23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 23:32–41

فَاَرْسَلْنَا فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 23:32 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے درمیان ان کے قبیلہ میں سے ایک رسول بھیجا، (ان رسول نے بھی کہا) کہ اللہ ہی کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہاری کوئی (ف 1) معبود نہیں ، پھر کیا تم تمہیں (ا کے عذاب کا) ڈر نہیں

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ الْاٰخِرَةِ وَ اَتْرَفْنٰهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَ یَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:33 in the Quran reader

اور بولے اس کی قوم کے کافر سردار جنہوں نے جھٹلایا تھا آخرت کے پیش آنے کو اور ہم نے ان کو دنیا کی زندگی میں آسودگی دی تھی کہ یہ تو نہیں مگر تم جیسا ایک آدمی ہے وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتا ہے جو تم پیا کرتے ہو

وَ لَئِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَۙ Open ayah 23:34 in the Quran reader

اور اگر تم نے اپنے ہی جیسے آدمی کی اطاعت کی تو بیشک تم نقصان اٹھانے والے ہوگے

اَیَعِدُكُمْ اَنَّكُمْ اِذَا مِتُّمْ وَ كُنْتُمْ تُرَابًا وَّ عِظَامًا اَنَّكُمْ مُّخْرَجُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:35 in the Quran reader

کیا یہ تم سے وعدہ کرتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے پھر (دوبارہ زندہ کرکے قبروں سے) نکالے جاؤ گے

هَیْهَاتَ هَیْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:36 in the Quran reader

دور ہے (بہت) دور ہے جس بات کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے

اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ۪ۙ Open ayah 23:37 in the Quran reader

بس زندگی تو یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے یوں ہی ہم مرتے ہیں اور زندہ ہوتے ہیں اور ہم (مرکر) پھر دوبارہ زندہ نہ کیے جائیں گے

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلُ اِ۟فْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا وَّ مَا نَحْنُ لَهٗ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 23:38 in the Quran reader

بس یہ ایک ایسا مرد ہے جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے اور ہم اسے ماننے والے نہیں

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:39 in the Quran reader

رسول نے عرض ، اے میرے رب میری مدد فرما اس لیے کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا

قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ لَّیُصْبِحُنَّ نٰدِمِیْنَۚ Open ayah 23:40 in the Quran reader

ارشاد ہوا، تھوڑے زمانے کے بعد پشیمان ہوکررہ جائیں گے

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَآءً١ۚ فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:41 in the Quran reader

پھر تو ان کو ایک ہیبت ناک آواز (کے بدلے) نے سچے وعدے کے موافق گھیرالیا، پس ہم نے انہیں گھاس کوڑا کردیا (یعنی وہ سب ہلاک ہوگئے) پس دور ہوں ظالم قوم

قوم ثمود اور دیگرقوموں کا ذکر اور تنبیہ۔ (ف 1) اس سے پہلے سورة الاعراف اور سورة ہود میں تمام قصے مفصل بیان ہوچکے ہیں یہاں پر مختصر طور پر بیان فرمایا کہ جب اونٹنی کا معجزہ دیکھنے کے بعد بھی ان لوگوں نے یہ سرکشی کی باتیں نہیں چھوڑی اور اونٹنی کو ہلاک کردیا تو صالح (علیہ السلام) نے مددغیبی کی دعا کی ، اور ان کی دعا قبول ہوکر یہ جواب ملا کہ اب تھورے دنوں میں ان لوگوں کے پچھتانے کا وقت آتا ہے پھر اس وعدہ کا ظہور یہ ہوا کہ اونٹنی کی ہلاکت کے تین روز کے بعد ایک سخت چنگھاڑ کے صدمہ سے یہ لوگ ہلاک ہوگئے۔
Ayahs 23:42–43

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 23:42 in the Quran reader

پھر ان کے بعد (ف 1) ہم نے اور امتوں کو پیدا کی

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَؕ Open ayah 23:43 in the Quran reader

کوئی امت اپنی میعاد سے نہ پہلے جائے اور نہ پیچھے رہے (یعنی ٹھیک اسی وقت (مقرر) پر ہلاک ہوگی)

(ف 1) قوم ثمود اور قوم فرعون کے مابین جو قومیں گزری ہیں مختصر طور پر ان کا حاصل یہ ہے کہ مثلا قوم ثمود کے بعد قوم لوط اور قوم شعیب کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور باری باری سے قوم لوط کی ہدایت کے لیے لوط (علیہ السلام) کو اور قوم شعیب کی ہدایت ک لیے شعیب (علیہ السلام) کو پیغمبر بناکربھیجا، اور راہ راست پر آنے کے لیے ہر ایک قوم کو مہلت دی، اور مہلت کے زمانہ میں اگرچہ ان قوموں نے طرح طرح کی سرکشی کی ، لیکن وقت مقررہ تک ان لوگوں کو ڈھیل دی گئی کیونکہ انتظام الٰہی میں وقت مقررہ سے پہلے نہ کوئی کام ہوتا ہے نہ وقت مقررہ آجانے کے بعد کسی کام میں کچھ دیرلگتی ہے اسی واسطے مہلت کے زمانہ میں جب یہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے اور مہلت کا زمانہ گزرکر عذاب کا وقت مقرر آگیا توقوم لوط پر پتھر کے مینہ اور بستی کے الٹ دیے جانے کا اور قوم شعیب پر زلزلہ اور سخت آواز اور انگارے برسنے کا عذاب آیا۔
Ayah 23:44

ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا١ؕ كُلَّمَا جَآءَ اُمَّةً رَّسُوْلُهَا كَذَّبُوْهُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا وَّ جَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ١ۚ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 23:44 in the Quran reader

پھر تولگاتار ہم اپنے (ف 1) رسول (ہدایت کے لیے ) بھیجتے رہے جب کبھی کسی امت کے پاس اس امت کا رسول آیا تو انہوں نے اس کو جھٹلایا ، پھر ہم نے اگلوں سے پچھلے ملادیے (یعنی بعد والوں کو پہلوں کی طرح ہلاک کردیا) اور ہم نے ان کے افسانے بنادیے پس دور ہوں وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے

(ف 1) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی بےپرواہ ہے کہ اس کو کسی چیز کی پر اہ نہیں ہے لیکن رسول وقت کی بات کانہ ماننا اور رسول وقت کی فرمانبرداری کو مسخراپن میں اڑا کر رسول وقت کو غصہ دلانا ایسی اللہ کی ایک غصہ اور غضب اور وبال کی چیز ہے جو لوگ اس نافرمانی میں مبتلا ہوں ان کی وبال کی حالت پر باوجود اس بےپرواہی کے خود اللہ تعالیٰ نے حسرت اور افسوس کا اظہار فرمایا ہے چناچہ سورة یسین میں ارشاد ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بندوں کو رسولوں کے جھٹلانے کی حالت قابل افسوس ہے۔
Ayahs 23:45–49

ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَ اَخَاهُ هٰرُوْنَ١ۙ۬ بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 23:45 in the Quran reader

پھر ہم نے موسیٰ اور (ف 2) اس کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیاں اور کھلی دلیلوں کے ساتھ

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا عَالِیْنَۚ Open ayah 23:46 in the Quran reader

فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا پس انہوں نے غرور کیا اور وہ لوگ سرکش تھے

فَقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَ قَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَۚ Open ayah 23:47 in the Quran reader

پس وہ (آپس میں) کہنے لگے کیا ہم اپنے ہی طرح کے دوآدمیوں پر ایمان لے آئیں اور ان کی قوم کے لوگ ہمارے تابع رہیں

فَكَذَّبُوْهُمَا فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِیْنَ Open ayah 23:48 in the Quran reader

پس انہوں نے ان دونوں کو جھٹلایا تو وہ ہلاک ہوؤں میں ہوگئے اور (غرق کرڈالے گئے)

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 23:49 in the Quran reader

بیشک (ان کے ہلاک ہونے کے بعد) ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تاہ وہ لوگ یعنی (بنی اسرائیل) ہدایت پاویں

قوم فرعون کا ذکر۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ قوم شعیب کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کی ہدایت ک لیے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور ان کی پیغمبری کی تائید کے لیے ان کو عصا اور ید بیضاء کے معجزے بھی دیے لیکن فرعون اور اس کی قوم کو یہ غرور کی باتیں سوجھی کہ موسیٰ اور ہارون آخر بنی اسرائیل کی نسل میں سے ہیں اور بنی اسرائیل کی ساری قوم ہمارے تابع ہے پھر ہم ان دونوں اپنے جیسے آدمیوں کو اپناسردار اور راہبر کیونکر بناسکتے ہیں کوئی فرشتہ اللہ کانائب بن کر آتا تو اس کی نصیحت کو مان لیتا البتہ ایک ٹھکانے کی بات تھی، انسان کی پیغمبری کے منکر لوگوں کا جواب سورة الانعام میں گزرچکا ہے کہ فرشتوں کو اصلی صورت میں دیکھنا انسان کی طاقت سے باہر ہے اس لیے کوئی فرشتہ رسول بنا کر بھیجا جاتا ہے تو وہ بھی ضرور انسان کی صورت میں ہوتا ہے جس سے ان لوگوں کا یہی شبہ باقی رہتا ہے پھر فرمایا ان ہی غرور کی باتوں میں گرفتار ہوکر فرعون اور اس کی قوم نے موسیٰ اور ہارون کی پیغمبری کو جھٹلایا جس کے وبال سے یہ سب دریائے قلزم میں ڈوب پر کر ہلاک ہوگئے آگے فرمایا کہ فرعون کی ہلاکت کے بعد اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل فرمائی تاکہ بنی اسرائیل کو ہدایت پانے کا پورا موقع ملے۔
Ayah 23:50

وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗۤ اٰیَةً وَّ اٰوَیْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ۠ Open ayah 23:50 in the Quran reader

اور (ف 1) ہم نے مریم کے بیٹے (عیسی ) کو اور اس کی ماں ) مریم ) کو نشانی بنایا اور ہم نے ان دونوں کو ایک بلند زمین پر جو رہنے کے لائق تھی اور جہاں (نتھرا ہوا) پانی جاری تھا ٹھکانا دیا

حضرت مریم اور عیسیٰ (علیہما السلام) کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں میں حضرت عیسیٰ اور مریم کا ذکر فرمایا یہ جتلایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد یہود نے تورات کی ہدایت سے فائدہ نہیں اٹھایا کیونکہ تورات کی جن آیتوں میں عیسیٰ اور خاتم الانبیاء کے اوصاف تھے ان آیتوں میں انہوں نے ردوبدل کردیاجس سے شریعت عیسوی اور شریعت محمدی دونوں کے یہ لوگ منکر ہوگئے حضرت مریم جیسی پاک دامن بی بی پر بدکاری کا الزام لگایا، دمشق کے ستارہ پرست بادشاہ کے دربار میں غلط مخبری کرکے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو سولی کے قابل ٹھہرایا چناچہ یہ سب قصہ سورة النساء کی تفسیر میں گزرچکا ہے حاصل مطلب یہ ہے کہ بغیر کسی مرد کے چھونے کے حضرت مریم کا حمل کا رہ جانا، پھر اس خلاف عادت حمل سے عیسیٰ (علیہ السلام) کا پیدا ہونا، یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک نشانی ہے جس طرح اس نے آدم کو بغیر ماں باپ کے اپنی قدرت سے پیدا کیا جو لوگ اس قدرت کے منکر ہیں وہ اس کی سزا بھگتیں گے۔
Ayahs 23:51–56

یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌؕ Open ayah 23:51 in the Quran reader

ہم نے کہا) اے پیغمبر (ف 1) پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ اور اچھے کام کرو، بیشک جو کچھ تم کرتے ہو میں اس کا جاننے والا ہوں

وَ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 23:52 in the Quran reader

اور بیشک یہ تمہارا دین ایک ہی دین ہے (یعنی اسلام) اور میں تمہارا پروردگار ہوں، پس مجھ ہی سے ڈرو

فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُرًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 23:53 in the Quran reader

پس ان کی امتوں نے اپنا کام (پھوٹ ڈال کر) آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیا، ہر فرقہ جو اس کے پاس ہے وہ اس پر خوش ہے

فَذَرْهُمْ فِیْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:54 in the Quran reader

پس تم ان کو ان کی غفلت میں ایک خاص وقت تک چھوڑ دو

اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَۙ Open ayah 23:55 in the Quran reader

کیا یہ لوگ یوں گمان کرتے ہیں کہ ہم جو ان کو مال واولاد سے امداد دیتے ہیں

نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 23:56 in the Quran reader

تو (کچھ) ہم ان کو جلدی جلدی بھلائیاں پہنچاتے ہیں (یہ بات ہرگز نہیں) بلکہ وہ سمجھتے نہیں

پاک روزی کابیان، اور سب نبیوں کا دین ایک ہی دین ہے۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا : اے پیغمبر تم ستھری چیزوں میں سے کھاؤ اور اچھے عمل کرو، جو تم کرتے ہو میں سب جانتا ہوں۔ یہ سب نبیوں کو اللہ پاک کا حکم ہے، ہر نبی سے اس کے زمانہ میں یہی خطاب کیا گیا اور ہر نبی کو یہی خدا کی طرف سے وصیت کی گئی ہے تاکہ سننے والوں کو معلوم ہوجائے کہ حلال کا کھانا اور اچھے عمل کرنا ایسی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کو اس کے ساتھ خطاب کیا ہے پھر فرمایا کہ یہ اسلام اور خدا کو ایک جانناتم سب کا دین ہے ایک دین یعنی تم سب نبیوں کا حقیقت میں ایک ہی دین ہے کہ سب نے خدا کی عبادت کی اور کسی کو اس کا شریک نہ بنایا، اور باقی نماز روزہ وغیرہ کے حکم ہر ایک نبی کے زمانہ میں بدلتے رہے لیکن توحید میں اور خدا کے ایک جاننے میں سب کا ایک ہی دین رہا اور حاصل اس دین کا یہ ہے کہ ہر شخص کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے اور جو کوئی اس کے برخلاف کرے، اس کو عذاب الٰہی سے ڈرنا ضرور ہے آگے فرمایا کہ ہم نے ایک ہی دین بھیجا تھا لوگوں نے آپس میں اختلاف کرکے بہت سے مذہب بنالیے اور ہر گروہ یہ جانتا ہے کہ میرا مذہب حق ہے اور سب کے مذہب باطل ہیں پس اے محبوب، تم ان فرقوں کو ان کے حال یعنی کفر اور جہالت و غفلت پر ایک وقت مقررہ یعنی موت کے وقت تک دنیا میں چھوڑ دو وقت مقررہ آجاوے تو ہم پوری سزا دیں گے پھر فرمایا ان لوگوں کا یہ خیال بالکل غلط ہے کہ ان کے مال واولاد کی ترقی اس سبب سے ہے کہ اللہ ان سے رضامند ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ ان سے زیادہ مالدار اور اولاد پچھلی امتوں کو طرح طرح کے عذابوں سے ہرگز ہلاک نہ کرتا۔
Ayahs 23:57–61

اِنَّ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ خَشْیَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۙ Open ayah 23:57 in the Quran reader

بیشک (ف 1) جو لوگ اپنے پروردگار کے خوف سے ڈرتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:58 in the Quran reader

اور وہ جو اپنے پروردگار کی آیتوں پر ایمان لاتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 23:59 in the Quran reader

اور وہ جو اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے

وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ Open ayah 23:60 in the Quran reader

اور جو لوگ (اللہ کی راہ میں) دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور (پھر بھی) ان کے دلوں کو اس بات کا خوف لگارہتا ہے کہ ان کو پروردگار کی طرف پھرنا ہے

اُولٰٓئِكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ Open ayah 23:61 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں کہ جو نیکیوں میں کوشش کرتے ہیں اور یہی سب سے پہلے ان کی طرف نکل جانے والے ہیں

(ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ بیشک جو اللہ تعالیٰ کے علم میں نیک لوگ ٹھہرچکے ہیں وہ ایسے لوگ ہیں کہ نیک کام کرنے کے بعد بھی عذاب آخرت کا اندیشہ ان کو لگارہتا ہے احکام الٰہی کی آیتوں کا ان کے دل میں کلام الٰہی ہونے کا پورا یقین ہے اس لیے وہ ان احکام کے موافق خالص دل سے عمل کرت ہیں صدقہ خیرات اور ہر طرح کا نیک کام کرتے ہیں اور پھر بھی اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے کا وقت کا کھٹکا ان کے دل میں لگا ہوا ہے یہی وہ لوگ ہیں کہ جو ہر طرح کی بھلائی کی طرف پیش قدمی کرکے دوڑتے ہیں۔
Ayah 23:62

وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا وَ لَدَیْنَا كِتٰبٌ یَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 23:62 in the Quran reader

اور ہم کسی کو تکلیف (ف 1) نہیں دیتے مگر اتنی ہی جتنی کہ اس میں طاقت ہے اور ہمار پاس ایک کتاب (یعنی نامہ اعمال کا دفتر لوح محفوظ) ہے جو حق بیان کرتی ہے اور ان پر کچھ ظلم نہ ہوگا

شریعت اسلام کا ذکر۔ (ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ شریعت کا کوئی کام اللہ تعالیٰ نے انسان کی طاقت سے باہر نہیں رکھا، مثلا جو بیمار آدمی نماز میں کھڑا نہ ہوسکے تو اس کو بیٹھ کر نماز جائز ہے اسی طرح مسافر یا بیمار آدمی رمضان میں روزے نہ رکھے، بعد میں قضا کرے تو کچھ گناہ نہیں پھر فرمایا ہر شخص کے ہر طرح کے عمل پہلے لوح محفوظ میں، اور پھر نامہ اعمال میں لکھے گئے ہیں، جس سے ہر شخص کو اپنے عملوں کو سچا سچا حال سزا وجزا کے وقت معلوم ہوجاوے گا، اور سزا وجزا کے وقت کسی پر یہ ظلم نہ ہوگا کہ نیکی کا اجر گھٹا دیاجاوے یا جرم کی حیثیت سے سزا کی مقدار بڑھا دی جائے۔
Ayahs 23:63–67

بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِیْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا وَ لَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 23:63 in the Quran reader

بلکہ کافروں (ف 2) کے دل اس (قرآن) کی طرف سے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور اس کے علاوہ ا لوگوں کے اور بھی عمل ہیں جن کو وہ کرتے رہتے ہیں

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْهِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا هُمْ یَجْئَرُوْنَؕ Open ayah 23:64 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہم نے ان کے مال داروں کو عذاب میں پکڑا تو وہ فورا فریاد کرنے لگے

لَا تَجْئَرُوا الْیَوْمَ١۫ اِنَّكُمْ مِّنَّا لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 23:65 in the Quran reader

(کہاجائے گا) کہ فریاد نہ کرو آج کے دن بیشک تم کو ہماری طرف سے کچھ مدد نہ دی جائے گی

قَدْ كَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُوْنَۙ Open ayah 23:66 in the Quran reader

بیشک تم کو میری آیتیں پڑھ کر سنائی جایا کرتی تھیں تم الٹے پاؤں پھرجاتے ( اور ان کو نہ مانتے تھے)

مُسْتَكْبِرِیْنَ١ۖۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ Open ayah 23:67 in the Quran reader

خدمت حرم پر متکبر ہوتے رات کو وہاں بےہودہ کہانیاں بکتے حق کو چھوڑتے

منکرین قرآن کا ذکر۔ (ف 2) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ شرک کے وبال میں ان لوگوں سے بڑھ کر خوش حال پچھلی قومیں جب طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئیں۔ جس کے قصے کئی دفعہ ان کو سنادیے گئے تو ان مشرکوں کا یہ خیال بالکل غلط ہے کہ ان کے مال واولاد کی ترقی اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی اور خوش ہے بلکہ ان لوگوں کے اس غلط خیال پر جمے رہنے کا سبب یہی ہے کہ یہ لوگ قرآن کی نصیحت کو دھیان سے نہیں سنتے۔ اور نیک لوگوں کے جو کام ان کو اوپر کی آیتوں میں بتلائے گئے ہیں رات دن ان کاموں کے برخلاف کام کرتے ہیں لیکن ان میں بڑے بڑے خوش حال وقت مقررہ پر جب عذاب آخرت میں گرفتار ہوجاویں گے تو عذاب کی تکلیف سے بہت چلاویں گے جس پر ان کو اور ذلیل کرنے کے لیے کہا جاوے گا کہ آج تمہاری فریاد سن کر کوئی تمہاری مدد نہیں کرسکتا، اور یہ بھی کہا جاوے گا کہ یہ عذاب تمہاری اس شرارت کی سزا ہے کہ تم قرآن کی نصیحت کو سن کر الٹے قدموں بھاگتے تھے بت پرستی کی طرف رجوع کرتے تھے اور خدمت حرم پر تکبر تھا اور اس کے آس پاس بیٹھ کر راتوں کو کہانیاں کہتے تھے ، اور بےہودہ باتیں رسول واصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین و قرآن کی ہجو کرتے تھے۔