21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 21:36–41

وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ یَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ١ۚ وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 21:36 in the Quran reader

اور جب (ف 1) کافر تم کو دیکھتے ہیں تو تمہیں نہیں ٹھہراتے مگر ٹھٹھا ( اور آپس میں کہتے ہیں) کہ کیا یہی ہیں جو تمہارے معبودوں کو برا کہتے ہیں اور وہ (کفار خود) خدا ہی کی یاد سے منکر ہیں

خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ١ؕ سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 21:37 in the Quran reader

انسان جلد باز بنایا گیا ہے میں اب تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا پس تم مجھ سے جلدی نہ کرو

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 21:38 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ (بتاؤ) یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم (وقوع عذاب کی خبر میں) سچے ہو

لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا حِیْنَ لَا یَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 21:39 in the Quran reader

کاش ان کافروں کو اس وقت کی خبر ہوتی جب کہ یہ لوگ آگ کو نہ اپنے مونہوں سے روک سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھوں سے اور نہ ان کو کوئی مدد پہنچے گی

بَلْ تَاْتِیْهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّهَا وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 21:40 in the Quran reader

بلکہ وہ (قیامت) ان پر اچانک آپڑے گی پس وہ ان کو بدحواس کردے گی پس وہ اسے دفع نہ کرسکیں گے اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 21:41 in the Quran reader

اور بیشک تم سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ ٹھٹھا کیا گیا پس جو لوگ ان میں سے ٹھٹھا کیا کرتے تھے ان کو اسی (عذاب) نے گھیر لیا جس کا وہ ٹھٹھا اڑاتے تھے

حضور نبی کریم سے قریش کا تمسخر۔ (ف 1) شان نزول : یہ آیت ابوجہل کے حق میں نازل ہوئی نبی تشریف لے جاتے تھے وہ آپ کو دیکھ کر ہنسا، اور کہنے لگا کیا قریش کی ہدایت کو یہ نبی آئے ہیں کیا یہی نبی ہیں جو ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کی تسکین فرمائی اور فرمایا کہ جو عذاب ان مشرکوں کے لیے آخرت میں مہیا کیا گیا ہے اگر اس کو یہ لوگ جان لیں تو یہ مسخراپن کی سب باتیں بھول جائیں اور یہ بھی فرمایا کہ دنیا چند روزہ ہے آنکھوں کے سامنے ان کے بڑے مر گئے ان کو بھی اسی طرح آخر مرنا ہے مرتے ہی اس طرح کے ناگہانی عذاب میں یہ لوگ پھنس جائیں گے کہ پھر ان کا کچھ بس نہ چلے گا جب مشرکین مکہ اپنے بتوں کی عزت بڑھانے کے لیے اللہ کے محبوب سے مسخراپن کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں اپنے محبوب ﷺ کے ہاتھ سے ان بتوں کو خوب ذلت دلوائی ارشاد ہوتا ہے کہ فرضی معبودوں کی مذمت سے تو ایسے خفا ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اوصاف حمیدہ یعنی وحدانیت اور قدرت کے منکر ہیں اور ایسا برتاؤ کرتے ہیں جس سے ان کے ان اوصاف کا انکارلازم آتا ہے مطلب یہ ہے کہ حقیقی معبود کے مقابلہ میں فرضی معبودوں کی یہ قدرومنزلت پھر دارآخرت اور حیات جاودانی نصیب ہونے کی کیا شکل ہے جب رسول اللہ ﷺ کافروں کو عذاب الٰہی سے ڈراتے ہیں تو اپنی جلد بازی سے کہتے ہیں کہ وہ عذاب کب ہوگا فرمایا کہ ابھی عذاب الٰہی ظاہر ہواجاتا ہے جلدی نہ کرو۔ زندگی میں بھی ہوگا اور مرنے کے بعد بھی ہوگا ارشاد ہوتا ہے کہ عذاب الٰہی جس کے کفار منکر ہیں ناگہاں ان کو گھیر لے گا اور یہ سب شیخیاں خاک میں مل جائیں گی اور وہ ان کو بدحواس کردے گا پھر وہ اس عذاب کو ہٹا نہ سکیں گے اور ان کو مہلت نہ ملے گی یہاں اپنے محبوب ﷺ کی تسلی کے فرمایا کہ کفار کی گستاخی کچھ نئی بات نہیں آپ سے پہلے جو رسول گزرے ہیں ان کا بھی ہمیشہ مذاق اڑاتے رہے اور طرح طرح کی گستاخی کرتے پھر ٹھٹھے بازی کا نتیجہ یہ ہوا کہ عذاب الٰہی میں مبتلا ہوگئے مطلب یہ ہے کہ مشرکین میں سے جو لوگ ان پچھلے لوگوں کے قدم بقدم چلیں گے یہی انجام ان کا بھی ہوگا۔
Ayahs 21:42–46

قُلْ مَنْ یَّكْلَؤُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ١ؕ بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:42 in the Quran reader

تم فرماؤ (ف 1) کہ رات اور دن میں اللہ (کے عذاب) سے تمہاری کون حفاظت کرتا ہے بلکہ وہ اپنے پروردگار کی یاد سے منہ پھیرتے ہیں

اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا١ؕ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ وَ لَا هُمْ مِّنَّا یُصْحَبُوْنَ Open ayah 21:43 in the Quran reader

کیا ان کے پاس ہمارے سوا اور ایسے معبود ہیں کہ ان کو عذاب سے) بچاتے ہیں وہ تو خود ہی اپنی جانوں کو نہیں بچاسکتے اور نہ وہ ہمارے عذاب سے اپنی جمعیت کے ساتھ محفوظ رہیں گے

بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ؕ اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 21:44 in the Quran reader

بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو (دنیا کا) خوب سامان دیا یہاں تک کہ ان پر (اسی حالت میں ) ایک عرصہ دراز گزر گیا پس کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ ہم (ان کی ) زمین کو بذریعہ (فتوحات اسلامیہ کے) اس کے کناروں سے برابر گھٹاتے چلے آتے ہیں پس کیا یہ لوگ غالب آویں گے

قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْیِ١ۖ٘ وَ لَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ Open ayah 21:45 in the Quran reader

تم فرماؤ کہ میں تو صرف وحی کے ذریعہ سے تم کو ڈراتا ہوں (مگر تم بہرے ہو) اور بہرے جب ڈرائے جائیں تو وہ پکارنا ہی نہیں سنتے (ڈرانا تو کجا)

وَ لَئِنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:46 in the Quran reader

اور اگر انہیں تمہارے پروردگار کے عذاب کی ہوا چھوجائے تو ضرور کہیں گے کہ ہائے ہماری کم بختی بیشک ہم ظالم تھے

رسول کریم ﷺ کی نصیحت۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جب تک وقت نہیں آتا ہر بلا سے اللہ ہی اس کی نگہبانی کررہا ہے ورنہ آدمی کے پیچھے تورات دن میں اتنی بلائیں لگی ہوئی ہیں کہ دم بھر بھی اس کا جینا مشکل ہے کیونکہ قحط کے وقت یہ تو ان لوگوں کو تجربہ ہوگیا کہ ان کے بت ایسے عاجز ہیں کہ اللہ کی مدد کے بغیر کسی مصیبت کو ٹال نہیں سکتے لیکن یہ لوگ قرآن کی نصیحت کو ٹال دیتے ہیں ورنہ اس تجربہ کے بعد یہ لوگ ان کی نصیحت کے پابند ہوجاتے اور عذاب کی جلدی نہ کرتے پھر فرمایا کہ ان اور ان کے بڑوں کو وقت مقررہ تک اللہ نے چھوڑ رکھا ہے نہیں تو ان کے کرتوت ایسے تھے کہ ان کانشان بھی ان کو دین اسلام کا برحق ہونا ثابت نہیں ہوتا کہ اسلام کو دن بدن ترقی ہوتی جاتی ہے اور کفر مٹتا جاتا ہے پھر فرمایا اے محبوب ان مشکروں سے کہہ دو کہ میں تم کو اللہ تعالیٰ کا حکم اور ہر طرح کی نصیحت سناتا ہوں مگر یہ لوگ بھولے ہوگئے ہیں سچی بات ان کو بری معلوم ہوتی ہے اور وہ اس خوف آمیز پیغام کو نہیں سنتے پھر عذاب کی سختی کا ذکر فرمایا کہ اگر اس عذاب کی ذرا ابو بھی ان کی ناک میں آجائے تو سب عیش و آرام بھی بھول جائیں اور اپنی زیادتی اور گناہ گاری کا اقرار کرنے لگ جائیں۔
Ayah 21:47

وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَا١ؕ وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ Open ayah 21:47 in the Quran reader

اور (ف 1) قیامت کے دن ہم انصاف کی ترازو رکھیں گے (جس میں سب کے اعمال کا وزن ہوگا) پس کس پر کچھ ظلم نہ کیا جائے گا اور اگر رائی کے دانہ کے برابر کوئی چیز (اعمال میں سے ) ہوگی تو اس کو بھی ہم (وہاں ) لاموجود کریں گے اور ہم حساب لینے کے لیے کافی ہیں

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا یہ دنیا کا معاملہ ہے مگر آخرت میں وہ اپنے اعمال کے بدلہ سے ہرگز نہ بچ سکیں گے اعمال کی ترازو قائم ہوگی اور یہ ترازو کا قائم ہونا انصاف کے ساتھ قیامت کے دن ہوگا پھر کسی پر کچھ بھی نہ ظلم کیا جائے گا اور اگر رائی کے دانہ کے برابر بھی کسی کا عمل ہوگا وہ بھی لایاجائے گا اور ہم خود حساب لیں گے۔ حضور ﷺ کی شفاعت کا بیان : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، تین مواق تو ایسے ہیں کہ کوئی کسی کو یاد نہیں رکھے گا، پھر آپ نے اعمال کے تولے جانے اور نامہ اعمال کے بٹنے اور پل صراط کے گزرنے کے تین مواقع کا نام لیا ان تینوں سخت موقعوں پر آپ کو امت کی شفاعت اور تینوں موقعوں سے نجات کا خیال زیادہ ہوگا اور آپ کے دل پر اس وقت ایک پریشانی سی ہوگی، بعضے لوگ تو پل صراط پر ہوں گے اور بعضے پل صراط سے گزرچکے ہوں گے ادھر ان کے اعمال تلنے شروع ہوجائیں گے اس لیے پل صراط والے لوگوں کی سلامتی سے گزرجانے کی شفاعت فرمانے کے لیے گھڑی آپ پل صراط پر تشریف لائیں گے اور گھڑی میزان والے لوگوں کی شفاعت کے لیے میزان کے پاس تشریف لائیں گے چناچہ ترمذی میں حضرت انس کی جو حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت انس فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے قیامت کے دن خاص طور پر اپنی شفاعت کی التجا کی تو آپ نے میری التجا قبول فرمائی پھر میں نے آپ سے پوچھا کہ میں آپ کو شفاعت کے لیے کہاں ڈھونڈو، آپ نے فرمایا کہ پہلے مجھ کو پل صراط کے پاس دیکھنا پھر میزان کے پاس، پھر حوض کوثر پر، ان تینوں مقام پر میں کسی مقام پر ضرور ہوں گا اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پل صراط اور میزان کے پاس بھی رسول اللہ شفاعت فرمائیں گے فرمایا کہ قیامت کے دن نہایت انصاف سے لوگوں کے عمل تولے جائیں گے اور عملوں کے تولے جانے کے بعد جن کے نیک عملوں کا پلڑا بھاری ہوگا وہ جنتی قرار پائیں گے اور جن کے بدعملوں کا پلڑا بھاری ہوگا وہ دوزخ میں جائیں گے اور دوزخ میں جانے کے بعد جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا اس کی شفاعت رسول اللہ کریں گے تو ایسے لوگوں کو بھی دوزخ سے نکال کر جنت میں لے جائیں گے۔
Ayahs 21:48–50

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِیَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 21:48 in the Quran reader

اور (ف 2) بیشک ہم نے موسیٰ اور ہارون کو (حق و باطل میں) فیصلہ اور روشنی اور پرہیزگاروں کو نصیحت کی چیز (یعنی توریت ) عطا فرمائی

الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ هُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:49 in the Quran reader

وہ (متقی) جو اپنے پروردگار سے بےدیکھے ڈرتے ہیں اور وہ قیامت کا بھی خوف رکھتے ہیں

وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ١ؕ اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ۠ Open ayah 21:50 in the Quran reader

اور یہ قرآن ایک برکت والی نصیحت ہے کہ جس کو ہم نے نازل کیا ہے پھر کیا تم اس کے منکر ہو

(ف 2) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو کتاب یعنی توریت اور روشنی عطا کی تھی جو حق و باطل میں فرق کرتا تھا شبہات سے نکالتا تھا اور پرہیزگاروں کے لیے اس کتاب میں سراسر نصیحت تھی۔ متقی لوگ وہ ہیں جو اپنے پروردگار سے غائبانہ طور پر ڈرتے ہیں اور قیامت کا ڈھرکا ان کے دل میں بیٹھا ہوا ہے آگے یہ فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ پر تورات نازل فرمائی اسی طرح رسول اللہ ﷺ پر قرآن مبارک نازل فرمایا یہ ان لوگوں کی نادانی ہے کہ تورات کو کتاب آسمانی اور موسیٰ (علیہ السلام) کو انسان رسول مان کر پھر یہ قرآن کے کتاب آسمانی ہونے میں حجت پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ کا رسول انسان نہیں ہوسکتا کوئی فرشتہ ہونا چاہیے۔ فرمایا قرآن میں تورات کی باتیں بھی ہیں اور انجیل کی بھی اور موسیٰ کے بعد تورات اور انجیل میں جو خرابیاں ڈال دیں تھیں انکا بھی ذکر ہے اسی واسطے قرآن میں اکثر جگہ تورات اور قرآن کا ذکر ساتھ آیا ہے جس سے یہ جتلایا ہے کہ تو ات میں لوگوں کے دل پراثر پڑنے کی جو باتیں تھیں قرآن میں ان سے بڑھ کر ہیں اس پر بھی قرآن کی نصیحت کو لوگ نہیں مانتے وہ اللہ کے علم میں بدنصیب ٹھہرچکے ہیں رسول اللہ نے فرمایا قیامت کے دن قرآن کی پیروی کرنے والون خی تعداد، دیگر آسمانی کتابوں کی پیروی کرنے والوں کی تعداد سے زیادہ ہوگی قیامت کے دن قرآن پر ایمان رکھنے والے زیادہ ہوں گے۔
Ayahs 21:51–56

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا بِهٖ عٰلِمِیْنَۚ Open ayah 21:51 in the Quran reader

اور (ف 1) بیشک ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو پہلے ہی سے اس کی نیک راہ عطا فرمائی ( اور ہم اس کی قابلیت ) سے واقف تھے

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْۤ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ Open ayah 21:52 in the Quran reader

۔ جبکہ اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا یہ مورتیں جن کی پوجا پر تم جمے بیٹھے ہو کیا ہیں

قَالُوْا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا لَهَا عٰبِدِیْنَ Open ayah 21:53 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو انہیں کی پاجا کرتے ہوئے پایا ہے

قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 21:54 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا : بیشک تم اور تمہارے باپ دادا کھلی گمراہی میں ہو

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِیْنَ Open ayah 21:55 in the Quran reader

انہوں نے کہا : کیا تم ہمارے پاس حق لائے ہو یا یونہی کھیل کی (باتیں کرتے ہو)

قَالَ بَلْ رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الَّذِیْ فَطَرَهُنَّ١ۖ٘ وَ اَنَا عَلٰى ذٰلِكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 21:56 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا، نہیں بلکہ تمہارا پروردگار (حقیقی جو لائق عبادت ہے) وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے کہ جس نے ان کو پیدا کیا ہے اور میں اس بات کا گواہ ہوں

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر اور توحید کا ذکر۔ (ف 1) مکہ کے مشرک لوگ اپنے آپ کو حضرت ابراہیم کے طریقہ پر بتلاتے تھے اس واسطے حضرت ابراہیم کا قصہ بیان فرمایا کہ انہیں ان آیتوں میں یوں قائل کیا کہ موسیٰ اور ہارون کو نیک راہ کی توفیق سے پہلے اللہ تعالیٰ نے چھوٹی سی عمر میں ابراہیم کو نیک راہ کی توفیق دی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں یہ بات ٹھہر چکی تھی کہ آزر بت پرست کے گھرانہ میں ابراہیم ایسے نیک راہ اور اللہ کے رسول ہوں گے ان کے بعد ان کے گھرانہ میں قیامت تک نبوت چلے گی آگے ابراہیم کے نیک راہ پر ہونے کی تفصیل یہاں فرمائی کہ وہ اپنے باپ اور اپنی قوم کو بت پرستی کی حالت پر نہ دیکھ سکے۔ اس لیے انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے پوچھا کہ تم ان مورتوں کی پوجا میں ہر وقت کیوں لگے رہتے ہو ، حضرت ابراہیم کے باپ اور قوم کے لوگوں نے جواب دیا کہ ہم اپنے باپ دادا کے طریقہ پر ہیں وہ بھی یہی کیا کرتے تھے جو ہم کرتے ہیں حضرت ابراہیم نے جواب دیا کہ اپنے ہاتھ کی بنائی ہوئی مورتوں کی اس قدرتعظیم کرنے میں تم بھی بڑی غلطی میں پڑے ہو اور تمہارے باپ دادا بھی غلطی پر تھے حضرت ابراہیم کی یہ بات سن کر ان کے باپ اور ان کی قوم کے لوگوں نے حضرت ابراہیم سے کہا کہ جب تم ہم کو اور ہمارے باپ دادا کو غلطتی پر بتاتے ہو تو تم ہمارے طریقہ سے بڑھ کر کوئی ٹھیک طریقہ بتلا سکتے ہو یا بچوں خی طرح جو دل میں آتا ہے وہ کہہ رہے ہو، ابراہیم نے کہا جو منہ میں آئے وہ نہیں کہتا بلکہ میں تم کو ٹھیک طریقہ بتلاتا ہوں کہ جس اللہ نے آسمان زمین سب کچھ پیدا کیے انسان پر اس کی تعظیم واجب ہے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں اور خوب یقین سے کہتا ہوں کہ وہی اکیلا مالک ہے جس نے ان سب چیزوں کو بنایا ہے۔
Ayahs 21:57–63

وَ تَاللّٰهِ لَاَكِیْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 21:57 in the Quran reader

اور مجھے (ف 1) اللہ کی قسم ہے کہ میں تمہارے بتوں کا برا حال کروں گا جب تم (ان کے پاس سے ) پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے

فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ اِلَیْهِ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:58 in the Quran reader

پس ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سب کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا مگر ایک کو جوان سب کا بڑا تھا (چھوڑ دیا) کہ شاید وہ اس سے کچھ پوچھیں

قَالُوْا مَنْ فَعَلَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 21:59 in the Quran reader

(جب وہ پھر کر آئے اور یہ حال دیکھا تو) کہنے لگے کہ ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا بیشک وہ بڑا ہی ظالم ہے

قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًى یَّذْكُرُهُمْ یُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:60 in the Quran reader

کچھ لوگ کہنے لگے کہ ہم نے ایک جوان کو جو ابراہیم کہلاتا ہے ان (بتوں ) کا (برائی سے ) ذکر کرتے سنا ہے

قَالُوْا فَاْتُوْا بِهٖ عَلٰۤى اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَشْهَدُوْنَ Open ayah 21:61 in the Quran reader

وہ لوگ بولے تو اس کو سب آدمیوں کے سامنے لاؤ تاکہ وہ لوگ گواہی دیں (غرض وہ سب کے روبروآئے

قَالُوْۤا ءَاَنْتَ فَعَلْتَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَا یٰۤاِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:62 in the Quran reader

اور وہ لوگ بولے کہ اے ابراہیم ! کیا یہ کام ہمارے معبودوں کے ساتھ تم نے کیا ہے

قَالَ بَلْ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِیْرُهُمْ هٰذَا فَسْئَلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:63 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا : بلکہ ان کے اس بڑے بت نے کیا ہوگا، پس یہ ان (ہی ) بتوں سے پوچھو اگر بولتے ہوں

(ف 1) تفسیر سدی اور تفسیر ابن ابی حاتم میں ان آیتوں کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نصیحت سے ان کے باپ آذر اور قوم کے لوگوں نے بت پرستی نہیں چھوڑی تو حضرت ابراہیم کے دل میں یہ بات سمائی کہ کبھی موقع پاکر ان بتوں کا پورا علاج کرنا چاہے حضرت ابراہیم کی قوم کے لوگوں میں ہر سال ایک میلہ بستی کے باہر ہوا کرتا تھا جس میں بستی کے سب لوگ جایا کرتے تھے اس سال جب میلہ کا وقت آیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیماری کا عذر ظاہر کرکے اس میلہ میں نہیں گئے اور دبی ہوئی آواز میں سے بتوں کو توڑنے کی قسم کھائی، جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے قوم کے لوگوں کے بستی سے باہر چلے جانے کے بعد بت خانہ میں جاکر چھوٹے بتوں کو توڑ ڈالا اور ایک بت کو جو سب سے بڑا تھا رہنے دیا تاکہ وہ آکر اپنے بت خانہ کی کیفیت دیکھیں یا یہ معنی ہیں کہ بڑے بت کی طرف رجوع کریں قوم کے لوگ جب بت خانہ میں گھسے تو بڑے طیش میں آئے اور کہنے لگے کہ ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ گستاخی کس نے کی ہے یہ تو بڑے بےہودہ اور ظالم کا کام ہے پھر آپس میں کہنے لگے یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا کام ہے اس کے سوا اور کوئی نہیں جو ان کی برائی کرتا ہے پھر یہ مشورہ ٹھہرا کہ ان کو ایک مجمع عام میں بلایا جائے تاکہ لوگ ان کے فعل کی گواہی دیں ، غرض حضرت ابراہیم ان کی مجلس میں آئے اور انہوں نے سوال کیا کہ حضرت ابراہیم ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حرکت کیا تم نے کی ہے حضرت ابراہیم نے کہایہ تمہارے معبود ہیں تو ان میں ہر قسم کی قدرت ہیی ان میں باہم لڑائی ہوئی ہوگی بڑے نے چھوٹوں کو مارڈالا ہوگا پس تم انہیں سے پوچھ لو اگر ان میں بولنے کی طاقت ہے تو بتلادیں گے صحیح بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ اچھے لوگوں کے دل میں اللہ کا خوف زیادہ ہوجاتا ہے اس لیے ظاہری صورت کے جھوٹ پر بھی حضرت ابراہیم آپ اپنے تئیں ہمیشہ خطا وار سمجھ کر استغفار میں مشغول رہتے تھے افسوس ہے ان غافلوں کے حال پر جو حقیقی جھوٹ میں ہر دم مبتلا رہتے ہیں اور بھول کر بھی استغفار نہیں کرسکتے۔
Ayahs 21:64–66

فَرَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَنْفُسِهِمْ فَقَالُوْۤا اِنَّكُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَۙ Open ayah 21:64 in the Quran reader

پھر (ف 1) وہ اپنے دلوں میں سوچنے لگے ( اور سمجھے کہ ابراہیم حق پر ہے) پس کہنے لگے بیشک تم ہی لوگ ظالم ہو

ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِمْ١ۚ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:65 in the Quran reader

پھر (شرمندہ ہوکر) سر نیچا کرلیا اور کلمہ حق کے بعد کفر کی طرف پلٹے ( اور بولے) کہ تم کو تو معلوم ہے کہ یہ (بت کچھ) بولتے نہیں

قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكُمْ شَیْئًا وَّ لَا یَضُرُّكُمْؕ Open ayah 21:66 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا، پس کیا تم اللہ کے سوا یسی چیز کو پوجتے ہو کہ جو نہ تمہیں کچھ نفع دے اور نہ کچھ نقصان پہنچائے

(ف 1) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں کو یہ کہہ کرچپ کرادیا کہ ان بتوں ہی سے پوچھا جاوے کہ ان کو کس نے توڑا ہیی تو قوم کے لوگوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس بات کو اپنے دل میں سوچا اور آپس میں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر یہ کہا کہ بغیر دیکھے حضرت ابراہیم کو بتوں کو توڑنے کا الزام لگانا حقیقت میں ایک زیادتی اور بےانصافی کی بات ہے پھر گردن جھکا کر شرمندگی سے کہنے لگے حضرت ابراہیم تم کو کیا معلوم نہیں کہ یہ پتھر کے بت منہ سے نہیں بولتے، قوم کے لوگوں سے یہ بات سن کر حضرت ابراہیم نے ان سے کہا کہ تمہارے بت جب ایسے عاجز اور بےبس ہیں کہ جس نے ان کو صدمہ پہنچایا اس کا مقابلہ نہ کرسکے، اور تمہارے پوچھنے پر یہ بھی نہیں بتلاسکتے کہ کس شخص نے ان کو صدمہ پہنچایا تو پھر تم کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ تم اور تمہارے بت دونوں رہنمائی کے قابل ہیں کیونکہ یہ بت اپنی پوجا کرنے والوں کے ساتھ نہ کچھ بھلائی کرسکتے ہیں نہ پوجا کے چھوڑ دینے والوں کے ساتھ کچھ برائی۔
Ayahs 21:67–70

اُفٍّ لَّكُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 21:67 in the Quran reader

(پس جواب سے عاجز آئے تو آپس میں )1) وہ لوگ کہنے لگے کہ ان کو جلادو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو اگر تم کو کچھ کرنا ہے

قَالُوْا حَرِّقُوْهُ وَ انْصُرُوْۤا اٰلِهَتَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:68 in the Quran reader

(غرض کہ انہوں نے اتفاق کرکے آگ میں ڈال دیا) ہم نے (آگ کو) حکم دیا

قُلْنَا یٰنَارُ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَۙ Open ayah 21:69 in the Quran reader

کہ اے آگ ! ٹھنڈی ہوجا اور ابراہیم پر سلامتی بن جا

وَ اَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَخْسَرِیْنَۚ Open ayah 21:70 in the Quran reader

اور انہوں نے اس کا برا چاہا پس ہم نے انہیں کو زیادہ نقصان پانے والوں میں کردیا

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے آگ میں ڈالنے کا قصہ اور آگ کے گلزار ہونے کا ذکر۔ (1) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نصیحت سے قوم کے لوگ اگرچہ بت پرستی کی برائی کو سمجھ گئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں وہ لوگ دوزخی ٹھہر چکے تھے اس لیے بجائے اس کے وہ لوگ حضرت ابراہیم کی نصیحت کی کچھ قدر کرتے ، انہوں نے حضرت ابراہیم کے بارے میں یہ بات نکالی کہ حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈال دیں اور اپنے معبودوں کا ان سے بدلہ لیں اس لیے کہ تمہارے معبودوں کے ساتھ گستاخی کی ہیے اگر تمہیں کرنا ہے تو کر گزرو، پھر آپ کو ایک مکان میں قید کرلیا اور قریہ کو ثی میں ایک عمارت بنوائی اور ایک ماہ تک بکوشش تمام قسم قسم کی لکڑیاں جمع کیں اور ایک عظیم آگ جلائی جس کی تپش سے ہوا میں اڑنے والے پرندے جل جاتے تھے اور جب حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈالنے کا قصد کررہے تھے تو اس وقت آپ کی زبان مبارک پر تھا (حسبی اللہ ونعم الوکیل) جبرائیل نے آپ سے عرض کیا کہ کیا کچھ کام ہے آپ نے فرمایا تم سے نہیں، حضرت جبرائیل نے عرض کیا تو اپنے رب سے سوال کیجئے، فرمایا سوال کرنے سے اس کا میرے حال کو جاننا میرے لیے کفایت کرتا ہے اور جو فرشتہ مینہ برسانے پر تعینات ہے اور اس کو گمان تھا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آگ بجھانے کا ہوگا لیکن اللہ کا حکم کسی ذریعہ کا محتاج نہیں اللہ کے حکم سے خود آگ نے پانی کا کام کردیا، کیونکہ جس طرح پانی سے باغ سرسبز ہوتا ہے اسی طرح آگ سے گلزار قائم ہوگیا اور تمام روئے زمین کی آگ اس وقت بجھ گئی اور اگر اللہ تعالیٰ اس طرح آگ کے ٹھنڈے ہونے کا حکم دیتا جس میں حضرت ابراہیم کو راحت کا ذکر نہ ہوتا توبلاشک اس روز حضرت ابراہیم کو آگ کی ٹھنڈک سے تکلیف اٹھانی پڑتی اس قصہ کے وقت حضرت ابراہیم کی عمر سولہ برس کی تھی غرض یہ کہ آگ کی گرامی زائل ہوگئی اور روشنی باقی رہی اور ان کی مراد پوری ہوئی پھر اللہ تعالیٰ نے مچھروں کے عذاب سے نمرود کو اور اس کے لشکر کو ہلاک کیا۔
Ayahs 21:71–75

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ لُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا لِلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:71 in the Quran reader

اور (ف 1) ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو بچانکالا اس زمین کی طرف جس میں ہم نے دنیا جہان والوں کے لیے برکت رکھی تھی

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ١ؕ وَ یَعْقُوْبَ نَافِلَةً١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ Open ayah 21:72 in the Quran reader

اور ہم نے اسحاق (بیٹا) اور یعقوب (پوتا) عطا کیا، اور ہر ایک کو ہم نے نیک بخت کیا

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءَ الزَّكٰوةِ١ۚ وَ كَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَۚۙ Open ayah 21:73 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو پیشوا کیا کہ ہمارے حکم سے (لوگوں کو) ہدایت کرتے اور ہم نے ان کو وحی بھیجی اچھے کام کرنے اور نماز قائم رکھنے اور زکوۃ ادا کرنے کی اور وہ ہماری عبادت کرتے تھے

وَ لُوْطًا اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا وَّ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ تَّعْمَلُ الْخَبٰٓئِثَ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فٰسِقِیْنَۙ Open ayah 21:74 in the Quran reader

اور (اسی طرح ) لوط کو ہم نے حکومت اور علم عطا فرمایا اور ہم نے اس بستی سے اسے نجات دی جس کے (باشندے) گندے کام کیا کرتے تھے بیشک لوگ بڑے بدکار گناہ گار تھے

وَ اَدْخَلْنٰهُ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ۠ Open ayah 21:75 in the Quran reader

اور ہم نے لوط کو اپنی رحمت میں داخل کیا نیکوں میں

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ علاوہ آگ کے صدمہ بچانے کے ایسی دشمن قوم کی بستی میں رہنے کی آفت سے بھی نجات اس طرح دی کہ حضرت ابراہیم اور ان کے بھتیجے لوط (علیہ السلام) کو ملک شام کی سرسبز اور برکت والی زمین میں (کہ جہاں کثرت سے انبیاء (علیہ السلام) ہوئے) پہنچادیا اور حضرت ابراہیم نے فقط بیٹے کی دعا کی اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان میں سے ہر ایک کو اللہ کی فرمانبرداری کی توفیق دی اور ایسا پیشوا مقرر کیا کہ جن کے سبب سے بہت لوگ کو نیک راہ کی سمجھ آگئی اور نماز زکوۃ اور ہر طرح کے نیک کاموں کے بجالانے کا حکم دیا اور اپنی ذات سے بھی اس حکم کی انہوں نے پوری تعمیل کی جب حضرت ابراہیم نے ہجرت کی تو حضرت ابراہیم کے بھتیجے لوط (علیہ السلام) بھی ابراہیم کے ساتھ تھے جب ملک شام میں پہنچ کر بسنے لگے تو ملک شام کی ایک بستی سدوم کے لوگوں کو لڑکوں سے بدفعلی کرنے کی عادت تھی اسی کو گندے کام فرمایا اس کا ذکر سورة ہود میں تفصیل سے گذرچکا ہے۔