25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 25:1–2

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ Open ayah 25:1 in the Quran reader

وہ1 بڑی برکت والا ہے جس نے اپنے بندہ (خاص محمد) پر قرآن نازل فرمایا جو تمام جہان کو ڈر سنانے والا ہے ۔

اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا Open ayah 25:2 in the Quran reader

وہ جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے اور نہ اس نے (کسی) کو فرزند پکڑا اور نہ کوئی اس کی سلطنت میں اس کا شریک ہے اور اس نے ہر چیز کو پیدا کر کے اس کے ٹھیک اندازہ پر رکھی۔

توحید کا ذکر۔ (ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اس کی آسمان و زمین میں بڑی برکت ہے جس نے حق اور ناحق میں فرق بتادینے والا قرآن اپنے خاص بندے رسول پر تھوڑا تھوڑا کرکے حسب ضرورت نازل فرمایا کہ اللہ کے رسول لوگوں کو اس بات سے ڈراویں کہ جو کوئی اللہ کے حکم کو نہ مانے گا وہ عذاب الٰہی میں گرفتار ہوگا، پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمام عالم کو اپنی حکم کے اندازہ کے موافق اس طرح پیدا کیا کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے تو جو لوگ اللہ کو صاحب اولاد، یا اس کی حکومت میں دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں وہ بڑی غلطی پر ہیں کیونکہ جن کو یہ مشرک اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں انہوں نے اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے کسی چیز کو پیدا نہیں کیا، بلکہ وہ خود اللہ کی مخلوقات میں داخل ہیں اس واسطے اللہ تعالیٰ کے کسی کارخانہ میں ان کو کچھ دخل نہیں ہے ہر ایک کا نقصان نفع، ہر ایک کی موت زندگی، مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنا یہ سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے۔
Ayahs 25:3–6

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا Open ayah 25:3 in the Quran reader

اور (مشرک) لوگوں نے اس کے سوا اور خدا مقرر کرلیے ہیں کہ وہ کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور وہ خود پیدا کیے گئے ہیں اور خود اپنی جانوں کے برے بھلے کے مالک نہیں، اور نہ مرنا ان کے اختیار میں ہے اور نہ جینا اور (مرکر) نہ اٹھ کھڑے ہونا۔1

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ Open ayah 25:4 in the Quran reader

اور کافر لوگ (قرآن کے بارے میں) یوں کہتے ہیں کہ یہ تو کچھ بھی نہیں مگر ایک بہتان کہ جس کو (رسول نے) خود گھڑ لیا ہے اور دوسرے لوگوں نے (اس گھڑت میں) اس کی مدد کی ہے بیشک وہ لوگ ظلم اور جھوٹ پر (اتر) آئے۔

وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 25:5 in the Quran reader

اور انہوں نے کہا یہ (قرآن) اگلوں کی کہانیاں ہیں جو انہوں نے (یعنی رسول نے) لکھ لی ہیں تو وہ ان پر صبح و شام پڑھی جاتی ہیں۔

قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:6 in the Quran reader

(اے محبوب) تم فرماؤ کہ اس (قرآن) کو تو اس نے نازل کیا ہے کہ جو آسمانوں اور زمین کی ہر چھپی باتیں جانتا ہے ، بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

قرآن شریف کی تصدیق۔ (ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ یہ کافر لوگ نبوت سے پہلے چالیس سال تک جب یہ آزماچکے کہ رسول اللہ کی عادت ہرگز جھوٹ بولنے کی نہیں ہے تو اب نبوت کے بعد ان لوگوں کا اللہ کے رسول کو جھٹلانا، اور یہ کہنا بڑی ناانصافی اور بالکل جھوت ہے کہ مکہ میں چند یہودی رہتے ہیں وہ صبح وشام پچھلی قوموں کے کچھ قصے رسول اللہ کو لکھ دیتے ہیں رسول اللہ زبردستی ان باتوں کو اللہ کا کلام بتاتے ہیں آگے فرمایا، اے محبوب تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ قرآن میں جو آسمان و زمین کی غیب کی خبریں ہیں ان سے تم لوگ سمجھو تو یہ بات تمہاری سمجھ میں اچھی طرح آسکتی ہے کہ یہ قرآن اس اللہ کا کلام ہے جس کو آسمان و زمین کی سب بھید کی باتیں معلوم ہیں اور باوجود اللہ کے کلام کو جھٹلانے کے تم لوگوں پر جلدی سے کوئی آفت جو نہیں آتی اس کا سبب یہی ہے کہ ہمیشہ سے ایک عادت الٰہی ہے کہ نافرمان لوگوں کو پہلے اللہ تعالیٰ اپنی درگزر اور مہربانی سے مہلت دیتا ہے پھر اگر مہلت کے زمانہ میں وہ لوگ اپنی نافرمانی سے باز نہیں آتے تو اس کو کسی سخت عذاب میں پکڑ لیتا ہے۔
Ayahs 25:7–9

وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ Open ayah 25:7 in the Quran reader

اور1 منکر (یہ بھی) کہتے ہیں کہ : اس رسول کو کیا ہوا کہ کھانا کھاتا ہے ار بازاروں میں چلتا پھرتا ہے اس کے ساتھ کوئی فر شتہ کیوں نہ بھیج دیا گیا کہ اس کے ساتھ وہ بھی ڈر سنایا کرتا۔

اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 25:8 in the Quran reader

یا اس کو کوئی خزانہ غیب سے مل جاتا یا اس کے لیے کوئی باغ (غیبی) ہوتا کہ جس میں سے وہ کھایا کرتا۔ اور ظالموں نے کہا : تم تو پیروی نہیں کرتے مگر ایک ایسے مرد کی جس پر جادو ہوا۔

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:9 in the Quran reader

(اے محبوب) دیکھو یہ لوگ تمہارے لیے کیسی کہاوتیں گھڑتے ہیں پس وہ تو ایسے گمراہ ہوئے کہ جو راستہ بھی نہیں پاسکتے۔

مشرکین کا طعن۔ (ف 1) شان نزول : جس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے جب نبی ﷺ پر تنگدستی کی طعن کی اور کہا کہ یہ کیسے رسول ہیں کہ ذراذرا سی چیز بازار میں خریدتے پھرتے ہیں اگر اللہ کے سچے رسول ہوتے تو ضرور اللہ تعالیٰ ان کو خوشحال رکھتا۔ مشرکین کے اس طعن کے بارے میں اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمادیا کہ شیطان نے ان لوگوں کو بہکارکھا ہے اس واسطے یہ بہکی بہکی باتیں کرتے ہیں اور ورنہ یہ لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی بتلاتے ہیں۔ اور حضرت ابراہیم کو نبی جانتے ہیں پھر یہ نہیں ثابت کرسکتے کہ حضرت ابراہیم فرشتے تھے کچھ کھاتے پیتے نہیں تھے یا غیب سے ان کو خزانہ ملا تھا یا کوئی فرشتہ ان کے ساتھ رہتا تھا جوان کے نبی ہونے کی شہادت لوگوں سے ادا کرتا تھا یا انہوں نے بڑے بڑے محل اور باغ بنائے تھے علاوہ حضرت ابراہیم کے اور انبیاء کا حال اہل کتاب سے بھی انہوں نے سنا ہے کہ کس نبی میں یہ باتیں نہیں تھیں۔ پھر سب انبیاء سے انوکھی باتیں جو یہ لوگ نبی آخرالزمان میں چاہتے ہیں یہ خواہش ان کی ایک معجزے کے طور کی خواہش نہیں ہے بلکہ ایک شرارت اور اغوائے شیطانی کی خواہش ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے طعن کا جواب مختصر طور پر دیا ہے اور آیتوں میں اس کی زیادہ تفصیل ہے جس کا ذکر ہر ایک موقع پر آوے گا۔
Ayah 25:10

تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا Open ayah 25:10 in the Quran reader

وہ1 بڑی برکت والا ہے اگر چاہے تو (دنیا میں) تمہارے لیے اس سے بھی بہت بہتر باغات پیدا کردے کہ جن کے نیچے نہریں پڑی بہا کریں، اور تمہارے لیے اونچے اونچے محل بھی۔

(ف 1) دنیا وآخرت کی بھلائی کا ذکر : شان نزول : مشرکین مکہ نے نبی پر تنگ دستی کی طعن کی تو اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کے پاس پیغام بھیجا تھا کہ اے محبوب اگر تم دنیا کی تنگ دستی سے گھبراتے ہو تو تمام روئے زمین کے خزانوں کی کنجیاں اللہ تعالیٰ کے حکم سے تمہارا حوالہ ہوجاویں گے اور دنیا میں خوشحالی دینے کے بعد تمہاری عقبی کے مرتبہ میں اللہ تعالیٰ کی کچھ کمی نہ کرے گا، اور اگر تمہاری مرضی ہے تو اللہ دنیا وعقبی کی خوبی کا ذخیرہ تمہارے لیے عقبی میں ہی رکھے گا دنیا چند روزہ ہے نبی نے اس پیغام کے جواب میں فرمایا کہ مجھ کو عقبی میں ہر طرح کی خوبی کا ذخیرہ درکار ہے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ لوگوں کی خواہش دنیا کے عیش و آرام کی طرف مائل ہے اور ان کی خواہش کا پورا کرنا اللہ تعالیٰ چاہے تو اچھے لوگوں کے واسطے دنیا میں اللہ تعالیٰ سب کچھ کردیوے لیکن دنیا کی خو بھی اچھے لوگ چاہتے ہی نہیں بلکہ دنیا سے بچتے رہتے ہیں دنیا پر تو وہی لوگ مفتوں ہیں جو عقبی کے منکر ہیں اور ان کا مدارفقط دنیا کی زیست پر ہے اور عاقبت میں ان کے لیے دوزخ ہے۔
Ayahs 25:11–13

بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ Open ayah 25:11 in the Quran reader

بلکہ انہوں نے2 تو قیامت کو جھوٹ سمجھ لیا ہے اور جو قیامت کو جھٹلائے ہم نے اس کے لیے دوزخ تیار کر رکھی ہے ۔

اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا Open ayah 25:12 in the Quran reader

جب وہ (دوزخ) ان (منکروں) کو دور سے دیکھے گی تو (وہ لوگ دور ہی سے) اس کا جوش مارنا اور چنگھاڑنا سنیں گے۔

وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ Open ayah 25:13 in the Quran reader

اور جب وہ اس (دوزخ کے) کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پاؤں زنجیروں سے جکڑ کر ڈال دیئے جاویں گے تو وہاں موت مانگیں گے۔

(ف 2) مشرکین کے عذاب کا ذکر : ان آیتوں میں فرمایا کہ مشرکین مکہ اللہ کے رسول کی تنگ دستی پر طعن جو کرتے تھے اوپر اس کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا ان لوگوں کی یہ طعن کی باتیں معجزے کے خواہش کے طور پر نہیں ہیں بلکہ مرنے کے بعد دوبارہ پھر زندہ ہونے اور حساب وکتاب کے لیے اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے کے یہ لوگ منکر ہیں اس لیے عقبی کی بہترین کو یہ لوگ طعن اور مسخراپن کی باتوں میں اڑادیتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے بھی ایسے لوگوں کے لیے دوزخ کی آگ کو خوب دہکا کرتیارکررکھا ہے اور اس دوزخ کی آگ میں اللہ تعالیٰ نے ایک طرح کی بینائی کی قوت پیدا کی ہے جس سے وہ مشرکوں ظالموں کو دیکھ کر قیامت کے دن پہچان لیوے گی۔ یہ دوزخ کا جوش مارنا اور چنگھاڑنا اس وقت ہوگا جس وقت ایسے لوگوں کے گلے میں طوق ڈالاجائے گا اور سترگز کی ایک زنجیر میں ان کی جماعت کو جکڑ کر دوزخ میں ڈالاجائے گا پھر فرمایا دوزخ کے عذاب سے ایسے لوگ بہت کچھ چلاویں گے اور پچھتاویں گے مگر بےوقت کا چلانا اور پچھتانا ان کے کام نہ آوے گا۔
Ayah 25:14

لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا Open ayah 25:14 in the Quran reader

(کہا جاوے گا) آج ایک1 موت نہ مانگو اور بہت سی موتیں مانگو۔

(ف 1) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن اہل دوزخ پر طرح طرح کی سختیاں گزریں گی ان سختیوں پر افسوس کریں گے اور کہیں گے کہ ہائے افسوس ہم ہلاک ہوگئے ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ایک ہلاکت کو کیا کہتے ہو، ابھی تو تمہیں طرح طرح کی ہلاکت بھگتنی اور طرح طرح کے عذاب دوزخ کی مصیبت جھیلنی پڑے گی۔
Ayahs 25:15–16

قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا Open ayah 25:15 in the Quran reader

(اے محبوب ان کو یہ مصیبت سنا کر)2 تم فرماؤ کیا یہ (عذاب) بہتر ہے یا وہ ہمیشہ رہنے کی جنت (اچھی ہے) کہ جس کا پرہیزگاروں کے لیے وعدہ کیا گیا ہے کہ وہ ان کے لیے (ان کی اطاعت کا) صلہ اور (آخری) ٹھکانا ہے۔

لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا Open ayah 25:16 in the Quran reader

ان کو وہاں وہ سب چیزیں ملیں گی جو کچھ وہ چاہیں گے وہ (اس میں) ہمیشہ رہیں گے، یہ ایک وعدہ ہے جو تمہارے پروردگار کے ذمہ ہے مانگا ہوا۔

اللہ تعالیٰ کے وعدہ اور دعا کا ذکر۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا اے محبوب ﷺ تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ ان کے انکار سے اللہ تعالیٰ کا انتظام تو پلٹنے والا نہیں اب لوگوں کو یہ بتلانا چاہیے کہ انتظام الٰہی کے موافق وقت مقررہ پر جب قیامت قائم ہوگی اور اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے موافق ان کو دوزخ کی آگ میں جھونک دیاجائے گا جو ایسے لوگوں کے لیے اس طرح آگ دھکائی گئی ہے کہ اس کی تیزی دنیا کی آگ سے انہتر حصہ زیادہ ہے تو یہ دوزخ کی آگ بہتر ہے یاپرہیزگاروں سیجس جنت کا اللہ نے وعدہ کیا ہے وہ بہتر ہے پھر فرمایا یہ جنت وہ ہے جس کی نعمتوں کو کبھی فنا نہیں اور نہ کسی نعمت کی بھی کمی پڑے گی ، جس چیز کو جی چاہے وہ ہر وقت موجود ہے پھر فرمایا یہ جنت وہ ہے جس کا وعدہ اللہ نے اپنے رسول کی معرفت پرہیزگارلوگوں سے کیا ہے جس وعدہ کے پورا ہونے کی دعا پرہیزگار لوگ مانگتے رہتے ہیں یعنی ربنا اتنا فی ال دنیا حسنہ وفی الاخرۃ حسنہ یا عرض کرتے ہیں ، ربنا وآتنا وماعدتنا علی رسلک۔
Ayahs 25:17–19

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 25:17 in the Quran reader

اور1 جس دن اللہ ان (کافر) لوگوں کو اور ان کو جن کو وہ خدا کے سوا پوجتے ہیں (یعنی بت) جمع کرے گا تو ان (معبودوں) سے فرمائے گا : کیا تم نے میرے بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ (خود ہی) راہ بھول گئے تھے۔

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 25:18 in the Quran reader

وہ عرض کریں گے پاکی ہے تجھ کو ہمیں سزا وار نہ تھا کہ تیرے سوا کسی اور کو مولی بنائیں لیکن تو نے ان کو اور ان کے باپ دادوں کو (دنیا میں) یہاں تک کہ آسودگی دی کہ وہ تیری یاد بھول گئے اور یہ لوگ تھے ہی ہلاک ہونے والے۔

فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا Open ayah 25:19 in the Quran reader

تو بیشک ہم کہیں گے (اے کافرو) تمہارے ان معبودوں نے تم کو جھٹلا دیا جو کچھ تم کہتے تھے، پس اب تم پر سزا ثابت ہوچکی، تم نہ عذاب کو ٹال سکو اور نہ اپنی مدد کرسکو، اور جس نے تم میں سے ظلم کیا ہوگا اس کو ہم بڑا عذاب چکھاویں گے۔

قیامت میں بت پرستوں کی کیفیت۔ (ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ ان منکر قیامت بت پرستوں اور ان جھوٹے معبودوں سب کو جمع کرے گا اور ان جھوٹے معبودوں سے پوچھے گا کہ کیا تم نے اپنی مورتوں کی پوجا کے لیے ان بت پرستوں سے کہا تھا یا یہ بت پرست خود ہی بت پرستی میں لگ گئے ان سب مورتوں کی اصل صورتیں ان مشرکوں کے شرک سے اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرکے یہ کہیں گے کہ یا اللہ تجھ کو خوب معلوم ہے کہ ہم تو خالص دل سے تجھ کو سچا معبود جانتے ہیں پھر ہم سے یہ کیونکرہوسکتا ہے کہ ہم ان مشرکوں سے اپنی مورتوں کی پوجا کو کہتے پھر کہویں گے ، یا اللہ تیرے علم میں یہ لوگ قابل ہلاکت ٹھہر چکے تھے اس لیے دنیا میں تو نے ان کو خوشحالی اور تندرستی جودی، اس کے نشہ میں یہ تیری یاد سے غافل رہے ۔ اب اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کو قائل کرنے کے لیے فرمائے گا سوائے اللہ کے جن کی پوجا کرتے تھے وہ تم کو جھٹلاچکے ہیں اب تم شرک کی سزا کے عذاب کو نہ خود ٹال سکتے ہو نہ کوئی دوسرا تمہاری کچھ مدد کرسکتا ہے شرک کی برائی جتلانے کے لیے آگے مسلمانوں کو مخاطب ٹھہرا کر فرمایا کہ اسلام کے بعد تم میں سے اگر کوئی شرک میں گرفتار ہوجائے گا یا کہ اے کافروجوتم میں سے کافر رہے گا توبہ نہ کرے گا تو قیامت کے دن اس کو بھی وہی عذاب بھگتنا پڑے گا جو منکر اسلام مشرکوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
Ayah 25:20

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠ Open ayah 25:20 in the Quran reader

اور1 (اے محبوب) ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب ایسے ہی تھے کہ کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے اور ہم نے تم میں ایک کو دوسرے کے لیے آزمائش بنا دیا ہے (مسلمانو) کیا تم صبر کرو گے اور (اے محبوب) تمہارا پروردگار خوب دیکھتا ہے (اس کو جو صبر کرے اور جو بےصبری کرے)

(ف 1) خوشحالی اور تنگدستی کا ذکر : اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین مکہ یہ جو کہتے تھے کہ اگر یہ سچے رسول ہوتے تو نہ کھانا کھاتے نہ بازاروں میں پھرتے اس کے جواب میں فرمایا کھانا کھانا، اور بازاروں میں پھرنا رسولوں کے منصب کے خلاف نہیں ہے کیونکہ سب رسول بشر ہوئے ہیں اور کھانا کھانا بشر کے لیے لازمی بات ہے اس پر بھی لوگ شرارت سے نبی آخرالزمان میں ایک انوکھی بات چاہتے ہیں پھر فرمایا خوشحالی اور تنگ دستی کا فرق اللہ تعالیٰ نے لوگوں میں جو رکھا ہے وہ فقط اس آزمائش ک لیے ہے کون شخص خوش حالی کی حالت میں اترانے کی حد تک نہیں پہنچتا، اور کون تنگ دستی میں صبر کرتا ہے اور تمہارا پروردگار اترانے والوں اور صبر کرنے والوں کے سب کاموں کو دیکھتا ہے کوئی چیز اس کی نظر سے غائب نہیں ہے قیامت کے دن ہر ایک کے عمل کے موافق جزا وسزا کا فیصلہ ہوگا۔
Ayah 25:21

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 25:21 in the Quran reader

اور کہا ان (کافروں ) نے جو ہمارے1 ملنے کی (یعنی قیامت کے آنے کی) امید نہیں رکھتے ہم پر فرشتے کیوں نہ اتارے گئے یا ہم اپنے پروردگار کو دیکھتے ، بیشک انہوں نے (اپنے آپ کو) اپنے دلوں میں (بہت) بڑا سمجھ لیا، بڑی سرکشی پر آئے۔

مشرکوں کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے جس طرح تکبر کی وجہ سے یہ کافر لوگ اللہ کے رسول کو بازار میں پھرنے والا کہتے تھے اسی طرح یہ بھی کہتے تھے کہ جب تک خود اللہ تعالیٰ یا اس کے فرشتے ہمارے روبرو آکر ان رسول کی صداقت نہ بیان کریں گے تو ہم ان کو سچا رسول نہ جانیں گے اس پر فرمایا کافر لوگ شرارت میں حد سے بڑھ گئے ہیں کیونکہ ان کو سمجھادیا گیا ہے کہ فرشتوں کو اصلی صورت میں دیکھنا انسان کی طاقت سے باہر ہے اس پر بھی ان کافرلوگوں کو فرشتوں کے دیکھنے کی ضد ہے۔ اور جب فرشتوں کے سامنے آنے کا وقت آوے گا تو ان کو اس نخوت کی قدر کھل جائے گی کہ فرشتے قبض روح کے، اور حشر کے وقت ایسے بےدین لوگوں کی طرح طرح کی تکلیفیں دے کر یہ کہویں گے کہ دنیا میں تم لوگ بہت عیش و آرام میں رہے اب تم کو ایسی سختی پڑے گی کہ جس میں کسی طرح کی راحت کی کوئی خبر تمہارے کانوں تک نہ پہنچے گی۔
Ayahs 25:22–24

یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:22 in the Quran reader

جس دن یہ لوگ فرشتوں کو دیکھیں گے تو وہ دن مجرموں (یعنی کافروں) کے لیے خوشی کا نہ ہوگا اور کہیں گے کہ الہی ہم میں اور2 ان میں کوئی رکی ہوئی آڑ کردے۔

وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا Open ayah 25:23 in the Quran reader

اور جو کچھ انہوں نے (دنیا میں حالت کفر میں) کام کیے تھے ۔ ہم نے قصد فرما کر انہیں باریک باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذرے کردیا (یعنی بیکار کردیا)

اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا Open ayah 25:24 in the Quran reader

جنت والوں کا اس دن اچھا ٹھکانا ہوگا اور (حساب و کتاب سے فارغ ہوکر) دوپہر کے آرام کی جگہ اچھی ہوگی ۔

(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ مشرک اور بےدین لوگوں سے جو کوئی نیک کام ہوتا ہے توہ نہ شرعیت کی پابندی سے ہوتا ہے اور نہ خالص اس نیت سے ہوتا ہے کہ آخرت میں ان کو ثواب ملے کیونکہ شریعت اور عقبی کے ثواب اور عذاب کے یہ لوگ منکر ہیں اس لیے کوئی نیک کام بارگاہ الٰہی میں مقبول نہیں آگے فرمایا ان نافرمان منکر لوگوں کے نیک عمل تو اس طرح قیامت کے دن اڑجائیں گے جس طرح آندھی میں ریت اڑ جاتی ہے اور فرمانبردار پابند شریعت لوگوں کے نیک عملوں کے بدلہ یہ ہوگا کہ ان نافرمان لوگوں کے دنیا کے عیش و آرام کے ٹھکانوں سے بہتر ٹھکانے انہیں جنت میں دیے جائیں گے جہاں پر یہ لوگ ہمیشہ آرام سے رہیں گے۔
Ayahs 25:25–26

وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِیْلًا Open ayah 25:25 in the Quran reader

اور1 جس دن کہ پھٹ جائے گا آسمان بادل سے اور فرشتے اتارے جائیں گے ۔

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ١ؕ وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا Open ayah 25:26 in the Quran reader

اس دن سچی بادشاہی خدا ہی کی ہوگی اور وہ دن کافروں پر بڑا (ہی) دشوار ہوگا۔

آسمانوں کے پھٹنے اور فرشتوں کے اترنے اور آقاکریم کی شفاعت کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا، جس رورز آسمان پھٹے گا اور وہاں کے رہنے والے فرشتے اتریں گے اور وہ تمام اہل زمین یعنی جن وانس سب سے زیادہ ہیں پھر دوسرا آسمان پھٹے گا وہاں کے رہنے والے فرشتے اتریں گے وہ آسمان دنیا کے رہنے والوں سے اور جن وانس سب سے زیادہ ہیں اسی طرح آسمان پھٹے جائیں گے اور ہر آسمان والوں کی تعداد اپنے ماتحتوں سے زیادہ ہے یہاں تک کہ ساتویں آسمان چکرکھاکر پھٹے گا اس روز میدان محشر میں جب سب لوگ آفتاب کی گرمی اور پسینے سے گھبراویں گے اور حضرت آدم سے لے کر حضڑت عیسیٰ تک سب انبیاء کے پاس جاکر شفاعت کی خواہش کریں گے اور سب انبیاء اس دن اللہ تعالیٰ کے غصہ سے ڈر کر شفاعت سے انکار کریں گے، آخریہ سب لوگ نبی ﷺ کے پاس آویں گے اور آپ اللہ تعالیٰ سے لوگوں کا حساب وکتاب شروع ہوجانے کی اور میدان محشر کی تکلیف سے ان کو نجات ہوجانے کی شفاعت فرماویں گے اس کو شفاعت عام اور شفاعت کبری کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ یہ بہت بڑی شفاعت ہے جس کو کسی امت کے ساتھ کچھ خصوصیت نہیں ہے آگے فرمایا کہ آج سچی بادشاہت اللہ کی ہے کہ عارضی بادشاہت کا دعوی کرنے والے فقیروں کی طرح سب ننگے پاؤں اور ننگے بدن آج اس کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے سب لوگ حشر کے دن قبروں سے ننگے پاؤں ننگے بدن اٹھیں گے اور نافرمان لوگوں کو میدان محشر تک منہ کے بل اللہ کے فرشتے گھسیٹ لے کر جاویں گے اسی طرح قیامت کے دن ہر موقع پر ایسے لوگوں کو ذلت اور مصیبت ہوگی حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کا دن مسلمانوں پر آسان کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ ان کے لیے ایک فرض نماز سے ہلکا ہوگا جو دنیا میں پڑھی تھی۔
Ayahs 25:27–29

وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا Open ayah 25:27 in the Quran reader

اور1 جس دن ظالم (یعنی کافر) اپنے ہاتھ کو (ندامت اور حسرت سے) چبا چبا لے گا، کہے گا کہ اے کاش ! میں نے رسول کے ساتھ (جنت و نجات ) کی راہ لی ہوتی۔

یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا Open ayah 25:28 in the Quran reader

اے میری خرابی ! کاش کہ میں فلاں کو دوست نہ بناتا۔

لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا Open ayah 25:29 in the Quran reader

بیشک اس (کم بخت) نے تو مجھے نصیحت پر عمل کرنے ) سے بہکا دیا بعد اس کے کہ وہ میرے پاس آئی تھی ۔ ( یعنی قرآن و ایمان) اور شیطان آدمی کو (بلا و عذاب کے وقت) بےمدد چھوڑ دیتا ہے ۔

بےدین کی دوستی کا حال۔ (ف 1) شان نزول : مکہ میں عقبہ بن ابی معیط ، ابی بن خلف کا گہرادوست تھا نبی ﷺ کے فرمانے سے اس نے لا الہ اللہ محمدرسول اللہ کی شہادت دی اور اس کے بعد ابی بن خلف کے زور ڈالنے سے پھر مرتد ہوگیا اور نبی ﷺ نے اس کو مقتول ہونے کی خبر دی، چناچہ بدر میں مارا گیا ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کا مطلب یہ ہے کہ ابی بن خلف کی دوستی سے جس طرح عقبہ بن ابی معیط کو ایسا نقصان پہنچا جس کو یاد کرکے قیامت کے دن عقبہ اپنے ہاتھ کو ندامت اور حسرت سے چباچبا لے گا اسی طرح ہر ایک برے دوست کی دوستی کا انجام ہے آخر کو فرمایا شیطان بڑا دغاباز ہے برے دوستوں کی دوستی کے پھندے میں پھنسا کر انسان کو بہکاتا ہے اس لیے ہر ایمان دار شخص کو چاہیے کہ وہ برے دوست کی دوستی کو شیطان کی دغابازی کا پھندا سمجھ کر اس پھندے سے ہمیشہ بچتا رہے۔
Ayahs 25:30–31

وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا Open ayah 25:30 in the Quran reader

اور2 رسول نے عرض کی کہ اے میرے پروردگار ! میری قوم نے اس قرآن کو (جو کہ واجب العمل تھا) چھوڑنے کے قابل ٹھہرا لیا۔

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا Open ayah 25:31 in the Quran reader

اور ہم اس طرح ہر نبی کے لیے مجرم لوگوں میں سے دشمن بناتے رہے ہیں اور تمہارا پروردگار ہدایت کرنے اور مدد دینے کو کافی ہے ۔

کفار کا قرآن پر اعتراض۔ (ف 2) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ نبی ﷺ نے عرض کی، اے میرے پروردگار البتہ میری قوم نے اس قرآن کو جو کہ واجب العمل تھا بےکار سمجھ کر چھوڑ دیا اور بعض نے اس کو سحر کہا اور کسی نے شعر اور وہ لوگ ایمان لانے سے محروم رہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو تسلی فرمائی اور آپ سے مدد کا وعدہ فرمایا اور ارشاد ہوا اے محبوب ﷺ پچھلے انبیاء اور پچھلی امتوں کے قصے جو قرآن میں جگہ جگہ ذکر کیے گئے ہیں ان سے تم کو معلوم ہوگیا ہوگا کہ ہر نبی کے ساتھ بد نصیبوں کا یہی دستور رہا ہے۔
Ayahs 25:32–34

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا Open ayah 25:32 in the Quran reader

اور1 کافروں نے کہا کہ ان (پیغمبر) پر یہ قرآن ایک ساتھ ہی کیوں نہیں اتارا گیا (ارشاد ہوا کہ) ہم نے اسی طرح بتدریج اسے اتارا ہے ج کہ اس کے ذریعہ سے (اے حبیب) تمہارے دل کو قوی کردیں اور ہم نے اسے (بہت) ٹھہر ٹھہر کر پڑھا (یعنی اتارا)

وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ Open ayah 25:33 in the Quran reader

اور کافر تمہارے پاس کوئی کہاوت نہ لائیں گے مگر ہم حق اور اس سے بہت بہتر بیان لے آئیں گے ۔

اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:34 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے منہ کے بل جہنم کی طرف ہانکے جاویں گے ان کا ٹھکانہ سب سے برا ہے اور وہ بہت ہی گمراہ ہیں۔

(ف 1) مشرکین جہاں اور بےہودہ باتیں کرتے تھے وہاں یہ بھی کہتے تھے کہ جس طرح مثلا موسیٰ (علیہ السلام) پر ساری تورات ایک ہی دفعہ میں نازل ہوئی اگر یہ قرآن کلام الٰہی ہے تو یہ بھی تورات کی طرح ایک ہی دفعہ میں کیوں نہیں نازل ہوا، اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی اس بات یہ جواب دیا کہ کفار کا یہ اعتراض فضول اور مہمل ہے کیونکہ قرآن کریم کا معجزہ ہونا ہر حال میں یکساں ہے ایک ہی دفعہ نازل ہوا یاتھوڑا تھوڑا کرکے نازل ہو، اور اے محبوب تھوڑا تھوڑا نازل کرنے تمہارے قلب کی تقویت مقصود ہے اور مسلمانوں پر اس کی تعمیل آسان ہے اس کے بعد فرمایا اے محبوب یہ بدبخت کافرجب تمہارے پاس کوئی مثال لے کر آتے ہیں تو ہم اس سے بہتر اور ٹھیک جواب اس کا دیتے ہیں پھر فرمایا اس پر یہ سرکش لوگ نہ مانیں گے تو قیامت کے دن اوندھے منہ دوزخ میں ڈالے جائیں گے کیونکہ ایسے سرکشوں کی یہی سزا ہے یہ کیسی سخت تکلیف اور ذلت کی بات ہے اور وہ مقام بہت ہی برا ہے۔
Ayahs 25:35–37

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنَا مَعَهٗۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِیْرًاۚۖ Open ayah 25:35 in the Quran reader

اور1 بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب (یعنی توریت) دی اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون کو وزیر کیا۔

فَقُلْنَا اذْهَبَاۤ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِیْرًاؕ Open ayah 25:36 in the Quran reader

پس ہم نے فرمایا کہ تم دونوں اس قوم کی طرف جاؤ جس نے ہماری آیتیں جھٹلائیں، پس ہم نے انہیں تباہ کر کے ہلاک کردیا۔

وَ قَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰهُمْ وَ جَعَلْنٰهُمْ لِلنَّاسِ اٰیَةً١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًاۚۖ Open ayah 25:37 in the Quran reader

اور قوم نوح کو بھی جبکہ انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو غرق کردیا اور ان (کے قصہ) کو لوگوں (کی عبرت) کے لیے نشانی کردیا اور ہم نے ظالموں کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے ۔

(ف 1) پیغمبروں کے واقعات : ان آیتوں میں فرمایا کہ ہم نے موسیٰ کو بھی کتاب تورات دی تھی اور اس کے ساتھ ان کے بھائی ہارون کو وزیر کیا پھر ہم نے ان دونوں سے کہا کہ قوم قبطی کی طرف جاؤ جو ہماری آیتوں کو جھٹلارہی ہے مراد اس سے فرعون اور اس کے ساتھی ہیں موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) سمجھانے کو گئے مگر انہوں نے جھٹلایا تو ہم نے اس قوم کو بالکل ہلاک کرڈالا اور قوم نوح نے تمام پیغمبروں کو جھٹلایا سو اس قوم کو ہم نے ڈبودیا اور بعد والوں کے لیے ان کو قصہ کو عبرت کیا اور ہم نے ظالموں کے لیے دردناک عذاب تیارکررکھا ہے حاصل مطلب آیت کا یہ ہے فرعون کی قوم اور نوح (علیہ السلام) کی قوم اللہ تعالیٰ کے رسولوں کے جھٹلانے کے وبال میں ڈوب کر ہلاک ہوگئی اگر یہ مشرک لوگ بھی جھٹلانے سے باز نہ آئے تو ان پر بھی کوئی آفت ضرور آئے گی اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے۔
Ayahs 25:38–39

وَّ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوْنًۢا بَیْنَ ذٰلِكَ كَثِیْرًا Open ayah 25:38 in the Quran reader

اور (ہم نے) عاد اور ثمود اور2 کنوئیں والوں کو بھی (ہلاک کیا) اور ان کے درمیان بہت سی امتوں کو بھی (ہلاک کردیا) ۔

وَ كُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ١٘ وَ كُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیْرًا Open ayah 25:39 in the Quran reader

اور ہم نے سب کے (سمجھانے کے) لیے مثالیں بیان کیں اور (جب نہ مانا تو ) ہم نے سب کو تباہ کر کے مٹا دیا۔

(ف 2) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ رسولوں کے جھٹلانے سے جس طرح قوم نوح اور قوم فرعون کے لوگ دنیا وآخرت کے عذاب میں پکڑے گئے وہی حال عاد اور ثمود اور کنوئیں والوں کا اور بہت سی بستی والوں کا ہوا، کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول بھیج کر ان لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا جب یہ لوگ اپنی عادت سے باز نہ آئے تو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئے چناچہ ملک شام کے سفر میں قوم لوط کی الٹی ہوئی اور پتھروں کے مینہ سے اجڑی ہوئی بستیاں ان مشرکین کو نظر آتی ہوں گی۔