22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 22:39–44

اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرُۙ Open ayah 22:39 in the Quran reader

جن (مسلمانوں) سے کافر لڑتے ہیں ان کے لیے (جہاد) کی اجازت دی گئی کیونکہ اس (ف 1) سبب سے کہ ان پر ظلم کیا گیا اور بیشک اللہ ان کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے

اِ۟لَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْكَرُ فِیْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِیْرًا١ؕ وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:40 in the Quran reader

وہ لوگ جو ناحق اپنے گھروں سے نکالے گئے صرف اتنی بات پر کہ انہوں نے کہا ہمارا پروردگار اللہ ہے اور اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے (کے ہاتھ) سے دفع نہ کرتا تو ضرور ڈھادی جاتیں خانقاہیں راہبوں کی اور گرجا (نصرانیوں کے اور عبادت خانے یہودیوں کے) اور مسلمانوں کی) مسجدیں کہ جن میں اللہ کا نام کثرت سے لیاجاتا ہے بیشک اللہ ضرور اس کی مدد فرمائے گا جو اللہ (کے دین) کی مدد کرے گا بیشک اللہ قوت والاغالب ہے

اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 22:41 in the Quran reader

یہ (مسلمان) وہ ہیں کہ اگر ہم زمین میں انہیں قابودیں تو یہ لوگ نماز کو قائم رکھیں اور زکوۃ ادا کریں اور نیک باتوں کا حکم کریں اور بری باتوں سے منع کریں اور سب کاموں کا انجام کدا ہی کے اختیار میں ہے

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوْدُۙ Open ayah 22:42 in the Quran reader

اور اگر یہ (منکر ) تم کو جھٹلاتے ہیں تو (یہ کوئی نئی بات نہیں) ، بیشک ان سے پہلے بھی قوم نوح اور عاد اور ثمود

وَ قَوْمُ اِبْرٰهِیْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍۙ Open ayah 22:43 in the Quran reader

اور قوم ابراہیم اور قوم لوط

وَّ اَصْحٰبُ مَدْیَنَ١ۚ وَ كُذِّبَ مُوْسٰى فَاَمْلَیْتُ لِلْكٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١ۚ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 22:44 in the Quran reader

اور مدین والے (اپنے اپنے رسولوں کو) جھٹلاچکے ہیں اور موسیٰ بھی (فرعون کی قوم قبطیوں کی طرف سے) جھٹلائے گئے ہیں پس میں نے (ہمیشہ ایسا ہی کیا کہ) پہلے کافروں کو (کچھ عرصہ کے لیے ) ڈھیل دی پھر ان کو (عذاب میں) پکڑ لیا، پس (دیکھا) کیسا میرا عذاب ہوا

جہاد کا حکم۔ مہاجرین کا ذکر۔ (ف 1) شان نزول : کفار مکہ اصحاب رسول اللہ ﷺ کو روز مرہ ہاتھ اور زبان سے شدید تکلفیں دیتے اور آزار پہنچاتے رہتے تھے اور صحابہ نبی ﷺ کے پاس اسحال میں پہنچتے تھے کہ کسی کا سرپھٹا ہے کسی کا ہاتھ ٹوٹا ہے کسی کا پاؤں بندھا ہوا ہے روزمرہ اس قسم کی شکایتیں حضور کی خدمت میں پہنچتی تھی اور اصحاب کرام کفار کے مظالم کی نبی ﷺ کے دربار میں فریاد کرتے نبی ﷺ یہ فرمایا کرتے کہ صبر کرو مجھے ابھی جہاد کا حکم نہیں دیا گیا ہے جب نبی ﷺ نے مدینہ کو ہجرت فرمائی تو یہ آیت نازل ہوئی جس میں کفار کے ساتھ جنگ کرنے کی اجازت دی گئی ہے کیونکہ ان پر بہت ظلم کیا گیا ہے اللہ ان کی مدد فرمائے گا اس کے بعد ان لوگوں کی مدد کا ذکر ہے جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے، صرف اتنی بات پر کہ وہ یوں کہتے تھے ہمارا پروردگار اللہ ہے ، آگے جہاد کے جائز ہونے کا سبب بیان فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسرے کے ہاتھ سے دفع نہ کیا کرے یعنی مسلمانوں کو لڑائی کا حکم نہ دیاکرے تو کسی قوم کی عبادت گاہ زمین پر محفوظ نہ رہتی، یعنی خلوت خانے اور گرجے اور مسجدیں، جن میں اللہ کا ذکر کثرت سے کیا جاتا ہے سب کبھی کے ڈھائے جاچکے ہوتے، پھر فرمایا کہ جو لوگ اللہ کے نام پر ایسے شہر سے نکالے گئے ہیں اللہ ان کی مدد فرمائے گا اس کے بعد مہاجرین کی تعریف فرمائی کہ دین کے مددگاروں میں یہ اوصاف ہوا کرتے ہیں کہ اگر ان کو قوت حاصل ہو یا سلطنت اور حکومت میسر ہوجائے تو غافل نہ ہوں بلکہ نماز پڑھا کریں اور زکوۃ ادا کریں اور نیک باتوں کا حکم دیا کریں اور بری باتوں سے منع کیا کریں اور سب کاموں کا انجام تو خدا ہی کے اختیار میں ہے اور ہجرت کا ذکر آنے سے نبی ﷺ کے دل پر مشرکین مکہ کے جھٹلانے کا خیال جو گزرا ہے اور اس خیال سے کچھ رنج آپ کو جو ہوا ہے اس رنج کو اس تسکین سے رفع فرمادیا کہ ہمیشہ سے مخالف لوگ انبیاء کو جھٹلاتے رہے ہیں تمہارے ساتھ کچھ یہ نئی بات نہیں ہے اور انبیاء کی قوم کے لوگوں نے انبیاء کو جھٹلایا تھا اس واسطے ان قوموں کا نام لیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ کو نہیں جھٹلایا تھا بلکہ فرعون کی قوم نے جس کا نام قبطی قوم ہے حضرت موسیٰ کو جھٹلایا تھا اس لیے جھٹلانے والی قوموں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا نام نہیں ہے اور جھٹلانے والی قوموں کے ہلاک ہوجانے کا ذکر بھی فرمادیا تاکہ قریش کو تنبیہ ہوجاوے کہ رسول وقت کے ساتھ سرکشی کرنے والوں کا جوانجام سلف سے ہوتا رہا ہے وہی انجام ان کا ہوگا، درحقیقت یہ مضمون علماء ہی کی تسکین کے واسطے فرمایا گیا ورنہ جناب رسالت ماب کے دل پاک اور مستحکم کو تسکین کی کیا حاجت تھی وہاں ازلی تسکین حاصل تھی چونکہ علماء کو یہ بات میسر نہیں اور ان کے دل میں صبر کی وہ وقت نہیں اس واسطے ان کی تسکین فرمائی گئی بظاہر خطاب نبی ﷺ سے ہے اور وہ حقیقت علماء مخاطب ہیں آگے فرمایا پھر ہم نے کافروں کو مہلت دی ، اور عرصہ کی مہلت کے بعد ان لوگوں کو طرح طرح کے عذاب میں پکڑ لیا۔
Ayahs 22:45–48

فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ فَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ Open ayah 22:45 in the Quran reader

پس (ف 1) کتنی ہی بستیوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں کہ وہ ظالم تھیں پس اب وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور (اس طرح ان بستیوں میں) بہت سے کنویں بیکار پرے ہیں اور بہت سے بلند محل ویران (پڑے ہیں)

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ Open ayah 22:46 in the Quran reader

پھر کیا (یہ منکر لوگ) زمین میں چلے پھرے نہیں کہ ان کے ایسے دل ہوں جن سے سمجھیں یا ایسے کان ہوں کہ جن سے وہ سنیں ، پس بات یہ ہے کہ جب کوئی اندھے پن میں پڑتا ہے تو آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں (جوسروں میں ہیں ) بلکہ وہ اندھے ہوتے ہیں جو سینوں کے اندر (پوشیدہ ) ہیں

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ١ؕ وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 22:47 in the Quran reader

اور یہ کفار مکہ تم سے عذاب مانگنے میں جلدی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہرگز اپنا وعدہ جھوٹا نہیں کرے گا اور بیشک تمہارے پروردگار کے یہاں ایک دن ایسا ہے جیسا تم لوگوں کی گنتی میں ہزار برس

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا١ۚ وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:48 in the Quran reader

اور بہت سی بستیاں کہ جن کو میں نے ڈھیل دی (اس حال پر کہ) وہ ظالم تھیں پھر میں نے ان کو (عذاب میں ) پکڑ لیا اور (سب کو) میری ہی طرف پلٹ کر آنا ہے

(ف 1) نافرمانوں کے عذاب کا ذکر : اوپرذکر تھا کہ مہلت کے زمانہ میں نافرمان لوگوں کو جو ڈھیل دی گئی تھی مہلت کے بعداللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب میں گرفتار کیا اور پھر دیکھو ہماری پکڑ بھی کیسی ہے کیسے سخت عذاب میں وہ مبتلا ہوئے کسی پر طوفان آیا کسی پر آندھی ، کوئی کڑک کی دہشت ناک آواز سے ہلاک ہوا کسی پر مچھروں کا لشکرمسلط کیا کسی کو زمین میں دھنسا دیا کسی پر پتھر برسائے آگے فرمایا کہ بہت سے ظالم لوگوں کو ہم نے ہلاک کردیا مثلا قوم لوط کی بستیوں کے مکانوں کو چھت کے بل الٹ دیا پھر فرمایا کہ مشرکین مکہ تجارت کی غرض سے اکثر ملک شام کا سفر کرتے ہیں اس سفر میں کیا ان کو قوم ثمود اور قوم لوط کی اجڑی ہوئی بستیاں اور نکمے کنویں اور بہت سے بلند محل جو کہ کھنڈر پڑے ہیں نظر نہیں آتے پھر فرمایا کہ ان لوگوں کے منہ پر آنکھیں نہیں اس لیے ان اجڑی ہوئی بستیوں پر ان کی نظر اکثر پڑتی ہے لیکن شرک اور گناہوں کے سبب سے ان کے دل اندھے ہیں اس واسطے نہ عبرت کی نظر سے اجڑی ہوئی بستیون کو یہ لوگ دیکھتے ہیں نہ اس کا کچھ حال ہوش و حواس کے کانوں سے سنتے ہیں آگے فرمایا کہ ان کفار مکہ کو جو عذاب کی جلدی کرتے ہیں سمجھایا گیا ہے کہ جس کے حکم سے ہزار برس کا کام ایک دن میں طے ہوجاتا ہے اس کے حکم کے بعد عذاب کے آجانے میں کچھ دیر نہیں لگ سکتی۔ مگر یہ عادت الٰہی ہے کہ لوح محفوط کے نوشتہ کے موافق پہلے نافرمان لوگوں کو مہلت دی جاتی ہے پھر اگر مہلت کے زمانہ میں وہ لوگ اپنی نافرمانی سے باز نہ آئے تو دنیا اور عقبی کے عذاب میں ان کو پکڑ لیاجاتا ہے اور سب کو میری طرف پلٹ کر آنا ہے۔
Ayahs 22:49–51

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 22:49 in the Quran reader

(اے محبوب ﷺ ،1) تم فرمادو ، اے لوگو میں تو یہی تمہارے لیے صاف صاف ڈر سنانے والاہوں

فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 22:50 in the Quran reader

پس جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش ہے اور عزت کی روزی ہے

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 22:51 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں کے رد کرنے میں کوشش کرتے ہیں اپنے زعم میں عاجز کرنے کو وہی جہنمی ہیں

شیطان کے بہکانے کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ : اے محبوب تم ان مشرکین مکہ سے فرمادو کہ میں تو کھلم کھلا ڈارنے والا ہوں کہ جو اللہ کی نافرمانی کرے گا اس کاٹھکانہ یقینا دوزخ ہے پس جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام بھی کیے تو ان کے لیے بخشش ہے اور عزت کی روزی ہے اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو باطل مشہور کرنے میں کوشش کی ہے وہ ہی لوگ ہمیشہ جہنم کی آگ میں رہیں گے۔
Ayahs 22:52–53

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّیْطٰنُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖ١ۚ فَیَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌۙ Open ayah 22:52 in the Quran reader

ف 2، اور ہم نے تم سے پہلے جتنے بھی رسول اور نبی بھیجے سب کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا کہ جب انہوں نے (اللہ کے احکام میں سے کچھ) پڑھا تو شیطان نے ان کے پڑھنے میں لوگوں پر کچھ اپنی طرف سے ملادیا پس اللہ تعالیٰ اس شیطان کے ڈالے ہوئے کو مٹا دیتا ہے پھر اللہ اپنی آیتوں (کے احکام) کو زیادہ مضبوط کردیتا ہے اور اللہ جاننے والا ، حکمت سے کام کرنے والا ہے

لِّیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْقَاسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍۙ Open ayah 22:53 in the Quran reader

(اس میں ایک بڑی مصلحت یہ ہے) کہ اللہ شیطان کے ڈالے ہوئے کو ایسے لوگوں کے لیے فتنہ (کاذریعہ) بنا دے جن کے دل میں (شک کا) مرض ہے اور جن کے دل سخت ہیں اور بیشک (یہ) ظالم لوگ پرلے درجے کی مخالفت میں ہیں

(ف 2) شان نزول۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جب سورة والنجم نازل ہوئی تو سید عالم نے مسجد حرام میں اس کی تلاوت فرمائی اور بہت آہستہ آہستہ آیتوں کے درمیان وقفہ فرماتے ہوئے جس سے سننے والے غور بھی کرسکیں اور یاد کرنیوالوں کو یاد کرنے میں بھی مدد ملے جب آپ نے آیت ومناۃ الثالۃ الاخری پڑھ کر حسب دستور وقفہ فرمایا تو شیطان نے مشرکین کے کان میں اس سے ملا کردو کلمے ایسے کہہ دیے جن سے بتوں کی تعریف نکلتی تھی تو جبرائیل امین نے سید عالم کی خدمت میں حاضر ہوکر فرمایا اس سے حضور کو رنج ہوا اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کی تسلی کے لیے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔
Ayahs 22:54–57

وَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَیُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:54 in the Quran reader

اور (ف 1) اس لیے کہ جان لیں وہ جن کو علم ملا ہے کہ وہ قرآن تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے ، پس اس پر ایمان لائیں پس ان کے دل خدا کے لیے جھک جائیں اور بیشک اللہ مسلمانوں کو راہ دکھانے والا ہے سیدھے راستہ کی طرف

وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ Open ayah 22:55 in the Quran reader

اور کافر لوگ ہمیشہ اس (قرآن ) سے شک میں رہیں گے یہاں تک کہ ان پر یکایک قیامت آجاوے یا ان پر کسی نامبارک دن کا عذاب آجائے

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 22:56 in the Quran reader

اس دن بادشاہی صرف اللہ ہی کی ہے وہ ان کے درمیان فیصلہ کردے گا پس جو لوگ کہ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے وہ نعمت کے باغوں میں ہیں

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 22:57 in the Quran reader

اور جو کافر ہوئے اور انہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں تو ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے

اللہ تعالیٰ کا نور ہدایت۔ (ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اسی شیطانی شرارت سے سمجھ دار لوگوں نے یہ تو فائدہ اٹھایا کہ قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا نہیں یقین اور زیادہ ہوگیا، کیونکہ وہ لوگ سمجھ گئے کہ شیطان کا دخل مٹانے اور قرآن کی آیتوں کا پکا کرنے کا انتظام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے پھر فرمایا اس یقین کی زیادتی کے سبب سے قرآن کی نصیحت موافق عمل کرنے کے لیے ان لوگوں کے دل پہلے سے نرم ہوگئے اور یہ بھی فرمایا کہ اللہ کے علم میں جو لوگ ایماندار ٹھہرچکے ہیں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو سیدھے رستے پر آجانے کے لیے اسی طرح کے سامان پیدا کردیتا ہے اور جو لوگ اللہ کے علم میں کافرقرار پاچکے ہیں وہ ہمیشہ اسی طرح اللہ کی آیتوں میں شک کرتے رہیں گے یہاں تک کہ ان پر یکایک قیامت آجاوے گی یا ان پر کسی منحوس دن یعنی قیامت کے دن کا عذاب آجائے کیونکہ اس روز اللہ ہی کی بادشاہی ہوگی ان سب کے درمیان فیصلہ کردیاجائے گا کہ جو ایمان والے ہوں گے اور اچھے کام کیے ہوں گے وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے اور جنہوں نے کفر کیا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلایا ہوگا تو ان کے لیے ذلت کا عذاب ہوگا۔
Ayahs 22:58–59

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا اَوْ مَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 22:58 in the Quran reader

اور (ف 1) جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر وہ لوگ (کفار) کے مقابلہ میں شہید ہوگئے یا اپنی موت مر گئے بیشک اللہ ان کو ضرور اچھی روزی دے گا اور بیشک اللہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے

لَیُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَهٗ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ Open ayah 22:59 in the Quran reader

بیشک اللہ ان کو ایسی جگہ پہنچا دے گا کہ جسے وہ پسند کریں گے اور بیشک اللہ جاننے والا تحمل والا ہے

جہاد میں شہداء اور اپنی موت سے مرنے والوں کے اجرکاذکر۔ (ف 1) شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم سے آپ کے بعض اصحاب نے عرض کیا، یارسول اللہ ہم اپنے بھائیوں کے ساتھ جہاد کو جاتے ہیں تو ان میں سے جو شہید ہوجاتے ہیں وہ بارگاہ الٰہی سے بڑے بڑے درجے اور انعام پاتے ہیں لیکن جو شہید نہ ہو اور جہاد ہی میں اپنی موت سے مرے تو اس ک لیے بھی کچھ مرتبہ ہے یا نہیں، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں جن کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں گھربار چھوڑ کر چلے جاتے ہیں پھر وہ لوگ جو کفار کے مقابلہ میں شہید کیے گئے یا اپنی موت سے مر گئے بیشک ان کو اللہ عمدہ روزی دے گا اور ان کو جنت میں اس شان کے ساتھ داخل کرے گا کہ وہ خوش ہوجائیں گے فرشتے ان کی تعظیم کریں گے اور ان کے استقبال کو آئیں گے اور جو نعمتیں انہوں نے نہ دیکھی اور سنی ہوں گی وہ ان کو نصیب ہوں گی بیشک اللہ ہر بات سے واقف ہے اور تحمل والا ہے۔
Ayah 22:60

ذٰلِكَ١ۚ وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْهِ لَیَنْصُرَنَّهُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 22:60 in the Quran reader

بات یہی ہے کہ اور (ف 1) جو (کوئی مسلمان ظلم کا مشرک سے) بدلہ لے (اسی قدر تکلیف پہنچاوے ) جس قدر (اس دشمن کی طرف سے ) تکلیف پہنچائی گئی تھی پھر اس پر کوئی (مزید) زیادتی کرے تو اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا بیشک اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے

(ف 1) شان نزول : یہ آیت مشرکین کے حق میں نازل ہوئی جو ماہ محرم کی آخر تاریخوں میں مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے اور مسلمانوں نے ماہ مبارک کی حرمت کے خیال سے لڑنا نہ چاہا مگر مشرک نہ مانے اور انہوں نے قتل شروع کردیا، اس وقت مجبورا مسلمانوں کو لڑنا پڑا اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کی اور فتح ہوئی مگر مسلمانوں کے دل میں یہ خلش رہی کہ محرم مہینے میں لڑنے سے لالہ تعالیٰ ان سے ناخوش ہوگا، چونکہ اللہ تعالیٰ تو غیب دان ہے اس کو ان کے دلوں کا حال معلوم تھا کہ ان کے دلوں میں محرم کی تعظیم ہے اور اپنی طرف سے ہرگز یہ لڑنا نہیں چاہتے تھے مشرکوں نے جب ان پر کمال زیادتی کی اس وقت انہوں نے بدلہ لینے کے طور پر مقابلہ کیا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمادیا کہ یہ لوگ مجبورالڑے، اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ان سے کچھ مواخذہ نہیں فرمایا، اس طرح کی مجبوری کے ہر موقع کو اللہ تعالیٰ معاف کرنے والابخشنے والا ہے ۔
Ayahs 22:61–64

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 22:61 in the Quran reader

یہ (ف 2) (مظلوم کی مدد) اس سبب سے ہے کہ اللہ رات کو ڈالتا ہے دن کے حصہ میں اور دن کو لاتا ہے رات کے حصہ میں اور بیشک الہ (ان سب احوال واقوال کو) خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 22:62 in the Quran reader

اور یہ مدد اس سبب سے ہے کہ اللہ ہی برحق ہے اور اللہ کے سوا جسے کافر پوجتے ہیں (یعنی بت) وہ باطل ہے اور اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ شان میں سب سے بڑا ہے

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١٘ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌۚ Open ayah 22:63 in the Quran reader

اے مخاطب) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے جس سے زمین سرسبز ہوجاتی ہے بیشک اللہ (اپنے بندوں پر) مہربان اور ان کے حال سے خبردار ہے

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 22:64 in the Quran reader

اسی کا ہے جو کچھ کہ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور بیشک اللہ ہی بےنیاز ہر طرح کی تعریف کے لائق ہے

صفات الٰہیہ۔ (ف 2) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وطن چھوڑنے والے مظلوم مسلمانوں سے مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے وہ بڑا قدرت والا ہے جب چاہتا ہے دن کی گھڑیاں بڑھا کر رات کی گھڑیاں گھٹا دیتا ہے اس طرح جب چاہتا ہے دن کی گھڑیاں گھٹا کر رات کی گھڑیاں بڑھا دیتا ہے مظلوموں کی ہر وقت کی فریاد کو سنتا اور ظالموں کے ہر طرح کے ظلم کو دیکھتا ہے یہ اس واسطے ہے کہ وہ بڑا بادشاہ ہے کوئی چیز اس کے حکم سے باہر نہیں پھر یہ نادان مشرک ایسے بڑے صاحب قدرت کی تعظیم میں بتوں کو تو اللہ کے کارخانہ میں کچھ بھی دخل نہیں، پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کی یہ قدرت بھی سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ وہ صاحب قدرت موسم کی تبدیلی سے ہر سال برسات میں آسمان سے مینہ برساتا ہے جس سے تمام زمین سرسبز ہوجاتی ہے یہ سب تدبیریں اس کی اس لیے ہے کہ وہ لوگوں کی ضرورتوں سے واقف ہے پھر فرمایا کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اسی کے حکم میں ہے اس واسطے اس کے کسی انتظام کو کوئی روک نہیں سکتا، اور اس کو آسمان و زمین کی کسی چیز کی کچھ پرواہ نہیں اس لیے اس کے سب کام دوسروں کے فائدہ کے لیے اور قابل تعریف ہیں۔
Ayah 22:65

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 22:65 in the Quran reader

اے مخاطب !1) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے تمہارے بس میں کردیا جو کچھ زمین میں ہے اور کشتی کو کہ جو دریا میں اس کے حکم سے چلتی ہے اور وہ روکے ہوئے ہے آسمان کو کہ زمین پر نہ گرپڑے مگر اس کے حکم سے، بیشک اللہ لوگوں کے ساتھ نہایت شفقت کرنے والا مہربان ہے

اللہ کے احسانات بندوں پر۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ دیکھو مینہ کا پانی ندیوں اور دریاؤں میں جمع ہوجاتا ہے اور اس پانی میں کشتیاں چلتی ہیں اور اس ملک کی پیداوار اس ملک میں اور اس ملک کی اس ملک میں ان کشتیوں کے ذریعہ سے دریاؤں میں چلی جاتی ہیں اس طرح جانوروں جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیے ہیں ان کے ذریعہ سے طرح طرح کی تجارت خشکی میں ہوتی ہے اور آسمان جو اتنی بڑی چھت ہے اس کو بغیر ستون کے اللہ نے پیدا کیا ہے جو اللہ کی حفاظت اور اس کے حکم سے کھڑا ہے ایسے خالق کو چھوڑ کر لوگ اس کے سوا اوروں کی پرستش کرتے ہیں اللہ چاہے تو آسمان کو پٹخ دیوے کہ تمام دنیا کے لوگ دب کر مرجائیں، یا مینہ ضرورت سے زیادہ برسا دے کہ تمام دنیا غرق ہوجائے یا بالکل نہ برسائے کہ قحط سے سب آدمی اور جانور ہلاک ہوجائیں غرض یہ کہ جو سامان آدمی کی زیست اور راحت کے ہیں اگر وہ خالق ان سب سامانوں کو اپنی قدرت سے ایک اندازہ پر نہ رکھے تو یہی سامان انسان دنیا کی ہلاکت کا سبب قرار پاسکتے ہیں ان نشانیوں کا ذکر فرما کر پھر فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان اور شفیق ہے۔
Ayah 22:66

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ١٘ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ Open ayah 22:66 in the Quran reader

اور (ف 1) وہی ہے کہ جس نے (بےجان نطفہ سے) تم کو پیدا کیا، پھر تم کو (وقت مقررہ پر) مارے گا پھر (قیامت میں دوبارہ) تم کو زندہ کرے گا، بیشک انسان ہی بڑا ناشکرا ہے

(ف 1) اوپر انسان کی ضرورت کی چیزوں کے پیدا کرنے کا احسان جتلاکر اس آیت میں خود انسان کے پیدا کرنے کا احسان جتلایا گیا ہے حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ انسان کی کچھ ہستی نہیں تھی اللہ تعالیٰ نے اس کو نیست وہست کیا اس کی سب ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا انسان کی عمر کی تعداد مقرر کی جس کے پورے ہوجانے کے بعد ہر شخص مرجاتا ہے اور پھر وقت مقررہ پر جزوسزا کے لیے ہر شخص کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا کہ دنیا کا پیدا کرنا ٹھکانے لگے۔ لیکن انسان ایسا ناشکرا ہے کہ اللہ کے ان سب احسانات کو بھول کر اللہ کی تعظیم میں ایسے غیروں کو شریک کرتا ہے نہ انہوں نے انسان کو پیدا کیا نہ انسان کی کسی ضرورت کی چیز کو پیدا کیا۔
Ayahs 22:67–70

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ١ؕ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:67 in the Quran reader

ہم نے ہر امت (ف 2) کے لیے عبادت کے طریقے بنائے کہ جس پر وہ عمل کرے پس اس کام میں کوئی تم سے نہ جھگڑے اور تم (ان کو) اپنے پروردگار (کے دین) کی طرف بلاؤ بیشک تم سیدھے راستہ پر ہو

وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 22:68 in the Quran reader

اور اگر (اس پر بھی) وہ لوگ تم سے جھگڑیں تو فرمادو کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ جو کچھ تم کرتے ہو

اَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 22:69 in the Quran reader

اللہ قیامت کے دن تمہارے درمیان فیصلہ کردے گا جس بات میں تم اختلاف کررہے ہو

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 22:70 in the Quran reader

اے مخاطب) کیا تو نے نہ جانا یہ کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے بیشک یہ سب کچھ ایک کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں لکھا ہوا ہے بیشک یہ سب خدا پر آسان ہے

ہر فرقہ کا طریقہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ (ف 2) شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ بدیل بن ورقاء اور بشیر بن سفیان اور یزید بن خنیس نے اصحاب رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا کہ کیا سبب ہے کہ جس جانور کو تم ذبح کرتے ہو اسے تو کھاتے ہو اور جس کو اللہ مارتا ہے اس کو نہیں کھاتے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ ان لوگوں کو ایسی حجتیں پیش کرنے کا سبب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق ہر فرقہ کا طریقہ پایاجاتا ہے اور اس واسطے اے رسول کے تم ان لوگوں کو اس پر ایمان لانے اور اس کا دین قبول کرنے اور اس کی عبادت میں مشغول ہونے کی دعوت دو کیونکہ جس طریقہ پر تم ہو اللہ کا بتایا ہوا سیدھاراستہ ہے اور جس طریقہ پر یہ لوگ ہیں وہ بےسند طریقہ ہے اس پر بھی یہ لوگ جھگڑے سے بازنہ آویں تو ان لوگوں سے کہہ دیاجائے گا کہ ہمارا تمہارا فیصلہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو ہوگا اس فیصلہ کے بعد حق وناحق ہر ایک کو معلوم ہوجائے گا پھر فرمایا اے مخاطب کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ زمین وآسمان کی کل چیزوں سے واقف ہے اور کل چیزوں کا حال لوح محفوظ میں موجود ہے پس یہ فیصلہ کرنا اللہ کے نزدیک بہت آسان ہے۔
Ayahs 22:71–72

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ مَا لَیْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ Open ayah 22:71 in the Quran reader

اور ( ٖف 1) مشرک لوگ) اللہ کے سوا ایسی چیز کو پوجتے ہیں کہ جس کی اللہ نے کوئی سند نہ اتاری اور اس چیز کو کہ ان کے پاس ان کے ثبوت کے لیے کچھ علم نہیں اور (ان) ظالموں کا کوئی مددگار نہیں

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ١ؕ یَكَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ؕ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ اَلنَّارُ١ؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:72 in the Quran reader

اور جب کہ ان کے سامنے ہماری روشن آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو تم ان کافروں کے چہرے پر بگڑنے کے آثار دیکھو گے، قریب ہے کہ یہ ان پر حملہ کریں کہ جو (مسلمان) ہماری آیتیں ان کے سامنے پڑھتے ہیں تم فرمادو (ان مشرکوں سے) کیا میں تم کو اس سے بھی زیادہ ناگوار چیزبتادوں اور وہ دوزخ ہے جس ک اللہ نے کافروں کو وعدہ دیا ہے اور کیا ہی بری پلٹنے کی جگہ ہے

کفار کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ مشرک لوگ کیسے بیوقوف ہیں کہ سوا اللہ کے اور چیزوں کی پرستش کرتے ہیں حالانکہ ان کی معبودیت کی کوئی دلیل نہیں اور اللہ کی طرف سے بھی ان کے پاس کوئی بھی سند نہیں اور ان کا یہ مقولہ ہے کہ یہ بت بروز قیامت ہماری شفاعت کریں گے خدا نے ان کی نام کوئی پروا نہ بھیجا ہے جس کی وجہ سے وہ اس بات کے مدعی ہیں اور ان ظالموں کا کوئی بھی مددگار نہیں پھر فرمایا کہ اللہ کے علم غیب کے موافق ان میں جو لوگ گمراہ ٹھہرچکے ہیں ان کا حال یہ ہے کہ جب قرآن کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں جس میں بیان احکام اور تفصیل حلال و حرام ہے حالانکہ یہ ایسی روشن ہیں کہ ان آیات کو مانتے اس کی برعکس غصہ سے ان کے چہرہ کا رنگ بدل جاتا ہے یہاں تک کہ جو مسلمان ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنتاے ہیں قریب ہے کہ ان پر حملہ کربیٹھیں گے آگے فرمایا کہ اے محبوب تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ اس سے بھی زیادہ غصہ اور چہرہ کا رنگ بدل جانے کی چیز دوزخ کی وہ آگ ہے جس میں جھونکنے کا وعدہ اللہ نے ایسے منکر شریعت لوگوں سے کیا ہے اور یہ خوب یاد رہے کہ ایسے لوگوں کے حق میں دوزخ ہے جو بہت ہی براٹھکانہ ہے۔
Ayahs 22:73–74

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ١ؕ وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ١ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ Open ayah 22:73 in the Quran reader

اے (ف 1) لوگو ! ایک مثال بیان کی جاتی ہے پس اس کو کان لگاکرسنو، (وہ یہ ہے) کہ جن کو تم اللہ کے سواپوجتے ہو ہرگز وہ (بت) ایک (ادنی) مکھی بھی نہیں پیدا کرسکیں گے اگرچہ وہ سب اس لیے جمع ہوجاویں اور اگر ان سے مکھی کچھ چھین لے جائے تو وہ (ایسے عاجز ہیں کہ) اس سے چھڑا نہ سکیں، چاہنے والا (یعنی بت پرست) اور وہ (بت) جس کو چاہا (دونوں ہی ) بودے (کمزور) ہیں

مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:74 in the Quran reader

) (افسوس ہے) اللہ کی قدر نہ سمجھی جیسے اس کی قدر ہے بیشک اللہ قوت والا، غالب ہے

مشرکین اور ان کے باطل معبودوں کی بےبسی کا ذکر۔ (ف 1) شان نزول۔ ان آیتوں میں مشرکوں کے قائل کرنے کے لیے فرمایا کہ یہ مشرک جن باطل معبودوں کی پوجا کرتے ہیں آخر وہ بت اپنے پوجا کرنے والوں کی کیا مدد کرسکتے ہیں وہ تو ایسے عاجز ہیں کہ تمام دنیا کے بت بھی جمع ہوجاویں تو اللہ کی مخلوقات کی ایک ادنی چیز مکھی کو بھی نہیں پیدا کرسکتے، بلکہ کا پیدا کرنا تو درکنار ان کو تو اتنی بھی قوت نہیں کہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو یہ اس پھر چھین سکیں، پھر جو اس قدر ضعیف ہیں کہ ایک ادنی سے چیز یعنی مکھی پر غالب نہیں اسکتے وہ کیا خدائی کے قابل ہیں رہی یہ بات جن باطل معبودوں کو یہ پوجا کرتے ہیں عقبی میں وہ بت ان مورت پر ستوں کے کچھ کام نہ آویں گے یہ تو ان مشرکوں کی صورت سے بےزار ہوجائیں گے آگے فرمایا جب یہ لوگ ایسی عاجزچیزوں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہیں تو اللہ کی قدرت کے پہچاننے سے ایسے لوگ بالکل بےبہرہ ہیں پھر فرمایا کہ جو مشرک اللہ کے علم میں گمراہ اور دوزخی ٹھہرچکے ہیں وہ ایسی ہی بدحواسی کی باتیں کرتے ہیں کہ اللہ جیسے زبردست معبود کو چھوڑ کر خیالی چیزوں کی پوجا کو اچھاجانتے ہیں۔
Ayahs 22:75–76

اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌۚ Open ayah 22:75 in the Quran reader

اللہ (ف 1) فرشتوں میں سے (جس کو چاہتا ہے) پیغام پہنچانے کے لیے منتخب کرلیتا ہے اور آدمیوں میں سے بھی بیشک اللہ سننے والا ، دیکھنے والا ہے

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 22:76 in the Quran reader

وہ جانتا ہے جو ان کے آگے ہے (یعنی امور دنیا کو یا گزرے ہوئے اعمال کو) اور سب کام اللہ ہی کی طرف پھیرتے جاتے ہیں

مشرکین کا اعتراض۔ (ف 1) شان نزول : یہ آیت ان کفار کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے بشر کے رسول ہونے کا انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ بشر کیسے رسول ہوسکتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ جس طرح یہ لوگ اللہ کی قدرت کے پہچاننے سے بےبہرہ ہیں اسی طرح اللہ کی حکمت کا علم ان لوگوں کو نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے جس کو چاہا اپنی حکمت کے موافق فرشتوں اور بنی آدم میں سے رسول بنایا ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی حکمت کانہ کچھ بھید معلوم ہے نہ ان کو اللہ تعالیٰ کی حکمت میں دخل دینے کا کچھ حق حاصل ہے آگے فرمایا کہ یہ مشرک لوگ اللہ کے رسول کی شان میں جو باتیں بناتے ہیں وہ اللہ سب سنتا ہے اور اللہ کے رسول ان باتوں پر صبر جو کرتے ہیں اس کو بھی اللہ تعالیٰ دیکھتاپھر فرمایا سب چیزیں اللہ کی پیدا کی ہوئی ہیں اس لیے کسی کا حاضر و غائب کوئی حال اللہ کے علم سے باہر نہیں ہے۔
Ayah 22:77

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَ افْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ۩ Open ayah 22:77 in the Quran reader

اے (ف 1) ایمان والو ! رکوع کرو اور سجدہ کرو اور اپنے پروردگار کی عبادت کرو اور کام کرو بھلے اس امید پر کہ تم نجات پاؤ

رکوع اور سجدہ کا حکم۔ (ف 1) اس آیت میں ارشاد ہے کہ اے ایمان والو ! تم رکوع کرو اور سجدہ کرو، جب اسلام کی ابتدا تھی تو نماز بغیر رکوع و سجود کے تھی پھر نماز میں رکوع و سجود کا حکم فرمایا گیا یعنی رکوع اور سجود خاص اللہ کے لیے ہوں اور عبادت میں اخلاص اختیار کرو اور نیک کاموں میں لگے رہو برے کاموں سے بچتے رہوتا کہ تم فلاح پاؤ۔
Ayah 22:78

وَ جَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ١ؕ هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ١ؕ مِلَّةَ اَبِیْكُمْ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ١ۙ۬ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ هٰذَا لِیَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِیْدًا عَلَیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ١ۖۚ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ١ؕ هُوَ مَوْلٰىكُمْ١ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ۠ Open ayah 22:78 in the Quran reader

اور (ف 2) اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا حق ہے جہاد کرنے کا، اس نے (اپنے دین و عبادت کے لیے ) تم کو انتخاب کیا اور (اس نے) تم پر دین (کے احکام) میں کسی قسم کی تنگی نہیں رکھی، (وہی دین جو) تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا دین ہے۔ اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے اگلی کتابوں میں اور اس قرآن میں، تاکہ (قیامت کے دن ) رسول تمہارا (نگہبان) گواہ ہو اور تم اور لوگوں پر گواہی دو پس تم لوگ نماز قائم رکھو اور زکوۃ دو اور اللہ کی رسی مضبوط پکڑ لو، وہی تمہارا مولا اور کیا ہی اچھا مددگار ہے

مسلمانوں کی عزت اور قیامت میں مسلمانون کی ایک خاص گواہی کا ذکر۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ خدا کی راہ میں جہاد کروجیسا کہ اس کے جہاد کا حق ہے یعنی صاف دل اور خالص نیت سے ہو، جہاد دوقسم کے ہیں : ایک تو ظاہردشمن یعنی مشرکیوں اور باغیوں کے ساتھ جہاد کرنا۔ دوسرا باطنی دشمن یعنی نفس کے ساتھ جہاد کرنا ہے ، پھر فرمایا کہ امت محمدیہ کے دین دار لوگو ! اللہ تعالیٰ نے اس آخری آسان شریعت پر عمل کرنے کے لیے تم کو پسند فرمایا ہے اس لیے احکام دین میں تم پر کسی قسم کی سختی بھی نہیں کہ پچھلی شریعتوں میں بعض باتیں سخت تھیں۔ مثلا پچیس روپے سینکڑہ زکوۃ، یا نماز کے لیے خاص جگہ کا مقرر ہونا۔ اس شریعت میں زکوۃ فقط ڈھائی روپے سینکڑہ ہے اور جہاں پاک زمین مل جائے وہاں نماز ہوجاتی ہے سفر میں نماز کا قصر اور روزے کے افطار کی اجازت، اور پانی نہ پانے یا پانے کے ضرر کرنے کی حالت میں غسل اور وضو کی جگہ تیمم کی اجازت ہے شریعت ابراہیمی اور شریعت محمدی کے اکثر مسئلے ملتے جلتے ہیں اس لیے فرمایا یہ شریعت ملت ابراہیمی کے مانند ہے ابراہیم (علیہ السلام) نے کعبہ بنانے کے وقت الہام الٰہی کے موافق اپنی اولاد میں ایک رسول اور فرمانبردار امت پیدا ہونے کی جو دعا کی تھی اس کا ذکر سورة بقرہ میں گزرچکا ہے اسی کو فرمایا قرآن کے نازل ہونے سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کا دعا میں امت محمدیہ کا نام امت مسلمہ قرار دیا اور پھر قرآن میں بھی یہی نام جگہ جگہ لیا گیا ہے پس لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرو اور دین حق کا اتباع کرو تاکہ پیغمبر خدا قیامت میں تمہاری نگہبان ہوں اور تمہاری مسلمانی کی گواہی دیں اور اس بات کی تصدیق کریں کہ تم نے ملت ابراہیمی کو قبول کیا، اور اس کی متابعت کی ، اور تاکہ تم لوگوں پر ایک خاص گواہی دو یعنی قیامت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اس بات کو ظاہر کرو کہ انبیاء علیھم السلام نے لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف بلایا اور حق رسالت ادا کیا پس جب تم کو یہ عزت حاصل ہوئی تو اس کے شکریہ میں لازم ہے کہ تم لوگ خصوصیت کے ساتھ نماز کی پابندی کرو اور زکوۃ دیتے رہو اور اس دین کی پابندی پر خاتمہ بخیر ہونے کا اللہ پر بھروسہ رکھو، کیونکہ ہر حال میں انسان کا اللہ ہی حامی و مددگار ہے مولابن کر عیب چھپاتا ہے اور مددگاری فرما کر گناہوں کی بخشش فرماتا ہے (سبحان اللہ ! قربان جائیں ایسے رب کریم پر جل جلالہ) ۔