23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 23:68–75

اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘ Open ayah 23:68 in the Quran reader

تو کیا انہوں نے (ف 1) اس کلام میں غور نہیں کیا ؟ یا ان کے پاس ایسی نئی چیز آئی ہے جو ان کے اگلے باپ دادا کے پاس نہ آئی تھی

اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ٘ Open ayah 23:69 in the Quran reader

یا انہوں نے اپنے رسول کو نہ پہچانا تو وہ اسے بیگانہ سمجھ رہے ہیں

اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 23:70 in the Quran reader

یا وہ یہ کہتے ہیں کہ اسے جنون ہوگیا ہے بلکہ وہ تو ان کے پاس حق لائے (یعنی قرآن) اور ان میں اکثر لوگوں کو حق برالگتا ہے

وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ Open ayah 23:71 in the Quran reader

اور اگر حق ان کی خواہشوں کی پیروی کرتا تو ضرور آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں (آباد) ہیں سب درہم برہم ہوجاتے، بلکہ ہم نے تو ان کے پاس ان کی نصیحت کی بات بھیجی، پس یہ لوگ اپنی نصیحت کی بات سے منہ موڑتے ہیں

اَمْ تَسْئَلُهُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَیْرٌ١ۖۗ وَّ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 23:72 in the Quran reader

کیا (وہ سمجھتے ہیں ) کہ تم ان سے کچھ اجرت مانگتے ہو تو اجرتو ہمارے پروردگار کا سب سے بہتر ہے اور وہی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے

وَ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 23:73 in the Quran reader

اور بیشک تم انہیں سیدھی راہ کی طرف بلاتے ہو

وَ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ Open ayah 23:74 in the Quran reader

اور بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ضرورسیدھی راہ سے کترائے ہوے ہیں

وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 23:75 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر رحم کریں جو مصیبت انکو پہنچ رہی ہے وہ دور کردیں تو ضرور اپنی سرکشی میں بھٹکتے ہوئے اڑے رہیں گے

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ کیا انہوں نے قرآن کی آیتوں میں غوروفکر نہیں کیا، اور کیا ہم نے ان کے پاس ایسی چیز بھیجی ہے جو ان کے باپ دادوں کے پاس نہیں بھیجی تھی بلکہ ہماری تو ہمیشہ سے یہی عادت ہے کہ اپنے رسولوں کی طرف قدیم سے کتابیں اتارتے رہے ہیں، یہ لوگ کیا اس کو نئی بات سمجھتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے، کیا انہوں نے اپنے رسول یعنی محمد ﷺ کو نہیں پہچانا جو ان کا انکار کرتے ہیں اور اپنے رسول کو دیوانہ بتاتے ہیں بلکہ یہ رسول ان کے پاس خدا کی طرف سے سچی باتیں لے کر آئے ہیں اور ان میں سے اکثر جو ایمان نہیں لائے نفرت کرتے ہیں، اور اگر ان کی خواہش کے موافق حق ہوتا تو زمین وآسمان اور جو ان کے درمیان میں ہے سب بربادہوجاتا ہے اور سارے جہان کا انتطام خراب ہوجاتاکیون کہ سارے جہان کے انتظام کا مدار حق پر ہے آگے فرمایا کہ قرآن میں تو ان کے لیے ہم نے بہتری اور نصیحت کی باتیں بھیجی ہیں اور وہ اس نصیحت سے منہ پھیرتے ہیں اے محبوب تم ان لوگوں سے قرآن کی نصیحت پر کچھ اجرت بھی تو نہیں مانگتے جو یہ لوگ قرآن کی نصیحت سے گھبراتے ہیں تمہاری اجرت تو اللہ نے اپنے ذمہ رکھی ہے اور وہی سب سے بہتر دینے والا ہے پھر فرمایا اے محبوب تم تو انہیں سیدھے راستے کی طرف بلا رہے ہو لیکن یہ منکرین عقبی کی بہبودی کے سیدھے راستے کو چھوڑ کر ٹیڑے راستے پر چلتے ہیں ، پھر فرمایا ان لوگوں کی سرکشی کی یہ حالت ہے کہ اگر اللہ اپنی رحمت سے ان کی مصیبت کو دور کردے تو ان لوگوں کی شرارت یہاں تک بڑھی ہوئی ہے کہ مصیبت دور ہوتے ہی پھر یہ لوگ سرکشی کی باتین کرنے لگیں گے۔
Ayahs 23:76–77

وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 23:76 in the Quran reader

اور (ف 1) بیشک ہم نے ان کو عذاب میں پکڑا تو بھی وہ اپنے پروردگار کی طرف نہ جھکے اور نہ گڑگڑاتے ہیں

حَتّٰۤى اِذَا فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیْدٍ اِذَا هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَ۠ Open ayah 23:77 in the Quran reader

یہاں تک (غفلت میں رہے) کہ جب ہم نے ان پر سخت عذاب کا دروازہ کھول دیا تو اب وہ اس میں ناامید پڑے ہیں

(ف 1) سات سالہ قحط اور حضور کی دعا سے باران رحمت کا ذکر۔ شان نزول : جس کا یہ حاصل ہے کہ قریش مکہ نے جب نبی سے سرکشی کی تو آپ کی بددعا سے مکہ میں بڑا سخت قحط پڑا۔ اس قحط کے زمانہ میں ابوسفیان نے نبی ﷺ سے آکر کہا کہ آپ تو رحمت للعالمین اپنے آپ کو کہتے ہیں قریش تو آپ کے قرابت دار ہیں اب قریش کا یہ حال ہے کہ نہ کھانے کی چیزیں یعنی ہڈیاں اور مردار بھی کھاگئے ذراہماری غم خواری فرمائیں اور اللہ سے دعا کیجئے یہ بلا دفع ہو، آپ نے قریش کے اس حال پر ترس کھا کے دعا کی اور آپ کی دعا کی برکت سے وہ قحط جاتارہا ، قحط کے جاتے ہی قریش نے پھر وہی سرکشی شروع کردی، اس قحط کے ذکر میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت صحیح بخاری کے حوالہ سے اوپر گزرچکی ہے اس قحط کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ حاصل معنی آیتوں کے یہ ہیں کہ ان لوگوں کے دل ایسے سخت ہوگئے ہیں کہ خدا کی طرف کوئی مصیبت اور سختی آتی ہے تو جب بھی ان کو عبرت نہیں ہوتی، اس لیے اب ان کو اللہ کے کسی بڑے سخت عذاب کا منتظر رہنا چاہیے، اس بڑے عذاب کے بعد ان کی سب سرکشی ناامیدی سے بدل جاوے گی، یہ بڑا عذاب آخر کو اللہ کے وعدے کے موافق بدر کی لڑائی کے روز آیا کہ بڑے بڑے سرکش ستر آدمی قریش کے حالت کفر میں بڑی ذلت و خواری سے دنیا سے اٹھ کر ہمیشہ کے عذاب آخرت میں مبتلا ہوئے۔
Ayahs 23:78–81

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 23:78 in the Quran reader

اور (ف 1) وہی ہے کہ جس نے تمہارے (سننے کے ) لیے کان اور (دیکھنے کے لیے ) آنکھیں اور (سوچنے کے لیے ) دل بنائے تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو

وَ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 23:79 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تم ہیں زمین میں پیدا کرکے ہر طرف پھیلایا اور اسی کی طرف اٹھنا ہے

وَ هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ لَهُ اخْتِلَافُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 23:80 in the Quran reader

اور وہی ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے اور اسی کے لیے ہیں رات اور دن کی تبدیلیاں تو کیا تم نہیں سمجھتے

بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 23:81 in the Quran reader

بلکہ انہوں نے بھی ایسی ہی بات کہی جیسی کہ پہلوں نے کہی تھی (یعنی ان سے پہلے کافروں نے)

توحید کے دلائل۔ (ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ ان منکرین حشر کے لیے حالانکہ سننے کے لیے کان ، اور دیکھنے کے لیے آنکھیں، اور ہر ایک بات سمجھنے کے لیے دل اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، لیکن یہ لوگ اب دوبارہ ان چیزوں کے پیدا کرنے کو اللہ کی قدرت سے باہر گنتے ہیں تو انہوں نے اللہ کی قدرت کا بہت تھوڑا حق مانا۔ پھر فرمایا جس طرح اب اللہ تعالیٰ نے ان منکرین حشر کو پیدا کرکے تمام روئے زمین پر بکھیر رکھا ہے اسی طرح حشر کے دن اس کی طرف جمع کرکے لائے جاؤ گے، وہی وہاں جزاوسزا دے گا، وہی زندہ کرنے والا ہے اور مارنے والا ہے، اور رات دن کی گردش یعنی گھٹنا بڑھنا سب اسی کے حکم سے ہے پھر فرمایا ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ان نشانیوں کو کچھ عبرت کی نگاہ سے نہیں دیکھا ، بلکہ قدرت کی ان نشانیوں کو دیکھنے کے بعد اسی طرح حشر کے انکار پر جمے رہے جس طرح ان سے پہلے منکر حشر تھے۔
Ayahs 23:82–90

قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ Open ayah 23:82 in the Quran reader

(ف 1) بولے، کیا جب ہم مرجائیں گے اور خاک اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم پھر اٹھائے جاویں گے

لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 23:83 in the Quran reader

بیشک یہ وعدہ ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا سے بھی ہوتاچلا آیا ہے یہ تو کچھ بھی نہیں محض پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں

قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:84 in the Quran reader

اب کہیں گے کہ یہ سب اللہ کا ہے (تو) ان سے تم فرماؤ کہ پھر کیوں نہیں سوچتے

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 23:85 in the Quran reader

تم فرماؤ کہ سات آسمانوں کا پر ودگار اور عرش عظیم کا مالک کون ہے

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ Open ayah 23:86 in the Quran reader

اب کہیں گے کہ یہ سب اللہ کا ہے (اس وقت) تم فرماؤ کہ پھر تم (شرک کرنے سے ) نہیں ڈرتے

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:87 in the Quran reader

تم فرماؤ وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہی ہے اور وہ پناہ دیتا ہے

قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:88 in the Quran reader

اور اس کے خلاف کوئی پناہ نہیں دے سکتا، اگر تم جانتے ہو (توبتاؤ)

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ Open ayah 23:89 in the Quran reader

اب یہ کہیں گے کہ یہ اللہ ہی کی شان ہے تم فرماؤ پھر تم کس جادو کے فریب میں پڑے ہو

بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 23:90 in the Quran reader

بلکہ ہم تو ان کے پاس حق لائے اور بیشک وہ جھوٹے ہیں

(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ منکرین حشر نے کہا، کہ جب ہم مرجائیں گے اور خاک اور بوسیدہ ہڈیاں رہ جاویں گی تو کیا ہم پھر دوبارہ زندہ کیے جاویں گے۔ اے محمد ایسی باتوں کا وعدہ ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے پہلے ہوتا چلا ایا ہے تو یہ صرف اگلے لوگوں کے قصہ ہیں وہ بھی ہمیشہ ایسی ہی بےاصل باتیں کرتے تھے تو اے محبوب ﷺ ان سے پوچھو کہ زمین اور اس کے عجائبات مخلوقات کس کی ہیں اگر عقل ہو تو بتلاؤ، تمہاری بات کے جواب میں بےاختیار ہوکر یہی کہیں گے کہ یہ سب اللہ کی ہے اسی نے بنایا اور پیدا کیا تو تم فرماؤ جب تمہارے نزدیک اللہ ان سب باتوں پر قادر ہے ارجس نے زمین اور تمام مخلوقات کو ایسی حالت میں پیدا کیا کہ کبھی اس کا پتہ ونشان بھی نہ تھا تو کیا اس مخلوق کو مار کر دوبارہ جلانے پر قادر نہیں۔ پھر ان سے دریافت کرو کہ ساتوں آسمانوں کا پروردگار اور عرش عظیم کا مالک کون ہے تو فورا کہیں گے یہ کہ سب اللہ کا ہے اس وقت تم فرماؤ، پھر تم شرک کرنے سے کیوں نہیں ڈرتے ہو تم یہ بھی پوچھو کہ اچھا وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں تمام چیزوں کا اختیار ہے اور وہ سب کو پناہ دیتا ہے اور کوئی نہیں جو اس سے اوپر پناہ دینے والا ہو، اگر تم کچھ جانتے ہو تو بتاؤ، وہ ضرور یہی کہیں گے کہ یہ سب صفتیں بھی اللہ ہی کی ہیں پس تم اس وقت فرمانا کہ تم کس شیطانی دھوکہ میں ہو رہے ہو کہ توحید و اطاعت الٰہی کو چھوڑ کر حق کو باطل سمجھ رہے ہو، جب تم اقرار کرتے ہو کہ قدرت حقیقی اسی کی ہے اور اس کے خلاف کوئی کسی پناہ نہیں دے سکتا تو دوسرے کی عبادت قطعا باطل ہے۔
Ayahs 23:91–92

مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 23:91 in the Quran reader

خدا نے کسی کو اولاد نہیں (ف 1) قراردیا اور نہ اس کے ساتھ کوئی دوسرا خدا ہے، اگر ایسا ہوتا تو ہر خدا اپنی مخلوق (الگ) لے جاتا اور ضرور ایک معبود دوسرے معبود پر غالب آجاتا تو اللہ تعالیٰ ان سب باتوں سے پاک ہے جو باتیں (اس کی نسبت) یہ لوگ بناتے ہیں

عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 23:92 in the Quran reader

وہ پوشیدہ اور ظاہر سب کا جاننے والا ہے پس وہ ان کے شرک سے بالاتر ہے

توحید کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اللہ کے رسول کو جھٹلانے والون میں سے کچھ لوگ تو وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کو صاحب اولاد کہتے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو بتوں کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں مگر یہ بات ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ دنیا کی جس بادشاہت میں دوبادشاہ شریک ہوتے ہیں تو ان میں طرح طرح کے جھگڑے ہوکر ایک دوسرے پر غالب آجاتا ہے اس جس طرح دنیا کے دوبادشاہوں کے آپ سکے جھگڑے کی بات ان لوگون کی آنکھوں کے سامنے کی ہے یہ بھی ان کی آنکھوں کے روبرو ہے کہ تمام دنیا میں انتظام الٰہی ہمیشہ سے ایک طرح پر ہے جس سے ہر شخص کی سمجھ میں یہ بات اچھی طرح آسکتی ہے کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے اس کی بادشاہت میں اولاد بن کریاساتھی بن کر اس کا شریک نہیں ہے بغیر سند کے جو لوگ اللہ کی تعظیم میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں وہ بالکل جھوٹے ہیں کیونکہ ان میں سے کسی کا علم غیب نہیں ہے اس واسطے اپنے علم غیب کے موافق اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتابوں میں اپنی وحدانیت کی جو خبر دی ہے وہ سچ ہے اس سچ کے مقابلہ میں کوئی بےسند بات کسی طرح قابل اعتماد نہیں۔
Ayahs 23:93–98

قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 23:93 in the Quran reader

تم عرض کرو کہ اے میرے رب (ف 1) جس (عذاب) کا ان کافروں کو وعدہ دیا جا ا ہے اگر تو مجھے دکھائے

رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:94 in the Quran reader

تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالموں کے ساتھ نہ کرنا

وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ Open ayah 23:95 in the Quran reader

اور بیشک ہم اس پر قادر ہیں کہ جو انہیں وعدے دے رہے ہیں (تمہاری زندگی میں ظاہر کرکے) تمہیں دکھادیں

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ Open ayah 23:96 in the Quran reader

سب سے اچھی بھلائی سے برائی کو رفع کرو، ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی شان می) کہا کرتے ہیں

وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ Open ayah 23:97 in the Quran reader

اور تم عرض کرو اے میرے رب میں شیطان کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں

وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ Open ayah 23:98 in the Quran reader

اورے میرے رب میں تیری اس سے بھی پناہ مانگتا ہوں کہ شیطان میرے پاس بھی آویں

شیطان کے وسوسہ سے غصہ کے آنے کا ذکر اور اس کا حل۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اگر یہ مکہ کے مشرک شرک سے باز نہ آویں گے تو جس طرح ان لوگوں سے عذاب کے نازل کرنے کا اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے ، اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر وقت اس وعدہ کے ظہور پر قادر ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے انتظام میں ہر کام کا وقت مقرر ہے اس واسطے مقررہ کے آتے ہی ان مشرکوں پر ایک نہ ایک دن وہ عذاب ضرور آوے گا، اس عذاب کے آنے کو ضروری جان کر اللہ سے یہ دعا کیا کرو کہ یا اللہ تو اپنی قدرت سے مجھ کو لائق عذاب قوم میں نہ رکھیو، آگے فرمایا ہجرت کا وقت آنے تک یہ مشرک کچھ ایذا دیویں تو اس کو درگذر فرمائیں ڈال دینا چاہیے اور اس ضعف اسلام کے زمانہ میں شیطان کی چھیڑ اور اس کے غلبہ سے اللہ کی پناہ کی دعا مانگنی چاہیے کیونکہ شیطان یہ چاہتا ہے کہ اس ضعف اسلام کے زمانے میں مسلمانوں اور مشرکوں میں لڑائی کرادیوے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق ابھی اس لڑائی کا وقت نہیں آیا، جس سے اسلام کا غلبہ کا نتیجہ نکلے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ غصہ کے وقت اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، پڑھے تو غصہ جاتارہتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ غصہ شیطان کے وسوسہ سے آتا ہے اور اللہ سے پناہ مانگتے ہی غصہ کا اثر جاتا رہتا ہے۔
Ayahs 23:99–100

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ Open ayah 23:99 in the Quran reader

یہاں (ف 1) تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آئے تو اس وقت کہتا ہے کہ اے میرے رب، مجھے (دنیا میں) پھر بھیج دے

لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:100 in the Quran reader

تاکہ جس دنیا کو میں چھوڑ آیا ہوں اس میں اب میں کچھ نیک کام کروں حکم ہوگا، ہرگز نہیں ایسا ہوگا محض ایک (کہنے کی) بات ہے کہ جس کو وہ اپنے منہ سے کہتا ہے اور ان کے آگے ایک آڑ ہے (یعنی موت) اس دن تک جس میں (دوبارہ ) اٹھائے جائیں گے

اعمال کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ انکار ان لوگوں کا اس وقت تک ہے جب تک قبض روح اور قبر اور حشر اور قیامت کا عذاب ان کے روبرو نہیں آتا، جب یہ عذاب ان کی آنکھوں کے سامنے آجاوے گا تو انہیں معلوم ہوجاوے گا کہ رسولوں کی معرفت اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کیا تھا کہ دنیا عمل کی جگہ ہے تو یہ لوگ آخرت کی ہر سختی اور عذاب کے وقت دنیا میں واپس آنے اور نیک عمل کرنے کی خواہش ظاہر کریں گے مگر جب وقت ہاتھ سے نکل گیا تو پھر بےوقت کی خواہش سے کیا ہوتا ہے قتادہ کا قول ہے کہ ایسے لوگوں کے حال پر بڑا افسوس ہے جو عمل نیک سے غافل ہیں۔
Ayahs 23:101–104

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 23:101 in the Quran reader

جب (ف 1) صور پھونکاجائے گا تو اس روز نہ ان میں رشتے رہیں گے (جن پر دنیا میں فخر کرتا تھا) اور نہ ایک دوسرے کو پوچھے گا

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 23:102 in the Quran reader

پس جس شخص کے ترازو کا پلڑا (اعمال صالحۃ سے) بھاری ہواتو وہی لوگ مراد کو پہنچے

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 23:103 in the Quran reader

اور جن کا پلڑا ہلکا ہوا پس یہ لوگ وہ ہیں جنہوں نے اپنی جانیں گھاٹے میں ڈالیں، ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے ہیں

تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ Open ayah 23:104 in the Quran reader

ان کے مونہوں کو آگ جھلستی ہوگی اور وہاں ان کے منہ بدشکل ہورہے ہوں گے

(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو اس روز باہم قرابت کا پاس نہ ہوگا اور یہ حال ہوگا کہ آدمی اپنے بھائی اور ماں باپ اور بی بی اور بیٹیوں سے بھاگے گا کیونکہ ہر ایک اپنے ہی حال میں مبتلا ہوگا اور یہ سب نسب اور رشتے اور قومیں سب دنیا تک ہی ہیں پس وہاں جس شخص کا پلڑا اعمال صالح کا بھاری ہوگا وہی جنتی قرار پاویں گے اور جن کا پلڑا ہلکا ہوگا جن بدلوگوں کا پلڑا بدعملوں سے بھاری ہوگا وہ لوگ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے ان کے مونہوں کو آگ جھلستی ہوگی اور وہاں ان کے منہ بگڑے ہوئے ہوں گے یعنی اوپر کا ہونٹ سکڑ کر نصف سر تک پہنچے گا اور نیچے کا ناف تک لٹک جائے گا دانت کھلے رہ جائیں گے۔
Ayahs 23:105–107

اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 23:105 in the Quran reader

) (کہاجائے گا کہ) کیا تم کو میری (ف 2) آیتیں پڑھ کر سنائی جایا کرتی تھیں پھر تم ان کو جھٹلایا کرتے تھے

قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ Open ayah 23:106 in the Quran reader

وہ کہیں گے ، اے ہمارے پروردگار (دراصل) ہماری بدبختی ہم پر چھاگئی تھی اور ہم لوگ گمراہی میں پڑے ہوئے تھے

رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 23:107 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ہمارے ہم کو اس جہنم سے (اب) نکال دے پھر اگر ہم دوبارہ کفر کریں تو بیشک ہم ظالم ہیں

کفار پر اللہ تعالیٰ کا غصہ۔ (ف 2) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ طرح طرح کے عذاب کے وقت ان کو ذلیل کرنے کے لیے ان سے کہا جاوے گا کہ دوزخ کے عذاب کی قرآن کی آیتیں دنیا میں تم لوگوں کو سنائی جاتی تھیں اور تم اس عذاب کو جھٹلاتے تھے اب یہ وہی عذاب ہے جس میں تم گرفتار ہو اس کے جواب میں یہ لوگ کہیں گے اے ہمارے پروردگار دراصل ہماری بدبختی ہم پر چھا گئی تھی اس لیے ہماری ساری زندگی گمراہی میں گذری اب اگر تو ہم کو اس آگ سے نکال کردینا میں دوبارہ بھیج دے تو ضرور ہم نیک کام کریں گے اور اگر دوسری دفعہ بھی ہم اپنی زندگی گمراہی میں گزاریں تو ہم کو سخت مجرم قرار دیاجائے۔