20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 20:41–42

وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِیْۚ Open ayah 20:41 in the Quran reader

اور میں نے تم کو خاص اپنے لئے پسند کر لیا

اِذْهَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْكَ بِاٰیٰتِیْ وَ لَا تَنِیَا فِیْ ذِكْرِیْۚ Open ayah 20:42 in the Quran reader

تم اور تمہارے بھائی دونوں میری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد کرنے میں سستی نہ کرنا

ان آیتوں میں موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون کو فرعون کی ہدایت کے لئے جانے کا حکم ہوا۔ اور فرمایا کہ فرعون سے نرم لفظوں سے بات چیت کرنا۔ کیونکہ سخت بات سے آدمی کو غصہ آجاتا ہے۔ جس کے سبب سے سمجھ میں آتی ہوئی بات کو بھی آدمی نہیں سمجھتا۔ صحیح بخاری ومسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو پہلے مہلت دیتا ہے، جب مہلت کے زمانہ میں وہ اپنی نافرمانی سے باز نہیں آتے تو کسی سخت عذاب میں ان کو پکڑ لیتا ہے “ اللہ نے اپنی عادت کے موافق فرعون اور اس کی قوم کو بہت بڑی مہلت دی ، اور اس زمانہ میں دو بنی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) ان لوگوں کی فہمائش کے لئے بھیجے، اور مع اپنی نشانیوں کے بھیجے۔ اور ان نبیوں نے نرم لفظوں سے ہدایت بھی کی۔ ان نبیوں نے ہدایت کے موافق عمل بھی کیا، لیکن فرعون کی سرکشی دن بدن بڑھتی گئی۔ تو آخیر کو فرعون اور اس کی قوم کو دریائے قلزم میں ڈبو کر ہلاک کردیا۔
Ayahs 20:43–45

اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰىۚۖ Open ayah 20:43 in the Quran reader

دونوں فرعون کی طرف جاؤ بیشک وہ حد سے گزر گیا ہے

فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى Open ayah 20:44 in the Quran reader

پس اس سے (جاکر) نرمی سے بات کرنا، شاید وہ نصیحت قبول کرے یا کچھ ڈرے “

قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ اَوْ اَنْ یَّطْغٰى Open ayah 20:45 in the Quran reader

دونوں نے عرض کی کہ اے پروردگار ! ہمارے بیشک ہم ڈرتے ہیں کہ وہ ہم پر زیادتی کرے یا شرارت سے پیش آئے

فرعون بڑا ظالم بادشاہ مشہور تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ سے ایک فرعونی مارا گیا تھا۔ اس کا خوف بھی تھا کہ فرعون دیکھے گا تو بدلہ ضرور لے گا۔ اس سبب سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مل کر خدا سے دعا کی کہ ” یا اللہ ! فرعون ہم پر کوئی زیادتی نہ کرنے پائے “۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تسکین فرمائی کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، ہر وقت تمہاری اور فرعون کی باتیں سنتا رہوں گا، اور جو معاملہ وہ تمہارے ساتھ کرے گا، اسے دیکھتا بھی رہوں گا۔ پس تم دونوں اس کے پاس جاؤ اور جا کر کہو :” ہم تیرے پروردگار کی طرف سے پیغمبر ہیں۔ تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو کر دے، اور ان کو تکلیف نہ دے۔ اور ہم اپنے دعویٰ کے ثبوت کے لئے معجزہ لے کر آئے ہیں “ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو عصا اور ید بیضاء کا معجزہ بھی دکھایا، جس سے فرعون ڈر گیا۔ پھر موسیٰ علیہ السلا کو جادوگر اور ان کے معجزہ کو جادو بتلایا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) سے یہ وعدہ کیا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ جب جادوگروں کے مقابلے کے وقت ان جادوگروں نے اپنی رسیوں اور لکڑیوں کے سانپ بنا کر چھوڑے تو موسیٰ (علیہ السلام) ان سانپوں کو دیکھ کر کچھ ڈرنے لگے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فوراً ان کی تسکین کی اور فرمایا :” ڈرو نہیں ! تم ہی غالب رہو گے۔ تم اپنے ہاتھ کی لکڑی کو چھٹ پٹ زمین پر ڈال دو ۔ تمہاری لکڑی کا سانپ جادوگروں کے ان سب سانپوں کو ابھی نگل جائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا یہ کرشمہ دیکھ کر جادوگر ایمان لے آئیں گے “۔ اس آیت سے یہ مطلب اچھ طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ ایک معجزہ کا اثر فرعون کے دل پر تو یہ ہوا کہ وہ عمر بھر معجزہ کو جادو بتلا کر دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل قرار پایا، اور اسی معجزے کا اچر جادو گروں کے دل پر یہ ہوا کہ وہ ایمان دار بن کر جنتی ٹھہرے۔
Ayahs 20:46–48

قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى Open ayah 20:46 in the Quran reader

فرمایا :” ڈرو نہیں، میں تمہارے ساتھ ہوں میں سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں

فَاْتِیٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْ١ؕ قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى Open ayah 20:47 in the Quran reader

پس تم دونوں اس کے پاس جاؤ پھر کہو کہ ہم تیرے پروردگار کے بھیجے ہوئے آئے ہیں۔ پس تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے اور انہیں تکلیف نہ دے، بیشک ہم تیرے پاس تیرے پروردگار کی طرف نشانی لائے ہیں اور سلامتی اس کے لئے ہے جو ہدایت کی پیروی کرے

اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى Open ayah 20:48 in the Quran reader

بیشک ہماری طرف وحی ہوئی ہے کہ عذاب اس پر ہے کہ جو (ہماری نبوت کو اور ان احکام کو جو ہم لائے) جھٹلائے اور (ہماری ہدایت سے) منہ پھیرے

فرعون کا قصہ اور قدرت کی نشانیاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ارشاد ہے کہ فرعون سے تم یوں کہنا کہ ہم کو بذریعہ وحی بھی حکم بھیجا ہے کہ جو کوئی اللہ کے رسولوں کو جھٹلائے گا، اور اللہ کے حکم سے اس کے رسول جن باتوں کی نصیحت کرتے ہیں، ان کو نہ مانے گا، تو وہ آخرت میں سزا بھگتے گا سورة الشعراء (پارہ 19) میں آوے گا کہ فرعون خدا کی ہستی کا اس قدر منکر تھا کہ خدا کی ہستی کے اقرار کو قابل قید جرم گنتا تھا۔ اسی واسطے اگرچہ موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے اوپر کی آیتوں میں فرعون سے یہ کہا تھا کہ ہم دونوں تیرے رب کے بھیجے ہوئے رسول ہیں لیکن فرعون نے غرور کے مارے ان لفظوں کو نہیں دھرایا، بلکہ موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ تم دونوں کا رب کون ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اس کا یہ جواب دیا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے آدمی کو آدمی کی صورت میں، اور جانور کو جانور کی صورت میں پیدا کیا۔ اور پھر ہر ایک کو زندگی بسر کرنے کا طریقہ سکھایا۔ مثلاً آدمی اور جانور کے بچہ کو پیدا ہوتے ہی دودھ پینے کا طریقہ سکھایا۔ فرعون نے موسیٰ علیہ السلا سے یہ کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے سب کو پیدا کیا ہے تو اس کی تعظیم سب پر واجب ہے، تو پچھلی بہت سی قومیں ایسی گزری ہیں، جنہوں نے اس واجب کو ادا نہیں کیا۔ پھر آخر ان کا کیا انجام ہوگا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا :” اللہ کے کار خانے میں بھول چوک نہیں ہے۔ ان سب پچھلی قوموں کا حال اللہ تعالیٰ کے پاس ایک کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ اس کے موافق ایک دن نیکی اور بدی کا فیصلہ ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا اتنا بڑا انتظام ہے کہ اس نے اتنی بڑی زمین بچھونے کی طرح پانی پر بچھائی۔ جس میں کہیں کھیتی ہے، کہیں باغات ہیں، کہیں ایک شہر سے دوسرے شہروں کے جانے کے راستے ہیں۔ آسمان ہے تو ایسا ہی ہے کہ ہر سال وقت مقررہ پر اس میں سے پانی برستا ہے۔ یہ سب انتطام اس بات کا گواہ ہے کہ ایک دن نیک وبد کا ضرور فیصلہ ہوگا تاکہ سب انتظام ٹھکانے لگے۔
Ayahs 20:49–53

قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:49 in the Quran reader

فرعون نے کہا :” تم دونوں کا خدا کون ہے اے موسیٰ ! “

قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى Open ayah 20:50 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہا :” ہمارا خدا ہو ہے جس نے ہر چیز کو اس کے لائق صورت عطا فرمائی پھر اس کو راہ دکھائی “

قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:51 in the Quran reader

(فرعون نے) کہا :” پھر کیا حال ہے جو پچھلے زمانوں میں گزر چکے ہیں “

قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ كِتٰبٍ١ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘ Open ayah 20:52 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہا :” ان کا علم میرے اللہ کے پاس کتاب میں (یعنی لوح محفوظ میں) ہے۔ میرا پروردگار نہ بہکتا ہے اور نہ بھولتا ہے “

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ سَلَكَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى Open ayah 20:53 in the Quran reader

وہ (اللہ ہے) جس نے تمہارے لئے زمین کو (مثل) فرش کیا اور تمہارے لئے اس میں چلتی راہیں رکھیں اور آسمان سے پانی برسایا۔ پھر ہم نے اس ( پانی) ذریعنہ سے طرح طرح کے سبزے کے جوڑے نکالے

موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی نصیحت میں فقط مینہ (بارش) کا ذکر کیا تھا۔ اس ذکر کو پوار کرنے کے لئے یہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” اس مینہ سے طرح طرح کے اناج انسان کے کھانے کے لئے، اور طرح طرح کا چارہ چوپایوں کے لئے پیدا ہوتا ہے۔
Ayah 20:54

كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:54 in the Quran reader

(اور) تم کو اجازت دی کہ خود کھاؤ اور اپنے مویشیوں کو (بھی) چراؤ، بیشک عقلمندوں کے لئے اس میں (قدرت کی ( نشانیاں ہیں

پھر فرمایا ” اے بنی آدم ! اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا اناج خود بھی کھاؤ، اور چوپایوں کو چراؤ، اور یہ یاد رکھو کہ اس ہر سال کے انتظام میں سمجھ دار لوگوں کے لئے اللہ کی قدرت کی یہ نشانیاں ہیں کہ جس طرح ایک مینہ اثر سے ہر سال مردہ زمین میں سے طرح طرح کا اناج پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح حشر کے دن ایک مینہ کے اثر سے ہر مردہ شخص کی مٹی سے اس کا جسم تیار ہوجائے گا۔ اور جس طرح اب خلاف عقل پانی جیسی پتلی چیز سے ماں کے پیٹ کا بچہ کا پتلا تیار ہو کر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے، اسی طرح اس دن ہر مردہ شخص کی مٹی سے جو پتلا تیار ہوگا اس میں روح پھونک دی جاوے گی۔ سورة ق میں آوے گا کہ مرنے کے بعد جنگل دریا میں جہاں جہاں ہر مردہ شخص کی مٹی جاوے گی، اس کا سب پتہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ اس سے ہر مردہ شخص کی مٹی کا جمع ہوجانا اچھ طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔
Ayahs 20:55–56

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى Open ayah 20:55 in the Quran reader

ہم نے تم کو زمین ہی سے پیدا کیا اور پھر تم کو ( بعد موت) اسی میں لے جاویں گے اور (قیامت کے دن) پھر دوبارہ اسی زمین سے تم کو نکالیں گے

وَ لَقَدْ اَرَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى Open ayah 20:56 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے فرعون کو اپنی سب نشانیاں دکھائیں ، پس اس نے جھٹلایا اور نہ مانا

آخر کو فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی معرفت فرعون کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کی سب نشانیاں دکھائی اور سمجھائی گئیں۔ لیکن اس نے اللہ کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور اللہ کی قدرت کی ایک نشانی کو بھی نہ مانا۔ جس کا انجام یہ ہوا کہ دنیا میں بڑی ذلت سے وہ ڈوب کر مر گیا، اور آخرت میں سخت عذاب بھگتے گا۔ فرعون کی مثال سے قریش کو یہ بات سمجھائی گئی تھی کہ ان میں سے جو لوگ اللہ کے رسول ﷺ کے جھٹلانے سے باز نہ آویں گے، ان کا انجام بھی یہی ہوگا جو فرعون کا ہوا۔
Ayah 20:57

قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:57 in the Quran reader

کہنے لگا :” اے موسیٰ ! کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے تو کہ ہم کو زمین سے اپنے جادو کے زور سے نکال دو

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ فرعون نے کہا :” اے موسیٰ ! تم اپنے جادو کے زور سے ہم کو ملک مصر سے نکال دینے اور خود اس ملک پر قبضہ کرلینے کا ارادہ جو رکھتے ہو، تمہارا یہ ارادہ ہرگز پورا نہ ہوگا۔ ہم بھی تمہارے مقابلے کے لئے جادوگر بلواتے ہیں۔ اے موسیٰ ! مقابلے کے لئے ایک وقت مقرر کرلو ، اور اس وقت کے خلاف نہ ہم کریں گے، اور نہ تم کرنا۔ وقت مقررہ پر ہم بھی موجود رہیں گے، اور تم بھی رہنا ، اور مقابلہ ایک صاف میدا میں ہونا چاہئے “۔ مصریوں کے ہاں سال بھر کے بعد ایک بڑا جشن ہوتا ہے، جس طرح ہندوؤں کے ہاں بت پرستی کے لئے میلے ہوتے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ منظور ہوا کہ اس روز مجمع عام میں مقابلہ ہوگا تو سب لوگوں کو حق معلوم ہوجائے گا۔ اس لئے فرمایا کہ اس کام کے لئے جشن کا دن مقرر کرلو، اور چاشت کے وقت لوگوں کو جمع ہوجانا چاہئے یعنی دس گیارہ بجے ۔ یہ وقت مقرر کرنا بھی اس مصلحت سے تھا کہ لوگوں کا مجمع زیادہ ہوجائے، اور دوپہر سے پہلے نبوت کا ڈنکا بج جائے۔ پس فرعون دربار سے اٹھ کر گھر چلا گیا۔ اس نے ہر قسم کے حیلے کئے اور طرح طرح کی تدبیریں کیں ، جابجا جادوگروں کے پاس آدمی بھیجے، اور ان سے انعام کا وعدہ کیا۔ وقت مقررہ پر جادوگروں کو جمع کرکے اس روز میدان میں آگیا۔
Ayahs 20:58–61

فَلَنَاْتِیَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى Open ayah 20:58 in the Quran reader

تو ضرور ہم بھی تمہارے آگے ویسا ہی جادو لائیں گے۔ پس تم ہمارے اور اپنے درمیان ایک وعدہ مقرر کرلو کہ جس کے نہ ہم خلاف کریں اور نہ تم خلاف کرو ہموار میدان میں (مقابلہ ہوتا کہ سب دیکھیں) “

قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى Open ayah 20:59 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہا :” تمہارا وعدہ میلے کا دن ہے اور یہ کہ لوگ دن چڑھے جمع کئے جائیں “

فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَیْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى Open ayah 20:60 in the Quran reader

پس ( یہ سن کر) فرعون اپنی جگہ لوٹا، پھر اپنے مکر کا سب سامان فراہم کیا، پھر (وقت مقررہ پر سب کو لے کر) آیا

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ١ۚ وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى Open ayah 20:61 in the Quran reader

موسیٰ نے جادوگروں سے کہا کہ تمہیں خرابی ہو خدا جھوٹ نہ باندھو کہ وہ تمہیں عذاب سے ہلاک کر دے، اور بیشک جس نے جھوٹ باندھا وہ نامراد رہا

جادوگروں سے مقابلہ تاریخ مقررہ پر جادوگر میدان میں آئے اور فرعون بھی مع اپنے مصاحبوں کے وہاں آیا، اور ایک اونچی جگہ تخت بچھا کر بیٹھا۔ اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں سے کہا کہ اے کم بختو ! تم جادو کی جھٹی باتوں کو جادو کے زور سے سچی کر کے جو دکھاتے ہو، تو اس میں اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو کیونکہ مثلاً اللہ کی پیدا کی ہوئی رسی اور لکڑی کے سانپ ہونے کا اقرار جو تم لوگوں سے کراتے ہو، تو اس میں اللہ کو جھٹلاتے ہو کہ رسی اور لکڑی نہیں بلکہ سانپ ہیں۔ اس جھوٹ کے جرم میں اللہ تعالیٰ تمہیں کہیں کسی آفت میں ہلاک کر دے گا۔ اس لئے جھوٹا شخص کبھی فلاح نہیں پاتا، نہ اس کے مال میں برکت ہوتی ہے، اور نہ کام میں۔ دیکھو قرآن شریف سے صاف صاف یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جھوٹ بولنا کبیرہ گناہ ہے۔ افسوس ہے کہ اس زمانہ میں بہت سے لوگ مسلمان کہلاتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں۔
Ayah 20:62

فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰى Open ayah 20:62 in the Quran reader

پس ( یہ سن کر) جادوگر باہم اپنے معاملہ میں اختلاف اور خفیہ گفتگو کرنے لگے

جادوگر جب موسیٰ سے مقابلہ کو آئے تو موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ حال دیکھ کر نہ ان کے پاس جادو کا کچھ سامان ہے ، نہ ان کی اس لکڑی پر جو ان کے پاس ہے کچھ اثر ہے، تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور اپنی کاروائی خفیہ طور پر کی، اور مصریوں سے کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو تمہارے ملک سے نکال دیں۔ اور تمہارے عمدہ مذہب کو مٹانا چاہتے ہیں۔ اب ہم سب کو مل کر ان دونوں سے مقابلہ کرنا چاہئے، ان دونوں کا جادو مصر میں نہ پھیل جائے۔ جس سے ہماری روزی اور عزت میں فرق آئے اور ہم کو مصر چھوڑنا پڑے۔ جادوگروں نے یہ بھی کہا کہ ہم سب جادو گروں کو ایک دل ہو کر جادو کا ہنر دکھانا اور ایک ساتھ جنگل میں جانا چاہئے۔ تاکہ موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) پر رعب پڑے۔ اور یہ سب اس لئے ہے کہ فرعون جیسا بادشاہ آج کے دن جنگل میں موجود ہے۔ آج کی جیت بڑی فلاح کی بات ہے “ اس کے بعد سب جادوگروں نے ایک زبان ہو کر موسیٰ علیہ اسلام سے کہا کہ موسیٰ چاہو تو تم اپنی لکڑی سانپ بن جانے کے لئے زمین پر ڈالو۔ نہیں تو ہم پہلے ڈالتے ہیں۔ موسیٰ نے کہا :” تم ہی اپنی رسیاں اور اپنی لکڑیاں زمین پر ڈالو “۔ جادوگروں نے جونہی اپنی رسیاں اور لکڑیاں زمین پر ڈالیں تو یہ دکھائی دینے لگا کہ زمین سانپوں سے بھر گئی، اور میلے میں سانپ دوڑ رہے ہیں۔ اس سے موسیٰ (علیہ السلام) کے دل میں کچھ دہشت سمائی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تسکین کی، اور فرمایا :” موسیٰ (علیہ السلام) ! ڈرو نہیں ، تم غالب رہو گے۔ تم اپنے داہنی ہاتھ کی لکڑی زمین میں ڈال دو کہ اس کا سانپ جو بنے گا، وہ اس جادو کے سب کارخانہ کو نگل جاوے گا اور کوئی جادو کہیں فلاح کو نہ پہنچے گا “۔
Ayahs 20:63–70

قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى Open ayah 20:63 in the Quran reader

کہنے لگے :” بیشک یہ دونوں جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ تم کو تمہاری زمین سے اپنے جادو کے زور سے نکال دیں اور چاہتے ہیں کہ تمہارے عمدہ مذہب آٹھا دیں

فَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا١ۚ وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى Open ayah 20:64 in the Quran reader

پس تم جادو کا سب سامان جمع کرلو پھر میدان میں صف باندھ کر آؤ ، اور بیشک کامیاب ہوا آج کے دن جو غالب رہا “

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى Open ayah 20:65 in the Quran reader

وہ بولے :” اے موسیٰ ! یا تو پہلے تم (اپنا) عصا ڈالو یا ہماری طرف سے پہل ہو “

قَالَ بَلْ اَلْقُوْا١ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى Open ayah 20:66 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہ :” بلکہ تم ہی پہلے ڈالو “ پس یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کے زور سے موسیٰ کے خیال میں ایسی معلوم ہونے لگیں جیسے) سانپ کی طرح) چلتی دوڑتی ہوں

فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰى Open ayah 20:67 in the Quran reader

پس موسیٰ کے دل میں تھوڑا سا خوف معلوم ہونے لگا

قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى Open ayah 20:68 in the Quran reader

ہم نے کہا :” ڈرو نہیں بیشک تو ہی غالب ہے

وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍ١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى Open ayah 20:69 in the Quran reader

اور جو تیرے دائیں ہاتھ میں عصا ہے اسے زمین پر ڈال دے ، وہ جو جادوگروں نے سانگ بنایا ہے نگل جائے بیشک جو کچھ بنایا ہے وہ تو صرف جادوگروں کا فریب ہے اور جادوگر کہیں جاوے فلاح نہیں ہوتی “

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى Open ayah 20:70 in the Quran reader

“ پس سب جادوگر سجدہ میں گرائے گئے (آواز سے کہنے لگے کہ ہم ہارون اور موسیٰ کے پروردگار پر ایمان لائے

جادوگروں کا ایمان لانا ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھ کی لکڑی کو زمین میں ڈال دیا، اور اس لکڑی کا اژدہا ان سب رسیوں اور لکڑیوں کو نگل گیا۔ یہ حالت دیکھ کر جادوگروں کو یقین ہوگیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) جادوگر نہیں ہیں بلکہ ان کو تائید غیبی ہے ۔ اس لئے وہ سجدہ میں گر پڑے، اور سمجھ گئے کہ فرعون کا خدائی کا دعویٰ بلکل جھوٹا ہے۔ کیونکہ اگر اس کا دعویٰ سچا ہوتا تو موسیٰ (علیہ السلام) کا غلبہ ہرگز نہ ہوتا۔ اس واسطے ہم صاف کہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون علی السلام کا جو رب ہے، وہی ہمارا بھی رب ہے۔ جادوگروں کی یہ بات سن کر فرعون نے ان کو ڈرایا اور کہا کہ تم نے بغیر میرے حکم کے موسیٰ (علیہ السلام) کے کہنے کو مان لیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) تم سے بڑھ کر جادوگر اور تم سب کے استاد ہیں۔ پھر فرعون نے کہا کہ اس حکم عدولی کی سزا یہ ہے کہ میں تم سب کا ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پاؤں کٹوا ڈالوں گا۔ اور پھر کھجور کی ٹنڈ میں لٹکا کر تم کو سولی دوں گا۔ جس سے تم کو معلوم ہوجائے گا کہ میری سزا سخت اور پائیدار ہیے، جادوگروں نے فرعون کی یہ دھمکی سن کر اس کو جواب دیا کہ ہم کو ہمارے پیدا کرنے والے کی قسم ہے کہ ہم تیری دھمکی سے ڈر کر موسیٰ (علیہ السلام) کی معجزے کو نہ جھٹلائیں گے۔ جو سزا تیرا جی چاہے وہ ہمارے حق میں تجویز کر۔ جس طرح دنیا کی زندگی ناپائیدار ہے، وہی تیری تجویز کی ہوئی سزا کا حال ہے۔ اور اللہ کی ٹھہرائی ہوئی جزاوسزا تیری جزاوسزا سے بڑھ کر ہے، اس لئے ہم نے اللہ کو اپنا معبود مان لیا اور تو نے زبردستی ہم کو جادو کی تعلیم جو دلوائی تھی ، اس سے اور باقی کے سب گناہوں سے ہم نے توبہ کی، تاکہ اللہ تعالیٰ ہمارے سب گناہوں کو معاف کر دے۔
Ayahs 20:71–74

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ١٘ وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:71 in the Quran reader

(فرعون نے) کہا :” کیا تم اس پر ایمان لائے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں۔ بیشک یہ تو تمہرا بڑا سردار معلوم ہوتا ہے کہ جس نے تم سب کو جادو سکھایا۔ پس مجھے قسم ہے ضرور میں تمہارے کاٹوں گا ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پاؤں اور تم سب کو کھجور کے پیڑوں پر لٹکا کر سولی چڑھاؤں گا اور ضرور تم جان جاؤ گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب سخت اور دیر پا ہے “

قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍ١ؕ اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 20:72 in the Quran reader

انہوں نے کہا :” ہم تجھے ہرگز ترجیح نہ دیں گے ان واضح دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں اور ترجیح نہ دیں گے ہم تجھے خدا پر کہ جس نے ہم کو پیدا کیا، پس تجھ کو جو کچھ کرنا ہے (دل کھول کر) کر ڈال، تو اس دنیا ہی کی زندگی میں تو کرے گا

اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَكْرَهْتَنَا عَلَیْهِ مِنَ السِّحْرِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:73 in the Quran reader

بیشک ہم تو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تاکہ وہ ہمارے گناہوں کو بخش دے اور اس کو بھی جو تو نے ہم کو مجبور کیا جادو پر “ اور اللہ بہتر ہے اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا

اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ١ؕ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى Open ayah 20:74 in the Quran reader

بیشک کوئی اپنے پروردگار کے حضور مجرم ہو کر آئے پس اس کے لئے ضرور جہنم ہے جس میں نہ مرے گا اور نہ جئے گا

ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جو شخص شرک کی حالت میں مر کر اللہ تعالیٰ کے رو برو حاضر ہوگا، وہ ہمیشہ اسی حالت میں دوزخ میں رہے گا کہ نہ تو سختی اس کی موت کا سبب قرار پا سکے گی، نہ زندگی ہی سے کچھ فائدہ پہنچے گا۔ اور جو ایماندار شخص نیک عمل لے کر اللہ تعالیٰ کے رو برو حاضر ہوگا وہ عقبیٰ میں بڑا رتبہ پائے گا کہ ہمیشہ جنت رہے گا۔ کیونکہ شرک سے بچنے والوں کا اللہ تعالیٰ نے یہی بدلہ مقرر کیا ہے۔ کافر اور مومن کی دوزخ میں حالت حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کافروں کو دوزخ میں موت نہیں ہے۔ کلمہ گو گناہ گار جو دوزخ میں ڈالے جائیں گے ، وہ جل کر مر جائیں گے۔ یہاں تک کہ کوئلہ ہوجائیں گے۔ پھر میری شفاعت کے سبب سے جنت میں داخل ہوں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مجرم کے معنی ان آیتوں میں مشرک کے ہیں اسی واسطے مجرم کا لفظ مومن کے مقابلہ میں فرمایا۔
Ayahs 20:75–77

وَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ Open ayah 20:75 in the Quran reader

اور جو شخص پروردگار کے حضور مومن ہو کر حاضر ہوگا کہ اس نے اچھے عمل کئے ہوں، پس ان لوگوں کے لئے بلند مرتبے ہیں

جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠ Open ayah 20:76 in the Quran reader

ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، اور یہ بدلہ اس شخص کا ہے جو شخص (کفر ومعصیت سے) پاک ہوا

وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى١ۙ۬ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا١ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى Open ayah 20:77 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو وحی بھیجی کہ میرے بندوں (یعنی بنی اسرائیل) مصر سے) راتوں رات لے کر چل، پھر ان کے لئے دریا میں (عصا مار کر) سوکھا (خشک) رستہ نکال دے۔ تجھے ڈر نہ ہوگا کہ فرعون آپکڑے اور نہ ڈوبنے سے اندیشہ ہوگا

فرعون کے مع اس کے لشکر کے ڈوبنے کا قصہ جب فرعون بنی اسرائیل کو موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کردینے پر کسی طرح راضی نہ ہوا، تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائی کو ساتھ لے کر ایک رات مصر سے چل کھڑے ہوں۔ اور دریا قلزم پر پہنچ کر دریا کے پانی میں اپنے ہاتھ کی لکڑی ماریں، اللہ کے حکم سے دریا میں سوکھا راستہ پیدا ہوجائے گا۔ اور بغیر خوف فرعون کے حملہ اور دریا کی ظغیانی کے اے موسیٰ (علیہ السلام) ! تم اور بنی اسرائیل تو دریا میں سوکھے راستہ سے ردیا پار ہوجاؤ گے۔ فرعون اپنا لشکر ساتھ لے کر تمہار پیچھا کرے گا، تو وہ مع اپنے لشکر کے دریا میں ڈوب کر ہلاک ہوگا۔ کیونکہ فرعون نے اپنی قوم کو برے راستہ پر لگایا، اور قوم کے لوگوں نے اس کا کہنا مانا، اس لئے ان سب کی یہی سزا ہے ، جو انہوں نے بھگتی۔ فرعون اور اس کے لشکر کے ڈوب کر ہلاک ہونے کا قصہ سورة الاعراف (پارہ 9) میں گذر چکا ہے۔