23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsمظہر القرآن

Ayah 23:108

قَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ Open ayah 23:108 in the Quran reader

) (ف 1) خدا فرمائے گا کہ اسی (جہنم) میں پھٹکارے پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو

دنیا کی عمر۔ (ف 1) ان آیتوں میں اوپر کا جواب یہ ملا کہ جس وقت یہ لوگ دنیا میں پھر آنے اور نیک عمل کرنے کی خواہش اللہ کے روبرو پیش کریں گے اس وقت یہ جواب اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دیوے گا جو اس آیت میں ہے معتبر سند سے ترمذی، ابوداؤد اور مستدرک حاکم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل مطلب یہ ہے کہ دوزخی لوگ دوزخ کے عذاب سے تنگ آکر پہلے تو داروغہ دوزخ سے اپنی موت کی دعا کرنے کی خواہش کریں گے، ہزار برس تک تو مالک داروغہ دوزخ سے اپنی موت کی دعا کرنے کی خواہش کریں گے ہزار برس تک تو مالک داروغہ دوزخ کی طرف سے ان کو کچھ جواب نہ ملے گا، ہزار برس کے بعد یہ جواب ملے گا کہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی فریاد رس تمہارا نہیں ہے پھر یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے التجا کریں گے یا اللہ اب ہم کو دوزخ سے نکال، دوبارہ ہم تیری مرضی کے مخالف عمل نہیں کریں گے دنیا کی جتنی عمر ہے اس سے دوچند مدت تک تو کچھ جواب ان کو نہ ملے گا یعنی بارہ ہزار برس تک یا بعض کے قول کے مطابق دوچند مدت تین لاکھ ساٹھ ہزار برس ہے پھر اس قدرت مدت کے بعد یہ جواب ملے گا کہ اسی جہنم میں ذلیل ہوکر پڑے رہو اور مجھ سے بات بھی نہ کرو، اب ان کی امیدیں منقطع ہوجائیں گی اور یہ اہل جہنم کا آخر کلام ہوگا، پھر اس کے بعد انہیں کلام کرنا نصیب نہ ہوگا روتے چیختے رہیں گے۔
Ayahs 23:109–111

اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 23:109 in the Quran reader

بیشک (ف 2) میرے بندوں میں سے ایک فریق جو عرض کیا کرتا تھا کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحمت فرما اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے

فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ Open ayah 23:110 in the Quran reader

تو تم نے انہیں (ٹھٹھا) مذاق بنالیا یہاں تک کہ انہیں بنانے کے شغل میں میری یاد بھول گئے اور تم ان سے ہنسا کرتے

اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 23:111 in the Quran reader

بیشک آج میں نے ان کے صبر کا بدلہ انہیں یہ دیا کہ وہی کامیاب ہیں

صبر کے نتیجہ کا ذکر اور مالدار کفار کا غریب صحابہ کرام سے تمسخر۔ (ف 2) شان نزول : یہ آیتیں کفار قریش کے حق میں نازل ہوئیں جو حضرت بلال وحضرت عمار وحضرت صہیب وحضرت خباب وغیرہ اجمعین اصحاب رسول اللہ سے مالدار مشرک چھیڑا کرتے تھے اور طرح طرح کی مسخراپن کی باتیں کیا کرتے تھے کبھی کہتے تھے کہ اسلام کوئی عزت کی چیز ہوتی تو یہ غریب لوگ اسلام لانے میں ہم عزت دار لوگوں سے کبھی قدم آگے نہ بڑھاتے ۔ چناچہ یہ ذکر سورة الاحقاف میں تفصیل سے آوے گا صحیح بخاری کے حوالہ سے حضرت خباب الارت کی روایت گذرچ کی ہے جس میں حضرت خباب کہتے ہیں میں نے اللہ کے رسول سے یہ شکایت کی کہ اب تو مشرکین ہم کو بہت ستاتے ہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اسلام کی ترقی کا جو وعدہ فرمایا ہے ، وقت مقررہ پر ضرور اس کا ظہور ہوگا، وقت مقررہ تک صبر کرنا چاہیے۔ مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ عذاب میں گرفتار وہ لوگ ہیں جو قرآن کی باتوں کو جھٹلاتے تھے اور جو غریب ایماندار لوگ قرآن کی آیتوں کو مانتے تھے ان کو مسخراپن سے ستاتے بھی تھے اور اس ستاتے کے پیچھے اپنے اس انجام کو بالکل بھول گئے تھے جو آج درپیش ہے کہ ہمیشہ کے لیے عذاب میں گرفتار ہیں اور جن غریب ایمانداروں کو یہ مالدار مشرک کی طرح طرح سے دنیا میں ستاتے تھے ، اور اللہ کے رسول کی نصیحت کے موافق وہ غریب اس پر صبر کرچپکے ہو رہتے تھے ان کا انجام بھی ان مشرکوں کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ وہ جنت میں بادشاہت کررہے ہیں۔
Ayahs 23:112–114

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ Open ayah 23:112 in the Quran reader

) ۔ (ف 1) ان (کفار) سے اللہ نے فرمایا : (اچھا یہ بتلاؤ) برسوں کی گنتی سے تم کس قدر مدت زمین میں رہے

قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ Open ayah 23:113 in the Quran reader

کہیں گے ہم ایک دن یا ایک دن سے بھی کم رہے پس شمار کرنے والوں سے دریافت فرمالو

قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:114 in the Quran reader

) (ارشاد ہوگا تم بہت ہی کم مدت رہے (لیکن) کیا خوب ہوا کہ تم (یہ بات دنیا ہی میں) سمجھتے

(ف 1) مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ ان دوزخیوں کو قائل کرنے کے لیے پوچھا جاوے گا کہ دنیا کی جس زندگی کے نشہ میں تم عقبی کو بھول گئے اور اللہ کے کلام کو تم نے جھٹلایا، آخر تم کو کچھ بھی یاد ہے دنیا میں تم کتنے برس رہے عذاب کی سختی کے سبب یہ لوگ بالکل بدحواس ہوجاویں گے اس لیے بدحواسی کا جواب دیں گے کہ جو فرشتے ہم پر مامور تھے ان سے یہ بات پوچھی جاوے کہ دنیا میں ہم کتنے برس رہے، اس ہمیشہ کے سخت عذاب کے آگے ہم تو یہی کہہ سکتے ہیں کہ ہم دنیا میں ایک دن، یا اس سے بھی کچھ کم رہے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اب تم کو دنیا میں رہنے کی مدت یاد نہیں، لیکن اگر یاد کرکے تم اس مدت کو اس وقت جان بھی لیتے تو اس ہمیشہ کے عذاب کے آگے وہ مدت کچھ شمار کے قابل نہی ٹھہرتی۔
Ayah 23:115

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 23:115 in the Quran reader

پھر (ف 1) کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ ہم نے تمہیں بےکار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم کو ہماری طرف لوٹنا ہی نہیں

حشر کا ثبوت۔ (ف 1) ان آیتوں میں منکرین حشر کا یہ بھی جواب ہے کہ دنیا کے نیک وبد کی جزاوسزا کے لیے پھر بھی دوبارہ جینا نہ ہوتا تو دنیا کا پیدا کرنا بےفائدہ ہوتا جس سے اللہ کی شان پاک ہے اللہ کی پیدا کی ہوئی مخلوق میں بھی عقل مند لوگ اس طرح کے بےفائدہ کام سے پرہیز کرتے ہیں ، جس طرح کا بےفائدہ کام یہ لوگ اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں کیونکہ یہ لوگ مثلا کھیتی کرتے ہیں تواناج پیدا ہونے کی نیت سے ، باغ لگاتے ہیں تو میوہ کھانے کا ارادہ سے، پھر تمام مخلوقات کو جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا بغیر سزا وجزا کے اس کو بلانتیجہ ٹھہرانا ان لوگوں کی بڑی نادانی ہے۔
Ayah 23:116

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ Open ayah 23:116 in the Quran reader

پس (ف 2) اللہ بہت بلندی والا برحق بادشاہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عزت والے عرش کا مالک ہے

(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ اس حقیقی بادشاہ کی شان میں یہ منکر شریعت لوگ جو جوباتیں منہ سے نکالتے ہیں اور وہ بادشاہ حقیقی ان باتوں سے بری ہے ، اور جب انسان کو اس طرح پیدا کیا کہ اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے تو ہر شخص کو خالص اس کی عبادت لازم ہے جو لوگ اپنے اس لازم حق کو ادا نہیں کرتے وہ کسی کا کچھ نہیں بگاڑتے ، اپنی عاقبت خراب اور برباد کرتے ہیں۔
Ayahs 23:117–118

وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 23:117 in the Quran reader

اور (ف 3) جو کوئی اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پوجے جس کی اس کے پاس کوئی سند نہیں تو اس کا حساب اس کے پروردگار کے یہاں ہے ، بیشک چھٹکارا نہیں پائیں گے کافر لوگ

وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 23:118 in the Quran reader

اور (اے محبوب ﷺ تم عرض کو، اے پروردگار، میرے بخش دے (ایمان والوں کو) اور رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے

(ف 3) توحید کا ذکر : ان آیتوں میں فرمایا کہ جو خدا کے سوا کسی اور چیز کو پوجے گا تو وہ بالکل باطل ہے ۔ اس کے پاس عبادت غیر کی کوئی دلیل نہیں ہے اس کا حساب اس کے پروردگار کے پاس ہے ، وہ آخرت میں اس کو عذاب دے گا، بیشک کافر ہرگز آخرت میں نجات و فلاح نہیں پاویں گے اے محبوب تم دعا کرو۔ اے پروردگار میرے ، بخش دے امت کے گناہ اور رحم فرما امت پر ، اور ان کو عذاب نہ دے، تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔