24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 24:41–42

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 24:41 in the Quran reader

(اے مخاطب)1 کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ کی تسبیح کرتے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے اور پرندے پر پھیلائے ہوئے (جو آسمان و زمین کے درمیان) ہیں ہر ایک کو اپنی اپنی دعا اور تسبیح معلوم ہے اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 24:42 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے اور اللہ ہی کی طرف (سب کو) لوٹ کر جانا ہے ۔

تمام مخلوق کی یاد الٰہی کا ذکر۔ (ف 1) مجاہد کے قول کے موافق نماز کا حکم انسان کے حق میں ہے قرآن شریف میں تسبیح کا ذکر بعض جگہ ، تسبیحہ کے لفظ سے ہے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ آسمان و زمین کی کل چیزیں اپنی اپنی زبان میں ہر وقت اللہ کو یاد کرتی ہیں اور اس کے نام کی تسبیح پڑھتی ہیں صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک روز اللہ کے رسول کا گزر دوقبروں پر ہوا۔ اور آپ نے فرمایا کہ ان دونوں قبروں میں جو مردے دفن ہیں ان پر عذاب قبر ہورہا ہے یہ فرماکر آپ نے ایک ہری ٹہنی درخت کی لی اور اس کی دوشاخیں کیں اور یہ دونوں شاخیں ان دونوں کی قبروں پر لگا کر فرمایا کہ جب تک یہ شاخیں ہری رہیں گی ان مردوں کے عذاب قبر میں کچھ تخفیف ہوجائے گی اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ ہر درخت کی ٹہنی جب تک ہری رہتی ہے تو وہ اپنی زبان کی ایک طرح کی خاص گویائی سے اللہ کی یاد کرتی ہے اور یہی یاد الٰہی ان دونوں شاخوں کی تسبیح تھی جس کی برکت سے عذاب قبر میں تخفیف ہوئی اس سے ثابت ہوا کہ قبروں پر درخت لگانا پھولوں کا ڈالنا درست ہے ۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن مسعود کا قول ہے کہ کھانا کھاتے وقت ہم صحابہ لوگ کھانے کی چیزوں کی تسبیح کی آواز سنا کرتے تھے حاصل مطلب یہ ہے کہ آسمان و زمین میں اکیلے اللہ تعالیٰ کی حکومت ہے اس لیے آسمان فرشتے، زمین پر جنات اور انسان ، آسمان و زمین کے مابین میں اڑتے ہوئے جانور اپنی زبان میں اللہ کی یاد میں ہر وقت لگے ہوئے ہیں آگے کا مطلب یہ ہے کہ پہاڑ درخت جب سب ناسمجھ چیزیں اپنے پیدا کرنے والے کو پہچان کر ہر وقت اس کی تعظیم اور عبادت میں لگی ہوئی ہیں بنی آدم کے وہ لوگ جو اپنے آپ کو سمجھ دار کہتے ہیں اور اپنے پیدا کرنے والے کی تعظیم میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کو ان کے سب کام معلوم ہیں وقت مقررہ پر ایسے لوگوں کو اپنے عملوں کی پوری سزا بھگتنی پڑے گی۔
Ayahs 24:43–44

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهٗ ثُمَّ یَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ١ؕ یَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ یَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ Open ayah 24:43 in the Quran reader

کیا1 تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی بادلوں کو چلاتا ہے پھر وہی ان کو آپس میں ملاتا ہے پھر وہی ان کو تہ بر تہ (کر کے گھنگور گھٹا) بناتا ہے، پھر تو دیکھے کہ اس کے بیچ میں سے مینہ برستا ہے۔ اور آسمان میں (اولوں کے) جو بڑے پہاڑ ہیں ان سے اولے اتارتا ہے ، پھر ان کو جس پر چاہتا ہے ڈالتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اس کو پھیر دیتا ہے ، قریب ہے کہ بجلی کی چمک جو ابر میں ہے آنکھیں (یعنی بینائی) لے جائے۔

یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 24:44 in the Quran reader

اللہ ہی رات اور دن کو بدلتا رہتا ہے بیشک اس (سب معاملہ) میں آنکھوں کے لیے ایک بڑی عبرت ہے ۔

(ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ ہی کی حکومت کا یہ اثر سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ دنیا بھر میں جہاں اس کو مینہ برسانا منظور ہوتا ہے ہوا اس کے حکم سے بادلوں کے ٹکڑوں کو وہاں لے جاتی ہے اور پھر ان ٹکڑوں کو جوڑ کرتہ بہ تہ کیا تب جاکر جتنی دور تک حکم ہوتا ہے اتنی دور تک گہرابادل چھاجاتا ہے ، اور اس بادل میں سے مینہ برستا ہے جس سے ہر طرح کی پیداوار ہوجایا کرتی ہے آگے فرمایا جن کھیتوں باغوں پر اللہ تعالیٰ کو اولوں کی بلابھیجنا مقصود ہوتا ہے تو آسمان سے وہ برف کے پہاڑ میں سے اولے بادلوں میں بھیج دیتا ہے جس سے اولے پڑ کر وہ کھیت اور باغ اجڑ جاتے ہیں اور سوائے اللہ کے اس بلا کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔ پھر فرمایا اس اولے والے بادل میں بجلی کی چمک اس غضب کی ہوتی ہے کہ جس سے آدمی کی آنکھیں بند ہوجاتی ہیں آگے کا مطلب یہ ہے کہ رات دن کی یہ الٹ پلٹ کبھی رات ہے اور کبھی دن اللہ کے حکم سے ، اور رات دن کی ہیر پھیر کا نام گردش زمانہ ہے تو کفر کی رسم کے موافق کسی ایماندار آدمی کو جائز نہیں کہ وہ گردش زمانہ کو برا بھلا کہے پھر فرمایا کہ قران کی آیتوں میں اللہ کی قدرت کی نشانیاں جو بیان کی جاتی ہیں اگرچہ وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہیں لیکن ان نشانیوں کو عبرت کی نظر سے وہی لوگ دیکھتے ہیں جن کی آنکھوں پر غفلت کا پردہ نہیں ہے ورنہ جن لوگوں کی آنکھوں پر غفلت کا پردہ پڑا ہوا ہے ان کے حق میں وہ قدرت کی نشانیاں ایسی ہی رائیگاں ہیں جس طرح بری زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے ، سورة الرعد میں بجلی کا حال گزرچکا ہے۔
Ayah 24:45

وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 24:45 in the Quran reader

اور1 اللہ ہی نے ہر چلنے والے (جاندار ) کو پانی سے پیدا کیا ۔ پس بعض تو ان میں وہ ہیں کہ اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں، اور بعض ان میں وہ ہیں کہ وہ پاؤں پر چلتے ہیں اور بعض ان میں سے وہ ہیں کہ چارپاؤں پر چلتے ہیں، اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے بیشک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔

ہرجاندار کی پیدائش پانی سے ہے۔ (ف 1) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چلنے والے جاندار کو پانی سے پیدا کیا ہے یعنی نطفہ سے ، جس سے پیدائش کا سلسلہ شروع ہوا ہے اس سلسلہ سے پہلے ہی ہر چیز کی پیدائش میں پانی کا دخل ضرور ہے جیسے مثلا آدم (علیہ السلام) کی پیدائش نطفہ کی پیدائش سے مقدم ہے لیکن ان کے پتلے کا گارا پانی اور مٹی سے بنایا گیا ہے پس ان میں سے بعض تو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں جیسے سانپ اور مچھلی اور بعض دوپاؤں پرچلتے ہیں جیسے انسان اور پرند بعض چارپاؤں پر چلتے ہیں جیسے چوپائے۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے مثلا مکڑی کو اس نے چارپاؤں سے زیادہ کا جانور پیدا کیا آخر کو فرمایا اللہ سب کچھ کرسکتا ہے کسی طرح کی مخلوق کا پیدا کرنا اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے۔
Ayah 24:46

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 24:46 in the Quran reader

بیشک1 ہم نے صاف بیان کرنے والی آیتیں اتاری ہیں اور اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھے راستہ کی طرف ہدایت کرتا ہے ۔

(ف 1) نیک وبد کی پہچان : اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ ان کی آیتوں میں ہر طرح کی کھلی نصیحت ہے لیکن ان سے ہر شخص ہدایت نہیں پاسکتا، اور زبردستی کسی کو راہ راست پر لانا اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں ہے کیونکہ اس نے اپنے علم غیب کے ظہور کے طور پر نیک وبد کے امتحان کے لیے دنیا کو پیدا کیا ہے مجبور کرکے کسی کو راہ راست پر لانا انتظام الٰہی کے خلاف ہے۔
Ayah 24:47

وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:47 in the Quran reader

اور یہ2 (منافق) لوگ (زبان سے) تو کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور رسول پر ایمان لائے اور ہم نے حکم مانا پھر اس کے بعد ان میں سے ایک فریق پھرجاتا ہے اور وہ لوگ ایمان والے نہیں ہیں۔

(ف 2) منافقوں کا ذکر : اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کھلے کھلے منکر شریعت لوگوں کے علاوہ بعضے دھوکے باز لوگ ایسے بھی ہیں جو زبان سے اللہ اور رسول کی فرمانبرداری کا اقرار کرتے ہیں لیکن ان کے دل میں دغابازی بسی ہوئی ہے اس لیے یہ انکازبانی اقرار جھوٹا ہے اور اس اوپری دل کی فرمانبرداری کے اقرار سے یہ لوگ مسلمان نہیں ٹھہر سکتے ہیں۔
Ayahs 24:48–52

وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 24:48 in the Quran reader

اور3 جب کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں کہ رسول ان میں فیصلہ فرمرائے تو جبھی ان کا ایک فریق منہ پھیر جاتا ہے ۔

وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ Open ayah 24:49 in the Quran reader

اور اگر ان کا حق (کسی کی طرف واجب) ہو تو رسول کے پاس گردن جھکائے چلے آتے ہیں۔

اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 24:50 in the Quran reader

کیا ان کے دلوں میں (کفر و نفاق کی) بیماری ہے یا یہ (نبوت کی طرف سے) شک میں پڑے ہیں یا ان کو یہ اندیشہ ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان پر ظلم کریں گے (وہ تو ایسا نہیں کریں گے) بلکہ وہ خود ہی ظالم ہیں

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:51 in the Quran reader

مسلمانوں کی بات تو یہی ہے کہ جب وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں کہ رسول ان میں فیصلہ فرمائے تو یہی عرض کریں کہ ہم نے سنا اور حکم مانا اور یہی لوگ مراد کو پہنچے ۔

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 24:52 in the Quran reader

اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے اور ڈرے اللہ (کے عذاب) سے اور پرہیزگاری کرے، پس ایسے لوگ کامیاب ہیں۔

(ف 3) شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ بشرنامی ایک منافق تھا ایک زمین کے معاملہ میں اس کا ایک یہودی سے جھگڑا تھا یہودی جانتا تھا کہ اس معاملہ میں وہ سچا ہے اور اس کو یقین تھا کہ سید عالم حق وعدل کا فیصلہ فرماتے ہیں اس لیے اس نے خواہش کی یہ مقدمہ نبی ﷺ سے فیصل کر ایاجائے لیکن منافق بھی جانتا تھا کہ وہ باطل پر ہے اور نبی ﷺ عدل و انصاف میں کسی کی رعایت نہیں فرماتے، اس لیے وہ نبی ﷺ کے فیصلہ پر تو راضی نہ ہوا اور کعب بن اشرف یہودی سے فیصلہ کرانے پر مصر ہوا اور نبی ﷺ کی نسبت کہنے لگا کہ وہ ہم پر ظلم کریں گے ، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
Ayahs 24:53–54

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّ١ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا١ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:53 in the Quran reader

اور1 انہوں نے اللہ کی قسم کھائی اپنے حلف میں حد کی کوشش سے کہ اگر تم انہیں حکم دو گے تو وہ ضرور جہاد کریں گے، تم فرما دو ، قسمیں نہ کھاؤ شرع کے موافق حکم برداری چاہیے۔ بیشک اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:54 in the Quran reader

(اے محبوب) تم فرماؤ کہ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو، پھر اگر تم لوگ منہ پھیرو گے تو (سمجھ رکھو) کہ رسول کے ذمہ تو وہی ہے جو اس پر لازم کیا گیا اور تمہارے ذمہ وہ ہے جس کا بوجھ تم پر رکھا گیا ہے اور اگر رسول کی فرمانبرداری کرو گے تو راہ پاؤ گے اور رسول کے ذمہ تو صرف صاف طور پر (پیغام) پہنچا دینا ہے

(ف 1) حاصل مطلب آیتوں کا یہ ہے کہ جو منافق لوگ اللہ کے رسول کے فیصلہ سے گھبراتے تھے وہ پھر مسلمانوں میں اپنا اعتبار جمانے کے لیے سخت سخت اللہ کی قسمیں کھاکرکہتے تھے کہ ہم کو لڑائی پر جان اور جان دینے کا حکم ہو تو بھی ہم حاضر ہیں اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، اے محبوب تم ان لوگوں سے کہہ دو قسمیں نہ کھاؤ، تمہاری حکم برداری اور تمہارے عملوں کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے پھر فرمایا اے محبوب ان لوگوں سے کہہ دو کہ کہ سچے دل سے اللہ کے رسول کی حکم برداری کریں کیونکہ اللہ تعایل کے رسول کا کام اللہ کے پیغام کو پہنچادیتا ہے اور امت کے لوگوں کا کام اس کے موافق عمل کرنا ہے جب اللہ کے رسول اپنا کام کررہے ہیں تو امت کے لوگ اگر ان کی پیروی کریں گے توعقبی کی بہبودی کا راستہ پاویں گے اور اگر نافرمانی کریں گے توعقبی میں اس کا خمیازہ بھگتیں گے۔
Ayah 24:55

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 24:55 in the Quran reader

اللہ1 نے وعدہ دیا ہے ان کو جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے، بیشک ان کو زمین میں خلافت دے گا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو خلافت عطا فرمائی تھی ، اور جس دین کو (اللہ نے) ان کے لیے پسند فرمایا (یعنی اسلام) ضرور ان کے (نفع آخرت کے ) لیے جما دے گا اور ضرور ان کے اگلے خوف کو امن سے بدل دے گا، (بشرطیکہ) میری عبادت کریں میرا شریک کسی کو نہ ٹھہرائیں، اور کوئی اس کے بعد ناشکری کرے تو وہی لوگ فاسق ہیں۔

مسلمانوں کے صبر پر اللہ تعالیٰ کا وعدہ اور اس کا ظہور۔ (ف 1) شان نزول۔ نبی ﷺ نے وحی نازل ہونے سے دس سال تک مکہ مکرمہ میں مع اصحاب کے قیام فرمایا، اور کفار مکہ کی ایذاؤں پر جو رات دن ہوتی رہتی تھیں صبر کیا، پھر بحکم الٰہی مدینہ طیبہ کو ہجرت فرمائی اور انصار کی منازل کو اپنی سکونت سے سرفراز کیا مگر کفار مکہ اس پر بھی بازنہ آئے۔ روزہ مرہ ان کی طرف سے جنگ کے اعلان ہوتے اور طرح طرح کی دھمکیاں دی جاتیں، اصحاب رسول ہر وقت خطرہ میں رہتے تھے ایک روز ایک صحابی نے فرمایا کبھی ایسا بھی زمانہ آئے گا کہ ہمیں امن میسر ہوگا اور ہتھیاروں کے بار سے ہم سبکدوش ہوجائیں گے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ فائدہ : اس آیت میں حضرت ابوبکر اور آپ کے بعد ہونے والے خلفاء راشدین کی خلافت کی دلیل ہے کیونکہ ان کے زمانہ میں فتوحات عظیمہ ہوئیں اور کسری وغیرہ ملوک کے خزائن مسلمانوں کے قبضہ میں آئے اور امن وتمکین اور دین کا غلبہ حاصل ہوا ۔ ترمذی اور ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : خلافت میرے بعد تیس سال ہے پھر ملک ہوگا اس کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق عنہ کی خلافت دو سال تین ماہ، حضرت عمر کی دس سال چھ ماہ، اور حضرت عثمان کی بارہ سال اور حضرت علی ؓ اجمعین کی چار سال نو ماہ اور حضڑت امام حسن کی خلافت چھ ماہ ہوئی۔ آگے فرمایا کہ اس شکر گزاری کی حالت کے بعد جو لوگ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی ناشکری کریں گے وہ نافرمان ہوکرطرح طرح کی خرابی میں پڑجاویں گے۔
Ayahs 24:56–57

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 24:56 in the Quran reader

اور1 (اے مسلمانو) نماز قائم رکھو اور زکوۃ دو اور رسول کی فرمانبرداری کرو اس امید پر کہ تم پر حم کیا جاوے۔

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 24:57 in the Quran reader

یہ خیال بھی نہ کرنا کہ کافر زمین میں ہیں ہمارے قابو سے نکل جائیں (دنیا میں ذلیل ہوں گے) اور (آخرت میں) ان کا ٹھکانا آگ ہے اور بیشک کیا ہی برا انجام ہے

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ان مسلمانوں کو جن کے لیے خلافت اور امامات اور زمین پر حکومت و شوکت کا وعدہ کیا ہے یہ حکم کہ زمین پر خلیفہ بن کر بنی اسرائیل کی طرح نہ ہوجانا، نماز پنج وقت ادا کرنا، اور زکوۃ اموال دینا، اور حکم رسول کی اطاعت کرنا، تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اس خوش خبری کے ظہور کا وقت جلدی دکھادے۔ مسلمانوں کو اوپر کی خوش خبری کے سننے کے بعد یہ خیال گزرا کہ اب تک تو دشمنوں کا غلبہ چلاجاتا ہے پھر ایک دفعہ ہی یہ سب دشمن کیونکر مغلوب ہوجائیں گے اور مسلمانوں کو حکومت کس طرح مل جائے گی اس واسطے اپنے رسول کو مخاطب ٹھہرا کر ایمان دار لوگوں کو سمجھایا کہ یہ خیال بھی نہ کرنا کہ کافر ملک میں اپنی تدابیر سے عاجز کردیں گے کیا یہ خدا کے قبضہ میں نہیں رہے اور وہ دنیا میں روسیاہ اور ذلیل ہوں گے اور آخرت میں بھی، ایسے دشمن دین لوگوں کا براٹھکانہ دوزخ ہے۔
Ayah 24:58

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِیْنَ مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ١ؕ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ حِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِیْرَةِ وَ مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ١ؕ۫ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ وَ لَا عَلَیْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ١ؕ طَوّٰفُوْنَ عَلَیْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:58 in the Quran reader

اے مسلمانو !1 ان لوگوں جو تمہارے ہاتھ کے مال ہیں (یعنی غلام و کنیز) اور تمہارے ان لڑکوں جو حد بلوغ تک نہیں پہنچے ان کو تین وقتوں میں (تمہارے پاس آنے کے لیے) اجازت لینا چاہیے (ایک تو ) صبح کی نماز سے پہلے اور (دوسرے) دوپہر کے وقت جبکہ (سونے کے لیے) تم اپنے (بعض) کپڑے اتار دیا کرتے ہو اور (تیسرے ) عشا کی نماز کے بعد ، یہ تین وقت تمہارے پردے کے ہیں (اور) ان اوقات کے سوا نہ تم پر کچھ گناہ ہے اور نہ ان پر (کچھ گناہ ہے کیونکہ) وہ تمہارے ہاں ایک دوسرے کے پاس آنے جانے والے ہیں، اللہ اپنے احکام اسی طرح سے کھول کر بیان کرتا ہے اور خدا جاننے والا حکمت والا ہے ۔

گھروں میں آنے اور نہ آنے کی اجازت کا ذکر۔ (ف 1) شان نزول۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ نبی کریم نے ایک انصاری غلام مدلج بن عمر کو دوپہر کے وقت حضرت عمرؓ کو بلانے کے لیے بھیجا وہ غلام بغیر اجازت حضرت عمر کے مکان میں چلا گیا، جبکہ عمر ؓ بےتکلف اپنے دولت سرائے میں تشریف رکھتے تھے غلام کے اچانک چلے آنے سے آپ کے دل میں خیال ہوا کہ کاش غلاموں کو اجازت لے کر مکانوں میں داخل ہونے کا حکم ہوتا، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
Ayahs 24:59–60

وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:59 in the Quran reader

اور جس وقت تم کے وہ لڑکے (جن کا اوپر حکم آیا ہے) حد بلوغ کو پہنچ جاویں تو ان کو بھی اجازت لے کر آنا چاہیے جیسا کہ ان سے پہلے (بڑی عمر کے) لوگ اجازت لے کر آتے ہیں۔ اللہ اسی طرح سے صاف صاف تمہارے لیے اپنے احکام بیان فرماتا ہے ۔ اور1 اللہ جاننے والا حکمت والا ہے ۔

وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:60 in the Quran reader

اور وہ بوڑھی خانہ نشین عورتیں جنہیں نکاح کی آرزو نہیں ان پر کچھ گناہ نہیں کہ وہ اپنے بالائی کپڑے اتار دیا کریں (یعنی برقعہ) بشرطیکہ زینت (کی جگہ) نہ کھول دیا کریں، اور اگر اس سے بھی احتیاط رکھیں تو ان کے لیے بہتر ہے اور خدا سننے والا جاننے والا ہے ۔

پردہ کا ذکر۔ عورتوں کو باریک کپڑا پہننے کی ممانعت۔ 1) شان نزول : صحیح بخاری میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ پردہ کی آیت کے نازل ہونے کے بعد حضرت سودہ ایک رات چادر اوڑھ کر نکلیں۔ اس پر حضرت عمر ؓ نے نبی کو یہ مشورہ دیا کہ پردہ کے حکم کے ساتھ یہ حکم بھی دیاجائے کہ چادراوڑھ کر بھی عورتیں گھر سے باہر نہ نکلاکریں اللہ تعالیٰ نے سورة الاحزاب کی آیتیں نازل فرما کر اس پر یہ حکم دیا کہ عورتوں کے لیے پردہ کا جوحکم نازل ہوا ہے وہ کافی ہے۔ جماعت کی نماز یا کسی اور ضرورت سے دوپٹہ کے اوپر چادر یابرقعہ اوڑھ کر اور اس میں منہ چھپا کر عورتوں کے باہر نکلنے میں کوئی حرج نہیں ہے ، یہ حکم جوان بوڑھی سب عورتوں کے لیے تھا، اس آیت میں فرمایا وہ بوڑھی عورتیں جن کو نکاح کی خواہش نہیں ہے یعنی حیض منقطع ہوچکا ہے ان پر جوان عورتوں کی سی پردہ کی تاکید نہیں ہے اگر وہ کسی موقع پر دوپٹہ کے اوپر کی چادر یعنی برقعہ اتارڈالیں تو گناہ نہیں ، لیکن ان میں سے کوئی عورت غیر مرد کو اپنا کچھ بناؤ دکھانے کے لیے دوپٹہ کے اوپر کی چادر یعنی برقعہ نہ اتارے ؛ پھر فرمایا یہ بوڑھی عورتیں بھی اگر دوپٹہ کے اوپر برقعہ کے اوڑھنے کی عادت کو جاری رکھیں تو ان کے حق میں بہتر ہے کیونکہ اس میں احتیاط زیادہ ہے آگے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی زبانی باتوں کو خوب سنتا اور ان کے دلوں کے بھیدوں کو خوب جانتا ہے اس لیے ان میں کسی کی کوئی عورت اگر اپنے آپ کو زبانی بوڑھی بتلادے گی اور اس کے دل میں کچھ اور بھید ہوگا تو اس کا سب کچھ حال اللہ کو معلوم ہے مسند امام احمد اور صحیح مسلم میں ابوہریرہ سے روایت ہے کہ جس میں اللہ کے رسول نے ایسی عورتوں کو دوزخی فرمایا ہے جو ایسا باریک کپڑا پہنتی ہیں جس سے ان کا بدن کا کچھ حصہ ڈھکتا ہے اور کچھ کھلا رہتا ہے۔
Ayah 24:61

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا١ؕ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةً١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 24:61 in the Quran reader

نہ1 تو اندھے پر کوئی گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی گناہ ہے اور نہ بیمار پر کوئی گناہ ہے ، اور نہ خود تم پر کوئی گناہ ہے اس بات میں کہ تم اپنے گھروں سے (جن میں بی بی اور اولاد کے گھر بھی آگئے ) کھانا کھاؤ یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے، یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے، یا اپنے ماموں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے، یا ان گھروں سے کہ جن کی کنجیاں تمہارے قبضۃ میں ہیں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے ، تم1 پر کچھ گناہ نہیں کہ سب مل کر کھاؤ یا الگ الگ (کھا) پھر (یہ بھی معلوم رکھو کہ) جب تم کسی گھر میں جاؤ تو اپنے لوگوں کو سلام کرلیا کرو جو مبارک اور عمدہ دعا ہے اللہ کی طرف سے ، اسی طرح سے اللہ کھول کھول کر تمہارے لیے احکام بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو (اور عمل کرو)

آپس میں کھانا کھانے کی اجازت۔ (ف 1) شان نزول : جب سورة بقرہ میں یہ حکم نازل ہوا کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا مال بلاوجہ نہ کھاوے۔ تو مسلمان طرح طرح کی احتیاط ضرورت شرعیہ سے زیادہ کرتے تھے جب مثلا تندرست مسلمان لڑائی پر جاتے تواندھے لنگڑے اپاہج مسلمان لوگوں کو حفاظت کے لیے اپنے گھر پر مقرر کردیتے تھے یہ اپاہج لوگ ان کے کھانے پینے کی چیز کو بھی ہاتھ نہیں لگاتے اور کام میں بھی نہیں لگاتے تھے اس طرح تندرست لوگ اندھے اور بیمار لگوں کے ساتھ کھاناکھانے کو اس خیال سے ناجائز جانتے تھے کہ بیماری بوجہ بیماری کے کم کھاتا ہے اور ساتھ والا اس کا کھانا زیادہ کھاکر گناہ میں نہ پھنسے۔ اندھے کا خیال کرتے تھے کہ وہ اپنے مال کی پوری حفاظت نہیں کرسکتا اور ایک رشتہ دار دوسرے رشتہ دار یا دوست کے گھر میں کھانے پینے کو اچھا نہیں جانتا تھا غرض اسی طرح احتیاط کی اور باتیں بھی لوگوں نے نکال رکھی تھیں جو حرج اور تکلف سے خالی نہ تھیں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ بغیر تصرف بیجا کے طور پر ایک مسلمان کا مال کھانا سورة بقرہ کے حکم سے منع کیا گیا ہے ۔ آپس کے سلوک کے طور پر اور آپس کی محبت کے طور پر ایک رشتہ دار کے گھر میں، یا ایک دوست دوسرے دوست کے گھر میں، یا جس کے اختیار میں گھر کی کنجیاں ہوں جس سے مراد آدمی کا وکیل اور اس کا کارپرداز ہے، کھانا کھالیوے تو منع نہیں ہے رشتہ داروں کے ذکر میں باپ کا بیٹے کے گھر کھانے کا ذکر اس آیت میں نہیں ہے۔ مسئلہ : امام مالک اور سنن کی حضرت عائشہ کی معتبر روایتوں میں یہ صراحت آچکی ہے کہ خود بیٹا اور بیٹے کا سب مال ومتاع باپ کا مال ہے ، اس صراحت کے بعد اس آیت کے حکم میں داخل ہے۔ السلام علیک کا حکم۔ (ف 1) شان نزول : قبیلہ بن لیث بن عمرو کے لوگ تنہا بغیر مہمان کے کھانا نہ کھاتے تھے کبھی کبھی مہمان نہ ملتا تو صبح وشام تک کھانا لیے بیٹھے رہتے، ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا اس کی بھی کچھ مناہی نہیں ہے کہ لوگ اکٹھے مل کر ایک دسترخوان پرکھانا کھاویں یا اکیلے پھر فرمایا کہ جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے گھر میں جاوے تو السلام علیک کیا کرے کیونکہ السلام علیک مسلمانوں میں آپس کی بڑی دعائے خیر ہے۔ مسئلہ۔ جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہو تو اپنے اہل کو السلام علیک کرے اور ان لوگوں کو جو مکان میں ہوں بشرطیکہ ان کے دین میں خلل نہ ہو (خازن۔ مسئلہ۔ جب مسجد میں کوئی نہ ہو تو کہے : السلام علی رسول اللہ (شفاشریف) ملاعلی قاری (رح) نے شرح شفاشریف میں لکھا کہ خالی مکان میں سید عالم پر سلام عرض کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اہل اسلام کے گھروں میں روح اقدس جلوہ فرماہوتی ہے، پھر فرمایا اللہ تعالیٰ دین کے احکام یوں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم لوگ دین کی باتوں کو اچھی طرح سمجھو اور عمل کرو۔
Ayah 24:62

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:62 in the Quran reader

پس مسلمان تو1 وہی لوگ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں اور جب رسول کے پاس کسی ایسے کام میں حاضر ہوں کہ جس کے لیے جمع کیے گئے ہوں تو نہ جائیں جب تک رسول سے اجازت نہ لے لیں (اے محبوب) جو لوگ تم سے اجازت مانگتے ہیں وہی دراصل اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں تو جب وہ تم سے اجازت مانگیں اپنے کسی کام کے لیے تو ان میں جسے تم چاہو اجازت دے دو اور ان کے لیے اللہ سے معافی مانگو، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

(ف 1) مسلمانوں کا ذکر : اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ پکے مسلمانوں کی عادت منافقوں کی سی نہیں ہے بلکہ پکے مسلمان کسی جتھے کے کام کی ضرورت کے وقت جب اللہ کے رسول کی محفل میں جمع ہوتے ہیں تو اللہ کے رسول کی اجازت کے بغیر ہرگز اپنے گھر کو نہیں جاتے ، پھر یہ فرمایا یہ ان لوگوں کی ایمانداری کی نشانی ہے کہ یہ لوگ اللہ کے رسول کی اجازت کو اپنی ضرورتوں سے مقدم خیال کرتے ہیں پھر فرمایا کہ یہ لوگ سچے عذر کے سبب سے اجازت مانگتے ہیں اس واسطے جب یہ لوگ اجازت مانگیں تو اے محبوب تم ان میں سے جن کو چاہو اجازت دے کر ان کی غیر حاضری کی معافی کے لیے اللہ کی جناب میں دعا کرو، اللہ بخشنے والا، مہربان اپنی مہربانی سے تمہاری دعا قبول کرے گا۔ آنحضرت ﷺ کا نام ادب سے لینے کا حکم۔
Ayahs 24:63–64

لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا١ؕ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا١ۚ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 24:63 in the Quran reader

رسول2 کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہراؤ جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے ۔ بیشک1 اللہ ان لوگوں کو (خوب) جانتا ہے جو (دوسرے کی) آر لے کر تم میں سے (مجلس نبوی سے) چپکے2 سے نکل جاتے ہیں پس جو لوگ رسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں ان کو اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ ان پر (دنیا می) کوئی آفت آجائے یا ان پر (آخرت میں) دردناک عذاب پڑے۔

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ١ؕ وَ یَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 24:64 in the Quran reader

یاد رکھو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے ، بیشک اللہ جانتا ہے کہ جس حال پر تم ہو اور اس دن کو جس میں سب لوگ اس کی طرف (دوبارہ زندہ کر کے) لوٹائے جاویں گے تو وہ ان کو بتا دے گا کہ جو کچھ انہوں نے کیا تھا اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے ۔

(ف 2) شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ بعض آدمی نبی ﷺ کو ان کے نام لے کربلایا کرتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ جس طرح تم لوگ باہم ایک دوسرے کو بلایا کرتے ہو اس طرح اللہ کے رسول کو نہ بلاؤ، بلکہ ان کے نام کی تعظیم و تکریم کیا کرو نرم آواز کے ساتھ متواضعانہ ومنکسرانہ لہجہ میں۔ یا نبی اللہ، یارسول اللہ، یا حبیب اللہ کہہ کر۔ ان رسول کی اللہ پاک کے ہاں وہ عزت ہے کہ اللہ پاک نے کبھی نام لے کر پکاراہی نہیں مگر جہاں غایت شفقت اور محبت کے ساتھ خطاب کیا جب ہم اپنے رسول کو نام لے کر بسبب ان کے کمال عزت کے نہیں پکارتے تو ہم غیروں سے کب گواراکریں کہ ان کا نام لے لے کر پکارا کریں جیسے آپس میں پکارتے ہیں۔ خطبے کا حکم۔ (ف 1) شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ منافقین ہر روز جمعہ مسجد میں ٹھہر کر نبی ﷺ کے خطبے کا سننا گراں ہوتا تھا تو وہ چپکے چپکے آہستہ آہستہ صحابہ کی آڑ لے کر سرکتے سرکتے مسجد سے نکل جاتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ منافقوں کا ذکر۔ (ف 2) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کے رسول کی بغیر اجازت لشکر اسلام یا جماعت جمعہ وعید کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں ان کو دنیا کی کسی آفت یا عقبی کے عذاب سے ڈڑتے رہنا چاہیے۔ پھر فرمایا کہ جو کچھ آسمان و زمین میں ہے وہ سب اللہ کا پیدا کیا ہے اس لیے آسمان و زمین کی کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہے ان منافقوں کی کیا ہستی ہے جو یہ اللہ سے اپنی دغابازیوں کو چھپاسکیں گے اگرچہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے روبرو بھی دغابازی سے اپنی بداعمالی کا انکار کریں گے ، لیکن اللہ تعالیٰ ان کے منہ پر خاموشی کی مہر لگا کر ان کے ہاتھ اور پیروں سے گواہی دلواکر ان کو دوزخی ٹھہراوے گا۔