20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 20:78–81

فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْؕ Open ayah 20:78 in the Quran reader

فرعون اپنا لشکر لے کر ان کے پیچے چلا تو انہیں دریا نے ڈھانک لیا جیسا ڈھانک لیا (یعنی غرق کردیا

وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى Open ayah 20:79 in the Quran reader

اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور انہیں سیدھی راہ نہیں دکھائی

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى Open ayah 20:80 in the Quran reader

اے بنی اسرائیل ! بیشک ہم نے تم کو تمہارے دشمنوں سے نجات دی اور تم کو کوہ طور کی دائیں جانب کا ہم نے (توریت دینے کا) وعدہ دیا اور تم پر من وسلویٰ اتارا

كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ لَا تَطْغَوْا فِیْهِ فَیَحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبِیْ١ۚ وَ مَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْهِ غَضَبِیْ فَقَدْ هَوٰى Open ayah 20:81 in the Quran reader

(اور فرمایا) کہ پاک چیزیں ہم نے جو تم کو رزی دیں ان کو کھاؤ (اور پیو) اور اس میں زیادتی نہ کرو کہ کہیں تم پر میرا غضب نازل ہوجائے، اور جس پر میرا غضب نازل ہوا بیشک وہ (ہلاکت میں) گرا

یہاں فرعون کی ہلاکت کے بعد توریت کے نازل ہونے کے ، اور من وسلویٰ کے اتارنے کے احسانات کو یاد دلا کر بنی اسرائیل کو ارشاد ہے کہ اے بنی اسرائیل ! اللہ کی دی ہوئی نعمتیں کھاؤ، اور نہ ناشکری نہ کرو، ورنہ اللہ کے غضب میں گرفتار ہوجاؤ گے۔ اور یہ خوب یاد رکھو کہ جو شخص اللہ کو غضب میں گرفتار ہوا، اس کے لئے دنیا اور آخرت دونوں جگہ خرابی ہے۔
Ayah 20:82

وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى Open ayah 20:82 in the Quran reader

اور بیشک میں بڑا بخشنے والا ہوں اس کا کہ جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھے عمل کئے، پھر (اسی) ہدایت پر قائم رہا

اس آیت میں قریش کو شرک سے باز آنے کی رغبت دلائی، اور فرمایا :” جو شخص شرک سے توبہ کرکے اللہ کی وحدانیت اور اللہ کے رسول کی صداقت پر قائم رہے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے سب گناہ معاف کردے گا “۔
Ayah 20:83

وَ مَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:83 in the Quran reader

اور (جب موسیٰ کوہ طور پر حاضر ہوئے تو ہم نے پوچھا):” اے موسیٰ ! تو نے اپنی قوم سے (آگے آنے میں) کیوں جلدی کی “

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا توریت لینے جانا ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) توریت لینے کوہ طور پر گئے تو بنی اسرائیل میں سے چند شخصوں کو منتخب کر کے اپنے ساتھ لے گئے، اور جب کوہ طور قریب آیا تو موسیٰ (علیہ السلام) قوم کے لوگوں سے آگے بڑھ کے جلدی سے پہاڑ پر پہنچ گئے، اور ان کے ساتھ کے لوگ پیچھے رہ گئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے پوچھا کہ قوم کے لوگوں کو چھوڑ کر جلدی کر کے کیوں چلے آئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ وہ لوگ بھی پیچھے آتے ہیں، یا اللہ میں جلدی کرکے اس واسطے چلا آیا کہ کوہ طور پر حاضر ہونے سے تیرے حکم کی تعمیل کروں، تاکہ تو مجھ سے خوش ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اللہ تعالیٰ کی نظر انسان کے دل پر لگی رہتی ہے کہ انسان ہر ایک کام کس نیت سے کرتا ہے “۔
Ayahs 20:84–85

قَالَ هُمْ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِیْ وَ عَجِلْتُ اِلَیْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى Open ayah 20:84 in the Quran reader

عرض کی کہ وہ یہ ہیں میرے پیچے اور اے میرے پروردگار ! تیری طرف میں جلدی کرکے اس لئے حاضر ہوا کہ تو راضی ہو

قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ Open ayah 20:85 in the Quran reader

خدا نے فرمایا :” تیرے آنے کے بعد ہم نے تیری قوم کو بلا میں ڈالا اور ان کو سامری نے گمراہ کردیا “

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں سامری نام کا ایک سنار تھا۔ اس نے بچھڑا بنایا، اور جبرائیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کے قدم کے نیچے کی مٹی جو سامری نے اٹھا رکھی تھی، وہ اس نے اس بچھڑے کے منہ میں ڈال دی۔ جس سے ہو بچھڑا گائے کی آواز کی طرح آواز نکالنے لگا، اور بنی اسرائیل اس بچھڑے کی پوجا کرنے لگے۔ کوہ طور پر جب یہ قصہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جتلایا، اور اس قصہ کو سن کر موسیٰ (علیہ السلام) کو غصہ آیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے اس غصہ اور رنجیدہ ہونے کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ فرمایا :” اے موسیٰ (علیہ السلام) ! تمہارے پیچھے بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے بچھڑے کی بلا بھیج کر آزمایا لیکن وہ آزمائش میں پورے نہ اترے، اور سامری کے بہکانے سے بلک گئے “۔
Ayah 20:86

فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۚ۬ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا١ؕ۬ اَفَطَالَ عَلَیْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ Open ayah 20:86 in the Quran reader

پس موسیٰ اپنی قوم کی طرف غصہ میں بھرا افسوس کرتا ہوا پلٹا (آکر) کہا کہ اے میری قوم ! کیا تمہارے پروردگار نے تم سے اچھا وعدہ نہیں کیا تھا، کیا تم پر میعاد مقررہ سے کچھ زیادہ زمانہ گزر گیا تھا یا تم نے یہ چاہا کہ تم پر تمہارے پروردگار کا غضب نازل ہو۔ پس تم نے مجھ سے وعدہ خلاف کیا

اس آیت میں فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) غصہ اور رنج میں الٹے پھرے، اور قوم کے لوگوں کو کہا :” اے میری قوم کے لوگو ! میری معرفت کیا تمہاری دین ودنیا کی ببہود کے لئے کتاب وآسمانی توراۃ کے نازل فرمانے کا وعدہ نہیں کیا گیا تھا۔ جس کتاب کے لینے کے لئے میں تم سے دین پر قائم رہنے کا عہد لے کر کوہ طور پر گیا تھا۔ پھر اس کتاب کے نازل ہونے سے پہلے تم نے سامری کا کہنا کیوں مانا، اور بلاسند بچھڑے کو اپنا معبود کیوں ٹھہرایا۔ مجھ کو کوہ طور پر برسوں کا عرصہ گذر گیا تھا جو تم میرا انتظار نہ کرسکے، اور جب تم نے میرے عہد کو توڑا تو کیا تم نے اللہ کے غضب میں گرفتار ہونے کا ارادہ بھی دل میں ٹھان لیا تھا۔ کیونکہ خدا کے رسول کی مخالفت کے سبب فرعون اور اس کی قوم کے سب لوگ جس طرح عذاب الہی میں گرفتار ہوئے ، وہ ماجرا اب تک تمہاری آنکھوں کے سامنے ہوگا۔
Ayah 20:87

قَالُوْا مَاۤ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِیُّۙ Open ayah 20:87 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہم نے آپ کا وعدہ اپنے اختیار سے خلاف نہ کیا و لیکن قوم قبط کے زیوروں کے کچھ بوجھ ہم سے اٹھوائے گئے پس (سامری کے کہنے سے) اس کو ہم نے (آگ میں) ڈال دیا۔ پھر سامری نے بھی اسی طرح ڈالا

اس آیت میں قوم کے جواب کو بیان کیا کہ قوم کے لوگوں نے جواب دیا ” اے رسول (علیہ السلام) اللہ کے ! ہم نے جان بوجھ کر تمہارے عہد کو نہیں توڑا ، بلکہ قبطی قوم کا وہ زیور جو ہمارے پاس رہ گیا تھا، ہارون (علیہ السلام) کے کہنے سے پہلے تو ہم نے اور سامری نے سب نے مل کر وہ زیور ایک گڑھے میں دبا دیا تھا۔ لیکن اس کے بعد پھر سامری نے اس زیور کا بچھڑا بنا کر ہم کو ایسا بہکایا کہ بلکل بےقابو کردیا۔ انسان اور شیطان رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” انسان کے تمام جسم میں جس طرح خون پھرتا ہے، اسی طرح بہکانے کے وقت ہر شخص کے تمام جسم میں شیطان چکر لگاتا ہے “۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” بغیر یاد الہی کے آدمی کو شیطان کے پھندے سے اور کوئی چیز نہیں بچا سکتی “۔ مطلب یہ ہے کہ شیطان کے بہکانے سے بی اسرائیل اس لئے بلکل بےقابو ہو کر سامری کے کہنے میں آگئے کہ انہوں نے ہارون (علیہ السلام) کی یاد الہی کی نصیحت کو نہیں مانا۔ جس سے شیطان کے پھندے میں پھنس گئے۔
Ayah 20:88

فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَاۤ اِلٰهُكُمْ وَ اِلٰهُ مُوْسٰى١۬ فَنَسِیَؕ Open ayah 20:88 in the Quran reader

تو (اس سب زیور سے) سامری نے ان کے لئے ایک بچھڑا نکالا بےجان دھڑ گائے کی طرح بولتا۔ پھر کہنے لگے کہ یہ ہے تمہارا اور موسیٰ کا خدا، پس موسیٰ تو بھول گئے

ان آیتوں کا حاصل مطلب وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے کہ ہارون (علیہ السلام) کے کہنے سے بنی اسرائیل اور سامری سب نے مل کر وہ زیور جو گڑھے میں ڈال کر دبا دیا تھا، سامری نے اس زیور کو گڑھے میں سے نکال کر بچھڑا بنایا۔ اور جبرائیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کے قدم کے نیچے کی مٹی اس بچھڑے کے منہ میں ڈال دی، جس سے ہو بچھڑا گائے کی سی آواز بولنے لگا۔ اس بچھڑے کے بولنے سے سامری اور اس کے ساتھی بنی اسرائیل سے کہنے لگے کہ تمہارا معبود یہی ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) بھولے سے کوہ طور پر چلے گئے۔
Ayah 20:89

اَفَلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِعُ اِلَیْهِمْ قَوْلًا١ۙ۬ وَّ لَا یَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا۠ Open ayah 20:89 in the Quran reader

تو کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ وہ بچھڑا نہ تو ان کی کسی بات کا جواب دیتا اور نہ ان کے کسی نفع ونقصان کا اختیار رکھتا ہے

اس آیت میں فرمایا :” کہ ان لوگوں نے کیا اتنی بات بھی نہیں دیکھی کہ بنی اسرائیل میں سے بارہ ہزار کے قریب آدمیوں نے، جو اس بچھڑے کی پوجا نہیں کی، ان کو اس نے کچھ نقصان نہیں پہنچایا۔ اور جنہوں نے اس کی پوجا کی نہ ان کے کسی مقصد کو سن کر اس نے کچھ جواب دیا، نہ کسی کا کوئی مقصد پورا کیا۔ خدا کی شان یہ نہیں ہے، اس کی شان تو وہ ہے کہ جب اس نے فرعون اور اس کی قوم کو نقصان پہنچانا چاہا تو ایک دم ان سب کو ہلاک کردیا، اور بنی اسرائیل کو جب اس نے فائدہ پہنچانا چاہا تو ان کے اتنے بڑے دشمن کے پھندے سے انہیں چھوڑا دیا۔
Ayah 20:90

وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِیْ وَ اَطِیْعُوْۤا اَمْرِیْ Open ayah 20:90 in the Quran reader

اور بیشک ان سے ہارون نے اس سے پہلے کہا تھا کہ اے میری قوم سوائے اس کے نہیں تم اس بچھڑے کے سبب فتنہ میں پڑے اور بیشک پروردگار تو تمہارا خدا ہے، پس میری پیروی کرو اور میرا کہا مانو

ارشاد ہوتا ہے کہ جس وقت سامری نے قوم موسیٰ کو گمراہ کیا، اس وقت حضرت ہارون (علیہ السلام) نے ان کو بہت سمجھایا، اور کہا کہ اے قوم کے لوگو ! یہ تمہاری آزمائش کے لئے بچھڑا تیار ہوا ہے، تم سامری کے بہکانے میں نہ آؤ۔ اور امتحان الہی میں پورے اترو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تمہارا رب رحمٰن ہے۔ وہ ذات پاک جس نے اپنی رحمت سے تمہاری خاطر دنیا میں ہزاروں راحت کے سامان پیدا کئے، اور آخرت میں تمہارے لئے جنت تیار کی۔ پس تم میری پیروی کرو سامری کی نہ کرو، اور اللہ کے امتحان میں پورے اترو۔ میں تمہارا دوست اور خیر خواہ ہوں “ ہارون (علیہ السلام) کی اس نصیحت کا بنی اسرائیل نے یہ جواب دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے کوہ طور پر واپس آنے تک ہم اس بچھڑے کی پوجا کبھی نہ چھوڑیں گے۔ اس پر حضرت ہارون (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ باراہ ہزار لوگ جنہوں نے اس بچھڑے کی پوجا نہیں کی تھی ان سے علیحدہ ہوگئے۔
Ayahs 20:91–92

قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَیْهِ عٰكِفِیْنَ حَتّٰى یَرْجِعَ اِلَیْنَا مُوْسٰى Open ayah 20:91 in the Quran reader

انہوں نے جواب :” ہم تو اس بچھڑے کی پرستش پر اس وقت تک جمے بیٹھے رہیں گے جب تک ہمارے پاس موسیٰ لوٹ کر آئیں “

قَالَ یٰهٰرُوْنُ مَا مَنَعَكَ اِذْ رَاَیْتَهُمْ ضَلُّوْۤاۙ Open ayah 20:92 in the Quran reader

موسیٰ نے (آکر) کہا :” اے ہارون ! تمہیں کس بات نے روکا تھا جب تم نے انہیں گمراہ ہوتے دیکھا تھا

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا کوہ طور پر سے واپس آنا۔ ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر سے واپس تشریف لائے تو آپ نے شور مچانے اور باجے بجانے کی آوازیں سنیں جو بچھڑے کے گرد ناچتے تھے۔ تب آپ نے اپنے ستر ہمراہیوں سے فرمایا :” یہ فتنہ کی آواز ہے “۔ جب قریب پہنچے تو غصہ میں آکر اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کے سر کے بال داہنے ہاتھ میں، داڑھی بائیں ہاتھ میں پکڑی اور فرمایا کہ جب بنی اسرائیل بہک گئے تھے تو تم نے اس کی اطلاع مجھ کو کوہ طور پر آن کر کیوں نہیں دی۔ میں نے جو کوہ طور پر جاتے وقت تم سے کہا تھا کہ بنی اسرائیل کی خبرگیری رکھنا اور کہ ان میں کسی طرح گمراہی نہ پھیلے۔ اس کا خیال تم نے کیوں نہ رکھا “۔ ہارون (علیہ السلام) نے کہا :” بھائی میری داڑھی اور میرے سر کے بال نہ پکڑو، میں صرف اس خیال سے کوہ طور پر نہٰیں گیا کہ میرے یہاں سے چلے جانے کے بعد بنی اسرائیل میں پھوٹ نہ پڑجائے، اور اس پھوٹ کو دیکھ کر تم کہیں یہ کہنے لگو کہ کوہ طور پر جاتے وقت بنی اسرائیل کی پھوٹ کے روکنے کی نصیحت جو کی گئی تھی، وہ نصیحت کیوں نہیں یاد رکھی۔
Ayahs 20:93–95

اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَیْتَ اَمْرِیْ Open ayah 20:93 in the Quran reader

تو تم میرے پیچھے (چلے) آتے، تو کیا تم نے میرا حکم نہ مانا

قَالَ یَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَ لَا بِرَاْسِیْ١ۚ اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ Open ayah 20:94 in the Quran reader

ہارون نے کہا :” اے میرے ماں جائے ! (بھائی) میری داڑھی نہ پکڑو اور نہ میرے سر کے بال، مجھے یہ ڈر ہوا کہ تم کہو گے کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کا انتظار نہ کیا “

قَالَ فَمَا خَطْبُكَ یٰسَامِرِیُّ Open ayah 20:95 in the Quran reader

موسیٰ نے (سامری سے) کہا :” اے سامری ! تیرا کیا حال ہے “

ان آیات میں سامری پر غصہ ہونے کا ذکر ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سامری کی طرف متوجہ ہوئے کہ تو نے ایسا کیوں کیا۔ اس نے کہا :” مجھ کو وہ بات نظر آئی جو ان کو نہ آئی۔ یعنی حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کی میں نے خاصییت دیکھی کہ جہاں وہ قدم رکھتا تھا، زمین سرسبز ہوجاتی تھی۔ پس میں نے اس مٹی کو متبرک پا کر ایک مٹھی بھر لی تھی۔ پھر میں نے اس کو ڈھلے ہوئے بچھڑے میں ڈال دیا، جس کو میں نے اپنی ہی ہوائے نفسانی سے کیا، کوئی دوسرا اس کا محرک نہ تھا “۔ اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری سے کہا کہ تیرے اس جرم کی سزا یہ ہے کہ جب تک تو زندہ رہے گا جنگل میں مارا مارا پھرے گا، اور سب سے علیحدہ رہے گا۔ اگر اتفاقاً کوئی چھو جائے گا تو تو اور چھونے والا دونوں شدید بخار میں مبتلا ہوں گے۔ وہ جنگل میں یہی شور مچاتا پھرتا تھا کہ کوئی چھو نہ جانا، اور وحشیوں اور درندوں میں زندگی کے دن نہایت تلخی و وحشت میں گذارتا تھا، اور آخرت کا عذاب بھی اس کے ذمہ قائم رہا۔ پھر فرمایا :” تو اور تیرے ساتھ جس بچھڑے کی پوجا میں لگے ہوئے تھے، اس کو جلا کر اس کی راکھ دریا میں بکھیر دی جاوے گی، تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجاوے کہ یہ کیسا معبود تھا کہ اپنے تئیں آگ سے محفوظ نہ رکھ سکا۔ اس کی پرستش بڑی حماقت تھی، اور اس کی راکھ دریا میں اس وجہ سے بہا دی تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ اس کی پرستش فعل بےفائدہ تھا “۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے نصیحت کے طور پر بنی اسرائیل سے فرمایا :” تمہارا معبود اللہ ہی ہے، جس کا کوئی شریک نہیں، اور جس کو ہر چیز کی خبر ہے “
Ayahs 20:96–99

قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَ كَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ Open ayah 20:96 in the Quran reader

اس نے کہا :” میں نے وہ چیز دیکھی جو اوروں نے نہیں دیکھی، پس میں نے فرشتہ (یعنی جبرائیل) کے نشان قدم (خاک) کی ایک مٹھی بھر لی۔ پس میں نے وہ (خاک بچھڑے کے قالب کے اندر) ڈال دی اور میرے دل کو یہی بات پسند آئی “

قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِی الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ١۪ وَ اِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْهِ عَاكِفًا١ؕ لَنُحَرِّقَنَّهٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا Open ayah 20:97 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہا :” پس جا کہ دنیا کی زندگی میں تیری یہ سزا ہے کہ تو یہ کہتا پھرے گا کہ مجھ کو کوئی ہاتھ نہ لگانا، اور بیشک تیرے لئے ایک وعدہ کا وقت ہے (یعنی آخرت میں عذاب) جو کچھ تجھ سے ٹلنے والا نہیں “ اور تو اپنے معبود (باطل) کی طرف دیکھ جس کی جس کی پوجا پر تو جما ہوا بیٹھا تھا قوم ہے ہم اسے ضرور جلائیں گے، پھر ریزہ ریزہ کر کے دریا میں بہائیں گے

اِنَّمَاۤ اِلٰهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَسِعَ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا Open ayah 20:98 in the Quran reader

تمہارا معبود تو صرف وہی اللہ ہے جس کے سوا کسی کی عبادت نہیں وہ (اپنے) علم سے تمام چیزوں کو احاطہ کئے ہوئے ہے

كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ١ۚ وَ قَدْ اٰتَیْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًاۖۚ Open ayah 20:99 in the Quran reader

(اے محبوب) ہم تم سے اسی طرح گزشتہ واقعات کی خبریں بیان کرتے ہیں، اور ہم نے تم کو اپنے پاس سے ایک نصیحت نامہ دیا ہے (یعنی قران)

ان آیتوں میں فرمایا کہ جس طرح اس سورت میں پہلے لوگوں کے چند قصے بیان کئے گئے ہیں، اسی طرح قرآن میں جگہ جگہ پچھلے انبیاء اور پچھلی امتوں کا ذکر آیا ہے۔ تاکہ اہل کتاب ان قصوں کو اپنی کتابوں کے موافق پا کر اور مشرکین مکہ یہ غیب کی باتیں امی رسول ﷺ سے سن کر قرآن کو اللہ کا کلام ، اور جن پر یہ کلام اترا ہے ان کو اللہ کا سچا رسول جان لیں۔ پھر فرمایا ” ایسی سیدھی بات سمجھانے کے بعد بھی جو کوئی قرآن کو اللہ کا کلام نہ مانے گا، اور اس کی نصیحت کو قبول کرنے سے منہ پھیرے گا، تو قیامت کے دن ایسے گناہوں کے بوجھ کے نیچے یہ لوگ دبے ہوئے ہوں گے۔ جس بوجھ کی سزا میں ہمیشہ گرفتار رہیں گے۔ پھر فرمایا :” قیامت کے دن بوجھ ان کو بہت برا لگے گا، جس کی سزا ان کو ہمیشہ بھگتنی پڑے گی “ فرمایا :” بد عملوں کا بوجھ ایسا بوجھ ہے کہ جو گویا آدمی کو دوزخ میں ڈال دے گا ‘] ۔
Ayahs 20:100–102

مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٗ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وِزْرًاۙ Open ayah 20:100 in the Quran reader

جو کوئی اس سے منہ پھیرے تو بیشک وہ قیامت کے دن ایک بوجھ (گناہ کا) اٹھائے گا

خٰلِدِیْنَ فِیْهِ١ؕ وَ سَآءَ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ حِمْلًاۙ Open ayah 20:101 in the Quran reader

وہ اس (عذاب) میں ہمیشہ رہے گا اور یہ بوجھ قیامت کے دن ان کے لئے کیا ہی برا ہوگا

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ زُرْقًاۚۖ Open ayah 20:102 in the Quran reader

جس روز کہ صور پھونکا جاوے گا (جس سے مردے زندہ ہوجاویں گے) اور ہم اس دن مجرموں کو اٹھائیں گے (اس حالت سے) کہ ان کی آنکھیں نیلی ہوں گی

ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ ایسے لوگوں کو یہ بوجھ اس دن اٹھانا پڑے گا جس دن صور کی آواز سن کر یہ دوبارہ زندہ ہوجائیں گے، اور ایسی حالت سے میدان محشر میں کھڑے ہوں گے کہ ان کی آنکھوں کی پتلیاں حشر کے دن نیلی ہوں گی، اور منہ کالا ہوگا۔ دنیا میں جو سالہا سال عیاشیاں کی ہیں، ان سب کو وہاں کی مصیبتوں کے آگے بھول جائیں گے، اور آپس میں چپکے چپکے باتیں کرنے کے طور پر کوئی اس مدت کو دس دن کی مدت بتلائے گا، کوئی ایک دن کی ، کوئی پہر دو پہر کی، اور کوئی گھڑی بھر کی۔ یہ مصیبت ہمارے کیسے پیچھے پڑی کہ جس کی انتہا ہی نہیں ہوتی۔ فرمایا کہ ہم ان کی باتوں سے خوب واقف ہیں، ان میں جو بڑا ہوگا وہ یوں کہے گا کہ تم دنیا میں تو ایک دن ٹھہرے تھے۔
Ayahs 20:103–105

یَّتَخَافَتُوْنَ بَیْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا Open ayah 20:103 in the Quran reader

آپس میں چپکے چپکے کہتے ہوں گے تم لوگ دنیا میں نہ رہے مگر دس دن

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُهُمْ طَرِیْقَةً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا۠ Open ayah 20:104 in the Quran reader

ہم خوب جانتے ہیں ان کی حقیقت جو وہ کہیں گے۔ جب کہ ان میں سب سے بہتر رائے والا کہے گا کہ تم صرف ایک ہی دن رہے تھے

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ Open ayah 20:105 in the Quran reader

اور لوگ تم سے پہاڑوں کی نسبت پوچھتے ہیں (کہ قیامت میں ان کا حال کیا ہوگا) تم فرماؤ :” انہیں میرا پروردگار ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا

قیامت کے ذکر پر قریش کا تعجب شان نزول : اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش نے جب قرآن شریف میں قیامت کا حال اور دنیا کے ویران پانے کا حال سنا تو پہاڑ ان کے دل میں ایک بڑی سخت اور پائدار چیز گزری۔ اس لئے انہوں نے اعتراض کے طور پر پوچھا کہ کیا صور پھونکنے سے پہاڑ پھر اڑ جائیں گے۔ ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayahs 20:106–108

فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاۙ Open ayah 20:106 in the Quran reader

تو زمین کو ہموار میدان کر چھوڑے گا

لَّا تَرٰى فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًاؕ Open ayah 20:107 in the Quran reader

کہ جس میں (اے مخاطب) تو نہ کچھ ناہمواری اور نہ کوئی بلندی یعنی ٹیلہ دیکھے گا

یَوْمَئِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَهٗ١ۚ وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا هَمْسًا Open ayah 20:108 in the Quran reader

اس دن سب کے سب پکارنے والے (یعنی صور پھونکنے والے فرشتے) کے پیچھے دوڑیں گے، اس کی پیروی میں کجی نہ ہوگی اور سب آوازیں رحمٰن کے حضور پست ہو کر وہ جائیں گی۔ پس تو نہ سنے گا مگر بہت آہستہ آواز

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ صور کی آواز سن کر جب یہ لوگ قبور سے اٹھیں گے تو جس طرح اب بتوں کے تھان کی طرف پوجا کے لئے سیدھے دوڑتے ہیں، اسی طرح قیامت کے دن میدان محشر کی طرف حساب وکتاب کے لئے دوڑے ہوئے چلے آویں گے۔ میدان حشر اور حضور اکرم ﷺ کی شفاعت : صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میدان محشر میں گرمی اور پسینے سے جب لوگ بہت گھبرائیں گے و آدم (علیہ السلام) سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک کے انبیاء کے پاس التجا کے لئے جائیں گے، کہ یہ انبیاء اللہ کی بارگاہ میں حساب وکتاب شروع ہوجانے کی سفارش کردیں۔ یہ سب انبیاء جواب دیں گے کہ آج اللہ تعالیٰ کے غصہ کی وہ حالت ہے کہ آج سے پہلے نہ کبھی ہوئی، اور نہ اس کے بعد کبھی ہوگی۔ اس لئے ہم اس سفارش کے باب میں کچھ نہیں کرسکتے۔ آخر خاتم الانبیاء محمد ﷺ اس سفارش کو اپنے ذمہ لیں گے، اور آپ کی سفارش سے حساب وکتاب شروع ہوجائے گا۔ آپ کی یہ سفارش تمام امتوں کے حق میں ہوگی۔ اس واسطے اس سفارش کو سفارش کبریٰ کہتے ہیں (یعنی بڑی شفاعت) ۔ آیت میں جو ذکر ہے کہ میدان جو ذکر ہے کہ میدان محشر میں اللہ تعالیٰ کے جلال کے سبب سے سب کی آوازیں ایسی دب جائیں گی کہ سوائے قدموں کی کھس کھس کی آواز کے کسی کے بولنے کی آواز نہ آئے گی۔ اس کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جلال کے سبب سے سوائے خاتم الانبیاء ﷺ کے او انبیاء بھی اس میدان میں اللہ تعالیٰ کے رو برو اور کچھ بو نہیں سکیں گے، یہ مرتبہ صرف رسول اللہ ﷺ کو ہی ملا ہے۔
Ayah 20:109

یَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا Open ayah 20:109 in the Quran reader

اس دن کسی کی شفاعت کام نہ دے گی مگر اس کی کہ جس کو خدا اجازت دے دی ہے اور اس کی بات پسند فرمائی

حاصل مطلب یہ ہے کہ کافر کہتے ہیں کہ جن مورتیوں کو یہ لوگ پوجتے ہیں، وہ اللہ کی بارگاہ میں سفارش کر کے قیامت کے دن اپنی پوجا کرنے والوں کو دوزخ کے عذاب سے چھڑائیں گے۔ ارشاع ہوتا ہے کہ قیامت کے دن کسی کی سفارش ان کو فائدہ نہ دے گی، مگر اس کی جس کو اللہ نے مجاز کیا ہے۔ جو شخص شرک میں گرفتار رہ کر بغیر توبہ کے مر جائے گا، تو ایسے شخص کے حق میں اللہ تعالیٰ کا یہ قطعی وعدہ ہے کہ ایسا شخص ہمیشہ دوزخ کے عذاب میں گرفتار رہے گا۔ اللہ کے رسول ﷺ بھی شرک کرنے والوں سے بیزار ہوں گے، ان کی سفارش ہرگز نہ ہوگی۔ پھر فرمایا ہر ایک شخص کے دنیا کے عملوں کا حال اور اس کا عقبیٰ کا انجام اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے۔ اس نے قیامت کے دن کے یہ غیب کا فیصلہ لوگوں کو جتا دیا ہے، کہ اس دن مشرک لوگ نقصان اٹھائیں گے، اور ایمان دار نیک عمل لوگوں کو اس دن کچھ نقصان نہ پہنچے گا۔ اور صاحب قدرت وہ ایسا ہے کہ اس کی قدرت کے آگے سب عاجز اور اس کی بارگاہ میں ناک رگڑتے اور گڑگڑاتے ہیں ۔ اس واسطے اس کے حکم اور فیصلہ کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔
Ayahs 20:110–113

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا Open ayah 20:110 in the Quran reader

وہ (اللہ) ان سب کے اگلے پچھلے احوال کو جانتا ہے اور ان کا علم اس کو گھیر نہیں سکتا

وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ١ؕ وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا Open ayah 20:111 in the Quran reader

اور تمام منہ جھک جائیں گے اس زندہ قائم رکھنے والے کے سامنے اور بیشک وہ نامراد رہا جس نے ظلم (یعنی شرک) کا بوجھ اٹھایا

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا Open ayah 20:112 in the Quran reader

جو نیک عمل کرے اور ہو مسلمان تو اس کے لئے نہ کسی زیادتی کا اندیشہ ہوگا اور نہ نقصان کا

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا Open ayah 20:113 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے اسے عربی قرآن اتارا اور اس میں طرح طرح سے عذاب کے وعدے دیئے کہ کہیں انہیں ڈر ہو یا ان کے دل میں کچھ سوچ پیدا کرے

ان آیتوں میں فرمایا کہ اسی طرح سے ہم نے قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا ، جس طرح ہم نے تم سے پہلوں کے راستی آمیز ہدایت خیز قصے بیان کئے۔ اسی طرح اس قرآن میں عذاب آخرت سے ڈرانے کی آیتیں جگہ جگہ ہیں، تاکہ یہ لوگ عذاب آخرت کی آیتوں کو سن کر شرک سے باز آجائیں، اور پرہیز گاری اختیار کریں، یا ان کو سمجھ بوجھ پیدا ہو۔
Ayah 20:114

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ١٘ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا Open ayah 20:114 in the Quran reader

پس سب سے بلند قدر اللہ بادشاہ برحق ہے اور (اے محبوب ! ﷺ) قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کرو اس سے پہلے کہ جب تک اس کی وحی تمہاری طرف پوری پہنچائی نہ جائے اور عرض کرو کہ اے میرے پروردگار ! میرا علم بڑھا دے

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ : قیامت میں اللہ تعالیٰ یہ فرمائے گا کہ آج بادشاہت کا دعویٰ کرنے والے کہاں گئے۔ اس وقت کوئی جواب نہ دے گا۔ پھر خود فرمائے گا کہ ساری بادشاہت اللہ ہی کو ہے۔ ادھر رسول اللہ ﷺ کے دل میں اس کی تبلیغ اور اس کو یاد کرنے کا بہت شوق تھا۔ اس لئے فرمایا کہ اے محبوب ﷺ تم جلدی نہ کیا کرو، اور تم مشقت نہ اٹھاؤ، جب ایک مضمون کی وحی تمام ہوچکے، تب آپ پڑھا کریں۔ اور یہ دعا کرتے رہا کریں کہ یا الہی ! میرا علم زیادہ کر۔ تاکہ وقتاً فوقتاً وحی آتی رہے اور آپ کا علم بڑھتا رہے۔
Ayah 20:115

وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠ Open ayah 20:115 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے آدم کو اس سے پہلے ایک تاکیدی حکم دیا تھا پس وہ بھول گیا اور ہم نے اس کا قصد محکم نہ پایا

یہاں فرمایا : کہ آدم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے برخلاف گیہوں کا دانہ جو کھایا۔ اس قصے کے ذکر کرنے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کی یہ تسکین بھی فرمائی ہے کہ قریش سیدھی سیدھی جو باتیں قرآن کی نہیں مانتے، اور شیطان کے بہکانے میں آکر اللہ کلے حکم کے بر خلاف کام کرتے ہیں، یہ آدم (علیہ السلام) کے زمانہ سے انسان کی ایک قدیمی عادت ہے۔ اس لئے اس کا کچھ رنج نہیں کرنا چاہئے۔
Ayah 20:116

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى Open ayah 20:116 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کی طرف سجدہ کرو تو سب سجدہ میں گرے مگر ابلیس نے قبول نہ کیا

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ نے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو سوائے شیطان کے اور سب فرشتوں نے اس حکم کی تعمیل کی، فقط شیطان نے اس حکم کی تعمیل میں سرکشی کی راہ سے یہ عذر پیش کیا :" یا اللہ تو نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا، اور آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے، اور آگ مٹی سے بہتر ہے۔ اس لئے آدم کو قبلہ ٹھہرا کر میں مسجدہ کیونکر ہو سکتا ہوں " شیطان یہ نہ سمجھا کہ نور نار سے بہتر ہے۔ پھر فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل جب فوراً بلا عذر کرلی، تو اس ناری جسم کو کسی عذر کے پیش کرنے کیا موقع باقی رہا۔ غرض اس سرکشی کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے شیطان کو مردود ٹھہرا کر آسمان پر سے زمین پر اتار دیا۔ اور حضرت آدم (علیہ السلام) کو یہ جتلا دیا یہ تمہارے سبب سے شیطان کو یہ ذلت ہوئی ہے، اسی واسطے شیطان تمہارا اور تمہاری بی بی کا دشمن ہوگیا ہے۔
Ayah 20:117

فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى Open ayah 20:117 in the Quran reader

پس ہم نے فرمایا کہ اے آدم ! بیشک یہ تیرا اور تیری بی بی کا دشمن ہے پس ایسا نہ ہو کہ تم دونوں کو جنت سے نکال دے، پھر تم مشقت میں پڑ جاؤ

آدم (علیہ السلام) کو شیطان کا بہکانا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت یہاں فرمایا کہ شیطان تم دونوں کو جنت سے زمین پر اتار دینے کی تدبیر کرے گا تم اس کا کہنا ہر گز نہ ماننا۔ کیونکہ اگر تم نے شیطان کا کہنا مان کر جس درخت کے پھل سے تم کو روکا گیا ہے، وہ پھل کھالیا تو پھر تم کو زمین پر اتار دیا جائے گا۔ جہاں تمہیں طرح طرح کی تکلیفیں اٹھانی پڑیں گی۔ محنت نہ کرو گے تو بھوکے، اور کپڑوں کی تدبیر نہ کرو گے تو ننگے رہو گے۔ ہاتھ سے پانی نہ بھرو گے تو پیاسے، اور دھوپ میں کھیتی کرو گے تو گرمی کی تکلیف اٹھاؤ گے۔ یہ جنت کی سی راحت جاتی رہے گے۔ اللہ سچا ہے، اور اس نے علم غیب کے موافق یہ بات جو آدم (علیہ السلام) کو جتلائی تھی کہ شیطان آدم (علیہ السلام) اور ان کی بی بی کے جنت سے نکلوا دینے کی تدبیر میں لگا ہوا ہے۔ آخر اس کا ظہور یہ ہوا کہ شیطان نے آدم (علیہ السلام) کے دل میں وسوسہ ڈالا کہ اس درخت کے پھل سے آدم (علیہ السلام) کو اس لئے منع کیا گیا ہے کہ اگر آدم (علیہ السلام) اس پھل کو کھا لیویں گے تو ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔ آدم (علیہ السلام) اور ان کی بیوی شیطان کے اس فریب میں آگئے، اور دونوں نے گیہوں کے دانے کھا لئے۔ گیہوں کے دانے کھاتے ہی جنت کا لباس اتر گیا، اور دونوں ننگے ہو کر انجیر کے پتوں سے اپنے ستر کو ڈھانکنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ شیطان کے بہکانے سے آدم (علیہ السلام) بہک گئے، اور انہوں نے اللہ کے حکم کو ٹال دیا۔ پھر حضرت آدم (علیہ السلام) توبہ و استغفار میں مشغول ہوئے، اور بارگاہ الہی میں دعا کی۔