19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsمظہر القرآن

Ayah 19:1

كٓهٰیٰعٓصٓ۫ۚ Open ayah 19:1 in the Quran reader

کھیعص

خواص سورة مریم : جو شخص روزی کے سبب پریشان ہو تو سورة مریم کو سات بار پڑھ کر دعا کرے انشاء اللہ روزی کی کشائش ہوگی۔ جو شخص حاکم کو اپنی عرضی دے تو لفافہ میں بند کرتے وقت سورة مریم پڑھ کر اس لفافہ کے اندر دم کر دے تو مراد پاوے گا۔ جو شخص سورة مریم کو لکھ کر اپنے گھر میں رکھے گا تو اس سے خیر و برکت اور خوشی زیادہ ہوگی۔
Ayahs 19:2–4

ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِیَّاۖۚ Open ayah 19:2 in the Quran reader

یہ بیان ہے تمہارے پروردگار کی رحمت کا جو اس نے اپنے بندہ زکریا پر کی

اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا Open ayah 19:3 in the Quran reader

جبکہ اس نے اپنے پروردگار کو آہستہ پکارا

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِیًّا Open ayah 19:4 in the Quran reader

عرض کیا کہ اے میرے پروردگار ! میرے (بدن کی) ہڈیاں (بوجوہ برھاپے کے) کمزور ہوگئیں اور سر میں بالوں کی سفیدی پھیل گئی اور تجھ سے مانگ کر اے پروردگار میں کبھی محروم نہیں رہا

حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر یہ سورت مریم مکی ہے اس سورة میں مریم (علیہا السلام) کا قصہ ہے۔ حروف مقطعات کی تفسیر کا ذکر سورة بقرہ میں گذر چکا ہے، اور سورة آل عمران کی آیتوں میں حضرت مریم (علیہا السلام) کی ماں کی نذر ماننے کا حال معلوم ہوچکا ہے۔ اب یہاں حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر ہے کہ جب حضرت مریم (علیہا السلام) سیانی ہوگئیں تو زکریا (علیہ السلام) نے حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے لئے ایک عبادت خانہ بنوا دیا۔ اس عبادت خانہ میں زکریا (علیہ السلام) جب حضرت مریم سلام اللہ علیہا سے ملنے آتے تو حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے پاس ان کے بےفصل کا میوہ رکھا ہوا نظر آیا کرتا۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے ایک دن پوچھا :" مریم یہ میوہ کہاں سے آیا " تو حضرت مریم سلام اللہ علیہا نے جواب دیا کہ یہ میوہ اللہ تعالیٰ نے دیا ہے حاصل کلام یہ ہے کہ جب زکریا (علیہ السلام) نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے بےفصل کا میوہ حضرت مریم (علیہ السلام) کو عنایت کیا تو زکریا (علیہ السلام) کے دل میں یہ خیال گزرا کہ وہ صاحب قدرت میرے بڑھاپے اور میری بیوی کے بانجھ پنے میں مجھے اولاد عطا فرمادے تو اس کی قدرت سے کچھ بعید نہیں ہے۔ اسی خیال سے زکریا (علیہ السلام) نے یہ دعا کی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ اے میرے پروردگار ! میں تجھ سے کبھی سوال کر کے محروم نہیں رہا ہوں۔ میں تجھ سے اب التجا کرتا ہوں پوشیدہ کہ یا اللہ ! بڑھاپے کے سبب سے اگرچہ میرے بدن کے سب جوڑ کمزور ہوگئے، اور سارا سر سفید ہوگیا لیکن اس سے پہلے کوئی میری دعا رائیگاں نہیں گئی اس لئے تیری رحمت کے بھروسہ پر ایک دعا کر کے اس کی قبولیت کا امیدوار ہوں "
Ayahs 19:5–6

وَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ وَ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّاۙ Open ayah 19:5 in the Quran reader

مجھے اپنے بعد اپنے رشتہ داروں ( کی طرف) سے اندیشہ ہے اور میری بیوری بانجھ ہے، پس (اس صورت میں) تو اپنی طرف سے مجھے ایک ایسا جانشین (یعنی بیٹا) عطا کر

یَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ١ۖۗ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا Open ayah 19:6 in the Quran reader

کہ وہ میرے علوم خاصہ میں میرا وارث ہو اور یعقرب کے خاندان کا بھی اور اس کو اے پروردگار پسندیدہ بنا

حضرت یحییٰ اور حضرت زکریا علہما السلام کی شہادت حضرت زکریا (علیہ السلام) حضرت مریم (علیہ السلام) کے خالو تھے۔ چناچہ معراج کی صحیح حدیثوں میں اس کی تفصیل آچکی ہے کہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خالہ زاد بھائی ہیں۔ اگرچہ حضرت زکریا بیت المقدس کے متولیوں میں تھے، لیکن بڑھئی کا کام کر کے اپنے ہاتھ کی کمائی سے اپنی گزر کیا کرتے تھے۔ اس لئے ان کے پاس کچھ ایسا مال ومتاع تو نہیں تھا، صرف نبوت کے اپنے خاندان میں چلنے کے لئے لڑکے کی دعا مانگی، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کی اور حضرت یحییٰ پیدا ہوئے۔ یہ نام حضرت یحییٰ کا اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے، اور فرما دیا کہ اس سے پہلے اس نام کا کوئی آدمی دنیا میں نہیں ہوا۔ اس نام کے موافق اگرچہ حضرت یحییٰ دنیا میں میں زیادہ نہیں جئے، اور بنی اسررائیل کے ہاتھ سے شہید ہوئے، اس واسطے گویا ہمیشہ اپنے نام کے موافق زندہ ہیں۔ بنی اسرائیل کا اس وقت کا بادشاہ ایک عورت سے شادی کرنا چاہتا تھا، اور توریت کے حکم سے وہ نکاح جائز نہ تھا۔ اس لئے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نے اس بادشاہ کو اس نکاح سے منع کیا۔ اس بادشاہ نے ضد کر کے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو شہید کر ڈالا۔ جس جگہ شہید ہوئے تھے، اس جگہ زمین سے خود بخود خون ابلتا تھا۔ اسی عرصہ میں بخت نصر بنی اسرائیل پر چڑھائی کے لئے آیا، اور ستر ہزار آدمی بنی اسرائیل کے قتل کئے جاچکے، تب وہ خون کا ابلنا بند ہوا۔ حاصل یہ ہے کہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے عوض اللہ تعالیٰ نے ستر ہزار ادمی کا قصاص لیا۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) سے بھی بنی اسرائیل منحرف ہوگئے تو حضرت زکریا (علیہ السلام) نے جنگل میں جاکر ایک درخت کی پناہ لی۔ یہ پیڑ شق ہوگیا اور یہ اس کے اندر چھپ گئے۔ بنی اسرائیل بھی ان کی تلاش میں اس پیڑ کے پاس تک پہنچ گئے۔ شیطان ملعون بھی وہاں آن موجود ہوا اور آرے کی صورت بنی اسرائیل کو سمجھائی۔ بنی اسرائیل نے لوہے کا آرا بنایا اور مع پیڑ کے حضرت زکریا کو بیچ سے چیر کر دو ٹکڑے کر ڈالا۔ حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش ایک ہی سال کی ہے۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) پر خالص توریت کی شریعت کا زمانہ ختم ہوگیا۔ اب آگے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت اور توریت اور انجیل کی ملی ہوئی نبوت کا زمانہ ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ زکریا (علیہ السلام) کو جو اندیشہ تھا کہ ان کے پیچھے ان کے بھائی بند دین کو بگاڑ دیں گے۔ اس کا ظہور زکریا (علیہ السلام) کی زندگی میں ہی ہوگیا کہ بےدینی کے سبب سے اپنے اور غیر سب نے مل کر دو نبیوں کو شہید کر ڈالا۔
Ayahs 19:7–11

یٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ اِ۟سْمُهٗ یَحْیٰى١ۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا Open ayah 19:7 in the Quran reader

(اللہ نے کہا):" اے زکریا ! ہم تجھے ایک فرزند کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہے کہ اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی نہیں کیا "

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِیًّا Open ayah 19:8 in the Quran reader

زکریا نے عرض کیا کہ اے پر ورردگار ! میرے کس طرح لڑکا ہوگا حالانکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے سے نہایت ہی ضعف کو پہنچ گیا

قَالَ كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ وَّ قَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ تَكُ شَیْئًا Open ayah 19:9 in the Quran reader

کہا :" ایسا ہی ہوگا " تیرے پروردگار نے فرمایا کہ یہ مجھے آسان ہے اور میں نے اس سے پہلے تجھے اس وقت بنایا تھا۔ جب تو کچھ بھی نہ تھا۔

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا Open ayah 19:10 in the Quran reader

زکریا نے عرض کیا کہ اے پروردگار میرے لئے کوئی نشانی مقرر کر فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تو لوگوں سے تین رات دن کلام نہ کرسکے گا بھلا چنگا ہو کر

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:11 in the Quran reader

پس زکریا مسجد سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آیا پس ان کو اشارہ سے کہا کہ تم لوگ صبح اور شام خدا کی تسبیح کرتے رہو

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب حضرت زکریا (علیہ السلام) نے بیٹے کی درخواست کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی درخواست منظور کی اور ان سے کہا کہ اے زکریا (علیہ السلام) ! ہم تجھے بیٹا ہونے کی خوشی سناتے ہیں، اور اس کا نام یحییٰ ہوگا۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے عرض کی کہ اے پروردگار ! میرے لڑکا کہاں سے ہوگا، میری بیوی بانجھ ہے، اور میں بھی بہت بڈھا ہوگیا ہوں پھر مزید اطمینان کے لئے فرشتہ نے کہا :" بیشک حالت تو ایسی ہی ہے، مگر تمہارا پروردگار یوں فرماتا ہے کہ یہ ہمارے نزدیک آسان بات ہے، یعنی ہم نے اسباب بھی پیدا کرسکتے ہیں۔ اور جب وہ چاہتا ہے سبب اور مسبب دونوں کو دم بھر میں پیدا کردیتا ہے "۔ پھر زکریا (علیہ السلام) نے عرض کی :" اے میرے پروردگار میرے واسطے کوئی علامت مقرر کیجئے جس سے مجھ کو یہ معلوم ہوجاوے کہ بچہ کی ولادت کا زمانہ قریب ہے "۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ نشانی یہ ہے کہ تم باوجود صحت کے تین دن تک بات نہ کرسکو گے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ جب وہ زمانہ آیا تو حضرت زکریا (علیہ السلام) کو گویائی کی قدرت نہ رہی۔ پس جس روز ان کو امامت کرانی تھی اپنے حجرہ سے باہر نکلے، اور ان سے اشارہ سے کہا کہ تم لوگ بطور خود صبح وشام عبادت کرتے رہو، مجھ میں نماز پڑھانے کی قوت نہیں۔ اس علامت کے تھورے عرصے بعد حضرت یحییٰ (علیہ السلام) تولد ہوئے۔
Ayahs 19:12–15

یٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ١ؕ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّاۙ Open ayah 19:12 in the Quran reader

ا (جب یحییٰ پیدا ہوچکے تو ان کو کہا گیا):" اے یحییٰ کتاب کے احکام کو مضبوط تھام " اور ہم نے بچپن ہی میں اس کو دانائی عطا کی

وَّ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ زَكٰوةً١ؕ وَ كَانَ تَقِیًّاۙ Open ayah 19:13 in the Quran reader

اور اپنے پاس سے شفقت اور پاکیزگی عنایت کی تھی اور وہ بڑا پرہیزگار تھا

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَیْهِ وَ لَمْ یَكُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا Open ayah 19:14 in the Quran reader

اور اپنے ماں باپ سے اچھا سلوک کرنے والا تھا اور وہ سرکش ونافرمان نہ تھا

وَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا۠ Open ayah 19:15 in the Quran reader

اور اس پر سلامتی ہے جس دن کہ وہ پیدا ہوا اور جس دن کہ انتقال کرے اور جس دن کہ وہ زندہ ہو کر اٹھایا جائے

یحییٰ (علیہ السلام) لڑکپن ہی میں عبادت اور تلقین کیا کرتے تھے، اور کھیل کود میں مصروف نہیں ہوئے۔ اور ان کو حکم ہوا کہ اے یحییٰ کتاب کو مضبوط ہو کرلو یعنی توراۃ پر استقلال کے ساتھ عمل کرو۔ اور وہ لڑکپن ہی میں ہمارے فضل سے علم لاہوتی حاصل کرچکے تھے۔ ہم نے یحییٰ (علیہ السلام) کو رحم دل اور پاکیزہ بنایا تھا۔ وہ پرہیزگار تھا اور ماں باپ سے سلوک کرتا تھا، اور ان کی خدمت میں مستعد تھا، اور سرکش اور نافرمان نہ تھا۔ اور جس دن وہ پیدا ہوا سلامتی کے ساتھ پیدا ہوا۔ اور یہی کیفیت اس کی موت کے دن کی ہے، اور یہی نقشہ اس کا اس روز ہوگا جس روز کہ قبر سے اٹھایا جائے گا۔
Ayahs 19:16–21

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَ١ۘ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِیًّاۙ Open ayah 19:16 in the Quran reader

اور (اے محبوب ﷺ) اس کتاب (یعنی قران) میں مریم کا ذکر کرو جبکہ وہ اپنے گھر والوں سے کنارہ کر کے ایک الگ جگہ مشرق کی طرف (غسل کے لئے گئی

فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا١۪۫ فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا Open ayah 19:17 in the Quran reader

پھر لوگوں کی طرف سے بیچ میں ایک پردہ ڈال لیا، پس اس حالت میں ہم نے اپنا فرشتہ ( جبرائیل) کو بھیجا۔ پس وہ اس کے سامنے ایک تندرست آدمی کے روپ میں ظاہر ہوا

قَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا Open ayah 19:18 in the Quran reader

مریم نے کہا ؛" میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں اگر تجھے خدا کا ڈر ہے " (تو یہاں سے ہٹ جاوے گا)

قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ١ۖۗ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا Open ayah 19:19 in the Quran reader

فرشتہ نے کہا :" میں تیرے پروردگار کا بھیجا ہوا (فرشتہ) ہوں تاکہ میں تجھ کو ایک پاکیزہ لڑکا دوں "

قَالَتْ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِیًّا Open ayah 19:20 in the Quran reader

(مریم نے) کہا :" میرے کہاں سے لڑکا ہوگا حالانکہ مجھ کو کسی آدمی نے ہاتھ بھی نہیں لگایا اور نہ میں بدکار ہوں "

قَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ١ۚ وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّا١ۚ وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا Open ayah 19:21 in the Quran reader

(فرشتہ نے) کہا :" یوں ہی ہوگا تیرے پروردگار نے فرمایا ہے کہ یہ بات مجھ کو آسان ہے، اور اس لئے کہ ہم اس (فرزند) کو لوگوں کے لئے اپنی قدرت کی نشانی کریں اور اپنی طرف سے ایک رحمت اور یہ کام ٹھہر چکا ہے "

حضرت مریم (علیہا السلام) کا واقعہ یہ دوسرا واقعہ مریم (علیہا السلام) کا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھے جن کا نام عمران تھا۔ یہ عمران موسیٰ (علیہ السلام) کے والد نہیں ہیں۔ ان کی ایک بیوی حنہ بڑی نیک تھیں، اور وہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کی سالی تھیں۔ انہوں نے خدا تعالیٰ سے نذر مانی تھی کہ میرے ہاں جو لڑکا پیدا ہوگا تو میں تیری نذر کروں گی۔ ان لوگوں میں اس نذر کا دستور قدیمی تھا مگر حنہ کے ہاں لڑکا نہ ہوا بلکہ لڑکی ہوئی جن کا نام مریم رکھا گیا۔ سب کو افسوس ہوا کہ اگر لڑکا ہوتا تو بیت المقدس کی خدمت کرتا ۔ لڑکیوں کو بیت المقدس کا خادم بنانے کا حکم نہ تھا۔ یہ واقعہ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ مگر اللہ نے خاص طور پر باوجود لڑکی ہونے کے ان کا خادم ہونا قبول فرمالیا۔ حضرت مریم (علیہا السلام) کے باپ عمران حضرت مریم کے پیدا ہونے سے پہلے وفات پا گئے تھے۔ اس لئے اپنے خالو حضرت زکریا کے پاس حضرت مریم (علیہا السلام) پرورش پا کر بیت المقدس کی خدمت کیا کرتی تھیں ۔ جب حضرت مریم سلام اللہ علیہا جوان ہوگئیں تو ایک دن کا ذکر ہے کہ غسل حیض کرنے کے واسطے لوگوں سے علیحدہ ہوئیں۔ اور شرقی جاجب چلی گئیں ۔ اور لوگوں کے اور اپنے درمیان ایک پردہ ڈال لیا، اور یہ اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا کہ اپنی قدرت کا نمونہ دنیا میں پیدا کرے ۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس حالت میں حضرت مریم (علیہا السلام) کے پاس جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا۔ وہ ان کے سامنے ایک خوبصورت آدمی کی شکل بن کر آئے۔ حضرت مریم ان کو دیکھ کر آزردہ ہوئیں اور کہا کہ اے شخص ! میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔ اگر تو خدا ترس ہے۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا کہ اے مریم ! آزردہ نہ ہو، میں انسان نہیں ہوں بلکہ تمہارے پروردگار کا بھیجا ہوا ہوں۔ اور مجھے خدا نے اس لئے بھیجا ہے کہ تمہیں ایک پاکیزہ لڑکا دے جاؤں۔ حضرت مریم (علیہ السلام) نے کہا :" میرے ہاں لڑکا کیوں ہونے لگا، کسی بش نے مجھے ہاتھ نہٰیں لگایا اور نہ میں خدانخواستہ بدکار ہیں "۔ یعنی نہ میرا کسی کے ساھ نکاح ہوا ہے اور نہ میں فاحشہ ہوں۔ اس کے جواب میں جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا :" یہ بات تو ٹھیک ہے مگر تمہارا پروردگار فرماتا ہے کہ ہم کو بےباپ کے پیدا کرنا کچھ مشکل نہیں "۔ واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی چار قدرتیں عالم میں دکھائیں ہیں : (1) ماں اور باپ سے بھی پیدا کر کے دکھایا ہے جیسا کہ عام خلقت اور، (2) بغیر ماں باپ کے جیسے حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش اور ، (3) فقط باپ سے جیسے حوا (علیہا السلام) پیدا ہوئیں اور، (4) فقط ماں سے جیسے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) حضرت مریم (علیہ السلام) سے۔ الغرض وہ قادر مطلق ہے اس کو کوئی کام مشکل نہیں۔ پھر فرمایا کہ ہم کو یہ منظور ہے کہ اس لڑکے کو اپنی قدرت اور رحمت کا نمونہ بنائیں، اور یہ بات روز ازل میں قرار پا چکی ہے۔
Ayahs 19:22–26

فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِیًّا Open ayah 19:22 in the Quran reader

پس مریم کو (خود بخود) حمل رہ گیا پھر اسے لئے ہوئے ایک دور جگہ چلی گئی

فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ١ۚ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا Open ayah 19:23 in the Quran reader

پھر دردزہ اس کو کھجور کے پیڑ کی جڑ میں لے آیا ۔ کہنے لگی :" اے کاش ! میں اس سے پہلے مر چکی ہوتی اور ایسی ہوجاتی کہ کسی کو یاد بھی نہ آتی "

فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا Open ayah 19:24 in the Quran reader

پس اس کو اس کے نیچے کی جانب سے ( جبرائیل نے) آواز دی کہ غم نہ کھا بیشک تیرے پروردگار نے تیرے نیچے ایک چشمہ پیدا کردیا ہے

وَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا٘ Open ayah 19:25 in the Quran reader

اور اس کھجور کے درخت کے تنا کو ( پکڑ کر) اپنی طرف ہلا۔ اس سے تجھ پر تازی پکی کھجوریں گریں گی

فَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًا١ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا١ۙ فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ Open ayah 19:26 in the Quran reader

پھر ان کو کھا اور پی اور آنکھیں ٹھنڈی رکھ۔ پھر اگر تو کسی آدمی کو دیکھے تو کہہ دینا کہ میں نے آج اللہ کے واسطے روزے کی نذر مان رکھی ہے۔ پس آج میں کسی آدمی سے ہر گز نہیں بولوں گی

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ سب عورتوں کی حمل کی جو حالت ہوتی ہے، وہ حضرت مریم کے حمل کی نہیں تھی۔ اور یہ بات نئی ہوئی کہ بجائے مرد اور عورت کے نطفہ کے فقط عورت کے نطفہ سے کلمہ کن کے موافق پتلا تیار ہوا، اور پتلے سے اس روح کا تعلق ہوگیا۔ جو روح جبرئیل (علیہ السلام) نے حضرت مریم کے جسم میں پھونک دی تھی۔ پس وہ اس حمل کو دیکھ کر ایک دور مکان میں جا بیٹھیں اور جس وقت ان کو درد زہ شروع ہوا وہ ایک کھجور کے درخت کے نیچے گئیں۔ اس مقام پر نہ تو پانی تھا، نہ کوئی دائی تھی، نہ کوئی کھانے کی شے، اور نہ کوئی پینے کی۔ الغرض ہر قسم کی بےسروسامانی تھی۔ ادھر بدنامی کا خیال سب سے زیادہ غالب تھا۔ ایسی حالت میں انسان کا مقتضائے طبعی ہے کہ گھبرا جاتا ہے، یہ بھی گھبرا گئیں اور کہنے لگیں کہ کاش میں اس دن سے پہلے ہی مر چکتی اور نیست ونابود ہوگئی ہوتی۔ اور لوگ میرا نام ونشان بھی بھول گئے ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ قاعدہ ہے کہ ایسے وقتوں میں اپنے نیک بندوں کی ضرور دستگیری کرتا ہے۔ ان کی پائنتی کی طرف حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے آواز دی کہ مریم غم نہ کھا، ذرا نظر اٹھا کر ادھر دیکھو۔ تمہاری پائنتی کی طرف اللہ تعالیٰ نے ایک چشمہ پیدا کردیا ہے، جس قدر پانی درکار ہو لے لو، اور اس کجور کے درخت کو ہلاؤ تروتازہ کھجوریں اس میں جھڑیں گی۔ حالانکہ وہ درخت خشک تھا۔ پس کھاؤ پیو اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرو۔ یہاں سے خداوند کریم نے علاوہ پیدائش عیسیٰ (علیہ السلام) کے دو عجیب قدرتیں دکھائیں اور بھی دکھائیں : (1) ایک چشمہ کا پیدا کرنا (2) دوسرے خشک درخت میں سے کھجوروں کا گرانا۔ پھر ارشاد ہوا کہ جب تو کسی آدمی کو دیکھے تو اس سے کلام نہ کیجیئو اور اسے اشارہ سے کہہ دیجیئو کہ میں نے رحمٰن کے لئے روزہ مانا ہے، اور میں آج کے دن کسی شخص سے بات نہ کروں گی۔ شریعت محمدی میں کھانے پینے کا روزہ ہوتا ہے، چپ کا روزہ منسوخ ہوگیا۔
Ayahs 19:27–33

فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ١ؕ قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا Open ayah 19:27 in the Quran reader

پھر وہ اپنی قوم کے پاس آئی عیسیٰ کو گود میں لئے ہوئے، لوگوں نے کہا :" اے مریم ! تو نے بہت بری بات کی

یٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّاۖۚ Open ayah 19:28 in the Quran reader

اے ہارون کی بہن ! نہ تو تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں بدکار تھی "

فَاَشَارَتْ اِلَیْهِ١ؕ قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا Open ayah 19:29 in the Quran reader

پس مریم نے اپنے بچہ کی طرف اشارہ کیا وہ لوگ کہنے لگے :" بھلا ہم گود کے بچے سے کیسے بات کریں "

قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ Open ayah 19:30 in the Quran reader

بچے (یعنی عیسیٰ نے کہا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھ کو کتاب دی ہے اور مجھ کو نبی کیا

وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ١۪ وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّا٢۪ۖ Open ayah 19:31 in the Quran reader

اور اس نے مجھ کو مبارک کیا میں (جہاں کہیں ہوں اور مجھے نماز وزکوٰۃ کا حکم دیا جب تک میں (دنیا میں) زندہ رہوں

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ١٘ وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا Open ayah 19:32 in the Quran reader

اور اپنی ماں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا بنایا) اور مجھے سرکش اور بدبخت نہیں کیا

وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا Open ayah 19:33 in the Quran reader

اور مجھ پر سلامتی ہے جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن کہ میں مروں اور جس دن (روز قیامت میں) زندہ کر کے اٹھایا جاؤں

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا ذکر اور حضرت مریم (علیہا السلام) پر تہمت اور چالیس روز کے بچہ کی شہادت جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوچکے تو بعد چلہ کے مریم (علیہا السلام) ان کو گود میں لے کر اپنی قوم کے پاس آئیں۔ وہاں لوگوں کا ان پر ہنگامہ ہوا، اور طعن وتشنیع شروع ہوئی۔ کہنے لگے :" اے مریم ! یہ تو نے بری بات کی۔ اے ہارون کی بہن ! (حضرت ہارون برادر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہی کی طرف نسبت کی کیونکہ ان کی نسل سے تھیں، اس لئے ہارون کی بہن کہا یہ عرب کا محاورہ ہے) ۔ تیرا باپ تو بدکار نہ تھا اور نہ تیری ماں فاحشہ تھی، تو حرام کار کہاں سے پیدا ہوئی "۔ مریم نے اپنے بچہ کی طرف اشارہ کردیا کہ خود اسی سے دریافت کرلو کہ میرا تو خاموشی کا روزہ ہے، مگر جس لڑکے کی پیدائش کو انوکھا کام کہا جاتا ہے اس کی جواب دہی خود وہ لڑکا ہی کر لیوے گا۔ حضرت مریم (علیہا السلام) کے اس اشارہ کے مطلب کو سمجھ کر قوم کے لوگوں کو بہت غصہ آیا، اور غصہ سے یہ کہنے لگے کہ چالیس دن کے بچہ نے دنیا میں کہیں باتیں کی ہیں، جو ہم اس لڑکے سے بات چیت کریں۔ قوم کے لوگوں کی سب باتیں سن کر عیسیٰ (علیہ السلام) گود میں سے خود بو اٹھے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں (سب باتوں سے پہلے یہ جملہ اس واسطے فرمایا کہ کوئی ان کو خدا یا خدا کا بیٹا نہ سمجھے اور اس عجیب قدرت کو دیکھ رک اس کی عقل چکر میں نہ آئے) " مجھ کو اللہ نے کتاب عنایت کی ہے، اور مجھ کو نبی بنایا ہے "۔ انجیل ان کو اس وقت تک نہ ملی تھی بلکہ نبوت بھی اور کتاب بھی تیس برس کی عمر میں دونوں ملیں مگر مجازاً انہوں نے یہ بات فرمائی۔ مقصد یہ ہے کہ مجھے کتاب ملنے والی ہے، اور میں نبی ہونے والا ہوں ، اور مجھے اللہ نے برکت والا بنایا ہے، اور مجھ کو تابہ زندگی نماز وزکوۃ کا حکم فرمایا۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے حال میں علماء نے لکھا ہے کہ زکوٰۃ کے قابل نقد روپیہ جمع کرنا تو درکنار عیسیٰ (علیہ السلام) دوسرے دن کے لئے کوئی کھانے کی چیز نہیں رکھتے تھے۔ اسی واسطے زکوٰۃ کے معنی :" گناہوں سے پاک رہنے " کے ہیں ۔ پھر فرمایا :" پیدا ہونے کے دن، مرنے کے دن، حشر کے دن کی پریشانی سے اللہ تعالیٰ نے مجھ کو امن میں رکھا ہے "۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہ کلام فرمایا تو لوگوں کو حضرت مریم (علیہا السلام) کی برات و طہارت کا یقین ہوگیا۔ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اتنا فرما کر خاموش ہوگئے۔ اور اس کے بعد کلام نہ کیا، جب تک کہ اس عمر کو پہنچے جس میں بچے بولنے لگتے ہیں۔ اوپر گزرا ہے کہ ماں باپ سے بد سلوکی کرنے والا جنت کے، اور ظلم و زیادتی کرنے والا نیکیوں کو ہاتھ سے کھو دینے کے سبب بڑا بد نصیب ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا :" ہر ایک بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو شیطان اس بچے کی پسلی میں اپنی انگلی چھبو کر اس بچہ پر اپنا تسلط جماتا ہے، لیکن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اس تسلط سے امن وامان میں رکھا ہے "۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہوشیار ہوگئے، تو وعظ ونصیحت میں مصروف ہوئے، اور رفتہ رفتہ معجزات دکھانے شروع کئے۔ آخرکار ہزاروں آدمی ان کی طرف متوجہ ہونے لگے یہ کیفیت دیکھ کر یہود کو حسد ہوا اور اس عہد کے حاکم کو بدگمان کر کے ان کو گرفتار کرایا، اور قصور یہ ثابت کیا کہ یہ قیصر سے باغی ہیں ۔ وہ لوگ قید کر کے سولی دینے لے چلے۔ خدا کی قدرت سے ان کو اوپر زندہ اور سالم اٹھا لیا، اور ان میں سے ایک کو ان کا ہم شکل کردیا۔ اس کو انہوں نے سولی دے دی۔ اس کے بعد حضرت مریم (علیہا السلام) کا انتقال ہوا۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) ان کے رو برو ہی ہیرودس کے ہاتھ سے شہید ہوچکے تھے۔
Ayahs 19:34–36

ذٰلِكَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ١ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 19:34 in the Quran reader

یہ (قصہ) عیسیٰ مریم کے بیٹے کا ۔ سچی بات جس میں لوگ اختلاف کرتے ہیں

مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُؕ Open ayah 19:35 in the Quran reader

اللہ کو سزاوار نہیں کہ وہ کسی کو اولاد ٹھہرائے، وہ (بلکل) پاک ہے اس سے، جب وہ کسی کام کا حکم فرماتا ہے تو صر اس کو کن (یعنی ہوجا) فرما دیتا ہے پس وہ فوراً ہوجاتا ہے

وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 19:36 in the Quran reader

اور عیسیٰ نے کہا :" بیشک اللہ میرا اور تمہارا پروردگار ہے، پس اس کی عبادت کرو یہ ہے سیدھا راستہ

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اصل حقیقت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی یہ ہے سچی بات میں لوگ جھگڑا لگاتے ہیں۔ یہود کہتے ہیں کہ معاذاللہ وہ زنا سے پیدا ہوئے تھے۔ عیسائی کہتے ہیں کہ وہ خدا کے بیٹے تھے، خدا ان کی شکل میں ظاہر ہوا تھا۔ یہود کا قول تو بلکل لچر تھا، اس لئے ان کی طرف توجہ نہیں کی گئی۔ عیسائیوں کو چونکہ دھوکا ہوگیا تھا اس لئے فرمایا کہ اللہ کی شان یہ نہیں کہ کسی کو بیٹا بناوے۔ وہ ان باتوں سے پاک ہے، جب اس کو کوئی کام کرنا منظور ہوتا ہے، وہ فرما دیتا ہے کہ ہوجا، پس وہ کام فوراً ہوجاتا ہے۔ خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مقولہ ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ میرا پروردگار ہے۔ پس اس کی عبادت کرو، سیدھا راستہ یہی ہے۔ نہ یہ کہ مجھے خدا یا خدا کا بیٹا سمجھو۔
Ayahs 19:37–38

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 19:37 in the Quran reader

پھر (بھی) جماعتیں آپس میں مختلف ہوگئیں ۔ پس کافروں کے لئے ایک بڑے دن کی خرابی ہے

اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ١ۙ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 19:38 in the Quran reader

کتنے سنیں گے اور کتنے دیکھیں گے جس دن ہمارے پاس حاضر ہوں گے، لیکن یہ ظالم آج (دنیا میں) کیسی کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں

ارشاد ہوتا ہے ایسے منکر شریعت لوگوں کو قیامت کے دن بڑی خرابی پیش آنے والی ہے۔ اب دنیا میں تو یہ لوگ اللہ کے رسول کی نصیحت کو رائیگاں کر رہے ہیں، لیکن قیامت کے دن اس نصیحت کو سننے کو ان کے کان، اور نصیحت کے رائیگاں کرنے کے عذاب کو دیکھنے کے لئے ان کی آنکھیں کھل جاویں گی۔ مگر وہ بےوقت کا سننا دیکھنا ان کے کچھ کام نہ آوے گا۔
Ayah 19:39

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ١ۘ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 19:39 in the Quran reader

اور ان لوگوں کو پشیمانی کے دن سے ڈراؤ جبکہ (جنت و دوزخ کا) کام فیصل ہوچکے گا، اور وہ لوگ (جو آج دینا میں) غفلت میں ہیں اور ایمان نہیں لاتے

اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ ان غافلوں کو حسرت کے دن سے مطلع کرو تاکہ خوف کریں، اور وہ حست کا دن ہو ہوگا جس دن ان کے لئے عذاب کا حکم دیا جائے گا۔ اور وہ دنیا میں غفلت میں پڑے ہیں، اور ایمان نہیں لاتے بظاہر یوم الحسرت قیامت کا دن ہے "۔
Ayah 19:40

اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 19:40 in the Quran reader

بیشک (ایک دن مریں گے اور تمام) زمین اور زمین پر جو کچھ ہے سب کے ہم ہی وارث ہوں گے اور وہ سب ہماری طرف پھریں گے

اس آیت میں فرمایا کہ دنیا میں جو مال اور زمین اور باغات بڑی محنت سے حاصل ہوتے ہیں، ان سب کا آخری مالک اللہ ہی ہے، اور سب کو ایک روز خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے۔