19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 19:77–82

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ كَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًاؕ Open ayah 19:77 in the Quran reader

تو کیا تم نے اسے دیکھا جو ہماری آیتوں کا منکر ہوا اور کہتا ہے کہ مجھے ضرور مال اور اولاد ملیں گے

اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۙ Open ayah 19:78 in the Quran reader

کیا وہ غیب پر مطلع ہوگیا ہے یا اس نے اللہ سے اقرار لے رکھا ہے

كَلَّا١ؕ سَنَكْتُبُ مَا یَقُوْلُ وَ نَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّاۙ Open ayah 19:79 in the Quran reader

ہر گز نہیں (محض غلط کہتا ہے اب) ہم اس کو لکھ رکھیں گے جو کچھ وہ کہتا ہے اور اس کے لئے عذاب لمبا بڑھاتے جائیں گے

وَّ نَرِثُهٗ مَا یَقُوْلُ وَ یَاْتِیْنَا فَرْدًا Open ayah 19:80 in the Quran reader

اور جو کچھ وہ کہتا ہے (یعنی مال واولاد کا دعویٰ کرتا ہے) اس کے ہم ہی وارث ہوں گے اور وہ ہمارے پاس اکیلا آئے گا

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّیَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّاۙ Open ayah 19:81 in the Quran reader

اور مشرکوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنا لئے کہ وہ ان کے حامی و مددگار ہوں

كَلَّا١ؕ سَیَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَ یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِمْ ضِدًّا۠ Open ayah 19:82 in the Quran reader

ہرگز نہیں، وہ تو (قیامت کے دن) ان کی پرستش سے صاف انکار کر جائیں گے اور ان کے مخالف ہوجائیں گے

شان نزول : بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ حضرت حباب بن ارت ؓ کا زمانہ جاہلیت میں عاص بن وائل سہمی پر قرض تھا۔ وہ اس کے پاس تقاضے کو گئے تو عاص نے کہا کہ میں تمہارا قرض ادا نہ کروں گا جب تک تم سید عالم محمد مصطفیٰ کے منکر نہ ہوجاؤ، اور کفر اختیار نہ کرو۔ خباب نے فرمایا :" ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ تو مرے اور مرنے کے بعد زندہ ہو کر اٹھے "۔ وہ کہنے لگا کہ کیا مرنے کے بعد پھر اٹھوں گا، وہ کہنے لگا " ہاں !" ۔ عاص نے کہا :" تو پھر مجھے چھوڑیئے یہاں تک کہ میں مر جاؤں اور مرنے کے بعد پھر زندہ ہوں، اور مجھے مال و اولاد ملے۔ جب ہی آپ کا قرض ادا کروں گا " اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ :" وہ جو یہ بات کہتا ہے کیا اس نے لوح محفوظ میں دیکھ لیا ہے کہ آخرت میں اس کو مال واولاد ملے گی، ایسا نہیں ہے ۔ جو کچھ اس کے گناہ ہیں سب لکھے جاتے ہیں ۔ اور ہم اس کے لئے عذاب پر عذاب بڑھائیں گے، یہاں جس طرح مال پر مال دیتے ہیں ۔ وہاں اسی طرح عذاب پر عذاب دیں گے، اور دنیا کا مال و دولت سب چھوڑ کر ہمارے پاس تن تنہا حاضر ہوگا۔ اور جو لوگ کہ دین سے غافل ہیں، ان کا بھی قاعدہ ہے کہ خدا کے سوا اوروں کو معبود بناتے ہیں۔ تاکہ وہ معبود باطل عزت کا باعث ہوں۔ حالانکہ یہ بات بلکل فضول ہے، نہ کوئی بت عزت دے سکے اور نہ کوئی دنیا کا حاکم۔ پھر کسی کی اطاعت کیوں کرے۔ اطاعت اسی کی کرنی چاہئے جس کے ہاتھ میں عزت ہے، اور عزت دنیا کی بےمزہ ہے اور ناپائیدار ۔ اور آخرت کی عزت پائیدار اور مزیدار ہے۔ اور بت جنہیں یہ پوجتے تھے ان کے مخالف ہوجائیں ، اور ان پر لعنت کریں گے ۔ اللہ تعالیٰ انہیں زبان دے گا اور وہ کہیں گے :" یارب ! انہیں عذاب کر انہوں نے ہمارا کہنا کیوں مانا "۔
Ayahs 19:83–86

اَلَمْ تَرَ اَنَّاۤ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ تَؤُزُّهُمْ اَزًّاۙ Open ayah 19:83 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے کہ وہ ان کو ابھارتے رہتے ہیں

فَلَا تَعْجَلْ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّاۚ Open ayah 19:84 in the Quran reader

پس تم ان کے لئے (عذاب کی) جلدی نہ کرو، ہم تو ان کی گنتی پوری کرتے ہیں

یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًاۙ Open ayah 19:85 in the Quran reader

جس روز ہم پرہیز گاروں کو رحمٰن کی طرف مہمان بنا کے لے جائیں گے

وَّ نَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًاۘ Open ayah 19:86 in the Quran reader

اور ہم مجرموں کو دوزخ کی طرف پیاسے (جانوروں کی طرح) ہانکیں گے

کفار کی ذلت ورسوائی ان آیتوں میں منکرین حشر کا سبب فرمایا کہ ان کے کفر کے سبب سے شیطان ان کے اوپر ایسا مسلط ہوگیا ہے کہ ان کی عقل بلکل جاتی رہی ہے۔ اے محبوب ﷺ ! آپ جلدی نہ کریں، ہم ان کی مدت گن رہے ہیں اور حساب لگا رہے ہیں ۔ یعنی ہمارے ہاں ان کے عذاب کا وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آوے گا، ان کو عذاب دیا جاوے گا۔ کافروں کی میعاد اس دن پوری ہوگی جس دن متقی اللہ کے پاس مہمان بن کر آئیں گے۔ یعنی نہایت عزت سے لائے جائیں گے، اور وہ دن وہ ہوگا کہ گناہ گار جہنم میں پیاسے روانہ کردیئے جاویں گے، چونکہ آفتاب کی تپش اس روز زیادہ ہوگی، اور کافر گرمی کے مارے بھن بھن جائیں گے، پھر اسی وقت دوزخ کی طرف روانہ کردیئے جائیں گے۔ ان کے ساتھ اتنا بھی سلوگ نہ کیا جائے گا کہ ان کو پانی پلا کر ان کی پیاس بھجا دی جائے، بلکہ ذلت اور مصیبت کی حالت میں وہ دوزخ میں بھیج دئے جائیں گے۔
Ayah 19:87

لَا یَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۘ Open ayah 19:87 in the Quran reader

(تو لوگ) کسی کی شفاعت کا اختیار نہ رکھیں گے ، مگر وہی جس نے خدا کے پاس (سے) وعدہ پا لیا ہے

مشرکین کہتے تھے کہ جن لوگوں کی مورتوں کو ہم پوجا کرتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ سے سفارش کر کے ہم کو اس عذاب سے چھڑا لیں گے۔ مشرکین مکہ کی اس بات کا جواب اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں یہ دیا کہ شفاعت کینے کی مجال وہاں اس شخص کو ہوگی جس سے اللہ تعالیٰ نے اقرار کرلیا ہے، جیسے محمد ﷺ کہ قرآن میں ان سے خطاب فرمایا جاتا ہے کہ عقریب آپ کو ایسا دیں گے کہ آپ راضی ہوجائیں گے۔ اس کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے یوں عرض کیا کہ جب تک میرا ایک امتی بھی دوزخ میں رہے گا میں راضی نہ ہوں گا۔
Ayahs 19:88–91

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًاؕ Open ayah 19:88 in the Quran reader

اور کافروں نے کہا کہ خدا نے اولاد اختیار کی

لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْئًا اِدًّاۙ Open ayah 19:89 in the Quran reader

(خدا نے فرمایا) بیشک تم ایسی سخت بات گھڑ کر لائے

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّاۙ Open ayah 19:90 in the Quran reader

قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گر جائیں

اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًاۚ Open ayah 19:91 in the Quran reader

اس سبب سے کہ انہوں نے خدا کے لئے اولاد بتائی

اس آیت میں فرمایا کہ بعض گمراہ یوں بکواس لگاتے ہیں کہ اللہ کا ایک بیٹا بھی ہے۔ ان سے خطاب ہوتا ہے کہ تم بڑی بھاری بات بنا کر لائے ہو یعنی یہ بڑا گستاخی کا کلمہ ہے، یہ ایسا سخت کلمہ ہے کہ اس کی شامت سے اگر آسمان پھٹ پڑیں تو کچھ بعید نہیں، اور زمین پھٹ جائے تو کچھ دور نہیں، اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گر پڑیں تو کچھ عجب بات نہیں ہے۔ خدا کے لئے بیٹا ثابت کرتے ہو، حقیقت میں بڑی حماقت کی بات ہے۔
Ayahs 19:92–95

وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًاؕ Open ayah 19:92 in the Quran reader

اور رحمٰن کے لائق نہیں کہ اولاد اختیار کرے

اِنْ كُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًاؕ Open ayah 19:93 in the Quran reader

جتنے بھی آسمانون اور زمین میں ہیں سب اللہ کے رو برو بندے ہو کر حاضر ہوں گے

لَقَدْ اَحْصٰىهُمْ وَ عَدَّهُمْ عَدًّاؕ Open ayah 19:94 in the Quran reader

بیشک وہ ان کا شمار جانتا ہے اور ان کو ایک ایک گن رکھا ہے

وَ كُلُّهُمْ اٰتِیْهِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَرْدًا Open ayah 19:95 in the Quran reader

اور قیامت کے دن ان میں ہر ایک اس کے پاس تنہا حاضر ہوگا

یہاں فرمایا کہ یہ کافر جو خدا کے لئے بیٹا ثابت کر رہے ہیں، یہ احمق اتنا نہیں سمجھتے کہ خدا کی شان نہیں کہ کسی کو بیٹا بناوے۔ آسمان اور زمین میں کوئی ایسا نہیں جو اللہ کا بندہ نہ ہو۔ پھر جب سب بندے ہیں تو بیٹا کہاں سے ہو سکتا ہے جو بیٹا ہوتا تو وہ بندہ نہ ہوتا بلکہ اللہ کا ہم جنس اور مد مقابل ہوتا، اور وہاں یہ بات نہیں ۔ پس بیٹا بھی ممکن نہیں ۔ آگے فرمایا کہ ان میں سے کوئی ہمارے عذاب سے بچ نہیں سکتا ۔ اور ان میں سے ہر ایک علیحدہ علیحدہ ہمارے سامنے قیامت کے دن پیش ہوگا، اور اپنے عمل کی سزا پائے گا۔
Ayah 19:96

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا Open ayah 19:96 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے عنقریب اللہ تعالیٰ ان کے ( دلوں میں) محبت پیدا کر دے گا

خدا سے محبت کا نتیجہ اور محبوبان خدا کی شان : اوپر کی آیت میں متقی لوگوں کے ساتھ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جو محبت کرے گا اس کا ذکر گزر چکا ہے کہ ان مہمانوں کو مہمانوں کی سی خاطر داری سے اٹھاوے گا۔ اس کے علاوہ نیک لوگوں سے جب اللہ تعالیٰ محبت کرنے لگتا ہے تو ایسے نیک لوگوں کی طرف تمام مخلوق الہی کے دل مائل ہوجاتے ہیں ۔ اور دنیا ایسے لوگوں کو عزیز رکھنے لگتی ہے، اور فرشتے بھی اس شخص سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ بخاری ومسلم کی حدیث ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو محبوب کرتا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) سے فرماتا ہے کہ :" فلاں میرا محبوب ہے " جبرائیل (علیہ السلام) اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر جبرائیل (علیہ السلام) آسمان میں شہرت کردیتے ہیں کہ :" اللہ تعالیٰ فلاں بندہ کو محبوب رکھتا ہے سب اس کو محبوب رکھیں "۔ تو آسمان والے اس کو محبوب رکھتے ہیں۔ پھر زمین میں اس کی مقبولیت عام کردی جاتی ہے۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ مومنین صالحین واولیاء کاملین کی مقبولیتیں اللہ کی محبوبیت کی دلیل ہیں۔
Ayahs 19:97–98

فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِیْنَ وَ تُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا Open ayah 19:97 in the Quran reader

پس ہم نے اس قرآن کو تمہاری زبان (عربی) میں اس لئے آسان کیا ہے کہ تم اس سے پرہیز گاروں کو خوشخبری سنا دو اور جھگڑالو لوگوں کو اس سے خوف دلاؤ

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ١ؕ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا۠ Open ayah 19:98 in the Quran reader

اور اس سے پہلے بہت سے گروہوں کو (ان کی بد عملیوں سے) ہلاک کردیا ہے تو کیا تم ان میں سے کسی کو دیکھتے ہو یا ان کی کچھ آواز بھی سنائی دیتی ہے

ان آیتوں میں فرمایا :" اے رسول اللہ کے ! یہ قرآن عربی زبان میں اس آسانی کے لئے نازل کیا گیا کہ تم عقبیٰ کی خربی سے ڈرایا کرو ۔ نیک کام کرنے والوں کو عذاب آخرت سے نجات ، اور جنت میں داخل ہونے کی خوشخبری، اور جھگڑالو لوگوں کو عذاب آخرت کا ڈر سنا دو ۔ اس پر بھی ان میں سے جو لوگ سرکشی اور بےجا جھگڑوں سے باز نہ آویں، تو ان کو یہ جتلا دیا جاوے کہ ان سے پہلے بہت سے جھگڑالو لوگ طرح طرح کے عذابوں سے اس طرح دنیا میں ہلاک ہو کر آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوچکے ہیں، کہ دنیا میں کہیں ان کا نشان تک باقی نہیں رہا۔ اگر یہ لوگ بھی ان پچھلی قوموں کے قدم بقدم چلیں گے تو یہی انجام ان کا ہوگا۔ اللہ سچا ہے، اللہ کا وعدہ سچا ہے "۔