26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsمظہر القرآن

Ayah 26:1
Ayahs 26:2–4

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 26:2 in the Quran reader

یہ آیتیں1 رشن کتاب (یعنی قرآن) کی ہیں۔

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:3 in the Quran reader

( اے محبوب) تم شاید ان کے مسلمان نہ ہونے کے غم میں اپنی جان کو ہلاک کرنے والے ہو۔

اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِیْنَ Open ayah 26:4 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں تو آسمان سے ان پر کوئی نشانی اتاریں کہ ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں۔

(ف 1) شان نزول۔ جب اہل مکہ ایمان نہ لائے اور انہوں نے نبی ﷺ کی تکذیب کی تو نبی ﷺ پر ان کی محرومی بہت شاق ہوئی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 26:5

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِیْنَ Open ayah 26:5 in the Quran reader

اور ان کے2 پاس نصیحت پروردگار کی طرف سے کوئی نئی نہیں آتی مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔

(ف 2) اس آیت میں فرمایا کہ ان مشرکوں کا کفر دم بدم بڑھتا جاتا ہے کہ جو وحی پروردگار کی طرف سے اترتی ہے وہ اس کا انکار کرتے چلے جاتے ہیں۔
Ayahs 26:6–9

فَقَدْ كَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 26:6 in the Quran reader

تو بیشک انہوں نے (حق کو) جھٹلایا۔ پس3 اب ان پر آیا چاہتی ہیں صدق وعدہ کی خبریں جس کے ساتھ ٹھٹھے (مذاق) کرتے تھے۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الْاَرْضِ كَمْ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 26:7 in the Quran reader

کیا انہوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا کہ اس میں کس قدر ہم نے ہر قسم کے عمدہ (میوؤں کے) جوڑے اگائے۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:8 in the Quran reader

بیشک اس میں (توحید کی) ضرور نشانی ہے اور ان میں اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں۔

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:9 in the Quran reader

اور بیشک تمہارا پروردگار ہی غالب، مہربان (جو کافروں سے انتقام لیتا اور مومنین پر رحمت فرماتا ہے)

(ف 3) ان آیتوں میں فرمایا کہ مشرکوں نے قرآن کی آیتوں کو جھٹلانے کے طور پر مسخراپن سے یہ کہا تھا کہ اگر یہ دین اور قرآن حق ہے تو ہم لوگوں پر آسمان سے پتھروں کامینہ برسے۔ آخر اس شرارت کے سبب سے بدر کی لڑائی میں زیادہ ذلیل ہوناپڑا۔ اس بات کی حقیقت معلوم ہوگئی جس کو وہ ٹھٹھوں میں اڑایا کرتے تھے پھر فرمایا کیا منکروں نے زمین کی نشانی کو نہیں دیکھا ہے کہ اس پروردگار کی قدرت جس نے زمین میں قسم قسم کی چیزیں عمدہ سے عمدہ اگائی ہیں یہ منکرین اگر خدا کی نشانیاں دیکھنا چاہیں تو ہر وقت دیکھ سکتے ہیں زمین کی جڑی بوٹیوں کو دیکھیں کہ کس حکمت سے کس کاریگر نے پیدا کی ہیں باوجود ایسی نشانیوں کے دیکھنے کے بھی اکثر تو ایمان نہیں لاتے اور اس کے رسولوں اور کتابوں کو جھٹلاتے ہیں اور اس کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں یہ لوگ اپنے کفر کے نشہ میں پڑے ہوئے ہیں اور اپنی سرکشی کے دریا میں ایسے غرق ہورہے ہیں کہ ان کو اپنی بھلائی کے معلوم کرنے کی مہلت ہی نہیں، اگر رسول اللہ کی بات مانتے اور اس پر عمل کرتے تو نجات دارین حاصل ہوتی اور بیشک آپ کا رب تو زبردست ہے اور رحیم ہے مخلوق پر۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کفر پر جلدی سزا نہیں دیتا بلکہ مہلت دیتا ہے اگر ان کے کفر پر خیال کرتا تو ایک کافر بھی باقی نہیں رہتا۔ وہ بڑا زبردست رحم کرنے والامہربان ہے۔
Ayahs 26:10–30

وَ اِذْ نَادٰى رَبُّكَ مُوْسٰۤى اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 26:10 in the Quran reader

اور1 یہ یاد کرو تمہارے پروردگار نے موسیٰ کو آواز دی کہ ظالم گروہ کے پاس جا۔

قَوْمَ فِرْعَوْنَ١ؕ اَلَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 26:11 in the Quran reader

خود جو فرعون کی قوم ہے ، کیا وہ لوگ پرہیزگاری نہ کریں گے۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِؕ Open ayah 26:12 in the Quran reader

موسیٰ نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے

وَ یَضِیْقُ صَدْرِیْ وَ لَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ Open ayah 26:13 in the Quran reader

اور میرا سینہ (یعنی دل) تنگی کرتا ہے ان کے جھٹلانے سے اور میری زبان (اچھی طرح) نہیں چلتی ، پس تو ہارون کو بھی پیغمبر کر۔

وَ لَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِۚ Open ayah 26:14 in the Quran reader

اور ان کا (یعنی قوم فرعون کا) مجھ پر ایک الزام ہے تو مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں مجھے قتل کردیں۔

قَالَ كَلَّا١ۚ فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:15 in the Quran reader

فرمایا : ایسا ہرگز نہ ہوگا، پس تم دونوں میری نشانیاں لے کر جاؤ ہم تمہارے ساتھ سنتے ہیں۔

فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:16 in the Quran reader

پس تم (دونوں) فرعون کے پاس جاؤ، پس کہو کہ : ہم رب العالمین کے رسول ہیں۔

اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:17 in the Quran reader

کہ تو ہمارے ہمراہ بنی اسرائیل کو بھیج دے ۔

قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:18 in the Quran reader

(اس کے پاس جاکر حکم سنایا) فرعون نے کہا : اے موسیٰ کیا ہم نے تمہیں بچپن میں اپنے ہاں پرورش نہیں کیا تھا اور تم نے ہمارے ہاں اپنی عمر کے کئی برس گزارے۔

وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 26:19 in the Quran reader

اور تم نے اپنا وہ کام کیا جو تم سے عمل میں آیا (یعنی قبطی کا قتل) اور تم ناشکروں میں سے ہو۔

قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَؕ Open ayah 26:20 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا : میں نے وہ کام کیا جب کہ مجھے راہ کی خبر نہ تھی۔

فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِیْ رَبِّیْ حُكْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 26:21 in the Quran reader

پس جبکہ مجھے تم سے خوف ہوا تو تمہارے ہاں سے نکل گیا، پس میرے پروردگار نے مجھے علم عطا فرمایا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔

وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:22 in the Quran reader

اور یہ کوئی نعمت ہے جس کا تو مجھ پر احسان جتاتا ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے ۔

قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:23 in the Quran reader

فرعون بولا : اور (یہ تو بتاؤ کہ ) رب العالمین کیا ہے ؟

قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 26:24 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا : وہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے سب کا پروردگار ہے اگر تمہیں یقین ہو۔

قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:25 in the Quran reader

فرعون ان درباریوں سے جو اس کے اردگرد تھے ، بوالا کیا تم موسیٰ کی باتیں غور سے سنتے نہیں۔

قَالَ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:26 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا : کیا وہ تمہارا پروردگار ہے اور تمہارے اگلے باپ دادا کا پروردگار ہے ۔

قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ Open ayah 26:27 in the Quran reader

فرعون نے (نہ سمجھا اور) کہنے لگا : تمہارے یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں ضرور دیوانے ہیں۔

قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 26:28 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا : مشرق اور مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا پروردگار ہے اگر تمہیں عقل ہو۔

قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ Open ayah 26:29 in the Quran reader

(فرعون نے) کہا : اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو خدا ٹھہرایا تو میں ضرور تمہیں قید کردوں گا۔

قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 26:30 in the Quran reader

(موسی نے) کہا : (کیا تو قید کرے گا) اگرچہ میں تیرے پاس کوئی روشن چیز لاؤں۔

فرعون کا قصہ۔ (ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ فرعون کی قوم کے پاس جاؤ جنہوں نے اپنی جانوں پر کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ظلم کررکھا ہے وہ اللہ سے نہیں ڈرتے کہ اس کی اطاعت کریں اور اکیلا جانیں کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں تو حضرت موسیٰ نے کہا، اے میرے پروردگار میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھ کو جھٹلادیں اور ان کے جھٹلانے سے میرا دل تنگ ہوجائے اور میں طاقت لسانی بھی نہیں رکھتا، کیونکہ بوجہ لکنت کے صاف بول نہیں سکتا۔ اس لیے میرے بھائی ہارون کو بھی میرے ساتھ پیغمبر کر، اس کے علاوہ فرعون والوں کا مجھ پر الزام ہے میں نے ایک آدمی کو مارڈالا ہے اس واسطے مجھ کو ڈر ہے کہ کہیں وہ مجھ کو قتل نہ کرڈالیں اس پر اللہ نے موسیٰ سے فرمایا کہ ڈرو مت اور میری نشانیاں لے کرجاؤ، میں تمہارے ساتھ باتیں سنتا ہوں تم دونوں فرعون کے پاس جاکر کہو کہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے ہیں اے فرعون تو بنی اسرائیل کو اپنی قید سے اور عذاب سے چھوڑ دے وہ اللہ کے ایمان دار بندے ہیں اور ان کو ہمارے ساتھ کردے جب حضرت موسیٰ اللہ کا یہ پیغام پہنچاچکے تو فرعون نے حضرت موسیٰ کی طرف غسہ سے دیکھا اور کہا اے موسیٰ کیا ہم نے تم کو بچپن میں اپنے گھرپر پرورش نہیں کیا اور تم نے ہمارے گھر میں اپنی عمر کے کئی سال گزارے ہیں اس کا تم نے یہ بدلہ دیا کہ ایک آدمی کو قتل کرڈالا۔ اور تم تو بڑے ناشکرے ہو۔ فرعون کی ان باتوں کاموسی نے یہ جواب دیا کہ میں نے یہ کام اس وقت کیا کہ نہ مجھ پر وحی آتی تھی اور نہ میں رسول تھا پس میں تیری ایذارسانی کے خوف سے تیرے ہاں سے نکل گیا تھا اب میں اس حالت پر نہیں ہوں کہ کیونکہ اللہ نے مجھ کو رسول بناکرتیرے پاس بھیجا ہے اگر تو میری اطاعت کرے گا تو عذاب سے بچ جائے گا اور مخالفت کرے گا تو ہلاک ہوجائے گا اور یہ جو تو مجھ پر احسان میری پرورش کا جتاتا ہے یہ بمقابلہ اس ظلم و زیادتی کے جو تو بنی اسرائیل کے ساتھ کررہا ہے کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ تو نے ان کو غلام بنارکھا ہے اور ان سے سخت سخت کام لیتا ہے اور جب موسیٰ اور فرعون کی باتیں ہورہی تھیں اسوقت فرعون نے تعجب سے یہ کہا کہ سارے جہان کے پروردگار کی ماہیت اور حقیقت کیا ہے فرعون کی بادشاہت کچھ دور دور تک نہیں تھی بلکہ مصر میں فرعون کی بادشاہت تھی اور ملک شام میں عمالقہ کی بادشاہت تھی اس واسطے موسیٰ نے فرعون کو یوں قائل کیا کہ اتنے چھوٹے سے ملک کی بادشاہت پر تیراخدائی کا دعوی بالکل غلط ہے خدا تو وہ ہے جس کی بادشاہت آسمان اور زمین میں مشرق سے مغرب تک ہے آسمان سے جب وہ چاہتا ہے مینہ برساتا ہے نہیں توقحط پڑجاتا ہے زمین میں مشرق سے مغرب تک بڑے بڑے بادشاہوں کو جب وہ چاہتا ہے بیمارڈال دیتا ہے مارڈالتا ہے تجھ سے پہلے جو تیرے باپ دادا مصر کے بادشاہ تھے آخر وہ کہاں گئے اور ان کی بادشاہت تجھ کو کیونکر مل گئی فرعون نے اپنے دربانوں سے کہا، سنتے ہو یہ کیا کہتا ہے کیا ایک خدا ایسا ہوسکتا ہے کہ ان سب چیزوں کا ایک خدا ہو، فرعون اللہ تعالیٰ کا منکر تھا، اس سبب سے موسیٰ نے کہا، تیرا اور تیرے باپ دادوں کا جوتجھ سے پہلے گزرچکے ہیں ان کا بھی وہی ایک اللہ ہے اس پر فرعون کو تاب برداشت نہ رہی تو کہنے لگا دربانوں سے کہ یہ رسول جو تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں ضرور دیوانے ہیں پھر موسیٰ نے جواب دیا کہ وہ اللہ مشرق اور مغرب کا بھی ہے جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا پروردگار ہے اگر تم عقل رکھتے ہو تو البتہ جان لوگے کہ سارے جہاں کا رب اللہ ہے فرعون جب موسیٰ کی باتوں سے عاجز آگیا تب اس نے یہ کہا کہ اگر میرے سوا تمنے کسی کو معبود قرار دیا تو البتہ تم کو قید خانہ میں ڈال دوں گا، فرعون کا قید خانہ بھی براقیدخانہ تھا کسی کنوئیں میں قیدیوں کو ڈال دیا کرتا تھا اور اوپر سے اس کا منہ بند کردیتا تھا موسیٰ نے قیدخانے کا ذکر سنا تو یہ جواب دیا کہ اگر میں تجھے کوئی نشانی اپنی صداقت کی دکھاؤں تو تب مان لوگے۔
Ayahs 26:31–35

قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:31 in the Quran reader

(فرعون نے)1 کہا : اگر تم سچے ہو تو اسے لاؤ۔

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 26:32 in the Quran reader

پس موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیا تو جبھی وہ صریح اژدھا ہوگیا۔

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 26:33 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ (گریبان میں دے کر) باہر نکالا تو وہ فورا دیکھنے والوں کو چمکتا ہوا دکھائی دینے لگا۔

قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 26:34 in the Quran reader

فرعون نے اپنے درباریوں سے جو اس کے پاس تھے (یہ) کہا کہ بیشک یہ شخص بڑا ماہر جادوگرو ہے ۔

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ١ۖۗ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 26:35 in the Quran reader

تم کو اپنے جادو کے زور سے تمہاری زمین سے نکال دینا چاہتا ہے پھر تم کیا مشورہ دیتے ہو۔

جادوگروں کا ایمان لانا۔ (ف 1) فرعون نے کہا اگر تم سچے ہو تو نشانی لاؤ، پس حضرت موسیٰ نے اپنے عصا کو ڈال دیا اور وہ فورا ایک اژدھا بن گیا جو ایک خوفناک صورت تھی پھر حضرت موسیٰ نے اپناہاتھ گریبان میں دے کر باہر نکالاتو وہ ہاتھ سفید ہوگیا اور اس طرح چمکنے لگا جس طرح سورج کا ٹکڑا یہ دوسرا معجزہ دکھایا تو فرعون بدبخت نے اس کو جھٹلانے کی طرح سے گھبرا کر کہا یہ تو ایسا جادوگر ہے جو اور جادوگروں سے زیادہ علم والا ہے۔ یہ بات فرعون نے سرداروں سے کہہ کر ان کو بہکا دیا اور یہ کہہ دیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ کام جادو کی قسم ہے معجزہ نہیں ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو یہ چاہتے ہیں کہ تم کو ہماری زمین سے جادو کے سبب سے نکال دے، اب تم مجھ کو صلاح دو کہ اس کے ساتھ میں کیا معاملہ کروں۔