16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 16:1–2

اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:1 in the Quran reader

جب اللہ کا حکم پہنچا پس اس کی طلب میں جلدی نہ کرو، اللہ پاک اور بلند تر ہے اس سے کہ اس کا شریک مقرر کرتے ہیں

یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ Open ayah 16:2 in the Quran reader

(اے کفار مکہ) وہ اپنے بندوں میں سے جس کے پاس چاہتا ہے فرشتوں کو وحی کے ساتھ اپنے حکم سے اتارتا ہے کہ (لوگوں کو) اس مضمون سے ڈر سناؤ کہ میرے سوا اور کوئی دوسرا معبود نہیں پس مجھ سے ڈرو

خواص سورة النحل : اگر کوئی دشمن کے خوف اور پریشانی میں ہو وہ ایک سو آٹھ مرتبہ اس سورة کو پڑھے تو تمام دشمنوں سے امن میں رہے گا اور دشمن پریشان ہوں گے۔ اس سورة کو جو کوئی شخص پڑھتا رہے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو عذاب قبر اور عذاب حشر سے دور رکھے گا۔ شرک کی ممانعت سورۃ نحل مکیہ کہلاوے گی کیونکہ شروع کی آیتیں مکی ہیں اس سورة کا نام نحل اس وجہ سے ہے کہ اس میں نحل کا ذکر ہے۔ نحل شہد کی مکھی کو کہتے ہیں۔ دوسرا نام اس سورة کا سورة نعم بھی ہے مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ جو کافروں کو خدا کے عذاب سے ڈراتے تو وہ کہتے تھے کہ عذاب آتا کیوں نہیں اور یہ بھی کہتے اگر بالفرض عذاب آیا بھی تو وہ معبود جن کی ہم پرستش کرتے ہیں وہ ہم کو بچالیں گے اور بالفرض یہ بھی نہ سہی تو تم کو کیسے معلوم ہوگیا کہ ہم پر عذاب آنے والا ہے۔ ان تمام باتوں کا جواب اس آیت میں دیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب جلدی آنے والا ہے جلدی نہ کرو اور تم جن کی پرستش کرتے ہو وہ کو نہیں بچاسکتے۔ خدا کی خدائی میں کوئی بھی شریک نہیں اور اللہ اپنے اسرار پر جسے چاہتا ہے فرشتے بھیج کر مطلع کردیتا ہے۔
Ayah 16:3

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:3 in the Quran reader

(اسی نے) آسمانوں اور زمین کو درست تدبیر سے پیدا کیا وہ ان کے شریک ٹھہرانے سے پاک ہے

توحید کا بیان یہ آیتیں توحید اور حشر کے ثبوت کے طور پر نازل فرمائیں اور فرمایا کہ اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور یہ آسمان و زمین بالکل بےفائدہ نہیں بنائے گئے ہیں۔ ان سے بڑے بڑے کام دنیا کے اندر نکلتے ہیں جو انسان کی زندگی میں ضروری ہیں۔ پھر فرمایا کہ کفار جن معبودوں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہیں وہ ان سے کہیں برتر و بزرگ ہے انہیں کیا قدرت ہے اور جب ان میں کچھ قدرت نہیں تو ان کی پوجا سے کچھ حاصل بھی نہیں۔
Ayah 16:4

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:4 in the Quran reader

(اس نے) انسان کو نطفہ سے پیدا کیا، پھر وہ یکایک کھلم کھلا جھگڑالو ہو گیا

انسان کی پیدائش شان نزول : یہ آیت ابی بن خلف کے حق میں نازل ہوئی جو مرنے کے بعد زندہ ہونے کا انکار کرتا تھا۔ ایک مرتبہ وہ کسی مردے کی گلی ہوئی ہڈی اٹھا لایا اور سید عالم ﷺ سے کہنے لگا کہ آپ کا یہ خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ہڈی کو زندگی دے گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور نہایت نفیس جواب دیا گیا کہ ہڈی تو کچھ نہ کچھ عضوی شکل رکھتی بھی ہے اللہ تعالیٰ تو منی کے ایک چھوٹے بےحس و حرکت قطرے سے تجھ جیسا انسان پیدا کرتا ہے یہ دیکھ کر بھی تو اس کی قدرت پر ایمان نہیں لاتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ میں نے تجھے تھوک جیسی چیز سے پیدا کیا پھر تجھے حد کمال تک پہنچا دیا اور پھر تیرے لئے موت بھیج دی اور تو اپنی دو چادروں مین لپٹ کر چلا آیا اور جو کچھ کما کما کر اکٹھا کیا تھا اسے کسی اچھے موقع پر خرچ نہیں کیا۔
Ayahs 16:5–8

وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَا١ۚ لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪ Open ayah 16:5 in the Quran reader

اور چوپایوں کو تمہارے لئے (اسی نے) پیدا کیا، ان میں (بعض کی کھال اور بعض کی اون میں) تمہارے گرم لباس ہیں اور بہت سے فائدے ہیں ان میں سے بعض کو تم کھاتے ہو

وَ لَكُمْ فِیْهَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَ حِیْنَ تَسْرَحُوْنَ۪ Open ayah 16:6 in the Quran reader

تمہارے لئے ان میں آبرو ہے جس وقت شام کو جنگل سے واپس لاتے ہو اور جب کہ (صبح کو) جنگل کی طرف چھوڑتے ہو

وَ تَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِیْهِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ١ؕ اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 16:7 in the Quran reader

اور وہ تمہارے بوجھ بھی اٹھا کرلے جاتے ہیں دوسرے شہروں تک کہ تم وہاں تک بغیر اپنی جانوں کی مشقت کے نہیں پہنچتے تھے تمہارا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے

وَّ الْخَیْلَ وَ الْبِغَالَ وَ الْحَمِیْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَ زِیْنَةً١ؕ وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:8 in the Quran reader

اور گھوڑے اور خچر اور گدھے اسی نے تمہاری سواری اور آرائش کے لئے پیدا کئے، اور بہت سی ایسی چیزیں پیدا کرتا ہے جس کی تمہیں خبر نہیں

چوپایوں کا ذکر اس آیت میں چوپایوں کا ذکر کیا کہ اونٹ گائے۔ بکریاں جس کی تفسیر سورة انعام (پارہ 8) میں گزر چکی ہے۔ یہ سب تمہارے واسطے پیدا کئے گئے ہیں۔ تم اس کا احسان نہیں مانتے خیال کرو تو ان جانوروں سے تمہیں کیا کیا فائدہ پہنچتا ہے۔ بعض جانوروں کی کھال کا پوستین بنتا ہے۔ بعض جانوروں کے روئین بنے جاتے ہیں جس سے اونی کپڑے تیار ہوتے ہیں اور جاڑوں میں اس کا استعمال ہوتا ہے۔ بعض جانوروں کا دودھ پیتے ہیں۔ ان کے گوشت کھائے جاتے ہیں اور جانوروں کو جب چرا کر لاتے ہو، ان کے تھن دودھ سے بھرے ہوتے ہیں تو ان کو دیکھ کر تم خوش ہوتے ہو۔ اور تجارت وغیرہ کے لئے جب کوئی بوجھ کہیں لے جانا چاہتے ہو تو جانوروں کی پیٹھ پر رکھ کرلے جاتے ہو۔ اگر تم خود لے جاتے تو ممکن نہ تھا اگر ممکن بھی تھا تو بڑی مشقت کا کام تھا اور گھوڑے وغیرہ سواری اور زینت کے لئے ہیں غرض ذرا سمجھو اللہ پاک بندوں پر کیسا مہربان اور رحیم ہے کہ اس نے ہر ایک ضرورت کے رفع کرنے کا سامان پیدا کیا۔
Ayahs 16:9–11

وَ عَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِیْلِ وَ مِنْهَا جَآئِرٌ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 16:9 in the Quran reader

اور سیدھا رستہ اللہ تک پہنچتا ہے اور ان میں بعض ٹیڑھی راہیں ہیں، اگر وہ چاہتا تو سب کو راہ پر لاتا

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّ مِنْهُ شَجَرٌ فِیْهِ تُسِیْمُوْنَ Open ayah 16:10 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تمہارے لئے آسمان سے پانی برسایا اس میں سے تم کو پینے کو ملتا ہے اور اس سے پیڑ اگتے ہیں جن سے تم اپنے مویشی چراتے ہو

یُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ النَّخِیْلَ وَ الْاَعْنَابَ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:11 in the Quran reader

اسی پانی سے تمہارے لئے کھیتی اگاتا ہے اور زیتون اور کھجور اور انگور (کے درخت) اور تمام قسم کے پھل (پیدا کرتا ہے) ، بیشک اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو غور کرتے ہیں

دین کا رستہ ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ پاک نے ان جانوروں کا ذکر کیا جن پر لوگ سوار ہو کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں اور دنیا میں رستہ طے کرتے ہیں تو اب دین کے رستوں کا بیان کیا اور فرمایا کہ دو راہیں ہیں : ایک تو سیدھی، دوسری کج، جو سیدھی راہ ہے وہ خدا تک پہنچتی ہے اور جو کج ہے وہ شیطانی راہ ہے انسان کو دوزخ میں لے جاتی ہے۔ توحید کا بیان ارشاد ہوتا ہے کہ یہ خدا ہی کا کام ہے کہ اس نے مینہ برسا کر تمہارے پانی پینے کو ندی نالے اور تالابوں میں جمع کر رکھا ہے۔ اگر وہ چاہتا تو آسمان سے کڑوا اور کھاری پانی اتارتا جس کے پینے پر انسان مجبور ہوتا۔ یہ بہت ہی بڑا احسان ہے جو میٹھا پانی برساتا ہے اور زمین کو تر رکھتا ہے جس میں کھیتی ہوتی ہے اور طرح طرح کے درخت اور گھاس اگتی ہے، اور لوگ اپنے اپنے جانوروں کو چراتے ہیں اور اس پانی کے سبب سے زیتون، کھجوریں، انگور اور طرح طرح کے میوے پیدا ہوتے ہیں جن کو لوگ کھاتے ہیں۔ زیتون کا تیل بھی بنتا ہے جس کو آدمی اور کام میں بھی لاتا ہے۔ جو شخص ان باتوں میں غور فکر کرتا ہے وہ فورا سمجھ لیتا ہے کہ اس کا پیدا کرنے والا بہت بڑی قدرت والا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ کیونکہ ان چیزوں کے پیدا کرنے میں کسی کا کچھ دخل نہیں ہے۔
Ayahs 16:12–13

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ۙ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ وَ النُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَۙ Open ayah 16:12 in the Quran reader

اور اس نے تمہارے لئے مسخر کئے رات اور دن اور سورج اور چاند اور ستارے اس کے حکم کے باندھے ہیں، البتہ اس میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لئے

وَ مَا ذَرَاَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 16:13 in the Quran reader

اور وہ جو تمہارے لئے زمین میں رنگ برنگ چیزیں پیدا کی ہیں، بیشک اس میں نشانی ہے ان لوگوں کو جو نصیحت مانتے ہیں

زمین کو پیدائش ان آیتوں میں اللہ پاک نے رات، دن، چاند، سورج اور ستاروں کے پیدا کرنے میں جو نفع انسان کے لئے رکھا ہے بیان فرمایا ہے کہ تمہارے فائدے کے لئے رات اور دن بنایا اور سورج اور چاند کو مسخر کیا۔ میوؤں اور اناج کا پیدا ہونا اور پکنا اور برسوں اور مہینوں کا حساب انہیں کی بدولت ہے۔ اور اللہ کے حکم سے یہ ستارے بھی مسخر ہیں ان کے سبب سے راستہ پہچانتے ہو اور رات کی مقدار وغیرہ دریافت کرتے ہو۔ ان باتوں کو دیکھ کر اہل عقل خوب سمجھ سکتے ہیں کہ یہ کسی صناع حکیم کا کام ہے اور یہ سب کے سب اسی کے حکم کے تابع ہیں۔ عقلمند ان نشانیوں سے خدا کی قدرت کا پتہ لگا لیتا ہے۔ پھر اس کے بعد زمین کا حال بیان فرمایا کہ کیسے کیسے مختلف رنگ کے پھل پھول جن کا ذائقہ جدا جدا ہے۔ رنگ، بو، صورت علیحدہ علیحدہ ہے جانور مختلف قسم کے ایک کی صورت ایک سے نہیں ملتی یہ سب کچھ تمہارے ہی کام لے لئے بنائے ہیں تاکہ تم ان سے طرح طرح کے فائدے اٹھاؤ۔ اور جو لوگ خدا کی نعمتوں کو سوچتے سمجھتے ہیں ان کے واسطے یہ بڑی نشانی ہے۔
Ayah 16:14

وَ هُوَ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:14 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تمہارے لئے دریا کو مسخر کیا تاکہ تم اس میں سے تازہ گوشت (یعنی مچھلیاں) کھاؤ اور اس میں سے زیور (موتی وغیرہ) نکالو جس کو تم پہنتے ہو، اور (اے مخاطب ! ) تو اس میں کشتیاں دیکھے کہ پانی چیرتی ہوئی چلتی ہیں اور اس لئے کہ تم اس کا فضٖل (یعنی روزی) تلاش کرو اور تاکہ احسان مانو

اللہ پاک نے آسمان و زمین کی چیزوں کا ذکر کر کے ان فائدوں کا بیان کیا جو دریا سے لوگوں کو حاصل ہوتے ہیں۔ فرمایا کہ سمندر اور دریا وغیرہ کو تمہارا محکوم کردیا۔ تم اس میں سے مچھلیاں پکڑ پکڑ کر کھاتے ہو ورنہ تمہاری کیا ہستی تھی جو دریا کے کنارے پر پیر بھی رکھ سکتے۔ ایک موج میں کہیں کے کہیں جا رہتے۔ یہ اسی کا حکم ہے کہ دریا اپنی حد سے نہیں بڑھ سکتا جس سے تم ڈوبنے سے محفوظ رہتے ہو اور اسی میں غوطے لگا لگا کر بیش بہا موتی نکال لیا کرتے ہو اور طرح طرح کے زیورات بنایا کرتے ہو۔ کشتیاں بنا بنا کر دریا کے رستے سے ایک ملک سے دوسرے ملک میں جایا کرتے ہو اور تجارت میں سینکڑوں روپیہ کا نفع اٹھاتے ہو۔ اس کی شکر گزاری کرنی چاہئے نہ یہ کہ ان احسانات کو بلکل فراموش کر کے کفر وشرک کیا جائے۔
Ayahs 16:15–16

وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ اَنْهٰرًا وَّ سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 16:15 in the Quran reader

اور زمین میں اس نے پہاڑوں کی میخیں گاڑیں تاکہ وہ زمین تم کو لے کر نہ ہلے اور اس نے نہریں اور راستے بنائے تاکہ تم راہ پاؤ

وَ عَلٰمٰتٍ١ؕ وَ بِالنَّجْمِ هُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 16:16 in the Quran reader

اور (رستوں میں) علامتیں (بنائیں) اور ستاروں سے بھی یہ لوگ راستے معلوم کرتے ہیں

پہاڑوں کی چیزوں کے انتظام کے لئے فرشتے مقرر ہیں جن کے گروہ کے سردار کا نام ملک الجبال ہے اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ پہلے اللہ نے پانی پر زمین بچھائی تو زمین ہلتی تھی۔ فرشتوں نے آپس میں چرچا کیا کہ زمین پانی پر کیوں کر ٹھہرے گی جب اللہ تعالیٰ نے زمین پر پہاڑ ٹھونک دئیے تو پھر زمین کا ہلنا بند ہوگیا اور فرشتوں کو معلوم بھی نہیں ہوا کہ اللہ نے کب اور کس چیز کے یہ پہاڑ بنادئیے۔ اگرچہ یہ بات بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر نہ تھی کہ بغیر پہاڑوں کی میخیں ٹھنکنے کے وہ زمین کو پانی پر مضبوچ جما دیتا لیکن پہاڑوں کے پیدا کرنے میں طرح طرح کی حکمتیں تھیں۔ سونا چاندی اور قمتی چیزیں اکثر قسم کی دوائیں پہاڑوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ ندیاں اور چشمے پہاڑوں میں سے نکلتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو پیدا کیا اور فرشتوں کے ایک خاص گروہ کو پہاڑوں کی چیزوں کے انتظام کے لئے مقرر کیا جس گروہ کے سردار کا لقب ملک الجبال ہے۔ پہاڑوں کے بیچ میں گھاٹیاں رکھی ہیں تاکہ راستہ بند نہ ہو۔ پھر فرمایا کہ دن کو پہاڑ اور رات کو تارے ایسی علامتیں ہیں جن کے سبب سے مسافروں کو سیدھا راستہ جنگل اور دریا میں معلوم ہوجاتا ہے۔
Ayahs 16:17–18

اَفَمَنْ یَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا یَخْلُقُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:17 in the Quran reader

پس کیا وہ جو ایسی چیزیں پیدا کرے مثل اس کے ہے جو نہ پیدا کرے تو کیا تم نصیحت نہیں مانتے

وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:18 in the Quran reader

اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گنو تو انہیں شمار نہ کرسکو گے، بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

مشرکین کو تنبیہ اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ جس نے ساری چیزیں پیدا کی ہیں تھوڑا سا غور کر کے دیکھو کہ تمہارے خدا نے تم پر کیا کیا احسان کئے۔ اور کیسی کیسی نعمتیں تم کو دیں۔ کیا تم ان کا شمار کرسکتے ہو اور اس کا شکر ادا کرسکتے ہو، ہرگز نہیں گن سکتے۔ اگر وہ اپنی ہر نعمت کے مقابل میں تم سے شکر چاہے تو بلکل بجا ہے اور تم سے کوتاہی ہونے پر تمہیں سزا کا مستحق ٹھہرا سکتا ہے، مگر اس نے ان باتوں سے درگزر کی، تم پر مہربانی کی ہر نعمت پر تم سے شکر کا طلب گار نہیں ہے، ایک تھوڑا سا شکریہ ادا کرنے کو کہتا ہے کہ تم اس کی عبادت چھوڑ کر عاجز وبے اختیار بتوں کی پرستش نہ کرو یا انہیں عبادت میں اس کا شریک نہ ٹھہراؤ وہ تمہارے قصور کو معاف کرنے والا مہربان ہے۔
Ayahs 16:19–21

وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 16:19 in the Quran reader

اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو

وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَؕ Open ayah 16:20 in the Quran reader

اور اللہ کے سوا جنہیں یہ پوجتے ہیں وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے اور خود ہی پیدا کئے ہوئے ہیں

اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ١ۚ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ١ۙ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ۠ Open ayah 16:21 in the Quran reader

مردے ہیں زندہ نہیں اور انہیں خبر نہیں کہ لوگ کب اٹھائے جاویں گے

اس آیت میں ارشاد ہے کہ اللہ پاک ہر شخص کے ظاہر اور باطن کو یکساں جانتا ہے، تو کیا ان بتوں کو بھی ایسا علم ہے۔ اگر یہ بات نہیں ہے تو ان بتوں کی پوجا کرنا بےفائدہ ہے کیونکہ ان میں بلکل کسی شے کے پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہے یہ تو بلکل بےجان ہیں۔ ان میں حس و حرکت تک نہیں، زندہ ہونا تو درکنار نرے پتھر ہی پتھر ہیں۔ ان کے بتوں کو کیا خبر ہے کہ ان کے پجاری اور یہ خود مرنے کے بعد کب زندہ ہوں گے۔
Ayahs 16:22–23

اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:22 in the Quran reader

تمہارا معبود ایک ہے پس وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل منکر ہیں اور وہ مغرور ہیں

لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ Open ayah 16:23 in the Quran reader

فی الحقیقت اللہ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں، بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا

تکبر کی برائی اس آیت میں ہے کہ تم لوگوں کا معبود ہی اکیلا خدا ہے جس نے ساری چیزیں دنیا میں پیدا کی ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس بات کی خبر دی کہ کفار جو اپنے عقیدے پر جمے ہوئے ہیں اور بتوں کی عبادت نہیں چھوڑتے اس کی وجہ یہ ہے کہ آخرت کے دن کا یقین ان کے دلوں میں نہیں ہے، یہ لوگ آخرت کا انکار کرتے ہیں۔ بیشک ان کے دل حق سے منحرف اور تکبرو غرور میں مبتلا ہیں، عنقریب اس کی سزا پاویں گے۔ پھر فرمایا کہ بیشک عالم الغیب ان کے مکر کو خوب جانتا ہے اور ظاہر و باطن فساد ان کے اچھی طرح دیکھ رہا ہے اس سے کوئی مخفی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے مغرور لوگوں کو پسند نہیں کرتا اس لئے اس نے ایسی بہت سی پہلی امتوں کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا۔
Ayahs 16:24–25

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ مَّا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 16:24 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے : کیا چیز نازل کی ہے تمہارے پروردگار نے تو کہتے ہیں : وہ تو محض اگلے وقتوں کے قصے ہیں

لِیَحْمِلُوْۤا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۙ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ۠ Open ayah 16:25 in the Quran reader

(اس کہنے کا نتیجہ یہ ہے) کہ قیامت کے دن اپنے گناہوں کے بوجھ پورے اٹھائیں گے اور کچھ ان کا بوجھ جن کو اپنی جہالت سے گمراہ کرتے ہیں، آگاہ ہو کیا ہی برا بوجھ اٹھاتے ہیں

دگنے عذاب کا ذکر شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ حج کے موسم میں دور دور کے لوگ مکہ میں آتے تھے جس سے قریش کو ڈر ہوا کہ باہر کے لوگ آنحضرت ﷺ کی باتیں سن کر بت پرستی نہ چھوڑ دیں۔ اس لئے قریش نے مکہ کے چاروں طرف لوگ بٹھادئیے تھے اور ان سے یہ کہہ دیا تھا کہ جو کوئی قرآن شریف کا حال پوچھے تو کہہ دینا کہ پہلے لوگوں کی ایک کہانی ہے، وہ یہی کہہ دیتے تھے اور جب وہ باہر کے لوگ مکہ کے اندر آتے تو جو لوگ مسلمان ہوگئے تھے وہ قرآن شریف کی بہت تعریف کرتے تھے۔ اسی ذکر میں اللہ تعالیٰ نے آیہ کا یہ ٹکڑا اور اگلا ٹکڑا ذکر فرمایا جس میں قرآن شریف کی تعریف کرنے والوں کا ذکر اور اس ٹکڑے میں جو لوگ اوروں کو بہکاتے ہیں ان پر قیامت میں دوگنا عذاب ہوگا۔ ان کے گناہوں کا جدا ہوگا اور بہکانے کا جدا ہوگا۔
Ayah 16:26

قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْیَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ اَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 16:26 in the Quran reader

بیشک مکر کیا تھا انہوں نے جو ان سے پہلے تھے، پھر اللہ نے (یعنی اس کے حکم نے) ان کی عمارتوں کو نیوؤں سے ڈھا دیا، پس اوپر سے ان پر چھت گر پڑی اور ان پر وہاں سے عذاب آیا جہاں کی انہیں خبر بھی نہ تھی

نمرود کی عبرتناک ہلاکت کے ذکر سے قریش کو تنبیہ : اس آیت میں فرمایا کہ انہوں نے کچھ نئی بات نہیں کی، کافر پہلے بھی کر گزرے ہیں۔ پس جو ان کا نتیجہ ہوا وہی ان کا بھی ہوگا یعنی یہ نمرود کی عمارت کا حال ہے کہ پانچ ہزار گز اونچی ایک عمارت بابل میں نمرود نے اس ارادہ سے بنائی تھی کہ آسمان پر چڑھ کر خدا سے مقابلہ اور لڑائی کرے۔ آخر سخت آندھی اور زلزلہ سے وہ عمارت گری اور ہزاروں آدمی نمرود کے لشکر کے دب کر مر گئے۔ چار سو برس تک نمرود زمین میں بڑے بڑے ظلم اور ستم کرتا رہا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا اور طرح طرح کے جبر کر کے لوگوں کو ملت ابراہیمی سے روکتا رہا۔ آخر اس ذلت سے ہلاک ہوا کہ بحکم الٰہی مچھر اس کی ناک کے نتھنے سے دماغ میں گھس گیا ہر وقت وہ مچھر اس کے دماغ میں کاٹتا تھا اور وہ لوگوں سے تسکین کے لئے اپنے سر جو تیں اور دوہتڑ پٹواتا تھا۔ جتنے عرصہ تک اس نے دنیا میں ظلم کیا تھا وہی چار سو برس کے عرصہ تک جو تیاں کھاتا اور ذلت سے جیتا رہا۔ پھر ہلاک ہوگیا اس قصہ کے ذکر فرمانے میں قریش کو یہ تنبیہ ہے۔
Ayah 16:27

ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُخْزِیْهِمْ وَ یَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ فِیْهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَ السُّوْٓءَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 16:27 in the Quran reader

قیامت کے دن انہیں رسوا کرے گا اور کہے گا : میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کے بارے میں تم (مسلمانوں سے) جھگڑتے تھے۔ علم والے کہیں گے : بیشک آج پوری وسوائی اور عذاب کافروں پر ہے

اللہ پاک نے فریب سے دین الٰہی کے روکنے والوں کا نتیجہ جو کچھ دنیا میں ہوا اس کو بیان کر کے انہیں مکاروں کا آخرت کا حال یہ بیان کیا کہ یہ لوگ قیامت کے دن بہت ذلیل ورسوا ہوں گے اللہ پاک ان کی مکر کی باتوں کو اور بھیدوں کو جو ان کے دل میں پوشیدہ ہوں گے اپنی ساری مخلوق کے سامنے ظاہر کر دے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ ان دغا بازوں سے یہ کہے گا کہ وہ بت کہاں ہیں جنہیں تم نے اللہ کا شریک ٹھہرایا تھا اور ان کی حمایت میں اللہ کے رسولوں کے ساتھ جھگڑا کرتے تھے اور جن کی وجہ سے تم مسلمانوں سے لڑا کرتے تھے۔ اب ان بتوں کو بلاؤ وہ کہاں تھے تمہاری مصیبت کے وقت مدد کرنے نہیں آتے پھر جب ان پر حجت تمام ہوچکے گی تو نیک لوگ بطور طعن ونشنیع کے کہیں گے بیشک آج کی رسوائی اور ذلت کفاروں کے واسطے ہے۔
Ayahs 16:28–29

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۪ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:28 in the Quran reader

وہ کہ جن کی جان فرشتوں نے قبض کی اس حال پر کہ وہ اپنا برا کر رہے تھے (یعنی کفر میں مبتلا تھے) پھر کافر لوگ اطاعت کا پیغام ڈالیں گے (اور کہیں گے) کہ ہم تو کچھ برائی نہ کرتے تھے۔ (فرشتے کہیں گے) : ہاں بیشک اللہ خوب جانتا ہے تم جو کچھ کرتے تھے۔

فَادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 16:29 in the Quran reader

پس (حکم ہوگا اب) : دروازوں میں داخل ہوجا دوزخ کے کہ وہاں ہمیشہ رہو پس تکبر کرنے والوں کا کیا ہی برا ٹھکانا ہے

بد لوگوں کی جان قبض کرنے کی خوفناک حالت اس آیت میں بد لوگوں کی اور اس سے آگے کی آیت میں نیک لوگوں کی قبض روح کا حال ہے کہ بد لوگوں کی قبض روح کے لئے خوفناک صورت کے فرشتے آتے ہیں۔ اور عذاب قبر اور عذاب قیامت کا حال اس قریب المرگ شخص کی روح کو سناتے ہیں۔ اس کو سن کر وہ روح ڈرتی ہے اور جگہ بدن میں چھپتی ہے۔ وہ فرشتے روح کو بدن سے نکالنے کی غرض سے اس بد شخص کے منہ اور اس کی پیٹھ پر بڑی بری طرح مارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خبیث جان اب بدن سے نکل، اللہ کا غضب اور عذاب تیرے لئے تیار ہے۔ روگٹے رونگٹے کو تکلیف پہنچ کر بد آدمی کی روح نکلتی ہے اور روح کے نکلتے ہی زمین پر ایک طرح کی بدبو پھیلتی ہے۔ اس بدبو کے پھیلنے سے آسمان کے فرشتوں کو ایک طرح کی اذیت ہوتی ہے اور بہت برا کہتے ہیں اور یہ قبض روح والے فرشتے اس روح کو ایک ٹاٹ کے ٹکڑے میں لپیٹ کر خدا تعالیٰ کے روبرو لے جانا چاہتے ہیں مگر آسمان کے دروازے کھلنے کا حکم نہیں ہوتا اور اس روح کو پھر جسم میں لا کر منکر نکیر کا سوال ہوتا ہے اور جواب پورا نہ ہونے سے سجین مقام میں جو ساتوں زمین کے نیچے ہے اس روح کا نام لکھ لیا جاتا ہے اور طرح طرح کا عذاب قبر شروع ہوجاتا ہے اللہ ہر ایک مسلمان کو اس عذاب سے محفوظ رکھے۔ پھر ایک بدصورت قبر میں آن کر مردے سے کہتا ہے کہ آج وعدہ کا دن ہے، مردہ کہتا ہے : تجھ کو خدا کی مار تو کون ہے وہ کہتا ہے : میں تیرا برا عمل ہوں غرض یہ مردہ ہمیشہ عذاب قبر میں مبتلا رہتا ہے اور دعا مانگتا رہتا ہے کہ قیامت دیر میں قائم ہو تاکہ اس سے زیادہ عذاب میں نہ پھنسوں۔ پھر حکم ہوگا کہ جہنم کے دروازے میں تم داخل ہوجاؤ اور ہمیشہ ہمیشہ کو بس اسی میں رہو اور یہی برا ٹھکانا تکبر اور غرور کرنے والوں کا ہے جو خدا اور رسول کی باتوں کو جھٹلایا کرتے تھے اور اپنی مالداری کے گھمنڈ میں رہے اور بت پرستی سے باز نہ آئے۔
Ayahs 16:30–32

وَ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا مَا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوْا خَیْرًا١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ١ؕ وَ لَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:30 in the Quran reader

اور کہا گیا ان سے جو پرہیزگار ہیں کہ تمہارے پروردگار نے کیا اتارا تو کہتے ہیں۔ سرتا پیر خیر و برکت (نازل فرمائی ہے) جن لوگوں نے دنیا میں نیکی کی ان کے لئے بھلائی ہے اور بیشک آخرت کا گھر تو سب سے بہتر ہے، اور پرہیزگاروں کا کیا ہی اچھا گھر ہے

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْزِی اللّٰهُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:31 in the Quran reader

ہمیشہ ہمشیہ رہنے کے باغ ہیں جن میں یہ داخل ہوں گے، ان باغوں کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہاں ان کے لئے جو کچھ چاہیں موجود ہوگا، اسی طرح صلہ دیتا ہے اللہ پرہیزگاروں کو

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ طَیِّبِیْنَ١ۙ یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَیْكُمُ١ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:32 in the Quran reader

کہ وہ جن کی روح فرشتے اس حالت میں قبض کرتے ہیں کہ وہ (شرک سے) پاک ہوتے ہیں وہ فرشتے ان سے کہتے ہیں کہ تم پر سلامتی ہو کہ جنت میں داخل ہو بدلہ اس کا ہے کہ جو تم کیا کرتے تھے

ایماندار لوگوں کا ذکر اور ان کی قبض روح کی قابل رشک کیفیت ان آیتوں میں اللہ پاک نے متقی اور ایمان والوں کا حال بیان فرمایا کہ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا چیز اتاری ہے، تو جواب دیتے ہیں کہ نیک باتیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ جس نے بھلائی کی ہے اس کے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور نیکی کا بدلہ دس سے سات سو یا اس سے بھی دوگنا جتنا خدا چاہے دے گا۔ پھر فرمایا کہ اس سے بہتر آخرت کا گھر ان کے واسطے تیار ہے۔ پھر فرمایا کہ متقیوں کا انجام کیا ہی اچھا ہے کہ وہ لوگ دنیا میں آخرت کی پونجی جمع کرتے ہیں اور آخرت کا گھر جس میں یہ لوتگ داخل ہوں گے اس میں ہر ہر موقع ومحل سے نہریں جاری ہیں اور اس سے بڑھ کر کیا نعمت ہو سکتی ہے کہ جنت والے جس چیز کی خواہش کریں گے وہاں موجود پائیں گے بخلاف دنیا کے کہ یہاں جس چیز کی خواہش انسان کرتا ہے اور جن جن باتوں کا ارادہ کرتا ہے وہ کل کی کل پوری نہیں ہوتیں۔ اکثر اوقات انسان کی دلی تمنا کے خلاف ظہور میں آتا ہے یہ باتیں وہاں نہیں ہوں گی وہاں تو جس بات کا انسان ارادہ کرے گا وہ فورا ظہور میں آجائے گا۔ پھر اللہ پاک نے موت کے وقت کو بیان فرمایا جب فرشتے مومن کی روح قبض کرنے آتے ہیں خوبصورت فرشتے ہوتے ہیں اور جنت کی خوشبو کا بسا ہوا ایک ریشمی کپڑے کا ٹکڑا لاتے ہیں اور آتے ہی سلام کہتے ہیں اور خدا کی طرف سے بھی سلام پہنچاتے ہیں، اور جنت کی بشارت دیتے ہیں کہ : دنیا میں تم نے جو کچھ اچھے اچھے کام کئے ہیں اس کے عوض میں اب جنت میں تم داخل ہوگے " یہ سن کر اس طرح پھرتی اور آسانی سے تمام جسم کی نیک روح اکٹھی ہو کر جھٹ بدن سے نکل جاتی ہے اور اس کے نکلتے ہی ایک خوشبو آسمان کے فرشتوں تک پہنچتی ہے جس کو سونگھ کر آسمان کے فرشتے آپس میں کہتے ہیں کہ : آج کوئی نیک روح بدن سے الگ ہوئی ہے اسی کی یہ حوشبو ہے اور آسمان کے ہر دروازے کے فرشتے یہ آرزو کرتے ہیں کہ : ہماری طرف یہ روح آوے تو اچھا ہے۔ روح قبض کرنے والے فرشتے اس روح کو جب آسمان پر لے جاتے ہیں تو ہر ایک آسمان کے فرشتے اپنے علاقہ تک اس روح کے ساتھ جاتے ہیں بڑی عزت سے اس شخص کا نام لیتے ہیں جس کی یہ روح ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے رو برو اس روح کو لے جاتے ہیں وہ روح اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس روح کو علیین میں لکھ لو علیین ساتویں آسمان پر ایک مقام ہے۔ پھر وہ روح جسم میں لائی جاتی ہے اور منکر نکیر کے سوال و جواب کے وقت وہ ثابت قدمی اللہ کی طرف سے عنایت ہوتی ہے جس کا ذکر اوپر گزرا اور منکر نکیر کا جواب پورا ادا ہوجاتا ہے تو بڑا خوبصورت ایک شخص قبر میں نیک مردہ کے پاس آتا ہے۔ یہ نیک مردہ اس شخص سے پوچھتا ہے :" تو کون ہے " وہ کہتا ہے :" میں تیرا نیک عمل ہوں "۔
Ayahs 16:33–34

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:33 in the Quran reader

کافر کا ہے کے انتظا میں ہیں مگر اس کے کہ فرشتے ان پر آویں روح کے لئے یا تمہارے پروردگار کا عذاب آئے، ایسا ہی کیا تھا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، اور اللہ نے ان پر ظلم نہ کیا و لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 16:34 in the Quran reader

پس ان کے اعمال بد کی سزا ان کو ملی اور جس عذاب پر وہ مسخرا پن کرتے تھے ان کو اسی نے آگھیرا

مشرکین کا ذکر اور ان کے مسخرے پن کا بیان اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب کفار نے قرآن کی نسبت یہ کہا کہ یہ تو پہلوں کی نقل ہے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ تو اللہ پاک نے انہیں ڈرایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے آنے کی راہ دیکھتے ہیں کہ وہ آن کر ان کی روح قبض کریں یا اس بات کے منتظر ہیں کہ خدا کا عذاب ان پر آجائے۔ پھر فرمایا کہ اس طرح ان سے پہلے بھی لوگوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور خدا نے انہیں ہلاک کیا اور ان کا ہلاک کردینا کوئی خدا کی طرف سے ظلم نہیں ہوا بلکہ ان لوگوں نے آپ اپنی جانوں پر ظلم کیا کہ انبیاء (علیہ السلام) اور کلام الہی کو جھٹلایا۔ پھر فرمایا کہ ان پہلے لوگوں پر جس طرح عذاب آچکا ہے وہی انجام ان کا ہونے والا ہے۔
Ayah 16:35

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ نَّحْنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:35 in the Quran reader

اور کہا ان لوگوں نے جو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں کہ اگر چاہتا تو ہم خدا کے سوا کسی کی پوجا نہ کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم اس سے جدا ہو کر کسی چیز کو حرام ٹھہراتے، اسی طرح جو (کافر) لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی ایسی حرکت کی تھی، پس رسولوں پر کیا ہے مگر (احکام الہی کا) صاف صاف پہنچا دینا

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ کلام مشرکین مکہ کا مسخرا پن کے طور پر تھا آنحضرت ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ جو بیان کرتے ہیں کہ ہر ایک بات خدا کی جانب سے ہوا کرتی ہے تو پھر آپ کی رسالت کی کیا ضرورت تھی۔ آپ آتے یا نہ آتے اگر خدا کو منظور ہوتا تو ہم اس کے سوا کسی بت وغیرہ کی عبادت نہ کرتے ، نہ حلال کو حرام ٹھہراتے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کا یہ کلام نقل کرکے آنحضرت صلی اللہ علیہ کو تسلی دی کہ آپ اپنے دل میں ان کی باتوں کا کچھ خیال نہ کریں ان سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں وہ بھی ایسی ہی باتیں کیا کرتے تھے۔
Ayahs 16:36–37

وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلٰلَةُ١ؕ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 16:36 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور شیطان سے بچتے رہو، پھر ان میں سے بعض کو اللہ نے ہدایت کی اور ان ہی میں سے بعض پر گمراہی ثابت ہوگئی، پس زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ (رسولوں کے) جھٹلانے والوں کا انجام کار کیسا ہوا

اِنْ تَحْرِصْ عَلٰى هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 16:37 in the Quran reader

اگر تم ان کی ہدایت کی حرص کرو تو ( بےفائدہ ہے) پس بیشک اللہ نہیں ہدایت دیتا ہے جسے گمراہ کرے اور ان کا کوئی مددگار نہیں

آنحضرت ﷺ سے ارشاد ہے کہ آپ پر فرض یہی ہے کہ اللہ کا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیں کہ سوائے خدا کے اور کسی کی بندگی نہ کرو۔ باقی رہی ہدایت وہ خدا کے ہاتھ میں ہے جسے اس کی مشیت مقتضی ہوتی ہے اس کو وہ راہ راست پر لاتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کفار کو یہ بات جتلائی کہ اللہ نے ہر امت اور ہر گروہ میں اپنے رسول بھیجے تاکہ ان کی ہدایت کریں اور یہ بات کہہ دیں کہ تم خدا ہی کی عبادت کرو اور بتوں کی پرستش سے باز آؤ۔ اس پر بہیترے بندے خدا کے ایسے تھے جو ایمان لائے اور اکثر لوگ گمراہی میں پڑے رہے رسول کی ایک نہ سنی۔ پھر کفار مکہ کو خطاب کر کے فرمایا کہ تم دنیا میں چل پھر کر رسولوں کے جھٹلانے والوں کی حقیقت دریافت کرو کہ کیا نتیجہ ان کا ہوا۔ کس طرح خدا نے انہیں ہلاک کیا کیسے کیسے عذاب ان پر نازل کئے۔ پھر آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ آپ اس بات کی حرص نہ کریں کہ سب کے سب راہ راست پر آجائیں۔ بات یہ ہے کہ علم الہی کے موافق جو لوگ گمراہ ہیں کوئی ہدایت نہیں کرسکتا۔
Ayah 16:38

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ لَا یَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ یَّمُوْتُ١ؕ بَلٰى وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:38 in the Quran reader

اور انہوں نے اللہ کی سخت سے سخت قسمیں کھائیں کہ اللہ مردے نہ اٹھائے گا ہاں کیوں نہ اٹھائے گا، اس وعدہ کو تو اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لازم کر رکھا ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

حشر کے منکرین کو جواب شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص مسلمان کا ایک مشرک پر کچھ قرضۃ آتا تھا۔ وہ مسلمان شخص اس مشرک سے جب اپنا قرضۃ مانگنے گیا تو باتوں باتوں میں کچھ حشر اور قیامت کا ذکر آگیا۔ اس مشرک نے کہا کہ : تم مسلمانوں کو وہم ہوگیا ہے کہ مٹی ہوجانے کے بعد پھر جینا ہے میں قسم کھاتا ہوں کہ مرنے کے بعد جینا نہیں ہے یہ کہ کر اس نے قسم کھائی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ جو لوگ حشر کے منکر ہیں وہ بیوقوف ہیں۔ دنیا میں نیک وبد کی جزا وسزا کا انتظام یہ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، پھر ان کے خیال میں یہ بات کیونکر جم گئی ہے کہ خدا کی بادشاہت میں جزا وسزا کا دن نہیں ٹھہرا ہے۔ وہ دن ضرور مقرر ہے اس کی فکر ہر مسلمان کو لازم ہے۔
Ayahs 16:39–40

لِیُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِیْ یَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِیْنَ Open ayah 16:39 in the Quran reader

اس لئے ( مردوں کو اٹھائے گا) کہ ان پر ظاہر کر دے وہ چیز جس میں وہ لوگ اختلاف کرتے تھے اور اس لئے کہ کافر لوگ جان لیں کہ بیشک ہو جھوٹے تھے

اِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْءٍ اِذَاۤ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 16:40 in the Quran reader

ہم جس چیز کو پیدا کرنا چاہتے ہیں بس اس کے لئے ہمارا اتنا ہی کہنا (کافی) ہوتا ہے کہ ہم اس کو کہیں :" ہو جا " پس وہ ہوجاتی ہے

اس آیت میں فرمایا کہ کیا وجہ ہے جو ایسا نہیں ہو سکتا ضرور بضرور قیامت ہوگی۔ اللہ پاک نے وعدہ کرلیا ہے اور اس کا وعدہ بلکل حق اور سچا ہوتا ہے۔ اس دنیا کے فنا ہوجانے کے بعد پھر اللہ تعالیٰ اپنی ساری مخلوق کو زندہ کرے گا۔ کفار کا یہ اعتراض یہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنا ممکن نہیں ہے بلکل غلط ہے۔ کیونکہ جس نے پہلے بغیر نمونہ کے ہر شے کی ایجاد کی اس میں کیا قدرت نہیں ہے کہ اس شے کے فنا ہوجانے کے بعد پھر اس کو دوبارہ وجود میں لائے، یلہ بات تو بلکل آسان ہے۔ پھر فرمایا کہ اس کی قدرت اور اس کے اختیار کچھ ایسے ویسے نہیں ہیں اس کا تو ارادہ کرنا ہی کافی ہوتا ہے جب وہ کسی شے کے بنانے کا ارادہ کرتا ہے تو صرف ایک کن کے حکم سے وہ شے ظہور میں آجاتی ہے۔ حاصل یہ ہے کہ حشر کا انکار انسان کے حوصلہ سے باہر اور بڑی ہٹ دھرمی اور تمام دنیا کو بلا نتیجہ پیدا کرنے کا الزام اللہ تعالیٰ کے ذمہ لگانا ہے۔