23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 23:1–11

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:1 in the Quran reader

بیشک (ف 1) ایمان والے مراد کو پہنچے

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ Open ayah 23:2 in the Quran reader

وہ جو اپنی نمازوں میں گڑگڑاتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ Open ayah 23:3 in the Quran reader

اور وہ جو بےہودہ باتوں سے اعراض کرنے والے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ Open ayah 23:4 in the Quran reader

اور وہ جو زکوۃ ادا کرنے والے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 23:5 in the Quran reader

اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کو (حرام شہوت رانی، زنا) سے محفوظ رکھتے ہیں

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 23:6 in the Quran reader

مگر اپنی بیبیوں یاشرعی لونڈیوں پر جو کہ ان کے ہاتھ کی ملکیت ہیں تو بیشک ان کے لیے کوئی ملامت نہیں

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 23:7 in the Quran reader

پس جو کوئی ان دو کے سوا اور (جگہ شہوت رانی کا) طلب گار ہو تو ایسے لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ Open ayah 23:8 in the Quran reader

اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ Open ayah 23:9 in the Quran reader

اور وہ جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ Open ayah 23:10 in the Quran reader

یہی لوگ وارث ہیں

الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 23:11 in the Quran reader

کہ جنت الفردوس کی میراث پائیں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

مسلمانوں کی جنت میں جانے کی شرائط۔ (ف 1) یہ سورت مومنون مکیہ ہے۔ مسند امام احمد بن حنبل ، ترمذی، نسائی میں حضرت عمر سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ اس سورت کے شروع کی دس آیتیں جب نازل ہوئیں تو نبی ﷺ نے دعا مانگی اس دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ اپنی نعمت کو روز بروز ہم پر بڑھا ، اور اپنی نعمت سے ہم کو محروم نہ رکھ، اور اپنی رضامندی کے کام ہم سے لے اور پھر آپ نے آیتوں کو پڑھ کر فرمایا جو کوئی ان دس آیتوں کے موافق عمل کرے گا بلاشک جنت میں داخل ہوگا، ان آیتوں میں فرمایا کہ بیشک ایمان والے کامیاب ہوئے وہ جو اپنی نمازوں میں عاجزی کیا کرتے ہیں خشوع کا مطلب ، نماز میں عاجزی سے کھڑا ہو اور دنیا سے توجہ ہٹی ہوئی ہو اور نظر جائے نماز سے باہر نہ ہو، اس کو نہ معلوم ہو کہ اس کے دائیں اور بائیں کون ہے اور انگلیاں نہ چٹخائے اور اسی قسم کی حرکات سے باز رہے۔ اور خشوع کی دوقسمیں ہیں۔ ایک ظاہری اور دوسری باطنی۔ خشوع ظاہری تو یہ ہے کہ سرکو خدا کے سامنے نیچا رکھے اور دست رات کو دست چپ پر رکھے، اور اطمینان سے قرآن پڑھے۔ اور خشوع باطنی یہ ہے کہ وساوس شیطانی سے دل کو پاک کرکے بہت خلوص سے متوجہ الی اللہ ہو وے، یہاں تک کہ اپنی ذات کا بھی اس کا خیال نہ رہے، اپنے آپ کو بھی بھول جائے اور یہ سمجھے کہ خدا کو دیکھ رہا ہوں۔ اور اگر یہ بھی نہ ہو تو اتنا تو ہو کہ یہ جانے کے خدا اس کو دیکھ رہا ہے ، صحیح بخاری سے روایت ہے کہ جس میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ نماز پڑھنے والا شخص جب تک ادھر ادھر نظر نہیں ڈالتا تو اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف متوجہ رہتا ہے نماز کے ذکر کے بعد پھر فرمایا کہ وہ جو گناہوں سے بچتے ہیں اور وہ جو زکوۃ چستی سے ادا کرتے ہیں اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کو حرام شہوت رانی سے محفوظ رکھتے ہیں ہاں اپنی بیبیوں سے یالونڈیوں سے جو ان کے ہاتھ کی ملکیت ہیں ان سے علاقہ رکیں تو ان ک لیے کوئی برائی نہیں ہاں جو کوئی اس کے علاوہ اور جگہ شہوت رانی کا طلب گار ہو پس وہ لوگ حد شرعی سے نکلنے والے ہیں اس آیت سے سب قضاء شہوت حرام ہوئی خواہ کسی جانور سے یا ہاتھ وغیرہ سے ، یا اغلام وغیرہ سے یا متعہ سے۔ سعید بن جبیر ؓ نے فرمایا ، اللہ تعالیٰ نے ایک امت کو عذاب کیا جو اپنی شرمگاہوں سے کھیل کرتے تھے پھر اس کے بعد فرمایا کہ وہ جو اپنی سپردگی میں لی ہوئی امانتوں کو خواہ خدا کی امانت ہو یا بندوں کی، ادا کرتے ہیں اور عہد خواہ بندوں سے ہو یا خدا سے پورا کرتے ہیں اور وہ جو اپنی نمازوں کو پنجگانہ ان کے وقتوں میں ان کے شرائط وآداب کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور فرائض وواجبات اور سنتیں ونوافل سب کی نگہبانی رکھتے ہیں روزہ حج ہجرت کے بعد کے فرائض ہیں، اس لیے اس مکی سورت میں ان دونوں فرض کو ذکر نہیں ہے غرض یہ کہ یہ خصلتیں جس شخص میں ہوں اس کو فرمایا کہ ایسے ہی لوگ وارث ہیں، جو جنت الفردوس کا ورثہ پاکر ہمیشہ کو مالک بن جاویں گے۔
Ayahs 23:12–17

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ Open ayah 23:12 in the Quran reader

اور (ف 1) بیشک ہم نے آدمی کو چنی ہوئی مٹی سے بنایا

ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍ۪ Open ayah 23:13 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کو (یعنی اس کی نسل کو) ایک محفوظ مقام (یعنی رحم) میں نطفہ بناکر (ایک معینہ مدت تک ) رکھا

ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا١ۗ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ١ؕ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ Open ayah 23:14 in the Quran reader

پھر ہم نے اس نطفہ کو جما ہوا خون بنایا، پھر ہم نے اس جمے ہوئے خون کو ایک گوشت کا ٹکڑا بنایا، پھر اس گوشت کے ٹکڑے کی چند ہڈیاں بنائیں پھر ان ہڈیوں پر گوشت چڑھادیا پھر ہم نے (اس میں روح ڈال کر) اس کو ایک دوسری صورت میں اٹھان دی، پس اللہ بڑی برکت والا سب سے بہتر بنانے والا ہے

ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَیِّتُوْنَؕ Open ayah 23:15 in the Quran reader

پھر بیشک اس (پیدائش) کے بعد تم سب ضرور مرنے والے ہو

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:16 in the Quran reader

پھر (مرنے کے بعد) تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ١ۖۗ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ Open ayah 23:17 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے اور ہم خلق سے بیخبر نہیں

انسان کی پیدائش کی کیفیت۔ دنیا کو پیدا کرنے کا نتیجہ۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ بیشک ہم نے آدمی کو چنی ہوئی مٹی سے پیدا کیا پھر ہم نے جوہر کو پانی یعنی نطفہ بنا کر ایک مدت معینہ تک ایک محفوظ مقام پر یعنی رحم میں رکھا، پھر ہم نے اس نطفہ کو جماہوا خون بنایا، پھر ہم نے اس جمے ہوئے خون کو ایک گوشت کا ٹکڑا سابنایا، پھر اس میں ہڈیوں کا ڈھانچا بنایا، پھر ڈھانچے پر گوشت چڑھایا، رگیں پٹھے جوڑ وغیرہ سب بنائے اور پتلا تیار ہوگیا پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے جان پڑجاتی ہے اور رحم پر جو فرشتہ تعینات ہے اس کو اس پتلے کی عمر، رزق، نیک وبد لکھنے کا حکم جس طرح ہوتا ہے وہ فرشتہ اس کے موافق لکھ لیتا ہے پس کیا ہی برکتوں والا ہے اللہ، جو سب سے بہتر پیدا کرنے والا ہے یہاں انسان کی کس قدر بزرگی تمام زمین اور آسمان اور جمیع موجودات پر ثابت ہوتی ہے کہ انسان کے پیدا کرنے سے اللہ تعالیٰ اپنی ثنا اور تعریف بیان فرماتا ہے آگے فرمایا کہ اس طرح کی پیدائش کے بعد جتنی اس کی عمر ہوتی ہے اس عمر کے ختم ہونے تک ہر شخص جیتا ہے پھر مرجاتا ہے پھر فرمایا انسان کا اس طرح پیدا کرنا، اور اس کی عمر کی ایک مدت کاٹھہرانا کھیل تماشہ کے طور پر نہیں ہے کہ ہر شکص جب مر کر خاک ہوجاوے تو پھر اس کی خبر نہ لی جائے کہ عمر بھر اس نے اپنی پیدائش کے شکریہ میں اپنے پیدا کرنے والے کی مرضی کے موافق کچھ کام کیے یا نہیں، اس لیے دنیا کی عمر ختم ہوجانے اور اس کے اجڑ جانے کے بعد دنیا بھر کے لوگوں کو ایک ہی دفعہ دوبارہ پیدا کرکے نیکی وبدی کی جزاوسزا کا فیصلہ کیا جاوے گا، آگے آسمانوں کی پیدائش کا ذکر فرمایا، یہ جتلایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ آسمانوں کے اس حامل سے بیخبر نہیں ہے وہ گرکرزمین اور اہل زمین کو برباد نہ کریں۔ اس طرح ہر شخص کے نیک وبد کاموں سے بھی وہ غافل نہیں ہے اس کو سب کے عملوں کی خبر ہے جس کا نتیجہ وقت مقررہ پر سب کو معلوم ہوجائے گا ہر ایک آسمان دوسرے آسمان کی چھت ہے اور ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک پانچ سو برس کے راستہ کا فاصلہ ہے اسی واسطے آسمانوں کو سات راہیں فرمایا۔
Ayahs 23:18–22

وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِی الْاَرْضِ١ۖۗ وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَۚ Open ayah 23:18 in the Quran reader

اور (ف 1) ہم نے آسمان سے ایک اندازہ کے ساتھ پانی برسایا، پھر ہم نے اسے زمین میں (حسب ضرورت) ٹھہرایا اور بیشک ہم اس (پانی ) کو دور کرنے پر قادر ہیں

فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ١ۘ لَكُمْ فِیْهَا فَوَاكِهُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:19 in the Quran reader

پس ہم نے تمہارے لیے اس سے باغ پیدا کیے کھجور کے اور انگوروں کے جن میں تمہارے لیے بکثرت میوے ہیں اور ان میں سے تم کھاتے ہو

وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ Open ayah 23:20 in the Quran reader

اور ہم نے درخت پیدا کیا جو کہ طور سینا میں اکثر پیدا ہوتا ہے جس سے تیل حاصل ہوتا ہے اور کھانے والوں کے لیے روٹی سالن (کے کام) آتا ہے

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهَا وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:21 in the Quran reader

اور بیشک تمہارے لیے چوپایوں میں ایک نصیحت ہے کہ تم کو ان کے پیٹ کی چیزوں میں سے (دودھ جدا کرکے ) پلاتے ہیں اور تمہارے لیے اس میں بہت فائدے ہیں اور ان میں بعض کو تم کھاتے ہو

وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ۠ Open ayah 23:22 in the Quran reader

اور (خشکی میں) ان پر اور (سمندر میں ) کشتیوں پر سوار کیے جاتے ہو

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو نیک وبد کی جزا وسزا کی حکمت سے پیدا کیا ہے کھیل تماشہ کے طور پر نہیں پیدا کیا اسی طرح مینہ بھی حکمت سے ضرورت کے موافق برستا ہے نہ ایسا بہت برستا ہے جس سے کھیتوں اور عماروتوں کو نقصان پہنچ جاوے اور نہ ایسا تھوڑا کہ کھیتوں اور باغوں کو کافی نہ ہو، زمین ٹھہرنے کا یہ مطلب ہے کہ زمین کے اندر پانی ٹہر کر اناج کے بیج اور میوے کی گھٹلی کو تری پہنچاتا ہے اور تالابوں وغیرہ میں جو پانی ٹھہرجاتا ہے وہ آدمیوں اور جانوروں کے پینے میں آتا ہے پھر فرمایا یہ بات بھی اللہ کی قدرت سے کچھ دور نہیں کہ زمین کے اندر اور تالابوں کے اندر پانی سکھادیاجائے جس سے کھیتی اور جانوروں کو نقصان پہنچ جاوے پس ہم نے تمہارے لیے اس قسم کے پانی کے ذریعے سے کھجوروں ارانگوروں کے باغ پیدا کیے جن میں تمہارے لیے بکثرت میوے ہیں اور اسی پانی سے ایک قسم کا زیتون کا درخت بھی ہم نے پیدا کیا جو کہ طور سینا جہاں موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت اور تورات ملی ہے وہاں بکثرت پیدا ہوتا ہے اور اس کا تیل جلانے کے کام میں آتا ہے اور کھانے والوں ک لیے روٹی سے سالن کے کام آتا ہے ، آگے چوپایوں کے دودھ اور گوشت اور سواری کے کرنے کی نعمتوں کا ذکر فرمایا کر یہ بھی فرمایا کہ جس طرح خشکی میں لوگ چوپایوں پر سواری کرتے ہیں سمندر میں وہی حال کشتی کا ہے۔
Ayahs 23:23–31

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:23 in the Quran reader

اور بیشک (ف 1) نوح کو ہم نے اس کی قوم کی طرف (پیغمبر کرکے) بھیجا پس اس نے کہا : اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم کو (اس کے عذاب کا) ڈر نہیں ؟

فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً١ۖۚ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَۚ Open ayah 23:24 in the Quran reader

پس اس کی قوم کے کافرسرداروں نے کہایہ شخص بجز اس کے کہ تمہاری طرح کا ایک آدمی ہے اور کچھ نہیں تم پر بزرگی حاصل کرنا چاہتا ہے اور گر اللہ رسول بھیجنا چاہتا تو فرشتوں کو بھیجتا۔ ہم نے تو یہ بات اپنے اگلے باپ داودں سے کبھی نہیں سنی

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:25 in the Quran reader

وہ تو صرف ایک دیوانہ آدمی ہے پس اس کا ایک وقت خاص تک انتظار کرو

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:26 in the Quran reader

نوح نے ) عرض کی : اے میرے پروردگار میری مدد فرما اس پر کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ فَاسْلُكْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 23:27 in the Quran reader

پھر ہم نے نوح کی طرف وحی بھیجی کہ ہماری نگاہ کے سامنے اور ہمارے حکم سے کشتی بنا، پس جس وقت ہمارا حکم (عذاب کا قریب) آئے اور تنور سے پانی ابلنے لگے تو کشی میں ہر ایک قسم (کے جانوروں ) میں سے دوعدد نر اور مادہ بٹھالینا اور اپنے گھروالوں کو (بٹھالینا) مگر ان میں سے ایسے لوگوں کو نہیں جس کے لیے (پہلے سے ڈوبنے کا) حکم ہوچکا ہے اور ان ظالموں کے معاملہ میں مجھ سے باتنہ کرنا بیشک یہ ضرور ڈبوئے جائیں گے

فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:28 in the Quran reader

پھر جس وقت تم اور تمہارے ساتھی کشتی میں ٹھیک بیٹھ جاؤ تو یون کہنا، سب تعریف اللہ کے لیے کہ جس نے ہم کو ظالم قوم سے نجات دی

وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 23:29 in the Quran reader

اور عرض کرنا اے میرے پروردگار مجھ کو (کشتی سے ) برکت والی جگہ اتار اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ وَّ اِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ Open ayah 23:30 in the Quran reader

بیشک اس واقعہ میں ضرور نشانیاں ہیں اور بیشک ہم (اپنے بندوں کو) ضرور جانچنے والے تھے

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَۚ Open ayah 23:31 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بعد اور گروہ پیدا کیا

حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) انبیاء کے تین طرح کے زمانہ ہیں : (1) ایک زمانہ حضرت آدم سے لے کر حضرت نوح (علیہ السلام) تک کا ہے، اس زمانہ تک حلال و حرام کا کوئی حکم نہ تھا، نہ کوئی شریعت تھی ، صرف کچھ وظیفے اور آداب تھے۔ (2) نوح (علیہ السلام) کے زمانہ سے شریعت شروع ہوئی یہ دوسرازمانہ نبوت کا حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک کا ہے اس زمانہ میں انبیاء کو مخالف لوگوں سے لڑنے کا حکم نہیں تھا بلکہ مخالف لوگوں کو پہلے انبیاء طرح طرح سمجھاتے تھے جب مخالف لوگ کسی طرح نہیں مانتے تھے تو عام عذاب آکر سب مخالف ایک دفعہ میں ہی غارت وہلاک ہوجاتے تھے فرعون کے ہلاک ہوجانے کے بعد جب تورات حضرت موسیٰ پر نازل ہوئی اور تورات میں جہاد کا حکم آگیا تو وہ عام عذاب کا طریقہ بند ہوگیا۔ (3) تیسرازمانہ حضرت موسیٰ سے نبی ﷺ تک کا ہے جس میں مخالفوں سے لڑنے کا حکم ہے قرآن شریف میں جہاں کہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیوں کا ذکر فرمایا ہے تاکہ اس ذکر سے نبی ﷺ کی یہ تسکین ہوجائے کہ جس طرح قریش لوگ آنحضرت ﷺ کے حق میں بدگوئی کرتے ہیں اسی طرح پہلے مخالف لوگ بھی پہلے انبیاء کے حق میں بدگوئی کرتے رہے ہیں اور یہ تسکین بھی ہوجائے کہ اگر مخالف لوگ نہ مانیں گے تو وہی انجام انکا ہوگا کہ عام عذاب آکریالرائی کا حکم نازل ہوکر ہلاک ہوجائیں گے اس سورت میں وہی تسکین کا موقع ہے اس واسطے حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک کے قصوں کا ذکر ان آیتوں میں ہے ، سب انبیاء نے اپنی امت کے لوگوں کو بھی نصیحت کی ہے کہ اے لوگو جس اللہ تعالیٰ نے تم کو پیدا کیا ہے اس کی تعظیم تم پر واجب ہے کیونکہ وہی معبود تمہارا پیدا کرنے والا ہے اس کے عذاب سے ڈرو، اور اس کی تعظیم میں دوسروں کو شریک نہ کرو، حضرت نوح کی یہ نصیحت سن کر قوم کے سرداروں نے عام لوگوں سے کہا : ہم نے اپنے بڑوں سے یہ بات نہیں سنی کہ جن نیک لوگوں کی مورتوں کی ہم پوجا کرتے ہیں ان کو چھوڑ کر خالص اللہ ہی کی عبادت کی جاوے اپنے بڑوں کے جس طریقہ پر ہم لوگ ہیں اگر اللہ کے نزدیک یہ طریقہ برا ہوتا تو اللہ کسی فرشتے کو بھیج کر اس طریقہ کی برائی ہمیں بتلادیتا، حضرت نوح تو ہم جیسے آدمی ہیں ان میں کیا خصوصیات ہے جو یہ اپنے آپ کو اللہ کا رسول کہتے ہیں۔ ہمیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تمام قوم پر اپنی سرداری جمانے کے لیے نوح (علیہ السلام) اپنے آپ کو اللہ کانائب بتاتے ہیں اس سرداری کی دھن میں ان کو سودا ہوگیا ہے، اسی دیوانگی کی حالت میں یہ ایسی نئی باتین کرتے ہیں کچھ دنوں انتظار کیجئے شاید ان کا یہ دیوانہ پن جاتا رہے۔ پس نوح (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے پروردگار یہ مجھے جھوٹا بتاتے ہیں اسلیے تو میری مدد کر یعنی ان کو ہلاک کردے۔ پس ہم نے نوح کی طرف وحی بھیجی کہ ہماری مدد اور حکم سے کشتی تیار کرو، پھر جس وقت ہمارا حکم عذاب کا قریب آئے اور تنور سے پانی ابلنے لگے تو کشی میں ہر ایک قسم کے جانوروں میں سے دو عدد نر اور مادہ کو سوار کرلینا اور اپنے گھروالوں کو بھی سوار کرلینا، مگر ان میں سے ایسے آدمی کو نہیں سوار کرنا جس کے لیے پہلے سے ڈوبنے کا حکم ہوچکا ہے اور ظالموں کے معاملے میں مجھ سے بات بھی نہ کرنا، کیونکہ وہ سب لوگ ڈوبنے والے ہیں اور انہیں لوگون میں حضرت نوح کا لڑکا کنعان بھی تھا، پھر جس وقت تم اور تمہارے ساتھ مسلمان کشتی میں تمہارے ساتھی مسلمان کشتی میں بیٹھ چکو تو یوں کہنا، شکر ہے خدا کا جس نے ہم کو ظالم قوم سے بچا کر نکالا، اور دعا کرنا کہ اے پروردگار مجھ کو کشتی سے برکت کے ساتھ اچھی جگہ اتاریو، اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے سورة ہود میں گزرچکا ہے کہ طوفان کے بعد نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں وہ خیروبرکت ہوئی کہ پھر ان سے ہی تمام دنیا آباد ہوئی۔ آخر کو خاتم الانبیاء سے فرمایا، اے محبوب ﷺ حضرت نوح کے اس قصہ کے سننے کے بعد قریش کو یہ عبرت پکڑنی چاہیے کہ اللہ کے کلام اور اس کے رسول کو جھٹلانے والوں کا یہ انجام ہوتا ہے جو انجام قوم نوح کا ہوا ہے۔