26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 26:36–48

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 26:36 in the Quran reader

وہ بولے1 اس کو اور اس کے بھائی کو ٹھہرائے رکھو اور شہروں میں نقیبوں کو بھیجو۔

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ Open ayah 26:37 in the Quran reader

کہ وہ سب ماہر جادوگروں کو جمع کر کے تمہارے پاس لے آئیں۔

فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 26:38 in the Quran reader

پس سب جادوگر ایک معین دن کے وقت پر جمع کیے گئے ۔

وَّ قِیْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ Open ayah 26:39 in the Quran reader

اور لوگوں سے کہا گیا کہ کیا تم بھی جمع ہوگے۔

لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:40 in the Quran reader

شاید ہم ان جادوگروں ہی کی پیروی کریں اگر وہ غالب ہوجائیں۔

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَئِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:41 in the Quran reader

پھر جب جادوگر آئے تو فرعون سے کہا : کیا ہمیں کچھ صلہ ملے گا اگر ہم غالب رہیں۔

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 26:42 in the Quran reader

فرعون نے کہا : اور بیشک اس وقت تم میرے مقرب لوگوں میں داخل ہوجاؤ گے۔

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 26:43 in the Quran reader

موسیٰ نے ان سے کہا کہ تم کو جو کچھ ڈالنا ہو ڈالو۔

فَاَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَ عِصِیَّهُمْ وَ قَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 26:44 in the Quran reader

پس انہوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں ڈال دیں اور کہنے لگے : فرعون کے اقبال کی قسم ! بیشک ہم ہی غالب رہیں گے۔

فَاَلْقٰى مُوْسٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚۖ Open ayah 26:45 in the Quran reader

پس موسیٰ نے بھی اپنا عصا ڈالا پھر تو وہ فورا (اژدھا بن کر) ان کے شعبدوں کو جو بنا رہے تھے نگلنے لگا۔

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۙ Open ayah 26:46 in the Quran reader

پس (یہ دیکھ کر) جادوگر سجدہ میں گر پڑے۔

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:47 in the Quran reader

کہنے لگے کہ ہم ایمان لائے اس پر جو سارے جہان کا پروردگار ہے ۔

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 26:48 in the Quran reader

جو موسیٰ اور ہارون کا پروردگار ہے ۔

(ف 1) فرعون سے سرداروں نے یہ کہا کہ ان دونوں کو مہلت دیدو، کیونکہ فرعون نے موسیٰ کے شہید کرنے کا ارادہ کیا تھا اس پر اس کے سرداروں نے اس کو قتل سے منع کیا اور کہا کہ قتل سے لوگوں کے دل میں یہ شبہ پیدا ہوجائے گا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں فرعون نے کوئی ایسی ہی زبردست غلبہ کی بات دیکھی تھی جوان کو زندہ رکھنا مناسب نہیں خیال کیا۔ اس لیے موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) ان دونوں جادوگروں سے مقابلہ کرانا ہے اور سب کے سامنے ان دونوں کو ہرانا مناسب ہے ان کے قتل کا ارادہ مناسب نہیں ہے۔ اور اپنی بادشاہت کے شہروں میں نقبیوں کو بھیج دے تاکہ وہ تیرے پاس بڑے جادوگر واقف کاروں کو لے آئیں تب فرعون نے اپنے آدمیوں کو جادوگروں کی تلاش میں جابجا بھیج دیا پس فرعون کے نقیب بڑے بڑے جادوگرجگہ جگہ سے لے آئے یہ جادوگر ایک بڑی تعداد میں تھے پہلے ان جادوگروں نے فرعون سے پوچھا کہ اگر ہم غالب رہے تو ہم کو کچھ ملے گا فرعون نے جواب دیا، اگر تم غالب آئے تو تمہیں نقد انعام بھی ملے گا اور تم فرعونی دربار کے مصاحب مقرر ہوجاؤ گے۔ غرض فرعون مصر کی رعایا کی بڑی تعداد اور جادوگر اور موسیٰ اور ہارون یہ سب میدان میں آئے اور جادوگروں نے فرعون کے اقبال کو اپنا حمایتی ٹھہرا کر اپنی وہ لکڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈالیں۔ سب طرح طرح کے سانپ ہوگئے جن سے تمام میدان بھرگیا موسیٰ نے بھی اپناعصا ڈالا جب وہ بڑا اژدھا بن کر جادوں کے سب سانپوں کو نگل گیا ، جادوگر تو اپنے فن میں استاد تھے فورا سمجھ گئے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا کارخانہ جادو کا نہیں ہے کیونکہ ہم سے بڑا جادوگریہی کرسکتا تھا کہ ہمارے جادو کے اثر کو مٹا دیتا ہے جس سے اصلی لکڑیوں اور رسیاں باقی رہ جاتیں، جب موسیٰ کے عصاکاسانپ اصل لکڑیوں اور رسیوں کو بھی نگل گیا تو یہ جادو نہیں بلکہ تائید آسمانی ہے اس بھید کو سمجھ کر سب جادوگر شریعت موسوی کے تابع ہوگئے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو مان کر سجدہ میں گرپڑے یہ حال دیکھ کر فرعون نے جادوگروں کو دھمکایا کہ بغیر میرے حکم کے ایمان لے آئے اس کی سزا جو کچھ ہوگی اس کا حال تمہیں معلوم ہوجائے گا اور یہ بھی کہا کہ موسیٰ گویا تمہارا استاد ہیں جن کے جادو کو تم نے اپنے جادو سے بڑا جان لیا۔
Ayahs 26:49–51

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ؕ۬ لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُوصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:49 in the Quran reader

فرعون نے کہا : کیا تم اس پر ایمان لائے قبل اس کے کہ میں تم کو اجازت دوں۔ بیشک وہ تمہارا سب کا استاد ہے کہ جس نے تم کو جادو سکھایا، پس1 اب تم جان جاؤ گے کہ میں تمہارا ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پاؤں کاٹوں گا اور تم سب کو سولی دوں گا (تاکہ اوروں کو عبرت ہو) ۔

قَالُوْا لَا ضَیْرَ١٘ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 26:50 in the Quran reader

وہ بولے : (ہمارا اس میں) کچھ نقصان نہیں بیشک ہم اپنے پروردگار کی طرف پلٹنے والے ہیں۔

اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ۠ Open ayah 26:51 in the Quran reader

بیشک ہم کو امید ہے کہ ہمارا پروردگار ہماری خطائیں بخش دے اس سبب سے کہ ہم (اس موقع پر حاضرین میں سے) سب سے پہلے ایمان لائے

(ف 1) حضرت موسیٰ کا معجزہ دیکھ کر جب جادوگر لوگ سجدے میں گرپڑے اور ایمان لے آئے اس وقت فرعون نے سزا کا حکم سنایا کہ پہلے میں تمہارا یک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پیر کاٹوں گا اور پھر تم کو سولی پر چڑھاؤں گا کیونکہ تم نے میری مرضی کے خلاف کام کیا ہے فرعون کی دھمکی کا جواب جادوگروں نے یہ دیا کہ کچھ مضائقہ نہیں ہم کو تو اپنے رب کے پاس لوٹ کر ہی جانا ہے اور ہم اس موقعہ پر حاضرین میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے قائل ہوکر اللہ تعالیٰ کی جناب میں حاضر ہوئے ہیں تو ہم کو دنیا کے عذاب کا کچھ خوف نہیں بلکہ ہم تو اللہ کی ذات سے یہ امید ہے کہ نادانی سے اتنے دنوں تک اللہ کی نافرمانی کی اور قصورواری میں جو ہم نے عمرگزاری ہے اس وحدانیت کے طفیل سے وہ ہمارے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجائیں گے۔
Ayahs 26:52–68

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْۤ اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ Open ayah 26:52 in the Quran reader

اور2 موسیٰ کی طرف ہم نے وحی بھیجی کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے نکل۔ بیشک تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔

فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۚ Open ayah 26:53 in the Quran reader

(پس وہ چلے) اب فرعون نے لشکر جمع کرنے کے لیے شہروں میں نقیب دوڑا دیئے۔

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِیْلُوْنَۙ Open ayah 26:54 in the Quran reader

کہ یہ لوگ (یعنی بنی اسرائیل ہماری نسبت) تھوڑی سی جماعت ہے ۔

وَ اِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُوْنَۙ Open ayah 26:55 in the Quran reader

اور بیشک انہوں نے ہم کو بہت غصہ دلایا ہے ۔

وَ اِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَؕ Open ayah 26:56 in the Quran reader

اور یشک ہم سب سازو سامان (اور باقاعدہ فوج رکھتے ہیں) ۔

فَاَخْرَجْنٰهُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:57 in the Quran reader

(خدا تعالیٰ فرماتا ہے) پس ہم نے انکو باغوں اور چشموں۔

وَّ كُنُوْزٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 26:58 in the Quran reader

اور خزانوں اور عمدہ مکانات سے نکال باہر کیا

كَذٰلِكَ١ؕ وَ اَوْرَثْنٰهَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:59 in the Quran reader

ہم نے (ان کے ساتھ تو ) ایسا ہی کیا اور (ان کے بعد) بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث کردیا۔

فَاَتْبَعُوْهُمْ مُّشْرِقِیْنَ Open ayah 26:60 in the Quran reader

پھر فرعونیوں نے دن نکلتے ان کا پیچھا کیا۔

فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ Open ayah 26:61 in the Quran reader

پھر جب دونوں جماعتیں (ایسی قریب ہوئیں کہ) ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں۔

قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 26:62 in the Quran reader

تو موسیٰ کے ہمراہی کہنے لگے کہ بیشک وہ ہم تک آ پہچنے، موسیٰ نے کہا : ہرگز نہیں بیشک میرے ساتھ میرا پروردگار ہے وہ مجھ کو ابھی راہ دکھائے گا۔

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ١ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 26:63 in the Quran reader

پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ اپنے عصا کو دریا پر مار (موسی نے عصا مارا) تو فورا دریا پھٹ گیا پس (پانی کا) ہر حصہ ایسا ہوگا یا جیسے بڑا پہاڑ۔

وَ اَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:64 in the Quran reader

اور ہم دوسرے فریق کو اس مقام کے قریب لائے۔

وَ اَنْجَیْنَا مُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:65 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ اور اس کے سب ساتھیوں کو بچا لیا۔

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَؕ Open ayah 26:66 in the Quran reader

پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:67 in the Quran reader

بیشک اس قصہ میں ضرور نشانی ہے اور ان میں اکثر مسلمان نہ تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:68 in the Quran reader

اور بیشک تمہارا پروردگار ہی غالب مہربان ہے ۔

فرعون کا ڈوب کر ہلاک ہونا۔ (ف 2) جب حضرت موسیٰ فرعون اور اس کے اہل دربار پر خدا کی وحدانیت قائم کرچکے اور وہ لوگ سرکشی سے باز نہ آئے تو اب سوائے عذاب الٰہی کے اور کچھ باقی نہ رہا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم کیا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے ایک رات اپنے ساتھ لے کر چلے جاؤ اس وقت بنی اسرائیل نے فرعون کی قوم سے بہت سازیور مانگ لیا تھا کہ آج ان کے ہاں ایک شادی ہے ہم اپنی بیبیوں کو پہنائیں گے بعد فارغ ہونے کے واپس کردیں گے جب صبح ہوئی تو فرعون نے ایک آدمی بھی بنی اسرائیل کا مصر میں نہ دیکھا اس پر فرعون کو جوش آیا اور بہت غضب ناک ہوا اور فرعون نے شہروں میں جلدی سے نقیب دوڑائے اور کہابھیجا کہ بنی اسرائیل کی ایک تھوڑی سی جماعت ہے انسے ہم کو ہر وقت غصہ کی باتیں پہنچتی رہتی ہیں بیشک ہماری جماعت ہوشیار اور ہتھیار لگائے ہوئے ہے ہم پوری طرح مقابلہ کریں گے پھر جن لوگوں کا تقدیرالٰہی میں ہلاک ہونا تھا ان کو فرعون نے ساتھ لیا، اور بنی اسرائیل کے پکڑنے کو چلا، اسی کو فرمایا پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں اور خزانوں سے اور عمدہ گھروں سے نکال کر باہر کردیا۔ کیونکہ یہ بات اسی طرح مقرر تھی اور ہم نے ان مکانوں کا اور باغوں اور نہروں کا بنی اسرائیل کو وارث بنایا۔ اور فرعون کے لشکر میں سولہ لاکھ آدمی تھے پھر فرعون اور اس کے لشکروں کے لوگ سورج نکلتے وقت موسیٰ اور قوم بنی اسرائیل کے پیچھے پڑے، جب دونوں فوجیں مقابل ہوئیں تو بنی اسرائیل گھبرا کر موسیٰ سے کہنے لگے کہ ہم تو پھنس گئے اب یہ لوگ ہم کو پکڑ لیں گے موسیٰ نے فرمایا تم تک کوئی نہیں پہنچ سکتا ڈرو نہیں میرے ساتھ میرا رب ہے وہ مجھ کو میرا راستہ دکھائے گا، پھر موسیٰ کو حکم کیا کہ اپنا عصا دریا میں مارو، عصا کے مارتے ہی دریا میں بارہ راستے ہوگئے پس ایک ایک ٹکڑا بڑے پہاڑ کے برابر ہوگیا اورادھر فرعون کے لشکر جمع ہوگئے یعنی سب دریائے قلزم کے گرد اکٹھے ہوگئے فرعون جب دریا کے کنارے پر پہنچا اور اس حال کو دیکھا تو اپنی قوم سے جو کہ نہایت احمق تھے کہنے لگا کہ تم دیکھتے ہو کہ میری ہیبت سے دریا پھٹ گیا ہامان نے فرعون سے بطور مشورہ کے کہایہ سب موسیٰ کی دعا کا اثر ہے ایسانہ کرنا کہ تو اس میں گھس جائے اور اپنے آپ کو ہلاک کرڈالے۔ فرعون نے یہ سن کرچاہا کہ اپنے گھوڑے کو ادھر سے بچالے ناگاہ جبرائیل (علیہ السلام) مادہ گھوڑے پر سوار ہوکر دریا میں گھس پڑے فرعون کا گھوڑا گھوڑی کو دیکھ کر بگڑ گیا اور قابو سے نکل گیا اور دریا میں جاپڑا۔ اس کے ساتھ سارا لشکر گھس پڑا اور میکائیل (علیہ السلام) لشکر کو پیچھے سے ہانکتے جاتے تھے یہاں تک کہ سب لشکر دریا میں جاپڑا اور دریا برابر ہوگیا اور سب ہلاک ہوگئے۔ اور بنی اسرائیل سلامتی سے پار ہوگئے ان سب باتوں میں خاص کر نجات دینے اور غرق کرنے میں عبرت کی بڑی نشانی ہے لیکن اکثر لوگ اس سے بیخبر ہیں اور بیشک تمہارا رب تو زبردست رحم کرنے والا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا ظالم لوگوں کو اللہ جب تک چاہتا ہے اپنی رحمت سے مہلت دیتا ہے پھر جب وہ لوگ مہلت پر بھی اپنی سرکشی سے باز نہیں آتے تو ان کی ایسی گرفت کرتا ہے کہ ان کو بالکل ہلاک کردیتا ہے۔