21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 21:1–9

اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ Open ayah 21:1 in the Quran reader

لوگوں کا حساب (ف 1) (اعمال کا وقت) نزدیک آگیا اور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں

مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ Open ayah 21:2 in the Quran reader

جب ان کے پروردگار کی طرف سے انہیں کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اسے نہیں سنتے مگر (ایسے اور سے سنتے ہیں کہ اس کے ساتھ ) کھیلتے ہوئے

لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى١ۖۗ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۚ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 21:3 in the Quran reader

ان کے دل (اللہ کی یاد سے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ، اور ظالموں نے پوشیدہ مشورہ کیا (نبی ﷺ کی نسبت کہ یہ کون ہیں ایک تمہیں جیسے آدمی تو ہیں پھر کیا تم جان بوجھ کر جادو کے پاس جاتے ہو

قٰلَ رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 21:4 in the Quran reader

نبی نے فرمایا کہ میرا پروردگار آسمان اور زمین کی سب باتین جانتا ہے (خواہ پوشیدہ کہی جائے خواۃ علانیہ) اور وہی خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے

بَلْ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ١ۖۚ فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 21:5 in the Quran reader

بلکہ یہ ظالم لوگ بولے (یہ قرآن) پریشان خوابیں ہیں بلکہ انہوں نے خود گھڑ لیا ہے بلکہ یہ شاعر ہیں پس ہمارے پاس کوئی نشانی لائیں جیسے اگلے بھیجے گئے تھے (معجزوں کے ساتھ)

مَاۤ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا١ۚ اَفَهُمْ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:6 in the Quran reader

اے محبوب (ﷺ ) ان سے پہلے کوئی بستی ایمان نہ لائی تھی جسے ہم نے ہلاک کیا پھر کیا یہ لوگ ایمان لے آویں گے

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 21:7 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی (رسول بناکر) بھیجے کہ جنہیں ہم وحی بھیجتے تھے پس (اے منکرو) اگر تم کو (یہ بات) معلوم نہ ہوتوعلم والوں سے دریافت کرو

وَ مَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا یَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ مَا كَانُوْا خٰلِدِیْنَ Open ayah 21:8 in the Quran reader

اور ہم نے ان رسولوں کے ایسے جسم نہیں بنائے تھے جو کھانا نہ کھائیں اور نہ وہ ہمیشہ دنیا میں رہنے والے تھے

ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْنٰهُمْ وَ مَنْ نَّشَآءُ وَ اَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 21:9 in the Quran reader

پھر ہم نے جوان سے وعدہ کیا تھا اس کو سچا کردکھایا تو ہم نے انہیں نجات دی اور جن کو چاہا (نجات دی) اور حد سے بڑھنے والوں کو ہم نے ہلاک کردیا

قریش کو اللہ تعالیٰ کی تنبیہ۔ (ف 1) شان نزول : مشرکین مکہ نے دین ابراہیمی کو بگاڑ کر بت پرستی اور طرح طرح کی خرابیاں اس میں پیدا کرلی تھیں، جب قرآن شریف میں بت پرستی اور اس کی خرابیوں کی مذمت روز بروز اترنے لگی تو وہ لوگ رسول اللہ کی نسبت طرح طرح کی باتیں اور مشورے کرتے تھے کوئی جادوگر کہتا تھا کوئی شاعر کہتا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح شاعرلوگ اپنے شعروں میں خیالی باتیں باندھتے ہیں، ویسی خیالی باتیں قرآن میں ہیں، کوئی کہتا تھا، اللہ کا رسول آدمی تو نہیں ہوسکتا فرشتہ ہونا چاہیے، کوئی کہتا تھا، اگر یہ رسول ہیں تو پہلے رسولوں کی طرح کوئی ایسا تھا، اگر یہ رسول ہیں تو پہلے رسولوں کی طرح کوئی ایسا معجزہ کیوں نہیں لاتے، قریش کی ان باتوں کا جواب رسول اللہ نے اتناہی دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ سے آسمان و زمین کی کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے وہ تمہارے بےادبی کی باتوں اور خفیہ مشوروں کو خوب سنتا اور جانتا ہے ایک دن اس کا خمیازہ تم کو بھگتنا پڑے گا، لیکن قریش کے شبہات جو رسول اللہ کی نبوت کی نسبت تھے ، ان کا جواب ادا ہوجانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں، اور فرمایا کہ نبی آخرالزمان یہی ہیں۔ دنیا کی مدت ان نبی آخرالزمان کے بعد تھوری رہ گئی ہے حساب وکتاب کا وقت قریب آگیا ہے لوگ اپنی غفلت ہی میں ہیں امرحق سے منہ پھیر رہے ہیں ۔ اور ان کے پاس جو اہل کتاب رہتے ہیں، ان سے ان کو پوچھ لینا چاہیے کہ ہمیشہ سے رسول انسان ہی آتے رہے ہیں فرشتے نہیں آتے، اور قریش کہتے ہیں کہ کوئی معجزہ ایسا پچھلے انبیاء کا ساظاہر ہونا چاہیے، اس کا جواب یہ ہے کہ تجارت کی غرض سے شام کے ملک کو جب یہ لوگ جاتے ہیں تو قوم ثمود اور قوم لوط کی بہت سی بستیاں ان کو اجڑی ہوئی نظرآتی ہیں، پھر ان کو یہ کیونکر معلوم ہوا کہ پہلے رسولوں کے معجزے سے پہلی امتیں قائل ہوسکیں، اور وہ ایمان لے آئیں، یہ نہیں جانتے کہ اگر ایسا ہوتا تو یہ انجام ان پچھلی قوموں کا کیوں ہوتا جوان کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ طرح طرح کے عذابوں سے وہ قومیں اجڑگئیں پھر فرمایا کہ اللہ کے رسول کی شان میں بےادبی کے لفظ منہ سے نکالنے والے بڑے بڑے سرکش مشرکین مکہ میں بڑی ذلت سے بدر کی لڑائی میں مارے گئے اور مرتے ہی عذاب آخرت میں گرفتار ہوگئے پھر رسول اللہ نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہوکریہ فرمایا کہ اب تم نے اللہ کے وعدہ کو سچا پالیا۔ معتبر سند سے طبرانی میں روایت ہے جس میں حضرت عبداللہ بن عباس نے ذکر کیا ہے کہ اب تو یہ قریش نادانی سے رسول اللہ اور قرآن کی شان میں طرح طرح کی بےادبی کے لفظ منہ سے نکالتے ہیں ، لیکن ان میں سے جو لوگ رسول اللہ کو سچا اور قرآن کو اللہ کا کلام جانیں گے ایک وقت ایسا آنے والا ہے کہ ان کو بڑی عزت اور ناموری حاصل ہوگی۔
Ayahs 21:10–15

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ كِتٰبًا فِیْهِ ذِكْرُكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 21:10 in the Quran reader

بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب اتاری کہ جس میں تمہاری نصیحت ہے پس (ف 1) کیا تم نہیں سمجھتے

وَ كَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَّ اَنْشَاْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 21:11 in the Quran reader

اور بہت سی بستیاں ہم نے تباہ کردیں کہ جو ظالم (یعنی کافر ) تھیں اور ان کے بعد دوسری قوم کو پیدا کیا

فَلَمَّاۤ اَحَسُّوْا بَاْسَنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَرْكُضُوْنَؕ Open ayah 21:12 in the Quran reader

پس جب ظالموں نے ہمارا عذاب دیکھا تو وہ اس بستی سے بھاگنے لگے

لَا تَرْكُضُوْا وَ ارْجِعُوْۤا اِلٰى مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِیْهِ وَ مَسٰكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:13 in the Quran reader

(ہم نے کہا ) بھاگو نہیں اور لوٹ کے جاؤ اپنے اسی عیش و عشرت کی طرف جو تمہیں دیے گئے تھے اور اپنے مکانوں کی طرف بھی واپس (جاؤ) شاید تم سے پوچھاجائے

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:14 in the Quran reader

وہ کہنے لگے ، ہائے خرابی ہماری بیشک ہم ظالم تھے

فَمَا زَالَتْ تِّلْكَ دَعْوٰىهُمْ حَتّٰى جَعَلْنٰهُمْ حَصِیْدًا خٰمِدِیْنَ Open ayah 21:15 in the Quran reader

پھر وہ ہمیشہ یہی پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے انہیں نیست ونابود کردیا کٹے ہوئے کھیت کی طرح بجھے ہوئے انگاروں کی طرح

حضرت شعیب (علیہ السلام) کی شہادت اور بابل کے بادشاہ کا حملہ آور ہونا۔ (ف 1) ان آیتوں میں نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تک جو بستیاں رسولوں کی مخالفت کے سبب غارت ہوگئی تھیں ان کا ذکر فرمایا، تاکہ قریش مکہ کو عبرت ہو کہ رسولوں کی مخالفت کا نتیجہ انکے حق میں بھی یہی پیش آئے گا، جو پچھلی امتوں کو پیش آیا، پچھلی قومیں جو ہلاک ہوئیں ان قوموں میں سے سب سے آخر میں جس قوم کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ وہ اللہ کا عذاب دیکھ کر بھاگے، تفسیر عبدالرزاق میں ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت سلیمان اور حضرت عیسیٰ کے درمیانی زمانہ میں یمن کے ملک میں شعیب نام کے ایک نبی تھی جب ان کی قوم نے ان کو جھٹلایا اور شہید کرڈالا تو خدا نے ایک کافر بادشاہ کے ہاتھ سے ان کو سزا دی ، یعنی بخت نصر بابل کے بادشاہ نے اس قوم کے اوپر چڑھائی کی اس وقت دو دفعہ تو یہ یمن کے لوگ بخت نصر کی فوج پر غالب آئے جب تیسری دفعہ بخت نصر بڑی بھاری فوج لے کر آیا اس وقت یمن کے لوگ بھاگے اور فرشتوں نے طعن کے طور پر ان سے یہ کہا کہ اب کیوں بھاگتے ہو، کیا تم لوگ بڑے صاحب ثروت کہلاتے تھے، اب کیوں بھاگتے ہو، اپنے اپنے گھروں کو جاؤ شاید تمہارے دوست آشنا نوکرچاکر روپیہ پیسہ خرچ کرتے اور اس عذاب کے ٹالنے کی تم سے کوئی تدبیر پوچھیں۔ یہ بات بھی ان لوگوں کے لیے شرمندہ کرنے کے لیے کہی تھی کہ آج سب چیزیں تم سے چھینی جاتی ہیں تم نے ان کی شکرگزاری نہ کی تھی، اب انہیں دیکھ دیکھ کر حسرت کے ساتھ جان دو ، اور ان سے سوال ہونے سے یہ مراد ہے کہ تمہارے اموال اور امکانات برباد ہونے کے بعد جو نئی قومیں پیدا ہوں گی وہ پوچھیں گی، یہ کن کے مکانات تھے اور یہ مکان والے کیونکر ہلاک ہوئے وہ اپنی بربادی اور ہلاکت کے وقت یوں پکاریں گے کہ افسوس ہم ظالم تھے ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا اس وقت ان کا کہنا کیا فائدہ دیتا تھا، وہ یوں پکارتے پکارتے نیست ونابود ہوگئے کہ ان کا نام ونشان تک باقی نہیں، ان کی جگہ اور قومیں آباد ہیں۔ (مسئلہ): قیامت کی نشانیاں ظاہر ہونے کے بعد یا موت کا یقین ہوجانے کے بعد یا عذاب الٰہی آنکھوں کے سامنے آجانے کے بعد، یا سانسیں اکھڑ کر غراٹا لگ جائے، ایسی حالت میں کوئی ایمان لائے یا توبہ کرے تو ایسی توبہ قبول نہیں۔
Ayahs 21:16–18

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 21:16 in the Quran reader

اور (ف 1) ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ انکے درمیان ہے (کھیلنے کے لیے) بےفائدہ نہیں بنایا

لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّاۤ١ۖۗ اِنْ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:17 in the Quran reader

اور اگر ہمیں کھیل بنانامنظور ہوتا (مثل زن وفرند کے) تو ہم اپنے پاس سے اختیار کرتے اگر ہم کو کرنا ہوتا

بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ١ؕ وَ لَكُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ Open ayah 21:18 in the Quran reader

بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینک مارتے (یعنی مٹاڈالتے) ہیں پس حق باطل کا سرتوڑ ڈالتا ہے پھر وہ باطل اسی وقت مٹ جاتا ہے اور (اے کفار) تمہاری خرابی ہے ان باتوں سے جو بناتے ہو

(ف 1) شان نزول : مشرکین مکہ اور بہت سے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ انسان وغیرہ سب چیزن آپ ہی پیدا ہوتی ہیں ، اور آپ ہی مرجاتی ہیں، خدا کو انسان کے نیک وبد سے کیا غرض اور رسولوں کے بھیجنے سے کیا مطلب ، پھر جو کوئی قوم یا شہر برباد ہوا، اس میں کسی کے گناہ یا ثواب کا کیا دخل۔ یہ سب باتیں اسباب ارضی وسماوی سے ہوتی ہیں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں، اور فرمایا کہ آسمان اور زمین اور ان کے اندر کی کائنات از خود تو پیدا ہو ہی نہیں گئی، مطلب یہ کہ ادنی سے عقل کا آدمی دنیا میں کوئی کام کرتا ہے تو کوئی مطلب اس کام کے کرنے سے اپنے دل میں ضرور ٹھان لیتا۔ مثلا کھیتی کرتا ہے تواناج حاصل ہونے کے مقصد سے ، باغ لگاتا ہے تو میوہ کھانے کے مطلب سے، مکان بناتا ہے تو رہنے کی نیت سے، وہ خالق جس نے عقل اور عقل والوں کو سب کو پیدا کیا اور اس کے دنیا کی پیدائش جیسے بڑے کام کو یہ لوگ کس سمجھ اور عقل سے بےفائدہ اور بےمقصد ٹھہراتے ہیں ذرا بھی یہ لوگ اپنی عقل کو کام میں لائیں تو ان کی سمجھ میں آجائے گا کہ ان کا ان کی ضرورت کی چیزوں کا پیدا کرنے والا کوئی ہے اور اس کا احسان ان پر ایسا پڑا ہے کہ اس نے ان کو نیست سے ہست کردیا، ان کی ہر طرح کی ضرورت کی چیزیں مہاکیں، اس قدر سمجھ جانے کے بعد خود ان کا دل گواہی دے گا، آگے فرمایا کہ اگر ہمیں دنیا کے پیدا کرنے سے کھیل اور تماشا اور منظور ہوتا تو ہمارے ہاں کے مجردات اور نورانی چیزیں جو ہمارے اسرار ربوبیت کانمونہ ہیں وہ تماشا کے لیے کیا کم تھیں، اگر ہم سیروتماشا کے شوقین ہوتے تو مجردات کے ہی تماشے پر اکتفا کرتے، پھر فرمایا کہ ہم حق کو باطل پر پھینک مارتے ہیں جس سے وہ باطل مٹ جاتا ہے ان ہی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی غلطی کو بھی بیان فرمایا ہے جو حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیرعلیہما السلام کو خدا کا بیٹا اور فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے، وہ بیان بھی ایسا ہے کہ کوئی عقل مندی اس کے ماننے میں شبہ نہیں کرسکتا، یہ بےہودہ بکواس لگاتے ہیں اس سے ان کی خرابی ہے۔
Ayahs 21:19–21

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا یَسْتَحْسِرُوْنَۚ Open ayah 21:19 in the Quran reader

اور اس (ف 1) کے (مملوک اور اس کا مال) ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ جو اللہ کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور نہ تھکیں

یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ Open ayah 21:20 in the Quran reader

رات دن اس کی پاکی بیان کرتے ہیں سستی نہیں کرتے کیا (باوجود ان دلائل توحید کے

اَمِ اتَّخَذُوْۤا اٰلِهَةً مِّنَ الْاَرْضِ هُمْ یُنْشِرُوْنَ Open ayah 21:21 in the Quran reader

ان کافروں نے زمین کی چیزوں میں کچھ ایسے معبود بنالیے ہیں کہ وہ کچھ پیدا کرتے ہیں

(ف 1) حاصل مطلب یہ ہے کہ آسمان پر فرشتے، زمین پر جنات، اور انسان سب اللہ کے غلام ہیں، اور اللہ تعالیٰ ان کا مالک ہے، پھر کوئی باپ اپنی اولاد کو غلام بناکررکھتا ہے جو اللہ کی اولاد تھی اور اس نے اس کو غلام بناکررکھا ، جن فرشتوں کو یہ مشرک اللہ کی بیٹیاں کہتے ہیں ان فرشتوں کا یہ حال ہے کہ اللہ کی عظمت کے آگے وہ بالکل ناچیز، اور ہر وقت اس کی عبادت میں لگے رہتے ہیں کیا باپ کے آگے اولاد کی یہ شان ہوتی ہے جو اللہ کی عظمت کے آگے فرشتوں کی ہے پھر فرمایا اللہ کی تو وہ قدرت ہے کہ انسان ناپید تھا اللہ نے اپنی قدرت سے اس کو پیدا کردیا، مٹی کی بےجان چیزوں پتھر، لکڑی وغیرہ کے بت جوان مشرکوں نے بنائے ہیں کیا ان میں یہ طاقت ہے کہ وہ کسی مردہ کو زندہ کرسکتے تھے، وہ تو خود بےجان ہیں، کیا خاک کسی مردہ کو زندہ کریں گے مکہ کے قحط کے وقت ان سے اتنا بھی نہ ہوا کہ مینہ برسا کر اپنے پجاریوں کو قحط کی تکلیف سے بچالیتے، آخر اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کی برکت سے مینہ سے برسایا۔ حضور ﷺ کی دعا سے باران رحمت۔ جب مشرکین مکہ نے بہت سرکشی شروع کی تو ایسا قحط پڑا کہ ان مشرکوں کی ساری سرکشی نکل گئی اور فاقوں کے مارے نہ کھانے کی چیزیں تک کھاگئے اس قحط کے زمانہ میں ان مشرکوں نے اپنے بتوں سے مینہ برسانے کے بہت کچھ التجا کی مگر ایک بوند نہیں پڑی، آخر ابوسفیان وغیرہ نے اللہ کے رسول سے مینہ برسانے کی دعا کرنے کی التجا کی، اور اللہ کے رسول کی دعا سے مینہ برسا، مکہ کے قحط میں بتوں کی اتنی عاجزی اور اللہ کی اتنی بڑی قدرت دیکھنے کے بعد بھی مشرکین مکہ انہی بےجان عاجز پتھر کی مورتیوں کو پوجتے رہے، اور آخر اسی حال میں دنیا سے اٹھ گئے۔
Ayahs 21:22–24

لَوْ كَانَ فِیْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا١ۚ فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 21:22 in the Quran reader

اگر آسمان اور زمین (ف 2) میں اللہ کے سواخدا ہوتے تو ضرور وہ تباہ ہوجاتے ، پس اللہ عرش کا مالک (ان امور سے ) پاک ہے جو کچھ یہ لوگ بیان کرتے ہیں

لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ هُمْ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:23 in the Quran reader

اللہ جو کچھ کرے اس سے نہیں پوچھا جاتا اور ان سب سے سوال ہوگا (کیوں کہ جب اس کے بندے ہیں

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ١ۚ هٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِیَ وَ ذِكْرُ مَنْ قَبْلِیْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ١ۙ الْحَقَّ فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:24 in the Quran reader

انہوں نے اور خدا بنارکھے ہیں تم فرماؤ ! اپنی دلیل لاؤ یہ قرآن میرے ساتھ والوں (یعنی میری امت) کا ذکر ہے اور مجھ سے اگلوں (یعنی پہلے انبیاء کی امتوں کا تذکرہ ہے بلکہ ان میں اکثر حق کو نہیں جانتے ، پس (یہی وجہ ہے کہ ) سچائی سے منہ پھیرے ہوئے ہیں

(ف 2) توحید کی بہترین دلیل۔ ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اگر آسمان اور زمین میں دو خدا ہوتے تو آپس میں جھگڑے سے نہ آسمان رہتا اور نہ زمین رہتی، بس پروردگار عالم جو کہ عرش کا مالک ہے ان کی بےہودہ بکواس سے پاک ہے وہ ایسا مالک اور مختار ہے کہ اس کے فعل کا کوئی مزاحم نہیں ہوسکتا اور نہ کوئی اس سے پرسش کرسکتا ہے ، اور کافروں سے پرسش ضرور ہوگی، یعنی یہ بات نہیں ہے کہ یہ لوگ جو چاہیں سوکریں، ان کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا، بلکہ خدا وند کریم نے جو کہ زمین اور آسمان کا بادشاہ ہے ، اور اپنی سلطنت کا مختار کل ہے اس نے اپنی پیشی کا ایک دن مقرر کررکھا ہے اس روز وہ دربار عام کرے گا، اور ہر مجرم کو اپنے سامنے بلا کر اس کے افعال کی باز پرس فرمائے گا، پھر فرمایا کہ انہوں نے اللہ جل شانہ کو چھوڑ کر اس کی مخلوق میں سے چند چیزوں کو معبود بنارکھا ہے ، یہ ان کا عظیم جرم ہے اور جرم کی سزا ان کو اس دربار عام میں ملے گی تمام مخلوقات کے سامنے ذلیل و خوار ہوں گے اور مشرک اور نجس کہہ کر پکارے جائیں گے کوئی عذر ان کانہ سنا جائے گا، اور کوئی حیلہ ان کا نہ چلے گا، اس بادشاہ احکم الحاکمین کے جیل خانہ میں جس کا نام دوزخ ہے بھیج دیے جائیں گے وہ وہاں اپنے کیے کی سزا پائیں گے اور طرح طرح کے عذاب اٹھائیں گے مسلمانوں کو لازم ہے کہ اس روز کا خوف دل میں رکھیں گے اور جو لوگ کہ اس خوف کے مٹانے والے ہیں ان کی صحبت سے علیحدہ رہیں پھر فرمایا یہ لوگ شرک کو نہیں چھوڑتے تو یہ لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر بتلاتے ہیں اس واسطے اے محبوب ان کو قائل کرنیکے لیے تم ان سے کہو کہ ملت ابراہیمی میں شرک کی کوئی سند ہوتولاؤ اس کو پیش کرو، ورنہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر جو قرآن نازل فرمایا ہے اس میں حال کے اور پچھلے لوگوں کا سب حال ہے مطلب یہ ہے کہ شرک کے وبال میں جس طرح پچھلی قومیں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوچکی ہیں قرآن میں ان کے قصے جگہ جگہ اس بات کے جتلانے کے لیے بیان کردیے گئے ہیں کہ حال کے لوگوں میں جو کوئی ان پچھلی قوموں کے قدم بقدم چلے گا، اس کا انجام بھی وہی ہوگا جوان پچھلی قوموں کا ہوا، پھر فرمایا کہ وہ حق بات کے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ حق بات کو مسخراپن میں ڈال دیتے ہیں۔
Ayah 21:25

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْۤ اِلَیْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:25 in the Quran reader

اور (ف 1) ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر یہ کہ ہم اس کی طرف وحی کرتے تھے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں پس مجھی کو پوجو

(ف 1) اوپر مشرکین مکہ کو یوں قائل کیا گیا تھا کہ ملت ابراہیمی میں شرک کی کوئی سند ہو تو پیش کی جائے، اس آیت میں فرمایا ملت ابراہیمی تو درکنار پچھلے کسی رسول کی شریعت میں سے بھی یہ لوگ شرک کی کوئی سند پیش نہیں کرسکتے کیونکہ مصلحت وقت کے موافق ہر ایک شریعت کے نماز، روزہ ، حلال و حرام کے احکام، جدا جدا ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کی واحدانیت اور شرک کی برائی سے پچھلی کوئی شریعت خالی نہیں ہے۔
Ayahs 21:26–29

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 21:26 in the Quran reader

اور (ف 2) یہ کافر بولے کہ اللہ نے (فرشتوں کو) اولاد اختیار کیا وہ اللہ اس سے پاک ہے بلکہ (وہ فرشتے اس کے ) معزز بندے ہیں

لَا یَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ یَعْمَلُوْنَ Open ayah 21:27 in the Quran reader

نہیں سبقت کرتے اس سے بات میں اور وہ اسی کے حکم کے موافق عمل کرتے ہیں

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یَشْفَعُوْنَ١ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:28 in the Quran reader

وہ جانتا ہے جوان کے آگے ہے اور جوان کے پیچھے ہے اور شفاعت نہیں کرتے مگر اس کے لیے جسے وہ پسند فرمائیں اور وہ اس کے خوف سے ڈر رہے ہیں

وَ مَنْ یَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّیْۤ اِلٰهٌ مِّنْ دُوْنِهٖ فَذٰلِكَ نَجْزِیْهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 21:29 in the Quran reader

اور ان میں جو کوئی یوں کہے کہ میں اللہ کے سوا معبود ہوں تو ہم اس کو دوزخ کی سزا دیں گے ہم ظالموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں

(ف 2) شان نزول۔ یہ آیت خزاعہ کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے فرشتوں کو اللہ کی اولاد کہا تھا، اور ان کی مورتوں کی پوجا کرکے یہ اعتقاد رکھتے تھے اگر قیامت قائم ہوئی تو وہ فرشتے اللہ کے روبرو ہماری سفارش کرکے ہم کو دوزخ کے عذاب سے چھڑالیں گے ، اس کا جواب ان آیتوں میں فرمایا کہ جس طرح ان مشرکوں کے پاس بت پرستی کی کچھ سند نہیں ہے اسی طرح فرشتوں کو اللہ کی اولاد ٹھہرانے کی بھی ان کے پاس کوئی سند نہیں ہے پھر فرمایا کہ جو مشرک بغیر توبہ کے مرجائے گا تو جس طرح سوئی کے ناکہ میں اونٹ کا گھس جانا ناممکن ہے اسی طرح ایسے مشرک کی نجات ناممکن ہے پھر فرشتے ان مشرکوں کی سفارش کیونکر کرسکتے ہیں پھر فرمایا فرشتے خداوند کریم کے حکم کے ایسے مطیع ہیں کہ اس کی اجازت کے بغیر کلام نہیں کرتے، جب وہ فرماتا ہے تو بولتے ہیں اور جواب دیتے ہیں بےاجازت کوئی بات نہیں کرتے ، اللہ تعالیٰ ان کے ظاہر و باطن سے واقف ہے، اور وہ جانتا ہے کہ یہ نافرمانی نہیں کرتے، اور یہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے ہر دم کانپتے ہیں اور جو کوئی ان میں سے خدائی کا دعوی کرے تو اس کو بھی ہم دوزخ میں بھیج دیں، یہی سزا ہم ہمیشہ ظالموں کو دیتے ہیں۔
Ayahs 21:30–33

اَوَ لَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا١ؕ وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ١ؕ اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:30 in the Quran reader

کیا ان کافروں نے یہ خیال نہ کیا کہ آسمان اور زمین جو کہ دونوں پہلے بند تھے پس (ف 1) ہم نے ان کو کھولا (یعنی آسمان سے پانی برسایا اور زمین سے پیدوار کی اور ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے پیدا کیا، تو پھر کیا (اس پر بھی ) ایمان نہیں لاتے

وَ جَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِهِمْ١۪ وَ جَعَلْنَا فِیْهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 21:31 in the Quran reader

اور ہم نے زمین میں پہاڑ پیدا کیے تاکہ زمین ان لوگوں کو لے کر ہلنے نہ لگے اور ہم نے اس میں کشادہ راہیں رکھیں اس لیے کہ وہ راہ پائیں

وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا١ۖۚ وَّ هُمْ عَنْ اٰیٰتِهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 21:32 in the Quran reader

اور ہم نے (اپنی قدرت سے ) آسمان کو چھت بنایاجومحفوظ ہے (گرنے سے ) اور وہ (کفار) اس کی نشانیوں سے منہ پھیرتے ہیں

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 21:33 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو پیدا کیا اور سورج اور چاند ہر ایک ایک آسمان میں اپنے اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں

توحید کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابن عباس اور جمہور مفسرین رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کے معنی یہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو جو کہ بند تھے کھول دیا یعنی آسمان سے مینہ نہ برستا تھا ہم نے برسادیا، زمین میں نباتات اگانے کی صلاحیت نہ تھی ہم نے پیدا کرائی کیا کفار اس بات کو نہیں آزماچکے ، ہر سال گرمی اور جاڑے کی شدت میں جب بارش نہیں ہوتی اور زمین میں کچھ پیدا نہیں ہوتا دیکھتے ہیں کہ آسمان اور زمین بند ہوجاتے ہیں اللہ تعالیٰ ہی اپنی قدرت سے ان کو کھولتا ہے مینہ برساتا ہے سبزہ اگاتا ہے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی وہی نشانی ہر وقت ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہے جو نشانی انہوں نے ، مکہ کے قحط میں آنکھوں سے دیکھی پھر ایسی آنکھوں سے دیکھی ہوئی بات کا یقین ان لوگوں کے دل میں کیوں نہیں ہوتا، آیت کے اس ٹکڑے میں انسان اور اس کی ضرورت کی سب چیزوں کو پانی سے پیدا کرنے کا ذکر ہے فرشتوں اور جنابت کا ذکر یہاں نہیں ہے۔ (بعضوں نے کہا اس سے نطفہ مراد ہے) کھیتی اور باغات کی سرسبزی ان کی زندگی فرمایا، آگے فرمایا پانی پر زمین جب بچھائی گئی تو وہ ہلتی تھی، اس کے جمانے کے لیے اس میں پہاڑ ٹھونکے گئے جس سے حرکت جاتی رہی، اگر وہ حرکت باقی رہتی تو نہ کوئی مکان رہتا نہ مکین، یہ اللہ کا انعام ہے اور ان پہاڑوں میں گھاٹیاں رکھی گئیں تاکہ ایک شہر سے دوسرے شہر کو جانے میں لوگوں کو تکلیف نہ ہو، اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنایا ہے پھر فرمایا آسمان پر سورج چاند اور تارے اللہ کی قدرت کے نمونے ہیں جن کو یہ لوگ دھیان کرکے اس کی قدرت کو نہیں پہچانتے پھر فرمایا سمجھدرا شخص کے لیے رات دن بھی اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں کہ رات کی نیند سے آدمی کے دن بھر کی تھکان دور ہوجاتی ہے اور دن کو پھر چل کر ہر شخص اپنی گزران کی صورت نکال سکتا ہے پھر فرمایا جو لوگ ناسمجھی سے شیطان کے پھندے میں پھنسے ہوئے ہیں وہ ان قدرت کی نشانیوں سے ایسے غافل ہیں کہ سمجھانے سے بھی نہیں سمجھتے۔
Ayahs 21:34–35

وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ١ؕ اَفَاۡئِنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ Open ayah 21:34 in the Quran reader

اور (ف 1) ہم نے تم سے پہلے بھی کسی آدمی کے لیے ہمیشہ (دنیا میں) رہنا تجویز نہیں کیا تو کیا اگر تم انتقال فرماؤ پس یہ لوگ (دنیا میں) ہمیشہ رہیں گے

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةً١ؕ وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 21:35 in the Quran reader

ہرجاندار موت کا مزہ چکھنے والا ہے اور (اے لوگو) ہم تمہاری آزمائش کرتے ہیں بری اور بھلی حالتوں سے بطریق امتحان کے اور ہماری طرف تمہیں لوٹ کر آنا ہے

(ف 1) شان نزول : رسول اللہ کے دشمن اپنے ضلال وعناد سے کہتے تھے کہ ہم حوادث زمانہ کا انتظار کررہے ہیں۔ عنقریب ایسا وقت آنے والا ہے حضرت سید عالم کی وفات ہوجائے گی اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ دشمنان رسول کے لیے یہ کوئی خوشی کی بات نہیں ہم نے دنیا میں کسی آدمی کے لیے ہمیشگی نہیں رکھی، موت کا مزہ ہر ایک جاندار کو چکھنا ہے پھر اپنی دنیا کی خوشحالی کے نشہ میں یہ لوگ اپنی موت سے جو غافل ہیں یہ ان کی نادانی ہے دنیا کی خوشحالی اور تنگ دستی تو اللہ نے اس آزمائش کے لیے پیدا کی ہے کہ خوشحالی کی حالت میں کون اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری کرتا ہے اور کون ناشکری۔ اسی طرح تنگدستی کی حالت میں کون صبر کرتا ہے اور کون بےصبری، پھر ایک دن سب اللہ تعالیٰ کے روبروحاضر ہونے والے ہیں اس وقت ہر شخص کے عملوں کے موافق جزاوسزا کا فیصلہ ہوگا، حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا خوشحالی کے وقت شکر اور تنگ دستی کے وقت صبر ان لوگوں کا کام ہے جو پکے ایماندار ہیں۔