17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsمظہر القرآن

Ayah 17:41

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِیَذَّكَّرُوْا١ؕ وَ مَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا Open ayah 17:41 in the Quran reader

(اے مشرکو ! ) کیا تم کو تمہارے پروردگار نے بیٹے چن دیئے اور خود اپنے لئے فرشتوں کو (اپنی) بیٹیاں بنالیں، بیشک تم بڑی (سخت) بات کہتے ہو

کفار کو تنبیہ : اللہ پاک نے اس آیت میں یہ بیان فرمایا کہ ہم نے اس قرآن پاک میں جا بجا مثالیں اور حکم اور نصیحت وار قصے یہ سب کچھ بیان کیا ہے، تاکہ یہ اسے پڑھ کر اور سن کر عبرت پکڑیں اور نصیحت اختیار کریں اور پنے قول اور فعل سے باز آئیں۔ لیکن جن کی طینت میں کفر ونفاق ہے وہ ان باتوں کو سن کر دین حق سے نفرت کرتے اور بھاگتے ہیں۔
Ayahs 17:42–43

قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلًا Open ayah 17:42 in the Quran reader

اور البتہ ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے بیان کردیا ہے تاکہ وہ سمجھیں اور اس سے انہیں نہیں بڑھتی مگر نفرت

سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:43 in the Quran reader

تم فرماؤ :" اگر اس کے ساتھ اور خدا ہوتے جیسا یہ کہتے ہیں تو اس وقت عرش کے مالک کی طرف انہوں نے کوئی رستہ (مقابلہ کے لئے) ڈھونڈ لیا ہوتا "

اس آیت میں مشرکوں کو جھٹلانے کے لئے فرمایا کہ تم خدا کے سوا بتوں کو جو پوجتے ہو یہ خیال تمہارا غلط ہے کیونکہ خدا کے سوا اور کوئی معبود ہوتا تو وہ ضرور کوئی راستہ ذوالعرش تک نکالتا یعنی وہ معبود اللہ کے ساتھ مقابلہ کے لئے آمادہ ہوتا۔ جس طرح دنیا میں ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ پر چڑھائی کرتا ہے اور اس کے ملک ومال پر قبضہ کرنے کو مستعد ہوتا ہے پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کی شرک کی باتوں سے پاک اور بہت دور ہے۔
Ayah 17:44

تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا Open ayah 17:44 in the Quran reader

اللہ اس سے پاک ہے اور برتر ہے ان کی باتوں سے بڑی برتری اسی کی

تمام جان دار اور بےجان سب اللہ کی تسبیح کرتے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ محبوب کائنات ہیں اس آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک کیا ہوگا۔ ساتوں آسمان اور زمین اور ان میں جو مجودات ہیں وہ سب اللہ کی تسبیح میں مشغول ہیں اور کوئی شے ایسی نہیں جو اس کی حمد وثنا میں مشغول نہ لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھ سکتے۔ جمادات میں بھی خدائے تعالیٰ نے ایک قسم کا علم رکھا ہے جس کو وہ خالق خوب جانتا ہے۔ روایت ہے کہ رسول مقبول ﷺ لکڑی کے ایک ستون سے تکیہ فرما کر خطبہ فرمایا کرتے تھے۔ جب منبر بنایا گیا اور آنحضرت ﷺ منبر پر جلوہ افروز ہوئے تو وہ ستون رو دیا۔ آنحضر ﷺ نے اس پر دست کرم پھیرا اور شفقت فرمائی اور تسکین دی۔ صحیح بخاری میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ ایک سفر میں پانی نہ تھا ایک برتن لائے جس میں تھوڑا سا پانی موجود تھا۔ آنحضرت ﷺ نے اپنا ہاتھ اس پانی میں ڈال دیا ادھر ہاتھ کا ڈالنا اور ادھر انگلیوں میں سے پانی کا جوش مارنا تھا جیسے چشمہ میں سے پانی نکلتا ہے۔ اس قدر پانی اس دست فیض رسا میں سے ان کو ملا کہ تمام جماعت نے وضو کرلیا اور پی بھی لیا۔ اور ہم کھانے کی تسبیح سنا کرتے تھے اور وہ کھایا جاتا تھا۔ پھر فرمایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ خداوند کریم کی ذات بردبار ہے کفار کی گستاخیوں کا ان کی موت تک تحمل ہوتا ہے اور اگر وہ توبہ کریں تو خداوند کریم مغفرت میں بھی قاصر نہیں۔
Ayahs 17:45–46

وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَكَ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًاۙ Open ayah 17:45 in the Quran reader

پاکی بیان کرتے ہیں ساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہیں اور ایسی کوئی چیز نہیں جو اس کی تعریف کے ساتھ پاکی بیان نہ کرتی ہو و لیکن تم لوگ ان کی پاکی بیان کرنے کو سمجھتے نہیں ہو، بیشک وہ بڑا بردبار بخشنے والا ہے

وَّ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا Open ayah 17:46 in the Quran reader

اور جب تم قرآن پڑھتے ہو تو ہم تمہارے اور ان کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ایک چھپا ہوا پردہ ڈال دیتے ہیں

آنحضرت ﷺ اور کفار کے درمیان فرشتہ کی آڑ تھی شان نزول : جس وقت اللہ کے رسول صلی اللہ قرآن شریف کی آیتیں مشرکین کے رو برو پڑھتے تھے اور ان کو ہدایت کرتے تھے تو وہ لوگ ٹھٹھے سے یہ کہتے تھے کہ جن باتوں کے ماننے کے لئے اے محمد ﷺ ! تم ہم سے کہتے ہو ان باتوں کے سننے سے ہمارے کان بہرے ہیں ، اور ان باتوں کے ماننے کے حساب سے ہم میں اور تم میں ایک آڑ ہے اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کی بات کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ وہ سچی بات ہے کہ بدبختی ازلی جو ان کے سر پر سوار ہے وہ ان کو قرآن شریف کی ہدایت کی باتیں سننے نہیں دیتی۔ تو گویا یہ لوگ حقیقت میں بہرے ہیں اور آنکھوں کے سامنے آثار قدرت الہی ان کو نظر نہیں آتے، اس لئے حق باتوں میں اور ان میں ایک طرح کی آڑ لکھا ہے۔ لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ اور کفار کے مابین میں اللہ کے حکم سے ایک فرشتہ بھی حائل رہا کرتا تھا۔ پھر آخر میں فرمایا کہ جب قرآن میں اللہ کی وحدانیت کا ذکر آتا ہے تو یہ مشرک لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے ہیں۔
Ayahs 17:47–49

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِهٖۤ اِذْ یَسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ وَ اِذْ هُمْ نَجْوٰۤى اِذْ یَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 17:47 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے دلوں پر غلاف ڈال دیئے ہیں تاکہ قرآن نہ سمجھ سکیں اور ان کے کانوں میں بھی بہرہ پن پیدا کردیا ہے، اور جب قرآن میں تم اپنے اکیلے پر روردگار کا ذکر کرتے ہو تو وہ پیٹھ پھیر کر نفرت کرتے بھاگتے ہیں۔

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا Open ayah 17:48 in the Quran reader

ہم خوب جانتے ہیں جب یہ لوگ تمہاری طرف کان لگاتے ہیں جس غرض سے یہ سنتے ہیں اور جب آپس میں مشورہ کرتے ہیں جب کہ یہ ظالم کہتے ہیں کہ تم پیروی نہیں کرتے مگر ایسے ایک مرد کی کہ جس پر جادو کا اثر ہو گیا

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:49 in the Quran reader

دیکھو یہ لوگ تمہارے لئے کیسی کیسی تشبیہیں دیتے ہیں، پس یہ لوگ گمراہ ہوگئے کہ رستہ نہیں پا سکتے

قرآن کی آیتوں پر کفار کا مسخرا پن شان نزول : ایک روز ابو سفیان اور ابو جہل اور چند قریش جمع ہوئے اور جس وقت آنحضرت ﷺ نماز میں قرآن شریف پڑھ رہے تھے اس وقت چھپ کر قرآن شریف سنا اور پھر آپس میں صلاح کر کے آنحضرت ﷺ کو جادو کیا ہوا ایک شخص اور حشر کی آیتوں کے خلاف عقل ہونے کا ذکر کرنے لگے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن شریف سن کر یہ لوگ جو آپس میں باتیں کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہیں۔ وقت مقررہ آنے پر مناسب مواخذہ ان سے کیا جاوے گا۔ چناچہ اس وعدہ کے موافق اس گروہ کے چند شخص جنگ بدر میں ہلاک ہوگئے اور ابو سفیان وغیرہ فتح مکہ پر مسلمان ہوگئے۔
Ayah 17:50

قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِیْدًاۙ Open ayah 17:50 in the Quran reader

تم فرماؤ :” خواہ تم پتھر ہوجاؤ یا لوہا ہو جاؤ

حشر کا بیان پھر فرمایا حشر کا انکار ان لوگوں نے جو کیا تھا اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ پہلی پیدائش سے حشر آسان ہے کہ مٹی کا پتلا تو کیا ہے۔ اگر یہ مر کر پتھر یا لوہا یا کوئی اور سخت چیز بھی ہوجاویں تو اللہ کی قدرت تو وہ ہے کہ اللہ ضرور ان کو دوبارہ زندہ کرے گا۔
Ayah 17:51

اَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَكْبُرُ فِیْ صُدُوْرِكُمْ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَا١ؕ قُلِ الَّذِیْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ۚ فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْكَ رُءُوْسَهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ١ؕ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَرِیْبًا Open ayah 17:51 in the Quran reader

یا کوئی اور چیز جو تمہارے خیال میں بڑی ہو ( تب بھی زندہ کئے جاؤ گے) تو اب کہیں گے کہ ہم کو کون پھر پیدا کرے گا “۔ تم فرماؤ :” وہی جس نے تم کو اول بار پیدا کیا ہے “ پھر تو تمہاری طرف (مسخرا پن سے) سر ہلا ہلا کر یہ کہیں گے کہ وہ تب ہوگا ؟ تم فرماؤ :” شاید وہ وقت بہت ہی قریب ہو

یہاں فرمایا کہ دوبارہ زندہ ہونے کی تاکید سن کر یہ لوگ تعجب سے پوچھیں گے کہ آخر ہم کو دوبارہ کون زندہ کر دے گا تو اے رسول اللہ کے ان سے کہہ دو کہ جس نے پہلے تم کو نیست سے ہست کیا تھا وہی تم کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ پھر فرمایا اس جواب کو سن کر یہ لوگ مسخرا پن سے گردنیں مٹکا کر یہ کہیں گے آخر اس وعدہ کا ظہور کب ہوگا۔ ان سے کہہ دیا جاوے کہ گھبراؤ نہیں شاید اس کا ظہور بھی جلد ہی ہونے والا ہے۔
Ayah 17:52

یَوْمَ یَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَ تَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 17:52 in the Quran reader

جس دن وہ تم کو بلائے گا پس تم اس کی تعریف کرتے ہوئے حکم کی تعمیل کرو گے اور گمان کرو گے کہ (دونوں زندگیوں کے درمیان) بہت ہی کم مدت ٹھہرے “

پھر فرمایا اب تو یہ لوگ مسخرا پن کی باتیں کرتے ہیں لیکن دوسرے صور سے پہلے جب ایک مینہ برس کی ان کے جسم تیار ہوجاویں گے اور ان جسموں میں روحیں پھونک دی جاویں گی اور ان کو میدان محشر میں حاضر ہونے کا حکم ہوگا تو اللہ کی قدرت کو دیکھ کر بےساختہ اللہ کی تعریف ان کی زبان پر آجائے گی، اور حساب کتاب کے بعد جب بیشمار مدت کے لئے ان کو دوزخ میں جھونک دیا جاوے گا تو اس بیشمار مدت کے مقابلہ میں دنیا میں رہنے کی مدت ان کو بلکل کم نظر آوے گی۔
Ayah 17:53

وَ قُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 17:53 in the Quran reader

اور میرے (مسلمان) بندوں سے فرماؤ :”(کفار سے) وہ بات کہیں جو بہتر ہو “ بیشک شیطان ان کے آپس میں جھگڑا ڈال دیتا ہے، بیشک انسان کا کھلا دشمن ہے

نرمی سے کلام کرنے کا حکم اس آیت میں اللہ پاک نے اپنے رسول مقبول ﷺ کی معرفت اپنے بندوں کو حکم فرمایا کہ تم اپنا برتاؤ اچھا رکھو، لوگوں سے نرمی اور آہستگی سے کلام کرو۔ سخت کلامی سے شیطان تمہارے بیچ میں کود پڑتا ہے اور جھگڑا ڈال دیتا ہے کیونکہ شیطان حضرت آدم (علیہ السلام) اور بنی آدم کا صریح دشمن ہے۔
Ayah 17:54

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ یَّشَاْ یُعَذِّبْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 17:54 in the Quran reader

تمہارا پروردگار تمہیں خوب جانتا ہے اگر وہ چاہے تو تم پر رحم کرے یا اگر چاہے تو ت میں عذاب کرے اور ہم نے تم کو ان پر نگہبان بنا کر نہ بھیجا

اس آیت میں مشرکوں سے یہ خطاب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے کہ اگر ہم چاہیں گے تو عذاب دینا تم پر سے ٹال دیں گے اور اگر چاہیں گے تو دنیا میں بھی عذاب کریں گے اور اے محمد ﷺ ! تم کافروں کے ذمہ دار نہیں۔ ہم نے تم کو ضامن نہیں کیا “۔
Ayah 17:55

وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ لَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰى بَعْضٍ وَّ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا Open ayah 17:55 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے، اور بیشک ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت دی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی

زبور شریف کا ذکر : اس آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر بات کی مصلحت اور حکمت خوب جانتا ہے۔ آسمان اور زمین میں کوئی شے اس سے مخفی نہیں وہ مختار ہے جس کو چاہے فضیلت دے اور خود انبیاء کو ہم نے ایک دوسرے پر فضیلت دی۔ اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو زبور عنایت کی داؤد علیہ اسلام اور زبور شریف کے ذکر میں یہ بات جتلانی مقصود تھی کہ یہود اس بات کو سمجھ لیں کہ یہ وہی نبی ہیں جس کی داؤد (علیہ السلام) نے خبر دی اور زبور شریف میں موجود ہے۔ زبور میں ڈیڑھ سو سورتیں ہیں اس میں صرف خدا کی ثنا اور نصیحت اور آنحضرت صلی اللہ (علیہ السلام) کی صفت اور امت محمدی کی فضیلت مذکور ہے۔
Ayah 17:56

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا یَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَ لَا تَحْوِیْلًا Open ayah 17:56 in the Quran reader

تم فرماؤ کہ جن کو تم خدا کے سوا (معبود) گمان کرتے ہو ذرا ان کو پکارو تو سہی، وہ نہ تمہاری تکلیف دور کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ اس کے بدل ڈالنے کا

مشرکین کے ایک گروہ کا شرمندہ کرنا شان نزول : مشرکوں میں سے کچھ لوگوں نے جنات کے ایک گروہ کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ اتفاق سے جنات کا وہ گروہ مسلمان ہوگیا ان مشرکوں کے گروہ کے شرمندہ کرنے کو یہ آیت نازل فرمائی گئی جس کے معنی آیت کے یہ ہیں کہ اے محبوب ﷺ ان مشرکوں سے یہ کہہ دو کہ اللہ کے سوا جن کو تم اپنا معبود ٹھہراتے ہو اگرچہ پہلے بھی ان ان تمارے معبودوں کو کسی نیک و بدکار اللہ کے کارخانہ میں اختیار نہ تھا۔ اب مدد مانگو ہم بھی دیکھیں کیا مدد دیتے ہیں۔ وہ مدد کیا خاک کریں گے انہیں کچھ قدرت تو ہے ہی نہیں نہ تکلیف کو دور کرسکتے ہیں نہ ایک جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ بھیج سکتے ہیں۔
Ayah 17:57

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ١ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا Open ayah 17:57 in the Quran reader

یہ وہ مقبول بندے ہیں جن کو کافر لوگ پوجتے ہیں وہ خود ہی اپنے پروردگار کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں کہ ان میں کون زیادہ مقرب ہے اور اس کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں، بیشک تمہارے پروردگار کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے

یہاں فرمایا کہ کفار جن کو پوجتے تھے وہ تو ایمان لے آئے اور یہ کافر اپنے کفر پر رہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے معبود باطل جس قدر ہیں وہ سب معبود برحق کے محتاج ہیں ملائکہ اور جنوں کی یہ کیفیت ہے کہ اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں اور عذاب الہٰی سے ڈرتے ہیں۔ بیشک عذاب الہٰی ڈرنے کے قابل ہے۔
Ayah 17:58

وَ اِنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 17:58 in the Quran reader

اور (ایسی نافرمانوں کی) کوئی بستی نہیں مگر یہ کہ ہم اسے قیامت سے پہلے نیست کردیں گے، یا اس کو سخت عذاب دیں گے، یہ وعدہ کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں لکھا ہوا ہے

مشرکین مکہ اپنے اعمال کی خرابی اور اپنے اعتقاد کی مذمت سن کر یوں کہا کرتے تھے کہ : اچھا اگر تمہارا مذہب سچا ہے تو پھر خدا ہمارے شہر پر بلا کیوں نہیں بھیجتا۔ اس کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے کہ کوئی اسی بستی ہیں جو سلامت رہے۔ قیامت سے پہلے سب ہلاک ہوجاویں گے، یا یہ بات ہوگی کہ قیامت سے پہلے ہم کفار کو سخت عذاب میں مبتلا کردیں گے اور یہ سب نتیجہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے جو وقت پر ہوگا۔ کسی طرح ٹل نہیں سکتا۔
Ayah 17:59

وَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ١ؕ وَ اٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا١ؕ وَ مَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفًا Open ayah 17:59 in the Quran reader

اور (جو نشانیاں منکر طلب کرتے ہیں) ایسی نشانیوں کے بھیجنے سے ہم یوں ہی باز رہے کہ پہلے لوگ ایسی ہی نشانیاں جھٹلا چکے ہیں، اور ثمود کو ہم نے اونٹنی دی آنکھیں کھولنے کو، پس انہوں نے اس پر ظلم کیا ہم ایسی نشانیاں صرف ڈرانے کے لئے بھیجا کرتے ہیں

مشرکین اپنی خواہش کے مطابق معجزات طلب کرتے تھے شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ مکہ کے مشرک جواب سے عاجز آکر یہ بھی کہا کرتے تھے کہ اگر آپ نبی ہیں تو کوہ صفا کو سونے کا بنا دیں اور مکہ کے پہاڑوں کو ہٹا دیں تاکہ ہم کھیتی کیا کریں اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ ہم کو یہ کرنا مشکل نہیں۔ نہ کرنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ پہلی امتوں نے بھی انبیاء (علیہ السلام) سے معجزات طلب کئے تھے اور پہلے وعدہ کرلیا تھا کہ اگر ہماری خواہش کے مطابق معجزہ لاوے گا تو ہم ایمان لاویں گے جب وہ معجزہ ظاہر ہوا تو ایمان نہ لائے اور عذاب الہٰی میں گرفتار ہو کر ہلاک ہوئے۔ کیونکہ عادت الہٰی جاری ہے کہ جو لوگ ضد کرکے معجزات طلب کرتے ہیں اور پھر معجزات دیکھ کر ایمان نہیں لاتے تو ہلاک کئے جاتے ہیں۔ چناچہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم نے جس کا نام ثمود تھا اونٹنی کا سوال کیا۔ ان کے کہنے کے موافق اونٹنی پیدا ہوئی۔ باوجود یہ کہ ایک کھلی دلیل نبوت تھی مگر پھر بھی وہ لوگ ایمان نہ لائے بلکہ اس کی کونچیں کاٹیں۔ پس وہ سب ہلاک ہوئے اور اس قسم کے معجزات خطرناک ہوتے ہیں اور انکار کی صورت میں ہلاکت کا موجب اور ہم کو اہل مکہ کا ہلاک کرنا مقصود نہیں اس لئے ان کی یہ خواہش پوری نہیں کی جاتی۔
Ayahs 17:60–63

وَ اِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْیَا الَّتِیْۤ اَرَیْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِی الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ نُخَوِّفُهُمْ١ۙ فَمَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا طُغْیَانًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 17:60 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کرو جب کہ ہم نے تم سے فرمایا کہ (تم کسی سے نہ ڈرو) سب لوگ تمہارے رب کے قابو میں ہیں، اور ہم نے نہ کیا وہ دکھاوا جو تم کو دکھایا تھا (شب معراج) مگر لوگوں کی آزمائش کو (کہ کون تصدیق کرتا ہے) اور وہ درخت ( بھی زقوم) جس پر لعنت قرآن میں ہے اور ہم انہیں (طرح طرح سے) خوف دلاتے ہیں، پس اس سے انہیں نہیں بڑھتی مگر سرکشی

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًاۚ Open ayah 17:61 in the Quran reader

اور یاد کرو جبکہ ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو پس سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے (نہ کیا اور) کہا کہ کیا میں ایسے کو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے بنایا ہے

قَالَ اَرَءَیْتَكَ هٰذَا الَّذِیْ كَرَّمْتَ عَلَیَّ١٘ لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّیَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:62 in the Quran reader

پھر شیطان بولا :” دیکھ تو جو تو نے اس (حقیر) ہستی کو مجھ پر معزز کیا اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں بجز تھوڑے لوگوں کے اس کی تمام نسل کو ضرور پیس ڈالوں گا “

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا Open ayah 17:63 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا :” دور ہو، پس جو کوئی ان میں سے تیری پیروی کرے گا تو بیشک اس کے لئے اور تیرے لئے سب کی سزا جہنم ہے بھر پور سزا

معراج کا ذکر شان نزول : اس کا حاصل یہ ہے کہ جس رات آنحضرت ﷺ کو معراج ہوئی۔ اس کی صبح کو آپ نے لوگوں سے معراج کا حال بیان کیا تاکہ لوگ ان کو سچا نبی جان کر ایمان لاویں۔ مشرکوں نے بیت المقدس کے پتے آپ سے پوچھے اور کئی قافلے عرب کے شام کو گئے ہوئے تھے ان قافلوں کا حال بھی پوچھا۔ آپ نے سب نشانیاں اور قافلوں کا سب حال بیان کردیا، مگر مشرک لوگ آپ کے جھٹلانے سے باز نہیں آئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ یہ معراج اور دوزخ میں زقوم کا درخت لوگوں کے آزمانے کی نشانیاں ہیں۔ بہت لوگ غیب کی باتوں پر ایمان لا کر نجات پاویں گے اور بہت لوگ شیطان کی طرح اللہ کی حکمت میں اپنا وہم و قیاس دوڑا کر مردود ہوجاویں گے۔ پھر فرمایا دنیا کے سب اچھے برے لوگ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ اس لئے کوئی مخالف تم کو اے محبوب ﷺ ! کچھ ضرر نہیں پہنچا سکتا۔ زبان سے جھٹلاتے ہیں تو ان کو جھٹلانے دو ، تم اپنا کام بےخوف وخطر کرواللہ کی حکمت میں وہم و قیاس لڑانا شیطانی عادت ہے اسی مشابہت کی غرض سے اس آیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے شیطان کی نافرمانی کے قصہ کا ذکر فرمایا ہے۔ یہ قصہ قرآن میں سات جگہ آیا ہے : (1) اول سورة بقرہ میں۔ (2) سورة اعراف میں۔ (3) پھر سورة حجر میں۔ (4) پھر سورة بنی اسرائیل میں (5) پھر سورة کہف (69 سورة طٰہ اور (7) سورة ص میں۔ حاصل اس قصہ کا وہی ہے جو پہلے آچکا ہے۔
Ayah 17:64

وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَ اَجْلِبْ عَلَیْهِمْ بِخَیْلِكَ وَ رَجِلِكَ وَ شَارِكْهُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 17:64 in the Quran reader

اور ان میں سے جس جس پر تیرا قابو چلے اسے اپنی آواز سے بہکا اور ان پر اپنے لشکر کے سواروں اور پیادوں سے حملہ کر اور ان کے مال اور اولاد میں شریک ہوجا اور ان سے (طرح طرح کی باتوں کے) وعدے کر “ اور (ان لوگوں کو خبر نہیں کہ) شیطان انہیں وعدہ نہیں دیتا مگر فریب سے

ابلیس کی نافرمانی کا ذکر اس آیت میں فرمایا کہ جا جو کچھ تجھ سے ہو سکے کرلے یعنی یہ خطاب شیطان سے ہے۔ جو شخص تیری مدد کرے گا اس کو اور تجھ کو پوری سزا ملے گی اور اپنی آواز سے جس کو تو بہکاوے گا اور دل میں برے خیالات پیدا کرے گا، اور جس قدر شہوت انگیز آوازیں ہیں جیسے باجا اور عورت کے زیور کی جنھکار یہ سب شیطانی آواز میں داخل ہیں، اور اپنے سوار اور پیادوں سمیت ان پر دھاوا کر یعنی مکروفریب کر اور انسان کو برائی کی ترغیب دینے والے سب شیطان کے لشکر میں داخل ہیں اور مال واولاد میں ان کا شریک بن جا، مال کی شراکت سے مراد گناہ اور فضول خرچی اور اچھی باتوں صرف کرنے سے روکنا خلاف شریعت مال لینا بھی سب شرکت شیطانی ہے۔ اولاد کی شرکت یہ ہے کہ ناجائز طور پر اولاد حاصل کی جاوے یعنی زنا۔ اولاد کے برے نام رکھنے یا سر پر چوٹی رکھنی وغیرہ۔ پھر فرمایا کہ ان سے جھوٹے جھوٹے وعدے کر جیسے بتوں کی شفاعت، یا توبہ میں تاخیر یا قیامت اور بہشت اور دوزخ کا انکار، لمبی چوڑی آوزوئیں دل میں پیدا ہونی، دنیا پر رغبت، آخرت سے نفرت دلائی کہ جو کچھ مزہ ہے یہیں ہے کیسی آخرت۔ اور شیطان کا وعدہ جھوٹا ہی ہوتا ہے۔
Ayah 17:65

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ وَكِیْلًا Open ayah 17:65 in the Quran reader

(اللہ نے فرمایا) :” بیشک جو میرے (خالص) بندے ہیں ان پر تیرا کچھ قابو نہیں، اور تیرا پروردگار کام بنانے کو کافی ہے

اور جو میرے خاص بندے ہیں جن کو ہم نے جنت کے لئے پیدا کیا ہے۔ ان پر تیرا قابو نہیں چلے گا اور اللہ تعالیٰ حفاظت کرنے والا ہے اپنے بندوں کی حفاظت کے لئے کافی ہے۔
Ayah 17:66

رَبُّكُمُ الَّذِیْ یُزْجِیْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِی الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 17:66 in the Quran reader

تمہارا پروردگار وہ ہے کہ جو چلاتا ہے تمہارے لئے کشتی کو دریا میں تاکہ تم اس کے فضل سے روزی تلاش کرو، بیشک وہ تم پر مہربان ہے

توحید کا بیان اس آیت سے دلائل توحید شروع ہوتے ہیں کہ تمہارا رب وہ ہے کہ تم مشرک ہو اور وہ تمہاری کشتیوں کو بڑے بڑے دریاؤں میں چلاتا ہے ہوا کو موافق بنا دیتا ہے۔ اور تم ان کشتیوں اور ان جہازوں میں بیٹھ کر اپنی روزی کی جستجو میں تجارت کے خیال سے ایک ملک سے دوسرے ملک میں جاتے ہو، وہ کیسا تم پر مہربان ہے کہ تمہاری آسائش کے لئے یہ سامان بنا رکھا ہے۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے بندوں کو ترغیب دی ہے کہ وہ ہر کام میں خدا پر ہی بھروسہ کریں اسی کو کل امور میں کام بنانے والا سمجھیں اور خاص اسی کی بندگی کریں۔
Ayah 17:67

وَ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا Open ayah 17:67 in the Quran reader

اور جب دریا میں تم پر کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس وقت وہ تمام (جھوٹے معبود) تم سے تم ہوجاتے ہیں جنہیں تم پکارتے ہو سوائے اللہ کے پھر جب وہ تم کو (مصیبت سے نجات دے کر) خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو منہ پھیر لیتے ہو، اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں انسان کی ناشکری کا حال بیان فرمایا کہ جب انسان کو کسی مصیبت سے پالا پڑتا ہے تو فقط خدا ہی یاد آتا اور جب وہ مصیبت ٹل جاتی ہے تو پھر وہی پہلی نافرمانیاں کرنے لگتا ہے اور اسے یاد بھی نہیں رہتا کہ اس پر کوئی وقت آیا اور اس نے خدا کو پکار کر اس سے مدد چاہی تھی۔ غرضیکہ یہ لوگ پر لے درجے کے ناشکرے ہیں۔ یہ بھی فرمایا کہ جب تمہاری کشتیاں دریا میں چلتی ہیں اور پھر یک بیک تیز ہوا سے تہ وبالا ہونے لگتی ہیں تو صرف خدا ہی کو لوگ یاد کرنے لگتے ہیں۔ اس وقت اور کسی اپنے معبود کو نہیں پکارتے اور اللہ تعالیٰ تمہاری منت وعاجزی پر رحم کھا کر کشتیاں پار لگا دیتا ہے۔ پھر تم خدا کو بھول جاتے ہو۔
Ayah 17:68

اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ یُرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:68 in the Quran reader

کیا پھر تم اس سے بےخوف ہوئے کہ وہ خشکی ہی کا کوئی حصہ تمہارے ساتھ دھنسا دے یا تم پر پتھروں کی آندھی دے، پھر کسی کو اپنا حمایتی نہ پاؤ گے

اس آیت میں فرمایا کہ لوگ کیا بےخوف ہوگئے ہیں، انہیں اس بات کا ڈر نہیں ہے کہ خدا چاہے تو دریا سے نجات دے کر خشکی میں بھی زمین کے اندر انسان کو دھنسا دے، جیسا قارون کو دھنسا دیا تھا۔ مقصد یہ ہے کہ خشکی وتری سب اس تحت قدرت میں ہے اور اگر چاہے تو آسمان سے سنگساری اور برف باری کرے کہ لوگ اپنی اپنی جگہ مر کر رہ جاویں اور اس مصیبت اور عذاب سے بچانے والا انہیں کوئی میسر نہ آوے۔
Ayah 17:69

اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ یُّعِیْدَكُمْ فِیْهِ تَارَةً اُخْرٰى فَیُرْسِلَ عَلَیْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّیْحِ فَیُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ١ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَیْنَا بِهٖ تَبِیْعًا Open ayah 17:69 in the Quran reader

کیا تم اس سے بےخوف ہوئے کہ خدا تم کو پھر دریا میں دوبارہ لے جائے تو تم پر کشتی توڑنے والی ہوا (کا سخت طوفان) بھیج دے، پھر تم کو تمہارے کفر کے سبب سے غرق کر دے، پھر اپنے لئے کوئی ایسا نہ پاؤ کہ اس پر ہمارا پیچھا کرے

قریش کو دوسری دھمکی یہ دی کہ اگر ان باتوں سے بھی تم نڈر ہو، تو کیا اس کا بھی تم کو خوف نہیں رہا کہ پھر کبھی جب تم دریا میں کشتیوں پر سوار ہو کر جاؤ تو تیز ہوا ایسی چلے کہ تمہاری کشتیوں کا تختہ الگ ہوجاوے، اور تمہاری ناشکری اور کفران نعمت کے سبب تم ڈوب جاؤ، تو کوئی حمایت کرنے والا تمہاری طرف سے نہ کھڑا ہو، کیونکہ خداوند کریم اکیلا دونوں جہان میں جس طرح چاہتا ہے کرتا ہے اس سے کوئی شخص کسی بات کا سوال نہیں کرسکتا۔
Ayah 17:70

وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا۠ Open ayah 17:70 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی اور خشکی اور دریا میں (یعنی جانور اور کشتی پر) ان کو سواری دی اور ان کو ستھری چیزیں کھانے کو دیں اور ہم نے ان کو بزرگی دی اپنی بہت سی مخلوق پر

اللہ پاک نے اس آیت میں اس احسان کا ذکر فرمایا جو انسان کو اپنی اور دوسری مخلوق پر فضیلت دی ہے کہ خشکی میں طرح طرح کی سواریاں اسی انسان کے واسطے بنائی ہیں، دوسری مخلوق اس سے بےبہرہ ہے۔ اور اس طرح دریا میں بھی اس کے واسطے سواری کا انتظام کیا کہ کشتی پر بیٹھ کر انسان دریا کا سفر کرتا ہے دوسری کوئی مخلوق ایسی نہیں ہے جو دریا کا سفر اس طرح کرتی ہو۔ یہ تو سواری کا حال ہے اب روزی دیکھئے کہ انسان کے واسطے کیسی صاف ستھری بنائی ہے۔ اور عمدہ عمدہ چیزیں کھانے کے لئے پیدا کی ہیں ان سب امور پر نظر کرکے دیکھئے تو خدا نے انسان کو اپنی بہت سی مخلوق پر ایک بہت بڑی فضیلت بخشی ہے۔
Ayah 17:71

یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْ١ۚ فَمَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ فَاُولٰٓئِكَ یَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 17:71 in the Quran reader

(پوری فضیلت اس روز ظاہر ہوگی) جس دن ہم ہر ایک جماعت کو اس کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے، پھر جن کو ان کی کتاب (یعنی نامہ اعمال) دائیں ہاتھ میں دی جاوے گی تو وہ اپنی کتاب (یعنی نامہ اعمال) کو خوشی سے پڑھیں گے اور ان کا دھاگے کے برابر حق نہ دبایا جائے گا

اعمال نامے کا ذکر اس آیت کی تفسیر آنحضرت ﷺ نے فرمائی کہ قیامت کے دن بعضے لوگوں کو بلا کر ان کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جاوے گا جس سے ایسے شخص کے منہ پر ایک طرح کا نور آجاوے گا، اس شخص کے سر پر ایک تاج رکھ دیا جاوے گا۔ جس جماعت میں سے یہ شخص بلایا گیا تھا اس جماعت میں واپس آن کر باقی کے لوگوں کو خوشخبری دیوے گا کہ ہماری ساری جماعت کے لوگوں کے ساتھ یہی معاملہ پیش آوے گا اور جماعت کے لوگ اس کو نجات کی مبارک باد دیویں گے۔ اور بعضے لوگوں کو ایک جماعت میں سے ہر ایک شخص کو بلا کر بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جاوے گا جس سے اس شخص کا منہ کالا ہوجاوے گا۔ اور وہ شخص جس جماعت میں سے گیا تھا اس جماعت میں آنا چاہے گا تو باقی کے لوگ اس کو جھڑکیں گے کہ ہماری جماعت میں مت آؤ وہ جماعت والوں کو جھڑکے گا اور کہے گا : ” جو میرا حال ہے وہی ساری جماعت کا حال ہونے والا ہے “ پھر فرمایا کہ ظلم اللہ پاک نے اپنی ذات پر حرام ٹھہرا لیا ہے اس واسطے قیامت کے دن اعمال ناموں کے موافق جزا وسزا ہوگی کسی پر کچھ ظلم نہ ہوگا۔
Ayah 17:72

وَ مَنْ كَانَ فِیْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 17:72 in the Quran reader

اور جو کوئی دنیا میں اندھا بنا رہا تو وہ آخرت میں بھی اندھا ہے اور زیادہ دور پڑا راہ سے

بائیں ہاتھ میں جن کے نامہ اعمال دیئے جاویں گے ان کے حق میں یہ آیت ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں راہ حق سے دور رہے اور اچھے برے میں انہوں نے تمیز نہیں کی۔ گویا اندھے تھے کہ خدا کی ظاہر ظاہر قدرت کو بھی دیکھ کر ایمان نہیں لائے۔ ایسا شخص آخرت میں اندھا ہوگا بلکہ ور بھی گمراہ ہوگا کیونکہ اگر وہاں غور وفکر کرنے پر ایمان کا ارادہ کرے گا تو کچھ حاصل نہ ہوگا۔
Ayah 17:73

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَهٗ١ۖۗ وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِیْلًا Open ayah 17:73 in the Quran reader

اور بیشک قریب تھا کہ یہ (کافر) تمہیں کچھ لغزش دیتے ہماری وحی سے جو ہم نے تم کو بھیجی، کہ تم ہماری طرف (اس کے سوا) کچھ اور نسبت کردو اور اس وقت تو وہ تم کو اپنا گہرا دوست بنا لیتے

مشرکین مکہ کی شرارت شان نزول : کفار نے آنحضرت ﷺ کو اپنی خواہش پر مجبور کرنا چاہا تھا کہ آپ ہمارے بتوں کی مذمت نہ کریں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی یہ کفار ہمارے احکام میں تم سے سستی کرانا چاہتے تھے۔ اور ان کا یہ مقصود تھا کہ تم وحی الہٰی کے سوا کچھ اور جھوٹ باندھو اور پھر وہ تمہیں اپنا دوست بنا لیں، لیکن اللہ کے کارخانہ میں ہر کام کا وقت لوح محفوظ میں لکھا جا چکا ہے۔ وقت مقررہ کے آنے تک یہ مشرک اپنی خواہش زبان پر لاتے ہیں۔ وقت مقررہ کے آنے جانے پر تمہارے ہی ہاتھ سے اللہ تعالیٰ ان بتوں کی سب عزت و توقیر خاک میں ملا دے گا اور ان مشرکوں سے ان بتوں کی کچھ حمایت نہ ہوگی۔
Ayahs 17:74–75

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَیْهِمْ شَیْئًا قَلِیْلًاۗۙ Open ayah 17:74 in the Quran reader

اور اگر ہم تمہیں ثابت قدم نہ رکھتے تو قریب تھا کہ ان کی طرف کچھ تھوڑا سا جھکتے

اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَیٰوةِ وَ ضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَیْنَا نَصِیْرًا Open ayah 17:75 in the Quran reader

اس وقت ہم تم کو دوگنا مزہ زندگی میں اور دوگنا مرنے میں چکھاتے پھر تم ہمارے مقابل اپنا کوئی مدد گار نہ پاتے

کفار کے مکر سے بچنے کا ذکر اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ اگر ہم تم کو ثابت قدم نہ رکھتے تو تم میل (رغبت میلان) کیا چاہتے تھے، مگر ہماری عصمت نے تمہاری مدد کی اور میلان کے قریب ہونے سے بھی تم کو روک لیا۔ یعنی میلان کے قریب بھی نہیں ہوئے اگر تم ان کے دام میں آجاتے تو دنیا اور آخرت میں تم کو دو چند عذاب ہوتا ہمارے مقابلہ میں تمہاری کوئی مدد نہ کرسکتا۔ مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ تو معصوم تھے ان کو میلان کا کیا خوف تھا۔ اس ذکر سے یہاں ان کی امت کا ڈرنا مقصود ہے تاکہ مشرکوں کی باتوں میں نہ آجائیں۔
Ayah 17:76

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِیُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَ اِذًا لَّا یَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:76 in the Quran reader

اور بیشک قریب تھا کہ وہ اس زمین (عرب) سے تمہارے قدم اکھاڑ دیتے تاکہ تمہیں اس سے باہر کردیں، پھر تو وہ بھی تمہارے بعد بہت ہی کم ٹھہرنے پاتے

اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ مشرکین مکہ یہ چاہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو مکہ کی زمین سے فریب دے کر نکال دیں اگر وہ ایسا کرتے تو ان کو کیا فائدہ تھا۔ ان کا قیام کیا ہمیشہ کے لئے ہے وہ بھی تمہارے بعد ہلاک ہی ہوجائیں گے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ ہجرت کے بعد تھوڑے دنوں میں بدر کی لڑائی پیش آئی اور کفار ہلاک ہوئے۔
Ayah 17:77

سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیْلًا۠ Open ayah 17:77 in the Quran reader

ان کے دستور کے موافق جو ہم نے تم سے پہلے اپنے رسول بھیجے اور تم ہمارے قانون میں کچھ بھی فرق نہ پاؤ گے

یہاں فرمایا کہ ہمارا ہمیشہ سے یہی قاعدہ ہے کہ نبی نکالنے کے بعد قوم کے لوگوں کو امن سے نہیں رکھتے ان کو بھی جلاوطنی نصیب ہوتی ہے۔ جو انبیاء تم سے پہلے آئے ہیں ان کی بھی یہی کیفیت ہوئی کہ جب ان کی قوم نے ان کو نکالا تو وہ خود بھی وہاں سے نکالے گئے۔ اور اللہ کے انتظام میں جو دستور ہے اس کو کوئی بدل نہیں سکتا۔
Ayah 17:78

اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّیْلِ وَ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ١ؕ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا Open ayah 17:78 in the Quran reader

نماز قائم رکھو سورج ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک (یعنی ظہر، عصر، مغرب اور عشاء) اور صبح کا قرآن (یعنی صبح کی نماز میں قرأت) پڑھا کرو، بیشک صبح کے قرآن میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں

پانچوں نماز کے فضائل اور تہجد کا ذکر اس آیت میں پانچوں نمازوں کا ذکر ہے۔ سورج ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک میں چار نمازیں ہیں، اور صبح کی نماز کا الگ ذکر ہے اس واسطے کہ وہ فرشتے جو لوگوں کے نامہ اعمال لکنے اور آدمی کی حفاظت کرنے کے لئے مقرر ہی، ان کی چوکی عصر کے وقت اور صبح کے وقت بدلتی رہتی ہے اور عصر اور صبح دونوں نمازوں کے وقت دونوں چوکیوں کے فرشتے ایک جگہ جمع ہوجاتے ہیں۔ لیکن صبح کی نماز کے وقت قرأت سے قرآن شریف پڑھا جاتا ہے اور اس کو بڑے شوق سے دونوں چوکیوں کے فرشتے سنتے ہیں اس لئے یہ فرمایا کہ صبح کی نماز کی قرأت سننے کو فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔
Ayah 17:79

وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا Open ayah 17:79 in the Quran reader

اور رات کے کچھ حصہ میں تہجد پڑھا کرو یہ خاص تمہارے لئے زیادہ ہے۔ قریب ہے کہ تمہیں تمہارا پروردگار ایسی جگہ کھڑا کرے جو مقام محمود ہے (یعنی مقام شفاعت)

اس آیت میں تہجد کا ذکر فرمایا کہ نماز تہجد آنحضرت ﷺ پر فرض ہے امت کے لئے سنت ہے جودو دو رکعت سے پڑھی جائیں۔ تعداد کم سے کم دو رکعت اور زیادہ بارہ رکعت ہیں شب کے تین حصے کریں تو دو تہائی ہوئے اور ایک حصہ درمیانی تہجد پڑھا افضل ہے۔ اگر چاہے کہ آدمی رات عبادت کرے تو نصف آخر رات افضل ہے۔ مسئلہ : جو شخص نماز تہجد کا عادی ہو اس کے لئے تہجد ترک کرنا مکروہ ہے۔ ہر رات کو پچھلی رات سے صبح تک اللہ تعالیٰ کا اول آسمان پر نزول فرمانا اور قبول دعا اور مغفرت کا وعدہ فرمانا ثابت ہے۔ آنحضرت ﷺ کی شفاعت کا ذکر قیامت کے دن حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک سب انبیاء کے پاس لوگ شفاعت کی غرض سے جاویں گے اور سب انبیاء (علیہ السلام) خدا کے غصہ سے ڈر کر شفاعت سے انکار کریں گے، اور کہیں :” آج وہ دن ہے کہ کسی دوسرے کی شفاعت تو درکنار ہمیں اپنی ہی جان کا ندیشہ ہے “ پھر جب وہ لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس آویں گے تو آپ شفاعت کا ذمہ لیویں گے اور مقام محمود میں جا کر سجدہ کریں گے، اور شفاعت کی التجا کریں گے اللہ تعالیٰ آپ کی التجا کو قبول کرے گا اور میدان محشر سے لوگوں کو چھٹکارا ہوگا۔
Ayah 17:80

وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا Open ayah 17:80 in the Quran reader

اور یوں عرض کرو کہ اے میرے پروردگار ! مجھ کو سچی طرح داخل کر اور مجھے سچی طرح سے باہر لے جا اور مجھے اپنی طرف سے ایک مدد دینے والی قوت عطا کر

حضور ﷺ کو دعا کا حکم شان نزول : جب کفار مکہ نے آنحضرت ﷺ کے تنگ کرنے کا مشورہ کیا اور چاہا کہ ان کو مکہ سے نکال دیں یا قید کریں تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اس طرح دعا کریں۔ ” یا الہٰی مجھ کو مکہ سے سلامتی کے ساتھ نکال اور مدینہ میں غنیمت کے ساتھ داخل کر اور اپنے ہاں کی قوت سے میری مدد کر “۔