16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 16:41–42

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:41 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اللہ کے واسطے اپنا وطن چھوڑ دیا ظلم اٹھانے کے بعد ضرور ہم ان کو دنیا میں اچھی جگہ دیں گے اور بیشک آخرت کا ثواب بہت بڑا ہے کاش ان لوگوں کو خبر ہوتی

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:42 in the Quran reader

وہ جنہوں نے صبر کیا اور اپنے پروردگار ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں

ہجرت کا اجر اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی خبر دی جنہوں نے محض خدا کے واسطے اپنے گھر بار خویش و اقارب سب کو چھوڑا، اس لئے فرمایا کہ ان ہجرت کرنے والوں کو ہم دنیا میں بہت اچھا بدلہ دیں گے اور بہت ہی اطمینان کی جگہ ان کے رہنے کو عطا کریں گے۔ یہ آیت ان مہاجرین کی شان میں اتری ہے جو اول اول مکہ سے ہجرت کر کے ملک حبشہ میں جا رہے تھے جن کی تعداد کل مردو عورت ملا کر اسی نفر کی تھی۔ ان کے حق میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ انہیں اچھی جگہ بسنے کو دیں گے یعنی ہمیشہ کے لئے رہنے کا انتظام اس بستی میں فرما دے گا جس کا نام مدینہ ہے۔ جہاں خوشحالی ، عزت ، حکومت سب چیزیں ان کو مل جاویں گی۔ پھر فرمایا آخرت میں لوگوں کے لئے جو بدلہ جنت میں ہے وہ اس دنیا کی جزا سے کہیں بڑھ کر ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کی راہ میں مخالفوں کی ایذا رسانی اور گھر بار چھوڑنے کی تکلیف پر صبر کیا اور اس صبر کے اجر کا بھروسہ اللہ پر رکھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو دین ودنیا کی وہ خوبیاں عنایت فرمائیں جن کا ذکر شروع آیت میں ہے۔
Ayah 16:43

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:43 in the Quran reader

اور تم سے پہلے (بھی) ہم نے مرد ہی (رسول بنا کر) بھیجے کہ جن کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے، پس اے لوگو ! اگر تم کو علم نہیں تو علم والوں سے پوچھو

قریش مکہ کا اعتراض اور اس کا جواب شان نزول : کفار مکہ کہا کرتے تھے کہ خدا کو یہ لائق نہیں کہ بشر کو پیغمبر کرکے بھیجے۔ اگر اسے بھیجنا تھا تو فرشتوں کو بھیجتا تاکہ فرشتے خلق اللہ کو پیغمبر کی رسالت کا اقرار کراتے۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی فرمایا کہ یہ تو اللہ کی ہمیشہ سے عادت ہے کہ جتنے رسول اس نے بھیجے ہیں وہ سب آدمی تھے کوئی فرشتہ نہ تھا۔ پھر اس کے بعد مشرکوں کو مخاطب ٹھہرا کر فرمایا کہ اہل کتاب سے دریافت کرلو کہ پہلے رسول بھی آدمی تھے یا فرشتے۔ اگر وہ کہیں کہ فرشتے تھے تو محمد ﷺ کی نسبت تمہارا اعتراض بجا ہے اور اگر وہ کہہ دیں کہ نہیں وہ رسول بھی بشر تھے تو تمہارا انکار آنحضرت ﷺ کی رسالت کے متعلق بکل بجا ہے۔ اللہ پاک نے کفار کو خطاب کر کے اہل کتاب سے سوال کرنے کا حکم اس لئے فرمایا کہ مشرکین مکہ اہل کتاب کو صاحب علم جانتے تھے۔
Ayah 16:44

بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ١ؕ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:44 in the Quran reader

(ان پیغمبروں کو) روشن دلیلوں اور کتابوں کے ساتھ (بھییجا تھا) اور اے محبوب ! ﷺ) ہم نے اتاری تمہاری طرف یہ یادگار (یعنی قرآن) بھیجا کہ تم لوگوں سے بیان کر دو جو شریعت ان کی طرف اتاری گئی اور تاکہ وہ دھیان کریں

اس آیت میں اللہ پاک نے پہلے رسولوں کے متعلق فرمایا کہ ان کو معجزے اور کتابیں دے کر بھیجا تھا اور آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ ہم تہماری طرف بھی کتاب اتارتے ہیں تم اسے کھول کر انہیں سمجاؤ شاید یہ لوگ کچھ فکر کریں اور گمراہی سے نکل کر راہ حق کی طرف آنے کی کوشش کریں۔
Ayahs 16:45–47

اَفَاَمِنَ الَّذِیْنَ مَكَرُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 16:45 in the Quran reader

پھر کیا جو لوگ بری بری تدبیریں کرتے ہیں ان کو اس بات کا کچھ خوف نہیں رہا کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے یا ان پر وہاں سے عذاب آجائے جہاں سے ان کو گمان بھی نہ ہو

اَوْ یَاْخُذَهُمْ فِیْ تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَۙ Open ayah 16:46 in the Quran reader

یا انہیں چلتے پھرتے (کسی آفت میں) پکڑ لے پس وہ اللہ کو (اپنی تدبیروں سے) تھکا نہیں سمجھ نہیں سکتے

اَوْ یَاْخُذَهُمْ عَلٰى تَخَوُّفٍ١ؕ فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:47 in the Quran reader

یا ان کو نقصان دیتے پکڑے، اس میں شک نہیں کہ تمہارا پروردگار نہایت شفیق رحم کرنے والا ہے

اللہ تعالیٰ کی بردباری ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ اپنی بردباری اور حلم کا حال بیان کرتا ہے کہ یہ لوگ برے داؤ کر رہے ہیں کیا اپنے گمان میں بےخوف ہیں جو طرح طرح کے مکر آنحضرت ﷺ کے ساتھ کر رہے ہیں۔ اور قرآن کے ساتھ مسخرا پن کرتے ہیں مسلمانوں کو اذیتیں پہنچا رہے ہیں ان کو کچھ بھی خدا کا خوف نہیں ہے۔ یہ اس بات سے نہیں ڈرتے کہ خدا ان پر اس طرح عذاب نازل کرے کہ زمین میں دھنسا دے، جس طرح قارون کو غرق زمین کردیا۔ جس طرح لوط کی قوم پر اچانک عذاب بھیج کر ہلاک کردیا۔ اس طرح عذاب ان پر اتارے کہ یہ چلتے پھرتے ہوں، سفر میں ہوں یا بازاروں میں آتے جاتے ہوں اور یک بیک ان پر عذاب نازل کر دے۔ وہ ہر طرح سے قادر ہے کوئی اس کو عاجز نہیں کرسکتا ہے۔ نہ یہ کفار کہیں بھاگ کر جاسکتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی بردباری اور رحمت کو بیان کیا کہ باوجود ان باتوں کے کہ کفار کفرو شرک سے باز نہیں آتے اور رسول کو جھٹلاتے ہیں اور طرح طرح کی تکلیف دیتے ہیں مگر خدا ان پر عذاب نہیں بھیجتا اور نہ ان کی روزی میں کمی کرتا ہے۔ وہ بڑا رؤف و رحیم ہے۔
Ayahs 16:48–50

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ Open ayah 16:48 in the Quran reader

کیا وہ خدا کی پیدا کی ہوئی چیزوں کو نہیں دیکھتے کہ ان کے سائے جھکتے ہیں ان کے دائیں طرف اور بائیں طرف اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے اور وہ سب اس کے حضور ذلیل ہیں

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّةٍ وَّ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:49 in the Quran reader

اور اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں چلنے والا ہے اور فرشتے (بھی سجدہ کرتے ہیں) اور غرور نہیں کرتے

یَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ۠۩ Open ayah 16:50 in the Quran reader

اپنے اوپر اپنے پروردگار کا خوف کرتے ہیں اور انہیں جو کچھ حکم دیا جاتا ہے وہی کرتے ہیں

زمین وآسمان کی کل کائنات مع سایہ کے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہے اللہ پاک اس آیت میں اپنی عظمت ودبدبہ کی خبر دیتا ہے کہ باوجود اس بات کے کہ وہ ایسا صاحب عظمت ہے کہ کل چیزیں اس کے حکم کی فرمانبردار ہیں۔ کیا حیوان اور کیا بےجان اسی طرح خواہ فرشتے ہوں خواہ جن ہوں سب اس کے قہر وغصہ کے سامنے مجبور و لاچار ہیں۔ کل وہ چیزیں جن کا سایہ ہے جو جاندار ہوں یا بےجان صبح وشام داہنے بائیں خدائے برتر کے سامنے سجدہ کرتی ہیں۔ غرضیکہ آسمان و زمین والے حتٰی کہ چوپائے بھی سجدہ کرتے ہیں اور اس کے سوا کسی کو بھی قابل عبادت نہیں جانتے اور ملائکہ بھی سجدہ میں مشغول ہیں۔ اور عبادت الہی میں مصروف ملائکہ ہرچند کہ علویات میں داخل تھے مگر ان کا ذکر تخصیص کے ساتھ تعظیم کی جہت سے کیا گیا ملائکہ عذاب کا خوف رکھتے ہیں اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور اس کا حکم بجا لاتے ہیں انسان کو بھی لازم ہے کہ عقل سے کام لے۔
Ayahs 16:51–52

وَ قَالَ اللّٰهُ لَا تَتَّخِذُوْۤا اِلٰهَیْنِ اثْنَیْنِ١ۚ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَاِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ Open ayah 16:51 in the Quran reader

اور اللہ نے فرمایا کہ دو خدا نہ ٹھہراؤ وہ تو صرف ایک ہی معبود ہے پس تم لوگ مجھ سے ہی ڈرو

وَ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَهُ الدِّیْنُ وَاصِبًا١ؕ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَتَّقُوْنَ Open ayah 16:52 in the Quran reader

اور اسی کا ہے جو کچھ کہ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اطاعت اسی کی لازم ہے، تو کیا اللہ کے سوا کسی دوسرے سے ڈرو گے

مشرکین کو نصیحت : اوپر ذکر تھا کہ کل کائنات زمین وآسمان کی چیزیں مع سایہ کے اللہ تعالیٰ کو ہی سجدہ کرتی ہیں۔ اس ذکرکے بعد مشرکین کو یہ ہدایت ہے کہ تم بھی اللہ کے ساتھ اور کسی کو شریک نہ کرو۔ کیونکہ عبادت اور کسی کو لائق نہیں ہے اگر ہے تو اسی خدائے وحدہ لاشریک کو زیبا ہے ۔ پھر یہ فرمایا کہ سوائے اللہ کے کسی اور سے نہ ڈور یہ بت اس قابل نہیں ہیں جو ان کا خوف مانا جائے انہیں کوئی قدرت نہٰیں ہے۔ آسمان و زمین میں جس قدر مخلوق ہے وہ سب اللہ ہی کے تحت حکومت میں ہے۔ ان میں کسی کی ذرہ برابر بھی شراکت نہیں ہے۔ اسی لئے خالص اسی کی عبادت سزاوار ہے اور ہمیشہ اس کی اطاعت وفرمابرداری زیبا ہے۔ کسی غیر سے کیوں ڈرتے ہو، کسی کا خوف کیوں کرتے ہو کیونکہ عظمت اور قدرت تو صرف خداوند جل جلالہ کو ہے اور کل اشیاء اس کی محتاج ہیں اور فنا ہونے والی ہیں۔ کوئی ذات اگر ہمیشہ باقی رہے گی تو وہ خدا ہی کی ذات ہے۔
Ayahs 16:53–55

وَ مَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَیْهِ تَجْئَرُوْنَۚ Open ayah 16:53 in the Quran reader

اور تمہارے پاس جو کچھ بھی نعمت ہے وہ سب اللہ ہی کی طرف سے ہے پھر جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کی طرف فریاد کرتے ہو

ثُمَّ اِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْكُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 16:54 in the Quran reader

پھر جب وہ تمہاری مصیبت دور کردیتا ہے تو تم میں ایک گروہ اپنے پروردگار کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١۫ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:55 in the Quran reader

(جس کا حاصل یہ ہے) کہ ہماری دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کریں پس (دنیا میں چند روز) عیش کرلو۔ پھر (آخرت میں) تو تم عقنقریب جان لو گے

اس آیت مبارکہ میں نعمتوں کا پر شکر کرنے کا ارشاد کیا ہے جتنی نعمتیں تمہیں دنیا میں حاصل ہیں وہ سب خدا کی عنایت ہے۔ مال و دولت، آل واولاد ، رزق کی فراخی سب اسی کی دی ہوئی ہے اس لئے کہ بندوں پر واجب ہے کہ اس کا شکر ادا کریں پھر اس کے بعد انسان کی غفلت کو بیان فرمایا کہ جس وقت انسان کو خوشحالی اور فارغ البالی ہوتی ہے اس وقت اللہ کو بھولا رہتا ہے مگر جب کسی مصیبت کا سامنا ہوتا ہے بیماری یا کوئی سختی درپیش ہوتی ہے، تو خدا سے گڑ گڑ کر فریاد کرنے لگتا ہے۔ پھر جب خدا اس کی فریاد سن لیتا ہے اور اس کی مصیبت دور کردیتا ہے تو جو لوگ گمراہ ہیں اللہ کو بلکل بھول جاتے ہیں ۔ پھر فرمایا خیر تم دنیا میں جس طرح چاہو کفران نعمت کرو، جیسے چاہو خدا کی نعمتوں کا انکار کرو، آگے آگے معلوم کرو گے کہ تمہارا کیا حال ہوگا اور کیا وقت تمہیں پیش آوے گا اور کیا انجام ہوگا دنیا میں تم پر کیا بلا آنے والی ہے اور آخرت میں کیا گت تمہاری ہوگی۔
Ayah 16:56

وَ یَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا یَعْلَمُوْنَ نَصِیْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰهُمْ١ؕ تَاللّٰهِ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:56 in the Quran reader

اور جن کو وہ جانتے بھی نہیں (یعنی بتوں کو) ان کے لئے ہماری دی ہوئی روزی میں سے حصہ مقرر کرتے ہیں، اللہ کی قسم ! تم سے ضرور سوال ہوگا جو کچھ کہ تم جھوٹ باندھتے تھے

قیامت میں سوال ہوگا اس آیت میں فرمایا کہ بت جو بلکل بیخبر پتھر ہیں۔ ان کے واسطے اللہ کی دی ہوئی روزی میں سے یہ لوگ حصہ مقرر کرتے ہیں اور ان بتوں کو اس کی مطلق خبر بھی نہیں ہے۔ نہ جاندار ہیں نہ ان کی آنکھیں ہیں نہ کان، غرضیکہ اس بات پر اللہ پاک نے اپنی ذات کی قسم کھائی کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ضرور ان لوگوں سے پوچھے گا کہ (1) تمام عمر کن کامون میں گزاری اور (2) جوانی میں کیا کیا (3) اور روپیہ پیسہ کیونکر کمایا اور (4) کہاں خرچ کیا۔ علم دین کی نصیحت پر کیا عمل کیا۔ حاصلی یہ ہے مشرکوں نے جو کچھ عمر بھر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے ان چار باتوں کی جواب دہی میں وہ سب کھل جائے گا۔
Ayahs 16:57–59

وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَهٗ١ۙ وَ لَهُمْ مَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 16:57 in the Quran reader

اور ( فرشتوں کو) اللہ کے لئے بیٹیاں قرار دیتے ہیں، وہ پاک ہے اور اپنے لئے جو دل چاہتا ہے مقرر کرتے ہیں (یعنی فرزند)

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ Open ayah 16:58 in the Quran reader

اور جب ان میں سے کسی کی بیٹی پیدا ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو غم کے مارے چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور دل ہی دل میں گھٹتا ہے

یَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖ١ؕ اَیُمْسِكُهٗ عَلٰى هُوْنٍ اَمْ یَدُسُّهٗ فِی التُّرَابِ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 16:59 in the Quran reader

جس چیز کی اسے خبر دی گئ ہو اس کی عار سے قوم سے چھپا چھپا پھرتا ہے، (فکر میں پڑجاتا ہے) کہ آیا اس کو اس ذلت پر رہنے دے یا اس کو مٹی میں گاڑ دے، آگاہ ہو کیا ہی برا فیصلہ کر رہے ہیں

مشرکین اپنی لڑکیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے ان آیات میں مشرکوں کی دو بےوقوفیوں کا ذکر فرمایا : (1) ایک تو یہ کہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اس کے جوا اب میں ارشاد ہوتا ہے کہ اس کی ذات جمیع عیوب سے پاک ہے، نہ اس کو پسر کی حاجت ہے نہ دختر کی ضرورت ہے۔ یہ بےہودہ باتیں ہمارے احسان کے صلہ میں کرتے ہیں جو ہم ان کی تمنا پوری کرتے ہیں اور خدا کی عطا کردہ جیز سے ناخوش ہونا طریقہ کفار اہل اسلام کا خدا کے عطیہ پر راضی رہنا واجب بلکہ فرض ہے۔ (2) دوسرے کفار کی یہ عادت تھی کہ دختر پیدا ہو کر چھ برس کے اندر اپنی موت آپ مر گئی تو خیر ورنہ جنگل میں گڑھا کھود کر اچھے کپڑے پہنا کر اس لڑکی کو گڑھے میں دبا آتے تھے یعنی زندہ درگور کردیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کی سب باتیں ان کے حق میں نہایت مضر ہیں کیونکہ لڑکی کو زندہ دگور کرنا نتیجہ بد کھائے گا۔ بیٹی اللہ کی رحمت : صحیح بخاری کی حدیث ہے کہ جو شخص لڑکی کے پالنے اور اس کی شادی بیاہ کرنے کا بوجھ اٹھاوے تو عاقبت میں وہ لڑکی دوزخ کی آگ کی ڈھال بن جاوے گی۔ لڑکی کو محبت سے پالنے پر اجر کا وعدہ اسلام میں آیا ہے۔
Ayah 16:60

لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ١ۚ وَ لِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 16:60 in the Quran reader

جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان ہی کی بر صفت ہے، اور اللہ کی شان سب سے بلند ہے اور وہی عزت و حکمت والا ہے

اس آیت میں فرمایا کہ یہ مشرکین آخڑت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے ہیں۔ انہیں اس حساب وکتاب کے دن کا بلکل خوف نہیں ہے انہیں لوگوں کے واسطے بری مثالیں ہیں ۔ تو یہی ہیں کافر تو یہ خدا کے ساتھ شریک ٹھہرانا انہیں کا کام ہے، خدا کو آل اولاد کا محتاج بتلانا انہیں کا قول ہے، خدا تو ان باتوں سے بلکل پاک وصاف ہے اس کے واسطے نہایت ہی اعلیٰ درجہ کی مثالیں ہیں وہ بری باتوں کو بندوں کے حق میں بھی نہیں پسند کرتا ۔ اپنی ذات کے واسطے کیونکر گورا کرے گا۔ وہ تو بڑا غالب ہے ، کوئی اس پر غالب نہیں ہو سکتا اس کی حکمت سب سے بلند ہے۔ وہ بڑا ہی حکمت والا ہے۔
Ayahs 16:61–62

وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَّا تَرَكَ عَلَیْهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 16:61 in the Quran reader

اور گر اللہ لوگوں کو ان کے ظلم کے سبب پکڑتا تو زمین پر کوئی چلنے والا نہ چھوڑتا و لیکن ان کو مہلت دیتا ہے ایک وقت مقرر تک، پھر جب ان کا وعدہ آئے گا تو نہ ایک ساعت پیچھے ہٹ سکییں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے

وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ مَا یَكْرَهُوْنَ وَ تَصِفُ اَلْسِنَتُهُمُ الْكَذِبَ اَنَّ لَهُمُ الْحُسْنٰى١ؕ لَا جَرَمَ اَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَ اَنَّهُمْ مُّفْرَطُوْنَ Open ayah 16:62 in the Quran reader

اور (یہ منکر) اللہ کے لئے وہ چیزیں تجویز کرتے ہیں کہ جن کو آپ پسند نہیں کرتے اور اپنی زبان سے جھوٹے دعوے کرتے جاتے ہیں کہ ان کے لئے بھلائی ہے، اس میں کچھ شبہ نہیں ہے کہ ان کے لئے آگ ہے اور وہ دوزخ میں سب سے پہلے بھیجے جائیں گے

اللہ کے درگزر کا حال اس آیت میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے ان لوگوں کو ڈھیل دے رکھی ہے اور ایک وعدہ مقررہ تک ان کا ہلاک کرنا منظور نہیں ہے۔ جب وہ وقت آ جاوے گا تو پھر گھڑی بھر کی بھی مہلت نہیں ملے گی اور اس میں بھی خدا کی حکمت ہے کہ یہ لوگ اپنے کفر اور سرکشی سے شرمسار ہو کر دین اسلام میں داخل ہوجائیں اور ان کی نسل سے جو اولاد پیدا ہو وہ اہل اہمان ہو پھر فرمایا کہ جن باتوں سے کفار کو عار ہے ، اور جو باتیں اپنے واسطے پسند نہیں کرتے مثلاً لڑکیوں کا ہونا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حق میں یوں کہتے ہیں کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں، اور خدا کے ساھت بتوں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ حالانکہ خود ان کو یہ گوارہ نہیں ہے کہ کوئی شخص ان کی ملکیت میں قبضہ کرے اور ان کے مال میں تصرف کرے۔ پھر خدائے غالب وقہار کے ساتھ اس کی صفات میں کیونکر کسی کو شریک سمجھتے ہیں۔ آسمان و زمین کے انتطام میں کوئی اس کا شریک نہیں باوجود ان باتوں کے پھر آخرت میں بھلائی کی امید رکھتے ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا وہاں تو ان لوگوں کے واسطے دوزخ ہے اور پہلے یہی دوزخ میں ڈالے جائیں گے اور جس طرح دنیا میں یہ لوگ خدا کو بھولے ہوئے تھے، اسی طرح یہ لوگ وہاں اللہ کی رحمت سے ایسے بھلائے جائیں گے کہ پھر ان کی کوئی خبر بھی نہیں لے گا۔
Ayah 16:63

تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِیُّهُمُ الْیَوْمَ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:63 in the Quran reader

اللہ کی قسم ! بیشک ہم نے تم سے پہلے کتنی امتوں کی طرف رسول بھیجے تو شیطان نے ان کے اعمال بد ان کی آنکھوں میں اچھے کر دکھائے تو آج ان کا وہی رفیق ہے (دنیا میں) اور ان کے واسطے عذاب درد دینے والا ہے

آنحضرت ﷺ کو تسلی : اللہ پاک نے اپنی ذات مقدس کی قسم کھا کر آنحضرت ﷺ کو تسلی دینے کو یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ تم ان مشرکون کی باتون سے تنگ دل نہ ہو، ہم نے تم سے پہلے پہلی امتوں میں بھی رسول بھییجے ہیں جنہیں ان لوگوں نے اسی طرح جھٹلایا ہے جس طرح کفار مکہ تم کو جھٹلاتے ہیں۔ اور شیطان نے ان کے کاموں کو ایسی زیب وزینت دی کہ وہ لوگ شیطان کے وسوسہ سے گمراہی میں پڑے رہے۔ اپنی عقل وسمجھ سے انہوں نے کچھ کام نہیں لیا اسی واسطے آخرت میں بھی اسی کے ساتھ بہت سخت عذاب کے سزاوار ہوں گے۔
Ayah 16:64

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ۙ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:64 in the Quran reader

اور ہم نے تم پر یہ کتاب صرف اس واسطے نازل کی ہے کہ جن امور میں وہ اختلاف کر رہے ہیں تم ان لوگوں سے کھول کر بیان کر دو اور یہ کتاب ایمانداروں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے

یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک کی نسبت فرمایا کہ جو کچھ ہم اتارتے ہیں وہ اس واسطے ہے کہ تم ان لوگوں کے اختلاف کی حقیقت کھول کر بتلا دو کہ توحید اور قیامت کا قائم ہونا اور احکام دین جس کے یہ منکر ہیں اور جو اس پر ایمان رکھتے ہیں ان کا فیصلہ ظاہر ہوجاوے کہ کون ان میں حق پر ہے اور کون جہالت میں پڑا ہوا ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ قرآن پاک اس ایمان دار بندے کے لئے ہدایت اور رحمت ہے جو اس کو پڑھتا ہے اور غور کرتا ہے۔
Ayah 16:65

وَ اللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ۠ Open ayah 16:65 in the Quran reader

اور اللہ نے برسایا آسمان سے پانی، پھر اس کے مر جانے (خشک ہوجانے کے بعد زمین کو زندہ کردیا، بیشک اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو سنتے ہیں

اللہ کی قدرت کے نمونے : اس آیت میں فرمایا یہ ہے کہ اگر یہ کفار بات سے بےخوف ہوں کہ کیسی قیامت اور کیسی دوزخ اور بہشت اور پھر مرنے کے بعد زندہ ہونا کیسا تو ان لوگوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ خدا میں ہر طرح کی قدرت ہے۔ ایک ذرا سی بات یہ ہے کہ جب زمین میں خشکی کی انتہا ہوجاتی ہے اور سارے درخت خشک ہو ہو کر مردہ ہوجاتے ہٰں تو وہ آسمان سے مینہ برسا کر زمین کو تروتازہ کردیتا ہے اور پھر زمین زندہ ہوجاتی ہے اور درخت ہرے بھرے ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح اسے یہ بھی قدرت ہے کہ ہر جاندار کے فنا ہونے جانے کے بعد اسے زندہ کر دے گا۔ جو لوگ دل کے کان رکھتے ہیں اور اس کی مدد سے ہر ایک طرح کی باتوں کو سنتے ہیں اور غور کرتے ہیں ان کے واسطے یہ بہت بڑی دلیل ہے۔ اور جو لوگ دل کے اندھے ہیں انہیں کسی دلیل سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
Ayah 16:66

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَیْنِ فَرْثٍ وَّ دَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِیْنَ Open ayah 16:66 in the Quran reader

اور بیشک تمہارے لئے چوپایوں میں ایک عبرت کا مقام ہے کہ ان کے پیٹ کی چیزوں میں سے گوبر اور خون کے درمیان سے ہم تمہیں ستھرا خوشگوار دودھ پلاتے ہیں، جو پینے والوں کے لئے گلے میں آسانی سے اترتا ہے

اس آیت میں فرمایا کہ جانوروں اور دودھ والی عورتوں کے پیٹ میں غذا جا کر نجاست، پیشاب، دودھ، خون سب کچھ بنتی ہے اور قدرت الہی سے ایک چیز کا رنگ دوسری چیز کے بلکل مختلف ہوتا ہے۔ اگر آدمی غور کرے تو قدرت الہی کا برا نمونہ ہے ور دنیا میں نوکری ، تجارت ، زراعت، اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے اسباب ہیں ان اسباب سے روزی حاصل کرنے سے بچہ عاجز ہوتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کا رزق پیدا کیا ہے اور جانوروں کے بچوں کے ساتھ انسان کا ساجھا بھی لگا دیا ہے۔
Ayah 16:67

وَ مِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِیْلِ وَ الْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 16:67 in the Quran reader

اور اسی طرح پھلوں سے کھجوروں اور انگوروں سے تم لوگ نشہ کی چیز بناتے ہو، اور اس سے حلال اچھی روزی بناتے ہو، بیشک اس میں بھی نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو سمجھتے ہیں

اس آیت میں ارشاد ہے کہ کھجور اور انگور کے پھلوں سے تم رس یعنی سرکہ بناتے ہو۔ سرکہ سے مراد شراب ہے۔ چونکہ خطاب قریش مکہ کی طرف ہے اور نیز مکہ میں شراب حرام بھی نہیں ہوئی تھی بلکہ مدینہ میں آکر ہوئی ہے، پھر کسی مسلمان نے ہاتھ نہیں لگایا۔ اس لئے ان لوگوں کے ان کے فوائد بتائے ہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ سکر سے مراد نبیذ ہے یعنی کھجور یا انگور کا شیرہ جس کو یہاں تک جوش دیا جائے کہ دو حصے جل جائیں۔ چونکہ اس میں نشہ نہیں ہے یہ حلال ہے۔
Ayahs 16:68–69

وَ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعْرِشُوْنَۙ Open ayah 16:68 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈالی کہ پہاڑوں میں اپنے گھر بنائے اور درختوں میں اور لوگ جو عمارتیں بناتے ہیں

ثُمَّ كُلِیْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُكِیْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا١ؕ یَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:69 in the Quran reader

ان میں ، پھر ہر ایک قسم کے پھلوں سے چوستی پھرا کر ، پس اپنے پروردگار کی راہوں پر چل جو تیرے لئے آسان ہیں، ان مکھیوں کے پیٹ میں سے پینے کی ایک چیز نکلتی ہے طرح طرح کے رنگ کی، کہ اس میں لوگوں کے لئے شفا ہے، بیشک اس میں ( بھی) لوگوں کے لئے بڑی نشانی جو دھیان کرتے ہیں

شہد کی مکھی کا بیان اللہ پاک نے اس آیت میں ایک اور عجائب قدرت کا حال بیان فرمایا ہے کہ یہ شہد کی مکھیاں جو کچھ بھی سمجھ نہیں رکھتیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں یہ بات ڈال دی ہے کہ پہاڑوں اور درختوں میں جہاں جہاں مناسب سمجھیں اپنے قیام کے لئے گھر بنا لیں۔ یہ مکھی اپنے گھر بنانے میں نہایت سمجھ رکھتی ہے۔ پھر اللہ پاک نے اس کو طرح طرح کے میوے اور پھلوں سے جنگل اور باغوں میں چل پھر کر کھانے پینے کا حکم دیا اور اسے یہ بھی سمجھ دی کہ اپنے گھر کا رستہ نہ بھولے۔ اور اس کے پیٹ میں سے رنگ برنگ کا شہد نکلتا ہے۔ سبحان اللہ ! کیا اس کی حکمت ہے کہ ایسی بےحقیقت مکھی سے اتنا بڑا کام لیا۔ پھر فرمایا کہ یہ شہد جو ان مکھیوں سے حاصل ہوتا ہے اس میں انسان کے ہر مرض کی شفا ہے۔
Ayah 16:70

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۙ۫ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 16:70 in the Quran reader

اور اللہ ہی نے تم کو پیدا کیا، پھر وہی تمہاری جان قبض کرے گا، اور تم میں سے بعض لوگ وہ ہیں جو (بڑھاپے کی) بد ترین عمر تک پہنچائے جاتے ہیں کہ ( ذہن وعقل کی) سمجھ رکھنے کے بعد پھر نادان ہوجائے، بیشک اللہ جاننے والا قدرت والا ہے

انسان کی عمر کے درجے اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی عمر کے چار درجے ہیں : (1) اول درجہ تو دن بدن بڑھنے کا ہے اس کی مدت تینتیس برس تک ہے۔ (2) پھر چالیس برس تک ایک ہی حالت پر آدمی رہتا ہے، اسی کو سن وقوف کہتے ہیں۔ (3) پھر چالیس سے ساٹھ سال تک اندرونی گھٹاؤ انسان کی حالت میں شروع ہوجاتا ہے۔ ایسی ہی عمر کو ادھیڑ کہتے یہں۔ (4) اس کے بعد طرح طرح کے اندرونی مرض پیدا ہو کر وہ ادھیڑ پنے کی حالت بھی باقی نہیں رہتی اور بات کہہ کر بھرل جانا اور خرابیاں اس ناکارہ عمر کی شروع ہوجاتی ہیں۔ جس ناکارہ عمر کا ذکر آیت میں ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمی کی عمر کا انقلاب یاد دلا کر یہ تنبیہ فرمائی کہ ان انقلابوں پر جو قادر ہے، اس نے ایک اس انقلاب کا بھی مضبوط وعدہ کیا ہے کہ ہر ایک انسان کو مر کی پھر جینا ہے اس پر ایمان لانا اور عقبٰی کی فکر کرنا ہر مسلمان کا جزو ایمان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس اپنے علم اور قدرت کے موافق پہلی دفعہ انسان کو پیدا کیا ہے اس کے موافق وہ انسان کو پھر دوبارہ پیدا کرے گا۔ جو لوگ اس کے منکر ہیں وہ گویا اپنی پہلی پیدائش کے منکر یہں۔
Ayah 16:71

وَ اللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ١ۚ فَمَا الَّذِیْنَ فُضِّلُوْا بِرَآدِّیْ رِزْقِهِمْ عَلٰى مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَهُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ١ؕ اَفَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 16:71 in the Quran reader

اور اللہ نے تم میں ایک دوسرے پر روزی میں بڑائی دی ہے، پس جن لوگوں کو بڑائی دی ہے وہ اپنی روزی اپنے غلاموں کو اس طرح کبھی دینے والاے نہیں کہ وہ (مالک ومملوک) سب اس میں برابر ہوجاویں، تو کیا اللہ تعالیٰ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں

بعضوں کو بعضوں پر فضیلت : اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ حق سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے بندوں میں بعضوں کو بعضوں پر فضیلت دے رکھی ہے۔ کسی کو غنی وتونگر پیدا کیا ہے اور کسی کو فقیر و محتاج بنایا ہے۔ جس طرح مال و دولت میں ایک کو ایک پر فضیلت دی ہے اسی طرح عقل وفہم ، ناتوانی ، کمزوری، حسن بدصورتی، صحت مرض میں بھی ایک کو ایک پر فضیلت دی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مصلحت کے موافق ان مشرکین مکہ کو مالدار پیدا کرکے ان کے غلام لونڈی کو ان کا محتاج بنا دیا اور یہ ظاہر بات ہے کہ یہ لوگ اپنے لونڈی غلاموں کو اپنی عزت مالداری کی حالت میں شریک نہیں کرنا چاہتے تو پھر وہ اللہ جو آسمان و زمین کا بادشاہ ہے اس کی تعظیم اور بادشاہت میں یہ لوگ بتوں کو کیوں اور کس سند سے شریک ٹھہراتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو ان کو پیدا کیا ہے اور ان کو دنیا کی طرح طرح کی نعمتیں جو دی ہیں، کیا اس شکر گزاری کے یہی ڈھنگ ہیں جو ان لوگوں نے اختیار کر لئے ہیں۔
Ayah 16:72

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِیْنَ وَ حَفَدَةً وَّ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ هُمْ یَكْفُرُوْنَۙ Open ayah 16:72 in the Quran reader

اور اللہ نے تمہارے لئے تمہاری جنس سے عورتیں ( بیبیاں) پیدا کیں اور (پھر) تہاری عورتوں سے تمہارے لئے بیٹے اور پوتے پیدا کئے اور تم کو پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں، کیا پھر بھی جھوٹھی باتوں پر یقین لاتے ہیں، اور اللہ کی نعمت پر وہ لوگ ناشکری کرتے ہیں

اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر غیر جنس کی بیویاں انسان کے لئے پیدا کی جائیں تو انسان کو ان سے وحشت ہوتی ہے، یہ محبت وانسیت میاں بیوی میں ہرگز نہ ہوتی۔ غضی کہ یہ کمال مہربانی اللہ جل شانہ کی ہے کہ انسان کے لئے انسان ہی کا جوڑا بنایا، پھر اس سے آل واولاد کا سلسلہ چلایا اور پوتے پوتیاں نواسے نواسیاں دیں۔ پھر فرمایا کہ تمہاری زندگی کے لئے یہ سامان بھی مہیا کردیا کہ تمہارا رزق پاک وصاف چیزوں میں مقرر کیا تاکہ ایک وقت مقررہ تک تم زندگی بسر کرو۔ پھر ان نعمتوں کا بھی کچھ خیال نہیں کرتے ، بت پرستی کئے چلے جاتے ہو خدا کی ان نعمتوں کا شکر نہیں بجا لاتے کفر کرتے ہو۔
Ayahs 16:73–74

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَۚ Open ayah 16:73 in the Quran reader

اور اللہ کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں کہ جو آسمانوں میں سے ان کی روزی کا ان کے لئے کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے اور نہ کچھ کرسکتے ہیں

فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:74 in the Quran reader

پس اللہ کے لئے مثالیں نہ گھڑو، بیشک اللہ خوب جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

مشرکوں کو قائل کرنے کا ذکر اس آیت میں مشرکوں کو یوں قائل کیا کہ تم لوگ جو سوا اللہ کے غیروں کی عبادت کرتے ہو، جن میں اتنی بھی قدرت نہیں کہ تمہارے رزق کا کچھ انتظام کریں۔ نہ آسمان میں ان کا اختیار کہ وہاں سے مینہ برسا سکیں نہ زمین میں ان کا کچھ تصرف ہے کہ اس میں غلہ پیدا کریں اور درخت لگائیں۔ عالم بالا اور عالم پستی میں کہیں بھی ان کا ذرہ برابرا عمل ودخل نہیں، بلکہ خود انہیں میں کوئی قدرت نہیں دوسرے کے محتاج ہیں۔ خدا کی مخلوق ہیں اس لئے یہ عبادت کے ہرگز سزوار نہیں۔ اطاعت اور بندگی تو خدائے وحدہ لاشریک کو زیبا ہے جو کل شئی کا خالق اور رازق ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ کی مخلوق کو اس کا شبیہ نہ قرار دو ، کیونکہ وہ سب خدا کے بندے ہیں۔ مشرکین مکہ جاہلیت میں اعتقاد رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا مرتبہ ایسا عالی ہے کہ ہم میں سے کسی کو اس کی عبادت کی مجال نہیں ہے۔ اسی واسطے وہ لوگ بتوں کی پوجا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جن لوگوں کی یہ بت مورتیں ہیں وہ اللہ کے خالص بندے ہیں، ان کو خدا کے دربار میں تقرب حاصلی ہے۔ بارگاہ الہی میں یہ ہماری شفاعت کریں گے جس طرح چھوٹے آدمی دنیا میں بادشاہوں کے مصاحبوں کی خدمت کرتے ہیں اور وہ لوگ بادشاہوں کی خدمت بجا لاتے ہیں ۔ ہر شخص کا مقدور نہیں کہ بادشاہوں تک اس کی رسائی ہوجاوے، تو انہیں مصاحبوں کے وسیلے سے اللہ پاک نے اس عقیدے کو یوں قرار دیا کہ تمہیں اس کا علم نہیں ہم جانتے ہیں۔ خدا کے ہاں بھلا ان کو کیا تقرب حاصل ہو سکتا ہے۔
Ayah 16:75

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ مَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ یُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّ جَهْرًا١ؕ هَلْ یَسْتَوٗنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:75 in the Quran reader

(دیکھو) اللہ ایک مثال بیان فرماتا ہے کہ ایک غلام تابعدار کہ وہ کسی چیز پر مقدور نہیں رکھتا، اور ایک وہ شخص ہے جس کو ہم نے اپنی طرف سے اچھی روزی دی، پس وہ اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتا ہے، تو کیا دونوں برابر ہیں ؟ ( وہ کہیں گے :" نہیں " تو کہو):" سب تعریف اللہ کو ہے " کچھ ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے

مشرکین مکہ کو ہدایت کے لئے دو مثالیں بتلائیں اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کو اللہ کا شریک ٹھہرانے سے منع فرما کر دو مثالیں بیان فرمائیں : (1) جن میں سے ایک کو اس آیت میں یوں ذکر فرمایا کہ تم دنیا میں دیکھو کہ ایک وہ شخص ہے جو کسی کا غلام ہو اور اس میں کسی بات کی قدرت نہ ہو۔ بلکل مفلس ہو، اپنے آقا کا دست نگر ہو۔ (2) دوسرا وہ شخص جو آزاد ہو اور اللہ پاک نے اسے آسودہ حال کیا ہو اور وہ اپنے مال میں پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتا ہو کیا یہ دونوں برابر ہیں۔ پھر فرمایا کہ اکثر لوگ گمراہ ہیں، اور خدا اور رسول کے منکر ہیں۔
Ayah 16:76

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَیْنِ اَحَدُهُمَاۤ اَبْكَمُ لَا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ هُوَ كَلٌّ عَلٰى مَوْلٰىهُ١ۙ اَیْنَمَا یُوَجِّهْهُّ لَا یَاْتِ بِخَیْرٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیْ هُوَ١ۙ وَ مَنْ یَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ١ۙ وَ هُوَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠ Open ayah 16:76 in the Quran reader

اور اللہ ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ دو شخص ہیں ان میں سے گونگا ہے کہ کچھ کام نہیں کرسکتا اور وہ اپنے آقا پر بوجھ ہے اور وہ اس کو جہاں بھیجتا ہے کچھ بھلائی نہیں لاتا، کیا یہ اور وہ برابر ہوجائے گا کہ جو لوگوں کو انصاف کا حکم دیتا ہے اور وہ خود بھی سیدھے رستے پر قائم ہے

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے کئے دوسری مثال بیان فرمائی کہ دنیا میں دو شخص ہوں : (1) تو ناسمجھ اور گونگا ہو کہ کسی کی بات نہ سمجھے اور نہ کسی بات کا کچھ جواب دے سکے۔ اور وہ اس وجہ سے اپنے مالک کو گراں گزرتا ہو کہ اس کا آقا اس کسی کام کے انجام دینے کو بھیجے تو وہ زبان اور سمجھ بوجھ نہ ہونے کی وجہ سے اس کو بخوبی اور عمدگی سے انجام نہ دے سکے (2) ایک وہ شخص ہو جو لوگوں کو اچھی اچھ باتوں اور نیک کاموں کی ہدایت کرے اور خود بھی راہ راست پر ہو، تو فرمایا کہ کیا یہ دونوں شخص یکساں ہو سکتے ہیں اسی طرح ان بتوں اور آنحضرت ﷺ کی مثال ہے۔
Ayah 16:77

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَاۤ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 16:77 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزیں اللہ ہی کے لئے ہیں اور قیامت کا معاملہ تو بس ایسا ہی ہوگا جیسا پلک کا بھپکنا یا اس سے بھی قریب بیشک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

اس آیت کے پہلے ٹکڑے میں اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا بیان ہے کہ وہ جمیع غیوب کا جاننے والا ہے، اس پر کوئی چھپنے والی چیز پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں یہ غفلت سے لوگ اپنی عمر اور دنیا کی عمر کے بھروسہ پر بڑے بڑے دیر طلب کام کرتے ہیں۔ اللہ کے نزدیک وعدہ آجانے کی دیر ہے، پھر اس کی قدرت کے رو برو درمیانی اور آخری قیامت کا قائم ہوجانا پلک جھپکنے سے بھی زیادہ نزدیک ہے، کیونکہ اس کی درگارہ میں ہر کام کے لئے فقط حکم کی دیر ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ برے کام سے توبہ اچھے کام کا سر انجام جو کچھ انسان کو کرنا ہے وہ آج کرلے آج کے کام کو کل پر نہ رکھے اس لئے کہ جب انسان کی عمر اور دنیا کی عمر کو قیام ہی نہیں تو تمہیں کیا معلوم کہ کل کیا ہو۔
Ayah 16:78

وَ اللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا١ۙ وَّ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:78 in the Quran reader

اور اللہ نے نکالا تم کو تمہاری ماں کے پیٹ میں سے (حالانکہ) تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے، اور تم کو کان اور آنکھیں اور دل عطا کئے تاکہ تم شکر کرو

اللہ تعالیٰ کی قدرت کا نمونہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس حالت میں پیدا کیا کہ تمہارا کچھ وجود نہ تھا۔ باپ کی پیٹھ سے ماں کے شکم میں نطفہ کو ٹھہرا دیا، اور رفتہ رفتہ اس نطفہ سے پتلا بنایا پھر روح پھونکی اور تمہیں ماں کے پیٹ سے جب روئے زمین پر ظاہر کیا۔ اس وقت بھی تمہاری حالت یہ تھی کہ تم دنیا کی کسی چیز کو نہیں جانتے تھے۔ نہ نفع کی چیزوں کا تمہیں علم تھا نہ ضرر دینے والی اشیاء کو تم جانتے تھے۔ مگر اللہ پاک نے تمہیں کان دیئے کہ تم لوگوں کی باتوں کو سنو اور آنکھیں بھی دیں کہ اچھے اور برے کو دیکھ کر تمیز کرو اور اپنی زندگی میں ان آنکھوں کے ذریعہ مناسب کام لو۔ غرضیکہ آنکھیں عجیب نعمت ہیں۔ انسان کو دل بھی دیا تاکہ ہر شئی کو سمجھے بوجھے، اگر دل میں کچھ فتور پڑجائے تو انسان کی زندگی کے لالے پڑجاتے ہیں۔ عرضی کہ یہ نعمتیں ایسی نہیں ہیں جن کو انسان بھول جائے اور ان پر خدائے تعالیٰ کا شکریہ بجا نہ لائے۔
Ayah 16:79

اَلَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیْ جَوِّ السَّمَآءِ١ؕ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:79 in the Quran reader

کیا پرندوں کو نہیں دیکھا کہ حکم کے باندھے ہوئے آسمان کی فضا میں (اڑتے پھرتے) ہیں انہیں کوئی نہیں تھامتا سوائے اللہ کے، بیشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے کہ جو ایمان لاتے ہیں

اس آیت میں فرمایا کہ آسمان و زمین کے درمیان تم سینکڑوں جانوروں کو اڑتے ہوئے دیکھتے ہو کہ ہوا میں سیر کرتے پھرتے ہیں۔ کیا ان کا تھامنے والا سوائے خدا کے اور کوئی ہے ہرگز نہیں یہ بھی اس کی قدرت ہے۔ پھر فرمایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان کے واسطے ان امور مذکورہ میں قدرت کی نشانیاں موجود ہیں۔ جن کا یمان کامل ہے وہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں وہ غور کرتے ہیں۔
Ayah 16:80

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُیُوْتِكُمْ سَكَنًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُیُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَهَا یَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَ یَوْمَ اِقَامَتِكُمْ١ۙ وَ مِنْ اَصْوَافِهَا وَ اَوْبَارِهَا وَ اَشْعَارِهَاۤ اَثَاثًا وَّ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 16:80 in the Quran reader

اور اللہ ہی نے تمہارے گھروں کو تمہارے بسنے کی جگہ بنایا اور بنائے تمہارے لئے چوبایوں کی کھالوں کے خیمے کہ جنہیں تم اپنے سفر کے دن اور منزلوں پر ٹھہرنے کے دن میں بہت ہلکے پاتے ہو، اور ان کی اون اور روؤں اور ان کے بالوں سے گھر کا سامان اور فائدہ کی چیزیں ایک مدت کے لئے بناتے ہو

توحید اور انسان کی معاشرتی اور معاشی زندگی کا ذکر آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا قادر مطلق ہے اور تمہارا محسن کہ اس نے اپنی رحمت سے تمہارے رہنے کے گھر تم کو عنایت فرمائے اور اس کے بنانے کی ترکیب تم کو سکھائی۔ پتھر اینٹ لکڑی سے اپنے مکانات بنا لیتے ہو، اور تم کو ترکیب سکھائی تاکہ جانوروں کے چمڑے سے خیمے بنا لو جو سفر اور اقامت کے وقت تمہیں مشقت میں نہیں ڈالتے کیونکہ ہلکے ہوتے ہیں۔ اور چار پایوں کے بالوں سے بھی تم کو خیمہ بنانے کی ترکیب سکھائی۔ عرب میں اونٹ یا اور جانوروں کی کھال رنگ کیر خیمہ بناتے ہیں۔ دنبے، بھیڑ، اونٹ بکری کے بال جس کو اون کہتے ہیں۔ شال، دوشالے، پشمینے وغیرہ کپڑے انہی جانوروں کے اون سے بناتے ہیں اور بھی طرح طرح کی اشیاء اس سے تیار ہوتی ہیں۔ پھر فرمایا کہ جب تک یہ دنیا قائم ہے اور جب تک تمہاری زندگی دنیا میں ہوگی تم اس سے عجیب و غریب نفع اٹھاؤ گے۔