22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 22:1–2

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ Open ayah 22:1 in the Quran reader

اے لوگو (ف 1) اپنے پروردگار (کے عذابٗ سے ڈرو بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی (بھاری ) چیز ہے

یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ Open ayah 22:2 in the Quran reader

جس دن کہ تم لوگ اس کو دیکھو گے اس دن (کسی کو کسی کا ہوش نہیں رہے گا) تمام دودھ پلانے والیاں اس کی ہیبت سے ) اپنے دودھ پیتے بچہ کو بھول جائیں گی اور ہر حاملہ اپنا حمل ڈال دے گی ، اور (اے مخاطب) تجھے لوگ نشہ کی سی حالت میں نظرآویں گے حالانکہ وہ نشہ میں نہ ہوں گے و لیکن اللہ کا عذاب سخت ہے

قیامت کے زلزلہ کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اے لوگو ! اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرو اور اس کی اطاعت میں مشغول ہو، بیشک قیامت کا زلزلہ سخت خوفناک اور بڑی بھاری چیز ہے، جب تم اس کو دیکھو گے یعنی پہلے صور کے وقت جو زمین ہلے گی اور پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجاویں گے اور آسمان سے آواز آئے گی کہ اے لوگو ! خدا کا حکم آپہنچا ، پس مخلوق میں ایک بڑا تہلکہ اور کہرام پڑجائے گا اور ایسی دہشت ہوگی کہ دودھ پلانے والی مائیں اپنے دودھ پیتے بچہ کو بھول جائیں گی اور ہر ایک حاملہ اپنا حمل ڈال دے گی بلکہ عذاب الٰہی کے خوف سے لوگوں کے ہوش جاتے رہیں گے۔
Ayahs 22:3–4

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّبِعُ كُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍۙ Open ayah 22:3 in the Quran reader

اور (ف 2) کچھ ایسے لوگ ہیں کہ جو اللہ کے معاملہ میں بےجانے بوجھے جھگڑا کرتے ہیں اور ہر شیطان سرکش کے پیچھے ہولیتے ہیں

كُتِبَ عَلَیْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ یُضِلُّهٗ وَ یَهْدِیْهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 22:4 in the Quran reader

حالانکہ) شیطان کی بابت لکھاجاچکا ہے کہ جو شخص اس سے تعلق رکھے گا (یعنی اس کی پیروی کرے گا) تو وہ اس کو گمراہ کرکے رہے گا اور اس کو راستہ دکھلائے گا عذاب دوزخ کا

گستاخانہ اسلام کا انجام۔ (ف 2) یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی جو بڑا ہی جھگڑالو تھا اور فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں اور قرآن کو پہلوں کے قصہ بتاتا تھ اور حشر کا بڑاسخت منکر تھا تو بدر کی لڑائی میں وہ حالت کفر میں مارا گیا اور اس کے ساتھی دو ایک اور شریر تھے جو بجلی گرکرہلاک ہوئے ایسے لوگوں کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی جس کے حاصل معنی یہ ہیں کہ نضر بن حارث اور اس کے ساتھیوں کی طرح آدمی کو دین کی بات میں عقل سے جھگڑنا نہیں چاہیے ، کیونکہ جن باتوں کا شریعت میں حکم دیا گیا ہے ان میں سے اکثر باتوں کی مصلحت کو عقل نہیں پہنچ سکتی ، اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ذریعہ جو دین کی باتیں بتلادی ہیں ان باتوں کو چھوڑ کر جو شخص عقلی شیطانی وسوسوں میں پڑے گا تو دین ودنیا کاٹوٹا اٹھانا پڑے گا۔
Ayahs 22:5–7

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَیْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَیِّنَ لَكُمْ١ؕ وَ نُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْلَا یَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍ Open ayah 22:5 in the Quran reader

اے لوگو (ف 1) اگر تم قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے سے شک (و انکار) ہو تو (یہ غورکرو) بیشک ہم نے تمہیں پیدا کیا (یعنی آدم کو) مٹی سے ، پھر نطفہ سے پھر خون کے لوتھڑے سے ، پھر گوشت کے ٹکڑے سے کہ کسی کی پوری صورت بنائی اور کسی کی ناقص تاکہ اپنی (قدرت) کی نشانیاں تم کو ظاہر کریں۔ اور ہم (ماں کے) رحم میں جس کو چاہتے ہیں ایک وقت مقرر تک ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر تم کو بچہ بناکرنکالتے ہیں پھر یہاں تک پرورش کرتے ہیں کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور کچھ تم میں سے (جوانی سے پہلے ہی مرجاتے ہیں ) اور کچھ تم میں سے نکمی عمر (یعنی بڑھاپے) تک پہنچائے جاتے ہیں کہ سمجھ بوجھ کا درجہ پاکر پھر ناسمجھی کی حالت میں پڑجاتے ہیں اور تم زمین کو خشک دیکھتے ہو پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ وتروتازہ ہوجاتی ہے اور پھولتی ہے اور ہر قسم کی خوشنما نباتات اگاتی ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّهٗ یُحْیِ الْمَوْتٰى وَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۙ Open ayah 22:6 in the Quran reader

یہ (سب کچھ اس لیے کہ) اللہ ہی حق ہے اور یہ کہ وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور یہ کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے

وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 22:7 in the Quran reader

اور اس لیے کہ قیامت آنے والی ہے اور اس میں کچھ شک نہیں اور یہ کہ اللہ (قیامت میں) قبروالوں کو (دوبارہ زندہ کرکے) اٹھائے گا

منکرین حشر کے لیے دوناقابل تردید دلیلیں۔ (ف 1) اوپر منکرین حشر کا ذکر تھا یہاں آخر رکوع تک دودلیلیں حشر کی بیان فرمائی۔ پہلی دلیل کا حاصل یہ ہے کہ جس اللہ میں یہ قدرت ہے کہ اسنے پانی سے مٹی کا کام لے لیا اس کو مٹی سے مٹی کا کام لینا کون سی عقل سے یہ لوگ مشکل بتاتے ہیں کیونکہ ماں کے پیٹ یعنی رحم میں اس نے پانی جیسی پتلی چیز نطفہ سے آدمی کا پتلا بناکرپتلے میں روح پھونک دی ہے ۔ حشر میں تو مٹی سے مٹی کا پتلا بناکر اس پتلے میں روح پھونک دی جائے گی صحیح و بخاری ومسلم میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی حدیث بھی گزرچکی ہے کہ عورت کے رحم میں نطفہ چالیس دن کے بعد جماہوا خون ہوجاتا ہے اور پھر چالیس دن کے بعد جمے خون کا ایک گوشت کا ٹکڑا بن جاتا ہے ۔ اگر اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا ہے تو بچہ کا نقشہ ، آنکھیں ، کان اور سب اعضاء اس گوشت کے ٹکڑے سے بن جاتے ہیں نہیں توحمل ساقط ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ نے یہ اس لیے رکھا کہ لوگ اس کی قدرت کو پہچانیں۔ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جو بچہ پورا ہونے والاہوتا ہے وہ حمل کی پوری مدت تک ماں کے پیٹ میں رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کارزق، اس کی عمر، اس کے عمل ، اس کا شقی یا سعید ہونا لکھتا ہے پھر اس مین روح پھونکتا ہے اور پھر بچہ پیدا ہوکر جوانی کو پہنچتا ہے۔ کوئی جوانی سے پہلے، اور کوئی بوڑھا ہوکر مرتا ہے اللہ تعالیٰ انسان کی پیدائش اس طرح فرماتا ہے اور اس کو ایک حال سے دوسرے حال کی طرف منتقل کردیتا ہے یہ اس لیے بیان فرمایا گیا کہ تم اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت و حکمت کو جانو اور اپنی ابتدائی پیدائش کے حالت پر نظر رکھو اور سمجھ لو یہ جو قادر برحق ہے بےجان مٹی میں اتنے انقلاب کرکے جاندار آدمی بناتا ہے وہ مرے ہوئے انسان کو ندہ کرے تو اس کی قدرت سے کیا بعید ہے۔ دوسری دلیل کا حاصل یہ ہے کہ جو زمین اللہ کے حکم سے اس طرح کے جاندار صاحب عقل لوگوں سے بڑھ کر کام کرتی ہے کہ ساری دنیا کے جاندار صاحب عقل کاریگر اگر جمع ہوجاویں تو جس طرح کے ہزاروں پھل ہزاروں پھول، زمین میں سے ہر موسم پر سوکھے ہوئے بیجوں سے پیدا ہوتے ہیں اسی طرح کا ایک پھل ایک پھول یہ دنیا بھر کے لوگ پیدا نہیں کرسکتے، پھر اس زمین کو اللہ کے حکم سے انسان کو پتلا بنادینا اور اللہ تعالیٰ کو اس پتلے میں روح پھونک دینا کیا مشکل ہے، غرض ان آیتوں میں جو باتیں ہیں ان باتوں میں سے ہر ایک کو آدمی غور سے دیکھے تو ہر انسان کو اپنی پیدائش کے حال پر غور کرنے سے زمین میں کھیتی اور باغات کے ذریعہ سے جو اناج پھل پھول پیدا ہوتے ہیں ان کے حال کو دیکھنے سے یہ اچھی طرح سے ذہن نشین ہوسکتا ہے کہ ہمیشہ جو کچھ سب کی آنکھوں کے سامنے ہورہا ہے وہ حشر سے سینکڑوں درجہ بڑھ کر مشکل ہے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ دوسرے صور سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس کی تاثیر سے اس طرح سب مرے ہوئے لوگوں کے جسم تیار ہوجائیں گے جس طرح اب مینہ کی تاثیر سے ہر طرح کی پیداوار زمین میں تیار ہوجاتی ہے اس کے بعد ان جسموں میں روحیں پھونک دی جاویں گی پس اللہ تعالیٰ کو دوبارہ پیدا کرنا ایسا ہی جیسے ہر سال کھیتی کی پیداوار سب کی آنکھوں کے سامنے ہے۔
Ayahs 22:8–10

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍۙ Open ayah 22:8 in the Quran reader

اور (ف 1) کوئی آدمی وہ ہے کہ اللہ کی شان میں یوں جھگڑتا ہے بغیر علم کے اور بغیر دلیل کے اور بغیر کسی روشن نوشتہ کے حق سے اپنی گردن موڑ ہوئے

ثَانِیَ عِطْفِهٖ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَهٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ نُذِیْقُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 22:9 in the Quran reader

تاکہ لوگوں خو اللہ کے رستہ سے بہکا دے ایسے شخص کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم اس کو جلتی آگ کا عذاب چکھادیں گے

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰكَ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 22:10 in the Quran reader

اور (اس سے کہا جائے گا) یہ تیرے عمل بد کا بدلہ ہے جس کو تیرے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا اور یہ کہ اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا

(ف 1) شان نزول۔ یہ آیت ابوجہل وغیرہ ایک جماعت کفار کے حق میں نازل ہوئی جو اللہ تعالیٰ کی صفات میں جھگڑا کرتے، اور اس کی طرف ایسے اوصاف کی نسبت کرتے تھے جو اس کی شان کے لائق نہیں اس پر یہ آیت نازل فرمائی کہ یہ مشرک اللہ کی قدرتین آنکھوں سے دیکھ کر دوبارہ پیدائش کو جھٹلاتے ہیں اور حشر کا ذکر سن کر طرح طرح ایسی بےسند مکڑائی کی باتیں (فضول ) جو بناتے ہیں کہ جن باتوں کے سبب سے خود بھی گمراہی میں پھنستے ہیں اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتے ہیں ان کی یہ باتیں دنیا میں ان کو رسوا اور عقبی میں سخت عذاب کا سزا وار ٹھہراویں گی کیونکہ ظلم کے طور پر تو اللہ تعالیٰ کسی کو سزا دینا نہیں چاہتا لیکن سزا کے قابل جرم پر سزا کے دینے کا اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتا۔
Ayahs 22:11–13

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ١ۚ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَیْرُ اِ۟طْمَاَنَّ بِهٖ١ۚ وَ اِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُ اِ۟نْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ١ۚ۫ خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 22:11 in the Quran reader

اور (ف 1) بعض لوگ ایسے ہیں کہ جو اللہ کی عبادت کرتے ہیں کنار پر (یعنی دل کے جماؤ سے نہیں) پھر اگر ان کو کوئی (دنیوی) فائدہ پہنچ گیا جب تو چین سے ہیں اور اگر ان کو کچھ تکلیف پہنچ گئی تو منہ کے بل پلٹ گئے (یعنی اپنی کفر کی حالت پر جس سے ) دنیا اور آخرت دونوں کو کھوبیٹھے یہی کھلا نقصان ہے

یَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهٗ وَ مَا لَا یَنْفَعُهٗ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُۚ Open ayah 22:12 in the Quran reader

) (وہ) اللہ کے سوا ایسی چیزوں کو پکارتے ہیں جو نہ تو ان کو نقصان پہنچاسکتی ہیں نہ ان کو نفع دے سکتی ہیں یہی دور کی گمراہی ہے

یَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّهٗۤ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِهٖ١ؕ لَبِئْسَ الْمَوْلٰى وَ لَبِئْسَ الْعَشِیْرُ Open ayah 22:13 in the Quran reader

ایسے کو پکارتے ہیں کہ جس کے نفع سے نقصان زیادہ قریب ہے بیشک وہ کیا ہی برا ہے

(ف 1) شان نزول۔ صحیح و بخاری وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ منورہ کے آس پاس کے کچھ دیہاتی لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں آن کر اسلام لے آتے تھے اور پھر اپنے اپنے گاؤں کو چلے جاتے تھے گاؤں میں چلے جانے کے بعد اگر ان کے مال یا اولاد میں کچھ ان کو بہبودی نظر آتی تھی تو اسلام پر قائم رہتے تھے اور کہتے تھے بلاشک یہ دین اچھا ہے اور اگر اسلام کے بعد اتفاق سے کوئی سختی آجاتی تو اسلام کی مذمت کرنے لگتے تھے اور اسلام سے پھرجاتے تھے ایسے لوگوں کے حق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں جس کا مطلب یہ ہے کہ بعضے دیہاتی لوگوں کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کا طریقہ یہ ہے کہ غنیمت کے مال میں سے، صدقہ خیرات میں کچھ مل جانے کالالچ کرکے دائرہ اسلام میں داخل ہوتے ہیں اور جب تک ان کا مطلب پورا ہوتا رہتا ہے تو اوپری دل سے مسلمانوں کے ساتھ نماز روزہ میں شریک ہوتے ہیں ، اور جس وقت تک ان کا مطلب پورا نہیں ہوتا اسلام سے پھرجاتے ہیں جس سے ان کا دنیا میں تو یہ نقصان ہے کہ ان کے نصیب سے زیادہ انہیں کچھ ملنے والا نہیں ، اور عقبی کا نقصان وقت مقررہ پر ان کی آنکھوں کے سامنے آجاوے گا پھر فرمایا کہ اسلام سے پھرجانے کے بعد یہ اور ان کے ساتھ مشرک پتھر کی مورتوں کی پوجا کرتے ہیں اتنا نہیں سمجھتے کہ وہ بت بالکل پتھر ہیں تو ان کی کوئی پوجاکرے تو وہ کچھ نفع نہیں پہنچا سکتے، اور نہ پوجا کرے تو ان پتھروں سے کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا ، یہ تو ان بت پرستوں کا دنیاوی حال ہوا عقبی میں ایسے لوگوں کا جو کچھ انجام ہوگا وہ سب کی آنکھوں کے سامنے آجاوے گا نبی ﷺ نے فرمایا ہر شخص کے ساتھ ایک شیطان اور ایک فرشتہ رہتا ہے شیطان ہر وقت اس کو برے کاموں خی اور فرشتہ نیک کاموں کی رغبت دلاتا رہتا ہے اور اگرچہ ان لوگوں کے حق میں وہ بہت برادوست اور رفیق ہے اور جس کی برائی ان لوگوں کو مرنے کے بعدمعلوم ہوگی لیکن دنیا میں ان کو اس کی برائی نظر نہیں آتی۔
Ayah 22:14

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 22:14 in the Quran reader

بیشک (ف 1) اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے (بہشت کے) ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی بیشک اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا جو لوگ پکے ایمان دار ہیں اور تکلیف و راحت ہر حال میں نیک کام کرتے رہتے ہیں اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو ایسے باغوں میں ہمیشہ کے لیے رہنے کا حکم دے گا جن باغوں کے درختوں کے نیچے دودھ شہد شراب اور پانی کی نہریں جاری ہوں گی، آخر آیت میں فرمایا قیامت کے دن اپنے علم اور ارادہ کے موافق اللہ تعالیٰ جزاوسزا کا جوفیصلہ کرے گا وہ ٹل نہیں سکتا۔
Ayahs 22:15–16

مَنْ كَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَآءِ ثُمَّ لْیَقْطَعْ فَلْیَنْظُرْ هَلْ یُذْهِبَنَّ كَیْدُهٗ مَا یَغِیْظُ Open ayah 22:15 in the Quran reader

جو شخص (ف 2) یہ گمان کرتا ہو کہ اللہ اپنے نبی کی دنیا اور آخرت میں مدد نہ کرے گا تو اس کو چاہیے کہ اوپر (چھت میں) ایک رسی لٹکائے پھر اپنے آپ کو پھانسی دے لے کر پھر دیکھے کہ آیا اس کی یہ تدبیر اس بات کو دور کردیتی ہے جس کی اس کو جلن ہے

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ Open ayah 22:16 in the Quran reader

اور بات یہی کہ ہم نے یہ قرآن اتارا کھلی کھلی آیتیں (والا) اور یہ کہ اللہ جس کو چاہتا ہے راہ دکھاتا ہے

(ف 2) شان نزول : غطفان کے ایک گروہ نے اسلام قبول کرنے میں کچھ توقف کیا اور بولے کہ شاید نبی ﷺ کو کوئی مہم پیش نہ آجائے اگر ہم اسلام لائے تو ان کے ساتھ لڑائی میں شریک ہوناپڑے گا تو پھر ہمارا اور یہود کا دوستانہ جاتا رہے گا اور جو ہماری وقتا فوقتا مدد کیا کرتے ہیں وہ موقوف کردیں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی مطلب یہ ہے کہ جو لوگ نبی ﷺ سے حسد کرت ہیں وہ چاہے جس قسم کی تدبیر کریں اور جان تک دیدیں تب بھی ان کا مقصد پورا نہ ہوگا آگے فرمایا کہ جس طرح ایسے لوگوں کے خیال کو جھٹلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے اسی طرح قرآن کی کھلی کھلی اور آیتوں می اسی طرح لوگوں کے بہت سے خیال جھٹلائے گئے اور بات یہی ہے کہ اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے۔
Ayah 22:17

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئِیْنَ وَ النَّصٰرٰى وَ الْمَجُوْسَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا١ۖۗ اِنَّ اللّٰهَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 22:17 in the Quran reader

بیشک (ف 1) مسلمان اور یہودی اور ستارہ پرست اور عیسائی اور آتش پرست اور مشرک ، بیشک اللہ ان سب کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا (یعنی مسلمانوں کو جنت عطا فرمائے گا اور کفار کو دوزخ) اللہ ہر چیز سے واقف ہے

(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ دنیا میں چھ فریق ہیں۔ (1) اول اہل اسلام (2) پھر یہودی اور (3) ستارہ پرست اور (4) عیسائی اور (5) آتش پرست اور (6) مشرک۔ ان میں سے ہر ایک اپنے تئیں ہدایت پر کہتا ہے کہ مگر درحقیقت ہدایت پر وہی ہے جس کو خدا نے ہدایت دی ، یعنی اہل اسلام ۔ بیشک اللہ تعالیٰ ان سب کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ چکادے گا اور ان کے اعمال کی حقیقت ظاہر ہوجائے گی بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر واقف ہے۔
Ayah 22:18

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ وَ النُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَ الشَّجَرُ وَ الدَّوَآبُّ وَ كَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ١ؕ وَ كَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْهِ الْعَذَابُ١ؕ وَ مَنْ یُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُؕ۩ Open ayah 22:18 in the Quran reader

(اے مخاطب !2) کیا تو نے دیکھا نہیں کہ سجدہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کو وہ جو آسمانوں میں ہیں اور زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور بہت سے آدمی ، اور بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں کہ جن پر عذاب مقرر ہوچکا ہے۔ اور جس کو کہ اللہ ذلیل کرے پھر اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں بیشک اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے

کائنات کی ہر چیز بارگاہ الٰہی میں سجدہ ریز ۔ (ف 2) سورة الرعد اور سورة النمل کی آیتوں کو اس آیت کے ساتھ ملانے سے حاصل مطلب یہ ہوا کہ جو چیز آسمان میں ہے، اور جو چیز زمین میں ہے اور سورج اور چاند ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور ایماندار جنات اور انسان خوشی سے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں اور ایمان دار جنات اور انسان کی پرچھائیں بھی اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہیں اور یہ مشرک لوگ اپنے پیدا کرنے والے کی تعظیم چھوڑ کر خود پتھروں کی مورتوں کو سجدہ کرتے ہیں لیکن سایہ کے ڈھلنے کے وقت ان کی پرچھائیاں اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہیں احقاف میں لکھا ہے کہ حقیقت میں ماتھا زمین پر ٹیکنے کا نام سجدہ نہیں ہے بلکہ سجدہ نہایت درجہ کی عاجزی کی علامت اور کمال تعظیم و تکریم کی دلیل ہے پھر فرمایا کہ بہترے ایسے ہیں جو اللہ کے سجدہ سے انکار کرتے ہیں اور وہ عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں اور جس کو اللہ ذلیل کرے پھر اس کو کوئی عزت نہیں دے سکتا بیشک اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
Ayahs 22:19–23

هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّهِمْ١٘ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ١ؕ یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِیْمُۚ Open ayah 22:19 in the Quran reader

یہ (ف 1) دو (فریق) ایک دوسرے کے دشمن ہیں اپنے پروردگار کے بارے میں جھگڑتے ہیں پس جو لوگ کافر ہوئے ان کے لیے (قیامت میں) آگ کے کپڑے قطع کیے گئے ہیں اور ان کے سروں پرکھولتا ہوا پانی ڈالاجائے گا

یُصْهَرُ بِهٖ مَا فِیْ بُطُوْنِهِمْ وَ الْجُلُوْدُؕ Open ayah 22:20 in the Quran reader

جس سے جو کچھ ان کے پیٹوں میں ہے اور ان کی کھالیں گل جاویں گی

وَ لَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ Open ayah 22:21 in the Quran reader

اور ان کے (مارنے کے) لیے لوہے کے گرز ہیں

كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْهَا١ۗ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ۠ Open ayah 22:22 in the Quran reader

وہ لوگ جب دوزخ سے گھبرا کر نکلنا چاہیں گے (توگرزوں سے مار کر) پھر اس میں دھکیل دیے جاویں گے ، اور (ان کو) کہا جاوے گا کہ جلنے کا عذاب (ہمیشہ کے لیے ) چکھو

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ؕ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 22:23 in the Quran reader

بیشک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کیے (بہشت کے) ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کی نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، وہاں ان کو سونے کے کنگن اور موتیوں کے ہار پہنائے جائیں گے اور وہاں ان کالباس رشیمی ہوگا

مسلمانوں اور مشرکوں کا جھگڑا اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ۔ (ف 1) شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ حضڑت ابوذرغفاری سے منقول ہے کہ میں خدا کی قسم کھاتا ہوں کہ یہ آیت چھ آدمیوں کی شان میں ہے جو کہ بدر کی لڑائی میں مشرکین مکہ میں سے جس وقت یہ تین شخص شیبہ بن ربیعہ اور اس کا بھائی عتبہ اور عتبہ کا بیٹا ولید مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے صف جنگ سے باہر نکلے تو ایک جوان انصار نے ان کا مقابلہ کرنا چاہا، انہوں نے کہا کہ ہم تم لوگوں سے لڑنا پسند نہیں کرتے بلکہ ہم کو تو اپنے ہم قوم قریش لوگوں سے مقابلہ کرنے کا شوق ہے یہ سن کر نبی ﷺ نے امیر حمزہ عنہ اور حضرت علی اور عبیدہ بن حارث عنہ کو ان تینوں مشرکوں کے مقابلہ کے بھیجا انہی دوفریقوں کی شان میں جو کہ آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہیں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
Ayahs 22:24–25

وَ هُدُوْۤا اِلَى الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِ١ۖۚ وَ هُدُوْۤا اِلٰى صِرَاطِ الْحَمِیْدِ Open ayah 22:24 in the Quran reader

اور (یہ سب انعام ان کے لیے اس لیے کہ دنیا میں) ان کو پاکیزہ کلام کی طرف ہدایت کی گئی اور تعریف کیے گئے کی راہ بتائی گئی (یعنی اللہ تعالیٰ کا دین اسلام !1)

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءَ اِ۟لْعَاكِفُ فِیْهِ وَ الْبَادِ١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۠ Open ayah 22:25 in the Quran reader

بیشک جنہوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے اور مسجدالحرام (یعنی حرم ) سے روکتے ہیں کہ جس کو ہم نے تمام آدمیوں کے واسطے (عبادت گاہ) مقرر کیا ہے کہ اس میں سب برابر ہیں، اس جگہ کا رہنے والا بھی اور باہر سے آنے والا بھی اور جو کوئی اس جگہ کسی زیادتی کا ناحق ارادہ کرے تو ہم اس کو دور دینے والا عذاب کا مزہ چکھاویں گے

(ف 1) شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے اللہ کے رسول اور مسلمانوں کو عمرہ سے روکا اور مسجد حرام میں داخل نہیں ہونے دیا اس پر یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 22:26

وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِیْمَ مَكَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِیْ شَیْئًا وَّ طَهِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْقَآئِمِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ Open ayah 22:26 in the Quran reader

اور (یاد کرو !1) جب کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے لی کعبہ کی جگہ ٹھیک بتادی اور حکم دیا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والو اور رکوع و سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھنا

(ف 1) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ تعمیر کعبہ شریف پہلے حضرت آدم (علیہ السلام) نے کی تھی ، آخر میں حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے کعبہ شریف کی جگہ بتائی اور آپ نے اس کی قدیم بنیاد عمارت کعبہ تعمیر کی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو وحی فرمائی کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور میرے گھر کو نمازیوں کے لیے پاک رکھنا۔
Ayahs 22:27–29

وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍۙ Open ayah 22:27 in the Quran reader

اور لوگوں میں (ف 2) حج (کے فرض ہونے ) کا عام اعلان کردو کہ لوگ تمہارے پاس حاضر ہوں گے یا پیادہ اور ہر پتلے دبلے اونٹوں پر سوار ہوکر کہ ہر دوردراز راستوں سے آتے ہیں

لِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ۚ فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآئِسَ الْفَقِیْرَ٘ Open ayah 22:28 in the Quran reader

تاکہ وہ اپنے (دنیوی اور دنیاوی) فائدہ پائیں اور جانے ہوئے دنوں (یعنی قربانی کے دنوں) میں ان مخصوص چوپاؤں پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام لیں (یعنی بسم اللہ اللہ اکبر کہیں) جو اللہ نے انہیں دیے ہوئے ہیں پس ان میں سے آپ بھی کھاؤ اور محتاج فقیروں کو بھی کھلاؤ

ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ Open ayah 22:29 in the Quran reader

پھر لوگوں کو چاہیے کہ اپنے (جسم و لباس کا) میل کچیل دور کریں اور اپنی منتیں پوری کریں اور اس خانہ قدیم (یعنی خانہ کعبہ) کا طواف کریں

حج کا حکم۔ (ف 2) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ابوقبیس پہاڑ پر چڑھ کر جہاں کے لوگوں کو حج کرنے کی دعوت دی کہا کہ اے لوگو تمہارے رب نے ایک مکان بنایا ہے اور اس کا یہ حکم ہے کہ تم اس کا حج کرو، اللہ تعالیٰ نے وہ آواز مشرق سے مغرب تک سارے جہاں میں پہنچا دی ، یہاں تک کہ جو بچے باپوں کی پشت میں، اور اپنی ماؤں کے رحم میں تھے اور ان کی قسمت میں حج کرنا تھا انہوں نے یہ جواب دیا لبیک اللھم، حضرت حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اذن کا خطاب نبی ﷺ کو ہے چناچہ آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا اے لوگو اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے تم حج کرو۔ تفسیر احمدی میں ہے کہ اپنے شوق سے ہزاروں خلق پیادہ آتی ہے کہ لیکن حج کے فرض ہونے کے لیے سواری کا خرچ ضروری ہے فقط امام مالک یہ کہتے ہیں کہ جس شخص کو پیدل چلنے کی عادت ہو اس پر بغیر سواری کے خرچ کے حج فرض ہوجاتا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص پرہیزگاری سے حج ادا کرے تو اس کے پچھلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں آگے فرمایا کہ وہاں آکر اپنے منافع حاصل کریں دینی بھی اور دنیوی بھی دنیوی تو بیشمار ہیں دنیا کا منافع جو کہ بالکل ظاہر ہے کہ تجارت کی ترقی، تمام اہل ملت کا ایک جمع جمع ہوجانا جس سے بہت سے فائدے حاصل ہوتے ہیں مختلف لوگوں کی ملاقات ان کے خیالات سے واقفیت اور دوسروں کے علم وہنر سیکھنا غرض یہ کہ بہت سے فوائد ہیں پھر فرمایا کہ مقررہ دنون یعنی قربانی کے دنوں میں جانوروں پر ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیں یعنی بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر ذبح کریں اور اس قربانی کے گوشت میں سے خود بھی کھائیں اور محتاج اور فقیروں کو بھی کھلائیں پھر عرفات سے پلٹنے کے بعد حجامت بنوائیں کپڑے پہنیں، جو منت انہوں نے مانی ہو وہ پوری کریں اور کعبہ کا طواف کریں یہی طریقہ نیک ہے مسائل حج مفصل سورة بقرہ (پارہ 2) میں ذکر ہوچکے ہیں۔
Ayahs 22:30–31

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ وَ اُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ Open ayah 22:30 in the Quran reader

یہی حکم ہے (ف 1) اور جو کوئی اللہ کی ٹھہرائی ہوئی حرمتوں کی تعظیم کرے تو یہ اس کے لیے اس کے پروردگار کے نزدیک بہتر ہے اور چوپائے جانور تمہارے لیے حلال کیے گئے سوائے ان جانوروں کے جن کا حکم تم کو (قرآن میں) سنادیا گیا ہے ۔ پس چاہیے کہ بتوں کی ناپاکی سے بچتے رہو اور بچو جھوٹ بولنے سے

حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّیْرُ اَوْ تَهْوِیْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ مَكَانٍ سَحِیْقٍ Open ayah 22:31 in the Quran reader

خاص اللہ کے ہوکررہو اس کے ساتھ کسی کو شریک کرنے والے نہ بنو اور جو کوئی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرے تو گویا وہ آسمان سے گرپڑا پھر اس کو (مردار خوار) پرندے اچک لے جاتے ہیں یا اس کو ہوا اڑا کر کسی دوردراز جگہ میں پھینک دیتی ہے

شرک اور جھوٹ کی مناہی (ممانعت ) کا حکم۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ چند کعبہ کی تعظیم اور حج کی باتیں جو لوگ سن چکے ہیں یہ اللہ کی بتلائی ہوئی ادب کی باتیں ہیں ان میں سے مناہی (ممنوعات) سے جو شخص باز رہے گا اور جن باتوں کے کرنے کا حکم ہے ان کو بجالاوے گا تو اسی شخص کے حق میں یہ فرمانبرداری بہتر ہے کہ اس کو فرمانبرداری کا بدلہ ملے گا، سورة المائدہ میں گزرچکا ہے کہ مشرکین مکہ بہت سے جانوروں کو بتوں کے نام کاٹھہرا کر ان جانوروں کے گوشت کا کھانا حرام سمجھتے تھے اسی وقسطے آگے فرمایا سوائے ان جانوروں کے جن کی تفصیل ان لوگوں کو سورة المائدہ کی آیت ، حرمت علیکم المیتہ میں سمجھادی گئی ہے باقی جانور اللہ تعالیٰ نے انسان پر حلال کردیے تو چاہیے کہ بتوں کی ناپاکی سے بچتے رہیں کیونکہ بت بھی ناپاکی میں داخل ہیں، اور جھوٹی بات سے پرہیز کریں اور یہ بات خلوص کے ساتھ کریں، یعنی دکھاوے سنانے کے واسطے نہ ہوں بلکہ ایمان کے ساتھ ہوں، یعنی مسلمان ان کا احکام الٰہی کو بجالائیں، اور جو مشرک بنے گا یعنی کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرائے گا وہ ہلاک ہوگا جیسے کوئی آسمان سے گر کر ہلاک ہوتا ہے اور پرندے اسے نوچ نوچ کرلے جاتے ہیں یا اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کو ہوادار جگہ اڑا کر پھینک دیتی ہے مطلب یہ ہے کہ جو کوئی ایمان کی بلندی پر سے کفر کی پستی پر گرتا ہے نفس کی خواہش اسے پریشان اور پائمال کرتی ہے یاوسوسہ شیطانی کی ہوائیں اسے گمراہی کے جنگل میں ڈال دیتی ہیں یہی کام کرنے کے قابل ہے یعنی کفر سے بچنا اور جھوٹ سے پرہیز کرنا ہے جھوٹ تو اللہ تعالیٰ نے کفر کے ساتھ بیان فرمایا ہے اس سے معلوم ہوا کہ جھوٹ بڑا گناہ ہے۔
Ayahs 22:32–33

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ Open ayah 22:32 in the Quran reader

یہ حکم ہے اور جو کوئی اللہ کی نشانیوں (ف 1) کی تعظیم کرے تو بیشک یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے

لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَاۤ اِلَى الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ۠ Open ayah 22:33 in the Quran reader

(قربانی کے جانوروں میں) تمہارے لیے ایک مقررہ میعاد تک (طرح طرح کے) فائدے ہیں پھر ان کو پہنچنا ہے اس قدیم تک (یعنی حرم شریف تک جہاں وہ ذبح کیے جائیں)

قربانی اور اس کے ثواب وآداب کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جو شخص خدا کی نشانیوں کی تعظیم سمجھتا ہے یہ اس کی پرہیزگاری کی علامت ہے آگے مطلب یہ ہے کہ قربانی کے جانوروں کو عرب اپنے ساتھ کعبہ شریف میں لایا کرتے تھے یا پہلے بھیج دیتے تھے اور ایسے جانوروں کو اکثر ان میں اونٹ ہوا کرتے تھے ان جانوروں کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے ان میں ہر طرح کے فائدے ہیں ان پر بوقت ضرورت سوار ہولیا کروبوقت حاجت ان کا دودھ پی لیا کرو، ضرورت کے وقت بوجھ لاد دیاکرو، ان کے اون اور بال کام میں لے آیاکرو، یہ فوائد تم کو ذبح کے وقت تک حاصل رہیں گے پھر اس کے ذبح کی جگہ بیت العتیق یعنی حرم شریف ہے۔
Ayahs 22:34–35

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ؕ فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْا١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ Open ayah 22:34 in the Quran reader

اور (ف 1) ہم نے ہر امت کے لیے ایک قربانی مقرر فرمائی تاکہ جو کچھ خدا نے ان کو چوپائے (جانور) عطا کیے ہیں اور ان پر (ذبح کرتے وقت) اس کا نام لیں ، پس تم سب کا خدا ایک ہی خدا ہے پس اسی کا حکم مانو اور (اے محبوب ﷺ) خدا سے عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنادو

الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ وَ الْمُقِیْمِی الصَّلٰوةِ١ۙ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 22:35 in the Quran reader

جو ایسے ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں اور جب ان پر مصیبت آپڑتی ہے تو اس پر صبر کرنے والے ہیں اور نماز قائم رکھنے والے اور ہمارے دیے میں سے (نیک کاموں کی راہ میں ) خرچ کرتے ہیں

(ف 1) اوپر قربانی کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا : اللہ کے نام پر جانوروں کے ذبح کرنے کا حکم کچھ اس امت کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ ہر دین دار امتوں میں بھی اللہ کا یہی حکم تھا تاکہ لوگ اللہ کے دیے ہوئے جانوروں میں سے اللہ تعالیٰ کے نام پر قربانی کریں یعنی ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیں، اور عقبی کا اجر کمائیں، اور ساری مخلوق کا خدا ایک ہی خدا ہے پس سب کو اسی کا حکم ماننا چاہیے اور اس کے حکم پر اعتراض کسی کو نہیں چاہیے ، پھر فرمایا، اے محبوب ﷺ اگر یہ مشرک لوگ قرآن کی نصیحت کو نہ مانیں تو تم فقط ان لوگوں کو عقبی کی بہبودی کو خوش خبری سنادو، جو اللہ سے ڈرتے اور مشرک ان کو ستاتے ہیں تو اس پر اور ہر طرح کی تکلیف پر صبر کرتے ہیں نماز کے پابند رہ کر قربانی اور علاوہ قربانی کے صدقہ و خیرات خالص اللہ ہی کے نام پر کرتے ہیں۔
Ayah 22:36

وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ لَكُمْ فِیْهَا خَیْرٌ١ۖۗ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا صَوَآفَّ١ۚ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 22:36 in the Quran reader

اور (ف 2) مسلمانو ! ہم نے تمہارے لیے قربانی کے ڈیل دار جانور اونٹ اور گائے ہیں اللہ کی نشانیوں میں سے کیے تمہارے لیے ان میں بھلائی ہے پس تم ایک پاؤں بندھے اور تین پاؤں سے کھڑا کرکے یا ذبح کرتے وقت بسم اللہ اللہ اکبر کہہ پھر جب وہ کسی پہلوپرگریں تو اس میں سے خود کھاؤ اور بےسوال والوں اور مانگنے والوں محتاجوں کو بھی کھلاؤ ، ہم نے اسی طرح چوپایوں کو تمہارے بس میں کردیا ہے تاکہ تم شکر کرو

(ف 2) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ والبدن ، موٹے جانور کو کہتے ہیں جس میں اونٹ اور گائے دونوں کو ٹھہرایا گیا ہے کہ نیاز کے فربہ جانوروں کو حج یا عمرہ کے سفر میں ساتھ رکھنا، اور نیاز کعبہ کی پہچان کے لیے ان کے گلوں میں پٹہ کا ڈالنا اللہ کی تعظیم کی نشانی ہے اور قربانی سے پہلے ضرورت ہے کہ وقت سواری اور دودھ کا قربانی کے بعد عقبی کے اجر کا تمہیں ان جانوروں سے نفع ہے۔ پس تم ہر ایک اونٹ کا ایک پاؤں باندھ کرتین پاؤں کھڑا کرکے انہیں قبلہ رو کھڑا کردیاجائے، اور بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر ان کی چھاتی میں زخم لگایاجائے اور اس زخم کے سبب سے جب وہ زمین پر کسی پہلوگرپڑیں اور ٹھنڈے ہوجائیں تو آگے کے حکم کے موافق ان کا گوشت قربانی کرنے والاشخص خود بھی کھاوے اور بےسوال والوں اور مانگنے والے محتاجوں کو بھی دیوے پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے ان چوپایوں کو تمہارے بس میں کردیا ہے کہ تاکہ اس کے شکریہ میں تم خالص دل سے اللہ کے نام کی قربانی کر۔
Ayahs 22:37–38

لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 22:37 in the Quran reader

(ف 1) اللہ کو تو نہ ان کا گوشت ہی پہنچتا ہے اور نہ خون ان کا، و لیکن تمہاری پرہیزگاری اس کے پاس پہنچتی ہے اللہ نے اسی طرح ان کو تمہارے بس میں کردیا تاکہ تم اس بات پر اللہ کی بزرگی بیان کرو کہ اس نے تمک و (اس طرح قربانی کرنے کی) ہدایت فرمائی، (اے محبوب ﷺ نیکی کرنے والوں کو خوش خبری سنادو

اِنَّ اللّٰهَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠ Open ayah 22:38 in the Quran reader

بیشک اللہ بلائیں دفع کرتا ہے مسلمانوں کی، بیشک اللہ ہر بڑے دغاباز ناشکرے کو دوست نہیں رکھتا

(ف 1) شان نزول : حج کے وقت مشرک لوگ جو قربانی کرتے تھے تو ذرا ساخون اللہ کے نام کا کعبہ کی دیواروں پر لگادیتے تھے اسلام کے بعد مسلمانوں نے بھی اس رسم کو جاری کرنا چاہا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، اور مسلمانوں کو اس رسم سے منع فرمایا، اور فرمایا کہ جو چیز تم اللہ کے نام پر دیتے ہو اس چیز کی اللہ کو پروا نہیں ہے خود تم اور جو چیز تم اللہ کے نام پر دیتے سب کچھ اللہ کا پیدا کیا ہوا ہے صدقہ خیرات کا حکم اللہ تعالیٰ نے شریعت میں اس واسطے دیا ہے کہ صدقہ دینے والے کا دل اللہ آزمائے کہ کہاں تک اس کے دل میں پرہیزگاری کا اثر ہے غور کرنا چاہیے چوپایوں کو انسان کے بس میں کردینا یہ اللہ کی ایک بڑی نعمت ہے مشرکین مکہ بڑے ناشکرے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے جانوروں کو بتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے۔ اس سے اوپر کی آیت میں اس نعمت کا ذکر فرما کر تاکید کے طور پر ان آیتوں میں پھر اس کا ذکر فرمایا ہے کہ اس نے ان جانوروں کو تمہارے بس میں کردیا ہے تاکہ تم اللہ کی راہ میں دل سے ان کی قربانی کرکے اس بات پر اللہ کی بزرگی بیان کرو کہ اس نے تم کو اس طرح قربانی کرنے کی توفیق دی۔ آدمی کو چاہیے کہ نیک کام کرتے وقت یہ جانے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے اگر یہ مرتبہ آدمی کو میسرنہ آوے تو اتنا ضرور جان لیوے کہ اللہ اس آدمی کو دیکھ رہا ہے مطلب یہ ہے کہ قربانی اور باقی کے سب عمل خالص عقبی کے ثواب کی نیت سے اللہ کو حاضر وناظر جان کر جو لوگ کرتے ہیں ان کو دس گنا سے سات سوگنا تک اور زیادہ نیک نیتی کے نیک عملوں کا اس سے بڑھ کر اجردیاجاوے گا اس لیے فرمایا کہ اے محبوب ﷺ ایسے لوگوں کو اس اجر کی خوش خبری سنادی جاوے اللہ کے محبوب ﷺ کی ہجرت کے بعد جو کمزور مسلمان مکہ میں رہتے تھے مشرکین مکہ ان کو طرح طرح کی تکلفیں دیتے تھے ان مسلمانوں کی تسکین کے لیے آگے فرمایا کہ ان مشرکوں کو دغابازی اور ناشکری اللہ کو پسند نہیں ہے اس لیے بہت جلد وہ زمانہ آنے والا ہے کہ اللہ ان دغاباز اسلام کے دشمنوں پر باقی نہ رکھے گا۔