16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 16:120–123

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِیْفًا١ؕ وَ لَمْ یَكُ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 16:120 in the Quran reader

بیشک ابراہیم ایک پیشوا تھے وہ خدا کے بڑے برمابردار یک طرفہ بندے تھے اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے

شَاكِرًا لِّاَنْعُمِهٖ١ؕ اِجْتَبٰىهُ وَ هَدٰىهُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 16:121 in the Quran reader

اللہ کی نعمتوں کے بڑے شکر گزار تھے، اللہ نے ان کو منتخب کرلیا اور ان کو سیدھی راہ دکھائی

وَ اٰتَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَؕ Open ayah 16:122 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو دنیا میں خوبی دی اور بیشک وہ آخرت میں اچھے لوگوں میں ہیں

ثُمَّ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 16:123 in the Quran reader

پھر ہم نے ( اے محبوب ! ﷺ) تمہاری طرف وحی بھیجی کہ تم دین ابراہیم کی پیروی کرو جو بلکل ایک طرف (خدا ہی کے) ہو رہے تھے اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر مطلب ان آیات کا یہ ہے کہ مکہ کے مشرک حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مانتے تھے اور اپنے تمام طریقوں کو ان کی سنت اور ان کی شریعت خیال کرتے تھے۔ لہٰذا ارشاد ہوا کہ ابراہیم (علیہ السلام) تو ہمارا شکر گزار بندہ تھا وہ ہرگز مشرک نہ تھا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ نو صفتیں بیان فرمائیں تاکہ مشرکین مکہ قائل ہوں کہ ان میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کوئی بھی صفت نہیں ہے : (1) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے اکیلے دم سے تھے۔ ان کے زمانہ میں سارے لوگ کافر تھے یعنی اکیلے آپ ہی مومن تھے۔ (2) خدا کے پکے فرمانبردار۔ (3) ان کی ذات میں کوٹ کوٹ کر توحید بھری ہوئی تھی۔ (4) اپنی عمر کے کسی حصہ میں بھی شرک کرنے والوں میں نہیں تھے، بلکہ بت خانہ میں گھس کر بتوں کو توڑ ڈالا جس کے سبب سے آگ میں ڈالے گئے۔ (5) شکر گزار تھے۔ (6) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ پاک نے اپنی مخلوق کی ہدایت کے لئے منتخب کیا۔ (7) راہ راست پر تھے۔ (8) دنیا میں اللہ تعالیٰ نے انہیں عیش و عشرت دی تھی۔ (9) آخرت میں بھی وہ اچھے لوگوں میں ہیں پھر فرمایا کہ تم لوگ جو اپنے آپ کو ملت ابراہیم پر سمجھتے ہو محض غلط ہے، بلکہ اصل ملت ابراہیم پر ہمارے نبی ہیں۔ ہم نے انہیں حکم دیا ہے کہ وہ ملت ابراہیم کی پیروی کریں۔
Ayah 16:124

اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَى الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 16:124 in the Quran reader

بس ہفتہ کی تعظیم تو صرف ان ہی لوگوں پر لازم کی گئی تھی کہ جنہوں نے اس میں اختلاف کیا اور بیشک تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ کر دے گا جس بات میں وہ اختلاف کرتے تھے

یہود کا ذکر مطلب یہ ہے کہ اختلاف کرنے والوں پر ہم نے ہفتہ کے روز تعظیم کرنا اور شکار کرنا فرض کردیا تھا۔ تعطیم یہ تھی کہ اس دن کمائی نہ کیا کریں، کسی کام میں مشغول نہ ہوں، اللہ تعالیٰ کی عبادت کے سوا اور کچھ نہ کریں ۔ اختلاف والے صبر نہ کرسکے انہوں نے ہفتہ کو شکار کئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ مسخ کئے گئے۔ یہ قصہ سورة اعراف میں مفصل آچکا ہے۔ پھر فرمایا کہ بیشک تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان کے اختلاف کی سزا دے گا۔ حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو جمعہ کے دن عبادت کرنے کا حکم دیا مگر ان کی امت نے اس میں اختلاف کر کے دوسرا دن بدلا۔ ہمیں اللہ نے توفیق دی کہ ہم نے جمعہ اختیار کیا۔
Ayah 16:125

اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 16:125 in the Quran reader

(اے محبوب ! ﷺ لوگوں کو) اپنے پروردگار کے رستہ کی طرف بلاؤ ساتھ حکمت کے اور اچھی نصیحت سے، اور ان سے اس طریقہ پر بخث کرو جو سب سے بہتر ہو، بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کے رستہ سے بہکا، اور وہ ان کو بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت پر ہیں

آنحضرت ﷺ کو حکم ہوا کہ اسلام کی نصیحت کریں اس آیت میں اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کو حکم فرمایا کہ آپ لوگوں کو اسلام کی نصیحت کریں تو نہایت نرمی سے گفتگو کریں اور یہ بھی حکم ہوا کہ آپ اس بات کی حرص نہ کریں کہ سب کے سب آپ کی نصیحت سے راہ راست پر آجاویں، کیونکہ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہے ہدایت دے اور جس کو چاہے نہ دے۔ وہ ہدایت پانے والے کو خوب جانتا ہے اور جو لوگ ہدایت نہیں پانے والے انہیں بھی وہ جان چکا ہے مگر جزا وسزا کا دراومدار اس نے اپنے علم پر نہیں رکھا ہے۔ اس لئے اتمام حجت کے طور پر اس نے اپنے رسول مخلوق میں بھیج دیئے تاکہ کسی کو اس بات کے کہنے کی گنجائش نہ رہے کہ ہمیں کوئی راہ بتلانے والا نہیں ملا۔
Ayah 16:126

وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ لَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ Open ayah 16:126 in the Quran reader

اور اگر (مخالفوں کی سختی کے جواب میں) تم سزا دو تو ویسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی تھی، اور اگر تم صبر کرو تو بیشک وہ صبر کرنے والوں کے لئے بہت ہی بہتر ہے

احد کے شہداء کے ساتھ مشرکین کی بد سلوکی : شان نزول : اس کا حاصل یہ ہے کہ جنگ احد میں چونسٹھ آدمی انصار اور چھ آدمی مہاجر یہ سب ستر شخص شہید ہوئے۔ تو سوائے ایک حنظلہ بن عامر کے اور سب شہداء کی لاشوں کے ساتھ مشرکین نے بڑی بےرحمی کا برتاؤ کیا۔ شہیدوں کی ناک، کان وشرمگاہیں کاٹ ڈالیں اور پیٹ پھاڑ ڈالے تو مسلمانوں نے یہ کہا تھا کہ ہم بھی جب کبھی موقع پاویں گے تو جو کچھ مشرکوں نے کیا ہے، اس سے بڑھ کر ہم ان کے مقتولوں کا بڑا درجہ کریں گے، اور ان شہیدوں میں حضرت حمزہ بھی تھے حضور ﷺ نے جب انہیں دیکھا تو حضور کو بہت صدمہ ہوا اور حضور ﷺ نے قسم کھائی کہ حضرت حمزہ ؓ کا بدلہ ستر کافروں سے لیا جاوے گا اور ستر کا یہی حال کیا جاوے گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس کے یہ معنی ہیں کہ ایذا کے بعد اگر کوئی صبر کرے تو صبر بہت بہتر ہے اور اگر بدلہ بھی لیا جاوے تو اس قدر بدلہ لیا جاوے جس قدر ایذا دشمنوں کی طرف سے پہنچی ہے۔ اس سے بڑھ کر بدلہ اللہ کے اسلام میں منع ہے۔ اس آیت کے اترنے کے بعد حضور ﷺ نے اپنی قسم کا کفارہ دیا اور فرمایا کہ ہم کو صبر منظور ہے۔
Ayahs 16:127–128

وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 16:127 in the Quran reader

اور تم صبر کرو اور تمہارا صبر کرنا اللہ ہی کی توفیق سے ہے اور نہ ان پر کچھ غم کھاؤ اور نہ دل تنگ ہو اس سے کہ جو کچھ یہ فریب کرتے ہیں

اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِیْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ۠ Open ayah 16:128 in the Quran reader

بیشک اللہ ان کے ساتھ ہے جو پرہیزگاری کرتے ہیں اور جو نیکیاں کرتے ہیں

صبر کا ذکر : اس آیت میں خاص کر آنحضرت ﷺ کو حکم فرمایا کہ آپ صبر اختیار کریں اور اس کی تاکید فرمائی اور اس بات کی خبر دی کہ اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر صبر ہاتھ نہیں آتا۔ آپ اگر صبر کریں گے تو خدا ہی کی مدد سے کریں گے اور پھر آپ کو اس بات سے منع فرمایا کہ جو شخص آپ کے خلاف کرے تو اس سے رنجیدہ نہ ہوجاویں۔ کیونکہ یہ بھی خدا ہی کی طرف سے مقرر ہوچکا تھا جو کچھ احد کی لڑائی میں ہوا اور پھر کفار کے مکروفریب کرنے سے غمگین ہونے کو منع فرمایا کہ اگر یہ مکروفریب کرتے ہیں تو کرنے دو خدا تو تمہارے ساتھ ہے، ان کے مکروفریب سے تمہیں کیا نقصان ہوگا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا :" تکلیف کے وقت جو شخص صبر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس شخص کی غیب سے مدد کرتا ہے۔ جس سے تکلیف کی برداشت اس شخص پر آسان ہوجاتی ہے "۔