18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsمظہر القرآن

Ayah 18:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًاؕٚ Open ayah 18:1 in the Quran reader

سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جس نے اپنے بندے (محمد ﷺ) پر کتاب (قرآن) نازل فرمائی اور اس میں ذرا بھی کجی نہیں رکھی

خواص سورة کہف : اس سورت کو جمعہ کے دن پڑھے تو دوسرے جمعہ تک خوف و خطرہ سے امن میں رہے گا۔ جو کوئی روزانہ اس سورت کو پڑھے گا اگر وہ قرض دار ہے تو اس کا قرض ادا ہوجائے گا اور عزیز و اقارب میں عزت وآبرو پائے گا۔ فضائل سورة کہف یہ سورة مکی ہے جو شخص اس سورة کو جمعہ کے دن پڑھے گا دو جمعوں تک اس کے ایمان کی روشنی بڑھ جائے گی۔ اور بڑی برکت اور ثواب کا باعث ہے اور سختی کے دور کرنے کے لئے یہ سورة اکسیر ہے۔ اور یہ سورة چوری کے امن وامان کے لئے بھی ہے۔ اس سورة کے پڑھنے سے سستی دور ہوجاتی ہے اور نیک کاموں کا شوق ہوتا ہے۔ اس سورة کو لکھ کر اپنے گھر میں رکھے وہ محتاجی اور قرضہ سے بےخوف رہے گا۔ جو شخص اس سورة کی اول کی دس آیتیں یاد کرے گا وہ دجال کے فتنہ سے امن میں رہے گا۔ جو سخص اس سورة کو پڑھتا رہے تو اس کے واسطے آسمان و زمین کے بیچ میں نور پھیل جائے گا۔ اس سورة کو کہف اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں ان لوگوں کا عبرت انگیز حال بیان کیا ہے جو کہف یعنی غار میں تین سو نو برس تک سوتے رہے تھے اور پھر جاگے تھے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ تعریف کے قابل وہی ذات مقدس خداوندی ہے جس نے اپنے خاص بندے پر خاص کتاب کو نازل فرمایا اور کتاب ایسی نازل کی ہے کہ جس میں کجی کو دخل نہیں۔ اس کی ہر بات عقل سلیم تسلیم کرتی ہے اور نہ صرف اس میں یہی صفت ہے بلکہ وہ کتاب یعنی قرآن بنی آدم کے لئے ایک ایسی سیڑھی ہے جو سعادت دارین کا وسیلہ ہے۔
Ayahs 18:2–3

قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَنًاۙ Open ayah 18:2 in the Quran reader

عدل والی (اتاری) کہ اللہ کے سخت عذاب آنے والے سے ڈرائے اور ان مسلمانوں کو خوش خبری دے جو نیک عمل کرتے ہیں اس بات کی کہ بیشک ان کے لئے اچھا ثواب ہے

مَّاكِثِیْنَ فِیْهِ اَبَدًاۙ Open ayah 18:3 in the Quran reader

جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے

قرآن مجید نازل ہونے کا سبب پھر فرمایا کہ قرآن مجید ہم نے اس لئے نازل فرمایا ہے کہ لوگ اللہ کے عذاب سے ڈریں اگر اس کے عذاب سے ڈریں گے تو ان کاموں سے بچیں گے جو عذاب کا موجب ہیں۔ جیسے عادوثمود وغیرہ کے حالات مذکور ہیں اور جہنم اور اس عذاب کی کیفیتیں مذکور ہیں۔ اور قرآن شریف کو اس لئے نازل فرمایا ہے کہ جو لوگ ایمان ہی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ اچھے عمل بھی کرتے ہیں ان کی سعادت کا بدلہ بہشت تیار ہے اور وہ بہشت چند روز کے لئے نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ راحت کے ساتھ وہاں رہیں گے۔
Ayahs 18:4–5

وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًاۗ Open ayah 18:4 in the Quran reader

اور ان لوگوں کو ڈرایئے جو کہتے ہیں کہ خدا اولاد رکھتا ہے

مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِهِمْ١ؕ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ؕ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا Open ayah 18:5 in the Quran reader

اس بارے میں نہ تو وہ کچھ علم رکھتے ہیں اور نہ ان کے باپ دادا، بڑی بھاری بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے وہ بلکل جھوٹ بکتے ہیں

یہودیوں کی گستاخی کا بیان یہاں فرمایا کہ ان لوگوں کو قرآن ڈراتا ہے جو مخلوق کو خالق کی اولاد بتاتے ہیں مثلاً عرب کے مشرکین فرشتوں کو خدا کی اولاد اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور یہود عزیر (علیہ السلام) کی نسبت خدا کا بیٹا کہتے تھے۔ پھر فرمایا کہ یہ جو کہتے ہیں کہ خدا صاحب اولاد ہے نہ اس کو وہ جانتے ہیں نہ اس کے باپ دادا۔ پھر فرمایا کہ یہ بڑی بیہودہ اور گستاخی کی بات ہے جیسے یہ کر رہے ہیں اور یہ لوگ محض جھوٹ بکتے ہیں۔
Ayah 18:6

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا Open ayah 18:6 in the Quran reader

(اے محبوب ! ﷺ) کہیں تم اپنی جان ہلاکت میں نہ ڈال دو ان کے پیچھے اگر وہ اس بات ( یعنی قرآن) پر ایمان نہیں لائے، غم کی وجہ سے (یعنی غم نہ کریں)

آنحضرت ﷺ کو تسلی دینے کا ذکر مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو نہایت آرزو تھی کہ کسی طرح بدقوم ہلاکت کے گرداب سے نجات پائے اور ان کے ایمان لانے کا آپ کو بہت غم رہتا تھا۔ اس لئے اول آنحضرت ﷺ کو تسلی فرمائی کہ کیا آپ اپنے تئیں ہلاک کردیں گے غم کے مارے ہرگز وہ ایمان نہ لائیں گے۔
Ayah 18:7

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا Open ayah 18:7 in the Quran reader

بیشک جو کچھ زمین پر ہے ہم نے اسے اس کی آرائش بنایا ہے تاکہ ہم لوگوں کی آزمائش کریں کہ ان میں زیادہ اچھا عمل کون کرتا ہے

چونکہ بعض اوقات موحدوں کو یہ شبہ گزرتا ہے کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ کافروں کو دنیا میں عیش و آرام بہت ملتا ہے، ان پر تو غضب نازل ہونا چاہیے تھا بھلا نعمت کا کیا موقع۔ اب ان مسلمانوں کی تسکین کے لئے ارشاد فرمایا کہ زمین پر جو چیزیں موجود ہیں وہ اہل زمین کی زینت کے لئے ہم نے بنائی ہیں اور اس میں ہمارا مطلب یہ ہے کہ ہم اہل دنیا کو آزمائیں کہ کون شکر کرتا ہے، اور اپنے مال کو اچھے کام میں لگاتا ہے اور کون سرکشی کرتا ہے۔
Ayahs 18:8–10

وَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًاؕ Open ayah 18:8 in the Quran reader

اور بیشک ہر چیز جو کچھ زمین پر ہے سب کو ہم ایک دن صاف میدان (یعنی فنا) کردیں گے

اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِ١ۙ كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا Open ayah 18:9 in the Quran reader

کیا تم خیال کرتے ہو کہ پہاڑ کی کھوہ اور جنگل کے کنارے والے (یعنی اصحاب کہف) ہماری (قدرت کی نشانیوں میں سے) ایک عجیب نشانی تھے

اِذْ اَوَى الْفِتْیَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا Open ayah 18:10 in the Quran reader

جب کہ ان جوانوں نے اس غار میں پناہ لی، پھر دعا مانگنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما اور ہمارے کام میں ہمارے لئے راہ یابی کا سامان مہیا کر دے

اوپر والی آیت میں دنیا کی زیب وزینت کا ذکر فرما کر اس آیت میں فرمایا کہ ہم اس کو زینت ورونق کے بعد ایسا تباہ وبرباد کردیں گے کہ ساری زمین بنجر بےگھاس اور چٹیل میدان ہوجاوے گی یعنی یہ زمین فنا ہو کر حشر کے لئے دوسری نئی زمین پیدا ہوگی۔
Ayahs 18:11–16

فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِی الْكَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًاۙ Open ayah 18:11 in the Quran reader

پس ہم نے سالہا سال تک غار میں ان کے کانوں پر نیند کا پردہ ڈال دیا (یعنی سلا دیا)

ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْۤا اَمَدًا۠ Open ayah 18:12 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کو جگا اٹھایا تاکہ ہم دیکھیں کہ دونوں گروہ میں سے کون ان کے ٹھہرنے کی مدت زیادہ ٹھیک بتاتا ہے

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّهُمْ فِتْیَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْنٰهُمْ هُدًىۗۖ Open ayah 18:13 in the Quran reader

ہم ان کا ٹھیک ٹھیک حال تمہیں سناتے ہیں، وہ چند جوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کو ہدایت اور زیادہ دی

وَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا Open ayah 18:14 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے دلوں کو مضبوط کردیا تھا جب کہ وہ (دربار بادشاہ کافر کے سامنے) کھڑے ہو کر بولے کہ ہمارا پروردگار وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا مالک ہے، ہم اس کے سوا کسی معبود کو ہرگز نہ پکاریں گے۔ اگر ایسا کیا تو ضرور ہم نے حد سے گزری ہوئی بات کہی

هٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ لَوْ لَا یَاْتُوْنَ عَلَیْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَیِّنٍ١ؕ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاؕ Open ayah 18:15 in the Quran reader

یہ جو ہماری قوم ہے اس نے اللہ کے سوا اور خدا بنا رکھے ہیں یہ لوگ ان معبودوں کے ثبوت میں کوئی روشن دلیل کیوں نہیں لاتے پس اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے کہ جس نے خدا پر جھوٹ باندھا (باہر آکر آپس میں کہنے لگے)

وَ اِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗۤا اِلَى الْكَهْفِ یَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یُهَیِّئْ لَكُمْ مِّنْ اَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا Open ayah 18:16 in the Quran reader

” اور جب تم ان (بت پرستوں) سے اور ان کے معبودوں سے الگ ہوگئے تو چلو غار میں جابیٹھو، تمہارا پروردگار تم پر اپنی رحمت کشادہ کر دے گا اور تمہارے واسطے تمہارے کام میں آسانی کے سامان مہیا کر دے گا “

اصحاب کہف کا بیان شان نزول : اس کا حاصل یہ ہے کہ جب یہود نے قریش کو تین سوال دیئے کہ حضرت محمد ﷺ سے پوچھو تو آپس میں کہنے لگے کہ ان جوانوں کا قصہ بہت عجیب ہے، محمد ﷺ اس کا جواب دیں سکیں تو عجب کی بات ہے۔ حق تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ کھوہ والوں کا قصہ ہماری اس قدرت کے روبرو عجیب بات نہیں ہے کس لئے کہ آسمان و زمین کی پیدائش رات دن کا بدلنا، چاند سورج اور اس کے سوا بڑی بڑی نشانیاں ہماری قدرت کی ہیں جو اصحاب کہف کے قصہ سے بھی زیادہ ہیں ۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ قصہ اصحاب کہف بیان ہوتا ہے کہ یہ سات آدمی تھے ان کے نام یہ ہیں : (1) مکسلمینا (2) یملیخا (3) مرطوقس (4) پینونس (5) سار ینونس (6) ذونوانس (7) کشفیط لحنونس اور ان کے کتے کا نام قمطیر ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے کے بعد اہل انجیل کی حالت ابتر ہوگئی وہ بت پرستی میں مبتلا ہوئے اور دوسروں کو بت پرستی پر مجبور کرنے لگے۔ ان میں دقیا نوس بادشاہ بڑا جابر تھا جو بت پرستی پر راضی نہ ہوتا اس کو قتل کر ڈالتا تھا۔ اصحاب کہف شہر افسوس کے شرفاء اور معززین میں سے ایماندار لوگ تھے۔ دقیانوس بادشاہ نے بت پرستی اختیار کرنے کے لئے ان جوانوں کو بلا کر اپنے سامنے کھڑا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ثابت قدمی بڑھا دی، اور ان کے دلوں کو مضبوط کردیا جس سے انہوں نے دقیانوس کو یہی جواب دیا کہ ہم سوا اللہ تعالیٰ کے بتوں کے معبود ہونے کا اقرار ہرگز زبان پر نہیں لاسکتے۔ کیونکہ انسان پر اکیلے اللہ کی تعظیم واجب ہے دقیانوس بادشاہ نے ان نوجوانوں سے یہ کہا کہ تمہاری جوانی پر مجھ کو ترس آتا ہے اس واسطے میں تمہارے قتل کرانے میں جلدی نہیں کرتا لیکن تم کو مہلت دیتا ہوں اگر اس مہلت کے بعد تم نے قوم کا مذہب اختیار نہیں کیا تو تم ضرور قتل کردیئے جاؤ گے دقیانوس نے ان جوانوں کو اپنے دربار سے نکلوا دیا ۔ اس مہلت کے زمانہ میں ان جوانوں نے اپنے دین پر قائم رہنے اور غار میں چھپ جانے کا مشورہ کیا اور اس ارادہ کے پورا ہوجانے میں اللہ کی رحمت پر بھروسہ کیا اور قریب کے پہاڑ میں ایک غار کے اندر پناہ گزین ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے وہ دعا کی جس کا ذکر اوپر کی آیت میں ہے راستے میں ایک کتا بھی ساتھ لگ گیا اس کو دھتکارا تو وہ کتا بحکم خدا بول اٹھا کہ میں اللہ کے پیاروں سے محبت کرتا ہوں تم سو جانا میں چوکیدار بن کر نگہبانی کروں گا غرضیکہ غار میں وہ پڑ کر سو گئے ان کی آنکھیں کھلی ہوئی ہیں جس کے باعث بیدار معلوم ہوتے ہیں تین سو نو برس تک اسی حالت میں رہے۔ بادشاہ دقیانوس نے جو مہلت دی تھی اس مہلت کے بعد یہ جوان دقیانوس کے دربار میں حاضر نہیں ہوئے تو دقیانوس ان کے رشتہ داروں پر خفا ہوا اور جوانوں کے حاضر کرنے کا حکم دیا جوانوں کے رشتہ داروں نے جواب دیا کہ گھروں سے تو وہ جوان چلے گئے مگر سنتے ہیں کہ بستی کے پاس جو پہاڑ ہے اس کے غار میں چھپ گئے ہیں۔ یہ سن کر دقیانوس نے غار کے منہ پر ایک دیور چنوا دی تاکہ وہ جوان بھوکے پیاسے اس غار کے اندر مر جاویں مگر تقدیر الہیٰ کے آگے کسی کی کوئی تدبیر نہیں چلتی۔ اللہ نے اس دیوار کو ان جوانوں کی حفاظت کا ایک ذریعہ ٹھہرا دیا تاکہ باہر سے کوئی غار میں جا کر ان جوانوں کی نیند میں خلل نہ ڈالے۔ اور یہ دیوار کا کام جس کے سپرد کیا تھا وہ نیک آدمی تھا اس نے اصحاب کے نام کی تعداد پورا واقعہ رانگ کی تختی پر کندہ کرا کر تانبے کے صندوق میں دیوار کی بنیاد کے اندر محفوظ کردیا اور اسی طرح ایک تختی شاہی خزانہ میں بھی محفوظ کرادی گئی کچھ عرصہ بعد دقیانوس ہلاک ہوا زمانے گزرے سلطنتیں بدلیں، آخر کو ایک نیک بادشاہ فرمانروا ہوا ، اس کا نام بیداروس تھا جس نے اڑسٹھ سال حکومت کی پھر ملک میں فرقہ بندی پیدا ہوئی اور بعض لوگ مرنے کے بعد اٹھنے اور قیامت آنے کے منکر ہوگئے بادشاہ ایک تنہا مکان میں بند ہوگیا اور اس نے گریہ وزاری سے بارگاہ الہٰی میں دعا کی :” یارب کوئی ایسی نشانی ظاہر فرما جس سے خلق کو مردوں کے اٹھنے اور قیامت آنے کا یقین حاصل ہو “ اس زمانہ میں ایک شخص نے اپنی بکریوں کے لئے آرام کی جگہ حاصل کرنے کے واسطے اسی غار کو تجویز کیا اور غار گرا دی دیوار گرنے کے بعد کچھ ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ گرانے والے بھاگ گئے۔ اصحاب کہف بحکم الہٰی خوش وخرم اٹھے۔ ایک نے دوسرے کو سلام کیا نماز کے لئے کھڑے ہوگئے فارغ ہو کر یملیخا سے کہا کہ آپ جایئے اور بازار سے کچھ کھانے کو بھی لایئے اور یہ بھی خبر لایئے کہ دقیانوس کا ہم لوگوں کی نسبت کیا ارادہ ہے، وہ بازار گئے شہر پناہ کے دروازہ پر اسلامی علامت دیکھی، نئے نئے لوگ پائے انہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نام کی قسم کھاتے سنا۔ تعجب ہوا کہ کیا معاملہ ہے کل تو کوئی شخص اپنا ایمان نہیں ظاہر کرسکتا تھا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نام لینے سے قتل کردیا جاتا تھا، آج اسلامی علامتیں شہر پناہ پر ظاہر ہیں لوگ بےخوف وخطر حضرت کے نام کی قسمیں کھاتے ہیں۔ پھر آپ نانبائی کی دکان پر گئے کھانا خریدنے کے لئے اس کو دقیانوسی د کے کا روپیہ دیاجس کا چلن صدیوں سے موقوف ہوگیا تھا اور اس کا دیکھنے والا بھی کوئی باقی نہ رہا تھا۔ بازار والوں نے خیال کیا کہ کوئی پرانا خزانہ ہاتھ آگیا ہے انہیں پکڑ کر حاکم کے پاس لے گئے وہ نیک شخص تھا اس نے ان سے دریافت کیا کہ خزانہ کہاں ہے۔ انہوں نے کہا خزانہ کہیں نہیں ہے یہ روپیہ ہمارا اپنا ہے حاکم نے کہا یہ بات کسی طرح قابل یقین نہیں اس میں جو سنہ موجود ہے وہ تین سو برس سے زیادہ کا ہے اور آپ نوجوان ہیں ہم لوگ بوڑھے ہم نے تو کبھی یہ سکہ دیکھا ہی نہیں۔ آپ نے فرمایا :” میں جو دریافت کروں وہ ٹھیک ٹھیک بتاؤ تو عقدہ حل ہوجائے گا “ یہ بتاؤ کہ دقیانوس بادشاہ کس حال و خیال میں ہے حاکم نے کہا کہ آج روئے زمین پر اس نام کا کوئی بادشاہ نہیں، سینکڑوں برس ہوئے جب ایک بےایمان بادشاہ اس نام کا گزرا ہے، آپ نے فرمایا :” کل ہی تو ہم اس کے خوف سے جان بچا کر بھاگے ہیں، میرے ساتھ قریب کے پہاڑ میں ایک غار کے اندر پناہ گزیں ہیں چلو میں تمہیں ان سے ملا دوں “۔ حاکم او شہر کے عمائش اور خلق کثیر ان کے ہمراہ سرغار پہنچے۔ اصحاب کہف یملیخا کے انتظار میں تھے کثیر لوگوں کے آنے کی آواز اور کھٹکے سن کر سنجھے کہ یملیخا پکڑے گئے اور دقیانوسی فوج ہماری جستجو میں آرہی ہے۔ اللہ کی حمد اور شکر بجا لانے لگے ، اتنے میں یہ لوگ پہنچے یملیخا نے تمام قصہ سنایا ، ان حضرات نے سمجھ لیا کہ ہم بحکم الہٰی اتنا طویل زمانہ سوئے اور اب اس لئے اٹھائے گئے ہیں کہ لوگوں کے لئے بعد موت زندہ کئے جانے کی دلیل اور نشانی ہوں۔ حاکم سرغار پہنچا تو اس نے تانبے کا صندوق دیکھا اس کو کھولا تو تختی برآمد ہوئی۔ اس تختی میں ان اصحاب کے نام اور ان کے کتے کا نام لکھا تھا۔ یہ بھی لکھا تھا کہ یہ جماعت اپنے دین کی حفاظت کے لئے دقیانوس کے ڈر سے غار میں پناہ گزیں ہوئی۔ دقیانوس نے خبر پاکر ایک دیوار سے انہیں غار میں بند کردینے کا حکم دیا۔ ہم یہ خیال اس لئے لکھتے ہیں کہ جب کبھی غار کھلے تو لوگ ان کے حال سے مطلع ہوجائیں۔ یہ لوح پڑھ کر سب کو تعجب ہوا اور لوگ اللہ کی حمد وثناء بجا لائے کہ اس نے ایسی نشانی ظاہر فرمادی جس سے موت کے بعد اٹھنے کا یقین حاصل ہوتا ہے حاکم اپنے بادشاہ بیداروس کو واقعہ کی اطلاع کی وہ وہ امراء وعمائد کو لے کر حاضر ہوا، اور سجدہ شکر الہٰی بجا لایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا قبول کی، اصحاب کہف نے بادشاہ سے معانقہ کیا اور فرمایا :” ہم تمہیں اللہ کے سپرد کرتے ہیں والسلام علیک ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، اللہ تیری اور تیرے ملک کی حفاظت فرماوے اور جن وانس کے شر سے بچائے “۔ بادشاہ کھڑا ہی تھا کہ وہ حضرات اپنے خواب گاہوں کی طرف واپس ہو کر مصروف خواب ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دی۔ بادشاہ نے سال کے صندوق میں ان کے اجساد کو محفوظ کیا اور اللہ تعالیٰ نے رعب سے ان کی حفاظت فرمائی، کہ کسی کی مجال نہیں کہ وہاں پہنچ سکے۔ بادشاہ نے سرغٖار مسجد بنانے کا حکم دیا اور ایک سرور کا سن معین کیا کہ ہر سال لوگ عید کی طرح وہاں آیا کریں۔ (خازن وغیرہ)
Ayah 18:17

وَ تَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ اِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَ هُمْ فِیْ فَجْوَةٍ مِّنْهُ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا۠ Open ayah 18:17 in the Quran reader

(الحاصل وہ غار میں آسوئے) اور (اے مخاطب ! ) تو سورج کو دیکھ کہ جب نکلتا ہے تو ان کے غار سے داہنی طرف بچ جاتا ہے، اور جب ڈوبتا ہے تو ان کے بائیں طرف سے کتراتا ہوا گزر جاتا ہے، حالانکہ وہ اس غار کے کھلے میدان میں ہیں، یہ اللہ کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے ہے جس کو اللہ ہدایت دے تو وہی ہدایت پاتا ہے اور جس کو وہ بےراہ کرے پس تو ہرگز اس کا کوئی حمایتی راہ دکھانے والا نہ پائے گا

قدرت کی یہ بھی نشانیاں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان جوانوں کے جسموں کو دھوپ مینہ اور برف کے صدمہ سے بچا دیا ہے اور تازہ ہوائیں ان کو پہنچتی ہیں۔
Ayah 18:18

وَ تَحْسَبُهُمْ اَیْقَاظًا وَّ هُمْ رُقُوْدٌ١ۖۗ وَّ نُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ١ۖۗ وَ كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِ١ؕ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَیْهِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَّ لَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا Open ayah 18:18 in the Quran reader

اور تو ان کو جانے گا کہ وہ جاگتے ہیں حالانکہ وہ پڑے سوتے ہیں اور ہم ہی ان کو دائیں اور بائیں طرف کروٹ بدلواتے رہتے ہیں اور ان کا کتا غار کی چوکھٹ پر اپنے دونوں بازو پھیلائے ہوئے ہے۔ اگر تو ان کو جھانک کر دیکھے تو ان سے پیٹھ پھیر کر بھاگے اور ان سے ہیبت میں بھر جائے

اصحاب کہف کا بیان اور قدرت کی نشانی یہ ایک اور نشانی بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھیں کھولے ہوئے رکھیں جیسے سوتے ہیں آنکھیں کھولے ہوئے کہ دیکھنے والا شخص ان کو جاگتے ہوئے آدمی خیال کرے گا، لیکن حقیقت میں وہ سوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے دائیں بائیں طرف کروٹیں بدلواتا رہتا ہے۔ پھر فرمایا کہ ان کے ساتھ ایک کتا جو چلا گیا تھا وہ بھی غار کے منہ پر پنجے اپنے پھیلائے ہوئے سو رہا ہے۔ پھر فرمایا ان جوانوں کے آرام میں خلل نہ پڑنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس غار میں ایسی ہیبت پیدا کردی ہے کہ اے مخاطب اگر تم غار کے اندر جھانک کر ان جوانوں کو دیکھنا چاہو تو دہشت کے مارے وہاں نہ ٹھہرو۔ یہ رعب ایسا ہی ہے جس طرح کا رعب اللہ تعالیٰ نے غار ثور میں اپنے رسول کی ہجرت کے وقت پیدا کردیا تھا۔
Ayahs 18:19–20

وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ لِیَتَسَآءَلُوْا بَیْنَهُمْ١ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ١ؕ فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّهَاۤ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْیَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَ لْیَتَؔلَطَّفْ وَ لَا یُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا Open ayah 18:19 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے (اپنی قدرت سے بعد موت) ان کو جگا دیا تاکہ آپس میں ایک دوسرے سے احوال پوچھیں (پس) ان میں سے ایک نے پوچھا کہ (بھلا تم کتنی دیر یہاں رہے، کچھ لوگ بولے :” ہم ایک دن رہے یا دن سے کم “ (اس کے بعد) وہ کہنے لگے کہ تمہارا پروردگار ہی خوب جانتا ہے تم کس قدر یہاں ٹھہرے۔ پس اب اپنے میں سے ایک شخص کو یہ روپیہ دے کر شہر کو بھیجو پس وہ غور کرے کہ وہاں کون سا کھانا زیادہ صاف ستھرا ہے کہ اس میں سے تمہارے لئے کھانے کو لائے اور چاہئے کہ نرمی کرے اور ہرگز کسی کو تمہاری خبر نہ ہونے دے

اِنَّهُمْ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ یَرْجُمُوْكُمْ اَوْ یُعِیْدُوْكُمْ فِیْ مِلَّتِهِمْ وَ لَنْ تُفْلِحُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:20 in the Quran reader

بیشک اگر وہ تمہاری خبر پاجاویں گے تو تم کو پتھروں سے کچل ڈالیں گے یا اپنے دین میں (جبراً ) پھیر لاویں گے اور اس وقت تم ہرگز فلاح نہ پاؤ گے

مطلب یہ ہے کہ جس طرح تین سو نو برس تک ان کو سلایا اب ان کو اسی طرح اپنی قدرت سے اٹھایا بٹھایا، یا بےآب ودانہ اتنی مدت تک وہ کو نکر سوتے رہے اور اٹھنے کے ساتھ ہی بھوک ان کو کیونکر لگ آئی۔ اتنی مدت تک ان کے جسم اور کپڑوں کو زمین نے کیونکر نہیں کھایا۔ سوتے اٹھتے ہی ان میں سے ایک نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ ہم کتنی دیر سوئے ہوں گے جواب ملا کہ دن بھر یا دوپہر سوئے ہون گے ۔ مگر جب انہوں نے ناخن اور بال بڑھے ہوئے دیکھے تو کہنے لگے :” اللہ ہی کو خوب معلوم ہے کہ کتنی دیر سوئے “ (اس کے بعد کا مطلب اوپر قصے کے اندر آچکا ہے) ۔
Ayah 18:21

وَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَیْهِمْ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ لَا رَیْبَ فِیْهَا١ۗۚ اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْهِمْ بُنْیَانًا١ؕ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا Open ayah 18:21 in the Quran reader

اور اسی طرح لوگوں کو ہم نے ان کی اطلاع کردی کہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں ۔ (ان کی وفات کے بعد) جس وقت وہ لوگ ان کے بارے میں آپس میں جھگڑنے لگے پس بعض نے کہا کہ ان کے غار پر ایک عمارت بناؤ ان کا پروردگار ان کے حال سے خوب وافق ہے جو اس کام میں ٖغالب رہے تھے، انہوں نے کہا کہ ان کے غار پر ہم ضرور ایک مسجد بنائیں گے

شروع سورة سے اصحاب کہف کا قصہ جو یہاں تک گزرا کہ یہ لوگ 309 برس تک پہاڑ کی کھوہ میں بےآب ودانہ سوتے رہے اور جب اللہ نے چاہا ان کو اٹھا کر کھڑا کردیا۔ یہ آیت اس قصہ کا نتیجہ ہے۔ حاصل اس نتیجہ کا یہ ہے کہ جب اللہ اس بات پر قادر ہے کہ 309 برس تک جسم کو اس نے زمین میں رکھ کر پھر اٹھا بٹھایا، تو قیامت کے آنے اور مر کر پھر جینے میں کون شک کرسکتا ہے۔
Ayah 18:22

سَیَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِالْغَیْبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّ ثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ١۫۬ فَلَا تُمَارِ فِیْهِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا١۪ وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِیْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا۠ Open ayah 18:22 in the Quran reader

اے محبوب ﷺ جب تم ان سے اصحاب کہف کا حال بیان کرچکو تو (منکرین اختلاف کریں گے) اب کہیں گے کہ وہ تین ہیں چوتھا ان کا کتا ہے، اور کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ پانچ ہیں چھٹا ان کا کتا ہے یہ لوگ بےدیکھے بات کو ہانکتے ہیں اور بعضے کہیں گے کہ وہ سات ہیں اور آٹھواں ان کا کتا ہے، (اے محبوب ! ﷺ) تم فرماؤ کہ ان کی تعداد تو میرے پروردگار ہی کو خوب معلوم ہے، ان کا صلی حال تو بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں۔ پس تم ان کے بارے میں (اہل کتاب سے) بحث نہ کیا کرو مگر اتنی ہی بحث کرو جو (قرآن میں) ظاہر ہوچکی اور کچھ نہ پوچھو ان کے بارے میں کسی کتابی سے

مطلب یہ ہے کہ نصاریٰ میں کئی فرقے ہیں۔ ایک فرقہ دوسرے فرقے کی بات کو نہیں مانتا ۔ اسی واسطے فرمایا یہ قصہ سن کر آپ کے اختلاف کے سبب سے بعضے ان میں سے یہ کہیں گے کہ وہ غار میں چھپنے والے تین ہیں اور ان کا چوتھا ان کا کتا ہے اور بعضے یہ کہیں گے کہ پانچ ہیں چھٹا ان کا کتا ہے۔ فرمایا کہ یہ ان لوگوں کی ایسی بےٹھکانا باتیں ہیں جس طرح کوئی شخص ایک نشانہ پر پتھر مارنا چاہے مگر پتھر ایسا بےٹھکانے پھینکے کہ کوئی پتھر نشانہ کے ادھر جاوے اور کوئی ادھر۔ غرضیکہ نشانہ پر ایک بھی نہ لگے۔ پھر فرمایا : کچھ لوگ یہ بھی کہیں گے کہ وہ سات ہیں اور آٹھواں کتا ہے ی۔ لیکن اے محبوب ﷺ تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ ان کی صحیح گنتی اللہ کو ہی معلوم ہے۔ پھر فرمایا ان کی گنتی کے جان لینے پر کوئی دین کا معاملہ منحصر نہیں ہے۔ اس لئے اے محبوب ﷺ نہ تم اس بات میں ان لوگوں سے جھگڑا کرو نہ کسی سے ان کی گنتی کا حال پوچھو۔
Ayahs 18:23–24

وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًاۙ Open ayah 18:23 in the Quran reader

اور تم ہرگز کسی کام کی نسبت یوں نہ کہا کرو کہ میں اس کو کل کردوں گا

اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١٘ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِیْتَ وَ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّهْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا رَشَدًا Open ayah 18:24 in the Quran reader

مگر یہ کہ اللہ چاہے ( تو کر دوں گا) اور جب تم بھول جاؤ تو اپنے اللہ کو یاد کرو (یعنی انشاء اللہ کہہ لو) اور کہو کہ قریب ہے کہ میرا پروردگار مجھے اس سے بھی نزدیک تردرستی کی راہ کھائے (یعنی ایسے معجزات عطا فرمائے)

انشاء اللہ کہنے کا حکم شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ جب قریش نے یہود کی تعلیم پر امتحاناً اللہ کے رسول سے روح اور ذوالقرنین اور اصحاب کہف کا حال پوچھا تھا، تو آپ نے فرمایا تھا کہ کل آنا میں سب خبر دے دوں گا۔ انشاء اللہ نہیں فرمایا تھا اس پر کئی روز وحی نہیں آئی۔ کفار نے آپ کو طعنے دینے شروع کئے اور حضرت کو سخت غم لاحق ہوا۔ پھر مفصل قصہ بیان کرکے تنبیہ کرنے کو یہ دو آیات نازل ہوئیں کہ کبھی اللہ کی مشیت کو نہ چھوڑو، یوں کہا کرو کہ اگر اللہ نے چاہا تو یہ کام کردوں گا، اور اگر بھول جاؤ تو پھر یاد کر کے کہہ لیا کرو اور یہ بھی معنی نکلتے ہیں کہ اگر کسی نماز کو بھول گیا تو یاد آتے ہی ادا کرے۔ پھر فرمایا :” اے رسول اللہ کے ! ان مشرکوں سے یہ بھی کہ دو کہ میری نبوت کا ثبوت کچھا اس پر منحصر نہیں ہے، جو تم نے یہود کے سکھانے سے اصحاب کہف کا قصہ پوچھا اور میں نے باوجود امی ہونے کے صحیح صحیح وہ قصہ بیان کردیا۔ بلکہ مجھ کو تو اللہ کی ذات سے امید ہے کہ وہ اس سے بڑھ کر مجھ کو نبوت کا ثبوت عنایت کرے گا۔
Ayahs 18:25–26

وَ لَبِثُوْا فِیْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِیْنَ وَ ازْدَادُوْا تِسْعًا Open ayah 18:25 in the Quran reader

اور اصحاب کہف اپنے غار میں تین سو برس رہے اور نو سو برس اوپر

قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا١ۚ لَهٗ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَبْصِرْ بِهٖ وَ اَسْمِعْ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ١٘ وَّ لَا یُشْرِكُ فِیْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 18:26 in the Quran reader

تم فرماؤ :” اللہ خوب جانتا ہے کہ کس قدر وہ رہے۔ اسی کے پاس آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کا علم ہے، وہ کیا ہی دیکھنے والا اور کیا ہی سننے والا ہے، ان کا خدا کے سوا کوئی بھی مدد گار نہیں اور اللہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا “

اس آیت میں فرمایا کہ اصحاب کہف غار میں سو کر پھر جو جاگے، یہ مدت شمسی سال کے حساب سے تو تین سو اور قمری کے حساب سے تین سو نو برس کی ہے اور ان کے دوبارہ سو جانے اور قصے کے قرآن میں نازل ہونے تک کی مدت اللہ خوب جانتا ہے۔ کیونکہ آسمان و زمین کے دیکھنے سننے کی سب غیب کی باتیں اسی کو اچھی طرح معلوم ہیں۔ سوا اس کے اور کسی کا اس میں کچھ دخل نہیں۔
Ayah 18:27

وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ١ؕۚ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١۫ۚ وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا Open ayah 18:27 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار کی کتاب (قرآن) جو تمہیں وحی ہوئی ہے اس کو پڑھو اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور ہر گز تم اس کے سوا پناہ نہ پاؤ گے

قرآں شریف کی نصیحت امیر و غریب پر یکساں کرنے کا حکم شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ سرداران کفار کی ایک جماعت نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ ہمیں غرباء اور شکستہ حالوں کے ساتھ بیٹھتے شرم آتی ہے، اگر آپ انہیں اپنی صحبت سے جدا کردیں تو ہم اسلام لے آئیں اور ہمارے اسلام لے آنے سے خلق کثیر اسلام لے آئے گی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ کا حکم نہیں بدل سکتا اس کا حکم یہی ہے کہ غریب امیر سب کو یکسان ایک ہی مجلس میں قرآن کی آیتیں نصیحت کے طور پر سنائی جاویں اور تم کو اللہ کی پناہ کے سوا کسی کی پناہ نہیں ہے۔ اس واسطے اللہ کی مرضی کے موافق تم اپنا کام کئے جاؤ۔
Ayah 18:28

وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْ١ۚ تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا Open ayah 18:28 in the Quran reader

اور تم اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو لوگ صبح وشام اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہتے ہیں اور اسی کی رضا مندی چاہتے ہیں اور تمہاری آنکھیں (یعنی توجہات) انہیں چھوڑ کر اور نہ پڑیں، کیا تم دنیا کی زندگانی کی آرائش چاہو گے اور تم اس شخص کا کہنا ہرگز نہ ماننا جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور وہ اپنی خواہش کے تابع ہوگیا اور اس کا کام حد سے گزر گیا ہو

پھر فرمایا کہ غریبوں کی مجلس میں اگر یہ مالدار مشرک نہ آویں تو اس کی کچھ پرواہ نہ کرو، کیونکہ ان کے آنے سے فقط دنیا کی زیب وزینت ہے جو اللہ کو پسند نہیں ہے کہ خالص اللہ کے واسطے جو غریب مسلمان قرآن کی آیتوں کی نصیحت سننے کو تمہارے پاس آتے ہیں اور پھر اس نصیحت کے موافق خالص عقبیٰ کی ببہودی کی نیت سے صبح وشام اللہ کی عبادت میں لگے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے تم کام رکھو اور جن لوگوں کے دل اللہ کی یاد سے غافل اور کفر میں گرفتار ہیں ان کی کوئی بات نہ مانو۔ اس لئے کہ ایسے لوگ اپنی مالداری کے غرور میں انسانیت کی حد سے بڑھ گئے ہیں کہ ان غریب مسلمان کو انسان نہیں گنتے۔ ان کے ساتھ ایک مجلس میں بیٹھنے سے گھبراتے ہیں ایسے لوگوں سے کہہ دیا جاوے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے جس کا جی چاہے اس کو مانے جس کا جی نہ چاہے وہ نہ مانے۔ اب آگے آیتوں میں قرآن کی نصیحت ماننے اور نہ ماننے والوں کا نتیجہ بیان فرمایا ہے۔
Ayah 18:29

وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ١ۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا١ؕ وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ١ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ١ؕ وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا Open ayah 18:29 in the Quran reader

اور فرما دو کہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے ، پھر جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کافر ہوجائے، بیشک ہم نے تیار کر رکھی ہے ظالموں سے واسطے وہ آگ کہ اس کی دیواریں (چاروں طرف سے) گھیر لیں گی اور اگر وہ پانی کے لئے فریاد کریں گے تو انہیں پانی نہیں دیا جائے گا جیسے پگھلا ہوا تانبا ، وہ ان کے مونہوں کو بھون ڈالے گا، کیا ہی برا پینا ہے اور وہ دوزخ کیا ہی بری ٹھہر نے کی جگہ ہے

قرآن کی نصیحت نہ سننے والوں کا ہولناک انجام جو لوگ ہمارا حکم نہ مانیں گے اور قرآن کو خدا کا کلام نہ جانیں گے، ان کے لئے ہم نے دوزخ تیار کر رکھی ہے۔ جب وہ دوزخ میں جائیں گے تو چاروں طرف سے آگ انہیں گھیر لے گی اور مثل قناعت کے ان کے چاروں طرف ہوگی اگر وہ پانی مانگیں گے تو ان کو پانی ایسا ملے گا جیسا پگھلا ہوا تانبا۔ اور اس پانی کو جب ان کے منہ کے پاس لے جائیں گے تو ان کے مونہوں کو بھون ڈالے گا اور چہرے کی تمام کھال اتر کی اس پانی میں گر پڑے گی، اور جب زبردستی وہ پانی ان کو پلایا جاوے گا تو سب انتڑیاں کٹ کر باہر گر پڑیں گی۔ ان تکلیفوں سے تنگ آکر اہل دوزخ اپنے مرنے کی دعا مانگیں گے۔ ہزار برس تک تو ان کی دعا کا کچھ جواب نہ ملے گا، پھر ہزار برس کے بعد دوزخ کے فرشتے ان سے یہ کہیں گے :” کیا دنیا میں تمہارے پاس اللہ کے رسول نہیں آئے ، اور اس عذاب سے تم کو نہیں ڈرایا “ وہ جواب دیویں گے کہ :” ہاں آئے تو تھے، وہ فرشتے کہیں گے :” جب تم نے اللہ کے رسولوں کا کہنا نہ مانا، اور دنیا میں اس عذاب کا حال سن کر بھی اللہ کی نارمانی کو نہ چھوڑا تو پھر آج تم کو موت کہاں ہے اب تو تم کو ہمیشہ یہی عذاب بھگتنا پڑے گا “۔
Ayah 18:30

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ Open ayah 18:30 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور عمل اچھے کئے تو ہم ایسوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو نیک کام کرے

قرآن شریف کے عمل کرنے والوں کا ذکر اوپر کی آیت میں اہل دوزخ کا ذکر تھا۔ اس آیت میں اہل جنت کا ذکر فرمایا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے، انہوں نے اعمال صالحہ بھی کئے، ہم نیک کام کرنے والوں کے عمل کو ضائع نہیں کرتے۔
Ayah 18:31

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ؕ نِعْمَ الثَّوَابُ١ؕ وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۠ Open ayah 18:31 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے لئے باغات ہیں ہمیشہ رہنے کے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ان کو وہاں سونے کے گنگن پہنائے جاویں گے اور سبز رنگ کے کپڑے باریک اور دبیز ریشم کے پہنیں گے، وہاں تختوں پر تکیہ لگائے بییٹھے ہوں گے، کیا ہی اچھا صلہ ہے، اور بہشت کیا ہی خوب آرام کی جگہ ہے

اس آیت میں اعمال صالحہ کی وجہ سے ملنے والے انعامات کا ذکر فرمایا کہ یہ وہی لوگ ہیں جن کے واسطے باغ تیار ہے، اور ان کے مکان کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی اور ان باغوں میں ان کے واسطے ہر طرح کے سامان ہوں۔ یہاں تک کہ ان کے ہاتھوں میں گنگن بھی سونے کے ہوں گے اور جنتی ریشمی لباس نہایت نفیس سبز رنگ کا پہنیں گے، اور ان کے لئے وہاں تخت بچھائے جائیں گے اور وہ تکیہ لگائے ان پر بیٹھے ہوں گے۔ جنت اور اس کی ہر نعمت جو جنتیوں کو میسر ہوگی خوب عمدہ شے ہے اور یہ بہت اچھا انعام ہے اور بہشت بہت بڑے آرام کی جگہ ہے۔
Ayah 18:32

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَیْنَهُمَا زَرْعًاؕ Open ayah 18:32 in the Quran reader

اور ان لوگوں کا ان دو شخصوں کا حال بیان کر دو کہ ان میں سے ایک کو ہم نے انگوروں کے دو باغ دیئے اور ہم نے ان باغوں کے گردا گرد کھجوروں کے درخت پیدا کئے اور ان دونوں (باغوں) درمیان کھیتی بھی لگا رکھی تھی

دو بھائیوں کا قصہ اور تکبر کا نتیجہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے حبیب ﷺ ان کے سامنے ایک مثال بیان کردو۔ وہ مثال یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں سے دو بھائی تھے ایک کا نام یہودا تھا وہ مسلمان تھا دوسرے کا نام قطروس تھا وہ کافر تھا۔ باپ کے ترکہ میں سے آٹھ ہزار دینار انہیں پہنچے۔ ہر ایک نے چار چار ہزار دینار پر قبضہ کیا ۔ کافر نے تو اس روپیہ سے زمین وتالاب اور گھر کی آرائش بڑھائی اور جائداد پیدا کی اور مسلمان نے اپنے حصے کا سب روپیہ نیک کاموں میں صرر کر ڈالا پھر فرمایا کہ ان دونوں میں سے ایک شخص نے جو کہ مشرک اور دار آخرت کا منکر تھا اور دنیا دار تھا دو باغ اپنے تمام مال سے ایسے تیار کرائے کہ اس میں انگوروں کے درخت تھے، اور دونوں باغوں کے گرد کھجوروں کے درخت تھے اور ان دونوں باغوں کے بیچ میں کھیتی ہوتی تھی۔
Ayah 18:33

كِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَیْئًا١ۙ وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًاۙ Open ayah 18:33 in the Quran reader

دونوں باغ اپنا پورا پھل لائے اور کسی میں ذرا بھی کمی نہ کی اور ان دونوں باغوں کے درمیان ہم نے نہر جاری کی

اس آیت میں فرمایا کہ قطروس کافر کے دونوں باغ نہایت سرسبز ہوئے اور خوب میوے ان میں لگے اور اس کی پیداوار میں کچھ کمی نہیں ہوئی تھی اور ان دونوں باغوں کے بیچ میں نہریں جاری تھیں۔
Ayahs 18:34–38

وَّ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ١ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا Open ayah 18:34 in the Quran reader

اور اس شخص کے پاس اور بہت سے میوے تھے تو اپنے ساتھی سے بولا اور وہ اس سے ردوبدل کرتا تھا کہ میں تجھ سے مال میں زیادہ ہوں اور آدمیوں (یعنی کنبہ وغیرہ) کا بھی زیادہ زور رکھتا ہوں

وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ Open ayah 18:35 in the Quran reader

اور وہ اپنے اوپر ظلم (کفر) قائم کرتا ہوا اپنے باغ میں پہنچا اور یہ کہا کہ مجھے گمان نہیں کہ یہ باغ کبھی فنا ہو

وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا Open ayah 18:36 in the Quran reader

اور مجھے قیامت قائم ہونے کا یقین نہیں ہے اور اگر میں اپنے پروردگار کی طرف پھیرا گیا تو بیشک اس باغ سے بہت زیادہ اچھی پلٹنے کی جگہ پاؤں گا

قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًاؕ Open ayah 18:37 in the Quran reader

اس کے ساتھی نے (جو کہ دیندار اور غریب تھا) اس سے گفتگو کرتے ہوئے جواب دیا کہ کیا تو اس ذات پاک کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے تجھ کو (اول) مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے، پھر تجھ کو ٹھیک مرد کیا

لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:38 in the Quran reader

لیکن میں تو یہ اعتقاد رکھتا ہوں کہ اللہ میرا پروردگار ہے اور میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا ہوں

اور اس کافر کے ہاں ہر قسم کا میوہ بھی ہوتا تھا ۔ کتابوں میں لکھا ہے کہ قطروس نے اپنے مسلمان بھائی کو بہت ملامت کی اور کہا کہ میرا تمہارا روپیہ تو برابر تھا میں نے تو یہ باغ اور جائداد پیدا کی میرے ہاں غلام اور نوکر چاکر ہیں، تم مفلس اور پریشان ہوگئے۔ یہودا نے جواب دیا کہ بھائی اس مال سے تم نے دنیا کے باغ مول لئے اور میں نے جنت کے باغ، تم نے دنیا میں گھر بنایا میں نے جنت میں تم نے اپنی شادی کی میں نے اپنی حور عین کا مہر ادا کیا، تم نے لونڈی اور غلام اور نوکر چاکر جمع کئے، میں نے غلمان کی طلب کی قطروس نے اسے بہت ملامت کی اور یہ بات کہی کہ تم بہت بیوقوف ہو تم نے زرنقد کو ایک وعدہ کے بھروسہ پر کھو دیا۔ تم نے ناحق اپنے تئیں ذلیل اور محتاج کردیا۔ پھر فرمایا کہ قطروس نے اپنے بھائی سے نہایت جھگڑا کیا اور بولا :” دیکھو میرے پاس کس قدر مال ہے، اور میں کیسا عزت دار ہوں “ پھر اپنے بھائی یہودا کا ہاتھ پکڑ کر بہت فخر اور غرور کے ساتھ اپنے باغ میں لے گیا وہاں باغ کی بہار دکھا کر کہنے لگا کہ ” بھلا یہ رونق کہیں فنا ہونے والی ہے۔ اور یہ سامان کہیں نیست ونابود ہو سکتے ہیں اور مجھے تو یقین نہیں کہ قیامت قائم ہوگی اور تمہارے چار ہزار وصول ہوں گے اور اس کا بدلہ تم کو ملے گا اگر تمہارے گمان کے موافق قیامت ہو بھی گئی اور میں تسلیم بھی کرلوں کہ قیامت آنے والی ہے تو بھی ہمارا کچھ نقصان نہیں ہم تو یہ جانتے ہیں کہ جب ہم کو یہاں ملا ہے تو وہاں بھی ملے گا، یہودا نے اس کی بات سن کر یوں جواب دیا اور اس سے گفتگو شروع کی کہ اے بھائی تھجے کیا ہوگیا تو قیامت کا انکار کرتا ہے۔ اس کی قدرت میں تجھے کلام ہے جس نے تجھے مٹی سے پیدا کیا دیکھ کر تیری حقیقت کیا تھی تو ایک نطفہ ناچیز تھا۔ اس نے تجھ کو اپنی قدرت سے کیسا بنا دیا ہاتھ پاؤں دے کر ایک مرد معقول بنا دیا۔ پھر فرمایا کہ اس مسلمان یہودا نے اپنے بھائی کافر سے یہ کہا کہ تو تو نہیں مانتا مگر میں تو یہ اعتقاد رکھتا ہوں کہ میرا پروردگار میرا معبود ہے اس کے سوا کسی کو میں قابل عبادت نہیں جانتا سوا اس کے کوئی خالق نہیں بلکہ اس کے سوا سب مخلوق ہیں پھر مخلوق قابل عبادت کیونکر ہوسکتی ہے۔