16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsمظہر القرآن

Ayah 16:81

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمُ الْحَرَّ وَ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمْ بَاْسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ Open ayah 16:81 in the Quran reader

اور اللہ نے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں میں تمارے لئے سائے بنائے اور تمہارے لئے پہاڑوں میں چھپنے کے لئے جگہ پنائی اور کچھ تمہارے لئے لباس بنائے جو تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں اور کچھ پہناوے (یعنی زرہ وغیرہ) جو تمہیں جنگ میں محفوظ رکھتے ہیں، اور وہ اسی طرح تم پر اپنی نعمتیں تمام کرتا ہے تاکہ تم فرمانبردار ہو جاؤ

اس آیت میں فرمایا کہ یہ نعمتیں جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائیں کہ خیمے وغیرہ یہ درحقیقت امیروں کے لئے ہیں مگر بےچارے غریب جو سفر میں آتے جاتے رہتے ہیں ان کی رفع تکلیف کے لئے یہ سامان راحت مہیا کردیا کہ جا بجا راستوں میں درخت پیدا کردیئے ہیں تاکہ آنے جانے والے مسافر دھوپ میں اس کے سائی میں آرام حاصل کریں اور مینہ میں بھی کچھ اس کے نیچے پناہ پکڑیں۔ اور پہاڑ اور پہاڑ کی گھاٹیاں تمہارے سایہ میں ٹھہرنے کے واسطے ایک عمدہ جگہ تیار کی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی عام نعمت کا ذکر فرمایا جو امیروں اور غریبوں پر یکساں ہے کہ تمہارے لئے پہننے کے کپڑے اس لئے بنائے کہ گرمی میں کو پہنو تو لو وغیرہ سے بچو اور جاڑے میں سردی سے نجات پاؤ۔ یہاں صرف گرمی کا ذکر اس وجہ سے ہے کہ عرب میں گرمی بہت زیادہ پڑتی ہے، انسان کے لئے کپڑے آرام کی چیز ہیں۔ پھر فرمایا کہ تمہارے واسطے وہ کرتے بھی تیار کرا دیئے جنہیں پہن کر لڑائی کے وقت دشمنوں کی تلوار کی ضرب سے امن میں رہو یعنی وہ کرتے جس کو زرہ کہتے ہیں۔ غرضیکہ اللہ پاک اپنی نعمتیں لوگوں پر اسی طرح پوری کرتا ہے تاکہ لوگ اس کو پہچانیں۔
Ayahs 16:82–83

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:82 in the Quran reader

پھر بھی اگر نہ مانیں تو ( اے محبوب ! ﷺ) تم پر صرف کھول کر حکم پہنچا دینا ہے

یَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰهِ ثُمَّ یُنْكِرُوْنَهَا وَ اَكْثَرُهُمُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 16:83 in the Quran reader

وہ لوگو اللہ کی نعمت کو پہچانتے ہیں پھر اس کے منکر ہوتے ہیں اور اکثر ان میں کافر ہیں

اس آیت مبارکہ میں آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ باوجود ان نعمتوں کے معلوم کرنے کے یہ لوگ اسلام سے بےبہرہ رہیں، اور ایمان نہ لائیں تو اس کا تم پر کوئی الزام نہیں ہے تمہیں تو کھول کر اللہ کا پیگام پہنچا دینا ہے پھر تم بری الذمہ ہو۔ ماننا نہ ماننا ان کا اختیار ہے۔ یہ لوگ خدا کی نعمتوں کو خوب اچھی طرح جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں اور پھر بھی تمہاری رسالت کا انکار کرتے ہیں۔ کفر کرتے ہیں تو اس کا وبال ان پر پڑے گا۔
Ayah 16:84

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا ثُمَّ لَا یُؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 16:84 in the Quran reader

اور جس دن ہم ہر امت میں سے ایک گواہی دینے والا اٹھائیں گے، پھر نہ تو ان کافروں کو اجازت ملے گی اور نہ ان سے توبہ کی جائے گی

قیامت کا ذکر اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن سے سب کو ڈرنا چاہیے۔ وہ دن ایسا ہوگا کہ ہر پیغمبر اپنی امت کی بابت گواہی دے گا اور ہر ایک کے کفر اور ایمان کو علانیہ طور پر مجمع میں ظاہر کرے گا۔ اس دن کافروں کی یہ کیفیت ہوگی کہ کوئی عذر ان کا قبول نہ ہوگا اور نہ اس سے آئندہ کے لئے اچھے عمل کو کہا جاوے گا۔
Ayahs 16:85–87

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 16:85 in the Quran reader

اور جبکہ ظلم کرنے والے عذاب کو دیکھیں گے پس نہ وہ عذاب ان پر ہلکا ہوا اور نہ انہیں مہلت ملے

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَآءَهُمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا الَّذِیْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ١ۚ فَاَلْقَوْا اِلَیْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 16:86 in the Quran reader

اور جب شرک کرنے والے اپنے شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے :" اے ہمارے پروردگار ! یہ ہیں ہمارے شریک کہ ہم تیرے سوا پوجتے تھے " پس وہ ان پر بات ڈالیں گے کہ تم بیشک جھوٹے ہو

وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَئِذِ اِ۟لسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:87 in the Quran reader

اور (یہ مشرک اور کافر لوگ) اس دن اللہ کی طرف عاجزی سے گریں گے، اور ان سے گم ہوجائیں گی جو جھوٹ بنایا کرتے تھے

خدائے تعالیٰ کی نافرمانی کا نتیجہ مطلب یہ ہے کہ مشرکین اور کفار جنہوں نے خدا کی نافرمانی کر کے دنیا میں اپنی جان پر ظلم کیا تھا جہنم کے عذاب کو دیکھیں گے اور ان پر عذاب ہونے لگے گا تو پھر اس میں کمی نہیں کی جاوے گی، دم لینے کی بھی مہلت نہیں ملے گی۔ اور جس وقت مشرکین اپنے معبودوں کو دیکھیں گے جنہیں دنیا میں پوجتے تھے اور خدا کا شریک ٹھہراتے تھے تو کہنے لگیں گے کہ : اے رب یہی ہمارے وہ شریک ہیں، جنہیں ہم تیرے سوا دنیا میں پوجتے اور پکارتے تھے۔ انہیں کی نسبت ہمارا یہ خیال تھا کہ ان کے سبب سے ہمیں تیری قربت حاصل ہوگی اور انہٰیں کی نسبتہ ہمارا یہ خیال تھا کہ تیرے دربار میں یہ ہماری شفاعتر کریں گے۔ مشرکوں کی یہ باتیں سن کر ان کے وہ معبود جلدی سے ان کے قول کو جھٹلاویں گے کہ : تم محض جھوٹے ہو تم نے ہرگز ہماری عبادت نہیں کی۔ تم تو اپنی خواہش نفسانی کے پیرو تھے۔ تمہارا نفس جو کچھ تمہیں سکھاتا تھا وہی کرتے تھے۔
Ayah 16:88

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ Open ayah 16:88 in the Quran reader

جس لوگ کفر کرتے تھے اور اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے تھے ہم ان کو عذاب پر عذاب زیادہ دیں گے اس سبب کہ وہ فساد کرتے تھے

نیکی سے روکنے کی سزا : اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو کوئی برا کام کرے گا اس کو جو سزا اس برے کام کی مقرر ہے وہ تو ملے ہی گی اور جو برا کام کر کے دوسرے کسی کو نیک کام سے باز رکھے گا، اس باز رہنے والے کو جو سزا ہوگی اسی قدر اس باز رکھنے والے کو زیادہ سزا ملے گی۔ یعنی دوگنی سزا ہوگی۔
Ayah 16:89

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا عَلَیْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِیْدًا عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 16:89 in the Quran reader

اور جس دن کہ ہم ہر گروہ میں سے انہیں میں کا ایک گواہ (یعنی پیغمبر) اٹھائیں گے کہ ان پر گواہی دے اور ( اے محبوب ! ﷺ) تمہیں ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے، اور ہم نے تم پر یہ قرآن نازل کیا ہے کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے اور ہدایت اور رحمت اور خوشخبری مسلمانوں کو سنانے والا ہے

پچھلی امت کے رسولوں کی صداقت کا ذکر اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کو اس آیت میں خطاب کر کے فرمایا کہ قیامت کے دن ہر امت کے رسول اس امت کی حالت کی گواہی دیں گے اور جب وہ امتیں اپنے رسولوں کو جھٹلاویں گی تو اے رسول اللہ کے تم سے ان رسولوں کے بیان کی صداقت کرائی جاوے گی کیونکہ قرآن شریف میں یہ سب صداقت موجود ہے۔ پھر اللہ پاک نے یہ فرمایا کہ اللہ نے وہ کتاب اتاری ہے، جو ساری باتیں کھول کھول کر بیان کرتی ہے اسی واسطے اس میں پہلے رسولوں کے بیان کی صداقت موجود ہے اور جو لوگ فرمابردار ہیں ان کو یہ کتاب نجات کا رستہ بتاتی ہے اور کو اس پر عمل کرتے ہیں ان کے لئے یہ کتاب اللہ کی رحمت اور جنت کی خوشخبری ہے۔
Ayah 16:90

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِ١ۚ یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:90 in the Quran reader

بیشک اللہ حکم دیتا ہے انصاف کا اور نیکی کا اور رشتہ داروں کے ساتھ سلوک کرنے کا ، اور منع کرتا ہے بےحیائی اور ہر طرح کی بری بات سے اور سرکشی سے، اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم ( سمجھو اور) نصیحت قبول کرو

اللہ تعالیٰ کی نصیحت، جو ہر ایماندار کو یاد رکھنی چاہیے : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ انصاف کلمہ طیبہ یعنی لا الہ الا اللہ کی گواہی ہے اور " احسان " فرائض کا ادا کرنا ہے۔ اور آپ ہی کی ایک اور روایت ہے کہ شرک کا ترک کرنا عدل ہے، اور خدا کی عبادت یوں کرنا کہ عبادت کرنے والا گویا خدا کو دیکھ رہا ہے۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو یہ سمجھو کہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے، یہ حسن عبادت ہے۔ پھر قرابت داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم فرمایا کہ ان کو دیتے لیتے رہو۔ اگر خدا کا فضل تمہارے شامل حال ہو اور تمہیں مقدور ہو تو روپے پیسے سے ان کی مدد کرو۔ اگر تم بھوکے محتاج ہو تو میل ملاپ، محبت مروت کی ہمدردی ان کے ساتھ کرتے رہو۔ پھر اللہ پاک نے نیک خصلتوں کے اختیار کرنے کا حکم فرما کر برے اخلاق سے منع فرمایا۔ کہ فحش باتوں سے بچتے رہو اور جو بات شریعت خدا اور سنت رسول اللہ میں نہ پائی جاوے وہ منکر ہے، اس سے بچو۔ اور سرکشی اور قطع رحمی بڑا گناہ ہے جس کے گنہگار کو دنیا میں جلدی عذاب کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں جو نصیحت فرمائی ہے وہ ہر ایماندار شخص کو یاد رکھنی چاہیے۔
Ayah 16:91

وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْكِیْدِهَا وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰهَ عَلَیْكُمْ كَفِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 16:91 in the Quran reader

اور اللہ کا عہد پورا کرو جب تم قول باندھو اور قسموں کو مضبوط کر کے نہ توڑو اور بیشک تم اللہ کو اپنے اوپر ضامن کرچکے ہو، بیشک اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو

عہد کو پورا کرنا شان نزول : ارشاد ہوتا ہے کہ جب تم عہد کرو تو اس کو پورا کرنا چاہیے۔ یہ آیت اس گروہ کی شان میں نازل ہوئی جس نے آنحضرت ﷺ سے مکہ معظمہ میں بیعت کی تھی اور کفار قریش کا غلبہ اور مسلمانوں کی کمزوری دیکھ کر انہیں بےصبری اور پریشانی پیدا ہوئی۔ شیطان نے چاہا کہ انہیں فریب دے تاکہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ عہد شکنی کریں۔ حق تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر انہیں راہ وفا پر ثابت قدم کردیا اور حکم کیا کہ عہد کو پورا کرو اور عہد موکد کرنے کے بعد عہد شکنی نہ کرو۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کو تم نے اپنے عہدوں پر گواہ بنایا ہے اور یہ امر تحقیقی ہے کہ اللہ تمہارے ہر عمل سے واقف ہے۔
Ayah 16:92

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا١ؕ تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِیَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ١ؕ اِنَّمَا یَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ١ؕ وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 16:92 in the Quran reader

اور تم اس عورت کے مانند نہ ہوجاؤ جس نے اپنا سوت بڑی محنت سے مضبوط کات کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، کہ تم اپنی قسموں کو آپس میں معاملہ میں حیلہ بناتے ہو اس وجہ سے کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے بڑھ جائے، سوائے اس کے نہیں کہ اللہ اس معاملہ میں تمہاری آزمائش کرتا ہے اور بیشک قیامت کے روز تمارے سامنے صاف ظاہر کر دے گا جس بات میں تم اختلاف کرتے تھے

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ تم اس عورت جیسے نہ بن جاؤ جو سوت کتوا کر پکا ہوجانے کے بعد پھر الٹا چرخا پھروا کر تانے نے بل کھلوا ڈالتی تھی۔ اس فعل سے اس واسطے تشبیہ دی کہ عہد کا باندھ کر توڑ ڈالنا اس عورت کی حماقت کے موافق ہے۔ تم عہد شکنی کر کے یہ چاہتے ہو کہ خیانت کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ سے مال میں فوقیت دلا دو ۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری آزمائش کرتا ہے تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجاوے کہ کون وفا دار ہے اور کون بےوفا، یعنی کون خدا کے عہد کا یعنی رسول مقبول ﷺ کی بیعت کا لحاظ رکھتا ہے اور کون نہیں رکھتا۔ اور قیامت کے دن بد عہدی کے گناہ تمہیں جتلائے جائیں گے اور حق وناحق علیحدہ علیحدہ کردیا جاوے گا اور اسی کے موافق جز وسزا کی جاوے گی۔
Ayah 16:93

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:93 in the Quran reader

اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت کردیتا و لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے، اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے، اور بیشک تم سے پوجھا جائے گا جو کام تم (دنیا میں) کرتے تھے

تمام دنیا کے لوگوں کو ایک ہی امت بنانے کا ذکر اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اگر اللہ چاہتا تو سارے جہان کے لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا کوئی کسی کے مخالف نہ ہوتا اور بد عہدی او جھوٹی قسم کھانے کا موقع پیش نہ آتا مگر اس کی مشیت اس کی مقتضی نہ ہوئی۔ اس بات میں اس کی حکمت تھی کہ متعدد طریقے قائم ہوں اور وہ جس کو چاہے راہ راست پر آنے کی توفیق نہ ہے اور جسے چاہے ہدایت دے اور پھر قیامت کے دن سارے لوگوں سے ان کے عمل کی پرستش کرے کہ تم نے کیا بھلائی کی اور کیا برائی کی۔
Ayah 16:94

وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوْتِهَا وَ تَذُوْقُوا السُّوْٓءَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَكُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:94 in the Quran reader

اور تم آپس کے معاملات میں اپنی قسموں کو بےاصل برابر نہ بناؤ کہ کہیں کوئی باؤں جمنے کے بعد پھسل نہ جائے، اور تمہیں برائی چکھنی ہو اس سبب سے کہ تم نے اللہ کی راہ سے روکا، اور تم کو بڑا عذاب ہو

یہاں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر کیا اور تاکید کی کہ تم قسم کھا کر اور قوم قرار کر کے پھرو نہیں۔ اس میں بہت بڑی خرابی تمہارے لئے بھی ہے اور خدا کے دین میں بھی خلل آتا ہے۔ تمہاری عہد شکنی اور وعدہ خلافی سے اور لوگ جو دین اسلام میں آنا چاہتے ہیں وہ بدظن ہوجائیں گے اور تہارے قدم جمے ہوئے بھی اکھڑ جائیں گے۔ اور جب تمہارے قدم اکھڑے اور دوسرے لوگ تمہارے دین میں نہ داخل ہوئے تو بےشبہ تمہاری قوت گھٹ جائے گی او تمہیں ذلت نصیب ہوگی۔ علاوہ اس کے آخرت میں تمہیں اس کردار کی سزا میں عذاب کا سامنا ہوگا۔ یہاں قسم سے مطلب وہ بیعت ہے جو اسلام لانے کے وقت لوگوں سے لی جاتی تھی۔
Ayah 16:95

وَ لَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:95 in the Quran reader

اور تم لوگ عہد کے بدلے میں ( دنیا کا) تھوڑا سا فائدہ مت حاصل کرو، پس اللہ کے پاس جو چیز ہے وہی تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جتلایا کہ لالچ میں آن کر دنیا کے مال فانی کی حرص میں اگر خدا کے عہد کو توڑ ڈالو گے تو تمہارے حق میں بہتر نہ ہوگا۔ دنیا کا مال اگرچہ کتنا ہی کثیر ہو اور کتنا ہی بیش بہا ہو مگر دنیا ہیشہ کے لئے نہیں ہے اور نہ ہمشہ اس کو بقا ہے۔ اس لئے جو چیزیں اس کی ہیں وہ بھی پائیدار نہیں اور اگر خدا کے عہد پر جمے رہو گے تو اس کا بدلہ آخرت میں جو کچھ تمہیں ملے گا وہ تمام دنیا کی دولت سے بدرجہا بہتر ہے، کیونکہ ہمشہ کے لئے اس کو قیام ہے ۔ اور دائمی چیز اگر قلیل بھی ہو تو اس فانی چیز سے جو کثیر ہو کہیں بہتر سمجھی جاتی ہے تم اس بات کو نہیں جانتے ہو۔ اور اگر تمہیں اتنا علم ہوجائے تو آخرت کے انعام پر دنیا کی فانی دولت کو ہرگز ترجیح نہ دو ۔
Ayah 16:96

مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ١ؕ وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:96 in the Quran reader

جو کچھ تمہارے پاس ہے سب فنا ہوجائے گا اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ ہمشیہ رہنے والا ہے، اور بیشک ہم صبر کرنے والوں کو ان کا صلہ دیں گے جو ان کے سب سے اچھے کام کے قابل ہو

اس آیت میں فرمایا کہ تم جس طرح ناپید ہونے والو ہو اسی طرح تمہارے پاس کی چیزیں بھی ناپید ہونے والی ہیں۔ اور خداوند عالم جس طرح ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، اسی طرح اس کے پاس کی چیزیں بھی دائم البقا ہیں۔ پھر صبر کرنے والوں کو بشارت دی کہ صابرین کو ایسا بدلہ ملے گا جس طرح انہوں نے اپنے نفسوں پر جبر کر کے صبر کیا اسی طرح اللہ پاک انہیں جزا بھی دے گا۔ ایک عمل کا دس گنا سے لے کر ساتھ سو تک بلکہ اس سے بھی زیادہ بدلہ ملے گا۔
Ayah 16:97

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةً١ۚ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:97 in the Quran reader

جو کوئی نیک کام کرے خواہ وہ مرد ہو یا عورت ہو ( بشرطیکہ) مسلمان ہو ، تو ہم اس کو ( دنیا میں بھی) اس کی زندگی اچھی بسر کرائیں گے اور بیشک ( آخرت میں بھی) انہیں ان کا اجر نیک دیں گے جو ان کے سب سے بہتر کام کے لائق ہو

اسلام کے عہد پر قائم رہنے کا ذکر اس آیت میں اللہ پاک نے یہ فرمایا کہ جو شخص اسلام کے عہد پر قائم رہے گا اور نیک عمل کرے گا، خواہ وہ عمل کرنے والا مرد ہو یا عورت اس کو دنیا میں بھی بھلائی ہے او آخرت میں بھی بھلائی۔ دنیا میں اس کی زندگی چین سے کٹے گی اور آخرت میں اس کے عمل کا بہتر سے بہتر بدلہ ملے گا۔
Ayah 16:98

فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 16:98 in the Quran reader

پس جب تم قرآں پڑھو تو شیطان مردود کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو

قرآن شریف پڑھنے سے پہلے شیطان سے پناہ مانگنے کا حکم اس آیت میں اللہ پاک نے یہ حکم فرمایا کہ قرآن شریف کی تلاوت شروع کرتے وقت اعوذ باللہ من اشیطٰن الرجیم پڑھو یہ مستحب ہے۔
Ayah 16:99

اِنَّهٗ لَیْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:99 in the Quran reader

بیشک اس کا کچھ بھی قابو ان لوگوں پر نہیں چلتا جو ایمان لائے اور اپنے پروردگار ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں

یہاں فرمایا کہ جو لوگ خدا اور رسول پر ایمان رکھتے ہیں اور خدا ہی پر ہر ایک کام میں اپنا بھروسہ رکھتے ہیں، شیطان کا ان پر کوئی قابو نہیں چلتا۔
Ayah 16:100

اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَهٗ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 16:100 in the Quran reader

بس اس کا قابو ان ہی لوگوں پر چلتا ہے کہ جو اس سے دوستی کرتے ہیں اور اسے شریک ٹھہراتے ہیں

یہاں فرمایا کہ جن لوگوں نے شیطان کو اپنا رفیق ٹھہرا لیا ہے اور ہر ایک کام میں اس کو شریک ٹھہراتے ہیں انہیں پر شیطان کا زور بھی چلتا ہے اور وہ انہیں کے دل میں وسوسہ ڈال ڈال کر گمراہ کرتا رہتا ہے۔
Ayah 16:101

وَ اِذَا بَدَّلْنَاۤ اٰیَةً مَّكَانَ اٰیَةٍ١ۙ وَّ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُفْتَرٍ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:101 in the Quran reader

اور جب ہم بدلتے ہیں ایک آیت کی جگہ دوسری آیت اور جو کچھ وہ نازل کرتا ہے ( اس کی مصلحتوں کو) اللہ ہی خوب جانتا ہے، تو یہ کافر کہتے ہیں :" تم تو دل سے بنا لائے ہو " بلکہ ان میں اکثر کو علم نہیں

ناسخ منسوخ کا ذکر شان نزول : جب اللہ پاک قرآن مجید کی کسی آیت کو منسوخ فرما دیتا اور اس کی جگہ دوسری آیت نازل فرماتا تو مشرکین مکہ کہتے تھے کہ محمد ﷺ نے یہ قرآن اپنے جی سے بنایا ہے۔ آج ایک کام کا حکم فرماتا ہے کل اس سے منع کرتا ہے۔ ہمارے خیال سے وہ اپنی طرف سے گھڑ گھڑ کر کہتا ہے۔ ان کے قول کو رد کرنے کو خدا تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ یہ لوگ قرآن کے ناز ہونے کی حقیقت سے بلکل ناواقف ہیں قرآن ایک معجزہ ہے۔ اللہ ہی کو اس کا علم ہے وہی جانتا ہے کہ کون سا حکم اس وقت کے لئے مناسب ہے۔ پھر دوسرے وقت کی مصلحت کے لحاظ سے کون سا حکم ہونا چاہیے۔
Ayah 16:102

قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 16:102 in the Quran reader

تم فرماؤ کہ اس کو تو روح القدس تمہارے پروردگار کی طرف سے حق کے ساتھ لے کر آئے ہیں تاکہ اس سے ایمان والوں کو ثابت قدم کرے اور مسلمانوں کے لئے ہدایت اور خوشخبری ہو

اس آیت میں مشرکوں کا قول رد کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ ان کفار سے کہہ دو کہ ساری آیتیں قرآن کی جبرائیل (علیہ السلام) تعالیٰ کے پاس سے لاتے ہیں، اس میں کوئی ناسخ ہو یا منسوخ، سب اسی پاک پروردگار عالم کی طرف سے ہیں۔ جو لوگ صاحب ایمان ہیں خدا اور رسول پر ان کا پکا عقیدہ ہے وہ ہر ایک آیت پر ثابت قدم ہیں اور جانتے ہیں کہ قرآن شریف اللہ کا کلام ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے سچے پیغبر ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جیسا پیغام آتا ہے یہ اس کو پہجچا دیتے ہیں اس ثابت قدمی کے سبب سے یہ صاحب ایمان لوگ روز بروز ہدایت پاتے رہتے ہیں اور نئی آیتوں سے نئی نئی بشارت ان کو آخرت کے واسطے پہنچتی رہتی ہے۔
Ayah 16:103

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ١ؕ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْهِ اَعْجَمِیٌّ وَّ هٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:103 in the Quran reader

اور بیشک ہم جانتے ہیں کہ وہ (کافر) لوگ کہتے ہیں کہ اس رسول کو کوئی آدمی سکھاتا ہے، حالانکہ وہ آدمی جس کی طرف منسوب کرتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے اور یہ قرآن صاف عربی زبان ہے

مشرکین مکہ کے اعتراض کا جواب شان نزول : یہاں مشرکین مکہ کا دوسرا اعتراض قرآن کی نسبت اللہ پاک نے بیان فرمایا کہ یہ لوگ آنحضرت ﷺ کو یہ کہتے ہیں کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ ایک آدمی محمد ﷺ کو یہ قرآن سکھاتا ہے۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ ایک رومی غلام مسلمان ہو کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں اکثر رہا کرتا اور قرآن مجید سیکھا کرتا تھا۔ مشرک کہا کرتے تھے کہ اے محمد ﷺ اس سے سیکھ کر ہم سے بیان کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ افترا اس آیت کو نازل کر کے باطل کردیا کہ جس شخص کی زبان عربی نہیں ہے اس شخص کو اللہ کے رسول کا استاد قرار دیتے ہیں۔ یہ تو ظاہر بات ہے کہ قرآن مجید فصیح وبلیغ زبان عربی میں نازل ہوا ہے پھر یہ کس طرح عجمی شخص کی تعلیم قرار دی جاسکتی ہے۔ یہ مشرکین مکہ خود عربی زبان کے بڑے ماہر اور نہایت فصیح وبلیغ ہیں، پھر بھی ایک سورة اس قرآن کی سورة جیسی نہیں بنا سکتے اور غیر زبان والے کو بتلاتے ہیں کہ محمد ﷺ اس سے قرآن کی آیتیں سیکھتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوگیا جو کلام آیا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی کے نازل ہوا ہے۔
Ayah 16:104

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۙ لَا یَهْدِیْهِمُ اللّٰهُ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:104 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اللہ کی آٰیتوں پر ایمان نہیں لاتے اللہ ان کو راستہ ہدایت کا نہیں دکھاتا ، اور ان کے لئے آخرت میں درد دینے والا عذاب ہے

جو لوگ خدا کی نشانیوں پر ایمان نہیں لاتے اور خدا کے ذکر سے منہ پھیرتے ہیں اس کے کلام کی تصدیق نہیں کرتے، ہر گز ہدایت نہیں پا سکتے اور نہ زبردستی خدا انہیں راہ راست پر لائے گا کیونکہ ان کی بد بختی پہلے ہی اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں ظاہر ہوچکی ہے۔ اس لئے آخرت میں ان کے واسطے بہت دردناک عذاب مقرر کیا گیا ہے۔
Ayah 16:105

اِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 16:105 in the Quran reader

(اپنے دل سے) جھوٹ تو وہی بنایا کرتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے اور (دراصل) وہی لوگ جھوٹ بولنے والے ہیں

یہاں فرمایا کہ یہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ قرآن حضرت محمد ﷺ نے اپنے جی سے گھڑ کر بنایا ہے یا کسی بشر نے انہیں سکھایا ہے، یہ ان لوگوں کا جھوٹ ہے ایسے شخص کو جو نہایت راست گو مشہور ہیں انہیں جھٹلاتے ہیں، یعنی اللہ کے رسول کی صداقت کی شہرت کے بعد پھر جو یہ لوگ ان کو جھٹلاتے ہیں تو یہی لوگ جھوتے ہیں۔
Ayahs 16:106–107

مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ وَ لٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:106 in the Quran reader

جو کوئی ایمان لانے کے بعد پھر اللہ کا منکر ہوجائے، سوائے اس کے جو مجبور کیا جائے ( کہ جان کا خوف ہو) اور دل اس کا ایمان پر جما ہوا ہو) تو ایسے لوگوں پر مواخذہ نہیں) و لیکن جو کوئی دل کھول کر کافر وہ تو ان پر اللہ کا غضب ہے، اور ان کے لئے بڑا سخت عذاب ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 16:107 in the Quran reader

اس سبب سے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت سے عزیز سمجھا اور بیشک اللہ ( ایسے) کافروں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

کلمہ کفر زبردستی کا گناہ نہیں اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص بعد ایمان کے کافر ہوجائے بشرطیکہ وہ کلمہ کفر فقط زبردستی کی وجہ سے ہو، اگر دل میں ایمان کی تصدیق ہوگی اور فقط زبردستی سے کلمہ کفر زنان پر جائے تو اس کا کچھ گناہ نہیں۔ گناہ اس کا ہے جو بغیر کسی کی زبردستی کے اپنی خوشی سے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرے۔ اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ حضرت عمار بن یاسر ؓ کے حق میں نازل ہوئی کہ انہیں اور ان کے والد اور ان کی والدہ اور بلال اور خباب اور سالم ؓ کو کفار نے پکڑ کر سخت سخت ایذائیں دیں تاکہ وہ اسلام سے پھرجائیں۔ لیکن یہ حضرات نہ پھرے تو کفار نے حضرت عمار کے والدین کو بہت بےرحمیوں سے قتل کیا اور عمار ضعیف تھے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔ جان کر کفر اختیار کرنے کا نتیجہ ولٰکن من شرح بلکفر صدراً الخ کا مطلب یہ ہے کہ جس کے سینہ میں کفر سرایت کر گیا ہو یعنی دل میں اعتقاد کفر جم گیا ہو، پس ایسے لوگ غضب الہی میں گرفتار ہوتے ہیں اور جناب احکم الحاکیمن ان سے ناراض ہے۔ انہی کے واسطے بہت بڑا عذاب ہے کیونکہ انہوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی ہے، عقبیٰ کو چھوڑ کر دنیا کو اختیار کیا ہے۔ اگلی آیت میں فرمایا بیشک اللہ ایسے کافروں کو نیک بات کی توفیق نہیں دیتا ۔
Ayahs 16:108–109

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ سَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 16:108 in the Quran reader

یہ وہی لوگ ہیں کہ جن کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر اللہ نے مہر کردی ہے، اور وہی لوگ غافل ہیں

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 16:109 in the Quran reader

اس میں شک نہیں کہ وہی لوگ آخرت میں نقصان اٹھانے والے ہیں

اس آیت میں اللہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کفار کے دلوں پر مہر لگا دی ہے وہ حق بات کو نہیں سمجھ سکتے اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے وہ حق بات کو نہیں سن سکتے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے وہ قدرت حق کو نہیں دیکھ سکتے۔ آگے فرمایا کہ یہی لوگ حق سے غافل ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ کفار قیامت میں خسارہ پائیں گے۔ کیونکہ عمر کا سرمایہ بازار دنیا میں انہوں نے ضائع کیا اور کچھ نہ خرید کیا اور ان مفلسوں کے پاس بازار قیامت میں ہاتھ خالی اور حسرت بھرے دل کے سوا کچھ نہ ہوگا۔
Ayah 16:110

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَ صَبَرُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:110 in the Quran reader

پھر بیشک تمہارا پروردگار ان لوگوں کے لئے جنہوں نے ہجرت کی بعد اس کے کہ وہ ستائے گئے ( تاکہ کفر کا کلمہ کہیں) پھر انہوں نے (ہجرت کے بعد) جہاد کیا اور (مصیبت میں) صابر رہے، بیشک تمہارا پروردگار ان اعمال کے بعد ضرور بخشنے والا مہربان ہے

توبہ کرنے کا ذکر ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جو کمزور تھے اور اپنی قوم میں خوار و ذلیل ہو رہے تھے اور کفار مکہ کے فتنے میں پڑگئے تھے اور پھر قابو وموقع پاکر وہاں سے نکل کھڑے ہوئے اور خدا کی رضامندی کے لئے اپنے سارے کنبے اور رشتے کے لوگوں کو چھوڑ کر ہجرت کی اور پھر جب کفار اور مسلمانوں میں جنگ کا سامان ہوا تو خوب لڑے۔ اللہ پاک نے ان کی شان میں فرمایا کہ جب اتنے کام ان سے دیکھ لئے تو ان پر خدا کی بخشش ہو یعنی توبہ منظور ہوگئی کیونکہ اللہ تعالیٰ غفور ورحیم ہے۔ ان پر اس روز رحم فرمائے گا جب نہ بیٹا باپ کو پوچھے گا نہ بھائی کو بھائی کی پروا ہوگی۔ بی بی شوہر سے شوہر بی بی سے گھبرائیں گے۔ غرضیکہ کوئی کسی سے فائدہ نہیں حاصل کرسکتا۔
Ayah 16:111

یَوْمَ تَاْتِیْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 16:111 in the Quran reader

جس دن کہ ہر جان اپنے ہی لئے جھگڑتی آئے گی، اور ہر جان کو اس کے عمل کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ ہوگا ( اس دن کافروں کا کیا حال ہوگا)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ روز قیامت اییسا ہے کہ اس دن ہر ایک نفس کے کردار کا بدلہ بھر پور دیا جائے گا۔ جس نے جیسا کیا ہوگا اس جو ویسی جزا ملے گی ان پر کسی قسم کا ظلم نہ ہوگا۔
Ayahs 16:112–113

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْیَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً یَّاْتِیْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَ الْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 16:112 in the Quran reader

اور اللہ ایک ایسی بستی والوں کی مثال بیان فرماتا ہے جو امن و اطمینان سے رہتے تھے، ان کی روزی بافراغت ہر جگہ سے چلی آتی تھی، پھر انہوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی، پس اللہ نے ان کے ( برے) کاموں کے سبب یہ سزا چکھائی کہ (انہیں نعمتوں سے محروم کردیا روزی کی جگہ) فاقہ اور (اطمینان کی جگہ) خوف ان پر چھا گیا

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 16:113 in the Quran reader

اور بیشک ان کے پاس ان ہی میں سے ایک رسول آیا پس انہوں نے اسے جھٹلایا تو ان کو عذاب الہی نے پکڑا اور وہ ظالم تھے

نافرمان بستی کی حالت : اللہ پاک نے اس آیت میں اس بستی کی مثال بیان فرمائی جہاں کے رہنے والے لوگ ہر طرح کی راحت و آرام میں اپنی زندگی بسر کرتے تھے۔ کھانے پینے کا انہیں آرام تھا۔ طرح طرح کی روزی اور معاش بےخوف وخطر اور بےمشقت انہیں مل جاتی تھی۔ اپنے ملک میں کسی دشمن کا ڈر نہیں رکھتے تھے، مگر انہوں نے بیٹھے بٹھائے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی حالت کو بدل ڈالا نہ تو وہ امن وامان قائم رہا اور نہ وہ کھانے پینے کا آرام رہا، بھوکے مرنے لگے اور چاروں طرف سے بےخوف وخطر نے ان کو آگھیرا۔ بڑی ناشکری ان لوگوں کی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے جب اپنا پیغمبر ان کی ہدایت کو بھیجا، انہوں نے اس کو جھٹلایا جس کے سبب سے اللہ پاک نے ان پر یہ عذاب نازل کیا وہ ان کے ظلم کا نتیجہ تھا ورنہ خدا ناحق کسی پر جورو تعدی نہیں کرتا۔ ظلم اس نے اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرا لیا ہے۔
Ayah 16:114

فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 16:114 in the Quran reader

پس جو اللہ نے تجھ کو حلال پاکیزہ روزی دی، اس میں سے کھاؤ پیو اور اللہ کی نعمت کا شکر کرو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو

مومن بندوں کی شکر گزاری اس آیت میں مسلمانوں سے خطاب ہے کہ کافروں کو تو ہم نے قحط میں مبتلا کیا اور پھر اپنے رسول کا دست نگر بنایا۔ اب تمہارے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں کہ تم کو رزق پاکیزہ اور حلال عنایت فرماتے ہیں۔ تم کو چاہیے کہ خوب مزے سے کھاؤ اور تم اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم اس کے خالص بندے ہو اور اس کی عبادت کرتے ہو اس کے سوا دوسرے کو نہیں پوجتے۔
Ayah 16:115

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:115 in the Quran reader

تم پر تو یہی حرام کیا گیا ہے مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جس کے ذبح کرتے وقت غیر اللہ کا نام پکارا گیا پھر جو کوئی لاچار ہو نہ خواہش کرتا اور نہ حد (ضرورت) سے گزرنے والا ہو (اور وہ جان بچانے کے لئے کچھ کھالے تو بیشک اللہ بخشنے والا رحمت والا ہے

حلال و حرام جانوروں کا ذکر پھر فرمایا کہ ایسا نہ کرو کہ خدا کی حلال کی ہوئی چیزیں حرام اور حرام کو حلال بنا لو، جس طرح مشرکوں کا قاعدہ ہے جس کی تفصیل سورة انعام میں گزر چکی ہے۔ پھر فرمایا کہ خدا نے تم پر چند چیزیں حرام کی ہیں۔ اور باقی اشیاء تم پر حلال وطیب ہیں اپنی قوت بازو سے حاصل کرو اور کھاؤ۔ جو چیزیں خدائے تعالیٰ نے حرام ٹھہرائی ہیں وہ یہ ہیں۔ (1) مردار۔ (2) خون سور کا گوشت اور۔ (3) وہ جانور جس پر ذبح کرتے وقت غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو، حرام ہے۔ مگر وقت ضرورت کے اگر اس وقت جب جان پر آن بنے اور سوائے ان حرام اشیاء کے اور کوئی چیز کھانے کی میسر نہ آتی ہو تو بقدر جان بچانے کے کھا لینا جائز ہے اور خداوند کریم تمہیں اس پر نہیں پکڑے گا۔ وہ بڑا غفور ورحیم ہے کہ اس نے جان بچانے کے وقت حرام چیزوں کو تم پر حلال کردیا۔
Ayahs 16:116–117

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 16:116 in the Quran reader

او نہ کہو اسے جو تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ خدا پر جھوٹ باندھو بیشک جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۪ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:117 in the Quran reader

(یہ دنیا میں) چند روزہ عیش ہے اور (مرنے کے بعد) ان کے لئے عذاب درد دینے والا ہے

شریعت کے موافق چلنے کا حکم حاصل آیت کے یہ ہیں کہ شریعت اللہ کے حکم کا نام ہے۔ اس لئے جب تک اللہ یا رسول وقت جو اللہ کی طرف سے پیغام ہدایت لے کر آئے ہیں کسی چیز کو حرام یا حلال یا جائز ناجائز بیان نہ کریں امت میں سے کسی شخص کو اللہ تعالیٰ نے یہ حق نہیں دیا ہے کہ اپنی طرف سے کسی جیز کو حرام یا حلال ٹھہرادے۔ جیسے ایصال ثواب کی چیزیں جن کی حرمت شریعت میں وارد نہیں ہوئی ناجائز بتاتے ہیں۔ انہیں اس آیت کے حکم سے ڈرنا چاہیے ایسی چیزوں کی نسبت یہ کہہ دینا کہ یہ شرعاً حرام ہیں اللہ پر افترا کرنا ہے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹی باتیں لگاتے ہیں وہ فلاح نہیں پاتے ہیں۔ ترمذی، نسائی، ابو داؤد اور ابن ماجہ میں جو روایت ہے اس میں آنحضرت ﷺ نے شریعت میں فتویٰ دینے والے عالموں کی تین قسمیں ٹھہرا کر ایک قسم کے لوگوں کو جنتی اور دو قسم کے لوگوں کو جہنمی فرمایا ہے : (1) ایک وہ کہ جو شریعت میں کوئی حکم یا فتویٰ دیوے وہ انجانی سے نہ ہو بلکہ خوب تلاش کے بعد شریعت کے حکم کے موافق حق فتویٰ اور حکم دیوے یہ تو مفتی جنتی ہوا۔ (2) دوسرا وہ کہ شریعت کا حکم اس کو معلوم تو ہو مگر کسی دنیا کے لالچ یا رعایت کے سبب سے خلاف حکم شریعت کے فتویٰ یا حکم دیوے۔ (3) تیسرا وہ کہ اصل حکم شریعت کا تو اس کو معلوم نہیں مگر اپنی رائے سے ایک بات کو شریعت کا حکم ٹھہرا کر فتویٰ یا حکم دیوے تو یہ دونوں والے مفتی جہنمی ہیں۔ قیامت میں ان کی رہائی نہیں ہو سکتی ۔ پھر فرمایا کہ چند روز مزے اڑا لیں پھر ان کے واسطے دردناک عذاب موجود ہے۔
Ayah 16:118

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:118 in the Quran reader

او یہودیوں پر ہم نے وہ چیزیں حرام کردیں جن کا بیان ہم اس سے پہلے تم پر کرچکے ہیں اور ہم نے تو ان پر کچھ ظلم نہ کیا و لیکن وہ اپنی جانوں پر خود ہی ظلم کرتے تھے

توبہ کا ذکر اس آیت میں اللہ پاک نے یہود کا حال بیان فرمایا کہ ان پر جو چیزیں حرام کی گئیں تھیں ان کا ذکر پہلے سورة انعام میں گزر چکا ہے۔ پر فرمایا کہ ہم نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا لیکن انہوں نے ہی اپنی جانوں پر طلم کیا، یہاں تک کہ وہ مستحق عذاب ہوگئے۔
Ayah 16:119

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ عَمِلُوا السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:119 in the Quran reader

پھر بیشک تمہارا پروردگار ان لوگوں کے لئے جو جہالت سے برے کام کر بیٹھیں، پھر اس کے بعد توبہ کریں اور نیک کام کریں بیشک تمہارا پروردگار اس کے بعد ضرور بخشنے والا مہربان ہے

پھر فرمایا کہ تیرا رب ایسا رحیم اور کریم ہے کہ جو لوگ ناعاقبت اندیشی سے برے کام کرتے ہیں، پھر اس کے بعد گناہوں سے پشیمان ہو کر نادم ہوتے ہیں اور توبہ کرتے ہیں اور اچھے کام کرنے لگتے ہیں ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھی رحمت سے پیش آتا ہے۔ ان کے گناہ معاف کر کے ان پر مہربانی فرماتا ہے۔