20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 20:118–123

اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ Open ayah 20:118 in the Quran reader

بیشک یہاں جنت میں تو تمہارے لئے یہ (آرام) ہے کہ تم نہ (کبھی) بھوکے رہو اور نہ ننگے

وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَ لَا تَضْحٰى Open ayah 20:119 in the Quran reader

اور یہ کہ نہ تم کو اس جگہ پیاس لگے گی اور نہ دھوپ کی تپش

فَوَسْوَسَ اِلَیْهِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا یَبْلٰى Open ayah 20:120 in the Quran reader

پس شیطان نے آدم کی طرف وسوسہ ڈالا کہنے لگا :" اے آدم ! کیا میں تم کو ایسا درخت نہ بتلاؤں کہ (جس کے کھانے سے) تم ہمیشہ (زندہ) رہو اور وہ بادشاہی کہ پرانی نہ ہو "

فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١٘ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۪ۖ Open ayah 20:121 in the Quran reader

پس ان دونوں نے اس میں سے کھالیا تو ان دونوں کی شرمگاہیں ان پر ظاہر ہوگئیں اور دونوں اپنے اوپر (بدن ڈھانکنے کو) جنت کے (درختوں کے) پتے چپکانے لگے اور آدم سے اپنے پروردگار کے حکم میں لغزش واقع ہوئی تو (جو چاہا تھا اس کی) راہ نہ پائی

ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَیْهِ وَ هَدٰى Open ayah 20:122 in the Quran reader

پھر (جب انہوں نے معذرت کی تو) ان کو ان کے پروردگار نے چن لیا تو ان پر اپنی رحمت سے متوجہ ہوا اور اپنے قرب خاص کی راہ کھائی

قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِیْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى١ۙ۬ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰى Open ayah 20:123 in the Quran reader

فرمایا :" تم دونوں اکٹھے جنت سے اترو ، تم میں سے (دنیا میں) ایک دوسرے کا دشمن ہے۔ پھر اگر میری طرف سے تم سب کو ہدایت آئے ( یعنی کتاب یا رسول) ۔ پس جو میری ہدایت کا پیرو ہو وہ نہ (دنیا میں) بہکے اور نہ (آخرت میں) بدبخت ہو

اس آیت میں آدم (علیہ السلام) اور شیطان کو زمین پر اتارنے کا حکم دے کر فرمایا کہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگئے۔ مطلب یہ ہے کہ شیطان اولاد آدم کے بہکانے کی دشمنی سے کبھی باز نہ آئے گا، لیکن آسمانی کتابیں اور رسول بھیج کر قیامت تک اللہ تعالیٰ آدم کی اولاد کو شیطان کے پھندے سے بچنے کی ہدایت فرماتا رہے گا۔ اس لئے جو لوگ اس ہدایت کے پابند بن کر شیطان کو اپنا دشمن اور رسولوں کو اپنا پیشوا قرار دیں گے، وہ دنیا میں شیطان کے پھندے سے اور عقبیٰ میں اس خمیازہ سے بچتے رہیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :" اللہ کی بڑائی سے بڑھ کر شیطان کے پھندوں سے بچانے والی کوئی چیز دنیا میں نہیں ہے "۔ جب شیطان ملعون ٹھہرایا جا کر آسمان پر سے نکالا جانے لگا، تو اس نے اللہ تعالیٰ کے رو برو اولاد آدم کے بہکانے کی قسم کھائی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے جاہ وجلا کی قسم کھا کر فرمایا کہ اولاد آدم میں سے جو شخص گناہ کر کے توبہ استغفار کرتا رہے گا، تو اللہ تعالیٰ بھی اس کے ہر طرح کے گناہ معاف کرتا رہے گا۔
Ayah 20:124

وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى Open ayah 20:124 in the Quran reader

اور جو میری یاد سے منہ پھیرے گا تو بیشک اس کے لئے زندگی تنگ ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا کر کے (قبر سے) اٹھائیں گے "

عذاب قبر وقیامت کا ذکر ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے آسمانی کتاب اور اللہ کے رسول ﷺ کو نہ مانا، وہ مرتے ہی عذاب قبر میں گرفتار ہوگا۔ اور فرمایا ایسا شخص قیامت کے دن اندھا اٹھے گا۔ اور جب وہ عرض کے گا :" یا اللہ ! میں تو دنیا میں آنکھوں والا تھا " تو جواب ملے گا کہ تو نے ظاہری آنکھوں سے اللہ کی قدرت کی نشانیوں کو نہیں دیکھا، اور دل کی آنکھوں سے آسمانی کتاب کی نصیحت کو نہیں مانا۔ قیامت کے دن بعضے گناہ گار گناہوں کے انکار کو اپنے بچاؤ کا سبب خیال کریں گے، لیکن اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھ پیروں سے گناہوں کی گواہی دلوا کر ان کو دوزخ کے قابل ٹھہرائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے عذاب قبر سے پناہ مانگنے کی ہدایت فرما کر فرمایا :" نافرمان لوگ جب قبر میں منکر نکیر کے سوالوں کا پوار جواب نہ دیں گے، تو ان کی قبروں میں آگ کا فرش بچھا کر آگ کا لباس ان کو پہنا دیا جائے گا۔ اور دوزخ کی گرم ہوا بھی ان کی قبروں میں آتی رہے گی، اور ان کی قبروں کو یہاں تک تنگ کیا جائے گا کہ ان کی پسلیاں ٹوٹ جائیں گی۔ اور ایک بہرہ گونگا فرشتہ لوہے گا ایسا بھاری ہتھوڑا لے کر آئے گا کہ اگر وہ پہاڑ پر بھی مارا جائے تو پہاڑ مٹی ہوجائے۔ یہ فرشتہ اس ہھتوڑے سے ہر وقت ان لوگوں کو مار مار کر ان کے جسموں کو خاک کر دے گا، اور پھر اس سے جسم بنا کر اس میں روح پھونک دی جائے گی۔ ایسے لوگوں پر یہی عذاب قیامت تک رہے گا۔ کیونکہ عذاب کی میعاد قیامت تک کی ہے۔ اس واسطے آگے فرمایا :" قیامت کے دن کا عذاب، قبر کے عذاب سے زیادہ سخت ہوگا "۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو عذاب قبر سے پناہ مانگنے کی ہدایت فرمائی اور فرمایا کہ گناہ گار کلمہ گو لوگوں پر بھی عذاب قبر ہوگا، اللہ تمام مسلمانوں کو گناہ سے بچائے رکھے آمین ! قرآن مجید حفظ کر کے بھلانا مسئلہ : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :" قرآن شریف کے بھولنے والے کو کوڑھی ہو کر قیامت کے دن اٹھایا جائے گا "۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو قیامت کی اس رسوائی سے بچائے، اور مسلمانوں کو یہ توفیق دے کہ قرآن پڑھ کر کوئی نہ بھولے۔
Ayahs 20:125–127

قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا Open ayah 20:125 in the Quran reader

وہ کہے گا :" اے میرے پروردگار ! تو نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا اور میں تو (دنیا میں) آنکھوں والا تھا "

قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَهَا١ۚ وَ كَذٰلِكَ الْیَوْمَ تُنْسٰى Open ayah 20:126 in the Quran reader

ارشاد ہوگا اسی طرح تیرے پاس ہماری آیتیں آئی تھیں، پس تو نے ان کو بھلا دیا اور اسی طرح آج تیری کوئی خبر نہ لے گا اور ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں

وَ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ وَ لَمْ یُؤْمِنْۢ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَ اَبْقٰى Open ayah 20:127 in the Quran reader

جو کوئی حد سے گزر جائے اور اپنے پروردگار کی آیتوں پر ایمان نہ لائے اور بیشک آخرت کا عذاب تو سخت تر اور بہت ہی دیر پا ہے

رشاد ہوتا ہے کہ جو کیفیت ہم نے کفار کی بیان کی ہے، اسی طرح ہم اس کو سزا دیں گے جو نافرمانی کرے گا، اور ہمارے کلام پر ایمان نہ لائے گا، اور جو عذاب ہم نے بیان کیا ہے، وہ کسی خاص شخص کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہر کافر کے واسطے ہے۔ پھر فرمایا کہ منکر نکیر کے سوال کے بعد اچھے لوگوں کو ان کا جنت کا ٹھکانا ، اور برے لوگوں کو ان کو دزخ کا ٹھکانا فرشتے دکھا کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ ان ٹھکانون میں رہنے کے بعد تم کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ برے لوگ اپنے دوزخ کے ٹھکانے میں عذاب قبر سے زیادہ عذاب مرتے ہی دیکھ لیتے ہیں، اس لئے اس کے آگے عذاب قبر کو غنیمت جان کر یہ دعا کرتے ہیں کہ قیامت قائم نہ ہو، اور ان کو دوزخ کے ٹھکانے میں نہ رہنا پڑے۔
Ayah 20:128

اَفَلَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:128 in the Quran reader

پس ان کو اس سے راہ نہ ملی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قومیں ہلاک کردیں (جو رسولوں کو نہیں مانتی تھیں) کہ یہ ان کے بسنے کی جگہ چلتے پھرتے ہیں بیشک اس میں عقلمندوں کے لئے ( بڑی بڑی) نشانیاں ہیں

اوپر عذاب قبر اور عذاب آخرت کا ذکر تھا۔ ان آیتوں میں فرمایا :" اس عذاب کی قدر تو مرنے کے بعد کھل جائے گی، لیکن دنیا میں سوداگری کی غرض سے یہ لوگ اکثر ملک شام کا سفر کرتے رہتے ہیں۔ اور اس سفر میں قوم ثمود اور قوم لوط کی اجڑی ہوئی بستیاں انہیں نظر آیا کرتی ہیں۔ ان بستیوں کو دیکھ رک ان میں سے سمجھ دار لوگوں کو کیا یہ عبرت نہیں ہوتی کہ جو کوئی ان اجڑی ہوئی قوموں کے قدم بقدم چلے گا، اس کا بھی مرنے سے پہلے وہی انجام ہے۔ اللہ کی قدرت سے کچھ بعید ہیں ہے "۔
Ayah 20:129

وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّىؕ Open ayah 20:129 in the Quran reader

اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات نہ گزر چکی ہوتی (یعنی تاخیر عذاب) تو ضرور ان کو عذاب (دنیا ہی میں) لپٹ جاتا اور اگر ایک وعدہ (یعنی قیامت کا دن) ٹھہرا ہوا نہ ہوتا

اس آیت میں فرمایا :" ان لوگوں کی سرکشی تو یہاں تک بڑھ گئی ہے کہ اب تک سوائے مکہ کے قحط کے اور کسی عذاب کی ایسی بلا ان کو آن کر چمٹ جاتی جس سے انہیں پیچھا چھوڑانا مشکل ہوجاتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے ایک انتظام قرار پا کر ہر کام کا وقت مقرر ہوچکا ہے۔ اس وقت مقررہ تک اگر یہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو علاوہ عذاب قبر اور عذاب قیامت کے، دنیا میں بھی ان پر کوئی ایسی سخت آفت آجائے گی، جس سے ان کی ساری سرکشی خاک میں مل جائے گی۔ اللہ سچا ہے اور اللہ کا کلام سچا ہے۔ آخر کار کچھ عرصہ کے بعد بدر کی لڑائی کے وقت اہل مکہ کے بڑے بڑے سرکشوں پر آفت کے آجانے کا وقت مقررہ آن پہنچا کہ دنیا میں یہ لوگ بڑی ذلت سے مارے گئے، اور مرتے ہی عذاب قبر میں گرفتار ہوگئے۔
Ayah 20:130

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَا١ۚ وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى Open ayah 20:130 in the Quran reader

پس ان کی باتوں پر صبر کرو اور اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ پاکی بیان کرو، سورج چکنے سے پہلے (یعنی نماز فجر) اور اس کے ڈوبنے سے پہلے (یعنی نماز ظہر وعصر) اور رات کی گھڑیوں (یعنی نماز مغرب و عشاء) اس کی پاکی بولو اور دن کے کناروں پر اس امید پر کہ تم راضی ہو

نماز کی تاکید ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اے ہمارے محبوب ﷺ ! تم ان کی بکواس کا خیال نہ کرو اور ان کی گستاخیوں پر صبر کور۔ اور طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے اللہ کے عبادت میں مشغول رہا کرو۔ اور دن کے اول اور آخر میں اور رات کے وقت بھی اللہ کی عبادت میں مشغول رہا کرو۔ مقصد یہ ہے کہ آخرت کی کھتی بونے سے کسی وقت غافل نہ ہوئیں کہ آپ کو اس قدر انعام ملے کہ آپ راضی ہوجائیں۔ آخرت میں اس آیت کے وعدہ کا یہ ظہور ہوگا کہ امت کے جن گناہ گاروں کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا، وہ آپ کی شفاعت سے جنت میں داخل ہوں گے۔ صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ قیامت کے دن کا اپنی امت کا انجام یاد کر کے رونے لگے۔ اسی وقت جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور کہا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :" اے محبوب ! رونے کی کوئی بات نہیں ہے، قیامت کے دن تمہاری امت کے ساتھ وہ برتاؤ کیا جائے گا کہ تم خوش ہوجاؤ گے " عبداللہ بن عمر ؓ کی حدیث میں ہے کہ وہ خوشی یہی ہوگی کہ امت محمدیہ کے جن گناہ گاروں کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا، آپ کی شفاعت سے وہ لوگ دوزخ میں سے نکال کر جنت میں داخل کئے جائیں گے۔ اس آیت میں پنجگانہ نماز کی طرف اشارہ ہے۔ طلوع آفتاب سے پہلے کی عبادت سے نماز فجر مراد ہے۔ قبل غروب سے ظہر وعصر اور ساعت شب سے مغرب و عشاء اور اطراف انہار سے اور نمازیں مراد ہیں۔ مثلاً چاشت ، اشراق اور عین شغل دنیاوی کے وقت اللہ کی یاد کو نہ بھولنا۔
Ayah 20:131

وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ۬ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:131 in the Quran reader

اور (اے سننے والے) اپنی آنکھیں نہ پھیلا اس کی طرف جو طرح طرح کے سامان زندگی ودنیا کی آرائش ہم نے کافروں کے برتنے کے لئے دی ہے تاکہ ہم انہیں اس کے سبب فتنہ میں ڈالیں، اور رزق (یعنی جنت) تیرے پروردگار کا سب سے اچھا اور سب سے زیادہ دیر پا ہے

ان آیتوں مطلب یہ ہے کہ کافروں کے مال ومتاع کی طرف مسلمانوں کو نظر رغبت نہیں کرنی چاہئے۔ وہ مال ومتاع جو کافروں میں سے بعض کو ملا ہے۔ یہ دنیا کی زندگی کی آرائش ہے، آخرت میں کچھ کار آمد نہیں۔ اور یہ مال ومتاع دولت و حشمت ان کو آزمائش کے واسطے دیا گیا ہے، وہ مرتے وقت اس کی جدائی کا داغ دل پہ لے کر جائیں گے۔ فرمایا۔ " مال ومتاع دولت، آرائش کے اسبباب جو کفار کو دیئے گئے ہیں مثلاً عمدہ مکان اور عمدہ لباس، عمدہ عورتیں اور سواریاں ، میز کرسی، چہاڑ فانوس، شیشہ آلات وغیرہ یہ بلکل نکمی چیزیں ہیں۔ کیونکہ خدا کی یاد سے غافل کرنے والی اور آخرت کے خسارے والی ہیں، آخرت کے توشہ کا ان کے دل میں خیال بھی نہیں پیدا ہوتا۔ اور ان میں سے کوئی چیز اپنے ساتھ نہیں لے جاسکتا ۔ جب یہاں سے جاتا ہے تو خالی ہاتھ جاتا ہے۔ ہاں اس دولت ومتاع کے چھوڑنے کا صدمہ اس کے ہمراہ ہوتا ہے۔ بد دین لوگوں کو دنیا میں چند روز کے لئے اللہ تعالیٰ نے کچھ دولت و حشمت جو دی ہے نیک لوگوں کو اس پر کچھ نظر نہیں ڈالنی چاہئے۔ کیونکہ نیک لوگوں کے لئے عاقبت میں جو کچھ خدا نے ہمیشہ کے لئے رکھا ہے اس کے مقابلہ میں اس دنیا کی چند روزہ خوشحالی کی کچھ حقیقت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :" نیک لوگوں کے لئے جنت میں جو نعمتیں پیدا کی گئیں ہیں، وہ نہ دنیا میں کسی نے آنکھوں سے دیکھیں ، نہ کانوں سے سنیں، نہ کسی دل میں ان کا خیال گزر سکتا ہے "۔
Ayah 20:132

وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَا١ؕ لَا نَسْئَلُكَ رِزْقًا١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكَ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى Open ayah 20:132 in the Quran reader

اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور خود بھی اس پر ثابت قدم رہ، ہم تجھ سے کچھ روزی نہیں چاہتے، روزی تو ہم تجھے دیتے ہیں، اور عاقبت کی بھلائی پرہیزگاروں کے لئے ہے

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اے محبوب ﷺ ! اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کیا کرو، اور آپ بھی نماز میں مصروف رہا کریں۔ اللہ تعالیٰ کی بادشاہت ایسی نہیں کہ اس کو کسی کی کمائی کی محتاجی ہو۔ وہ سب کو رزق دیتا ہے، لیکن عقبیٰ میں محنت سے بڑھ کر بدلہ ان ہی لوگوں کو ملے گا، جو عقبیٰ کے بدلہ کی نیت سے نیک کام کرتے ، اور برے کاموں سے بچتے ہیں۔ جو لوگ عقبیٰ کے منکر ہیں اگر وہ رسم کے طور پر کوئی نیک کام کریں تو ان کو بدلہ ان کو دنیا میں ہی مل جائے گا، نہ عقبیٰ کے بدلہ کا انہیں یقین ہے ، نہ ان کو عقبیٰ میں کچھ بدلہ ملنے والا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :" ماں کے پیٹ میں جب بچے کا پتلا تیار ہوجاتا ہے تو اس میں روح پھونکے جانے سے پہلے اس کی تمام عمر کا رزق اللہ کے حکم سے فرشتہ لکھ دیتا ہے "۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایتیں ہیں جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :" جس طرح کسی شخص کے دروازہ پر نہر ہو، اور وہ ہر روز پانچ دفعہ اس نہر میں نہائے تو اس کے بدن پر میل کچیل کچھ نہ رہے گا۔ اسی طرح پانچوں وقت کی نماز کے پڑھنے سے ایک رات دن کے آدمی کے صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں "۔
Ayah 20:133

وَ قَالُوْا لَوْ لَا یَاْتِیْنَا بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اَوَ لَمْ تَاْتِهِمْ بَیِّنَةُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:133 in the Quran reader

اور کافروں نے کہا :" یہ (رسول) ہمارے پاس کوئی نشانی خدا کی طرف سے (اپنی نبوت کی) کیوں نہیں لاتے " (جواب یہ ہے کہ) کیا ان کے پاس پہلی کتابوں کے مضامین کا ظہور نہیں آیا

قریش مکہ کا ذکر شان نزول : مشرکین مکہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں کہتے تھے کہ اگر یہ سچے رسول ہیں تو مثلاً جس طرح صالح (علیہ السلام) نے اونٹنی کو پتھر میں سے پیدا ہوجانے کا ظاہر معجزہ اپنی قوم کے لوگوں کو دکھا دیا، اس طرح یہ رسول ہم کو کئی معزہ کیوں نہیں کھاتے، مشرکین کی اس بات کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :" امی رسول کی معرفت پچھلی کتابوں کے سچے قصے جو ان لوگوں نے سنے ہیں، کیا اس سے اتنی بات ان لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی کہ امی شخص تو درکنار کوئی اہل کتاب بھی وہ غیب کے قصے بغیر آسمانی کتاب کی مدد کے نہیں بیان کرسکتا ۔ تو اب اس میں کیا شک باقی رہا کہ قرآن کتاب آسمانی ہے۔ اور جن پر یہ قرآن نازل ہوا ہے، وہ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اور اسی آسمانی کتاب کی مدد سے اللہ کے رسول ﷺ وہ غیب کی باتیں بیان کیا کرتے ہیں۔ اپنے رسول کو بھیج کر ان پر آسمانی کتاب اس واسطے نازل فرمائی ہے کہ اللہ کی مرضی اور ناراضگی کے کاموں کے جان لینے میں لوگوں کا انجانی کا عذر نہ رہے "۔
Ayah 20:134

وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰى Open ayah 20:134 in the Quran reader

اور اگر ہم ان کو رسول کے آنے سے پہلے کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو (روز قیامت) ضرور کہتے کہ اے ہمارے پروردگار ! تو نے ہماری طرف کوئی رسول (دنیا میں) کیوں نہیں بھیجا کہ ہم تیرے کلام پر چلتے اس سے پہلے کہ ہم ذلیل ورسوا ہوتے

اس آیت میں فرمایا :" کہ اگر ہم چاہتے تو بغیر رسول بھیجے ان لوگوں کو عذاب میں مبتلا کردیتے " مگر وہ یہ عذر کرتے :" اے پروردگار ! تو نے ہمارے پاس اپنا رسول کیوں نہ بھیجا، تاکہ ہییں اپنی ذلت اور رسوائی سے پہلے تیرے احکام معلوم ہوجاتے اور ہم ان کو مان لیتے "۔
Ayah 20:135

قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَ مَنِ اهْتَدٰى۠ Open ayah 20:135 in the Quran reader

تم ان سے فرما :" سب راہ دیکھ رہے ہیں پس تم یہی راہ دیکھو، پھر تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ سیدھی راہ والے کون ہیں اور کس نے ہدایت پائی "

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے محبوب ﷺ ! تم کافروں سے کہہ دو کہ دنیا میں ہر ایک انتظار کر رہا ہے پس تم بھی منتظر رہو۔ ذرا آنکھ بند ہوجائے تو معلوم ہوجائے گا کہ سیدھی راہ پر چلنے والا اور ہدایت پانے والا کون ہے۔ جب تک دنیا میں موجود ہو یہ باغ و بہار اسی وقت تک کی ہے۔ اور جب آنکھیں بند ہوجائیں گی حقیقت کھل جائے گی ۔