25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 25:40–42

وَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْیَةِ الَّتِیْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ١ؕ اَفَلَمْ یَكُوْنُوْا یَرَوْنَهَا١ۚ بَلْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا Open ayah 25:40 in the Quran reader

اور ضرور یہ (کفار) اس بستی پر سے گزرے ہیں کہ جس پر بہت بری طرح (پتھروں کا) مینہ برسایا گیا تھا، پھر کیا یہ اسے دیکھتے نہ تھے (کہ عبرت پکڑتے ) بلکہ1 وہ مر کر زندہ (یعنی قیامت) ہونے کی امید ہی نہیں رکھتے۔

وَ اِذَا رَاَوْكَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا Open ayah 25:41 in the Quran reader

اور (اے محبوب) جب یہ لوگ تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہیں نہیں ٹھہراتے مگر ٹھٹھا (کرتے ہی) کیا یہ وہی شخص ہے کہ جس کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ۔

اِنْ كَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا لَوْ لَاۤ اَنْ صَبَرْنَا عَلَیْهَا١ؕ وَ سَوْفَ یَعْلَمُوْنَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 25:42 in the Quran reader

قریب تھا کہ ہمیں ہمارے معبودوں (کی عبادت) سے بہکا دے اگر ہم ان پر صبر نہ کرتے اور یہ لوگ عنقریب جان لیں گے جب یہ عذاب کو دیکھیں گے کہ کون سیدھے راستے سے بھٹکا ہوا تھا۔

(ف 1) ارشاد ہوتا ہے یہ لوگ کچھ اس لیے اللہ کے رسول کو نہیں جھٹلاتے کہ قوم لوط کی اجڑی ہوئی بستیاں ان لوگوں کی نظر سے نہیں گزری بلکہ یہ لوگ تو اس لیے اللہ کے رسول کو مسخراپن میں اڑاتے ہیں کہ ان لوگوں کو ایک دن اللہ کے روبرو کھڑے ہونے کا جزاوسزا کا یقین نہیں ہے پھر فرمایا کہ کافر نبی ﷺ کے ساتھ تمسخر کیا کرتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ اگر ہم اپنے دین پر قائم نہ رہتے تو انہوں نے ہمیں کبھی کا گمراہ کردیا ہوتا، اسی واسطے ان لوگوں نے بت پرستی کے وبال کو دل سے بھلا رکھا ہے عنقریب بوقت عذاب ان کو معلوم ہوجائے گا کہ اللہ کے رسول جو طریقہ ان کو بتلاتے تھے وہ اچھا تھا یابت پرستی کا طریقہ اچھا تھا۔
Ayahs 25:43–44

اَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ١ؕ اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَیْهِ وَكِیْلًاۙ Open ayah 25:43 in the Quran reader

کیا تم نے اسے1 دیکھا کہ جس نے اپنی خواہش نفسانی کو اپنا خدا بنا لیا ہے پس کیا تم اس کی نگہبانی کا ذمہ لو گے۔

اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَ١ؕ اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:44 in the Quran reader

کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے یا سمجھتے ہیں وہ تو کچھ بھی نہیں سمجھتے محض چوپایوں (جانوروں) کی طرح ہیں، بلکہ وہ تو ان سے بھی زیادہ راہ بھولے ہوئے ہیں۔

مشرکین کے بتوں کی کیفیت۔ (ف 1) شان نزول : مشرکین کا یہ طریقہ تھا کہ جب کبھی ان کو کوئی خوبصورت چیز لکڑی یا پتھر وغیرہ نظرآتی تو اس کو فورا اٹھالیتے اور اس کا بت بنا کرپوجتے، اور وہ پہلا پرانا بت چھوڑ دیتے تھے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اے محبوب تم نے ان لوگوں کی نادانی دیکھی کہ جس بت کی پوجا کو ان کا جی چاہتا ہے اس کی پوجا کرتے ہیں پس انہوں نے اپنی خواہش نفسانی کو اپنا خدا بنارکھا ہے پھر کیا تم ان کی نگہبانی کا ذمہ لے سکتے ہو پھر فرمایا اے محبوب کیا تم اپنے جی میں یہ خیال کرتے ہو کہ یہ لوگ قرآن سنتے اور اس کی نصیحت کو سمجھتے ہیں نہیں یہ لوگ تو اپنی نادانی کے سبب سے بالکل چوپایوں کی طرح کسی بات کو نہیں سمجھتے۔ بلکہ یہ لوگ چوچوپایوں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ چوپائے اپنی پرورش کرنے والے کو خوب پہچانتے ہیں اور یہ لوگ اپنے پیدا کرنے والے کو نہیں پہچانتے۔
Ayahs 25:45–47

اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ١ۚ وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا١ۚ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْهِ دَلِیْلًاۙ Open ayah 25:45 in the Quran reader

(اے مخاطب2) کیا تو نے اپنے پروردگار کی (قدرت کی) طرف نہیں دیکھا کہ اس نے سیا یہ کو کیونکر پھیلایا ہے اور اگر وہ چاہتا تو اس (سایہ) کو ایک حالت پر ٹھہرایا ہوا رکھتا۔ پھر ہم نے سورج کو اس پر دلیل کیا۔

ثُمَّ قَبَضْنٰهُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا Open ayah 25:46 in the Quran reader

پھر ہم نے اس سایہ کو آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹا۔

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّ النَّوْمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا Open ayah 25:47 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات کو لباس (یعنی پردہ) بنایا اور نیند کو (تمہارے ) آڑام (کا ذریعہ بنایا) اور دن کو (تمہارے) اٹھنے کے لیے بنایا (کہ اس میں روزی تلاش کرو)

اللہ کی قدرت کاملہ کا ذکر ۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ کیا تم نے اپنے پروردگار کی قدرت کی طرف نہیں دیکھا کہ جس طرح سایہ کو بڑھایا اور اگر چاہتا تو اس کو ایک ہی جگہ ٹھہرائے رکھتا پھر اس کے پہچاننے کے لیے سورج کو دلیل بنایا کہ سورج سے سای پہچان لیتے ہو پھر فرمایا سورج کے نکلنے کے بعد سورج سے پہلے کا وہ ٹھنڈا سایہ آہستہ آہستہ اللہ کے حکم سے سمیٹ لیاجاتا ہے اور بجائے اس ٹھنڈے سایہ کے تمام دنیا میں دھوپ پھیل جاتی ہے یہ ٹھنڈا سایہ رات کے اندھیرے کے بعد طلوع فجر سے شروع ہوتا ہے اور پھر دن کے گزرجانے کے بعد رات ہوتی اس واسطے اس ٹھنڈے سایہ کے ذکر میں رات اور دن کا تذکرہ فرمایا۔ جس طرح اوڑھنے اور پہننے کے کپڑے سے انسان کا بدن ڈھانک دیاجاتا ہے اسی طرح رات کا اندھیرا ہر ایک چیز کو ڈھانک لیتا ہے اسی واسطے رات کو لباس کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے دن کو ہر طرح کے کام دھندے میں لگ کر آدمی کو تھکان ہوجاتی ہے اور رات کی نیند سے وہ تھکان رفع ہوجاتی ہے اس لیے رات کی نیند کو آرام فرمایا، اور دن کو کام دھندے اور روزی کی تلاش کے لیے بنایا، حاصل کلام یہ ہے کہ سونے کے بعد جاگنا مرنے کے بعددوبارہ جینے کی نشانی ہے۔
Ayahs 25:48–50

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًاۙ Open ayah 25:48 in the Quran reader

اور1 وہی ہے جس نے اپنی رحمت (یعنی بارش) کے آگے خوشخبری دینے والی ہوائیں بھیجیں اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی برسایا۔

لِّنُحْیَِۧ بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا وَّ نُسْقِیَهٗ مِمَّا خَلَقْنَاۤ اَنْعَامًا وَّ اَنَاسِیَّ كَثِیْرًا Open ayah 25:49 in the Quran reader

تاکہ اس پانی سے مردہ (یعنی خشک) زمین کو زندہ کریں اور اسے اپنی مخلوقات میں سے چار پایوں اور بہت سے آدمیوں کو پلائیں۔

وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَیْنَهُمْ لِیَذَّكَّرُوْا١ۖ٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 25:50 in the Quran reader

اور ہم نے اس (پانی) کو طرح طرح سے ان کے درمیان بانٹا تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں تو بہت لوگوں نے نہ مانا مگر ناشکری کرنا۔

(ف 1) اللہ تعالیٰ وہ قدرت رکھتا ہے کہ بارش آنے سے پہلے ایک ایسی ہوا چلاتا ہے جو بارش کی خوش خبری دینے والی ہوتی ہے وہ بادلوں کے اٹھنے کا سبب ہوتی ہے پھر فرمایا کہ آسمان سے پاکیزہ اور ستھرا پانی برستا ہے جس سے سوکھی مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے اور اس میں طرح طرح کی پیداوار ہوتی ہے اور مینہ کا پانی ندی نالوں اور تالابوں میں جو جمع ہوتا ہے وہ چوپایوں اور آدمیوں کے پینے کے کام آتا ہے پھر فرمایا ہر ملک کی ضرورت کے موافق اللہ تعالیٰ نے مینہ کے پانی کی تقسیم کردی ہے جہاں جتنی ضرورت ہوتی ہے وہاں اسی قدر مینہ برستا ہے پھر فرمایا بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر نہیں کرتے۔
Ayahs 25:51–52

وَ لَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ نَّذِیْرًا٘ۖ Open ayah 25:51 in the Quran reader

اور1 اگر ہم چاہتے تو بیشک ہم ہر بستی میں ایک ڈر سنانے والا بھیجتے ۔

فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِیْرًا Open ayah 25:52 in the Quran reader

پس کافروں کا کہا نہ مانو اور اس قرآن کے حکم سے ان کے ساتھ جہادا کرو، بڑا جہاد۔

(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک ڈرسنانے والابھیجتے جوان کو اللہ کی طرف بلاتا، لیکن ہم نے تم کو خاص کیا پیغمبری کے ساتھ، اے محبوب تم تمام زمین والوں کی طرف حکم پہنچا دو ، صححین میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا پیغمبر پہلے ایک خاص قوم کی طرف بھیجے جاتے تھے اور میں تمام دنیا کے لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں پھر فرمایا کہ اس قرآن کے حکم سے ان کے ساتھ جہاد کرو، یعنی تم بڑی کوشش سے ان لوگوں کو قرآن کی آیتیں سناتے رہو، اللہ تمہاری مدد کرے گا۔
Ayah 25:53

وَ هُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ۚ وَ جَعَلَ بَیْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:53 in the Quran reader

اور2 وہی تو ہے کہ جس نے دو دریاؤں کو ملا دیا، یہ ایک کا پانی تو بہت میٹھا پیاس کا دفع کرنے والا ہے اور وہ دوسرے کا (پانی) کھاری نہایت کڑوا ہے ، اور ان دونوں کے بیچ میں پردہ رکھا اور مضبوط آڑ بنا دی (جو ملنے نہیں دیتی) ۔

اللہ تعالیٰ کی قدرت کانمونہ۔ (ف 2) حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ یہ بھی اللہ کی قدرت کی ایک نشانی ہے کہ اس نے میٹھے اور کھاری دریازمین کے اوپر اور نیچے پیدا کیے یہ تو سب کو معلوم ہے کہ زمین کے نیچے پانی ہے کیونکہ جہاں سے زمین کو کھودا جائے وہاں پانی نکلتا ہے کہیں سے کھاری پانی نکلتا ہے اور کہیں سے میٹھا، اور زمین کے نیچے دونوں پانی ملنے نہی پاتے جیسے کہ دجلہ دریائے شور میں میلوں تک چلاجاتا ہے اور اس کے ذائقہ میں کوئی تغیر ہیں آتا عجب شان الٰہی ہے، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنی پیدا کی ہوئی نعمتوں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ لوگ اللہ کی نعمتوں کو پہچان کر اللہ کا شکر ادا کریں۔
Ayahs 25:54–55

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًا١ؕ وَ كَانَ رَبُّكَ قَدِیْرًا Open ayah 25:54 in the Quran reader

اور3 وہی تو ہے جس نے انسان کو پانی (یعنی نطفہ) سے پیدا کیا ہے پھر اس کو خاندان والا اور سسرال والا بنایا۔ اور تمہارا1 پروردگار قدرت والا ہے ۔

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُهُمْ وَ لَا یَضُرُّهُمْ١ؕ وَ كَانَ الْكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِیْرًا Open ayah 25:55 in the Quran reader

اور اللہ کے سوا اس چیز کو پوجتے ہیں کہ جو نہ ان کو نفع دے اور نہ ان کو نقصان پہنچائے اور کافر اپنے پروردگار کے مقابل شیطان کو مدد دیتا ہے (کیونکہ بت پرستی شیطان کی مدد ہے) ۔

(ف 3) اس آیت میں فرمایا کہ اللہ وہ ہے جس نے پانی یعنی نطفہ سے انسان کو پیدا کیا اور اس نے ایک نطفہ سے دوقسم کے انسان پیدا کیے ، مرد اور عورت۔ نسب یعنی خا ندان سے مراد مرد ہے کیونکہ نسب مردوں ہی کی طرف منسوب ہوتا ہے کہتے ہیں کہ فلاں بن فلاں اور صہر یعنی سسرال سے مراد عورت ہے کیونکہ نکاح کے رشتے اس سے قائم ہوتے ہیں یہ مثال بیان کرکے فرمایا کہ پھر بھی کافروں کا یہ حال ہے کہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور پروردگار کو ہر قسم کی قدرت ہے چاہے لڑکا پیدا کرے چاہے لڑکی، اس کی قدرت میں کوئی شریک نہیں ۔ (ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ یہ مشرک لوگ بڑے نادان ہیں کہ اپنے پیدا کرنے والے کو خالص عبادت کو چھوڑ کر پتھر کی ایسی مورتوں کو اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں شریک کرتے ہیں کہ جن کے اختیار میں نہ کسی کا کچھ فائدہ ہے نہ نقصان ، اللہ تعالیٰ کے اختیار میں انسان کا جوفائدہ ہے وہ تو سب کی آنکھوں سامنے ہے کہ اس نے انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو اس طرح اپنی قدرت سے پیدا کیا ہے کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے پھر فرمایا کہ منکر لوگ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرکے شیطان کے مدد گار بنتے ہیں اور شیطان کے بہکانے سے یہ منکر لوگ احکام الٰہی کو پیٹھ کے پیچھے ڈال کر اس کی مخالفت کرتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا کیونکہ مجبور کرکے کسی اور راہ راست پر لاناانتظام الٰہی کے برخلاف ہے انتظام الٰہی کے موافق دنیا کو نیک وبد کے امتحان کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔
Ayahs 25:56–57

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا Open ayah 25:56 in the Quran reader

اور2 ہم نے تمہیں تو محض خوشخبری اور ڈر سنانے کے لیے بھیجا ہے ۔

قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 25:57 in the Quran reader

تم فرماؤ کہ میں تم سے تبلیغ قرآن پر کوئی اجرت تو نہیں مانگتا ہوں، ہاں جو شخص چاہے اپنے پروردگار کی طرف کا راستہ اختیار کرے۔

(ف 2) اوپر کی آیت میں جن لوگوں کا ذکر تھا جب وہ ہر وقت کی قرآن کی نصیحت کو سن کر اپنے کفر سے باز نہیں آتے تھے تو اس سے نبی کو بڑا رنج ہوتا تھا، اس لیے فرمایا اے محبوب رنج کی کوئی بات نہیں ہے تمہارا کام اتنا ہے کہ ایمان والوں عقبی کی بہبودی کی خوشی اور کافروں کو آخرت کے عذاب کا ڈرسنادو، اور ان لوگوں سے یہ بھی کہہ دیاجائے کہ میں اس نصیحت کی کچھ مزدوری تم لوگوں سے نہیں مانگتا کہ اس مزدوری کے بارے سے تم کو قرآن کی نصیحت کا سننا شاق گزرے ۔
Ayahs 25:58–62

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرَا٤ۚۛۙ Open ayah 25:58 in the Quran reader

اور1 اپنے اس زندہ خدا پر بھروسہ رکھے جس کو کبھی موت نہیں اور اس کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرو اور وہی اپنے بندوں کے گناہوں سے کافی خبردار ہے۔

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ۛۚ اَلرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِهٖ خَبِیْرًا Open ayah 25:59 in the Quran reader

جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر جلوہ فرما ہوا (جیسا اس کی شان کے لائق ہے) وہ ہے بڑا بخشنے والا، پس اس کی شان کسی جاننے والے سے دریافت کرو۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَ مَا الرَّحْمٰنُ١ۗ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُوْرًا۠۩ Open ayah 25:60 in the Quran reader

اور جب کافروں سے کہا جاتا ہے کہ رحمن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں : رحمن کیا ہےَ ؟ کیا ہم سجدہ کریں اس کو جس کو تم کہو اور اس حکم نے انہیں اور بدکنا بڑھایا۔

تَبٰرَكَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ جَعَلَ فِیْهَا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِیْرًا Open ayah 25:61 in the Quran reader

وہ بڑی برکت والا ہے جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں چراغ رکھا (یعنی سورج) اور روشن چاند۔

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا Open ayah 25:62 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین کیا ان لوگوں کے لیے جو دھیان کرنا چاہے یا (خدا کے احسانات کے) شکر کرنے کا ارادہ کرے۔

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ مسلمانو ! تم اپنے سب کاموں کا بھروسہ اللہ پر رکھو کہ اس کی ذات ہمیشہ رہنے والی ہے اور اللہ کے انتظام میں ہر کام کا وقت مقرر ہے، اس واسطے کسی کام کا بھروسہ اللہ کی ذات پر رکھنے کے بعد اگر اس کام میں کچھ توقف ہو تو وقت مقررہ تک صبر کرنا چاہیے تاکہ اللہ پر بھروسہ رکھنے کا اور صبر کا دونوں کا اجر ملے۔ پھر فرمایا کہ انسان کو چاہیے کہ اس کی تسبیح وحمد کرے، اور اس کی اطاعت اور اس کا شکر بجالائے ، پھر فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اپنی قدرت سے بغیر کسی مدد کے چھ دن میں پیدا کیا، اگر اللہ چاہتا تو ایک لمحہ میں آسمان اور زمین سب کچھ پیدا کردیتا ہے لیکن چھ دن کی مدت میں آسمان و زمین کے پیدا کرنے میں یہ حکمت ہے کہ انسان اس عادت الٰہی کو سیکھ کر ہر کام سہولت سے کرے، کسی کام میں عادت سے بڑھ کر جلدی نہ کرے۔ کہ اس طرح کی جلدی شیطان کی عادت میں داخل ہے ، آگے فرمایا کہ پھر بڑی مہر والا عرش پر قائم ہوا جو قیام اس کی ذات کو لائق ہے (عرش تخت الٰہی کو کہتے ہیں) پھر فرمایا اے انسان اللہ کا حال اس سے پوچھ جانتا ہے ۔ آخیر آیت میں فرمایا، اللہ تعالیٰ کی مہربانی کی صفت کے سبب سے اس کا نام رحمن بھی ہے لیکن ان مشرکین مکہ کے روبرو جب اللہ تعالیٰ کا یہ نام لیاجاتا ہے تو یہ لوگ بہت بدکتے ہیں حالانکہ یہ مشرک لوگ اہل کتاب سے سنتے رہتے ہیں جس سے ان کو یہ معلوم ہوچکا ہے کہ تورات وانجیل میں اللہ تعالیٰ کا یہ نام موجود ہے اس آیت کے پڑھنے والے اور سننے والے دونوں کو یہاں سجدہ کرنا چاہیے ، پھر فرمایا کہ رحمن وہ بابرکت نام ہے کہ جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں سراج یعنی آفتاب بنایا جو تمام دنیا کا چراغ ہے۔ اگر یہ نہ ہوتا تواندھیرا ہوجاتا، اور رات کے لیے بھی اس نے چاند چمکتا ہوابنایا ہے مطلب یہ ہے کہ رحمن وہ ہے کہ جس نے دنیا کا گھر بنایا اور اس گھر میں آفتاب وماہتاب کی قندیلیں روشن کیں اور اس گھر میں تمہارے لیے ہر ایک قسم کا سامان پہنچایا پھر کہتے ہو کہ رحمن کون ہے اور اس کو سجدہ کرنے سے نفرت کرتے ہو اور اس پر بس نہ کیا بلکہ اس نے رات دن بنائے جو ایک کے بعد دوسرا آتا ہے یعنی رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات آتی ہے غرض یہ کہ ایک دوسرے کا جانشین ہے۔
Ayahs 25:63–67

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا Open ayah 25:63 in the Quran reader

اور1 رحمن کے (خاص) بندے وہ ہیں جو زمین پر آہستہ یعنی عاجزی سے چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے (جہالت کی) بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں : (بس) سلام ہے۔

وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا Open ayah 25:64 in the Quran reader

اور وہ جو رات گزارتے ہیں اپنے پروردگار کے لیے سجدے اور قیام میں۔

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ١ۖۗ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاۗۖ Open ayah 25:65 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! ! ہم سے دوزخ کے عذاب کو باز رکھیو، بیشک اس کا عذب پوری تباہی ہے ۔

اِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:66 in the Quran reader

بیشک وہ دوزخ بہت ہی بری ٹھہرنے کی جگہ ہے ، اور برا مقام ہے ۔

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا Open ayah 25:67 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ تنگی کرتے ہیں اور ان کا خرچ کرنا ان کے اعتدال یعنی درمیانی ہوتا ہے ۔

اللہ کے نیک بندوں کی خصوصیات کا ذکر۔ (ف 1) پہلے کی آیت میں ان لوگوں کا ذکر تھا جن کے روبرو اللہ کی صفت رحمن بنائی جاتی تھی تو وہ بدکتے تھے ایسے لوگوں کے قائل کرنے کے لیے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے رحمن کے بندوں کی یہ چند صفتیں بیان فرمائیں کہ وہ لوگ جب زمین پرچلتے پھرتے ہیں تو اترا کر نہیں چلتے اور رحمن کے بندوں میں یہ بھی اچھی عادت ہے کہ وہ رات کو اپنے پروردگار کے آگے سجدہ اور قیام میں عاجزی کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں ۔ ابن عباس نے فرمایا کہ جس کسی نے بعد عشا دو رکعت یا زیادہ نفل پڑھے وہ شب بیداری کرنے والے میں داخل ہے ۔ مسلم میں حضرت عثمان غنی ؓ سے مروی ہے کہ جس نے عشاء کی نماز باجماعت ادا کی اس نے نصف شب کے قیام کا ثواب پایا اور جس نے فجر بھی باجماعت ادا کی وہ تمام شب کے عبادت کرنے والے کی مثل ہے۔ آگے فرمایا کہ رحمن کے بندوں میں یہ عادت ہے کہ وہ دوزخ کے عذاب سے بچنے کی دعا مانگتے رہتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ دوزخ براٹھکانہ اور اس کا عذاب سخت ہے۔ اور حضور ﷺ نے فرمایا جو شخص دوزخ کی آگ سے پناہ مانگتا رہے گا تو اللہ اسے دوزخ کی آگ سے نجات دے گا آگے فرمایا کہ رحمن کے بندوں میں یہ بھی عادت ہے کہ وہ اللہ کے دیے ہوئے میں سے خرچ کرتے وقت اور خرچ کرنے سے ہاتھ کو روکتے وقت شریعت کی حد سے نہیں بڑھتے۔ بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ اور معتبر سند سے مسند امام احمد میں ابن عباس سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ نیک کام میں خرچ کرنے والوں کے مال کے بڑھنے اور ایسے خرچ سے ہاتھ کو روکھنے والوں کے گھٹ جانے کے لیے ہر روز اللہ کے دوفرشتے دعامانگتے رہتے ہیں مگر جس شخص کے ذمہ کسی کا کچھ قرض ہو تو اس کو چاہیے کہ قرض کی ادائیگی کے موافق مال بچا کرخیرات کرے آیتوں کا مطلب میں اوپر یہ جو بیان کیا گیا ہے کہ خرچ کرنے میں اور خرچ سے ہاتھ کو روکنے میں شریعت کی حد سے نہ بڑھنا چاہیے ان کی تفسیر ان روایتوں سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مثلا کوئی قرض دار ادائے قرض کا خیال نہ رکھے اور اپنا سارامال صدقہ خیرات میں خرچ کردے تو وہ اس خرچ میں گویا حد شریعت سے بڑھ گیا اسی طرح ہر طرح کی گنجائش کے ہوتے ہوئے جو شخص صدقہ خیرات سے ہاتھ روکے گا تو وہ بھی خرچ سے ہاتھ کو روکنے میں یہاں تک حد شریعت سے دورجاپڑا کہ ایسے شخص کے مال کے گھٹ جانے کی بددعا اللہ کے فرشتوں کی زبان سے نکلے گی۔
Ayahs 25:68–73

وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ یَلْقَ اَثَامًاۙ Open ayah 25:68 in the Quran reader

اور1 وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے اور جس جان کا مار ڈالنا اللہ نے حرام فرمایا ہے اس کو نہیں مارتے مگر حق پر اور نہ بدکاری کرتے ہیں اور جو ایسے کام کرے گا وہ سخت سزا پائے گا۔

یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ یَخْلُدْ فِیْهٖ مُهَانًاۗۖ Open ayah 25:69 in the Quran reader

اس کے لیے قیامت میں دوگنا عذاب ہوگا اور وہ اس (عذاب) میں ہمیشہ زلیل) خوار) ہوکر پڑا رہے گا۔

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:70 in the Quran reader

مگر جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور اچھے عمل کرے تو اللہ ایسے لوگوں کے (گزشتہ) گناہوں کو نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

وَ مَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ یَتُوْبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا Open ayah 25:71 in the Quran reader

اور جس نے توبہ کی اور نیک عمل کیے تو بیشک اس نے اللہ کی طرف رجوع کی جیسی چاہیے تھی۔

وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ١ۙ وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا Open ayah 25:72 in the Quran reader

اور جو لوگ جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب کسی بیہودہ بات پر ان کا گزر ہوتا ہے تو اپنی عزت سنبھالے گزر جاتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْهَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا Open ayah 25:73 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہ جس وقت ان کو اللہ کی آیتوں کے ذریعہ سے نصیحت کی جاتی ہے تو ان (نصیھت) کے سننے سے بہرے اور اندھے بن کر نہیں گرتے (بلکہ غور کرتے ہیں) ۔

(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ رحمن کے بندوں کی یہ بھی عادت ہے کہ خدا کے ساتھ دوسرے معبودوں کو نہیں پوجتے اور جس جان کے قتل کو اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے اس کو ناحق نہیں قتل کرتے اور رحمن کے بندوں کی عادت بدکاری کی بھی نہیں ہے اور اگر جو شخص شرک اور ناحق قتل اور بدکاری میں گرفتار ہوگا اور اسی حالت میں مرجائے گا تو ایسا شخص شرک کے سبب سے ہمیشہ دوزخ میں رہے گا اور سوائے شرک کے اور گناہوں کی سزا جدا اس شخص کو بھگتنی پڑے گی کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ مشرک کی کس طرح بخشش نہیں ہے ہاں مرنے سے پہلے جو شخص ان باتوں سے توبہ کرے گا اور شرک چھوڑ کر ایماندار بن جائے گا تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی برائیوں کو اس طرح بھلائیوں میں بدل دے گا کہ ایسے شخص کے شرک کے زمانہ کے سب گناہ معاف کردے گا، کیونکہ اللہ غفور الرحیم ہے اور جو شخص خالص دل سے توبہ کو سچا کرنے کے لیے نیک کاموں میں ہمیشہ لگا رہے گا تو اسی کی توبہ خالص ہے پھر فرمایا کہ رحمن کے بندوں میں یہ بھی اچھی عادت ہے کہ جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔ یا یہ معنی ہیں کہ وہ لوگ ایسی مجالس میں جس میں لغو اور بےاصل باتیں ہوتی ہیں شریک نہیں ہوتے اور رحمن کے بندوں میں یہ بھی اچھی عادت ہے کہ منکر لوگوں کی طرح دین کے سننے کی باتوں کو بہرے بن کر نہیں سنتے۔ آنکھوں سے دیکھنے کی قدرت کی نشانیوں کو اندھے بن کر نہیں دیکھتے ہیں بلکہ جو کچھ سنتے ہیں اور دیکھتے ہیں انکے دل پر اس کا اثر ہوتا ہے۔
Ayahs 25:74–77

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا Open ayah 25:74 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم کو ہماری بیبیوں اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک (یعنی راحت) عطا کر اور ہم کو پرہیزگاروں کا پیشوا بنا۔

اُولٰٓئِكَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ سَلٰمًاۙ Open ayah 25:75 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کو ان کے صبر کے بدلے میں جنت کے اونچے محل انعام میں ملیں گے اور ان کا وہاں دعا وسلام کے ساتھ استقبال کیا جاوے گا۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:76 in the Quran reader

اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے وہ کیا ہی اچھی ٹھہرنے اور بسنے کی جگہ ہے ۔

قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ١ۚ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَكُوْنُ لِزَامًا۠ Open ayah 25:77 in the Quran reader

(اے محبوب) تم فرماؤ : میرے پروردگار کو تمہاری کچھ قدر (یعنی پروا) نہیں اگر تم اس کی عبادت نہ کرو، تو بیشک تم نے (یعنی کافروں نے قرآن اور رسول کو) جھٹلایا، پس عنقریب اس کی سزا لازم ہوگی۔

بیوی بچوں کے لیے دعا کا ذکر۔ نیک بندوں کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا ہے رحمن کے بندوں میں ایسے بھی لوگ ہیں جو دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ہماری بیبیاں اور اولاد نیک صالح متقی عطا فرما کہ ان کا حسن عمل اور ان کی اطاعت خدا اور سول دیکھ کر ہماری آنکھیں ٹھنڈی اور دل خوش ہوں یا یہ معنی ہیں کہ خود تو دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے ہیں مگر ان کی بیوی بچے ابھی نعمت اسلام سے محروم ہیں اس لیے یہ رحمن کے بندے اپنی بیوی بچوں کے حق میں دعا کرتے رہتے ہیں کہ یا اللہ ہم کو ہمارے بیوی اور بچوں کی طرف سے یہ آنکھوں کی ٹھنڈک دے کہ ہم اپنی آنکھوں سے ان کو ایماندار اور پرہیزگار دیکھ لیں ، اور ہم کو ان پرہیزگاروں کا امام اور پیشوا بنادے۔ آگے رحمن کے ان بندوں کا انجام بیان فرمایا کہ انہوں نے دنیا میں دین کی پابندی کے سبب سے طرح طرح کی جو تکلیفیں اٹھائی تھیں اس کے بدلہ میں ان کو جنت میں اونچے محل دیے جائیں گے جب جنتی لوگ جنت میں جانے لگیں گے تو جنت میں تعینات فرشتے جنتیوں کے استقبال کے لیے جنت کے دروازے پر آن کھڑے ہوں گے اور السلام علیک کے بعد جنت میں داخل ہونے اور وہاں ہمیشہ رہنے کی جنتیوں کو مبارک باد دیویں گے اور یہ کہویں گے کہ دنیا میں جس جنت کے ملنے کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا آج اس جنت میں داخل ہونے کا دن ہے ۔ آخر آیت میں فرمایا کہ اے محبوب منکر لوگوں سے کہہ دو کہ میرے رب کو تمہاری کچھ پرواہ حاجت نہیں جو تم اس کو نہیں پکارتے اور اس کی عبادت نہیں کرتے۔ اس لیے کہ انسان جو اشرف المخلوقات بنایا گیا ہے تب ہے جو وہ انسانیت کے کام کرے۔ اور کام انسانیت کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو پہچانے اور اس کی عبادت کرے ورنہ اور حیوان برابر بلکہ اس سے بھی بدتر ہے آگے فرمایا کہ اے کافرو، بیشک تم نے قرآن اور رسول کو جھٹلایا تو دنیا کی مصیبت کے بعد آخرت میں تم پر ہمیشہ کا عذاب لازم ہوگا۔