24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsمظہر القرآن

Ayah 24:1

سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا وَ اَنْزَلْنَا فِیْهَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:1 in the Quran reader

یہ ایک1 سورت ہے کہ جس کو ہم نے نازل کیا اور اس کے احکام ہم نے فرض کیے اور ہم نے اس میں روشن آیتیں نازل فرمائیں تاکہ تم نصیحت پکڑو۔

زنا کی سزا کے احکام۔ (ف 1) یوں تو سارا قرآن اللہ تعالیٰ کا نازل فرمایا ہوا ہے ، لیکن اس سورت میں بدکاری کی شہادت، اس کی سزا کے، اسی طرح اور خاص خاص حکم ہیں لیکن تاکید کے طور پر فرمایا کہ یہ سورت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے اس میں جو احکام صاف لفظوں میں نازل کیے گئے ہیں ان کی پابندی ہر ایماندار شخص پر لازم ہے اور پہلو تہی کرنا بڑے وبال کی بات ہے۔
Ayah 24:2

اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ١۪ وَّ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ۚ وَ لْیَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآئِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:2 in the Quran reader

جو عورت1 زنا کروانے والی ہو اور مرد زنا کرنے والا ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور ان دونوں پر تم کو شرع خدا (کے حکم ) میں ترس نہ آئے اگر تم اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لاتے ہو اور چاہے کہ ان دونوں کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت دیکھنے کے لیے وجود ہو (تاکہ عبرت ہو)

(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ بدکار عورت یا مرد بن بیا ہے ہوئے ہون اور چار گواہوں سے یا حمل سے ، یا اقرار سے ان کی بدکاری ثابت ہوجاوے تو اے حکام وقت ان کے سوکوڑے مارو۔ مسئلہ : مرد کو کوڑے لگاتے وقت کھڑا کیا جاوے اور اس کے تمام کپڑے اتاردیے جائیں سوائے تہبند کے۔ اور اس کے تمام بدن پر کوڑے لگائے جائیں سوائے سرچہرے اور شرمگاہ کے ، کوڑے اس طرح لگائے جائیں کہ الم گوشت تک نہ پہنچے اور کوڑا متوسط درجے کا ہو۔ اور عورت کو کوڑے لگانے کے وقت کھڑا نہ کیا جائے نہ اس کے کپڑے اتارے جائیں البتہ اگر پوستین یاروئی دار کپڑے پہنے ہوئے ہو تو اتار دیے جائیں یہ حکم آزاد مرد اور عورت کا ہے اور باندی غلام کی حد اس سے نصف ہے جیسا کہ سورة نساء میں مذکور ہے۔ آگے فرمایا کہ ان دنوں پر تم کو اللہ کے حکم میں ذرا بھی رحم نہ آنا چاہیے ، یعنی ایسانہ ہو کہ قوم کے یا محبت کے لحاظ سے حکم الٰہی جاری نہ کرو، اگر تم اللہ پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہو اور چاہیے کہ زانیوں کو سزا دیتے وقت مسلمانوں کو ایک جماعت وہاں موجود ہو تاکہ عبرت حاصل ہو۔ نبی نے فرمایا کہ اے مسلمانوں ! زنا سے بچو۔ پس تحقیق اس میں چھ باتیں ہیں تین دنیا میں اور تین آخرت میں، دنیا میں تین یہ ہیں : (1) عزت جاتی رہتی ہے (2) آدمی محتاج ہوجاتا ہے (3) آدمی کو عمر کوتاہ ہوجاتی ہے ۔ آخرت میں تین یہ ہیں۔ (1) خدا تعالیٰ کا اس پر غضب (2) قیامت کے دن اس کے حساب میں برائی (3) جہنم میں داخل ہونا۔ اور منجملہ زنا کے ایک آنکھ کا زنا ہے کہ کسی کی طرف شہوت دیکھنا اور نظر شیطان کا ایک تیر ہے زہر آلودہ۔
Ayah 24:3

اَلزَّانِیْ لَا یَنْكِحُ اِلَّا زَانِیَةً اَوْ مُشْرِكَةً١٘ وَّ الزَّانِیَةُ لَا یَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ١ۚ وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:3 in the Quran reader

زنا2 کرنے والا مرد نکاح نہ کرے بجز بدکار یا مشرکہ عورت کے اور (اسی طرح) بدکار عورت بھی نکاح نہ کرے ۔ بجز بدکار یا مشرکہ عورت کے اور (اسی طرح) بدکار عورت بھی نکاح نہ کرے بجز زنا کار یا مشرک مرد کے ، اور زانیہ سے نکاح کرنا مسلمانوں پر حرام کیا گیا ہے

(ف 2) شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے مہاجرین میں بعض بالکل نادار تھے نہ ان کے پاس کچھ مال تھا نہ ان کا کوئی عزیز قریب تھا اور بدکار مشرکہ عورتیں مالدار تھیں یہ دیکھ کر کسی مہاجر کو خیال آیا کہ اگر ان سے نکاح کرلیاجائے تو ان کی دولت کام آئے گی نبی ﷺ نے انہوں نے اس کی اجازت چاہی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں اس سے روک دیا گیا ، ابتدائے اسلام میں زانیہ سے نکاح کرنا حرام تھا، بعد میں آیت وانکحوالایامی منکم، سے منسوخ ہوگیا کہ بیوہ میں زنا کار عورت اور سوائے اس کے سب داخل ہیں اور نکاح بموجب شریعت کے ہو۔
Ayahs 24:4–5

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَۙ Open ayah 24:4 in the Quran reader

اور1 جو لوگ (زنا کی) تہمت لگائیں پاک دامن عورتوں کو، پھر چار گواہ معائنہ کے نہ لاسکیں تو ایسے لوگوں کو اسی کوڑے مارو اور (ان کی کوئی گواہی کبھی قبول مت کرو (یہ دنیا میں ان کی سزا ہوئی) اور یہی لوگ (آخرت میں بھی مستحق سزا ہیں اس وجہ سے کہ) فاسق ہیں۔

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:5 in the Quran reader

لیکن جو لوگ اس (تہمت لگانے) کے بعد توبہ کرلیں اور اپنی (حالت کی) اصلاح کرلیں تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

(ف 1) ان آیتوں میں ان مرد اور عورتوں کا ذکر ہے جن پارسا عورت یا مرد پرست لوگ زبردستی زنا کا الزام لگاتے ہیں۔ مسئلہ : جو شخص کسی پارسا مرد یا عورت کو زنا کی تہمت لگائے اور اس پر چار معائنہ کے گواہ پیش نہ کرسکے تو اس پر اسی کوڑے کی حد واجب ہوجاتی ہے۔
Ayahs 24:6–9

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:6 in the Quran reader

اور2 جو لوگ اپنی (منکوحہ) بیبیوں کو (زنا کی) تہمت لگائیں اور ان کے پاس اور کوئی گواہ نہیں ہو، سوائے اپنی ذات کے تو ایسے ہر ایک کی گواہی یہ ہے کہ چار دفعہ اللہ کو گواہ کر کے (یعنی اللہ کی قسم کھا کر) یہ کہہ دے کہ بیشک وہ سچ ہے ۔

وَ الْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كَانَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 24:7 in the Quran reader

اور پانچویں بار اس طرح کہہ کر اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹا ہو

وَ یَدْرَؤُا عَنْهَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْهَدَ اَرْبَعَ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۙ Open ayah 24:8 in the Quran reader

اور اس عورت کی سزا کو (یہ بات) دور کردے گی کہ یہ اللہ کی قسم کھا کر چار بار یہ کہے کہ بیشک وہ (شوہر) سراسر جھوٹا ہے

وَ الْخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَیْهَاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:9 in the Quran reader

اور پانچویں بار اس طرح کہہ کہ بیشک اس عورت پر خدا کا غضب ہو اگر شوہر سچا ہو۔

(ف 2) شان نزول :۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ نبی ﷺ کے روبرو ہلال بن امیہ نے اپنی بی بی کی بدکاری کی شکایت کی۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس شکایت کے ثبوت میں تم کو چار گواہ پیش کرنے پڑیں گے ورنہ تمہاری پیٹھ پر جھوٹی تہمت کے جرم میں اسی کوڑے پڑیں گے ہلال بن امیہ نے کہا کہ ایسے موقع پر گواہ کہاں پیدا ہوسکتے ہیں۔ مجھ کو اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی حکم نازل فرما کر میرے سچ پر ظاہر کردے گا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں جس میں میاں بی بی کی قسم پر فیصلہ ہے اور فرمایا کہ گر تم پر اللہ کا فض اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم بڑی مضرتوں میں پڑجاتے، اور بیشک اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ قبول کرنے والا حکمت والا ہے۔
Ayahs 24:10–18

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 24:10 in the Quran reader

اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی (تو تم بڑی مضرتوں میں پڑجاتے) اور یہ کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا حکمت والا ہے1

اِنَّ الَّذِیْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ١ؕ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ١ؕ بَلْ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ١ۚ وَ الَّذِیْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:11 in the Quran reader

بیشک جو لوگ بڑا بہتان (حضرت عائشہ صدیقہ کی نسبت) بنا کر لائے ہیں تم ہی میں کی ایک جماعت ہے ، تم اس (طوفان بندی) کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو بلکہ وہ (باعتبار انجام کے) تمہارے حق میں بہتر ہے ان میں سے ہر شخص کے لیے وہ گناہ جو اس نے کمایا ہے اور ان میں وہ جس نے اس (بہتان) میں سب سے بڑا حصہ لیا اس کے لیے بڑا عذاب ہے

لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًا١ۙ وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 24:12 in the Quran reader

کیوں نہ ہو جب تم لوگوں نے یہ بات سنی تھی تو مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں نے اپنے لوگوں کے حق میں نیک گمان کیا ہوتا اور کہتے کہ یہ تو صریح بہتان ہے ۔

لَوْ لَا جَآءُوْ عَلَیْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ١ۚ فَاِذْ لَمْ یَاْتُوْا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓئِكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 24:13 in the Quran reader

وہ لوگ اس اپنے قول پر چار گواہ کیوں نہ لاتے، پھر جب وہ لوگ (موافق شرع کے) گواہ نہ لائے تو بس اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِیْ مَاۤ اَفَضْتُمْ فِیْهِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۚۖ Open ayah 24:14 in the Quran reader

اور اگر تم (مسلمانوں) پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی دنیا وآخرت میں، جس کا تم نے اس مقدمہ میں چرچا کیا تھا اس میں تم پر بڑا عذاب واقع ہوتا۔

اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ وَ تَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِكُمْ مَّا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ وَّ تَحْسَبُوْنَهٗ هَیِّنًا١ۖۗ وَّ هُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمٌ Open ayah 24:15 in the Quran reader

جبکہ (بےدھڑک) تم اس جھوٹ کو اپنی زبانوں پر ایک دوسرے سے سن کر لاتے تھے اور اپنے منہ سے وہ نکالتے تھے کہ جس کی حقیقت کا علم تم کو نہ تھا اور تم اس کی ہلکی بات (یعنی غیر موجب گناہ) سمجھ رہے تھے اور وہ اللہ کے نزدیک بڑی بھاری بات ہے۔

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰذَا١ۖۗ سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:16 in the Quran reader

اور کیوں نہ ہوا جب تم نے (اول) سنا تھا کہا ہوتا کہ ہمیں تو زیبا نہیں کہ ہم ایسی بات منہ سے نکالیں اے خدا ہم تجھ کو پاکی سے یاد کرتے ہیں یہ تو بڑا بہتان ہے

یَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖۤ اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 24:17 in the Quran reader

اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے کہ پھر کبھی ایسا عمل نہ کرنا اگر مسلمان ہو۔

وَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:18 in the Quran reader

اور تمہارے لیے اللہ آیتیں صاف بیان فرماتا ہے اور اللہ جاننے والا بڑا حکمت والا ہے۔

حضرت عائشہ ؓ پر منافقین کی الزام تراشی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی پاکدامنی کا اعلان۔ (ف 1) شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ 6 ہجری میں بنی مصطلق کی لڑائی سے واپس کے وقت لشکر کی روانگی سے ذرا پہلے حضرت عائشہ ؓ رفع حاجت کے لیے لشکر کے پڑاؤ سے علیحدہ جنگل میں چلی گئی وہاں اتفاق سے ان کے گلے کا ہار گرپڑا، یہ تو اس ہار کو ڈھونڈنے میں رہیں، اور یہاں لشکر روانہ ہوگیا، روانگی کے وقت اونٹ والوں نے یہ سمجھا کہ معمول کے موافق حضرت عائشہ اونٹ کے کجاوہ میں ہیں اس لیے انہوں نے وہ خالی کجاوہ اونٹ پر لاد دیا، اور لشکر کے اونٹوں کے ساتھ یہ خالی کجاوہ کا اونٹ بھی روانہ ہوگیا، سفر سے پلٹنے کی یہ آخری منزل تھی اس واسطے پچھلی رات کا یہ چلا ہوا لشکر صبح کو مدینہ میں پہنچ گیا ، حضرت عائشہ عنہا کو بہت دیر کی تلاش کے بعد وہ ہار مل گیا تو یہ جنگل سے پڑاؤ میں واپس آئیں اور دیکھا کہ لشکر روانہ ہوگیا ہے تو آپ اسی جگہ بیٹھ گئیں۔ اور خیال کیا کہ میری تلاش میں لشکر ضرور واپس ہوگا لشکر کے پیچھے گری پڑی چیزیں اٹھانے کے لیے ایک شخص رہا کرتا تھا، اس موقع پر حضڑت صفوان ؓ اس کام پر تھے جب وہ آئے اور انہوں نے آپ کو دیکھا تو بلند آواز سے ، انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا۔ آپ نے ان کی آواز سن کر کپڑے سے پردہ کرلیا، انہوں نے اونٹنی بٹھا دی ، حضرت عائشہ عنہا اس پر سوارہوگئیں، اور حضرت صفوان ؓ پیدل چلے اور لشکر میں پہنچ گئے تو منافقین سیاہ باطن نے آپ کی شان میں بہتان لگایا ، بعض کمزور ایمان مسلمان بھی ان کے فریب میں آگئے اور ان کی زبان سے بھی کلمہ بےجاسرزد ہوا، جس سے حضرت عائشہ کو سخت کو صدمہ ہوا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی پاکی بیان کرنے میں یہ آیتیں نازل فرمائیں۔
Ayahs 24:19–21

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 24:19 in the Quran reader

بیشک1 جو لوگ (بعد نزول ان آیات کے بھی) یہ چاہتے ہیں کہ برا چرچہ مسلمانوں میں پھیلے تو ان کے لیے دنیا اور آخرت میں درد دینے والا عذاب (مقرر) ہے اور (دلوں کے راز اور باطن کے احوال) اللہ خوب جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 24:20 in the Quran reader

اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی (تو تم بڑی مضرتوں (تکلیفوں) میں پڑجاتے) اور یہ کہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّهٗ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ مَا زَكٰى مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا١ۙ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:21 in the Quran reader

اے مسلمانو ! تم شیطان کے قدم بقدم نہ چلو (یعنی اس کے اغوا پر مت عمل کرو) اور جو کوئی شیطان کے قدم بقدم چلے تو یہ تو (ہمیشہ ہر شخص کو) بےحیائی اور برے ہی کام کرنے کو بتائے گا، اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی (توبہ کرکے) پاک صاف نہ ہوسکتا، لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے (توبہ کی توفیق) دے کر پاک صاف کردیتا ہے اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے ۔

جھوٹا عیب لگانے والوں پر دنیاوآخرت کا عذاب۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں فرمایا کہ جو لوگ بعد نزول ان آیات کے بھی یہ چاہتے ہیں کہ بدکاری کا چرچا مسلمانوں میں پھیلے یعنی ان کے دلوں میں بھی وسوسے پیدا ہوا کریں کہ فلاں نے آج یہ کام برا کیا، فلانے کی بیوی نے ایسا کیا، اور فلاں ایسا ہے تو ان پر دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب نازل ہوتا ہے اس لیے کہ شریعت کے موافق کوڑے مارے جاتے ہیں اور رد الشہادت اور لوگوں کی نگاہوں میں ذلیل غیرقابل الاعتبار ہوجاتے ہیں اور اس کے سوا آخرت میں بھی عذاب الٰہی میں مبتلا ہوتے ہیں اور خدا ہی خوب جانتا ہے جو برائیاں تم کرتے ہو اور تم اس کو نہیں جانتے۔ پھر فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت اور مہربانی ہے کہ اس نے ان جھوٹے بہتان لگانے والوں پر جلدی سے عذاب نہیں بھیجا، آگے مسلمانوں کو ہدایت فرمائی کہ شیطان لوگوں کو ایسی ہی بےحیائی کی باتیں سکھاتا ہے اس لیے ہر ایماندار آدمی کو چاہیے کہ شیطان کے کہنے پر نہ چلے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحمت ہے کہ جو ایماندار شخص شیطان کے حملے سے بچتا رہتا ہے اور شیطان کے حملہ کے وقت اللہ تعالیٰ سے پناہ چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو شیطان کے حملے سے بچا کر نیک راہ پر لگ جانے کی توفیق دیتا ہے پھر فرمایا اللہ تعالیٰ ہر ایک شخص کے منہ کی بات کو سنتا اور دل کے ارادہ کو جانتا ہے خالص دل سے جو کوئی شیطان کے حملے کو روکنے کی التجا کرے گا اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مدد کرے گا۔
Ayah 24:22

وَ لَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ اَنْ یُّؤْتُوْۤا اُولِی الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْا١ؕ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:22 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو تم میں (دینی) بزرگی اور (دنیوی) وسعت والے ہیں، اس بات پر قسم نہ کھائیں کہ قرابت والوں کو اور مسکینوں کو اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو (کچھ خرچ) نہ دیں اور چاہیے کہ ان کو معاف کریں اور درگزر کریں، کیا تم اسے دوست نہیں رکھتے کہ اللہ تمہاری بخشش کرے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔1

قسم کا ذکر۔ (ف) شان نزول : یہ آیتیں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے حق میں نازل ہوئیں آپ نے قسم کھائی تھی کہ ، مسطح کے ساتھ سلوک نہ کریں گے اور وہ آپ کی خالہ کے بیٹے تھے نادار تھے مہاجر تھے بدری تھے، آپ ہی ان کا خرچ اٹھاتے تھے مگر چونکہ ام المومنین پر تہمت لگانے والوں کے ساتھ انہوں نے موافقت کی تھی اس لیے آپ نے قسم کھائی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی جب یہ آیت نبی ﷺ نے پڑھی تو حضرت ابوبکر نے کہا، بیشک میری آرزو ہے کہ اللہ میری مغفرت کرے اور میں مسطح کے ساتھ جو سلوک کرتا تھا اس کو کبھی موقوف نہ کروں گا، چناچہ آپ نے اس کو جاری فرمادیا۔ مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو شخص کسی کام پر قسم کھائے پھر معلوم ہو کہ اس کا کرنا بہتر ہے تو چاہیے کہ اس کام کو کرے اور قسم کا کفارہ اداکرے۔
Ayahs 24:23–26

اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 24:23 in the Quran reader

بیشک جو لوگ پاکدامن بیخبر ایمان والی عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا وآخرت میں لعنت ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے ۔2

یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:24 in the Quran reader

جس روز کہ گواہی دیں گی ان پر ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں بھی جو کچھ کہ وہ کرتے تھے ۔

یَوْمَئِذٍ یُّوَفِّیْهِمُ اللّٰهُ دِیْنَهُمُ الْحَقَّ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:25 in the Quran reader

اس روز اللہ ان کو پورا پورا بدلہ دے گا انصاف کے ساتھ اور (اس روز) جان لیں گے کہ اللہ ہی حق (فیصلہ کرنے والا اور ہر بات) ظاہر کرنے والا ہے ۔

اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِ١ۚ وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِ١ۚ اُولٰٓئِكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ۠ Open ayah 24:26 in the Quran reader

ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے ہیں، اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے اور پاک مرد پاک عورتوں کے لیے ہیں، وہ لوگ پاک ہیں ان باتوں سے جو یہ کہہ رہے ہیں ان کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے ۔

سیدہ عائشہ ؓ کی عظمت۔ (ف 2) شروع قصہ سے یہاں تک حضرت عائشہ عنہا کی برات میں اللہ تعالیٰ نے یہ پندہ آیتیں نازل فرمائیں علماء اسلام کا یہ فیصلہ ہے کہ اتنی برات کے بعد جو فرقہ حضرت عائشہ کو اب بھی عیب لگائے گا وہ قرآن شریف کا منکر فرقہ ہے اور اس فرقہ کے کافر ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کیونکہ وہ فرقہ قرآن کی آیتوں کا منکر ہے اس کے بعد اب اس آیت میں فرمایا کہ جو لوگ پاکدامن بیخبر ایمان والی عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں تو یہ پاکدامن عورتیں ایسی باتوں سے بالکل بیخبر ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی پارسائی اور پاکدامنی کی کامل طور پر تعریف کی ہے اور فرمایا کہ عیب لگانے والے دنیا میں ملعون اور مردود ہیں اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا ہوں گے اور اس روز ان کی باتوں پر ان کی زبانیں اور اس کے افعال پر ان کے ہاتھ پاؤں بھی گواہی دیں گے اور وہ جو کچھ عمل کرتے تھے ان کے اعضاء سب بتادیں گے اس دن خدا تعالیٰ ان کو یعنی منافقین وغیرہ کو ان کے اعمال کا بدکا پورا پورا بدلہ دے گا اور وہ جان لیں گے کہ خدا نے جو کچھ دنیا میں اتارا تھا سب حق واضح اور یقین قطعی تھا آگے فرمایا کہ اس بہتان کے باندھنے والے ایسے ناسمجھ ہیں اتنا نہیں سمجھتے کہ اللہ کے رسول کی بی بی سے ایسا براکام کیونکر ہوسکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نیک مردوں کے لیے نیک عورتیں پیدا کی ہیں پھر اللہ کے رسول سے بڑھ کر کون نیک ہوگا ایسی ناپاک باتیں تو ناپاک مرد اور ناپاک عورتوں میں پھیلتی ہیں جن لوگوں کی شان میں یہ عیب لگانے والے ناپاک باتیں منہ سے نکالتے ہیں وہ ان باتوں سے بالکل بےلگاؤ ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے پاک لوگوں سے عقبی میں بخشش اور بڑی بڑی نعمتیں دینے کا وعدہ کیا ہے۔
Ayahs 24:27–28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:27 in the Quran reader

اے مسلمانو !1 اپنے گھروں کے سوا اور کسی کے گھروں میں (بےدھڑک) نہ جاؤ، جب تک کہ اجازت نہ لے لو اور سلام کرو ان کے رہنے والوں پر، یہ تمہارے لیے بہتر ہے تاکہ تم دھیان کرو۔

فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى یُؤْذَنَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ قِیْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ Open ayah 24:28 in the Quran reader

پھر اگر تم گھر میں کسی کو موجود نہ پاؤ تو اندر نہ جاؤ جب تک کہ تم کو اجازت (مختار اذن کی جانب سے) نہ دی جائے، اور اگر تم کو کہا جاوے کہ لوٹ جاؤ تو لوٹ جایا کرو، یہ تمہارے لیے بڑی پاکیزگی کی بات ہے اور اللہ جنتا ہے جو کچھ کہ تم کرتے ہو۔

بغیر اجازت دوسروں کے گھروں میں نہ جانے کا حکم آداب معاشرت۔ (ف 1) شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ بعضے رشتہ دار اپنے رشتہ داروں کے زنانہ مکانوں میں بغیر اجازت اور بغیر کھنکار نے کے چلے جاتے تھے اور بیخبر ان کے جانے سے ننگی کھلی عورتوں کا، اور ان کا آمناسامنا ہوجاتا تھا، بعض دین دار عورتوں نے نبی ﷺ سے اس طریقہ کے بند ہوجانے کی خواہش کی، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ اذن کی آیتیں نازل فرمائیں۔ مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ اپنے گھر کے سوا کسی اور کے گھروں میں بےاجازت داخل نہیں ہونا چاہیے۔
Ayah 24:29

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِیْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 24:29 in the Quran reader

اس2 میں تم پر کچھ گناہ نہیں کہ (بغیر اجازت) ان کے گھروں میں جاؤ جو خاص کسی کی سکونت نہیں (مثل سرائے وغیرہ) اور ان کے برتنے کا تمہیں اختیار ہے جو کچھ کہ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ کہ تم (دل میں) مخفی رکھتے ہو۔

(ف 2) شان نزول : یہ آیت ان اصحاب کے جواب میں نازل ہوئی جنہوں نے اذن کی آیت نازل ہونے کے بعد نبی صلی اللہ سے دریافت کیا تھا کہ ہم لوگ مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ اور شام کے ملک کی طرف تجارت کی غرض سے جاتے ہیں اور راستہ میں مسافر خانوں کے طور پر اکثر ایسے مکان ہیں جن میں کوئی نہیں رہتا ان میں بلا اجازت کے جاکراترجانا، یا کچھ سامان ان میں رکھ دینا جائز ہے یا نہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ تم پر کچھ گناہ نہیں اگر بغیر اجازت کسی ایسے گھر میں جاؤ کہ جہاں کوئی نہ بستا ہو اور ان کے برتنے کا تمہیں اختیار ہے ، اور اللہ تعالیٰ تمہاری چھپی اور ظاہری باتوں کو خوب جانتا ہے۔
Ayah 24:30

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 24:30 in the Quran reader

(اے محبوب )1 مسلمان مردوں کو حکم دو کہ وہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں (اور زنا و حرام سے بچیں) یہ ان کے حق میں بڑی پاکیزگی کی بات ہے ، بیشک اللہ کو سب خبر ہے جو کچھ کہ تم لوگ کرتے ہو۔

عورتوں کے پردہ کا حکم، مسلم خاتون کا اصل زیور۔ (ف 1) حاصل مطلب یہ ہے کہ اے محبوب ایماندار لوگوں سے کہہ دیا جائے کہ ان کے حق میں ناجائز چیزوں کے دیکھنے سے بچنے اور اپنی شرمگاہوں کو قابوں میں رکھنے میں بڑی ستھرائی ہے آخر کو ناجائز کاموں سے بچنے اور جائز کاموں کے کرنے کی تاکید کے طور پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو لوگوں کے اچھے برے کاموں سب کی خبر ہے۔ مسئلہ : جس شخص کا ارادہ کسی عورت سے نکاح کرنے کا ہو تو وہ شخص اس عورت کو دیکھ سکتا ہے لیکن کسی عورت کے ذریعہ سے حال معلوم ہوسکتا ہو تو نہ دیکھے، اور طبیب کو بھی مرض کی جگہ بقدر ضرورت دیکھنا جائز ہے۔
Ayah 24:31

وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ١۪ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآئِهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآئِهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآئِهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ١۪ وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّ١ؕ وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:31 in the Quran reader

اور2 (اسی طرح) مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی بھی حفاظت کریں۔ اور وہ اپنا بناؤ نہ ظاہر کریں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈالے رہا کریں، اور اپنا سنگار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے یا شوہروں کے باپ، یا اپنے بیٹوں یا شوہروں کے بیٹوں پر، اور اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیجے یا اپنے بھانجے پر، یا اپنی (دینی مسلمان) عورتوں پر یا اپنی لونڈیوں پر جو اپنے ہاتھ کی ملک ہوں، یا ان خدمت گار مردوں پر کہ جن کو عورتوں کی حاجت نہ رہی ہو (یعنی شہوت والے مرد نہ ہوں ) یا وہ بچے جو عورتوں کی پردہ کی چیزوں سے واقف نہیں اور اپنے پاؤں زمین پر زور سے نہ رکھیں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہوجائے، اور مسلمانو ! (تم سے اگر ان احکام میں کوتاہی ہوگئی ہو تو) تم سب اللہ سے توبہ کرو اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔

(ف 2) اس آیت میں فرمایا کہ اے محبوب مسلمان عورتوں سے بھی فرمایا کہ وہ ناجائز چیزوں کے دیکھنے سے بچیں اور اپنی عصمت کی محافظت رکھیں اور اپنے بدن کی آرائش کو ظاہر نہ کریں سوائے منہ اور ہاتھ کے ، اس لیے اگر ہاتھ اور منہ کا بھی چھپانا فرض کیا جاتا تو مخلوق کے لیے ہرج عظیم تھا اور چاہیے کہ اپنی اوڑھنیوں کو اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھیں، اس سے ثابت ہوا کہ عورت کا سینہ وغیرہ ڈھانکنا فرض ہے اور غیر مرد کو اس کی طرف نظر کرنا جائز نہیں، اور کسی مرد کو اپنا سنگار نہ دکھائیں سوائے اپنے شوہروں کے ، اور اپنے باپوں کو یا اپنے خاوند کے باپوں یعنی سسر کو، یا اپنے بیٹوں کو، یا خاوند کے بیٹوں کو جو دوسری بیویوں کے ہوں یا اپنے بھائیوں کو، یابھتیجوں کو، یابھانجوں کو یا اپنے دینی ۔ یعنی مسلمان عورتوں کو۔ اور کافر عورتوں سے پردہ کرنا چاہیے ، یا اپنی لونڈیوں کو جو اپنے ہاتھ کی ملک ہوں یا ان خدمت گاروں کو کہ جن کو عورتوں کی حاجت نہ رہی ہو، جیسے خوجے، یا بوڑھے ضعیف، یا ان بچوں کو کہ جو عورتوں کے پردہ کی چیزوں سے واقف نہیں ان سب کے سوا عورت کو سب سے پردہ کرنا چاہیے اور عورتیں اپنے پاؤں زمین پر زور سے نہ مار کرچلیں، ایسانہ ہوا کہ ان کے چھپے ہوئے زیور کی آواز معلوم ہوجائے اس لیے زیور کی آواز سننے سے مردوں کے دل میں ان کی خواہش پیدا ہوگی، جبکہ زیور کی آواز سناناغیر مرد کو حرام ہوا تو اپنی آواز غیر مرد کو سنانا زیادہ حرام ہوا، اور اسی واسطے عورتوں ک لیے اذان دینا درست نہیں اور اے مسلمانوں، تم سے اگر ان احکام میں کوتاہی ہوگئی تو تم سب اللہ سے توبہ کرنے سے اپنی مراد کو پہنچ جاؤ۔
Ayah 24:32

وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآئِكُمْ١ؕ اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:32 in the Quran reader

اور1 تم میں جو بےنکاح ہوں اپنوں میں ان کے نکاح کردو، اور اپنے غلاموں اور لونڈیوں کے جو نیک ہوں ان کے بھی، اگر وہ تنگ دست ہوں تو اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کردے گا، اور اللہ بہت دینے والا، جاننے والا ہے۔

بیوہ عورتوں کا نکاح۔ (ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اے مسلمانوں تم کو چاہیے کہ اپنے گروہ کی رانڈ عورتوں اور رنڈوے مردوں کو بغیر نکاح کے بیٹھانہ رہنے دو ، بلکہ سمجھا بجھا کر ان کا اور اپنے نیک غلام اور لونڈیوں کا نکاح کرادو، پھر فرمایا کہ نکاح سے پہلے اگر ان میں کوئی تنگ دست ہو تو تنگ دستی کے عذر سے نکاح کو نہ روکا جائے ، نکاح کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کی تنگ دستی کو رفع کرکے انہیں خوشحال کردے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کا خزانہ بہت بڑا ہے ۔ وہ اپنی بندوں کی ضرورتوں سے خوب واقف ہے آگے فرمایا جو لوگ بالکل ایسے تنگ دست ہیں کہ کسی طرح نکاح کا بار نہ اٹھا سکتے ہون تو جب تک اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو کسی قدر صاحب مقدور نہ کردیوے ، اس وقت تک ان کو اپنی حالت پر صبر کرنا اور بدکاری سے بچنا چاہیے، نبی نے ایسے لوگوں کو روزے رکھنے کی ہدایت فرما کر یہ فرمایا ہے کہ روزے رکھنے سے مردانگی کی قوت کم ہوجاتی ہے۔
Ayahs 24:33–34

وَ لْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى یُغْنِیَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْهِمْ خَیْرًا١ۖۗ وَّ اٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَیٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَنْ یُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:33 in the Quran reader

اور چاہیے کہ پارسائی سے رہیں وہ جو نکاح کا مقدور نہیں رکھتے، یہاں تک کہ اللہ ان کو اپنے فضل سے غنی کردے (تو نکاح کریں) اور2 جو تمہارے ہاتھ کی ملک باندی غلاموں میں سے جو یہ چاہیں کہ کچھ مال کمانے کی شرط پر انہیں آزادی لکھ دو ، اگر تم ان میں کچھ بھلائی سمجھو تو لکھ دو اور ان کی اللہ کے اس مال سے مدد کردیا کرو جو اس نے تم کو دے رکھا ہے اور1 اپنی کنیزوں کو زنا کے لیے مجبور نہ کرو جبکہ وہ پاک دامنی چاہتی ہوں، محض اس لیے کہ دنیوی زندگی کا کچھ فائدہ (یعنی مال) تم کو حاصل ہوجائے ، اور جو شخص ان کو مجبور کرے گا تو بیشک اللہ بعد اس کے کہ وہ مجبوری ہی کی حالت پر رہیں بخشنے والا مہربان ہے ۔

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 24:34 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے تمہاری طرف روشن آیتیں اتاریں اور جو لوگ تم سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کی کچھ مثالیں اور (خدا سے) ڈرنے والوں کے لیے نصیحت۔

کتابت کا حکم۔ (ف 2) شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ حویطب بن عبدالعزی کے غلام صبح نے اپنے آقا سے کتابت کی درخواست کی، آقا نے انکار کردیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس کا مطلب یہ ہے کہ جو تمہارے ہاتھ کی ملک باندی غلاموں میں سے جو یہ چاہیں کہ کچھ مال کمانے کی شرط پر انہیں آزادی لکھ دو ، اگر تمہیں ان میں کتابت کی رقم کمانے کی قابلیت نظر آوے تو ان سے کتابت کا معاملہ کرلیا کرو پھر فرمایا جب یہ کتابت کا معاملہ ٹھہرجاوے تو ہر ایک مسلمان صدقہ و خیرات زکوۃ کی رقم میں سے ایسے غلام کو کچھ مدد دیوے جس سے وہ بیچارہ جلدی سے اپنے ذمہ کی رقم ادا کرکے آزاد ہوجائے جب یہ آیت نازل ہوئی تو حویطب نے اس سے سودینار پر کتابت کا معاملہ کرلی اور اس میں سے بیس اس کو بخش دیے اور باقی اس نے ادا کردیے۔ زبردستی پر گناہ کی معافی۔ (ف 1) شان نزول : یہ آیت عبداللہ بن ابی سلول منافق کے حق میں نازل ہوئی جو مال حاصل کرنے کے لیے اپنی کنیزوں کو بدکاری پر مجبور کرتا تھا ان کنیزوں نے نبی ﷺ سے اس کی شکایت کی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس سے معلوم ہوا کہ کوئی زبردست آدمی کسی کو برے کام پر مجبور کرے تو وہ مجبور آدمی بےگناہ ہے جو کچھ وبال ہے وہ مجبو کرنے والے شخص پر ہے آگے فرمایا کہ قرآن کی آیتوں میں اگرچہ کھلی کھلی نصیحت ہے اور پچھلے لوگوں کے قصوں سے قرآن میں یہ بھی جگہ جگہ سمجھادیا گیا ہے کہ جن پچھلی قوموں نے کلام الٰہی کی نصیحت کو نہیں مانا اور اللہ کے رسول کو جھٹلایا وہ لوگ طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئے لیکن ان سب باتوں کا اثر ان ہی لوگوں کے دل پر ہوتا ہے جو ایک دن اللہ کے روبرو کھڑے ہونے سے ڈرتے ہیں جن لوگوں کے دل میں یہ خوف نہیں ہے ان کے حق میں یہ سب نصیحت رائیگاں ہے۔
Ayah 24:35

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ١ۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ Open ayah 24:35 in the Quran reader

اللہ1 نور ہے (یعنی ہدایت اور روشنی دینے والا ہے) آسمانوں اور زمین کا اس نور کی مثال ایسی ہے جیسے (مومن کا دل) ایک طاق ہے اس میں ایک چراغ رکھا ہے ، وہ چراغ ایک شیشہ کی قندیل میں ہے وہ قندیل ایسی (صاف شفاف ہے) گویا ایک ستارہ چمکتا ہے، وہ چراغ روشن کیا گیا ہے روغن زیتون سے جو بابرکت درخت ہے جو نہ مشرق کی طرف ہے اور نہ مغرب کی طرف ہے ، اس کا تیل (اتنا صاف ہے کہ ) قریب ہے کہ بھڑک اٹھے اگرچہ اسے آگ بھی نہ چھوئے، نور پر نور ہے اللہ اپنے نور کی جس کو چاہتا ہے راہ دکھاتا ہے اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے ، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے ۔

نور کا ذکر۔ (ف 1) شان نزول : نور اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے ابن عباس کے قول کی موافق اس کے تفسیر یوں ہے کہ آسمانوں پر فرشتے اور زمین پر نیک لوگوں اللہ تعالیٰ کے نور ہدایت سے راہ راست پر آئے ہیں ایماندار کے دل میں یہ نور ہدایت ایسا ہے جس طرح موتی ساچمکتا ہے آگے اس کی مثال یہ بیان فرمائی کہ ایماندار کا سینہ مشکوۃ یعنی طاق کی مانند ہے اور اس کا دل ایک چمکدار شیشے کی قندیل ہے جس قندیل میں نور ایمانی چراغ میں ایسا آبدار زیتوں کا تیل جلتا ہے جو آگ کے شعلے کی طرح چمکتا ہے کیونکہ وہ زیتون نہ تو باغ کے شرقی کونے کا ہے جس کو سہ پہر کی دھوپ نہ پہنچ سکے اور نہ غربی کونے کا ہے جس کو دوپہر سے پہلے کی دھوپ نہ پہنچ سکے ، بلکہ ہر وقت کی دھوپ کھاکروہ زیتون خوب پختہ اور اس کا پھل نہایت عمدہ ہے ، بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہ مثال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے نور کی بیان فرمائی یعنی رسول اللہ کا نور مثل نور چراغ کے ہے جو قندیل نورانی میں ہے کہ نورانی تیل سے روشن ہے اور وہ تیل مبارکہ درخت سے نکلا جو نہ شرقی نہ غربی، یعنی نور رسول ابراہیم سے ہوکر دنیا میں آیا جو حنیف ومسلم وموحد مخلص تھے نہ شرقی نہ غربی، یعنی نہ یہودی اور نہ نصرانی۔ وہ درخت ایسا ہے کہ اس کا تیل خود بخود بغیر آگ دکھائے روشن ہوا جاتا ہے یعنی حضرت ابراہیم کے اعمال صالحہ کے آثار حضور ﷺ کی ولادت کے اجداد کے اصلاب سے قبل حضور ﷺ کی ولادت کے ظاہر تھے اور ابراہیم (علیہ السلام) کو اگر نبوت وخلعت نہ بھی ملتی تب بھی ان کا اس نور برکت ظہور کے طفیل سے شرف کیا کم تھا۔ وہ خود نورانی تھے یا اس کا عکس ہو یعنی اگر ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ نور نہ ملتا تو بھی ان کے اعمال صالحہ نور ریز تھے چہ جائیکہ اس نور کی برکت سے وہ بھڑک اٹھے، بعض مفسرین کی اس نور سے مراد قرآن اور سید انبیاء محمد ﷺ ہیں۔ ابن عباس ؓ نے کعب احبار سے فرمایا کہ اس ایت کے معنی بیان کرو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی مثال بیان فرمائی کہ روشن دان یعنی طاق تو نبی ﷺ کا سینہ مبارک ہے اور قندیل قلب مبارک ہے اور چراغ نبوت سے روشن ہے اور اس نور محمدی کی روشنی اس درجہ کمال ظہور ہے کہ اگر آپ اپنے نبی ہونے کا بیان نہ بھی فرمائیں جب بھی خلق پر ظاہر ہوجائے۔ ابن عمر سے مروی ہے کہ روشن دان تو نبی ﷺ کا سینہ مبارک ہے اور قندیل قلب اطہر ، اور چراغ وہ نور جو اللہ تعالیٰ نے اس میں رکھا کہ نہ شرقی ہے نہ غربی، یعنی نہ یہودی نہ نصرانی۔ ایک شجر مبارک سے روشن ہے وہ شجر حضرت ابراہیم ہیں نور قلب ابراہیم (علیہ السلام) پرنور محمدی نور پر نور ہے ، اس کے علاوہ اور بھی بہت اقوال ہیں (خازن) آگے فرمایا اللہ کی قدرت کی اگرچہ یہ چند مثالیں جمع ہیں لیکن ان مثالوں سے فائدہ وہی لوگ اٹھاتے ہیں جو سمجھ اور عقل رکھتے ہیں اور اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔
Ayahs 24:36–38

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ١ۙ یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ Open ayah 24:36 in the Quran reader

ان1 گھروں (یعنی مسجدوں) میں (عبادت کرتے ہیں) کہ جن کی نسبت اللہ نے تعظیم کرنے کا حکم دیا ہے اور ان میں اللہ کا نام لیا جاتا ہے صبح (یعنی فجر) اور شام (یعنی ظہر و عصر و مغرب و عشاء) اللہ کی تسبیح (یعنی نماز ادا ) کرتے ہیں۔

رِجَالٌ١ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ١۪ۙ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗۙ Open ayah 24:37 in the Quran reader

ایسے لوگ (تسبیح کیا کرتے) ہیں کہ جن کو نہ تجارت خریدو فروخت ذکر الہی سے غافل کرتی ہے اور نہ نماز پڑھنے سے اور نہ زکوۃ دینے سے وہ اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں کہ جس میں دل اور آنکھیں الٹ جاویں گی۔

لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 24:38 in the Quran reader

تاکہ اللہ ان کو بدلہ دے ان کے سب سے بہتر کام کا (یعنی جنت) اور (علاوہ اس کے) ان کو اپنے فضل سے انعام زیادہ دے، اور اللہ جس کو چاہتا ہے بےحساب روزی دیتا ہے ۔

نیک لوگون کے اعلی اوصاف کا ذکر۔ (ف 1) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے دل کا حال سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں جانتا ہاں جو لوگ قیامت کے دن آفتوں سے ڈر کر فجر وظہر وعصر مغرب، عشاء مسجدوں میں نماز کے لیے اس وقت پر حاضر ہوتے ہیں کہ دنیا کی کوئی سوداگری ان کو اس حاضری سے باز نہیں رکھ سکتی ، اور زکوۃ کے وقت شریعت کے حکم کے موافق یہ لوگ زکوۃ بھی ادا کرتے ہیں پھر فرمایا یہ لوگ نیک کام کرتے ہیں وہ کسی دکھاوے کے لیے نہیں کرتے بلکہ ان کا ہر ایک نیک کام اس نیت سے ہوتا ہے کہ بارگاہ الٰہی سے قیامت کے دن اس نیک کا اچھا بدلہ عطا ہو، اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اور کچھ زیادہ بھی ان کو دیوے جو نیک عمل کی جزا سے بڑھ کر ہو، دس گنا سے لے کر سات سوگنا تک ، اور بعض نیکیوں کی اس سے بھی زیادہ بدلہ کی صحیح روایتیں جو کئی جگہ گزرچکی ہیں وہ روایتیں (احسن ماعملو) کی گویا تفسیر ہیں۔ آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم ایسا ہی بڑا ہے کہ قیامت کے دن وہ جس کو چاہے گا نیک عملوں کی جزا سے بڑھ کر نعمتیں عطا فرمائے گا۔
Ayahs 24:39–40

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ Open ayah 24:39 in the Quran reader

اور1 جو لوگ کہ کافر ہوئے ان کے اعمال ایسے ہیں کہ جیسے ایک چٹیل میدان میں چمکتی ہوئی ریت کہ جس کو پیاسا (آدمی دور سے) پانی سمجھتا ہے ، یہاں تک کہ جب اس کے پاس آیا تو اس کو کچھ بھی نہ پایا اور اللہ کو اپنے قریب پایا (یعنی تڑپ کر مر گیا) تو اللہ نے اس کا حساب پورا پورا بھر دیا اور اللہ جلد حساب کرنے و الا ہے ۔

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠ Open ayah 24:40 in the Quran reader

یا (ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے) جیسے اندھیریاں گہرے دریا میں کہ ایک لہر کے اوپر دوسری بڑی لہر اس کافر کو ڈھانکتی ہے اس کے اوپر بادل (غرض کہ) اوپر تلے بہت سی اندھیریاں ہیں، جب اپنا ہاتھ نکالے (اور دیکھنا چاہیے) تو امید نہیں کہ اس کو دیکھ سکے ، اور جس کو اللہ ہی نور (ہدایت) نہ دے اس کو (کہیں سے بھی ) نور میسر نہیں ہوسکتا۔

کفار کے نیک عملوں کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں میں کافروں کے نیک اعمال کی دومثالیں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائیں۔ پہلی مثال کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح کوئی پیاسا مسافر دوپہر کی دھوپ گرمی کی شدت میں جنگل کی چمکتی ہوئی ریت کو دور سے پانی کی ندی خیال کرتا ہے اور جب اس ریت کے پاس پہنچتا ہے تو وہاں پانی کا پتہ بھی نہیں ہوتا، آخر وہ تڑپ کر پیاسا مرجاتا سو خدا نے اس کا پورا پوراحساب کردیا، اور اللہ تعالیٰ جلد حساب کرنے والا ہے، اور اسی طرح یہ مشرک لوگ جن لوگوں کی مورتوں کی پوجا کرکے یہ گمان کرتے ہیں کہ اگر قیامت قائم ہوئی تو وہ اپنے پوجا کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سفارش کرکے ان کو عذاب دوزخ سے بچا لیں گے لیکن قیامت کے دن جب وہ لوگ ان مشرکوں کی صورت سے بےزار ہوجاویں گے تو وقت پر ایسا ہی پچھتاویں گے جس طرح وہ پیاسا مسافر جنگل کی چمکتی ہوئی ریت کے پاس پہنچ کر پچھتایا اور پچھتانا اس کے کچھ کام نہ آیا وہی حال قیامت کے دن ان لوگوں کا ہوگا۔ دوسری مثال کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح کوئی کشتی کا مسافر گہرے دریا کی گہرائی کے اندھیرے میں علاوہ موجوں، گہرے ابر کے ایسے اندھیرے میں پھنس جائے کہ اندھیرے کے مارے اس کو اپنے ہاتھ تک دکھائی نہ دیں اس طرح یہ مشرک لوگ عالم ارواح میں نور ہدایت کے حصہ سے محروم رہے اسی سبب سے دنیا میں شرک کی جہالت کا اندھیرا انکے دل پر زندگی بھر چھایارہا، پھر مرنے کے بعد دوزخ کے اندھیرے میں جاپڑیں گے۔