17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsمظہر القرآن

Ayah 17:1

سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 17:1 in the Quran reader

اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بخشش کرنے والا مھربان ہے۔

خواص سورة بنی اسرائیل : اس سورت کو سات مرتبہ اعتقاد کے ساتھ ہر روز پڑھنا دین و دنیا کی جملہ حاجات کو بر لاتا ہے۔ اور جو بچہ کند ذہن ہو یا زبان میں لکنت ہو تو اس سورت کو زعفران سے طشتری پر لکھ کر پانی سے کھو کر پلا دیں۔ معراج کا تفصیلی بیان یہ ایک جلیل معجزہ اور عظیم نعمت ہے جو آپ کے سوا کسی کو میسر نہیں ہوئی۔ نبوت کے بارہویں سال رجب کی ستائیسویں شب کو معراج ہوئی۔ اگرچہ آیت میں صرف مسجد بیت المقدس تک جو چالیس رات کی مسافت ہے، شب کے چھوٹے حصہ میں تشریف لے جانا ثابت ہے اس کا منکر کافر ہے اور آسمان کی سیر اور مرتبہ قرب پر پہنچنا صحیح احادیث سے ثابت ہے اس کا منکر گمراہ ہے۔ معراج شریف بحالت بیداری جسم وروح دونوں کے ساتھ واقع ہوئی اور روحانی معراج تو بار بار ہوتی رہی یہی جمہور اسلام کا عقیدہ ہے اور اصحاب رسول اللہ ﷺ کی کثیر جماعتیں اور حضور کے اصحاب اسی کے معتقد ہیں۔ اس شب کو ام ہانی ؓ کے حجرہ میں سے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) مسجد حرام لے گئے۔ سینہ چاک کیا اور زمزم کے پانی سے دل مبارک کو دھو کر اس کے مقام پر رکھ دیا۔ اور پھر ایک جانور سفید رنگ جس کا نام براق ہے، جس کا ایک قدم اتنی دور تک جاتا ہے جہاں تک نظر جاسکے اس پر سوار کیا اور تھوڑی دیر میں بیت المقدس پہنچا دیا جب حضور وہاں تشریف لے گئے تو ملائکہ اور تمام انبیاء کی امامت فرمائی۔ پھر براق پر سوار ہو کر آسمانوں پر تشریف لے گئے۔ پہلے آسمان پر حضرت آدم علیہ السلام، دوسرے پر حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور تیسرے آسمان پر حضرت یوسف (علیہ السلام) اور چوتھے پر ادریس علیہ السلام، پانچویں پر ہارون علیہ السلام، چھٹے پر حضرت موسیٰ علیہ اسلام، ساتویں پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دوبارہ دیکھا، اور ان کو سلام کیا۔ اور اعزاز واکرام کے ساتھ سب نے جواب دیا اور تشریف آوری کی مبارک باد دی اور جب سدرۃ المنتہیٰ ، بیت المعمور، حوض کوثر، نہر رحمت، وغیرہ ملاحظہ فرماچکے تو حضرت جبریل (علیہ السلام) نے آگے جانے سے عذر کیا کہ اب اگر ایک ذرہ بھی بڑھوں گا تو جل جاؤں گا وہاں سے آپ تنہا ایسے مقام پر پہنچے کہ براق بھی چلنے سے باز رہا۔ پھر رف رف پر سوار ہوئے اور پائے عرش کے قریب پہنچے اور بار گاہ الہی سے خطاب سبا کہ مجھ سے قریب ہو، پھر مقام قرب خاص میں ترقی فرمائی اور اس قرب اعلیٰ میں پہنچے کہ جس تصور سے خلق کے وہم وفکر عاجز ہیں۔ وہاں پہنچ کر اللہ کی تعریف بیان کی اور جواب سے مشرف ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے سلام سے معزز ہوئے پھر آپ نے اس سلام کے اندر اپنی امت کو داخل فرمایا۔ وہ سب کلمات التحیات (نماز) میں داخل ہیں۔ پھر اللہ کی رحمت اور کرم ہوا اور انعامات عالیہ اور خصوصیات سے سرفراز فرمایا۔ پھر حضور صلی اللہ عنہ وسلم سے کچھ دریافت کیا جس کا جواب آپ نہ دے سکے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنا دست قدرت دونوں شانوں کے درمیان رکھا جس سے کچھ سردی پائی اور آنحضرت ﷺ کو علوم اولین وآخرین عطا فرمائے۔ پھر امت پر پچاس وقت کی نماز فرض کی گئی۔ جب آنحضرت ﷺ واپس ہوئے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ حال کہا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی امت سے اتنی عبادت نہ ہو سکے گی۔ غرضیکہ کئی بار حق تعالیٰ کے پاس آنے جانے پر آخر پا انچ وقت کی نمازیں فرض ہوئیں اور پچاس کا ثواب عطا کیا گیا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا :" میں نے معراج میں اپنے پروردگار کو دیکھا جنت دوزخ کے حالات کا معائنہ کیا "۔ پھر اسی رات واپس آگئے۔ حضرت ام ہانی ؓ کو واقعہ سنایا اور یہ فرمایا کہ تمام انبیاء (علیہ السلام) سے ملاقات کی اور انہیں نماز پڑھائی۔ پھر آپ مسجد حرام میں آگئے اور قریش کو معراج کی خبر دی۔ سب نے محال جان کر تعجب کیا اور امتحاناً آپ سے بیت المقدس کے راستہ کے حالات پوچھنا شروع کئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی نظر سے حجاب اٹھا دیا اور جو جو باتیں انہوں نے پوچھیں آنحضرت ﷺ نے فوراً بتا دیں۔ لیکن صعیف الایمان مرتد ہوگئے کچھ لوگ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی طرف دوڑے گئے ان سے یہ واقعہ بیان کیا۔ انہوں نے کہا :" اگر رسول اللہ ایسا فرماتے ہیں تو بلکل ٹھیک ہے۔ اگر اس سے زیادہ تعجب انگیز بات ہوتی تو میں اس کی بھی تصدیق کرتا " اسی دن سے آپ کا لقب صدیق ہوگیا۔ روایت ہے کہ جب رسول خدا ﷺ درجات عالیہ اور مراتب رفیعہ پر ممتاز ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ : ہم کس چیز سے آپ کی تکریم کریں۔ آپ نے عرض کیا :" اپنا بندہ بنا لینے سے "۔ چناچہ یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayahs 17:2–3

وَ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِیْ وَكِیْلًاؕ Open ayah 17:2 in the Quran reader

وہ پاک (ذات) ہے جو اپنے بندے (ﷺ) کو راتوں رات لے گیا مسجد حرام (یعنی کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (یعنی بیت المقدس) تک جس کے گرداگرد ھم نے برکت رکھی ہے تا کہ ہم اس کو اپنی (قدرت کی) بعض نشانیاں دکھائیں، بیشک وہی ہے سننے والا دیکھنے والا۔

ذُرِّیَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا Open ayah 17:3 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو دی کتاب (یعنی توریت) اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لئے ہدایت (کا ذریعہ) کیا ( اور انہیں یہ حکم دیا) کہ تم میرے سوا کسی کو کار ساز نہ ٹہراؤ

آنحضرت ﷺ کی معراج کے بعد اور انبیاء پر اپنا فضل بیان فرماتا ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر جو کتاب توریت نازل کی تھی، اسے بنی اسرائیل کے لئے راہبر ٹھرایا تھا کہ وہ لوگ اس کے احکام کی پیروی کر کے ہدایت پائیں اور گمراہی ساے نکل کر راہ حق کے پورے پورے تابع ہوجائیں اور جتنے رسول بھیجے سب کو یہی تعلیم تھی۔ پھر فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ کس کی اولاد ہو، تم سب حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد ہو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) طوفان کے وقت کشتی میں سوار ہوئے تھے اور چالیس جوڑے آدمیوں کے ہمراہ جودی پہاڑ کے نیچے اترے تو تھوڑے عرصہ میں سب کے سب فوت ہوگئے۔ صرف آپ کے صاحبزادے دنیا میں سلامت رہے، جن کی نسل سے یہ دنیا آباد ہوئی۔ پھر فرمایا کہ تمہارا باپ حضرت بوح (علیہ السلام) خدا کا نہایت ہی شکر بجا لیا کرتے تھے، اس واسطے تمہیں بھی لازم ہے کہ تم ان کی پیروی کرو اور ہر وقت خدا کی نعمت یاد کرتے رہو۔ یہ کتنا بڑا خدا کا تم پر انعام ہوا۔ کہ اس نے تمہاری ہدایت کے لئے رسول برحق حضرت محمد ﷺ کو بھیجا۔ اس نعمت کی شکر گزاری یہی ہے کہ تم ان کی فرمانبرداری کرکے عقبیٰ کی بہبودی حاصل کرو۔
Ayah 17:4

وَ قَضَیْنَاۤ اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ فِی الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَ لَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:4 in the Quran reader

اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا بیشک نوح بڑا شکر گزار بندہ تھا

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے حال سے آنحضرت ﷺ کو خبر دی کہ اللہ تعالیٰ نے توریت میں اس بات کی خبر بنی اسرائیل کو دے دی تھی کہ وہ دوبارہ دنیا میں فساد برپا کریں گے اور دونوں دفعہ ذلیل خوار ہوں گے، چناچہ ویسا ہی ہوا۔
Ayahs 17:5–8

فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَیْكُمْ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ وَ كَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا Open ayah 17:5 in the Quran reader

اور ہم نے یہ وحی (بطور پیشین گوئی) بتادی بنی اسرائیل کو توریت میں کہ تم ضرور فساد پھیلاؤ گے زمین میں دو مرتبہ اور ضرور بڑی سخت سرکشی کرو گے

ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَیْهِمْ وَ اَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ جَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِیْرًا Open ayah 17:6 in the Quran reader

پس جب ان دونوں میں سے پہلی بار کا وعدہ آیا تو (اے بنی اسرائیل ! ) ہم نے تم پر اپنے کچھ بندے بھیجے جو بڑے ہی لڑنے والے تھے، پس وہ تمہاری آبادیوں کے اندر گھس گئے (لوٹ اور قید وقتل کے لئے) اور یہ ایک وعدہ تھا جو پورا ہونا ہی تھا

اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ١۫ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا١ؕ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِیَسُوْٓءٗا وُجُوْهَكُمْ وَ لِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ لِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا Open ayah 17:7 in the Quran reader

پھر ہم نے تم کو دشمنوں پر غلبہ اور دیا ہم نے تم کو مال اور اولاد سے مدد دی اور تمہاری جماعت بڑھا دی

عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یَّرْحَمَكُمْ١ۚ وَ اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا١ۘ وَ جَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ حَصِیْرًا Open ayah 17:8 in the Quran reader

اگر تم بھلائی کرو گے تو اپنے ہی بھلے کے لئے کرو گے، اور اگر تم برائی کرو گے تو اپنے ہی لئے، پھر جب دوسری بار کا وعدہ آیا کہ دشمن تمہارا منہ بگاڑ دیں ( کہ رنج و پریشانی کے آثار تمہارے چہروں سے ظاہر ہوں) اور اسی مسجد (بیت المقدس) میں گھس پڑیں جس طرح پہلی مرتبہ حملہ آور گھسے تھے اور جس چیز پر قابو پاویں اسے تباہ کرکے برباد کردیں

بنی اسرائیل کی بربادی اس آیت میں ارشاد ہے کہ پہلی دفعہ انہوں نے احکام توریت کی مخالفت کی اور حضرت ارمیا کو قتل کیا۔ اللہ تعالیٰ نے جالوت لو مسلط کیا۔ اس نے یہود کے علماء کو چن چن کر قتل کر ڈالا اور توریت کو جلادیا۔ مسجد اور گھروں میں گھس گھس کر لوگوں کو قتل و غارت کرتا شروع کیا اور ستر ہزار آدمی انہوں نے قید کر لئے۔ یہ وعدہ اللہ پاک کا ضرور ہونے والا تھا۔ جب بنی اسرائیل نے توبہ کی اور تکبر و فساد سے باز آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دولت اور قوت دی اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ہاتھ سے جالوت قوم کے ہلاک کیا اور ان کو مسلط کیا لیکن ان کو یہ بات جتلا دی تھی کہ دیکھو یاد رکھو اب بھی اگر ٹھیک راہ پر رہے اور نیکوکار بنے رہے تو تمہاری ہی جان کو اس سے فائدہ پہنچے گا اور اگر پھر ایسی حرکت کی تو تمہیں تمہاری جان کے لالے پڑجائیں گے۔ اگرچہ یہ خطاب بنی اسرائیل کو تھا مگر کفار قریش بھی اس میں شامل ہیں کہ اگر تم بھی ویسا ہی فساد کرو گے، اور کتاب اللہ کی مخالفت پر آمادہ ہو کر نبی برحق محمد ﷺ کو جھٹلاؤ گے تو اس کا وبال تمہاری گردن پر پڑے گا۔ بہر حال بنی اسرائیل پھر بھی راہ راست پر نہیں آئے اور پھر دوبارہ فساد اٹھانے لگے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کے درپے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بچالیا اور اپنی طرف اٹھا لیا۔ پھر انہوں نے حضرت زکریا اور یحییٰ (علیہ السلام) کو قتل کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اہل فارس اور روم کو مسلط کیا۔ انہوں نے وہ قتل و غارت کیا کہ بیت المقدس کو ویران کردیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرمایا کہ تمہارا رب برسر رحم آگیا ہے اگر تم راہ راست پر آگئے تو پھر وہی شان و شوکت تمہیں دے دوں گا۔ یعنی یہ رحمت جس کا اللہ پاک نے بنی اسرائیل سے وعدہ کیا تھا جناب سرور کائنات فخر موجودات ﷺ ہیں اور یہ بھی اللہ تعالیٰ نے انہیں جتا دیا تھا کہ اگر پھر تیسری مرتبہ وہی فساد اٹھاؤ گے تو یاد رکھو وہی عذاب تم پر نازل کریں گے۔ اور آخرت میں بہت ہی برا گھر ان کے واسطے تیار ہے وہاں جہنم کے قید خانے میں یہ قید رہیں گے۔ چناچہ تیسری مرتبہ پھر ایسا کیا اور زمانہ پاک مصطفیٰ ﷺ میں حضور اقدس علیہما الصلوٰۃ والسلام کی تکذیب کی۔ پھر قیامت تک کے لئے ان پر ذلت لازم کردی گئی اور مسلمان ان پر مسلط فرما دئیے گئے۔ جیسا کہ قرآن شریف میں یہود کی نسبت وارد ہوا۔
Ayahs 17:9–10

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَهْدِیْ لِلَّتِیْ هِیَ اَقْوَمُ وَ یُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِیْرًاۙ Open ayah 17:9 in the Quran reader

قریب ہے کہ تمہارا پروردگار تم پر رحم کرے، اور اگر تم پھر شرارت کرو گے تو (اللہ فرماتا ہے):" ہم پھر (عذاب) کریں گے اور ہم نے دوزخ کو کافروں کے لئے قید خانہ بنایا ہے "

وَّ اَنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 17:10 in the Quran reader

بیشک یہ قرآن وہ رستہ بتلاتا ہے جو سب سے سیدھا ہے اور خوشخبری دیتا ہے ان مسلمانوں کو جو نیک کام کرتے ہیں کہ ان کے لئے بڑا ثواب ہے

توحید کا بیان : اس آیت میں فرمایا کہ یہ قرآن جو آنحضرت ﷺ پر نازل ہوا ہے یہ سراپا ہدایت ہے۔ جو دین اسلام اور توحید خالص اور رسولوں پر ایمان لانا اور خدا کی کل کتابیں جو نازل ہوئی ہیں، اول سے آخر تک سب پر یقین کرنا اس قرآن مجید کی تعلیم ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ایماندار لوگوں کو بشارت سنائی کہ اس کتاب سے خدا اور رسول پر ایمان لانے والے لوگ مژدہ پاتے ہیں۔ جو اچھے اچھے دنیا میں کام کرتے ہیں، انہیں دین ودنیا میں بہت ہی بڑا فائدہ اور اجر ملے گا۔ جنت خاص انہیں لوگوں کے واسطے خدا نے بنا رکھی ہے۔ پھر فرمایا کہ جو لوگ خدا اور رسول اور قیامت کے دن پر ایمان ویقین نہیں رکھتے ان کے لئے سخت عذاب ہے۔
Ayah 17:11

وَ یَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهٗ بِالْخَیْرِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا Open ayah 17:11 in the Quran reader

اور یہ ( بھی بتلاتا ہے) کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کے لئے ہم نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

غصہ میں آ کر بددعا کرنا منع ہے اس آیت میں اللہ پاک نے انسان کو جلدی کرنے کا بیان فرمایا کہ اکثر انسان اپنے لئے اور اپنے گھر والوں کے لئے اور اپنے مال کے لئے اور اپنی اولاد کے لئے غصہ میں آن کر ان سب کو کو ستا ہے اور ان کے لئے بددعائیں کرتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کی یہ بددعا قبول کرلے تو وہ شخص یا اس کے اہل و عیال ومال ہلاک ہوجائیں لیکن اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے اس کو قبول نہیں فرماتا۔ مطلب یہ ہے کہ ہر مسلمان کو غصہ کی حالت میں ہر طرح کی بددعا کرنے سے بچنا چاہیے۔
Ayah 17:12

وَ جَعَلْنَا الَّیْلَ وَ النَّهَارَ اٰیَتَیْنِ فَمَحَوْنَاۤ اٰیَةَ الَّیْلِ وَ جَعَلْنَاۤ اٰیَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِیْلًا Open ayah 17:12 in the Quran reader

اور انسان برائی کی دعا کرتا ہے جیسا کہ وہ بھلائی مانگتا، ہے اور انسان بڑا جلد باز ہے

اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں آیت میں اللہ پاک نے دو نشانیوں رات ودن کا ذکر فرمایا کہ یہ دونوں نشانیاں جدا جدا ہیں۔ ہر ایک دوسرے کے پیچھے اسی طرح لگاتار آتا جاتا رہتا ہے کہ کھبی کسی کا دور ختم نہیں ہوتا۔ یہاں یہ اشارہ ہے کہ اگر عہد موسیٰ علی اسلام ختم ہوگیا تو عہد محمدی ﷺ قائم ہو تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔ اسی طرح احکام توریت کا منسوخ ہونا اور احکام قرآن کا نافذ ہونا کچھ حیرت نہیں۔ پھر فرمایا کہ ایک نشانی مٹا کر دوسری نشانی کے ظاہر کرنے میں بہت فوائد ہیں۔ دن میں آدمی ہر قسم کے کاروبار کرتا ہے اور رات کو تھکے ماندے گھروں میں آکر چین سے سوتے ہیں، اور ان ہی دونوں کے دورے سے رات ودن کا ظہور ہوتا ہے اور پھر ایام کے حساب کرنے سے ہفتہ اور ہفتوں سے مہینے اور مہینوں سے سال کا حساب انسان لگاتا رہتا ہے۔ اگر تاریخ روز، مہینوں کی گنتی، یا حساب میں کچھ فرق پڑجائے تو تمہارے بہت سے کام ابتر ہوجاویں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ساری باتیں تفصیل کرکے بیان کردی ہیں۔
Ayahs 17:13–14

وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓئِرَهٗ فِیْ عُنُقِهٖ١ؕ وَ نُخْرِجُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا Open ayah 17:13 in the Quran reader

اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا، پھر ہم نے رات کی نشانی کو بےنور بنایا اور دن کی نشانی کو ہم نے دکھانے والی (روشن بنایا تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل (یعنی رزق) تلاش کرو، اور برسوں کی گنتی اور حساب جانو، اور ہم نے (قرآن میں) ہر چیز کو خوب تفصیل کے ساتھ بیان کردیا

اِقْرَاْ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ Open ayah 17:14 in the Quran reader

اور ہم نے ہر انسان کی قسمت کو (بصورت کتاب) اس کی گردن میں باندھ دیا ہے، اور قیامت کے دن ہم اس کے لئے (نامہء اعمال کی) ایک کتاب نکالیں گے۔ وہ اسے اپنے سامنے کھلا ہوا پائے گا

نامہ اعمال کا ذکر اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نامہ اعمال کو اڑنے والے جانوروں سے مشابہت دے کر طائر اس لئے فرمایا کہ قیامت کے دن کئی پیشیاں بندوں کی اللہ تعالیٰ کے روبرو ہوں گی۔ پہلی دو پیشیوں میں اللہ تعالیٰ ان کو ان کے گناہ یاد دلاتا رہے گا اور لوگ طرح طرح کے عذر کرتے رہیں گے۔ تیسری دفعہ نامہ اعمال کے کاغذوں کو پر دار جانوروں کی طرح اڑا دینے کا حکم ہوجاوے گا۔ وہ نامہ اعمال اڑ کر دائیں اور بائیں ہاتھوں میں جیسے کے عمل ہوں گے آجائیں گے۔ بچہ کے پیدا ہونے کے بعد فرشتہ ہر ایک شخص کے عمل لکھتا رہتا ہے۔ مر جانے کے بعد نیک عمل نیک صورت بن کر اور بد عمل بد صورت بن کر قبر میں اس کے ساتھ رہتے ہیں۔ کوئی وقت ایسا نہیں کہ یہ عمل انسان سے جدا ہوں، یعنی انسان کی گردن میں لگا ہوا ہے اور قیامت میں انہی عملوں کے موافق جزا وسزا بھگتنی پڑے گی۔ اب آگے فرمایا قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے عمر بھر کے عملوں کی کتاب پڑھنے کو دی جاوے گی اور کہا جاوے گا کہ دوسرے کسی گواہ کی ضرورت نہیں۔ اعمال نامہ کو دیکھ کر خود تو ہی اپنے عمر بھر کے عملوں کو جانچنے کے لئے کافی ہے۔
Ayah 17:15

مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا Open ayah 17:15 in the Quran reader

ہم کہیں گے :" اپنا نامہ اعمال پڑھ آج تو خود ہی اپنا حساب کرنے کو کافی ہے "

عذاب کا ذکر مطلب یہ ہے کہ جو شخص دنیا میں اچھے عمل کرتا ہے اور رسول کی تابعداری کر رہا ہے آخرت میں خسارہ میں رہے گا اور کوئی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم کسی قوم کو عذاب دینے والے نہیں جب تک کوئی رسول نہ بھیجیں ۔
Ayah 17:16

وَ اِذَاۤ اَرَدْنَاۤ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْهَا فَفَسَقُوْا فِیْهَا فَحَقَّ عَلَیْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِیْرًا Open ayah 17:16 in the Quran reader

جو کوئی راہ پر آیا وہ اپنے ہی بھلے کو راہ پر آیا، اور جو بھٹک گیا تو اپنی ہی خرابی کے لئے بھٹکا، اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی، اور ہم عذاب کرنے والے نہیں جب تک کوئی رسول نہ بھیج لیں

کفار کو تنبیہ : اس آیت میں ارشاد ہے کہ جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو یوں یک بیک نہیں ہلاک کرتے بلکہ پہلے اپنے رسول کے ذریعہ سے اپنا حکم وہاں کے لوگوں کو بھیج دیتے ہیں اور جو لوگ وہاں خوشحال و آسودہ ہوتے ہیں ان کو ہر طرح کی آرائش و آرام عطا کرتے ہیں۔ پھر جب وہ فسق وفجور کرنے لگتے ہیں اور راہ حق پر نہیں آتے، اور رسول کو جھٹلاتے ہیں تو پھر اللہ کا حکم نافذ ہوجاتا ہے اور جس طرح کے عذاب کی بات ان کے حق میں مقرر کی ہوئی ہوتی ہے وہ پیش آجاتی ہے اور اسی طرح اس بستی کو تہ وبالا کرتے ہیں یعنی جڑ سے اکھیڑ کر پھینک دیتے ہیں۔
Ayah 17:17

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:17 in the Quran reader

اور ہم جب کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں، اس بستی کے دولت مندوں پر احکام بھیجتے ہیں، پھر وہ اس میں بےحکمی (نافرمانی) کرتے ہیں تب ان پر عذاب کی بات ثابت ہوجاتی ہے، پھر ہم اس کو تباہ کرکے برباد کردیتے ہیں

اس آیت میں کفار قریش کو دھمکی دی اور ڈرایا کہ تم یہ نہ سمجھو کہ تم ہمارے رسول برحق کو جھٹلاؤ گے اور پھر بچ جاؤ گے۔ نوح (علیہ السلام) کے بعد بہت سی بستیاں ہم نے خاک سیاہ کردی ہیں۔ قوم عاد وثمود قوم صالح غرض یہ کہ بہت سے گروہ ہلاک ہوئے اور ان کی ہلاکت کی وجہ یہی تھی کہ جس طرح تم محمد ﷺ کو جھٹلاتے ہو وہ بھی اپنے رسولوں کو جھٹلاتے تھے۔ تو اے کفار ! تم بےخوف نہ ہوجاؤ۔ جس وقت خدا بدلہ لینے پر آمادہ ہوگا تو فوراً تمہیں ہلاک کر ڈالے گا وہ ہر شخص کے انجام سے واقف ہے۔ نیکوکار کو بھی وہ خوب جانتا ہے اور گناہ گار کا بھی اسے علم ہے۔ وہ نہایت ہی دانا بینا ہے، اس کا علم ہر شے کو محیط ہے۔ لیکن عادت الہٰی یہ ہے کہ پہلے نافرمان لوگوں کو مہلت دی جاتی ہے، اور مہلت کے زمانہ میں جب وہ لوگ اپنی نافرمانی سے باز نہیں آتے تو ان کو کسی سخت عذاب میں پکڑ لیا جاتا ہے۔
Ayah 17:18

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِیْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:18 in the Quran reader

اور ہم بہت سی امتیں ہلاک کرچکے ہیں نوح کے بعد ( کفر اور گناہ کے سبب سے) ، اور کافی ہے تمہارا پروردگار اپنے بندوں کے گناہوں کا جاننے والا

دنیا دار اور دین دار کا ذکر اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص دنیا میں پھنس کر دین سے بلکل غافل ہوجاتا ہے اس کو دنیا کچھ زیادہ نہیں ملتی بلکہ اسی قدر ملتی ہے جو اس کے نصیب میں خدا نے لکھی ہے۔ اور جو شخص دین کا طلب گار رہتا ہے، اس کا دل ہمیشہ غنی رہتا ہے اور بقدر ضرورت دنیا بھی بلا طلب اس کو ملا کرتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ دنیا کی خوشحالی کے نشہ میں عقبیٰ کے منکر ہیں قیامت کے دن ایسے لوگوں کو دوزخ میں جھونک دیا جاوے گا۔
Ayah 17:19

وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا Open ayah 17:19 in the Quran reader

دیکھنے والا جو کوئی چاہتا ہے آسودگی دنیا کی ہم اس میں سے اسے اس دنیا میں دینا چاہتے ہیں جسے چاہتے ہیں جلد دے دیتے ہیں، پھر آخر کار اس کے لئے دوزخ مقرر کرتے ہیں، اس میں داخل ہوگا خوار اور ذلیل ہو کر

اس آیت میں دینداروں کی کیفیت بیان فرمائی ہے کہ جو آخرت کی نمنا رکھتا ہے اور آخرت کے واسطے کوشش کرتا ہے اور ایمان بھی اس کو حاصل ہے۔ پس یہ وہ لوگ ہیں جن کی کوشش مقبول ہوگی۔ مقبولیت کے لئے تین شرطیں ہیں : (1) اول طلب آخرت۔ (2) دوم اعمال نیک۔ (3) سوم ثبوت ایمان یعنی مومن کا ہونا کیونکہ عمل صالح اس شخص کا مقبول ہوتا ہے جو صاحب ایمان و متقی ہو تو یہ خدا کا مقرب بندہ بنے گا۔
Ayahs 17:20–21

كُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَ هٰۤؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا Open ayah 17:20 in the Quran reader

اور کوئی آخرت کا طالب ہوا اور اس کے لئے جیسی کچھ کرنی چاہئے ویسی ہی کوشش بھی کرتا ہے اور ہو مسلمان پس یہ وہی لوگ ہیں کہ جن کی کوشش مقبول ہوگی

اُنْظُرْ كَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ وَ لَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَكْبَرُ تَفْضِیْلًا Open ayah 17:21 in the Quran reader

ہم سب کو مدد دیتے ہیں ان کو بھی (جو دنیا چاہے) اور ان کو بھی ( جو آخرت کے طالب ہوئے اور راہ حق پر چلے) ، تمہارے پروردگار کی عطا سے، اور تمہارے پروردگار کی عطا پر روک نہیں

دنیا میں ایک پر کو ایک بزرگی، آخرت میں فضیلت اس آیت میں فرمایا کہ ان دونوں گرہوں میں سے کوئی بھی ہو سب پر اللہ پاک اپنی بخشش کئے جاتا ہے۔ جو شخص جس بات کا مستحق ہے وہ اسے عطا کرتا ہے اس کے حکم کا پھیرنے والا کوئی نہیں ہے، کوئی چاہے کہ خداوند تعالیٰ کی بخشش کو روک دے، تو وہ کسی کے روکے نہیں رک سکتی، کافر ومومن سب کا وہ رازق ہے۔ پھر فرمایا کہ دیکھو اللہ نے کسی طرح دنیا میں لوگوں کو بزرگی دی ہے۔ کسی کو فقیر، کسی کو بادشاہ، کسی کو تندرست ، کسی کو بیمار ، کوئی عقلمند، کوئی دیوانہ غرضیکہ اس میں بھی خدا کی حکمت پوشیدہ ہے۔ پھر فرمایا کہ آخرت کے درجات وہ اعلیٰ درجے کی بات ہے اور اس میں بڑی فضیلت ہے، یعنی اصلی فضیلت اور بزرگی آخرت میں ملے گی، دنیا میں اگر ایک کو دوسرے پر فضیلت ہے، تو وہ عارضی ہے۔
Ayah 17:22

لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا۠ Open ayah 17:22 in the Quran reader

دیکھو ہم نے کیون کی فضیلت دی ایک کو ایک پر، اور بیشک آخرت درجوں میں سب سے بڑی اور فضل میں سب سے اعلیٰ ہے

اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ خدا کے ساتھ دوسرے کو شریک نہ بنانا۔ یہ خطاب عام ہے اگر ایسا کرو گے تو دوزخ میں جانا پڑے گا اور نہایت خرابی و محرومی کے ساتھ جاؤ گے۔
Ayah 17:23

وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا Open ayah 17:23 in the Quran reader

(اے سننے والے) اللہ کے ساتھ دوسرا معبود نہ مقرر کر، پس تو پشیمان بےکس ہو کر بیٹھ رہے گا

ان تمام آیتون کا مطلب یہ ہے کہ سب سے بڑھ کر تو آدمی پر اللہ تعالیٰ کا حق ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمی کو پیدا کیا اور بیشمار نعمتیں عطا کی ہیں۔ پھر آخرت میں بھی اسی سے امید ہے۔ اللہ کے بعد دنیا میں انسان کے وجود کا مجازی سبب اور منعم اور محسن ماں باپ ہیں۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے حق کے ساتھ ماں باپ کے حق کے ادا کرنے کی تاکید فرمائی کہ ماں باپ کے ساتھ احسان کرو۔ احسان کا لفظ ایسا وسیع المعنی ہے کہ اس میں سب کچھ آگیا مگر اس کی کسی قدر تشریح بھی فرما دی ہے کہ تیری زندگی میں تیرے ماں باپ یا دونوں میں سے ایک بوڑھے ہوجائیں، پس ایسے وقت میں ان کا زیادہ لحاظ کرنا چاہیے اور ان کے سامنے " ہوں " بھی نہیں کرنا چاہیے، اور کسی قسم کی ایذا دینی حرام ہے اور تیزی سے جھڑک کر بات نہ کرنی چاہیے ان کے ساتھ ادب، تعظیم اور نرمی سے بات کرو جس طرح گناہ گار خطا وار لونڈی غلام اپنے آقا کے سامنے بات کرتے ہیں۔ اسی طرح تواضع اور عاجزی کرو اور خیال کرو کہ کل ہم ان کے محتاج تھے، یہ ہماری پرورش کرتے تھے، آج ہم کو ان کی خدمت کرنی چاہیے۔ ماں باپ کا نام لے کر نہ پکارنا چاہیے یہ خلاف ادب ہے۔ مدعا یہ ہے کہ دنیا میں بہتر سلوک اور خدمت کی جاوے، لیکن والدین کے احسان کا حق ادا نہیں ہوتا۔ اس لئے بندے کو چاہیے کہ بارگاہ الہٰی میں ان پر فضل ورحمت فرمانے کی دعا کرے اور عرض کرے :" یارب میری خدمتیں ان کے احسانات کی جزا نہیں ہوسکتیں۔ تو ان پر کرم کر کہ ان کے احسان کا بدلہ ہو "۔
Ayah 17:24

وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ Open ayah 17:24 in the Quran reader

اور تمہارے رب نے حکم فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو نہ ان کو " ہوں " (بےادبی کی بات) کہنا اور نہ ان کو جھڑکنا اور ان سے باادب بات کرنا

اس آیت سے ثابت ہوا کہ مسلمان کے لئے رحمت ومغفرت کی دعا جائز ہے اور اسے فائدہ پہنچانے والی ہے۔ مردوں کے ایصال ثواب میں بھی ان کے لئے دعا رحمت ہوتی ہے۔ لہٰذا اس کے لئے اصل یہ آیت ہے والدین اگر کافر ہوں تو ان کے لئے ہدایت وایمان کی دعا کرے اور یہی ان کے حق میں رحمت ہے۔ اگر مومن ہیں تو یہ دعا کرے :" یارب انہیں جنت میں پہنچا " حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خوشی ماں باپ کی رضامندی کے ساتھ ہے اور ماں باپ کا فرمانبردار نہنمی نہ ہوگا اور ان کا نافرمان کچھ بھی عمل کرے گرفتار عذاب ہوگا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ والدین کی نافرمانی سے بچو، اس لئے کہ جنت کی خوشبو ہزار برس کی راہ تک آتی ہے اور نافرمان وہ خوشبو نہ پائے گا۔ نہ قاطع رحم، نہ زنا کار، نہ تکبر سے اپنا جامہ ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا، پھر فرمایا کہ بڑا بد نصیب ہے وہ جس نے اپنے ماں باپ یا دونوں میں سے ایک کو بڑھاپے کی حالت میں پایا اور پھر ان کی خدمت گزاری کے سبب سے جنت نہ پائی ۔
Ayah 17:25

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِكُمْ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا Open ayah 17:25 in the Quran reader

اور ان کے آگے عاجزی سے جھکے رہنا اور ان کے لئے عاجزی سے دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار میرے ! جس طرح انہوں نے مجھے چھوٹے سے کو پالا ہے اسی طرح تو ان دونوں پر رحم کر

اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اولاد کے دل میں تو ماں باپ کا ادب ہوگا، لیکن بغیر دلی ارادہ کے ماں باپ کی شان کے خلاف کوئی بات اولاد کی زبان سے نکل جاوے گی اور پھر اس کا پچھتاوا ہوگا اور توبہ کرے گا تو اللہ ایسی بول کو بخش دے گا کیونکہ اللہ کی نظر ہمیشہ انسان کے دلی ارادہ پر ہے۔
Ayah 17:26

وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا Open ayah 17:26 in the Quran reader

تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، اگر تم سعادت مند ہو (اور تم سے والدین کی خدمت میں تقصیر واقع ہوئی تو تم نے توبہ کی) بیشک وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا ہے

اب ماں باپ کے حق کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اور رشتہ داروں کا حق اور محتاج اور مسافروں کا حق ذکر فرمایا کہ ماں باپ کے بعد بہن کا حق ہے، پھر بھائی کا پھر درجہ بدرجہ اور رشتہ داروں کا حق ہے انسان کو چاہیے کہ ان کے خدمت کرے۔ لیکن فضول خرچی نہ کرے۔
Ayah 17:27

اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا Open ayah 17:27 in the Quran reader

اور رشتہ داروں کا اور مسکینوں کا اور مسافروں کا حق دے اور مال کو بےجا نہ خرچ کر

اس آیت میں اسراف یعنی فضول خرچ کرنے سے روکا گیا ہے اور فضول خرچی برے مقامات پر خرچ کرنے کو کہتے ہیں۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا فضول خرچی نہیں ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ فضول خرچ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کی نعمت کا ناشکرا ہے۔ پس انسان بھی اگر ناشکری کرے گا تو شیطان کا تابع کہلائے گا۔
Ayah 17:28

وَ اِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَآءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا Open ayah 17:28 in the Quran reader

بیشک بےجا خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکرا ہے

تنگدستی کی حالت میں آئندہ حسن سلوک کرنے کا وعدہ اوپر جن لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کا ذکر تھا اسی کو پورا کرنے کے لئے فرمایا کہ کسی موقع پر تنگ دستی کے سبب اگر ان لوگوں کو دینے کے قابل کچھ نہ ہو تو اللہ کے فضل کی توقع پر ان سے آئندہ سلوک کرنے کا وعدہ نرم لفظوں میں کیا جاوے۔
Ayahs 17:29–30

وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا Open ayah 17:29 in the Quran reader

اور اگر تو ان (حقداروں) سے منہ پھیرے اپنے پروردگار کی رحمت (یعنی رزق) کے انتظار میں، کہ جس کی تجھے امید ہے تو چاہئے کہ نرمی سے انہیں سمجھا

اِنَّ رَبَّكَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا۠ Open ayah 17:30 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ (یعنی بخل نہ کر) اور نہ اس کو بالکل کھول ہی دے، کہ (دونوں صورتوں کا نتیجہ یہ نکلے گا) تو نادم ہو کر خالی ہاتھ بیٹھ رہے

اب یہاں بخیلی اور فراخ دستی کی ایک مثال بیان فرمائی کہ اس حسن سلوک میں نہ انسان بخیل بن جاوے جیسے کسی نے اس کا ہاتھ گردن میں رسی سے اس طرح باندھ دیا ہے کہ وہ دینے کے نام سے ہاتھ نہیں بڑھا سکتا۔ نہ ایسا سخی بن جاوے کہ دینے کے بعد پھر پچھتانا پڑے پھر آگے فرمایا کہ اللہ جس کو چاہتا ہے زیادہ دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے کم دیتا ہے، وہ اپنے بندوں کے حال سے خبردار ہے اور ہر ایک کی کیفیت دیکھتا ہے۔
Ayah 17:31

وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْ١ؕ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِیْرًا Open ayah 17:31 in the Quran reader

بیشک تیرا رب جس کو چاہتا ہے زیادہ رزق دیتا ہے اور (وہی) تنگ کرتا ہے، بیشک وہ اپنے بندوں کا (حال خوب جاننے والا دیکھنے والا ہے

اولاد کے قتل کی ممانعت : آنحضرت ﷺ کے نبی ہونے سے پہلے عرب میں رسم تھی کہ لڑکیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے۔ اس خیال سے کہ لڑکیاں تو کچھ کما نہیں سکتیں لڑکے ان کے ساتھ لوٹ مار میں شریک ہوتے تھے۔ اس بد رسم کے بند کرنے کا حکم اس آیت میں دیا اور فرمایا کہ اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو ہم نے ذمہ لیا ہے کہ جس کو ہم پیدا کرتے ہیں اس کو رزق بھی دیتے ہیں ان کا قتل بہت بڑا گناہ ہے۔
Ayahs 17:32–39

وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا Open ayah 17:32 in the Quran reader

اور مفلسی کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو، ہم ان کو بھی روزی دیتے ہیں اور تم کو بھی روزی دیتے ہیں اور بیشک ان کا قتل کرنا بڑا گناہ ہے

وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا Open ayah 17:33 in the Quran reader

اور زنا کے پاس نہ جاؤ بیشک وہ بےحیائی (کا کام) ہے اور بہت ہی بری راہ ہے

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١۪ وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ١ۚ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:34 in the Quran reader

اور کسی جان کو جس کی حرمت اللہ نے رکھی ہے نہ مار ڈالو مگر حق پر، اور جو شخص ناحق مارا جائے تو بیشک ہم نے اس کے وارث کو (قصاص یا خون بہا یا معاف کردینے کا) قابو دیا ہے تو اس کو چاہئے کہ قتل میں زیادتی نہ کرے، بیشک اس کی مدد ہوتی ہے

وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَ زِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا Open ayah 17:35 in the Quran reader

اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر اس طریقہ سے جو سب سے بہتر ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچے اور عہد پورا کرو بیشک ایسے علد کی باز پرس ہونے والی ہے

وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:36 in the Quran reader

اور جب ناپ تول کرو تو پورا ناپو (اس میں کمی نہ کرو) اور تولنے میں صحیح ترازو سے تولو (کیونکہ) یہ عمدہ بات ہے، اور عاقبت کے اعتبار سے اچھا ہے

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا Open ayah 17:37 in the Quran reader

اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں، بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے (قیامت کے دن) سوال ہونا ہے

كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا Open ayah 17:38 in the Quran reader

اور نہ چل زمین میں اتراتا ہوا، بیشک ہرگز تو نہ زمین کو پھاڑ سکتا ہے اور نہ (بدن کو تان کر) پہاڑوں کی لمبائی کو پہنچ سکتا ہے

ذٰلِكَ مِمَّاۤ اَوْحٰۤى اِلَیْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ١ؕ وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِیْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:39 in the Quran reader

یہ (جو کچھ گزرا ان میں کی) سب باتیں تیرے پروردگار کے نزدیک (بالکل) ناپسند ہیں۔

حقوق العباد میں رخنہ ڈالنے والی چیزوں کا ذکر اور کامیاب زندگی کا جامع اصول ان ا آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ زنا کو فحش اور برا راستہ کہا ہے۔ اس کی وجوہ ظاہر ہیں، اول تو اس میں اختلاط نسب ہے دوسرے جو بچہ اس بری صورت سے پیدا ہوا اس کے نفقہ کا کون ذمہ دار ہوگا اور بعض وقت جانیں بھی جاتی رہتی ہیں۔ عورت سے مقصود صرف شہوت رانی نہیں بلکہ اصلی مطلب یہ ہے کہ باہم مل کر خانہ داری میں ایک دوسرے کا معین (مدد گار) ہو بیماری میں بڑھاپے میں ایک دوسرے کا ساتھ دے، زنا میں یہ بات ممکن نہیں ، زنا کو قطعی حرام ٹھہرایا۔ یہاں تک کہ تاکید کی کہ اس کے پاس جانے کی بھی ممانعت کردی۔ (1) پھر فرمایا کہ جس قتل کا کرنا شریعت میں منع لکھا ہے، اس کو قتل مت کرو۔ جو شخص کہ مظلوم مارا جائے اس کے وارث کو اللہ نے قدرت دی ہے کہ وہ اس کا بدلہ لے اور بدلہ شریعت میں جان کا بدلہ جان ہے یا دیت یعنی خون بہا۔ پس وارث کو چاہیے کہ قتل میں کچھ زیادتی نہ کرے یعنی قتل کرنے کے بعد اس کے ہاتھ پاؤں، ناک کان وغیرہ نہ کاٹے اور قاتل کے سوائے دوسرے کو نہ مارے کیونکہ ولی کو اللہ کی طرف سے مدد ملی ہے، پھر اس کو اللہ کے حکم کے خلاف بدلہ نہ لینا چاہیے۔ (2) پھر حکم ہوتا ہے کہ یتیم کے مال کے پاس بھی نہ جاؤ مگر ہاں ولی کو محتاجگی کی صورت میں نگہبانی کی اجرت لینی جائز ہے اسی طرح مزدوری وتجارت میں بھی یتیم کا مال صرف کرنا جائز ہے اور یہ اختیارات ولی کو اس وقت تک ہیں جب تک کہ یتیم جوان صاحب تمیز نہ ہوجائے۔ (3) پھر فرمایا کہ تم کو لازم ہے کہ عہد کو پورا کیا کرو، یہاں عہد سے مراد وہ عہد ہیں جو شرعی طور پر ہوں اور شرع کی مخالف باتوں میں عہد کرنا اور اس کا پورا کرنا دونوں گناہ ہیں۔ (4) پھر فرمایا کہ تم کسی چیز کو ناپ کردیا کرو تو ناپ پوری ہوا کرے اور سیدھی ترازو اور پورے بٹوں سے تولا کرو۔ مطلب یہ ہے کہ معاملات میں دغا بازی نہ کیا کرو یہ تمہارے حق میں بہت بہتر ہے۔ اور عاقبت کی رو سے عاقبت کے لحاظ سے بہت خوب بات ہے۔ (5) پھر فرمایا کہ جس چیز کا علم نہ ہو اس کی پیروی نہ کرو یعنی جس کو آنکھ سے نہ دیکھا ہو، کان سے نہ سنے اس کی گواہی نہ دے۔ (6) پھر فرمایا اس میں شک نہیں کہ قوت سامعہ اور قوت باصرہ اور دل سے قیامت میں پرستش سے ہوگی کہ تم جس کے آنکھ ، کان ہو ان سے کیا معاملہ کیا تھا "۔ کان سے سوال ہوگا کہ تو نے کیا سنا اور کیوں سنا۔ آنکھ سے پوچھا جائے گا کہ تو نے کیا دیکھا اور کیوں دیکھا ، دل سے پوچھا جائے گا کہ تو نے کیا جانا اور کیوں جانا۔ (7) پھر فرمایا کہ زمین پر اکڑ کر نہ چل کیونکہ تو عاجز ہے۔ اس زمین کو پھاڑ نہ ڈالے گا ، بلند ہو کر پہاڑوں کے برابر نہ ہو سکے گا یہ سب باتیں مکروہ ہیں اللہ تعالیٰ ان کو پسند نہیں فرماتا اور ان کی ممانعت کرتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کامل سے فرمایا ہے۔ (8) پھر فرمایا کہ اللہ کا شریک کسی اور کو نہ بنانا۔ شرک کا نتیجہ یہ ہے کہ انسان جہنم میں پشیمان اور ذلیل ہو کر ذالا جائے گا۔
Ayah 17:40

اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِیْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ اِنَاثًا١ؕ اِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 17:40 in the Quran reader

(اے محبوب ! ﷺ) یہ ان وحیوں میں سے ہے جو تمہارے رب نے تمہاری طرف بھیجی حکمت کی باتیں اور (اے سننے والے ! ) اللہ کے ساتھ دوسرا خدا نہ ٹھہرا ورنہ تو جہنم میں ڈال دیا جائے گا ملزم راندہ درگاہ بنا کر

کفار کی گستاخی : مطلب یہ ہے کہ عرب کے مشرکین فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں سمجھ کر کاروبار خدائی میں شریک جانتے تھے۔ اس بات کو اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ تم کو تو خدا نے بیٹے دیئے اور اپنے لئے بیٹیاں ہی پسند کیں۔ تمہارا یہ کلام کیا حماقت آمیز ہے کہ تم فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے ہو۔ بیشک تم بڑی گستاخی کی بات کہتے ہو۔ جس کا بہت بڑا خمیازہ ان کو ایک دن بھگتنا پڑے گا۔