19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 19:41–48

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا Open ayah 19:41 in the Quran reader

اور کتاب (یعنی قرآن) میں ابراہیم (علیہ السلام) کو یاد کرو بیشک وہ ایک صدیق نبی تھا

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْكَ شَیْئًا Open ayah 19:42 in the Quran reader

جبکہ اس نے اپنے باپ سے کہا کہ اے میرے باپ ! تم ایسی چیز کی کیوں عبادت کرتے ہو جو نہ کچھ سنے اور نہ کچھ دیکھے اور نہ تمہارے کچھ کام آئے

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِیْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِیًّا Open ayah 19:43 in the Quran reader

اے میرے باپ ! بیشک مرے پاس (میرے پروردگار کی طرف سے معرفت الہی کا) وہ علم آیا جو تم کو نہیں آیا۔ پس تم میرے کہنے پر چلو تاکہ میں تم کو سیدھا راستہ دکھاؤں

یٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا Open ayah 19:44 in the Quran reader

اے میرے باپ ! تم شیطان کی عبادت نہ کرو بیشک شیطان تو خدا کا نافرمان ہے

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا Open ayah 19:45 in the Quran reader

اے میرے باپ ! بیشک میں ڈرتا ہوں کہ تم کو خدا کا کوئی عذاب پہنچے۔ پس تم (عذاب میں) شیطان کے ساتھی ہو جاؤ

قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِیْ یٰۤاِبْرٰهِیْمُ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِیْ مَلِیًّا Open ayah 19:46 in the Quran reader

(باپ نے) کہا :" اے ابراہیم ! کیا تو میرے معبودوں سے پھرا ہوا ہے بیشک اگر تو باز نہ آئے گا تو میں تجھے پتھروں سے سنگسار کردوں گا اور میرے پاس سے ایک مدت تک الگ ہو جا "

قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَ١ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا Open ayah 19:47 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا : (بہتر) " تجھے سلام ہے، قریب ہے کہ میں تمہارے لئے اپنے پروردگار سے مغفرت کی دعا کروں گا۔ بیشک وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے

وَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ اَدْعُوْا رَبِّیْ١ۖ٘ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا Open ayah 19:48 in the Quran reader

او میں ایک کنارے ہوجاؤں گا تم سے اور ان سب سے جن کو تم اللہ کے سوا کچھ پوجتے ہو اور (علیحدہ ہو کر اطمینان سے) اپنے پروردگار کی عبادت کروں گا۔ امید ہے کہ میں اپنے پروردگار کی عبادت کے سبب سے بدبخت نہ ہوں "

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بیان یہ تیسرا تذکرہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ کتاب میں ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر ہے بیشک وہ سچے نبی تھے۔ یہاں اس وقت کی ثابت قدمی اور خدا پرستی مذکور ہے۔ جب ابتدائے شباب میں انہوں نے بت پرستی کو حقیر جانا، اور اپنے باپ سے کہا تھا :" اے باپ ! تو ایسی چیزوں کی عبادت کیوں کرتا ہے جن کو نہ سننے کی طاقت اور نہ دیکھنے کی قدرت ہے، نہ یہ چیزیں تیرے کام آسکتی ہیں یعنی بتوں کی پرستش نہ کرو۔ ان سے کوئی کام نہیں بن سکتا ۔ اے باپ ! مجھے اللہ نے وہ علم دیا ہے کہ تجھے حاصل نہیں، تو میرے کہنے پر چل۔ میں تجھے سیدھا راستہ بتاؤں گا۔ اے میرے باپ ! شیطان کی پرستش نہ کر یعنی اس کا کہنا نہ مان، کیونکہ وہ بت پرستی کی ترغیب دلاتا ہے۔ بیشک شیطان خدا کا نافرمان ہے۔ اے میرے باپ ! مجھے خوف ہے کہ کہیں تجھ پر خدا کا عذاب نہ نازل ہو۔ پس اس صورت میں تو شیطان کو دوست قرار پائے گا "۔ یہ سب باتیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کمال محبت کی وجہ سے فرمائیں مگر ان کے باپ کی سمجھ میں نہ آئیں، اور وہ مرغ کی ایک ٹانگ ہی بتاتے رہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہدایت سوائے خدا کے دوسرے کے اختیار میں نہیں۔ غرضیکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد نے جب اپنے بیٹے کی نصیحت سنی تو سن کر کیا جواب دیتے ہیں کہ اے ابراہیم ! تو میرے معبودوں سے برگشتہ ہوگیا ہے۔ اگر تو اپنی اس حرکت سے باز نہ آئے گا، تو میں تجھ پر پتھر برساؤں گا، اور تجھے سنگسار کروں گا اور اپنی شکل مجھے نہ دکھا، اور ایک عرصہ تک مجھ سے الگ رہ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا :" اچھا سلام ! میں الگ ہوجاتا ہوں، آپ میرا کہنا تو نہیں مانتے۔ خیر میں آپ کے لئے اپنے رب سے معافی مانگوں گا یعنی دعائے خیر کروں گا۔ بیشک میرا پروردگار مجھ پر مہربان ہے، اور میں تم سے اور تمہارے معبودوں سے کنارہ کرتا ہوں۔ اور میں اپنے پروردگار سے دعا کروں گا۔ مجھے امید ہے کہ اپنے پروردگار سے دعا کر کے محروم نہ رہوں گا "۔
Ayahs 19:49–50

فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا Open ayah 19:49 in the Quran reader

پس جب ان سے اور ان کے معبودوں سے کہ جن کو وہ اللہ کے سوا پوجا کرتے تھے کنارہ کر گیا تو ہم نے اس کو اسحٰق ( بیٹا) اور یعقوب (پوتا) عطا کئے اور ہم نے (ان دونوں میں) ہر ایک کو نبی کیا

وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۠ Open ayah 19:50 in the Quran reader

اور ان سب کو ہم نے اپنی رحمت سے بہت کچھ بخشا اور ان کے لئے ہم نے ذکر جمیل بلند کیا ( کہ ہمیشہ ہمیشہ لوگ ان کو عزت سے یاد کرتے رہیں گے)

یہاں فرمایا کہ جب حضرت ابراہم (علیہ السلام) ان بت پرستوں اور بتوں سے الگ ہوئے، تو ہم نے ان کو ایک بیٹا اسحٰق اور ایک پوتا یعقوب (علیہ السلام) عطا کیا، اور ہم نے ہر ایک کو نبی بنایا، اور ہم نے ان کو اپنی رحمتوں سے بہت کچھ بخشا۔ اور ان کا ذکر خیر قیامت تک جاری کیا۔ جتنے باخدا لوگ ہیں وہ سب ان کو عزت کے ساتھ یاد کریں گے۔
Ayahs 19:51–53

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى١٘ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا Open ayah 19:51 in the Quran reader

اور کتاب میں موسیٰ کو یاد کرو بیشک وہ (اللہ کا) چنا ہوا (بندہ) تھا اور وہ بھیجا ہوا نبی تھا

وَ نَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِیًّا Open ayah 19:52 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو آواز دی کوہ طور کے داہنی جانب سے اور ہم نے اس کو اپنا راز کہنے کے لئے قریب کیا

وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا Open ayah 19:53 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو اپنی رحمت سے اس کے بھائی ہارون کو بھی نبی بنا کر ( مدد کے لئے عطا کیا

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر اور نبی اور رسول میں فرق ارشاد ہوتا ہے کہ کتاب میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کرو، موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے برگزیدہ تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے برگزیدہ تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نبی بھی تھے، اور رسول بھی۔ رسول اس کو کہتے ہیں جو صاحب کتاب اور صاحب شریعت ہو، اور نبی اس کو کہتے ہیں جو پیغمبر کی کتاب اور شریعت کا پابند ہو، اور موسیٰ (علیہ السلام) ایسے برگزیدہ ہیں کہ ہم نے ان کو طور کے دائیں طرف پکارا تھا، اور راز کہنے کے لئے ان کو قریب کیا تھا۔ اور شرف ان کو یہ عطا ہوا تھا کہ ہم نے اپنی رحمت سے ان کی مدد کے لئے ان کے بھائی ہارون کو نبوت دے کر متعین کیا۔ تمام قصہ ورہ طٰہ (پارہ 16) میں تفصیل سے آوے گا۔
Ayah 19:54

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ Open ayah 19:54 in the Quran reader

اور اس کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو بیشک وہ وعدہ کا سچا تھا اور بھیجا ہوا نبی تھا

حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا ذکر تفیر ابن حاتم میں معتبر سند سے ہے کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے ایک شخص سے وعدہ کیا تھا کہ میں فلاں جگہ تمہارا انتظار کروں گا۔ وہ اتفاقاً ایک برس تک نہ آیا تو آپ وہیں موجود رہے۔ یہ ان کے صادق الوعد ہونے کی ایک ادنیٰ بات ہے، اور وہ مثل اپنے باپ کے نبی بھی تھے اور رسول بھی۔
Ayah 19:55

وَ كَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ١۪ وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِیًّا Open ayah 19:55 in the Quran reader

اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا اور وہ اپنے پروردگار کو پسند تھا

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کو یوں قائل کیا ہے کہ تمام عرب کے باپ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا تو یہ حال تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کی تاکید کرتے کیا کرتے تھے۔ اور ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ نماز کے وقت یہ لوگ سیٹیاں اور تالیاں بجاتے، اور زکوٰۃ کو جرمانہ جانتے ہیں۔ اور پھر اپنے آپ کو اولاد اسماعیل کہتے ہیں۔ اسماعیل (علیہ السلام) کی عادتیں اللہ تعالیٰ کو بہت پسن تھیں۔
Ayahs 19:56–57

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاۗۙ Open ayah 19:56 in the Quran reader

اور اس کتاب میں ادریس کو یاد کرو بیشک وہ ایک سچا نبی تھا

وَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا Open ayah 19:57 in the Quran reader

ور ہم نے اس کو بلند مکان پر اٹھا لیا (یعنی آسمان پر)

حضرت ادریس (علیہ السلام) کا بیان اور ان سے شروع ہونے والے علوم وفنون کا بیان حضرت ادریس (علیہ السلام) کا نام اخنوخ ہے، اور آپ حضرت نوح (علیہ السلام) کے والد کے دادا ہیں۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد آپ ہی پہلے رسول ہیں۔ آپ کے والد حضرت شیث بن آدم ہیں۔ سب سے پہلے جس شخص نے قلم سے لکھا وہ آپ ہی ہیں۔ کپڑوں کے سینے اور سلے ہوئے کپڑوں کے پہننے کی ابتدا بھی آپ ہی سے ہوئی۔ آپ سے پہلے لوگ کھالیں پہنتے تھے۔ سب سے پہلے ہتھیار بنانے والے ، ترازو اور پیمانے قائم کرنے والے، اور علم نجوم و حساب میں نظر فرمانے والے بھی آپ ہی ہیں۔ یہ سب کام آپ ہی سے شروع ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پر تیس صحیفے نازل کئے، اور کتب الہیہ کی کثرت درس کے باعث آپ کا نام ادریس ہوا، اور آپ کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شب معراج میں حضرت ادریس (علیہ السلام) کو آسمان چہارم پر دیکھا ۔ حضرت کعب احبار وغیرہ سے مروی ہے کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) نے ملک الموت سے فرمایا کہ میں موت کا مزہ چکھنا چاہتا ہوں ، کیا ہوتا ہے۔ تم میری روح قبض کر کے دکھاؤ۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے روح قبض کر کے اسی وقت آپ کی طرف لوٹا دی، آپ زندہ ہوگئے۔ فرمایا کہ اب مجھے جہنم دکھاؤ تاکہ خوف الہی زیادہ ہو۔ چناچہ یہ بھی کیا گیا، جہنم دیکھا ۔ پھر آپ نے مالک داروغہ سے فرمایا کہ دروازہ کھولو میں اس سے گزرنا چاہتا ہوں چناچہ ایسا ہی کیا گیا اور آپ اس پر سے گزرے۔ پھر آپ نے ملک الموت سے فرمایا کہ مجھے جنت دکھاؤ۔ وہ آپ کو جنت میں لے گئے۔ آپ دروازہ کھول کر جنت میں داخل ہوئے۔ تھوڑی دیر انتظار کر کے ملک الموت نے کہا کہ آپ اپنے مقام پر تشریف لے چلئے، فرمایا :" اب میں یہاں سے کہیں نہیں جاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کل نفس ذائقۃ الموت تو وہ تو میں چکھ ہی چکا ہوں، اور یہ بھی فرمایا ہے وان منکم الا واردھا کہ ہر شخص کو جہنم پر سے گزرنا ہے تو میں گزر چکا۔ اب جنت میں پہنچ گیا اور جنت میں پہنچنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ جنت سے نکالے نہیں جائیں گے۔ اب مجھے جنت سے چلنے کے لئے کیوں کہتے ہو " اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کو وحی فرمائی کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) نے جو کچھ کہا میرے اذن سے کہا، اور وہ میرے اذن سے جنت میں داخل ہوئے، انہیں چھوڑ دو وہ جنت میں ہی رہیں گے، چناچہ آپ وہاں زندہ ہیں۔
Ayah 19:58

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَ١ۗ وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١٘ وَّ مِنْ ذُرِّیَّةِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْرَآءِیْلَ١٘ وَ مِمَّنْ هَدَیْنَا وَ اجْتَبَیْنَا١ؕ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا۩ Open ayah 19:58 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ جن پر اللہ نے (خاص) انعام فرمایا ہے انبیاء میں سے آدم کی اولاد سے اور ان میں سے جن کو ہم نے سوار کیا تھا نوح کے ساتھ اور ابراہیم اور یعقوب کی اولاد میں سے اور ان میں سے کہ جن کو ہم نے راہ دکھائی اور منتخب کرلیا جب ان کے ان کے سامنے خدا کی آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو (بےاختیار سجدہ میں گر پڑا کرتے تھے اور روتے تھے

اس آیت کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جن انبیا کا ذکر اس سورة میں کیا گیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنا نائب بنانے کے لئے پسند کیا ہے، اور ان کو نبوت کی نعمت دی ہے۔ مکہ کے مشرک یہ جو کہتے ہیں کہ اللہ کا رسول انسان نہیں ہو سکتا، یہ ان کی نادانی ہے۔ کیونکہ فرشتوں کو اصلی صورت میں دیکھنا انسان کی طاقت سے باہر ہے۔ پھر بنی آدم کی ہدایت کے لئے فرشتہ رسول کیونکر ہو سکتا ہے۔ آخر کو فرمایا اللہ کی وہ عظمت ہے کہ باوجود نبی کے اپنے صحیفوں اور کتابوں میں جب یہ عذاب کی آیتیں سنتے ہیں، تو عذاب سے ڈر کر سچدہ میں گر پڑتے ہیں، اور روتے ہیں، مگر مشرک عذاب کی آیتوں کو اس کان سے سن کر اس کان سے اڑا دیتے ہیں۔ جس کا خمیازہ ایک دن ان کو بھگتنا پڑے گا۔
Ayahs 19:59–60

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ Open ayah 19:59 in the Quran reader

پھر ان کے بعد (بعضے) ایسے ناخلف ان کے جانشین ہوئے جنہوں نے نمازوں کو ضائع کیا اور اپنی نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑگئے۔ پس وہ عقریب (آخرت میں) گمراہی کی سزا پائیں گے

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ شَیْئًاۙ Open ayah 19:60 in the Quran reader

مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھے کام کئے، پس یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر کچھ ظلم نہ کیا جائے گا

اس آیت میں فرمایا کہ ان نیک لوگوں کی جگہ ایسے ناخلف آئے کہ نماز جیسی چیز کو جس کی ہر ایک شریعت میں تاکید ہے، انہوں نے یا تو بلکل چھوڑ دیا، یا بعضوں نے اس کو ادا بھی کیا تو شریعت کے حکم کے موافق ادا نہیں کیا۔ اور دنیا کے عیش و آرام کے پیچھے ایسے سرگرداں ہوئے کہ نیک کاموں کے کرنے اور برے کاموں سے بچنے کی کچھ پرواہ نہ کی۔ پھر فرمایا ایسے لوگ عقبیٰ میں بڑا نقصان اٹھاویں گے۔ ہاں ان میں سے جو لوگ عقبیٰ کی باتوں کا پورا یقین کر کے اپنے پچھلے گناہوں سے توبہ کریں ، اور آگے کو نیک عمل کریں تو وہ بہشت میں جاویں گے، اور ان کے نیک عملوں کی جزا میں کچھ کمی نہ کی جائے گی ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے بےوقت کی نماز کو مردہ نماز فرمایا ہے۔ ان حدیثوں کو آیت کے ساتھ ملانے سے مطلب یہ ہوا کہ رکوع سجدہ اچھی طرح نہ کرنے کی نماز اور بےوقت کی نماز اضاعوا الصلوٰۃ کے حکم میں داخل ہے۔
Ayahs 19:61–63

جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِیًّا Open ayah 19:61 in the Quran reader

وہ ہمیشہ رہنے کے باغ جن کا اللہ نے اپنے بندوں سے غائبانہ وعدہ فرمایا ہے، بیشک اس کا وعدہ آنے والا ہے

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا١ؕ وَ لَهُمْ رِزْقُهُمْ فِیْهَا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:62 in the Quran reader

اس (جنت) میں وہ کوئی فضول بات نہ سنیں گے بجز آپس میں سلام کی آواز کے اور ان کو اس میں ان کا کھانا صبح وشام ہے

تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا Open ayah 19:63 in the Quran reader

یہ جنت وہ ہے کہ ہم اپنے بندوں میں سے اس کو وارث ایسے لوگوں کو کریں گے جو پرہیزگار ہیں

جنت اور اہل جنت کا ذکر ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ نیک لوگوں سے بن دیکھی جنت کے دینے کا وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے کیا ہے، ایک دن اس وعدہ کا ظہور بلا شک ہونے والا ہے۔ پھر فرمایا :" یہ جنت وہ ہے جہاں سوائے السلام علیک کی آواز کے اور کوئی ایسی آواز جنتیوں کے کام میں نہ آوے گی، جو ان کے کانون کو بری لگے "۔ پھر فرمایا :" وہاں صبح وشام ان کو طرح طرح کی نعمتیں کھانے کو ملیں گی۔ جنت میں اگرچہ صبح وشام نہیں ہے، صبح صادق نہیں ہے، صبح صادق سے لے کر سورج کے نکلنے تک کا جیسا ٹھنڈا وقت ہوتا ہے، وہاں ہمیشہ ایسا وقت رہے گا۔ پھر فرمایا یہ جنت ان لوگوں کی میراث ہے جو دنیا میں نیک کاموں کے کرنے اور برے کاموں سے بچنے کی عادت رکھتے ہیں۔
Ayahs 19:64–65

وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ١ۚ لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِیًّاۚ Open ayah 19:64 in the Quran reader

اور (جبرائیل نے محبوب ﷺ سے عرض کی):" ہم فرشتے نہیں اتارتے مگر تمہارے پروردگار کے حکم سے ۔ اسی کا ہے جو کچھ کہ ہمارے آگے اور جو کچھ کہ ہمارے پیچھے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے، اور تمہارا پروردگار بھولنے والا نہیں

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ١ؕ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا۠ Open ayah 19:65 in the Quran reader

وہ آسمانون اور زمین اور جو کچھ اس کے درمیان ہے سب کا پروردگار ہے، پس اسی کی عبادت کرو اور اس کی عبادت پر قائم رہو "۔ (اے مخاطب) کیا اس کے نام کا دوسرا (یعنی اس کے مانند) جانتا ہے ؟

شان نزول : بخاری شریف میں ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جبرائیل علیہ اسلام سے یوں فرمایا کہ آپ میرے پاس جلدی جلدی کیوں نہیں آیا کرتے۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی گویا خدا تعالیٰ نے جبرائیل کی طرف سے ان کی زبان سے یہ جواب دیا کہ ہم تمہارے رب کے حکم سے آیا کرتے ہیں ۔ وہ مصلحت وقت سے خوب واقف ہے۔ اس کو آگے پیچھے کا حال خوب معلوم ہے۔ وہ مصلحت سمجھتا ہے ہم کو بھیجتا ہے۔ دیر کر کے آنے میں کوئی یہ خیال نہ کرے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بھول گیا۔ جس کو اس قدر علم ہو وہ کب بھول سکتا ہے۔ پس تم کو چاہئے کہ اسی کی عبادت کرو، اور اس کی عبادت میں جو تکلیف ہو اس کو تحمل سے براداشت کرو۔ کیونکہ وہ یکتا ہے، کوئی اس کا ہم نام نہیں۔ یعنی ایسا دوسرا نہیں جو اس بےقراری کو دفع کرسکے۔
Ayahs 19:66–67

وَ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا Open ayah 19:66 in the Quran reader

اور انسان (یعنی کافر) یوں کہتا ہے کہ جب میں مر جاؤں گا تو کیا پھر زندہ کر کے (قبر سے) باہر نکالا جاؤں گا

اَوَ لَا یَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ یَكُ شَیْئًا Open ayah 19:67 in the Quran reader

کیا انسان اس بات کو یاد نہیں کرتا کہ پہلے بھی اس کو ہم نے ہی پیدا کیا تھا اور وہ کچھ بھی نہ تھا

ان آیتوں کی تفسیر ہے جن کا حاصل یہ ہے کہ جس صاحب قدرت نے پانی جیسی پتلی چیز سے ماں کے پیٹ میں انسان کا پتلا بنا کر اس پتلے میں روح پھونک دی ، اس کو آدم کے پتلے کی طرح انسان کو دوبارہ پیدا کرنے کے وقت مٹی کا پتلا بنانا اور اس پتلے میں روح کا پھونک دینا کیا مشکل ہے ؟ ۔
Ayahs 19:68–70

فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَ الشَّیٰطِیْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِیًّاۚ Open ayah 19:68 in the Quran reader

پس قسم ہے تمہارے پروردگار کی ! کہ ہم ان منکرین بعثت کو اور شیاطین سب کو گھیر لائیں گے، پھر ان سب کو دوزخ کے آس پاس حاضر کریں گے کہ گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے

ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِیْعَةٍ اَیُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِیًّاۚ Open ayah 19:69 in the Quran reader

پھر ہم الگ کریں گے ہر گروہ میں سے جو ان میں سے خدا پر سب سے زیادہ بےباک ہوگا

ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِیًّا Open ayah 19:70 in the Quran reader

پھر بیشک ہم خوب ایسے لوگوں کو جانتے ہیں جو دوزخ میں جانے کے زیادہ سزاوار ہیں

دوبارہ زندہ ہونے کا ذکر ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تاکید کے طور پر اپنی ذات پاک کی قسم کھا کر فرمایا کہ ضرور سزا وجزا کے لئے ایک دن سب کو دوبارہ زندہ کای جاوے گا تاکہ دنیا کا پیدا کرنا ٹھکانے لگے، اور جن شیاطینوں کے بہکانے سے منکرین حشر دوبارہ زندہ ہونے کا انکار کرتے ہیں، ان کے ساتھ ان کو بھی زندہ کیا جاوے گا، اور دوزخ کے کنارہ پر ان سب کو کھڑا کیا جاوے گا۔ جہاں دوزخ کی دہشت سے گھٹنوں میں سر ڈال کر بیٹھ جائیں گے۔ پھر ان میں سے بڑے بڑے سر کشوں کو چھانٹ کر دوزخ میں جھونکا جاوے گا، اور جو پہلے جھونکنے کا قابل ہیں ان کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے۔
Ayahs 19:71–72

وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا١ۚ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ Open ayah 19:71 in the Quran reader

اور تم میں سے ایسا کوئی نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو تمہارے پروردگار کے ذمہ یہ بات ٹھہر چکی ہے

ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا Open ayah 19:72 in the Quran reader

پھر ہم پرہیز گاروں کو تو بچا لیں گے اور ظالموں کو اس میں چھوڑ دیں گے گھٹنوں کے بل گرے ہوئے

پل صراط پر سے گزرنے کا بیان ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ پل صراط پر سے تمام لوگوں کا گزرنا انتظام الہی میں قطعی طور پر ٹھہر چکا ہے۔ لیکن پرہیز گار لوگ تو صحیح سلامت اس پر سے گزر کر جنت میں چلے جائیں گے، اور گناہ گاہ لوگ اوندھے منہ دوزخ میں گر ُ پڑیں گے۔ صحیح حدیثوں میں آیا ہے کہ جس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان ہوگا، وہ حضور ﷺ کی شفاعت سے ضرور دوزخ سے نکل کر جنت میں جائے گا۔
Ayahs 19:73–74

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا١ۙ اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌ مَّقَامًا وَّ اَحْسَنُ نَدِیًّا Open ayah 19:73 in the Quran reader

اور جب پڑھی جاتی ہیں ان (منکر) لوگوں کے سامنے ہماری روشن آیتیں تو یہ کافر لوگ مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ بتاؤ کون سے گرو کا ان دو گروہ میں مکان اچھا ہے اور مجلس کس کی اچھی ہے

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّ رِءْیًا Open ayah 19:74 in the Quran reader

اور ان سے پہلے ہم نے بہت سے ایسے ایسے گروہ ہلاک کئے ہیں کہ جو ان سے بھی بہتر سامان خانہ داری اور نمود کے اعتبار سے تھے

ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے کہ جب ہماری روشن دلیلیں کفار کو سنا دی جاتی ہیں ، تو ان دلائل کو سن کر یہ کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ یہاں کس کو زیادہ مرتبہ اور دولت حاصل ہے اور راحت ہے۔ اسی کو آخرت میں بھی عزت اور راحت حاصل ہوگی، اور چونکہ تم یہاں تکلیف میں ہو، اس لئے وہاں پر بھی تکلف اٹھاؤ گے۔ اللہ پاک فرماتا ہے :" ہم نے بھی بلت سے کافروں کی جماعتوں کو ہلاک کیا جو اسباب اور نمود میں ان سے بہتر تھے۔ اس لئے لیہ ان کی دلیل غلط ہوگئی کیونکہ دینا پر آخرت کا قیاس کرنا حماقت ہے۔ دنیا میں کافروں کے لئے ڈھیل چھوڑتے ہیں اور جلدی مواخذہ نہیں لیتے ، لیکن جب ہم چاہتے ہیں عذاب دیتے ہں، وہ اس سے بچ نہیں سکتے ۔ اگر ان کا یہ قیاس صحیح ہوتا تو دنیا میں وہ قومیں جو ان سے زیادہ مالدار تھیں عذاب الہی میں گرفتار نہ ہوتیں "۔
Ayah 19:75

قُلْ مَنْ كَانَ فِی الضَّلٰلَةِ فَلْیَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا١ۚ۬ حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَةَ١ؕ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضْعَفُ جُنْدًا Open ayah 19:75 in the Quran reader

(اے محبوب ! ﷺ) تم فرماؤ :" جو کوئی گمراہی میں ہو تو خدا بھی اس کو (دنیا میں) ڈھیل دیتا ہے۔ یہاں تک کہ جس چیز کا انہیں وعدہ دیا گیا ہے اس کو دیکھ لیں گے۔ خواہ عذاب کو (دنیا میں) خواہ قیامت کو ( دوسرے عالم میں) تب ان کو معلوم ہوجاوے گا کہ کس کا بڑا درجہ ہے اور کون کمزور ہے لشکر کے اعتبار سے

اے محبوب ﷺ ! آپ ان سے فرمادیجئے جو گمراہی میں پڑا ہوا ہے اللہ تعالیٰ اسے مال و دولت اور ترقی دیتا ہے ۔ کیونکہ دنیا کے اسباب جس قدر زیادہ ہوں گے، اسی قدر نافرمانی بھی زیادہ ہوگی۔ اس لئے اس نافرمانی کی سزا بھی زیادہ ہوگی۔ واضح ہو کہ عذاب الہیٰ کبھی دنیا میں آیا کرتا ہے اور کبھی قبر میں، اور کبھی قیامت میں بھی ہوتا ہے، اور بعض کو تینوں جگہ عذاب دیا جائے گا۔ اور بعض کو دو جگہ، اور بعض کو ایک جگہ۔ اور جو سب سے زیادہ شقی ہیں، ان کو تینوں ہی جگہ عذاب ہوگا بلکہ دنیا میں تو سرتا پا راحت ہی میں بسر کریں گے، اور مرنے کے بعد عذاب سخت میں مبتلا رہیں گے، جو ابدالاآباد تک رہے گا یعنی ان پر سے عذاب ختم نہ کیا جائے گا۔
Ayah 19:76

وَ یَزِیْدُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا هُدًى١ؕ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ مَّرَدًّا Open ayah 19:76 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہدایت پائی اللہ ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے اور باقی رہنے والی نیکیاں تمہارے پروردگار کے نزدیک ثواب میں بہتر ہیں، اور انجام کے لحاظ سے بہت بہترین ہیں "

مرنے کے بعد سوائے نیک عمل کے کچھ کام نہ آوے گا، خدا کا بیٹا بنانے کا جواب اس آیت میں اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ وجاہت اور سامان جس پر کافروں کو ناز ہے ، کچھ بھی نہیں چند روزہ ہے۔ ہاں نیک اعمال ہی تادیر باقی رہتے ہیں، اور خدا کے پاس جزاء اور بدلہ کے لحاظ سے بہت ہی بہتر ہیں ۔ نیکوں کو آخرت میں نیک بدلہ اور عمدہ مرتبہ اور بہتر مکان ملے گا، جو سدا رہے گا۔ معتبر سند سے مسند بزاز میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :" مال اور اولاد دنیا میں چھوڑ کر جانے کی چیزیں ہیں۔ ہاں جو عمل آدمی نے عمر بھر کئے ہیں، وہ مرنے کے بعد اس کے ساتھ جانے کی چیز ہے "۔ مسند امام احمد اور ابو داؤد میں براء بن عازب ؓ سے صحیح روایت ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ نیک عمل اچھی صورت ، اور بد عمل بری صورت بن کر قبر میں ہر ایک مردہ کے پاس آتے ہیں۔