20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 20:1–2

مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ Open ayah 20:2 in the Quran reader

(اے محبوب ﷺ) ہم نے تم پر یہ قرآن اس لئے نہیں اتارا ہے کہ تم مشقت میں پڑو

خواص سورة طٰہ : اکیس مرتبہ اس سورت کو پڑھنا لڑکیوں کے نکاح کے واسطے نہایت مفید ہے رشتہ جلد پیدا ہوجائے گا ۔ اس سورة کو زعفران ومشک سے طشتری پر لکھ کر پینے سے حاکم کے روبرو روز بروز مرتبہ مرتبہ بڑھتا رہے گا۔ شان نزول : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب تہجد کی نماز فرض ہوئی تو اللہ کے رسول ﷺ تہجد کی نماز میں یہاں تک کھڑے رہتے تھے کہ آپ کے قدم مبارک پر ورم آجاتا تھا۔ آپ کا یہ حال دیکھ کر مکہ کے مشرک لوگ کہتے تھے :” یہ قرآن محمد ﷺ کو محنت ومشقت میں ڈالنے کے لئے اتارا گیا ہے “۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی اس بات کے جواب میں یہ آیت نازل فرمائی کہ اے محبوب ﷺ ! یہ قرآن اللہ تعالیٰ نے تم پر تکلیف اٹھانے کے لئے نہیں اتارا، بلکہ یہ قرآن تو ان لوگوں کی نصیحت کے لئے اتارا ہے جن کے دل میں آخرت کے عذاب کا ڈر نہیں ہے۔ وہ مسخراپن سے ایسی باتیں کرتے ہیں کہ قرآن تم کو اور مسلمانوں کو محنت ومشقت میں ڈالنے کے لئے اترا ہے۔ یہ منکر لوگ قیامت کے دن نیک کام والوں کی محنت ومشقت کے اجر کے دیکھیں گے تو پچھتاویں گے کہ انہوں نے یہ محنت ومشقت کیوں نہیں اٹھائی۔ خدا بڑا صاحب قدرت ہے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔
Ayahs 20:3–6

اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰىۙ Open ayah 20:3 in the Quran reader

بلکہ اس شخص کی نصیحت کے لئے اتارا ہے جو (اللہ سے) ڈر رکھتا ہو

تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰىؕ Open ayah 20:4 in the Quran reader

یہ اس کی طرف سے اتارا ہوا ہے کہ جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا

اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى Open ayah 20:5 in the Quran reader

وہ بڑی رحمت والا عرش پر جلوہ گر ہوا (جیسا اس کی شان کے لائق کے)

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰى Open ayah 20:6 in the Quran reader

اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ کہ زمین میں ہے اور جو کچھ کہ ان کے درمیان ہے اور جو کچھ اس گیلی مٹی کے نیچے ہے

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ آسمان سے لے کر ساتویں کے نیچے تک سب کچھ اللہ کے قبضہ اور اختیار میں ہے۔ علم اس کا ایسا وسیع ہے کہ آدمی کے دل میں جو بات آچکی ہے یا آنے والی ہے، یہ سب اس کو معلوم ہے۔ ایسے معبود کی تعظیم میں جو دوسروں کو شریک کرتے ہیں، وہ بڑے نادان ہیں۔ مشرکین مکہ کو جب اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی باتیں سمجھائی جاتی تھیں تو وہ مشرک مسلمانوں سے کہتے تھے کہ تم بھی تو کبھی اللہ، کبھی رحمان، کبھی رحیم، کہہ کر دعائیں مانگتے ہو۔ پھر اللہ کو وحدہ لاشریک بھی کہتے ہو۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ اس ایک ذات کی بہت سی صفتیں ہیں۔ ان صفتوں کے موافق اس کے بہت سے نام ہیں۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اللہ کے ایک کم سو نام ہیں۔ جو شخص ان کو یاد کرلے گا وہ جنت میں داخل ہوگا “
Ayahs 20:7–9

وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰى Open ayah 20:7 in the Quran reader

اور اگر تم پکار کر بات کہو تو وہ جانتا ہے چھپے بھید کو اور اس سے زیادہ چھپے بھید کو بھی

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى Open ayah 20:8 in the Quran reader

وہ اللہ کہ جس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، اسی کے سب نام اچھے ہیں

وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 20:9 in the Quran reader

اور کیا تمہیں موسیٰ کی خبر آئی ہے

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ شعیب (علیہ السلام) سے اجازت لے کر جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے مصر کو اپنی ماں اور اپنے بھائی ہارون سے ملنے کے لئے آرہے تھے، تو اس سفر میں ان کی بی بی بھی ان کے ساتھ تھیں۔ زنانے کے ساتھ کے سبب سے موسیٰ (علیہ السلام) راتوں کو راستہ چلتے تھے۔ وہ سخت جاڑے کا موسم تھا۔ برف کے پڑنے سے ایک رات بڑی سردی ہوئی، اور اتفاق سے اس رات کو موسیٰ (علیہ السلام) راستہ بھی بھول گئے تھے۔ اسی حالت میں طور پہاڑ کی داہنی طرف کچھ آگ کی سی روشنی دکھائی دی۔ اس روشنی کو دیکھ کر انہوں نے اپنی بی بی سے کہا کہ تم یہاں ٹھہری رہو، میں جہاں آگ کی روشنی ہے ، وہاں جا کر آگ لے آتا ہوں۔ اور آگ کے پاس کوئی آدمی ملا تو اس سے راستہ بھی پوچھ لوں گا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) آگ کے پاس گئے تو ان کو آواز آئی کہ اے موسیٰ ! میں تمہارا رب ہوں ۔ تم طویٰ نام کے پاک میدان میں ہو۔ اس لئے تم اپنی جوتیاں اتار ڈالو، اور اللہ تعالیٰ نے تم کو نبوت کے لئے پسند کیا ہے۔ اس واسطے تم کو جو حکم دیا جاتا ہے اس کو سنو۔ وہ حکم یہ ہے کہ سوائے اللہ کے اور کوئی معبود نہیں ہے، اسی کی عبادت کیا کرو، اور اس کی یاد قائم رکھنے کے لئے نماز پڑھا کرو۔ اور یاد رکھو کہ دنیا نیک وبد کے امتحان کے لئے پیدا کی گئے ہے۔ اس واسطے نیکی وبدی کی جزا وسزا کے واسطے قیامت ایک روز ضرور آنے والی ہے۔
Ayahs 20:10–17

اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى Open ayah 20:10 in the Quran reader

جب کہ اس نے ایک آگ دیکھی تو اپنی بی بی سے کہا کہ تم یہاں ٹھہرو مجھے آگ دکھائی دی ہے امید ہے کہ میں اس میں سے تمہارے پاس کوئی چنگاری لاؤں یا (وہاں) آگ کے پاس راستہ کا پتہ پاؤں

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ یٰمُوْسٰىؕ Open ayah 20:11 in the Quran reader

پس جب وہ آگ کے پاس آئے تو آواز دی گئی کہ اے موسیٰ

اِنِّیْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىؕ Open ayah 20:12 in the Quran reader

بیشک میں تمہارا پروردگار ہوں ، پس تم اپنی جوتیاں اتار ڈالو بیشک تم ایک پاک میدان میں ہو جس کا نام طویٰ ہے

وَ اَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰى Open ayah 20:13 in the Quran reader

اور میں نے تم کو (نبی بنانے کے لئے) منتخب فرمایا ہے پس جو کچھ تم کو وحی کی جاتی ہے غور سے سنو

اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ١ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ Open ayah 20:14 in the Quran reader

بیشک میں ہی اللہ ہوں کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ، تو میری ہی عبادت کرو اور میری ہی یاد کے لئے نماز قائم رکھو

اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى Open ayah 20:15 in the Quran reader

بیشک قیامت آنے والی ہے۔ چاہتا ہوں کہ میں اس کے وقت کو سب سے چھپاؤں کہ ہر جان کو اس کی کوشش کا بدلہ دیا جائے

فَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى Open ayah 20:16 in the Quran reader

پس ہرگز تم کو اس کے یقین لانے سے وہ باز نہ رکھے جو شخص اس کے وقت کے ظہور پر ایمان نہیں رکھتا ہے اور اپنی خواہش نفس کی پیروی کرتا ہے پھر تم ہلاک ہو جاؤ

وَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:17 in the Quran reader

اور اے موسیٰ ! یہ تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا چیز ہے ؟

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معجزے ملنے کا ذکر حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے جب اللہ تعالیٰ نے پوچھا :” اے موسیٰ ! تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا چیز ہے “ ؟ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا :” یہ میرے ہاتھ کی لکڑی ہے۔ میں اس پر ٹیک لگایا کرتا ہوں، اور اس سے اپنی بکریوں کے واسطے پتے جھاڑا کرتا ہوں، اور میرے لئے اس میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں “ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی لکڑی کا حال بیان کرچکے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا :” موسیٰ ! تم اس لکڑی کو زمین پر ڈال دو “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو زمین پر ڈال دیا، اور ڈالتے ہی اس لکڑی کا سانپ بن کر دوڑنے لگا۔ یہ حالت دیکھ کر موسیٰ ڈر گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :” ڈرو نہیں ! اس سانپ کو پکڑ لو، پھر وہ سانپ سے لکڑی ہوجائے گی “ اب آگے اللہ تعالیٰ نے دوسرے معجزے کی تدبیر بتلائی کہ موسیٰ تم اپنے ہاتھ کو بغل میں دبا کر نکالو، اور پھر دیکھو تمہارے ہاتھ سفید ہوں گے اور اس میں سورج کی سی روشنی ہوجائے گی۔ یہ سفیدی برص کی بیماری کی طرح نہ ہوگی، بلکہ جب تم چاہو گے سفیدی جاتی رہے گی۔ یہ تمہارا دوسرا معجزہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے قدرت دکھانے کے لئے تم کو یہ دو بڑے معجزے دیئے ہیں۔ اب تم مصر میں فرعون کے پاس جاکر تبلیغ کرو، موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے گھر میں پرورش پائی تھی، تو وہ فرعون کے رعب کا حال خوب دیکھ چکے تھے۔ اس لئے فرعون کے پاس جانے کا حکم سن موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ دعا کی کہ یا اللہ ! تو اپنی رحمت سے میرا دل ایسا کھول دے کہ میں بےدھڑک تیرا پیغام فرعون کو پہنچا دوں۔ تو اپنی قدرت سے اس کو آسان کر دے۔ میری زبان میں لکنت ہے، اس کو ٹھیک کر دے۔ تاکہ فرعون اور اس کی قوم کے لوگ میری بات کو اچھی طرح سمجھیں ۔ جس طرح اپنی رحمت سے مجھ کو پیغمبر بنایا ہے، اسی طرح میرے بھائی ہارون کو نبوت دے کر میرا مدد گار بنا دے۔ تاکہ اس کے شکریہ میں ہم دونوں بھائی ہر وقت تری یاد میں لگے رہیں۔ ہماری حالت کچھ تجھ سے چھپی نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو اس دعا کے جواب میں فرمایا :ـ” تمہاری دعا قبول ہوگئی۔ تمہاری دعا کے موافق سب باتیں تم کو مل جائیں گی “ جب موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے گھر میں پرورش پا رہے تھے، تو فرعون کی بیوی آسیہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک دن فرعون کی گود میں دے دیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی داڑھی نوچ ڈالی۔ اس سے فرعون کو اپنے خوب کی وہ تعبیر یاد آئی جو نجومیوں نے بتلائی تھی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا ایسا پیدا ہوگا جو فرعون کا دشمن ہوگا، اور اس کے ہاتھ سے فرعون کی سلطنت کو زوال آئے گا۔ یہ تعبیر یاد کر کے فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے مار ڈالنے کا قصد کیا۔ آسیہ نے فرعون کو اس قصد سے روکا اور کہا کہ اتنے چھوٹھے بچے بلکل ناسمجھ ہوتے ہیں، تم کو میری بات کا یقین نہ ہو تو ایک رکابی میں آگ کے انگارے، اور دوسری میں کچھ جواہرات منگوا کر اس بچے کے سامنے رکھو، اور دیکھو تو یہ کون سی رکابی میں ہاتھ ڈال دیتا ہے۔ جب یہ رکابیاں آئیں تو موسیٰ (علیہ السلام) جواہرات کی رکابی میں ہاتھ ڈالنا چاہتے تھے، لیکن حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے ادھر سے موسیٰ (علیہ السلام) کا ہاتھ کھینچ کر انگاروں کی رکابی میں ڈال دیا، اور ایک انگارا موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ میں دے کر وہی ہاتھ ان کے منہ میں دے دیا، جس سے ان کی زبان جل گئی اور اس میں لکنت آگئی۔ صحیح بخاری میں سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا :” میری نبوت کے زمانہ میں تمہارا وہی مرتبہ ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت میں ہارون کا تھا۔ فقط اتنا ہی فرق ہے کہ ہارون نبی تھے اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے “۔
Ayahs 20:18–37

قَالَ هِیَ عَصَایَ١ۚ اَتَوَكَّؤُا عَلَیْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِیْ وَ لِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى Open ayah 20:18 in the Quran reader

انہوں نے کہا ” یہ میری لاٹھی ہے میں (کبھی) اس پر سہارا لگایا کرتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے واسطے پتے جھاڑا کرتا ہوں اور میرے لئے اس میں اور بھی فائدے ہیں “

قَالَ اَلْقِهَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:19 in the Quran reader

فرمایا :” اے موسیٰ ! اس کو ڈال دو “

فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِیَ حَیَّةٌ تَسْعٰى Open ayah 20:20 in the Quran reader

پس موسیٰ نے اس کو ڈال دیا تو یکایک وہ (خدا کی قدرت سے) دوڑتا ہوا سانپ ہو گیا

قَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْ١ٙ سَنُعِیْدُهَا سِیْرَتَهَا الْاُوْلٰى Open ayah 20:21 in the Quran reader

فرمایا :” اس کو پکڑ لو اور مت ڈرو، ہم تو اس کو ابھی اس کی پہلی حالت پر کردیں گے

وَ اضْمُمْ یَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 20:22 in the Quran reader

اور تم اپنا (داہنا) ہاتھ اپنی (بائیں) بغل میں ملا لو (پھر نکالو) تو وہ بلا کسی عیب (یعنی بلا کسی مرض وغیرہ) کے نہایت سفید نکلے گا، یہ دوسری نشانی ہے

لِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰىۚ Open ayah 20:23 in the Quran reader

چاہتے ہیں کہ ہم اپنی (قدرت کی) بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى۠ Open ayah 20:24 in the Quran reader

(اب یہ نشانیاں لے کر) تم فرعون کے پاس جاؤ ۔ وہ بہت حد سے گزر گیا ہے “

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ Open ayah 20:25 in the Quran reader

عرض کی :” اے میرے پروردگار ! میرے لئے میرا سینہ کھول دے

وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:26 in the Quran reader

اور میرا یہ کام (تبلیغ کا) میرے لئے آسان فرما دے

وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ Open ayah 20:27 in the Quran reader

اور میری زبان کی گرہ کھول دے

یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪ Open ayah 20:28 in the Quran reader

تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں

وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْۙ Open ayah 20:29 in the Quran reader

اور میرے گھر والوں میں سے میرے لئے ایک وزیر مقرر کر دے

هٰرُوْنَ اَخِیۙ Open ayah 20:30 in the Quran reader

میرے بھائی ہارون کو

اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْۙ Open ayah 20:31 in the Quran reader

اس کے ذریعہ سے میری قوت مضبوط کردے

وَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:32 in the Quran reader

اور ان کو میرے (اس تبلیغ کے) کام میں شریک کر دے

كَیْ نُسَبِّحَكَ كَثِیْرًاۙ Open ayah 20:33 in the Quran reader

تاکہ ہم خوب کثرت سے تیری پاکی بیان کریں

وَّ نَذْكُرَكَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 20:34 in the Quran reader

اور تیری بہت یاد کریں

اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا Open ayah 20:35 in the Quran reader

بیشک تو ہمارے حال کا دیکھنے والا ہے “

قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:36 in the Quran reader

فرمایا :” اے موسیٰ ! تمہاری درخواست منظور کی گئی

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْكَ مَرَّةً اُخْرٰۤىۙ Open ayah 20:37 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے تم پر ایک بار اور احسان کیا

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور اللہ تعالیٰ کے احسانات حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اوپر نبوت اور معجزوں کے احسانات کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! اللہ کے احسانات کچھ اسی پر منحصر نہیں کہ اس نے تم کو نبی کیا معجزے دیئے، بلکہ تم پر اس کے یہ احسانات بھی ہیں کہ بنی اسرائیل کے لڑکوں کے قتل کئے جاتے وقت جب تمہاری پیدائش ہوئی، تو تمہاری جان کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمہاری ماں کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ دودھ پلانے کے بعد وہ تم کو ایک صندوق میں لٹا کر نیل کے دریا میں وہ صندوق بہا دے۔ اس دریا سے ایک بڑی نہر نکل کر فرعون کے محل میں گذرتی تھی۔ فرعون مع اپنی بی بی آسیہ کے نہر کے کنارے پر بیٹھا تھا۔ نہر میں صندوق آتا دیکھ کر اس نے غلاموں اور کنیزوں کو اس کے نکالنے کا حکم دیا۔ وہ صندوق نکال کر سامنے لایا گیا۔ کھولا گیا تو اس میں نورانی شکل فرزند، جس کی پیشانی سے وجاہت واقبال کے آثار نمودار تھے، نظر آیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں تمہاری ایسی محبت ڈال دی کہ وہ تمہارے پالنے کو تیار ہوگئے۔ اور اللہ کے حکم سے جب تم نے کسی غیر آیا کا دودھ نہ پیا تو تمہاری بہن نے تمہاری ماں کا در پردہ پتہ دیا۔ غرض اس تدبیر سے اللہ تعالیٰ نے تم کو تمہاری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ تمہارے دیکھنے سے تمہاری ماں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ اور تمہاری جدائی کا غم تمہاری ماں کے دل سے جاتا رہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسانی تدبیر سے تقدیر کا لکھا نہیں ٹل سکتا۔ اپنی تدبیر کے موافق فرعون نے بنی اسرائیل کے ہزاروں لڑکے قتل کروا دیئے، مگر تقدیر الہی کے موافق اس نے جو خواب دیکھا تھا آخر اس کا ظہور ہو کر رہا۔
Ayahs 20:38–40

اِذْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ مَا یُوْحٰۤىۙ Open ayah 20:38 in the Quran reader

جب ہم نے الہام کیا تمہاری ماں کی طرف جو کچھ الہام کرنا تھا

اَنِ اقْذِفِیْهِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْهِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِهِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّیْ وَ عَدُوٌّ لَّهٗ١ؕ وَ اَلْقَیْتُ عَلَیْكَ مَحَبَّةً مِّنِّیْ١ۚ۬ وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَیْنِیْۘ Open ayah 20:39 in the Quran reader

کہ اس بچہ (یعنی موسیٰ ) صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دو ، تاکہ دریا اس کو (مع صندوق کے ک) کنارے پر ڈالے کہ اس کو میرا اور اس کا دشمن (فرعون) اٹھا لے، اور (اے موسیٰ ! علیہ السلام) ہم نے تم پر اپنی طرف کی محبت ڈالی ( کہ جو دیکھے محبت کرے) اور اس لئے کہ تم میری نگاہ کے سامنے پرورش پاؤ

اِذْ تَمْشِیْۤ اُخْتُكَ فَتَقُوْلُ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى مَنْ یَّكْفُلُهٗ١ؕ فَرَجَعْنٰكَ اِلٰۤى اُمِّكَ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ١ؕ۬ وَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّیْنٰكَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا١۫۬ فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ١ۙ۬ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ یّٰمُوْسٰى Open ayah 20:40 in the Quran reader

جبکہ تمہاری بہن چلی تھی، پس کہتی تھی :” میں ت میں وہ لوگ بتاؤں جو اس بچہ کو اچھی طرح پرورش کریں “ پھر (اس تدبیر سے) ہم تم کو تمہاری ماں کے پاس پھیر لائے تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کرے۔ اور اے موسیٰ ! ( علیہ السلام) تم نے ایک (قطبی) کو مار ڈالا تھا، پھر ہم نے تم کو اس غم سے نجات دی اور ہم نے تم کو خوب جانچ لیا۔ پس تم کئی برس مدین کے لوگوں میں رہے۔ پھر اے موسیٰ ! موافق تقدیر الہیٰ کے (یہاں) آئے

فرعون کی ہلاکت کا ذکر ان آیتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک اور واقعہ کا ذکر فرمایا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی قوم کے ایک کافر قطبی کو مارا تھا، وہ مرگیا۔ کہا گیا ہے کہ اس وقت آپ کی عمر بارہ سال کی تھی۔ اس واقعہ پر آپ کو فرعون کی طرف سے اندیشہ ہوا تو مدین ایک شہر جو مصر سے آٹھ منزل کے فاصلے پر ہے، یہاں حضرت شعیب (علیہ السلام) رہتے تھے، کے پاس آئے۔ اور کئی برس تک حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس رہے، اور ان کی صاحبزادی صفوراء کے ساتھ آپ کا نکاح ہوا۔ اب موسیٰ (علیہ السلام) کی عمر چالیس برس کی ہوگئی۔ اور نبوت کے ملنے کا زمانہ قریب آگیا۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں مصر کا ارادہ پیدا کیا۔ اور راستہ میں جس طرح نبوت ملی اس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔