20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsسراج البیان

Ayah 20:1
Ayah 20:2

مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ Open ayah 20:2 in the Quran reader

قرآن ہم نے تجھ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ تو مشقت کھینچے ۔

Ayahs 20:3–4

اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰىۙ Open ayah 20:3 in the Quran reader

مگر جو ڈرے اس کے لئے نصیحت ہے (ف 1) ۔

تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰىؕ Open ayah 20:4 in the Quran reader

یہ اس کا اتارا ہوا ہے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا کیے ۔

(ف 1) سورة طہ مکی ہے اور عام مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی نبوت قصص اور توحید وحشر کا بیان ہے ۔ حضور ﷺ جب یہ خیال فرماتے کہ لوگ دعوت و ارشاد کی مساعی کو حقارت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں ، تو آپ کو قدرتا تکلیف محسوس ہوتی ، کیونکہ لوگوں کی گمراہی وضلالت سے آپ کو روحانی کوفت محسوس ہوتی ، آپ یہ چاہتے تھے کہ یہ سب لوگ اللہ تعالیٰ کی آغوش رحمت میں آجائیں ، اور جہنم کے عذاب سے بچ جائیں ، اس پر قرآن حکیم کی یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ قرآن کی آواز پر وہی لوگ لبیک کہیں گے جن کے دلوں میں خشیت الہی کا جذبہ موجزن ہے ، جو خدا سے ڈرتے ہیں اور جن میں قبول حق کی استعداد موجود ہے ، اس لئے آپ ان لوگوں کی محرومی اور بدبختی پر افسوس اور دکھ کا اظہار نہ کریں ، یہ ازلی محروم اور بدنصیب ہیں ۔
Ayahs 20:5–8

اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى Open ayah 20:5 in the Quran reader

وہ رحمن ہے ، عرش پر قائم ہے (ف 2) ۔

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰى Open ayah 20:6 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اور جو کچھ گیلی مٹی کے نیچے ہے سب اس کا ہے ۔

وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰى Open ayah 20:7 in the Quran reader

اور اگر تو پکار کر بولے ، تو وہ بھی اور اس سے بھی زیادہ مخفی بات کو جانتا ہے ۔

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى Open ayah 20:8 in the Quran reader

اللہ وہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اچھے نام اسی کے ہیں ۔

صفات ، حالات وشیؤن اور تائیدات : (ف 2) قرآن حکیم میں جو الفاظ اللہ تعالیٰ کے متعلق استعمال ہوئے ہیں ، ان کی تین قسمیں ہیں ، ایک وہ ہیں جو بطور صفات کے استعمال ہوتے ہیں جیسے علیم ، حکیم ، رب اور غفور ورحیم ، وغیرہا ، ایک وہ ہیں جو شؤن و حالات کی تشریح کے لئے آتے ہیں بطور صفت کے ان کا استعمال نہیں ہوتا ، جیسے لفظ استواء کہ یہ ایک خاص حالت اور شان پر دلالت کرتا ہے اس سے مقصود اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کو بیان کرنا نہیں ، یہی وجہ ہے کہ قرآن میں کہیں بھی بطور مستوی کے یہ لفظ نہیں آیا ہے ، اور احادیث میں بھی اللہ تعالیٰ کی صفات میں کہیں مستوی علی العرش کا لفظ موجود نہیں کریگا ایک حقیقت شرعی ہے اور اس پر ایمان لانا ضروری ہے ، مگر اس میں ایک حالت ہے جمال سرمدی کی اور ایک کیفیت سے توجہات ربوبیت کی ۔ تیسری قسم یہ ہوتی ہے کہ الفاظ متعمات کے طور پر استعمال ہوں اور بجائے خود ظاہری معنوں میں مقصود نہ ہوں ، جیسے ید ، وجہ ، یا عین کا لفظ کہ جب ان کا استعمال ہوتا ہے ، غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ معنے جو بیان کئے گئے ہیں ، یہ الفاظ ان میں تائید اور تتمیمہ پیدا کردیں ، مثلا ” بیدہ الملک “ اس سے غرض اس مفہوم کی تائید ہے کہ سب قسم کی بادشاہتیں ، اللہ کے قبضہ وقدرت میں ہیں ، یہ نہیں کہ اللہ کے لئے لفظ ید ثابت ہے ، اسی طرح وجہ کا لفظ اینما تولوا فثم وجہ اللہ میں بجائے خود مقصود نیں ، غرض اللہ کی وسعت علمی کو بیان کرنا ہے ، لفظ عین سے نگرانی و حفاظت کا مفہوم ظاہر کرنا مقصود ہے جیسے ارشاد ہے واصنع الفلک باعیننا ۔
Ayahs 20:9–11

وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 20:9 in the Quran reader

اور کیا تجھے موسیٰ (علیہ السلام) کی بات پہنچی ہے ؟ (ف 3) ۔

اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى Open ayah 20:10 in the Quran reader

جب اس نے آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے شاید میں اس میں سے تمہارے پاس انگارا لاؤں ، یا آگ کے پاس رستے کا پتہ پاؤں ۔

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ یٰمُوْسٰىؕ Open ayah 20:11 in the Quran reader

پھر جب اس کے پاس آیا تو پکارا گیا کہ اے موسیٰ !

(ف 3) رات کی تاریکی اور سردی میں آگ کی ضرورت محسوس ہوئی ، مگر جنگل اور سنسان زمین میں آگ کہاں ؟ بےچین تھے کہ دور سے شعلے اٹھتے معلوم ہوئے اہل و عیال سے کہا تم یہیں ٹھہرو ، میں جاتا ہوں ممکن ہے آگ کے چند انگارے لے آؤں اور ان سے تم بدن گرم کرسکو ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی آگ کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ، قرآن حکیم نے اس کی تفصیل نہیں بتائی ہے مفسرین کہتے ہیں ، اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) کی بیوی دردزہ سے جانکاہ حالت میں تھی ، غور فرمائیے جنگل میں جہاں ہمدردی اور اعانت کے لئے کوئی شخص موجود نہ ہو ، جہاں آگ تک میسر نہ ہو ، یہ وقت کس قدر نازل ہوجاتا ہے ، یہ وقت بہت گھبراہٹ اور اضطراب کا ہے مگر آپ بعد کی آیتوں میں دیکھئے گا کہ موسیٰ (علیہ السلام) سب کچھ بھول جاتے ہیں اور جلوہ ہائے لاہوت کی کرشمہ سازیوں میں مشغول ہوجاتے ہیں ۔
Ayah 20:12

اِنِّیْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىؕ Open ayah 20:12 in the Quran reader

میں تیرا رب ہوں سو تو اپنی دونوں جوتیاں اتار کہ تو مقدس وادی طوی (کہ ملک شام) میں ہے (ف 1) ۔

وادی طوی میں تجلیات : (ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) آگ لینے کے لئے آگے بڑھے ، اور ایک وادی میں پہنچ گئے ، جو تجلیات سے معمور تھی ، مخاطب کیا گیا ، کہ میں تمہارا رب ہوں ، جس نے تمہیں بلایا ہے قریب آؤ اور جوتا اتار دو ، یہ مقام پاک اور متبرک ہے ۔ موسی (علیہ السلام) جس چیز کو آگ سمجھے ، وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی تجلی تھی یعنی ایک صورت اظہار اور ایک عنوان شہود تصوف کی اصطلاح میں تجلی ایک جنگ ہے جس کے ماتحت اظہار وشہود کی مختلف نوعیں آجاتی ہیں ۔ تجلیات کی بڑی بڑی قسمیں یہ ہیں ۔ 1۔ عام کائنات میں حسن و جمال ، نظم وفسق افادہ اور شعور ۔ 2۔ مخصوص مقامات ارضی ومسماوی ہیں بین اور واضح ظہور ، 3۔ قلب مومن میں القاء ۔ 4۔ کلام وحی اور الہام ۔ 5۔ معجزات اور خوارق : یعنی اللہ تعالیٰ انسانی توجہات کو اپنی ذات پاک کی جانب متوجہ کرنے کیلئے جو بھی صورت اظہار اختیار کرے ، وہ تجلی ہے ۔
Ayahs 20:13–20

وَ اَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰى Open ayah 20:13 in the Quran reader

اور میں نے تجھے (ف 2) ۔ پسند کیا سو جو تجھے وحی کی جائے اسے سن ۔

اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ١ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ Open ayah 20:14 in the Quran reader

میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری ہی بندگی کر ، اور میری یاد کے لئے ہی نماز پڑھا کر ۔

اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى Open ayah 20:15 in the Quran reader

بیشک قیامت آنے والی ہے میں چاہتا ہوں کہ اس کو چھپاؤں ، تاکہ ہر کوئی اپنی کوشش کا بدلہ پائے ۔

فَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى Open ayah 20:16 in the Quran reader

سو تجھے قیامت (کے) فکر سے وہ شخص نہ روک دے جو اس پر ایمان نہیں رکھتا ، اور اپنی خواہش نفس کا تابع ہے ورنہ تو ہلاک ہوجائے گا ۔

وَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:17 in the Quran reader

اور اے موسیٰ (علیہ السلام) یہ تیرے داہنے ہاتھ میں کیا ہے ؟ ۔

قَالَ هِیَ عَصَایَ١ۚ اَتَوَكَّؤُا عَلَیْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِیْ وَ لِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى Open ayah 20:18 in the Quran reader

بولا ، یہ میری لاٹھی ہے ، میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں ، اور اپنی بکریوں پر اس سے پتے جھاڑا کرتا ہوں اور مجھے اس میں اور بھی فائدے ہیں ۔

قَالَ اَلْقِهَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:19 in the Quran reader

فرمایا اے موسیٰ (علیہ السلام) اسے پھینک دے ۔

فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِیَ حَیَّةٌ تَسْعٰى Open ayah 20:20 in the Quran reader

اس نے پھنک دیا وہ فورا دوڑتا سانپ بن گیا ،

(ف 2) یہاں سے تجلی بصورت الہام کا آغاز ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) میں نے تمہیں منتخب کرلیا ہے آئندہ سے تیرا دل میرے کلام کا مہبط ہے ، سنو ، اور توجہ سے سنو ۔ حل لغات : طوی : ملک شام میں ایک وادی کا نام ہے ، اسی کو وادی امین کہتے ہیں ۔ ” احترتک “۔ سے ظاہر ہے ، نبوت کا خلعت یونہی نہیں مرحمت فرمایا جاتا ، بلکہ اس کے لئے انتخاب اور اصطفا کی ضرورت ہے ، ابتدا ہی سے انبیاء (علیہم السلام) میں ایک قسم کا جو ہر قابلیت ہوتا ہے ، جو وقت مقررہ کے آجانے پر اظہار پذیر ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس وقت جب کہ ذہن وفکر کی ضروریات پختہ ہوجاتی ہیں ، مقام نبوت پر انبیاء کو فائز کرتے ہیں ، اور رشد وہدایت کے لئے دنیا میں بھیج دیتے ہیں ۔ موسی (علیہ السلام) عمر کی اس منزل میں پہنچ گئے ہیں ، جہاں نبوت کا بارگراں اٹھا لینا ضروری ہوتا ہے ، اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آؤ اور سنو ، تمہیں نبوت دی گئی ، پیغام یہ ہے کہ صرف میری عبادت کرو ، میری یاد میں نماز پڑھو ، قیامت کو مت بھولو ، مکافات عمل کا اصول پیش نظر رکھو ، ہر شخص کو اس کے اعمال کا برابر بدلہ ملے گا ، اور خواہشات نفس کی پیروی سے احتراز کرو ،
Ayahs 20:21–34

قَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْ١ٙ سَنُعِیْدُهَا سِیْرَتَهَا الْاُوْلٰى Open ayah 20:21 in the Quran reader

فرمایا ، اسے پکڑ لے اور خوف نہ کر ، ہم ابھی اس کو اس کی پہلی حالت پر پھیر دیں گے (ف 1) ۔

وَ اضْمُمْ یَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 20:22 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ اپنے بازو سے لگا ، وہ بغیر برائی سفید نکلے گا ، یہ دوسرا معجزہ ہے ۔

لِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰىۚ Open ayah 20:23 in the Quran reader

تاکہ ہم اپنے بڑے معجزوں میں سے تجھے کچھ دکھلائیں ،

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى۠ Open ayah 20:24 in the Quran reader

تو فرعون کی طرف چلا جا ، کہ ہو سرکش ہوگیا ہے ۔

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ Open ayah 20:25 in the Quran reader

بولا ، اے رب میرا سینہ کشادہ کر ،

وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:26 in the Quran reader

اور میرا کام آسان کر ۔

وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ Open ayah 20:27 in the Quran reader

اور میری زبان کی گرہ کھول دے ۔

یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪ Open ayah 20:28 in the Quran reader

کہ وہ میری بات سمجھیں ۔

وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْۙ Open ayah 20:29 in the Quran reader

اور میرے اہل میں سے میرے لئے ایک وزیر بنا ۔

هٰرُوْنَ اَخِیۙ Open ayah 20:30 in the Quran reader

میرا بھائی ہارون (علیہ السلام) ۔

اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْۙ Open ayah 20:31 in the Quran reader

اس سے میری کمر مضبوط کر ۔

وَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:32 in the Quran reader

اور اسے میرے کام میں شریک کر ۔

كَیْ نُسَبِّحَكَ كَثِیْرًاۙ Open ayah 20:33 in the Quran reader

تاکہ ہم تیری تسبیح کریں ۔

وَّ نَذْكُرَكَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 20:34 in the Quran reader

اور تجھے کثرت سے یاد کریں ۔

(ف 1) اللہ تعالیٰ نے پوچھا ، موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے ہاتھ میں کیا ہے ؟ مقصد یہ تھا کہ ان کو معجزات وخوارق سے آشنا کیا جائے ، اور ان کو بتایا جائے ، کہ تیرے عصا میں باطل کو نگل جانے کی پوری قوت موجود ہے ، موسیٰ (علیہ السلام) نے جو اس تخاطب و عنایت الہیہ سے لطف اندوز ہوچکے تھے سلسلہ کلام آگے بڑھانا چاہا ، عصا کے فوائد بیان کئے اور کہا اس میں کچھ اور بھی مصلحتیں ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) ۔ لٹھ کو ذرا زمین پر پھینک تو دو ۔ موسی (علیہ السلام) نے دیکھا کہ وہ خشک لکڑی کا لٹھ زندہ اور خوفناک سانپ کی شکل میں میں تبدیل ہوچکا ہے ، اس پر موسیٰ (علیہ السلام) ڈرے ارشاد ہوا گھبراؤ نہیں ، یہ پھر لٹھ ہوا جاتا ہے ۔ ایک اور معجزہ عنایت ہوا ، ہاتھ جو بغل میں دابا ، اور پھر نکالا ، تو بالکل براق اور چمکتا ہوا ۔ فرمایا ، جاؤ نبوت کی قوتوں سے مسلح ہو کر فرعون کا مقابلہ کرو جس نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے ، اور ان سے محبت ذلیل کام لیتا ہے ، لٹھ کا سانپ بن جانا ، اس حقیقت کی جانب اشارہ ہے کہ جس طرح بےجان اور بےروح لکڑی ہماری قدرتوں سے سانپ بن سکتی ہے اسی طرح بنی اسرائیل جو شاخ کہن کی طرح اب بالکل مردہ اور بےکار ہوچکے ہیں ہماری توجہات کی برکت سے دشمن کے مقابلہ میں افعی ثابت ہوں گے ، ہاتھ کا براق اور نورانی ہوجاتا کامیابی و کامرانی کا مژدہ ہے ۔ حل لغات : مارب : جمع ماربہ بمعنی حاجات ، ماخوذ ازادب بمعنی حاجت ، من غیر سوٓئ : یعنی ہاتھ کی سفیدی نور کی وجہ سے تھی برص کی وجہ سے نہیں ۔ جیسا کہ یہودی سمجھتے تھے ۔
Ayahs 20:35–38

اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا Open ayah 20:35 in the Quran reader

تو ہمارا حال دیکھتا ہے (ف 1) ۔

قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:36 in the Quran reader

فرمایا ، اے موسیٰ ! تیرا سوال تجھے ملا ۔

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْكَ مَرَّةً اُخْرٰۤىۙ Open ayah 20:37 in the Quran reader

اور ہم نے ایک اور دفعہ بھی تجھ پر احسان کیا تھا ۔

اِذْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ مَا یُوْحٰۤىۙ Open ayah 20:38 in the Quran reader

جب کہ ہم نے تیری ماں کو وہ وحی کی جو آگے سناتے ہیں ۔

موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا : (ف 1) جب نبوت مل چکی ، اور کام کی نوعیت بھی بتا دی گئی ، کہ فرعون سے مقابلہ ہے اس کی سرکشی اور طغیان کے خلاف جہاد ہے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے اس خاص باب میں توفیق اعانت چاہی فرمایا ، میرے سینہ کو انشراح وضاحت کے انوار سے بہرہ ورکر ، میرے کام میں آسانیاں بہم پہنچا ، زبان میں حلاوت وبلاغت پیدا کر ، کہ وہ بےحس دلوں کی گہرائیوں تک پہنچ سکے ، اور میرے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی میرا شریک کار بنا دے ، تاکہ ہم دونوں مل کر تیری تسبیح خوانی کریں ، تیرا پیغام بنی اسرائیل کے ہر فرد تک پہنچا دیں ، اے اللہ تو ہمارے حالات سے آگاہ ہے ، ہماری ضروریات کو جانتا ہے ، اس لئے اس خدمت جلیلہ کے لئے یہ میری استدعا ہے ، اللہ نے فرمایا یہ منظور ہے ، موسیٰ (علیہ السلام) تیری سب باتیں سن لی گئیں ، تمہیں یہ سب نعمتیں دیدی گئیں ، تم جاؤ ، اور بےباکانہ فرعون کے مظالم کا مقابلہ کرو ، موسی (علیہ السلام) کی اس دعا کے معنی یہ ہیں کہ ہر کام کے لئے اللہ کی توفیق اور اس کی اعانت ضروری ہے ، انبیاء (علیہم السلام) اور اللہ کے پاکباز بندے کبھی اس کی کرم فرمانیوں سے بےنیاز نہیں ہوسکتے ۔ اس دعا سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دعا میں اگر خلوص ہو ، دعا مانگنے والا اگر نیک کام کے لئے پوری توجہ کے ساتھ دعا مانگے ، اور صرف اللہ کو اپنا کارساز سمجھے ، تو وہ اس دعا کو ضرور قبول فرما لیتا ہے اور اطمینان کے لئے دن میں ڈال دیتا ہے کہ دعا قبول ہوگی ۔ دعا بجائے خود ایک عبادت ہے ، ایک لذت ہے ، محبوب سے کچھ مانگنا ہے ، اور کامیابی و کامرانی کا یقین ہے ، اور وہ لوگ جو اس لذت سے شاد کام ہیں ، وہ قبول اور عدم قبول سے بھی بےپروا ہوجاتے ہیں ، ان کا مقصد تو یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کے ساتھ اپنے نیاز مندانہ تعلقات قائم رکھیں ، اور بہرحال اپنی احتیاج اور اس کے غناء کو محسوس کرتے ہیں ، بھیک ملے یا نہ ملے ، انکا نصب العین مانگنا ہے اور اس کیف سے سرور حاصل کرنا ہے کہ اس محبوب حقیقی سے ایک نسبت خاص قائم ہے ادریس ۔ حل لغات : وزیرا : مضبوط معاون ، زور دار شریک کار ۔ سؤل : سوال ، مطالبہ ۔ ان اقذفیہ : قذف سے ہے ، بمعنی ڈال دیتا ، پھینک دینا ۔