21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 21:76–77

وَ نُوْحًا اِذْ نَادٰى مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 21:76 in the Quran reader

اور (اسی طرح) نوح کا قصہ (ف 1) بیان کرو جبکہ اس سے پہلے اس نے ہمیں پکارا تو ہم نے اس کی دعا قبول کی، پس اس کو اور اس کے گھروالوں کو بڑی مصیبت سے نجات دی

وَ نَصَرْنٰهُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 21:77 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو اس قوم پر مدد دی جنہوں نے جھٹلایا تھا ہماری آیتوں کو، بیشک وہ بہت بری قوم تھی پس ہم نے ان سب کو غرق کردیا

(ف 1) جب حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے حق میں بددعا کی تو اللہ نے ان کی بددعا سن لی اور حضرت نوح (علیہ السلام) کو مع ان کے ساتھیوں کے طوفان کے عذاب سے بچا کر باقی قوم کو طوفان کے عذاب سے ہلاک کردیا، جس کا قصہ تفصیل سے سورة ہود (پارہ 12) میں گذرچکا ہے۔
Ayahs 21:78–82

وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ اِذْ یَحْكُمٰنِ فِی الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِیْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ١ۚ وَ كُنَّا لِحُكْمِهِمْ شٰهِدِیْنَۗۙ Open ayah 21:78 in the Quran reader

اور (ف 2) داؤد اور سلیمان کو یاد کرو جب وہ ایک کھیتی کا جھگڑا فیصل کرتے تھے جس وقت اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئیں اور ہم ان کے حکم کے وقت حاضر تھے

فَفَهَّمْنٰهَا سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ كُلًّا اٰتَیْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا١٘ وَّ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ یُسَبِّحْنَ وَ الطَّیْرَ١ؕ وَ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:79 in the Quran reader

پس ہم نے فیصلہ (کرنے کا طریقہ) سلیمان کو سمجھادایا اور ان دونوں کو ہم نے حکومت اور علم عطا کیا اور ہم نے پہاڑوں کو داؤد کے تابع کردیا تھا کہ وہ ان کے ساتھ تسبیح بیان کرتے تھے اور پرندوں کو بھی (تابع کردیا تھا) اور یہ (سب کچھ) ہم ہی کرتے تھے

وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ شٰكِرُوْنَ Open ayah 21:80 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو ایک پہناوا (یعنی زرہ بنانے) کی صنعت تم لوگوں کے (نفع کے) لیے سکھائی تاکہ وہ (زرہ ) تم کو (لڑائی میں) میں ایک دوسرے کی زد سے بچائے پھر کیا تم شکر کرو گے (یا نہیں)

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَةً تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ كُنَّا بِكُلِّ شَیْءٍ عٰلِمِیْنَ Open ayah 21:81 in the Quran reader

اور سلیمان کے لیے تیز ہوا کو تابع کیا کہ اس کے حکم سے چلتی اس زمین کی طرف کہ جس میں ہم نے برکت رکھی ہے اور ہم کو ہر چیز معلوم ہے

وَ مِنَ الشَّیٰطِیْنِ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَهٗ وَ یَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ كُنَّا لَهُمْ حٰفِظِیْنَۙ Open ayah 21:82 in the Quran reader

اور تابع کیا ہم نے شیاطین کی جماعت کوہ وہ جو سلیمان کے لیے دریا میں غوطہ لگاتے تھے (تاکہ موتی نکال کردیں) اور وہ اس کے سوا اور بھی کام کرتے تھے اور ہم ان کو روکے ہوئے تھے (کہ ہمارے حکم سے باہر نہ ہوں)

حضرت داؤد ، حضرت سلیمان (علیہما السلام) کا واقعہ۔ (ف 2) ان آیتوں میں داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کا ذکر فرمایا، سورة بقرہ میں گزرچکا ہے کہ جالوت اور طالوت کی لڑائی میں حضرت داؤد نے جالوت کو قتل کیا، اور حضرت شمویل کی وفات کے بعد نبوت وبادشاہت یہ سب کچھ حضرت داؤد کے خاندان میں آگیا حضرت داؤد کی بادشاہت کے زمانہ میں ایک شخص کی کھیتی دوسرے شخص کی بکریاں رات کو چر گئیں جب یہ جھگڑا حضرت داؤد کے روبرو پیش ہوا تو حضرت عبداللہ بن عباس کے قول کے مطابق حضرت داؤد نے اس جھگڑے کا فیصلہ کچھ یوں کیا کہ وہ بکریاں کھیتی والے شخص سے دلادیں اسی قوم کے موافق سلیمان (علیہ السلام) نے اس فیصلہ کا حال سن کر اپنی جگہ پر یہ کہا کہ فریقین کے لیے اس سے زیادہ آسانی کی شکل بھی ہوسکتی ہے اس وقت آپ کی عمر گیارہ سال کی تھی حضرت داؤد نے وہ صورت دریافت کی تو حضرت سلیمان نے یہ تجویز دی کہ بکری والاکاشت کرے اور جب تک کھیتی اس حالت میں پہنچے جس حالت میں بکریوں نے کھائی ہے اس وقت تک کھیتی والا بکریوں کے دودھ وغیرہ سے نفع اٹھائے اور کھیتی اس حالت کو پہنچ جانے کے بعد کھیتی والے کو کھیتی دیدی جائے۔ بکری والے کو اس کی بکریاں واپس کردی جائیں یہ تجویز داؤد (علیہ السلام) نے پسند فرمائی ان دونوں فیصلوں کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا، اگرچہ ان دونوں فیصلوں کا حال اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں اور اللہ تعالیٰ نے داود اور سلیمان دونوں کو نبوت عطا فرمائی جسکاظہور داؤد (علیہ السلام) کے حق میں تو ہوگیا سلیمان کو وارث کے طور داؤد (علیہ السلام) کے بعد ملی حضرت عبداللہ بن عباس کے قول کے مطابق اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں اور پرندوں کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ داؤد کے ذکر الٰہی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کریں، یعنی داؤد (علیہ السلام) کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق یہ بات لوح محفوظ میں لکھی جاچکی تھی کہ پہاڑ اور پرند داود (علیہ السلام) کے تابعدار رہیں گے اور داؤد کو لوہے کو آگ میں تپانے کی ضرورت نہیں تھی بلکہ تاگے کی طرح لوہے کو ہاتھ سے بٹ کر زرہ بناتے تھے جو لڑائی کے وقت دشمن کے زور سے بچنے کے لیے کام آتی تھی پھر فرمایا لوگوں کو ان کا شکریہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ادا کرنا چاہیے داؤد (علیہ السلام) کے ذکر کے بعد سلیمان کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہو ان کو ان کے تابع کردیا تھا کہ وہ ان کے تخت کو مہینہ بھر کے راستہ کے شہر کو دوپہر تک پہنچادیتی تھی اور پھر شام کو برکت والی زمین ملک شام میں وہ اپنے تخت پر بیٹھ کر آجاتے تھے آگے کا مطلب وہی ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق یہ بات لوح محفوظ میں لکھی جاچکی تھی کہ جنات اور ہوا سلیمان (علیہ السلام) کے فرمانبردار رہیں گے۔ اسی طرح فرمایا کہ ہوا کی طرح جنات کو بھی ان کا فرمانبردار کردیا تھا کہ وہ غوطہ لگا کر سمندر میں سے موتی نکالتے تھے اور ہر طرح کے اور بھی کام کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے جنات کو اسی طرح تھام رکھا تھا وہ بنی آدم کو ستا نہیں سکتے تھے۔
Ayahs 21:83–84

وَ اَیُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:83 in the Quran reader

اور (ف 1) ایوب کو یاد کرو جب کہ اس نے پکارا اپنے پروردگار کو : مجھے تکلیف پہنچ رہی ہے اور تو سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ وَّ اٰتَیْنٰهُ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ ذِكْرٰى لِلْعٰبِدِیْنَ Open ayah 21:84 in the Quran reader

پس ہم نے اس کی دعا قبول کی کہ تو جو اس کو تکلیف تھی ہم نے دور کردی اور (بغیر مانگے) ہم نے اس کو اس کے گھروالے (پھر سے) عطا فرمائے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اپنے پاس سے رحمت فرماکر اور بھی دیے اور نصیحت ہو عبادت کرنے والوں کو

حضرت ایوب (علیہ السلام) کا واقعہ ۔ (ف 1) ترمذی اور ابن ماجہ میں حضرت سعد بن ابی وقاص کی صحیح روایت ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے رسول نے فرمایا دنیا میں سب سے زیادہ آزمائش انبیاء کی ہوا کرتی ہے اس عادت الٰہی کے موافق ایوب (علیہ السلام) کی یہ آزمائش ہوئی کہ ان کے بیٹے سب مرگئے مال سارا برباد ہوگیا خود ایسے بیمار ہوئے کہ تمام بدن میں کیڑے پڑگئے بستی کے لوگوں نے بستی کے باہر ان کو ڈال دیا سوائے ان کی بی بی کے اور کسی نے ان کا ساتھ نہ دیا بعض روایتوں کے موافق تیرہ برس ، اور بعض کے موافق اٹھارہ برس تک یہی حال رہا ایک دن آپ کے کسی دوست نے یہ بات کہی کہ ایوب (علیہ السلام) سے کوئی ایسا بڑا گناہ ہوگیا ہے جو اٹھارہ برس کی تکلیف اٹھا کر بھی معاف نہیں ہوا، اس سخت کلمہ کی برداشت ایوب (علیہ السلام) نہ کرسکے اور اس کلمہ کے سننے کے بعد انہوں نے اپنی تندرستی کی دعا کی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما کر ان کو تندرست کردیا، جس کا تفصیلی ذکر قصہ سورة ص (پارہ 23) میں آوے گا تفسیر ضحاک میں عبداللہ بن عباس کا قول ہے کہ تندرست ہوجانے کے بعد حضرت ایوب کے 23 لڑکے پیدا ہوئے اور آپ کی بی بی کو دوبارہ جوانی عنایت کی ابوہریرہ سے روایت کہ اللہ تعالیٰ ان پر سونے کی ٹڈیوں کامینہ برسایا جس سے ایوب (علیہ السلام) بہت مالدار ہوگئے آگے فرمایا کہ اللہ کے نیک بندوں کے حق میں یہ قصہ اس بات کی نصیحت کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو اس طرح آزماتا ہے اور اس کا انجام یوں اچھا ہوتا ہے۔
Ayahs 21:85–86

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِدْرِیْسَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَۚۖ Open ayah 21:85 in the Quran reader

اور اسماعیل (ف 1) اورادریس اور ذوالکفل کو یاد کرو وہ سب صبر کرنے والے تھے

وَ اَدْخَلْنٰهُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 21:86 in the Quran reader

اور ہم نے انکو اپنی رحمت میں داخل کیا بیشک وہ نیک لوگوں میں سے تھے

حضرت اسماعیل ، حضرت ادریس اور حضرت ذوالکفل کا ذکر۔ (ف 1) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس اور حضرت ذوالکفل یہ سب کے سب صابر تھے اور ان سب کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا کیونکہ یہ نیک بندے تھے۔
Ayahs 21:87–88

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ١ۖۗ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:87 in the Quran reader

اور (ف 2) ذوالنون (یعنی حضرت یونس) کو یاد کرو جب وہ اپنی قوم سے غصہ کرچلا گیا تو اس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے پس اس نے اندھیریوں میں پکارا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، پاکی ہے تجھ کو بیشک میں قصوروار ہوں

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١ۙ وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 21:88 in the Quran reader

پس ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اس کو ہم نے غم سے نجات دی اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں

حضرت یونس (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 2) یہ حضرت یونس کا قصہ یہاں اور سورة صافات اور سورة ن میں کئی جگہ آیا ہے حضرت یونس ابن متی (علیہ السلام) کو اپنی قوم سے جس نے ان کی دعوت نہ قبول کی تھی اور نصیحت نہ مانی تھی اور کفر پر قائم رہی تھی آپ نے گمان کیا کہ یہ ہجرت آپ کے لیے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب صرف کفر اور اہل کفر کے ساتھ بغض اور اللہ کے لیے غضب کرنا ہے لیکن آپ نے اس ہجرت میں حکم الٰہی کا انتظار نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈالا کئی قسم کی اندھیریاں تھیں دریا کی اندھیری ، رات کی اندھیری ، مچھلی کے پیٹ کی اندھیری ، اندھیریوں میں حضرت یونس نے اپنے پروردگار سے اس طرح دعا کی جس کا ذکر ان آیتون میں ہے کہ میں اپنی قوم سے قبل تیرا اذن پانے کے جدا ہوا۔ (حدیث شریف میں ہے جو کوئی مصیبت زدہ بارگاہ الٰہی میں ان کلمات سے دعا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتا ہے (یعنی : لا الہ الاانت سبحانک انی کنت من الظالمین۔ شاہ والی اللہ نے فرمایا کہ اس کی فضیلت قرآن مجید سے ثابت ہے ) پھر حضرت یونس کی دعا قبول فرمائی کہ اس رنج وغم سے ان کو نجات دے کر پھر اسی قوم کی ہدایت کے لیے انہیں بھیجا، اسی کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اسی طرح اپنے نیک بندوں کو ہر ایک بلا سے نجات دیتا ہے زیادہ تفصیل سورة والصافات میں آئے گی۔
Ayahs 21:89–90

وَ زَكَرِیَّاۤ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَۚۖ Open ayah 21:89 in the Quran reader

اور زکریا (ف 1) کو یاد کرو جب کہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ اے میرے رب مجھے اکیلا نہ چھوڑ (یعنی مجھ کو فرزند عطا فرما کہ میرا وارث ہو) اور تو سب سے بہتر وارث ہے

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١٘ وَ وَهَبْنَا لَهٗ یَحْیٰى وَ اَصْلَحْنَا لَهٗ زَوْجَهٗ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًا١ؕ وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ Open ayah 21:90 in the Quran reader

پس ہم نے اس کی دعا قبول کی اور ہم نے اس کو یحییٰ فرزند عطا فرمایا اور اس کے لیے اس کی بی بی کو (جو کہ بانجھ تھی ) اولاد کے قابل کردیا ، بیشک وہ سب نیک کاموں میں جلدی کرتے تھے اورہ میں امید اور خوف سے پکارتے تھے اور ہمارے آگے گڑگڑاتے تھے

حضرت زکریا اور حضرت مریم (علیہما السلام) کا ذکر۔ (ف 1) حضرت زکریا کا قصہ سورة آل عمران میں اور سورة مریم میں گذرچکا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مریم (علیہما السلام) کی ماں اور زکریا کی ماں کو صاحب اولاد کیا تو زکریاعلیہ السلام کے دل میں بھی یہ امیدپیدا ہوئی کہ ان کے بڑھاپے اور ان کی بی بی کے بانجھ پنے کی حالت میں ان کو بھی اللہ تعالیٰ صاحب اولاد کردیوے، اسی امید پر انہوں نے یہ دعا کی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہیی اللہ تعالیٰ نے ان کی وہ دعا قبول فرمائی ان کی بی بی کا بانجھ پن کھول دیا اور انکے گھر میں یحییٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے آگے فرمایا زکریا ، ان کی بی بی ، ان کے بیٹے یحییٰ یہ سب نیک کامون میں چست اور اللہ کی رحمت کے امیدوار اور اس کے عذاب کے خوف سے اس کی عبادت کرنے والے تھے اور اللہ کی عظمت کے آگے اپنے آپ کو اس کا حقیر اورادنی بندہ سمجھتے تھے۔
Ayah 21:91

وَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:91 in the Quran reader

اور (ف 1) اس عورت (بی بی مریم) کو یاد کرو جس نے اپنی عفت کو محفوظ رکھا تو اس میں ہم نے اپنی روح پھونکی اور ہم نے اس کو اور اس کے بیٹے (عیسی ) کو سارے جہان کے لیے نشانی بنایا

(ف 1) سورة مریم میں اس قصہ کی تفصیل زیادہ ہے اس لیے سورة مریم کی آیتیں گویا اس آیت کی تفسیر ہیں مریم کو اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو سب جہاں والوں کے لیے عبرت اور قدرت کانمونہ بنایا کہ بن باپ کے فرزند دکھایا بالخصوص بنی اسرائیل کو۔
Ayahs 21:92–94

اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً١ۖ٘ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:92 in the Quran reader

(مسلمانو)2) بیشک تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں پس تم میری ہی عبادت کیا کرو

وَ تَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ١ؕ كُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ۠ Open ayah 21:93 in the Quran reader

اور (اس کے بعد) لوگوں نے اپنے کام آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیے (یعنی دین میں اختلاف کیا اور فرقے فرقے ہوگئے) پس سب کو ہماری طرف پھرنا ہے

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْیِهٖ١ۚ وَ اِنَّا لَهٗ كٰتِبُوْنَ Open ayah 21:94 in the Quran reader

تو جو کوئی اچھے کام کرے اور وہ ہوا ایمان والا تو اس کی کوشش اکارت (ضائع) جانے والی نہیں اور ہم اس کو لکھ رہے ہیں

(ف 2) حضرت عبداللہ بن عباس نے یہاں امت کے معنی دین کے کیے ہیں کہ اللہ کی وحدانیت اور اس کے احکام کی پابندی اصل دین ہے اس مقصد کے پھیلانے میں سارے انبیاء ایک ہیں لیکن جن لوگوں کی ہدایت ک لیے انبیاء بھیجے گئے انہوں نے انبیاء کی نصیحت کو نہیں مانا اور ایک دین کے بہت کے دین ٹھہرائے مثلا کوئی ستارہ پرست وآتش پرست، پھر فرمایا ایک دن یہ سب اللہ کے روبروحاضر ہوں گے اور ایماندار کے نیک عمل کی جزارائیگاں نہ جاوے گی کیونکہ دس گنا سے لے کر سات سوگنا اور اس سے بھی زیادہ اجر جن نیکیوں کا ہے وہ سب نیکیاں دفتر الٰہی میں صبح وشام لکھی جاتی ہیں اسی طرح بد لوگ اپنی بدی کی سزا سے کس طرح بچ نہ سکیں گے کہ ان لوگوں کے سب برے عملوں کا اعمال نامہ بھی دفتر الٰہی میں موجود ہے۔
Ayahs 21:95–96

وَ حَرٰمٌ عَلٰى قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَاۤ اَنَّهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:95 in the Quran reader

اور (ف 1) حرام ہے اس بستی پر جسے ہم نے ہلاک کردیا کہ وہ (دنیا میں) پھر لوٹ آویں

حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ Open ayah 21:96 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب یاجوج وماجوج کھولے جائیں اور وہ ہر بلندی سے ڈورتے ہوں گے

(ف 1) حضرت عبداللہ بن عباس کے قول کے موافق آیت کا حاصل مطلب یہ ہے کہ نافرمانی کے سبب سے جس بستی والوں کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کردیا ایسے لوگوں پر قیامت تک دنیا میں پھر آنا انتظام الٰہی میں حرام ٹھہرچکا ہے ایسے نافرمان لوگ جب مرجاتے ہیں اور منکر نکیر کے جواب کے لیے ان کے جسم میں روح اللہ کے حکم سے آجاتی ہے تو ایسے لوگوں کاٹھکانہ ان کو دوزخ دکھاکر اللہ کے فرشتے ان سے یہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن اسی ٹھکانے میں رہنے کے لیے تم کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اس وقت ایسے لوگ دنیا میں دوبارہ آنے اور نیک کام کرنے کی تمناظاہر کرتے ہیں تو ان کو یہی جواب ملتا ہے کہ اب دنیا میں قیامت تک دوبارہ جاناممن نہیں یاجوج اور ماجوج جو کہ دو قبیلے ہیں ان کانکالنا قیامت کی علامت ہے۔
Ayah 21:97

وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا هِیَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ یٰوَیْلَنَا قَدْ كُنَّا فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:97 in the Quran reader

اور (ف 2) (خدا کاٹھہرایا ہوا) سچا وعدہ قریب آیا (یعنی قیامت) پس ناگہاں یہ حال ہوگا کہ کافروں کی آنکھیں (دہشت سے ) کھلی کی کھلی رہ جائیں گی اور وہ کہیں گے کہ ہائے ہمارے خرابی ! بیشک ہم اس (ہولناک گھڑی ) سے غفلت میں تھے بلکہ ہم ہی ظالم تھے

قیامت کا ذکر ۔ بت پرستوں کا حشر۔ (ف 2) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جب یاجوج ماجوج نکلیں گے تو ان کی کیفیت یہ ہوگی کہ تمام عالم میں پھریں گے اور تمام دریاؤں کا پانی پی جائیں گے اور خشک وتر جو کچھ پائیں گے کھائیں گے اس وقت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی دعا کی برکت سے سب کو ہلاک کردے گا، اسوقت اللہ تعالیٰ کا سچا وعدہ قریب ہوجائے گا اور قیامت قائم ہوگی تو اسوقت کافروں کی کیفیت یہ ہوگی کہ خوف اور دہشت کے مارے رحمت کے انتظار میں اوپر کی طرف ٹکٹکی بندھ جائے گی اور وہ کہیں گے ہمارے حال پر افسوس ہے ہم غفلت میں تھے اور اس حال سے بیخبر تھے اور بیخبر کیا تھے بلکہ ظالم تھے کیونکہ پیغمبروں کی بات ہم نے نہ سنی اور ان کو جھٹلاتے اور جھگڑا کرتے تھے۔
Ayahs 21:98–99

اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ Open ayah 21:98 in the Quran reader

بیشک تم (ف 1) اے مشرکین) اور وہ تمام چیزیں جن کو اللہ کے سوا پوجا کرتے ہو (یعنی بتوں کی) سب دوزخ کا ایندھن ہو، تم سب اس میں داخل ہوگے

لَوْ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوْهَا١ؕ وَ كُلٌّ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 21:99 in the Quran reader

اگر یہ (تمہارے بت) معبود ہوتے تو اس (دوزخ ) میں نہ جاتے اور یہ سب اس میں ہمیشہ رہیں گے

(ف 1) شان نزول۔ مطلب یہ ہے کہ مشرک لوگ اور جن بتوں کو یہ پوجتے ہیں قیامت کو یہ سب دوزخ کا ایندھن بنائے جائیں گے اور ہمیشہ دوزخ میں انکاٹھکانہ ہوگا ان سے پوچھاجائیگا کہ اگر ان کے بت معبود ہونے کی صلاحیت رکھتے تو خدا کے نزدیک انکی بھی قدرومنزلت ہوتی کہ خدا ان کو دوزخ کا ایندھن نہ ٹھہراتا، جب نبی نے یہ آیتیں مشرکوں کو پڑھ کر سنائیں وایک شخص ابن الزبعری شاعر نے نبی سے بڑا جھگڑا کیا اور کہا کہ سو اللہ تعالیٰ کے حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیر اور ملائکہ کا کیا حال ہوگا کیونکہ یہود تو حضرت عزیر کو پوجتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آگے کی آیتیں نازل فرمائیں اور اس بارے میں فرمایا کہ جن اللہ تعالیٰ نجات کا وعدہ فرماچکے ہیں وہ دوزخ سے دور رکھے جائیں گے پھر یہ سن کر ابن الزبعری مسلمان ہوگئے اور نبی اور مسلمانوں کی مدح میں بہت شعر انہوں نے کہے حاصل یہ ہے کہ کلمہ گناہ گار جب دوزخ سے نکل کر جنت میں جاچکیں گے اور کلمہ کے منکر مشرک لوگ اور ان کے بت دوزخ میں رہ جاویں گے تو ان کو یہ حکم ہوگا کہ اب تم اور تمہارے جھوٹے معبود ہمیشہ دوزخ میں پڑے رہیں گے یہ حکم سن کر یہ لوگ روئیں گے چلائیں گے اور ان میں ہر ایک شخص اپنے اپنے عذاب کی تکلیف میں ایسا بدحواس ہوگا کہ ایک شخص دوسرے کے رونے کی آواز بھی نہ سنے گا۔
Ayahs 21:100–103

لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ هُمْ فِیْهَا لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 21:100 in the Quran reader

وہ اس دوزخ میں چیخ دھاڑ کریں گے اور وہ اس جگہ کچھ نہ سنیں گے (ف 2) اپنے رونے کے غل میں)

اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى١ۙ اُولٰٓئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ Open ayah 21:101 in the Quran reader

بیشک وہ جن کے لیے ہماری طرف سے بھلائی کا وعدہ ہوچکا وہ لوگ دوزخ سے (اس قدر) دور رکھے جاویں گے

لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَا١ۚ وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 21:102 in the Quran reader

(کہ) دوزخ (کے جوش) کی آواز بھی نہ سنیں گے اور وہ لوگ اپنی جی چاہیں خواہشوں میں ہمیشہ رہیں گے

لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:103 in the Quran reader

انہیں (نفخہ آخیرہ کی) بڑی سے بڑی گھبراہٹ غم میں نہ ڈالے گی اور قبر سے نکلتے وقت) فرشتے ان کی پیشوائی کو آئیں گے ( اور کہیں گے) کہ یہی تو تمہارا وہ دن ہے جس کا تم کو وعدہ دیاجاتا تھا

(ف 2) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ منکر نکیر کے سوال و جواب کے بعد فرشتے اللہ کے حکم سے نیک لوگوں کو ان کا جنت کاٹھکانہ دکھا کر یہ وعدہ خوشخبری کے طور پر سنادیتے ہیں کہ اسی ٹھکانے میں ہمیشہ رہنے کے لیے تم کو قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیا جائے گا توقبر سے اٹھتے ہی وہ خوش خبری کا وعدہ ان نیک لوگوں کو اللہ کے فرشتے پھر یاد دلائیں گے کہ تمہارا وہ دن ہے کہ جس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے وعدہ دیا تھا یعنی یہ تمہارے سیر وتماشا کا دن ہے اور عزت و عظمت کا۔
Ayah 21:104

یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ كَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ١ؕ كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗ١ؕ وَعْدًا عَلَیْنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:104 in the Quran reader

جس (ف 1) دن ہم آسمانوں جو اس طرح لپیٹ دیں گے جسے سجل فرشتہ نامہ اعمال کو لپیٹتا ہے ہم نے جس طرح اول بار پیدا کیا تھا اسی طرح دوبارہ پیدا کردیں گے یہ ہمارے ذمہ وعدہ ہے بیشک ہم ضرور (اس کو پورا) کریں گے

نامہ اعمال لکھنے والے فرشتہ کا نام۔ (ف 1) ان آیتوں میں ارشاد ہوتا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آسمان کو لپیٹ لیوے گا جس طرح سجل فرشتہ یعنی کاتب مکتوبوں (نامہ اعمال ) کو لپیٹ دیتا ہے سجل ایک فرشتہ کا نام ہے انسان کے منہ سے جو کچھ نکلتا ہے اس کو کراما کاتبین لکھ لیتے ہیں۔ پھر جمعرات کے روز اس میں سے آسمان پر صرف وہ باتیں چھانٹ لی جاتی ہیں جو ثواب یا عذاب کے قابل ہیں، غرض اس کام کا دفتر جو آسمان پر ہے اس کے اہل دفتر میں سجل کا نام کافرشتہ ہے جو کہ دوسرے آسمان پر ہے آگے آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اب بچہ ننگے پاؤں، بدن بغیر ختنہ کیا ہواماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے قیامت کے دن سب لوگ قبروں سے اسی حالت میں اٹھیں گے پھر فرمایا دوبارہ پیدا کرنے کا اللہ تعالیٰ کا ایک یقینی وعدہ ہے جس کا ظہور ضرور ہوگا۔
Ayahs 21:105–106

وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ Open ayah 21:105 in the Quran reader

اور (ف 2) بیشک ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا کہ اس زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے

اِنَّ فِیْ هٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِیْنَؕ Open ayah 21:106 in the Quran reader

بیشک اس (قرآن ) میں (ہدایت کا) کافی مضمون ہے ان لوگوں کے لیے جو عبادت کرنے والے ہیں

(ف 2) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ پہلے لوح محفوظ میں اور لوح محفوظ کے بعد انبیاء پر جو کتابیں نازل کی گئیں ان میں اللہ تعالیٰ نے یہی لکھا ہے کہ جنت کی زمین کے وہی لوگ وارث ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نیک ٹھہرچکے ہیں۔
Ayahs 21:107–111

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:107 in the Quran reader

اور (اے محبوب،1، ﷺ ہم نے تم کو جہان بھر کے لیے رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے

قُلْ اِنَّمَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 21:108 in the Quran reader

تم فرماؤ، مجھے تو یہی وحی آئی ہے کہ تمہار امعبود (حقیقی) صرف ایک ہی خدا ہیے تو کیا تم اسلام لاتے ہو (یا نہیں)

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُكُمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ وَ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:109 in the Quran reader

پس اگر یہ لوگ نہ مانیں تو فرمادو کہ میں نے تم (سب ) کو (امرحق سے) برابر آگاہ کردیا اور میں کیا جانوں کہ قریب ہے یا دور ہے وہ جو تمہیں وعدہ دیاجاتا ہے

اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 21:110 in the Quran reader

بیشک اللہ جانتا ہے آواز کی بات کو اور جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو

وَ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 21:111 in the Quran reader

اور میں نہیں جانتا ہوں شاید اس (مہلت) میں تمہارے لیے آزمائش ہو اور ایک وقت (یعنی موت) تک (اس سے ) فائدہ ہو

آنحضرت ﷺ کا جہاں بھر کے لیے باعث رحمت ہونا۔ (ف 1) ان آیتوں میں اردشاد ہوتا ہے کہ ایسے لوگ آسمان و زمین میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ہزار نشانیوں سے اللہ تعالیٰ کو تو پہچان سکتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی مرضی اور نامرضی کے کاموں کی تفصیل ان کو بغیر آسمانی کتاب کے نہیں معلوم ہوسکتی تھی اس واسطے خالص دل سے اللہ کی عبادت کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس قرآن شریف میں اپنی مرضی اور نامرضی کی باتیں کافی طور پر بتلا دی اور اے رسول اللہ کے تم کو جو اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر بھیجا ہے تو یہ جہان بھر کے لوگوں کے حق میں الہ کی رحمت ہے کیونکہ جو لوگ تمہاری فرمانبرداری اور قرآن کی نصیحت کے پابند رہیں گے ان کو دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ حکومت و ثروت سب کچھ دے گا اور عقبی میں ان کے نیک کاموں کے بدلہ میں ہمیشہ کے لیے عیش کا سامان عطا فرماوے گا اور نافرمان لوگوں کے حق میں رحمت یوں ہے کہ آپ کے قدموں کی برکت سے ان عذابوں سے دنیا میں وہ بچ گئے جن میں سابقہ قومیں ہلاک ہوئی تھیں آگے فرمایا کہ اے محبوب تم مشرکوں سے کہہ دو کہ مجھ کو قرآن میں یہی حکم ہے کہ جس اللہ نے انسان کو اور انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے تو انسان پر اللہ تعالیٰ کا یہ حق ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں انسان کسی کو شریک نہ کرے۔ اس حق کے ادا ہونے کے بعد انسان کا اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہوگا کہ ایسے لوگوں کو قیامت کے دن دوزخ کے عذاب سے بچاوے، اس نصیحت کے بعد ان مشرکوں سے پوچھا جاوے گا کہ یہ لوگ اسلام لاتے ہیں یا اپنے آپ کو عذاب کے قابل ٹھہراتے ہیں پھر فرمایا کہ اس نصیحت کو سن کر اگر یہ لوگ مکڑائی کریں تو ان سے کہہ دیاجائے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے حق کے ادا کرنے اور نہ کرنے دونوں باتوں کا انجام تم لوگوں کو جتلادیا ہے اور میں نہیں ہی کہہ سکتا کہ قرآن کی نصیحت نہ ماننے والوں پر دیرسویر کب عذاب آجائے، پھر فرمایا کہ ان لوگوں کے دل میں جو شرک کا عقیدہ ہے وہ ان کے ہاتھ پیروں کے شرک کے کام اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہیں، اور میں کچھ نہیں جانتامگر اتنا خیال کرتا ہوں کہ جن امور کا تم سے وعدہ ہوا ہے اس کی تاخیر میں تمہارے لیے آزمائش ہے اور فتنہ ہے اور ایک وقت خاص تک مہلت ہے یعنی موت تک زندگی سے لطف اٹھاؤ۔
Ayah 21:112

قٰلَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ۠ Open ayah 21:112 in the Quran reader

نبی نے عرض کی کہ اے میرے رب (ف 1) ! حق فیصلہ فرمادے اور ہمارا پروردگار بڑا مہربان ہے اسی سے ان باتوں میں جو تم بناتے ہو مددمانگی جاتی ہے

(ف 1) اے رسول اللہ کے : تم اپنے پروردگار سے اس طرح عرض کرو کہ یا الٰہی ان کافروں اور مسلمانوں میں سچا فیصلہ کردے اور یہ جھگڑا چکا دے اور کہہ دو کہ ہمارا پروردگار جو بڑا مہربان ہے ان باتوں پر مدد چاہی جاتی ہے جو تم جھوٹ بناتے ہو۔