17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsمظہر القرآن

Ayah 17:81

وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ١ؕ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا Open ayah 17:81 in the Quran reader

اور فرماؤـ” دین حق (یعنی اسلام) آیا اور دین باطل (یعنی کفر) مٹ گیا بیشک باطل کو مٹنا ہی تھا “

اس آیت میں فرمایا کہ اے محبوب ﷺ ! ان سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے دین حق آگیا ہے اور دین باطل مٹ گیا یعنی حق قرآن ہے اور باطل شیطان جہاں قرآں ظاہر ہوتا ہے شیطان چھپ جاتا ہے۔
Ayah 17:82

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ١ۙ وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 17:82 in the Quran reader

اور ہم قران میں وہ چیز اتارتے ہیں جو ایمان والوں کے لئے شفا اور رحمت ہے، اور ظالموں کو تو اس سے نقصان ہی بڑھتا ہے

قرآن شفا ہے مطلب یہ ہے کہ تمام قرآن مسلمانوں کے حق میں ظاہری اور باطنی جسمانی اور دلی بیماریون کی شفا کا کامل ذریعہ ہے۔ جسمانی مرض بھی خواہ کیسا ہی سخت ہو قرآن کی برکت سے جاتا رہتا ہے، اسی طرح قلبی مرض بھی۔ البتہ ناانصافوں کو قرآن سے کوئی فائدہ نہیں بلکہ جس قدر انکار بڑھتا جاتا ہے نقصان زیادہ ہوتا ہے۔
Ayah 17:83

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ یَئُوْسًا Open ayah 17:83 in the Quran reader

اور جب ہم انسان پر احسان کرتے ہیں تو منہ پھیر لیتا ہے اور اپنی طرف دور ہٹ جاتا اور جب اسے کوئی برائی پہنچے تو ناامید ہوجاتا ہے

یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ جب ہم اپنے رسول برحق کو بھیجتے ہیں اور کلام پاک نازل کرتے ہیں تو انسان منہ پھیر لیتا ہے۔ دنیوی نعمت میں بھی اس کا یہی نقشہ ہے کہ جہاں دولت مند ہو یا صاحب قوت یا صاحب جاہ تو اللہ کی طرف سے منہ پھیرنے لگتا ہے اور اپنے تئیں دور کھینچتا ہے اور اینٹھنے لگتا ہے اور جب اس پر کوئی مصیبت آتی ہے تو ناامید ہوجاتا ہے۔
Ayah 17:84

قُلْ كُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ١ؕ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِیْلًا۠ Open ayah 17:84 in the Quran reader

تم فرماؤ :” ہر ایک اپنے اپنے طریقے پر عمل کرتا ہے، پس تمہارے پروردگار کو خوب معلوم ہے کہ کون زیادہ راہ راست پر ہے

اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ اے حبیب ﷺ ان سے کہہ دو کہ تم ہر ایک آدمی اپنے اپنے طریقہ اور نیت کے موافق عمل کرتے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ جس کا نفس پاک وصاف ہے وہ اچھے عمل کرتا ہے اور جس کا نفس ناپاک وخبیچ ہے وہ برے عمل کرتا ہے۔ اس میں کفار کی مذمت ہے اور مومنین کی تعریف ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ پاک سب کو جانتا ہے کہ کون گمراہی میں ہے اور کون راہ یاب ہے کیونکہ وہ خالق ہر مخلوق کا ہے۔
Ayah 17:85

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ١ؕ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:85 in the Quran reader

اور تم سے روح کو پوچھتے ہیں تم فرماؤ : ” روح میرے پروردگار کے حکم سے ایک چیز ہے اور تمہیں علم نہ ملا مگر تھوڑا “

روح کا بیان شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ یہود نے آنحضرت ﷺ کے پاس مشرکین کو بھیجا کہ وہ آپ سے تین سوال کریں۔ (1) روح کیا چیز ہے۔ (2) ذوالقرنین کی بابت۔ (3) اصحاب کہف کا قصہ۔ اور یہ کہا دیا تھا کہ اگر آپ دو باتیں بتا دیں تو سمجھ لینا کہ آپ نبی ہیں۔ چناچہ ان لوگوں نے آ کر سوال کیا تو وہ دونوں سوالات تو پورے پورے بیان کئے اور روح کی بابت یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ آپ سے یہ لوگ روح کی کیفیت پوچھتے ہیں، ان سے کہہ دیں کہ روح کی کیفیت کے معلوم کرنے کی طاقت انسان میں نہیں ہے۔ پہلے بھی پیغمبروں نے باریک باتیں لوگوں سے نہیں کیں، اتنا جاننا کافی ہے کہ خدا کے حکم سے ایک چیز جسم میں داخل ہوتی ہے، تو وہ جی اٹھتا ہے اور جب نکلتی ہے مر جاتا ہے۔
Ayahs 17:86–87

وَ لَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَیْنَا وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:86 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو یہ وحی جو ہم نے تمہاری طرف کی ہے اس کو لے جاتے (یعنی قرآن کریم کو سینوں اور صیحفوں سے محو کردیتے) پھر تم کوئی نہ پاتے اس کے (واپس لانے کے) لئے ہمارے سامنے اس پر وکالت کرنے والا

اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَیْكَ كَبِیْرًا Open ayah 17:87 in the Quran reader

مگر یہ صرف تمہارے پروردگار کی رحمت ہے (کہ قیامت تک اس کو باقی رکھا) بیشک اس کا تم پر بڑا فضل ہے

قرآن شریف اور رسول اللہ ﷺ کی تعریف اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ جس طرح ہم نے روح کا علم تم کو نہیں دیا اگر ہم چاہیں تو قرآں کو بھی تمہارے پاس سے ہٹا لیں تمہارے دلوں سے بھلا دیں، کاغذ سے اس کے نقوش مٹا دیں، پھر تم کوئی اپنا مدد گار نہیں لاسکتے جو اس کام میں تمہاری مدد کرے اور قرآن پھر تم کو دے دے، یا تمہارے دلوں میں بھی پیدا کر دے اور کوئی اس کام میں مدد نہیں کرسکتا مگر ہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت سب کچھ کرسکتی ہے۔ پھر فرمایا اے محمد ﷺ ! تمہارے اوپر ہماری بہت بڑی مہربانی ہے تم کو ہم نے اولاد آدم کا سردار کردیا اور رسولوں کا خاتم النبیین کیا اور مقام محمود عطا کیا اور اپنی سب سے عمدہ کتاب یعنی قرآن مجید کو آپ پر نازل کیا اور سب سے بڑی رحمت یہ کی کہ قرآن شریف آپ کی امت میں صحیح سلامت باقی رہے گا۔
Ayah 17:88

قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِیْرًا Open ayah 17:88 in the Quran reader

(اے محبوب ! ﷺ) تم فرماؤ :” اگر آدمی اور جنات سب اس بات کے لئے متفق ہوجاویں کہ ایسا قرآن بنا لاویں تو ایسا قرآن نہ لاسکیں گے اور اگرچہ ان میں ایک دوسرے کا مدد گار ہو

کفار کا فضول سوال کرنا اور اس کا جواب شان نزول : یہود کے چند علماء نے یہ کہا تھا کہ قرآن شریف کی عبارت توراۃ جیسی فصیح نہیں ہے اس لئے ہم چاہیں تو قرآں جیسی عبارت بنا سکتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ ساری دنیا بھر کے انسان اور جنات ایک ہوجائیں جب بھی ان سے قرآن کے مانند کلام نہیں بن سکتا۔ اس آیت سے قرآں شریف کا معجزہ ہونا اور ایسا معجزہ ہونا ثابت ہوتا ہے جس کے مقابلہ سے جن و انسان عاجز ہیں۔
Ayah 17:89

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:89 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال کھول کھول کر بیان کردی ہے، پس اکثر آدمیوں نے نہ مانا مگر ناشکری کرنا

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کے علم غیب کے موافق دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل ٹھہر چکے ہیں ان کے حق میں قرآن کی نصیحت اسی طرح رائیگاں ہے جس طرح بری زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے۔ اسی واسطے طرح طرح کی مثالیں دے کر جس قدر قرآن کی آیتوں سے ان لوگوں کو سمجھایا جاتا ہے اسی قدر قرآں کو جھٹلانے پر یہ لوگ آمادہ ہوجاتے ہیں۔
Ayahs 17:90–93

وَ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْۢبُوْعًاۙ Open ayah 17:90 in the Quran reader

اور بولے کہ ہم تم پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ تم ہمارے لئے زمین سے کوئی چشمہ جاری کردو

اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِیْرًاۙ Open ayah 17:91 in the Quran reader

یا تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو پھر تم اس میں بہتی ہوئی نہریں جاری کر دو

اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِیَ بِاللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ قَبِیْلًاۙ Open ayah 17:92 in the Quran reader

یا تم ہم پر آسمان گرا دو جیسا کہ تم نے کہا ہے :” ٹکڑے ٹکڑے کرکے “ یا تم اللہ اور فرشتوں کو ضامن لے آؤ

اَوْ یَكُوْنَ لَكَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِی السَّمَآءِ١ؕ وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَیْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ١ؕ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا۠ Open ayah 17:93 in the Quran reader

یا تمہارے لئے طلائی گھر ہو یا تم (ہمارے سامنے) آسمان میں چڑھ جاؤ، اور ہم تو تمہارے (آسمان پر) چڑھنے پر (بھی) ایمان نہ لائیں گے جب تک تم ہم پر ایک کتاب نہ اتارو جس کو ہم پڑھی تم فرماؤ :” پاکی ہے میرے پروردگار ! کو ، میں (اس کے سوا) کون ہون مگر ایک آدمی اللہ کا بھیجا ہوا “

شان نزول : ایک روز ابو جہل اور چند قریش نے جمع ہو کر آنحضرت ﷺ سے کہا کہ یہ نیا دین تم نے اگر روپے کی لالچ سے یا قوم کے سردار رہنے کی طمع سے نکالا ہے تو ہم روپیہ کا چندہ کرنے کو اور قوم کا سردار تم کو بنانے کو موجود ہیں، اور اگر دماغی بیماری ہوگئی ہے جس کے سبب سے ایسی باتیں کرتے ہو تو اس کا علاج بھی ہو سکتا ہے، آنحضرت ﷺ نے جواب دیا کہ ان باتوں میں سے ایک بات بھی نہیں ہے بات فقط اتنی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تم لوگوں کو اللہ کا حکم سناتا ہوں۔ اگر تم مانو گے تو تمہارے لئے اچھا ہے ورنہ تم جانو۔ یہ سن کر انہوں نے ضد سے کہا : ” اچھا اگر تم سچے رسول ہو تو مکہ کی سرزمین میں باغ لگا دو نہریں جاری کرادو، یا اپنا گھر سونے کا بنا لو، ہمارے سامنے آسمان پر چڑھ جاؤ یا اللہ اور فرشتے ہمارے رو برو آن کر تمہارے رسول ہونے کی گواہی دیویں یا للہ کی طرف سے کوئی فرشتہ اس صداقت میں ہمارے پاس آجاوے۔ اگر ان باتوں میں سے کوئی بات نہیں کرسکتے تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا عذاب کے طور پر گرا دو “۔ ان باتوں پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ اے محبوب کریم ﷺ ان سے کہہ دو کہ اللہ تمہاری ان خرافات سے پاک ہے کسی کی مجال نہیں کہ اس پر کچھ حکم لگاوے وہ مالک اور مختار ہے اور ہر بات پر قادر ہے میں تو بشر ہوں جیسے اور رسول ہیں ویسا ہی میں بھی رسول ہوں اگلے سب لوگوں نے وہی معجزے ظاہر کئے، جو ان کی قوم کے مناسب تھے۔ میں بھی تمہارے مناسب معجزات ظاہر کئے۔ کافروں کی باتوں کا یہ مجمل جواب ہے مفصل متفرق آیتوں میں ہے۔ مفصل جواب متفرق آیتوں میں ہے۔
Ayah 17:94

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:94 in the Quran reader

اور کس بات نے لوگوں کو ایمان لانے سے روکا جب ان کے پاس ہدایت آئی، مگر یہی بات مانع ہوئی کہ کہنے لگے :” کیا اللہ نے آدمی کو رسول بنا کر بھیجا ہے “

نافرمان لوگوں کے عذاب کا ذکر : اوپر کی آیتوں میں مشرکین مکہ کی سرکشی کی باتوں کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا بڑا سبب قرآن کے نہ ماننے کا ان لوگوں کے نزدیک یہ ہے کہ یہ لوگ اس بات کو خلاف عقل جانتے ہیں کہ اللہ کا رسول کوئی انسان ہو سکتا ہے۔
Ayah 17:95

قُلْ لَّوْ كَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓئِكَةٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:95 in the Quran reader

تم فرماؤ :” اگر زمین پر فرشتے بستے ہوتے کہ اطمینان سے چلتے پھرتے، تو بیشک ہم ان پر آسمان سے فرشتے ہی رسول بنا کر بھیجتے

اس آیت میں میں فرمایا کہ ان لوگوں کا خیال ہے کہ اللہ کا رسول فرشتہ ہونا چاہئے۔ حالانکہ یہود کی باتوں کو یہ لوگ بہت مانتے ہیں اور یہود سے اکثر یہ لوگ سن چکے ہیں کہ بنی اسرائیل کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) تھے۔ پھر وہ بھی شیطان کے بہکانے سے یہ لوگ ایک ظاہر بات کو خلاف عقل جانتے ہیں۔ اے رسول اللہ کے ! تم ان لوگوں سے کہہ دو جس طرح بنی آدم زمین پر رہتے ہیں اسی طرح اگر فرشتے بھی زمین پر بستے ہوتے اور فرشتوں کا اصلی صورت میں دیکھنا انسان کی طاقت سے باہر نہ ہوتا تو ان کے پاس کوئی فرشتہ رسول بنا کر بھیج دیا جاتا۔ اب اگر کوئی فرشتہ رسول بنا بھیجا بھی جاوے تو ضرور وہ انسان کی صورت میں ہوگا اور پھر ان لوگوں کا وہی شبہ باقی رہے گا جو اس وقت ہے۔ سورة الانعام (پارہ 7) کی آیتوں میں یہ مضمون تفصیل سے گزر چکا ہے۔
Ayah 17:96

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:96 in the Quran reader

تم فرماؤ :” میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہی کے لئے کافی ہے “۔ بیشک وہ اپنے بندوں کو خوب جاننے والا ہے

یہاں فرمایا اے اللہ کے رسول ! ان لوگوں سے یہ بھی کہہ دو کہ فرشتہ کی گواہی کچھ اللہ کی گواہی سے بڑھ کر نہیں۔ میں اپنے رسول ہونے پر اللہ کی گواہی پیش کرتا ہوں اور اللہ کی گواہی کا ثبوت یہ ہے کہ اسلام کی جن باتوں کی میں نصیحت کرتا ہوں اللہ کی مدد سے ان باتوں کی روز بروز ترقی ہوتی جاتی ہے اور اسلام کے برخلاف باتیں روز بروز دنیا سے اٹھ رہی ہیں اور یہ بھی کہہ دو کہ اللہ اپنے بندوں کے ذرا ذرا حال سے خبردار اور ان کے سب کاموں کو دیکھتا ہے۔ میں تم کو جو نصیحت کرتا ہوں وہ بھی اس کو معلوم ہے اور تم بغیر کسی سند کے زبردستی جو مجھ کو جھٹلاتے ہو وہ بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہے وقت مقررہ پر ان سب باتوں کا فیصلہ اللہ تعالیٰ فرما دے گا۔
Ayah 17:97

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ نَحْشُرُهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ عُمْیًا وَّ بُكْمًا وَّ صُمًّا١ؕ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِیْرًا Open ayah 17:97 in the Quran reader

اور جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پر ہے، اور جس کو وہ گمراہ کرے پس ان کے لئے اس کے سوا تم کوئی حمایتی نہ پاؤ گے، اور ہم انہیں قیامت کے دن ان کے منہ کے بل اندھے اور گونگے اور بہرے کرکے اٹھائیں گے، ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، جب آگ بھجنے لگے گی تو ہم اسے ان پر زیادہ بھڑکا دیں گے

یہاں فرمایا اللہ کے علم غیب میں جو لوگ راہ راست پر آنے والے ٹھہر چکے ہیں، وہی نیک کاموں کا ارادہ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں کو نیک کاموں کی توفیق دیتا ہے۔ اور جو لوگ اللہ کے علم غیب میں گمراہ ٹھہر چکے ہیں ان کو کوئی نصیحت کرنے والا راہ راست پر نہیں لاسکتا۔ اس لئے وہ لوگ اسی حالت میں مر جاویں گے اور قیامت کے دن وہ میدان محشر تک تو بجائے پیروں کے منہ کے بل چلیں گے، اور پھر اوندھے منہ گھسیٹے جاکر دوزخ میں ڈال دیئے جاویں گے جہاں سوا ہر وقت کے عذاب کے آنکھوں سے کسی نجات کی صورت کے دیکھنے سے وہ اندھے اور کانوں سے سننے سے بہرے اور زبان پر لانے سے گونگے ہوں گے۔
Ayah 17:98

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:98 in the Quran reader

یہ ان کی سزا اس سبب سے ہے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور کہہ دیا کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا سچ مچ ہم ازسرنو پیدا کرکے اٹھائے جائیں گے

ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ عذاب ان لوگوں پر ظلم کے طور پر نہ ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پر حرام ٹھہرایا ہے۔ اس لئے فرمایا کہ یہ عذاب ان لوگوں کی بد اعمالی کی سزا کے طور پر ہوگا کیونکہ یہ اللہ کے کلام کو اور حشر کو جھٹلاتے تھے۔
Ayah 17:99

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَ جَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَاَبَى الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:99 in the Quran reader

اور کیا وہ نہیں دیکھتے کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا وہ اس بات پر قادر ہے کہ ان جیسے (لوگ) پیدا کر دے اور ان کے لئے (عذاب کی یا موت وقیامت کی) اس نے ایک میعاد مقرر کردی ہے جس میں کچھ شک نہیں پس ظالموں نے انکار کرنے کے سوا (اسے) قبول نہ کیا

اس آیت میں فرمایا کیا ان لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ان کی عقل سے باہر اس پاک ذات نے بغیر ستون کے آسمان کس طرح بنائے اور پانی پر زمین کیونکر بچھائی، پھر آدم (علیہ السلام) کے پتلے کی طرح مٹی سے ان کے دوبارہ پتلے بنانا اور ان میں روح کا پھونکنا اس کی قدرت کے آگے کیا مشکل ہے۔ رہی یہ بات کہ آخر یہ کب ہوگا اس کے واسطے اللہ کے کارخانہ میں ایک وقت مقرر ہے۔ اس وقت کو بغیر کسی سند کے جو یہ لوگ جھٹلاتے ہیں اس کا خمیازہ ان کو بھگتنا پڑے گا۔
Ayah 17:100

قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّیْۤ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْیَةَ الْاِنْفَاقِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا۠ Open ayah 17:100 in the Quran reader

تم فرماؤ :” اگر تم میرے پروردگار کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے تو اس وقت بھی تم بخیلی کرتے، اس ڈر سے کہ خرچ نہ ہوجائیں “ اور انسان بڑا کنجوس ہے

قریش مکہ کے معجزہ طلب کرنے کا ذکر اوپر کی آیت میں قریش نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر صفا پہاڑ سونے کا ہوجاوے گا تو ہم مسلمان ہو کر اس سونے کو ہر طرح سے اللہ کی راہ میں خرچ کریں گے۔ یہ اس کا جواب دیا ہے کہ ایک صفا پہاڑ تو کیا دنیا میں جتنی سونے چاندی کی کانیں اللہ کے خزانے کی موجود ہیں، ان سب کے یہ مالک بن جاویں جب بھی خرچ کرنے میں تنگ دلی کریں گے کیونکہ ہر انسان کی جبلی عادت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ مال کے خرچ کرنے میں تنگ دلی کرتا ہے۔
Ayah 17:101

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى تِسْعَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ فَسْئَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِذْ جَآءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰمُوْسٰى مَسْحُوْرًا Open ayah 17:101 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے نو نشانیاں روشن دیں، پس بنی اسرائیل سے پوچھو جب موسیٰ ان کے پاس آیا تو فرعون نے اس سے کہا :” اے موسیٰ ! میں خیال کرتا ہوں ضرور تجھ پر کسی نے جادو کردیا ہے “

موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزوں کا ذکر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ وہ نشانیاں یہ تھیں : (1) عصا (2) ید بیضا (3) قحط سالی (4) پھول پھل کا نقصان (5) طوفان کا آنا (6) ٹڈی کا آنا (7) جوؤں کی کثرت (8) مینڈک کا ہونا (9) خون کا ہونا۔ ان معجزوں کا ذکر کرنا یہ ایک اشارہ ہے کہ محمد ﷺ کچھ نئے رسول نہیں جو تم کہتے ہو فرشتہ رسول کیوں نہ ہوا ان سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) رسول ہوچکے ہیں اور چونکہ تم ان سے معجزات ایمان لانے کے لئے نہیں مانگتے بلکہ محض عناد وسرکشی سے سو یہ ہماری عادت نہیں ، ورنہ ہم نے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کو کیا نو معجزات کھلے کھلے نہیں دیئے تھے۔ جس طرح تم محمد ﷺ سے مقابلہ کرتے ہو یہ بھی کوئی نئی بات نہیں۔ موسیٰ علیہ اسلام سے فرعون اور سرداروں نے کیا کچھ نہیں کیا ہے۔ پھر دیکھوں کیا انجام ہوا کہ سب غرق ہوگئے بنی اسرائیل کو زمین شام پر بسنے کا حکم ہوا۔ چناچہ وہ بسے اور حاکم ہوئے، پھر فرمایا کہ آپ بنی اسرائیل سے دریافت کریں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ درست ہے یا نہیں ، اور موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے پاس آئے تو فرعون نے کہا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) میں تجھے جادو کردہ شدہ اور مخبوط العقل جانتا ہوں۔
Ayahs 17:102–104

قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَاۤ اَنْزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ بَصَآئِرَ١ۚ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا Open ayah 17:102 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا :” بیشک تو خوب جانتا ہے کہ یہ نشانیاں کسی نے نہیں اتاریں مگر اسی نے جو آسمانوں اور زمین کا مالک ہے جو کہ سمجھنے کے لئے (کافی) ذرائع ہیں، اور اے فرعون ! میں تو سمجھتا ہوں کہ تو ضرور ہلاک ہونے والا ہے “

فَاَرَادَ اَنْ یَّسْتَفِزَّهُمْ مِّنَ الْاَرْضِ فَاَغْرَقْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ جَمِیْعًاۙ Open ayah 17:103 in the Quran reader

پھر اس نے چاہا کہ ان کو زمین (مصر) سے نکال دے (یعنی موسیٰ اور اس کی قوم کو) پس ہم نے اسے اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو غرق کردیا

وَّ قُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِیْفًاؕ Open ayah 17:104 in the Quran reader

اور ہم نے حکم دیا اس کے بعد بنی اسرائیل کو کہ (اب) اس سر زمین میں بسو، پھر جب آخرت کا وعدہ آئے گا تو ہم تم سب کو سمیٹ کرلے آویں گے

فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر تصور کیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے فرعون ! کیا تو نہیں جانتا کہ یہ نشانیاں اس نے اتاری ہیں جو آسمان اور زمین سارے جہان کا پیدا کرنے والا ہے اور یہ نشانیاں اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کا سچا رسول ہوں اور ان نشانیوں سے اللہ کی ہستی اور اس کی قدرت کا پورا پورا پتہ چلتا ہے۔ تو جو اس کا انکار کرتا ہے اور اسے نہیں مانتا مجھے جادوگر خیال کرتا ہے، ان باتوں سے ضرور ہلاک ہوجائے گا۔ فرعون نے اس بات کو سن کر یہ ارادہ کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل کو جلا وطن کرکے مصر سے کہیں دور نکال دیوے گا مگر اللہ عالم الغیب ہے اس نے فرعون کو مع اس کے لشکر کے قلزم میں غرق کرکے ہلاک کردیا۔ پھر یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو یہ حکم دے دیا کہ فرعون تمہیں مصر سے نکالنا چاہتا تھا۔ تو اب تو وہ ہلاک ہوگیا تم اس کی جگہ سلطنت کرو اور مشرق سے مغرب تک جہاں چاہو بسور ہو، کوئی تمہارا روک ٹوک کرنے والا نہیں ہے۔ ہاں جس وقت قریب قیامت ہوگا اور وعدہ کا دن آجاوے گا اس وقت تمہیں اور تمہارے دشمنوں سب کو جزا اور سزا کے لئے دوبارہ زندہ کرکے ایک جگہ اکٹھا کیا جاوے گا۔
Ayah 17:105

وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۘ Open ayah 17:105 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو سچائی کے ساتھ اتارا اور وہ سچائی ہی کے ساتھ اترا اور ہم نے تمہیں بھیجا مگر خوشی اور ڈر سنانے کو

قرآن شریف کی حقیقت اب قرآن مجید کی حقیقت اور اس کے تھوڑا تھوڑا نازل ہونے کے سبب بیان فرماتا ہے کہ قرآن مجید بالکل محفوظ ہے۔ خدا کے پاس آنے سے کوئی کمی بیشی اس میں نہیں ہوئی۔ یہ جبریل امین خداوند کریم کے پاس سے جوں کا توں لائے۔ پھر فرمایا کہ جو لوگ ایمان دار ہیں اور تمہارے تابع اور مطیع ہیں تم ان کو خوش خبری سنانے والے ہو کہ انہیں ان کے نیک اعمال کا بدلہ آخرت میں اچھا ملے گا اور جنت ان کے ہی واسطے تیار ہوئی ہے۔ اور جو لوگ تمہاری نافرمانی کرتے ہیں اور تمہیں جھٹلاتے ہیں، آپ ان کے واسطے خوف سنانے والے ہیں کہ آخرت میں ان کا نتیجہ اور انجام اچھا نہیں ہوگا دوزخ ان کے واسطے مقرر ہوئی ہے۔
Ayah 17:106

وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكْثٍ وَّ نَزَّلْنٰهُ تَنْزِیْلًا Open ayah 17:106 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو جدا جدا کرکے اتارا تاکہ تم اس کو لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کر پڑھو، اور ہم نے اسے بتدریج رہ رہ کر اتارا ہے

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات بیان فرمائی کہ ہم نے قرآن کو یکبارگی نہیں اتارا بلکہ تھوڑا تھوڑا کر کے جب جس بات کی ضرورت ہوئی ویسی ہی آیتیں نازل کیں تاکہ تمہیں لوگوں کو سنانا آسان ہو۔ اور پہلے اس قرآن کو لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر اتارا، پھر حسب ضرورت 23 سال میں آنحضرت ﷺ پر نازل کیا۔
Ayahs 17:107–109

قُلْ اٰمِنُوْا بِهٖۤ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖۤ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًاۙ Open ayah 17:107 in the Quran reader

تم فرماؤ کہ تم لوگ اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ بیشک وہ جنہیں اس کے اترنے سے پہلے علم دیا گیا تھا یہ قرآن جب ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو منہ کے بل سجدہ میں گر پڑتے ہیں

وَّ یَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا Open ayah 17:108 in the Quran reader

اور کہتے ہیں :” پاکی ہے ہمارے پروردگار ! کو بیشک ہمارے پروردگار ہمارے پروردگار کا وعدہ ضرور پورا ہونا تھا “

وَ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْكُوْنَ وَ یَزِیْدُهُمْ خُشُوْعًا۩ Open ayah 17:109 in the Quran reader

اور گر پڑتے ہیں سجدہ میں ٹھوڑی کے بل روتے ہوئے اور یہ قرآں ان کی عاجزی کو بڑھاتا ہے

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے پیغمر ﷺ سے فرمایا کہ تم ان کافروں سے جو تم سے طرح طرح کی فرمائش اور معجزے مانگتے ہیں کہہ دو کہ تم قرآن پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ پہلی کتابوں میں اس کا ذکر موجود ہے۔ اس لئے اس کو وہ لوگ مانتے ہیں جو توریت وانجیل سے واقف ہیں جیسے ورقہ بن نوفل اور عبداللہ بن سلام ؓ وغیرہ، اللہ کے رسول کو سچا جانتے ہیں اور جب ان لوگوں کے روبرو قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور کہتے ہیں پاک پروردگار ہمارا بیشک اس کا وعدہ سچا ہے وہ سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور عاجزی ان کی زیادہ ہوتی ہے۔
Ayah 17:110

قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ١ؕ اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ۚ وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا وَ ابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًا Open ayah 17:110 in the Quran reader

تم فرماؤ کہ تم اللہ کہہ کر پکارو یا رحمٰن کہہ کر پکارو جو کہہ کر پکارو گے سب اسی کے اچھے نام ہیں، اور اپنی نماز نہ بہت آواز سے پڑھو اور نہ بلکل آہستہ پڑھو۔ ان دونوں کے درمیان ایک طریقہ اختیار کرو

اللہ کے ناموں کا ذکر شان نزول : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ یا اللہ یارحمٰن کہہ کر دعا مانگا کرتے تھے۔ یہ سن کر مشرکین مکہ کہنے لگے کہ ہم کو تو محمد ﷺ اکیلے اللہ کی عبادت کرنے اور اسی سے دعا مانگنے کو کہتے ہیں اور خود دو معبودوں کا نام لے دعا مانگتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ شریعت میں اللہ تعالیٰ کے جو نام آچکے ہیں دعا کے وقت لئے جاسکتے ہیں۔ ہاں ان مشرکوں نے لفظ اللہ سے لات اور لفظ منان سے منات تراش کر بتوں کے جو نام رکھے ہیں۔ جن بتوں کو یہ اللہ کا شریک جانتے ہیں اس سے اللہ کے رسول اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ان مشرکوں کو منع کرتے ہیں۔ ایک کم سو نام جو مشہور ہیں اور اکثر لوگوں کو یاد ہیں جو شخص ان کو یاد کرے گا وہ جنت میں جاوے گا۔ نماز میں قرآن پڑھنے کا طریقہ ولا تجھر بصلاتک الخ کا شان نزول : غلبہ اسلام سے پہلے جب آنحضرت ﷺ مکہ میں بلند آواز سے نماز میں قرآن شریف پڑھا کرتے تھے، تو مشرکین قرآن شریف کو برا بھلا کہا کرتے تھے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ کو ناگوار ہوئی اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اوسط درجے کی آواز سے قرآن شریف پڑھا کرو نہ ایسی بلند آواز سے پڑھو کہ مشرکین سن کر برا بھلا کہیں نہ ایسا ہو کہ قرآن سننے کے مشتاق صحابہ بھی قرآن کے سننے سے محروم رہ جاویں۔
Ayah 17:111

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَكْبِیْرًا۠ Open ayah 17:111 in the Quran reader

اور یوں کہو تمام خوبیاں اسی اللہ (پاک) کے لئے ہیں جو نہ کوئی اولاد رکھتا ہے اور نہ اس کی بادشاہی میں اس کو کوئی شریک ہے، اور نہ کمزوری کی وجہ سے اس کا کوئی مددگار ہے اور اس کی بڑائی بڑا جان کر (بیان) کرو

ارشاد ہوتا ہے کہ اے رسول اللہ کہ تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ جس اللہ نے عزیر علیہ السلام، عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان مشرکوں کے بتوں کو سب کو پیدا کیا ہے، بڑائی اسی ذات کو سزاوار ہے کہ جس کے نہ کوئی اولاد ہے نہ اس کی بادشاہت میں کوئی اس کا شریک ہے اور وہ ایسا زبردست ہے کہ وہ کسی کی مدد کا محتاج نہیں۔