ پر تھا۔ جب صندوق بہتا بہتا محل کے نیچے پہنچے گا، روک کر بچہ اس میں سے نکال لیا جائے گا اور بچہ کی صورت اتنی محبوب ہے کہ جو اسرائیل کش اور اپنے قصد ونیت کے لحاظ سے موسیٰ کش ہے، خود اسی سے موسیٰ کی پرورش کرائی جائے گی، اور اسی کو سبب و ذریعہ موسیٰ کی حیات وبقاکا بنایا جائے گا۔ توریت میں یہ واقعات ہیں۔ مگر حسب معمول محرف ومسخ شدہ شکل میں :۔” وہ عورت حاملہ ہوئی اور بیٹا جنی اور اس نے اسے خوبصورت دیکھ کر تین مہینے تک چھپا رکھا، اور جب آگے کو چھپا نہ سکی تو اس نے سرکنڈوں کا ایک ٹوکرا بنایا اور اس پر لاسا اور رال لگایا اور لڑکے کو اس میں رکھا اور اس نے اسے دریا کے کنارے پر جھاؤ میں رکھ دیا ....... تب فرعون کی بیٹی غسل کرنے کو دریا پر اتری اور اس کی سہیلیاں دریا کے کنارے پھرنے لگیں اس نے جھاؤ میں ٹوکرا دیکھ کر سہیلی کو بھیجا کہ اسے اٹھالائے جب اس نے اسے کھولا تو لڑکے کو دیکھا اور دیکھا وہ روتا ہے۔ اسے اس پر رحم آیا۔ اور بولی یہ کسی عبرانی کا لڑکا ہے “۔ (خروج۔ 2: 2۔ 6) (آیت) ” عینی “۔ میں اضافت تشریف واختصاص کے لیے ہے ورنہ اپنے عام معنی میں تو دنیا کی ساری ہی موجودات پروردگار عالم کی نگرانی میں رہتی ہے۔ ھذا الاختصاص للتشریف کا ختصاص عیسیٰ (علیہ السلام) بکلمۃ اللہ تعالیٰ والکعبۃ بیت اللہ (روح)
Ayah 20:4035۔ صندوق دریا میں بہا دینے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن بھی اجنبی اور انجان بن کر شاہی محل کی طرف چلیں کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ محل میں پہنچیں اور جب دیکھا کہ بچہ مچلا ہوا ہے تو خوش تدبری کے ساتھ اپنی اور ان کی ماں ہی کو رضاعت کے لیے بلوایا۔ توریت میں ہے :”۔ تب اس کی بہن نے فرعون کی بیٹی کو کہا کہ کہئے تو میں جا کے عبرانی عورتوں میں سے ایک دائی تجھ پاس لے آؤں تاکہ وہ تیرے لیے اس لڑکے کو دودھ پلائے فرعون کی بیٹی نے اسے کہا کہ جا وہ چھوکری گئی۔ اور لڑکے ماں کو بلایا فرعون کی بیٹی نے اسے کہا کہ اس لڑکے کو لے اور میرے لیے دودھ پلا۔ میں تجھے درماہہ دوں گی، اس عورت نے لڑکے کو لیا اور دودھ پلایا “۔ (خروج۔ 2: 7۔ 9) توریت میں ہے کہ ان صاحبزادی کا اسم مبارک مریم تھا۔ بہ قول بعض شارحین توریت کے یہ حضرت موسیٰ سے پندرہ سال بڑی تھیں۔
36۔ (قبطیوں یا فرعونیوں میں سے اتفاقیہ وبلاقصد) مفصل قصہ سورة قصص میں آئے گا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں دلالت ہے کاملین سے لغزش صادر ہونے پر اور اس پر بھی کہ اس کی ایک نئی شان ہوتی ہے۔
37۔ حضرت موسیٰ کو اس واقعہ قتل غیر عمد کے بعد فکر وتردودو طرح کا لاحق ہوا۔ ایک تو خوف عقاب الہی سو وہ خوف تو اس طرح دور ہوا کہ استغفار کی توفیق ہوئی اور اسے قبول کیا گیا۔ دوسرے خوف انتقام حکومت تو اس سے نجات یوں حاصل ہوئی کہ مصر سے مدین پہنچا دیا گیا۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ اکابر کی لغزش اگرچہ موجب عتاب ومواخذہ نہیں ہوتی مگر اس کے باوجود بھی ان پر ندامت غالب ہوتی ہے۔
38۔ اس درمیان میں جو کچھ بھی آفتیں، مصیبتیں پیش آئی ہوں سب آزمائشوں کے حکم میں داخل ہیں۔ ان تکلیفوں سے نجات دینا تو خیر لطف و عنایت ہے ہی باقی خود آزمائش بھی جواز دیا دیاد مدارج کا سبب بن جائے بجائے خود ایک رحمت ونوازش ہے۔
39۔ یعنی اس وقت پر جو تمہاری نبوت کے لیے معتین ومقدر ہوچکا تھا تم مدین سے پھر مصر لائے گئے۔ اے علی وفق الوقت الذی قدرتہ وعینتہ لتکلیمک واستنبائک بلاتقدیم ولا تاخیر عنہ (روح) (آیت) ” یموسی (علیہ السلام) “ مکالمہ خداوندی میں بار بار یاموسی، کا آنا رحمت واکرام کے لیے ہے۔