18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 18:39–44

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ١ۚ اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًاۚ Open ayah 18:39 in the Quran reader

اور جس وقت تو اپنے باغ میں پہنچا تھا تو تو نے یوں کیوں نہ کہا کہ جو اللہ کو منظور ہوتا ہے وہی ہوتا ہے۔ بغیر خدا کی مشیت کے (کسی میں) کوئی قوت نہیں، اگر تو مجھ کو مال اور اولاد میں اپنے سے کم دیکھتا ہے

فَعَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یُّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ وَ یُرْسِلَ عَلَیْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًاۙ Open ayah 18:40 in the Quran reader

تو امید ہے کہ مجھے میرا پروردگار تیرے باغ سے بہتر دیوے اور اس تیرے باغ پر کوئی (تقدیری) آفت آسمان سے بھیج دے جس وہ باغ (دفعتاً ) ایک صاف میدان ہو کر رہ جائے

اَوْ یُصْبِحَ مَآؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ لَهٗ طَلَبًا Open ayah 18:41 in the Quran reader

یا اس کا پانی ( زمین میں دھنس کر) خشک ہوجائے تو پھر اس کو ہرگز نہ پاسکے

وَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ كَفَّیْهِ عَلٰى مَاۤ اَنْفَقَ فِیْهَا وَ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:42 in the Quran reader

اور اس شخص کے میوہ جات کو آفت نے آگھیرا پس صبح اٹھا تو وہ دونوں ہاتھ حست سے ملتا رہ گیا اس پر کہ بہت کچھ جو اس نے باغ کے لگانے میں خرچ کیا تھا اور وہ باغ اپنی ٹیٹوں پر گرا ہوا تھا اور وہ کہنے لگا :” کیا خوب ہوتا کہ میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا “

وَ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ مَا كَانَ مُنْتَصِرًاؕ Open ayah 18:43 in the Quran reader

اور اس کے پاس کوئی جماعت ایسی نہ تھی کہ جو خدا کے سوا اس کی مدد کرتی اور نہ وہ بدلہ لینے کے قابل تھا

هُنَالِكَ الْوَلَایَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ١ؕ هُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ عُقْبًا۠ Open ayah 18:44 in the Quran reader

ایسے موقع پر ثابت ہوگیا کہ اللہ برحق کا سب اختیار ہے وہی ثواب دینے میں بہتر ہے اور بدلہ دینے کے اعتبار سے وہی بہتر ہے

بقیہ قصہ دو بھائیوں کا، حشر کی تصدیق اور یہ بھی کہا کہ بجائے اس فخر اور ناشکری کے لفظوں کے تو یہ کہتا کہ انسان کی کیا طاقت تھی کہ وہ ایسا باغ لگاتا اور اتنا مال کماتا تو خوب ہوتا۔ کیونکہ انسان کو جو کچھ فارغ البالی ہوتی ہے وہ اللہ ہی کے چاہنے سے ہوتی ہے۔ اگرچہ مال واولاد نہ ہونے کے سبب سے تو مجھے حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے، مگر مجھ کو اللہ کی ذات سے امید ہے کہ وہ آخرت میں تیرے اس باغ سے بہتر مجھے باغ دیوے گا۔ او تیری اس ناشکری اور نافرمانی کے سبب سے اللہ کی قدرت سے کچھ دور نہیں کہ وہ تیرے اس باغ پر کوئی آسمانی آفت بھیج دیوے۔ آخر کو اس ایماندار شخص کی زبان سے جو نکلا تھا وہی ہوا کہ جس باغ پر قیامت کا منکر اتراتا تھا آسمانی آفت سے وہ باغ اور کھیتی سب کچھ برباد ہوگیا اور وہ اترانے والا شخص اپنے اترانے پر پھچتایا اور نقصان پر افسوس سے ہاتھ ملتا ہوا رہ گیا، اور اللہ کے عذاب کے آگے اس اترانے والے کی کوئی کچھ مدد نہ کرسکا ۔ آخر قصہ پر اللہ تعالیٰ نے اس ایماندار شخص کے قول کی تائید فرمائی کہ قیامت کے دن ایمانداروں کو اچھا بدلہ ملنے والا ہے۔
Ayah 18:45

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ الرِّیٰحُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا Open ayah 18:45 in the Quran reader

اور ان لوگوں سے دنیا کی زندگی کی مثال بیان کرو ( وہ ایسی ہے) جیسے آسمان سے ہم نے پانی برسایا ہو۔ پھر اس کے ذریعہ سے زمین کا سبزہ خوب گنجان ہو کر نکلا پھر وہ سوکھی گھاس ہوگیا جسے ہوائیں اڑائیں اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

قیامت کا ذکر ان آیتوں میں پروردگار نے اپنے رسول مقبول ﷺ سے فرمایا کہ تم لوگوں کے روبرو دنیائے فانی کی زندگی کی کہاوت بیان کر دو کہ جیسے آسمان سے پانی نازل ہوتا ہے اور اس کے سبب سے کھیتیاں سر سبز ہوجاتی ہیں اور ایک بہار ہوتی ہے۔ پھر بعد میں یہ سب بہار خشک ہو کر جاتی رہتی ہے۔ ہوا اس کو اڑا لے جاتی ہے، بہار کا موسم خزاں سے بدل جاتا ہے اور یوں کھیتی اور درخت کٹ کر میدان نکل آتا ہے۔ اسی طرح نطفہ سے آدمی کا بچہ ہوتا ہے اور جوانی کے زمانہ میں سرسبز ہو کر پھر بوڑھا ہوجاتا ہے اور مر جاتا ہے۔ اس واسطے انسان کی زندگی کی مثال کھیتی کی فرمائی۔ پھر فرمایا کہ اللہ کو ہر چیز پر قدرت ہے یعنی اسی طرح حشر کے سن انسان کی ریڑھ کی ہڈی کے ایک ریزہ سے بیج کا کام لیا جائے گا اور دوسرے صور سے ایک مینہ برسے گا۔ جس کی تاثیر یہ ہوگی کہ اس ہڈی کے ریزہ سے ہر ایک مردہ جسم تیار ہوجاوے گا اور پھر جس طرح ماں کے پیٹ میں بچہ کا پتلا تیار ہوجانے کے بعد اس پتلا میں روح پھونک دی جاتی ہے اسی طرح اس جسم میں روح پھونک دی جاوے گی۔
Ayah 18:46

اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا Open ayah 18:46 in the Quran reader

مال اور اولاد دنیا کی زندگی کی آرائش ہیں اور جو اعمال صالحہ باقی رہنے والے ہیں وہ تمہارے پروردگار کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بہت بہتر ہیں اور امید کے اعتبار سے سب سے بہتر ہیں

یہاں فرمایا کہ مال اور اولاد فقط جیتے جی کے ساتھی ہیں آدمی کے ساتھ ان میں سے قبر میں کوئی نہ جاوے گا۔ ہاں عمل ایسی چیز ہے کہ قبر میں آدمی کے ساتھ جاوے اور قیامت تک باقی رہے گا۔ آخر اس کے موافق جزا وسزا کا فیصلہ ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ باقیات صالحات کی کثرت کا حکم فرمایا جیسے پنجگانہ نمازیں اور تسبیح وتحمید اور یہ بھی پڑھے : اللہ اکبر لا الہ الا اللہ سبحان اللہ والحمداللہ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ۔ صدقہ جاریہ جب آدمی مر جاتا ہے تو اس کا نیک عمل بند ہوجاتا ہے۔ ہاں جو شخص علم دین کا چرچا یا مسجد سرائے، یا اسی طرح کی اور کوئی ثواب کے جاری رہنے کی چیز چھوڑ کر مرے گا تو اس کا نیک عمل مرنے کے بعد بھی جاری رہے گا۔
Ayah 18:47

وَ یَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَ تَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً١ۙ وَّ حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًاۚ Open ayah 18:47 in the Quran reader

اور ( اس دن کو یاد کرنا چاہئے) جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو دیکھو گے کہ کھلا میدان پڑا ہے اور ہم ان سب کو جمع کریں گے پس ان میں سے کسی کو نہ چھوڑیں گے

ان آیتوں میں قیامت کا ذکر فرمایا کہ اعمال کا نتیجہ یہاں تو معلوم نہیں ہوتا مگر قیامت کے دن معلوم ہوگا اور قیامت کا دن وہ ہوگا جس دن ہم پہاڑوں کا ہم اڑائیں گے یعنی جڑ سے کھاڑ کر ہوا میں اڑا دیں گے۔ جیسے دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ پہاڑ دھنکی ہوئی روئی کے مشابہ ہوجاویں گے اور زمین اس دن کھلی ہوئی ہوگی اور پہاڑ بھی اس میں سے اڑ جائیں گے مردے بھی اس میں سے نکل آئیں گے اور ہم سب کو قیامت میں اکٹھا کریں گے ان میں سے ایک کو بھی باقی نہ چھوڑیں گے۔
Ayah 18:48

وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا١ؕ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ١٘ بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا Open ayah 18:48 in the Quran reader

اور سب کے سب تمہارے پروردگار کے رو برو صف باندھ کر پیش کئے جاویں گے، بیشک ہم کہیں گے کہ تم ہمارے پاس ویسے ہی حاضر ہوئے جیسا ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا، بلکہ تم یہ گمان کرتے تھے کہ ہم تمہارے لئے کوئی وعدہ کا وقت نہ رکھیں گے

اس آیت میں فرمایا کہ قیامت کے دن سب لوگ صف باندھے ہوئے اللہ کے رو برو کھڑے ہوں گے پھر مخلوق سے خطاب ہوگا کہ تم جیسے پہلی بار پیدا کئے گئے تھے اور جو پہلی بار تمہاری حالت تھی یعنی ننگے، اکیلے کچھا مال تمہارے پاس نہ تھا اسی حالت سے اب تم ہمارے پاس آئے ہو، اور کافروں سے ارشاد ہوگا کہ ” تم کو یہ خیال تھا کہ یہ قیامت ہونے والی نہیں اور تمہیں اس حساب وکتاب کی توقع نہ تھی “۔
Ayah 18:49

وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا١ۚ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا١ؕ وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۠ Open ayah 18:49 in the Quran reader

اور نامہ اعمال رکھا جائے گا تو تم مجرموں کو دیکھو گے کہ جو کچھ اس میں لکھا ہے اس سے ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے : ” ہائے خرابی ہماری ! اس نامہ کو کیا ہوا اس نے ہمارا نہ کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا نہ بڑا جسے گھیر نہ لیا ہو “ اور جو کچھ انہوں نے کیا تھا وہ سب (لکھا ہوا) موجود پایا، اور تمہارا پروردگار کسی پر ظلم نہیں کرتا

قیامت کا ذکر اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اچھے لوگوں کے دائیں ہاتھ میں اور برے لوگوں کے بائیں ہاتھ میں جب اعمال نامے دیئے جائیں گے۔ تو برے لوگ اپنے اعمال نامہ میں عمر بھر کے بد اعمال دیکھ کر بہت گھبرائیں گے اور سزا کے خوف سے بہت ڈریں گے مگر بےوقت کا گھبرانا اور ڈرنا ان کے کچھ کام نہ آوے گا۔ پھر فرمایا کہ اس دن اللہ تعالیٰ کسی پر کچھ ظلم نہ کرے گا۔ بلکہ ہر شخص کے عملوں کے موافق جزا وسز کا فیصلہ کیا جاوے گا۔
Ayah 18:50

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ١ؕ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّیَّتَهٗۤ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِیْ وَ هُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ١ؕ بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا Open ayah 18:50 in the Quran reader

اور (یاد کرو) جب کہ ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوا ابلیس کے کہ قوم جن سے تھا پس اپنے پروردگار کے حکم سے نکل گیا، (پس ظالموں کے لئے (شیطان) کیا ہی برا بدلہ ملا

تمام اولاد آدم کو ابلیس کی دشمنی سے آگاہ کرنا : ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تمام اولاد آدم (علیہ السلام) کو ابلیس کی دشمنی پر آگاہ فرمایا کہ یہ تمہارا اور تمہارے باپ کا دشمن ہے۔ جو لوگ ابلیس کے تابع اور خدا کے مخالف ہیں ان کو ڈرایا کہ ہم نے انسان کو پیدا کیا اور پالا اور پھر وہ شیطان کا دوست اور ہمارا دشمن بن گیا ہے۔ ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو، سب نے سجدہ کیا ، مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ کیونکہ اصل اس کی اچھی نہ تھی۔ آگ کے شعلہ سے اس کی پیدائش ہے اور فرشتوں کی اصل نور سے ہے۔ اس نے نافرمانی کی پھر فرمایا ؛ ” اے بنی آدم تمہیں شرم نہیں آتی کہ ہم جیسے محسن اور خالق کی نافرمانی سے خوش ہو اور اس کی زیارت کو رفیق بناتے ہو “ حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں یعنی شیطان بھی دشمن ہے اور اس کی ذریت بھی۔ ان ظالموں نے کیا برا بدل حاصل کیا ہے خدائے تعالیٰ کے بدلہ میں شیطان کو قابل عبادت جانتے ہیں اور اس مالک حقیقی کے حکم کو نہیں مانتے۔
Ayahs 18:51–52

مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ١۪ وَ مَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا Open ayah 18:51 in the Quran reader

نہ میں نے ان کو آسمانوں اور زمین کے بناتے وقت سامنے بٹھایا تھا، نہ خود ان کے بناتے وقت (حاضر کیا) اور نہ میری شان کہ گمراہ کرنے والوں کو بازو بناؤں

وَ یَوْمَ یَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ مَّوْبِقًا Open ayah 18:52 in the Quran reader

اور جس دن (اللہ) مشرکوں سے فرمائے گا کہ میرے ان شریکوں کو پکارو کہ جن کا تمہیں گمان تھا پس وہ ان کو پکاریں گے تو وہ انہیں کچھ بھی جواب نہ دیں گے اور ہم ان کے درمیان ایک ہلاکت کا میدان کردیں گے (یعنی آگ کی خندق)

یہاں فرمایا کہ پھر جو تم شیطان اور اس کی ذریت کو مانتے ہو اور ان کے بہکانے سے بتوں کو پوجتے ہو اور ہر قسم کی نافرمانی کرتے ہو۔ نہ اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کے پیدا کرنے میں ان بتوں سے کچھ مدد لی، نہ قیامت کے دن اپنے پوجا کرنے والوں کو کچھ مدد دیویں گے۔ بلکہ یہ پوجا کرنے والے مدد کے لئے جب ان بتوں کو پکاریں گے تو وہ جواب تک نہ دیویں گے۔ پھر ان لوگوں کی نادانی ہے جو ایسے عاجزوں کی پوجا کرتے ہیں۔
Ayah 18:53

وَ رَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَ لَمْ یَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا۠ Open ayah 18:53 in the Quran reader

اور مجرم آگ کو دیکھیں گے تو سمجھیں گے انہیں اس میں گرنا ہے اور اس سے بچنے کی کوئی راہ نہ پاویں گے

یہاں فرمایا قیامت کے دن جب یہ نافرمان دوزخ کو دیکھیں گے اور یہ جان لیویں گے کہ اس میں ان کو رہنا پڑے گا تو بہت گھبرائیں گے۔ لیکن اس کا وقت بےوقت کے گھبرانے سے کچھ فائدہ نہ ہوگا کیونکہ اس آگ سے بچ کر یہ کہیں جا نہ سکیں گے۔
Ayah 18:54

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا Open ayah 18:54 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے لوگوں کے سمجھانے کے لئے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال طرح طرح سے بیان فرمائی اور آدمی ہر چیز سے بڑھ کر جھگڑالو ہے

قرآن کی نصیحت کا بیان اس آیت میں فرمایا کہ دوزخ کے سامان انسان اپنی خوشی سے آپ کرتا ہے، اور اپنے پاؤں میں آپ کلہاڑی مارتا ہے ورنہ ہم نے تو قرآن مجید میں مضامین ضروریہ کو یہ بار بار اور تفصیل کے ساتھ بیان کردیا ہے، اور طرح طرح کی مثالیں دے کر انسان کو سمجھا دیا ہے مگر انسان اپنے جھگڑالوپنے سے باز نہیں آتا۔ کبھی اللہ کے کلام کو پچھلے لوگوں کی کہانیاں بتلاتا ہے کبھی اللہ کے رسول کے کو جادوگر کہتا ہے وغیرہ وغیرہ ۔
Ayah 18:55

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰى وَ یَسْتَغْفِرُوْا رَبَّهُمْ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا Open ayah 18:55 in the Quran reader

اور لوگوں کو کس چیز نہ اس سے روکا کہ ایمان لاتے جب ہدایت ان کے پاس آئی اور اپنے پروردگار سے بخشش مانگتے، مگر یہ کہ ان کو بھی اگلے لوگوں کی سی حالت پیش آئے یا ان پر طرح طرح سے عذاب آئے

ان آیتوں میں فرمایا کہ ان لوگوں کے قرآن کی نصیحت نہ ماننے اور شرک سے باز نہ آنے کا یہی سبب ہے کہ اللہ کے علم غیب کے موافق ان میں سے کچھ لوگوں پر پچھلی امتوں کی طرح دنیا کا کچھ عذاب وقت مقررہ پر آوے گا اور عذاب کے وقت مقررہ سے پہلے ان میں سے جو لوگ شرک کی حالت پر مر جاویں گے۔ ان کے سر پر آخرت کا عذاب ناگہاں آن کھڑا ہوگا۔
Ayah 18:56

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ وَ یُجَادِلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ مَاۤ اُنْذِرُوْا هُزُوًا Open ayah 18:56 in the Quran reader

اور ہم رسولوں کو تو صرف خوش خبری اور ڈر سنانے کے لئے بھیجا کرتے ہیں ( زبردستی ہدایت پر لانا ان کا فرض نہیں) اور جو کافر ہیں وہ باطل ( کی سند) سے جھگڑا کرتے ہیں تاکہ اس سے حق کو ہٹا دیں اور انہوں نے میری آیتوں کو اور جس (عذاب) سے ڈرایا گیا تھا اس کو ٹھٹھا بنا لیا

توحید کا بیان اس آیت میں فرمایا کہ کچھ نبی آخر الزماں ﷺ پر ہی منحصر نہیں، اگلے انبیاء بھی ہم نے بھیجے ہیں ۔ وہ سب اہل ایمان کو بشارت دیتے رہے اور کافروں کو عذاب الہی سے ڈراتے رہے۔ اور جو لوگ کافر ہیں ان کا ہمیشہ یہی قاعدہ رہا ہے کہ بےہودہ جھگڑے لگایا کرتے ہیں۔ معجزات دیکھتے جاتے ہیں اور پھر معجزوں کی فرمائش چلی جاتی ہے۔ ان کا مقصود یہ ہوتا ہے کہ ہم حق کو باطل سے مٹا دیں اور قدرت کی دلیلوں اور عذاب کے مضامین کی ہنسی اڑاتے ہیں۔
Ayah 18:57

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:57 in the Quran reader

اور اس سے زیادہ کون ظالم ہے جس کو اللہ آیتوں سے سمجھایا جائے پھر وہ ان سے منہ پھیرے اور اس کے ہاتھ جو آگے بھیج چکے ہیں اسے بھول جائے، بیشک ہم نے اس قرآن کے سمجھنے سے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں اور اس کے سننے سے ان کے کانوں میں ڈاٹ لگا دی ہے، اور اگر تم انہیں ہدایت کی طرف بلاؤ تو جب بھی وہ کبھی راہ نہ پاویں گے

یہاں فرمایا کہ خیال کرنے کی بات ہے کہ اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے کہ جس کے سامنے قرآن پڑھا جاوے اور اس کے مضامین بیان ہوں اور وہ شخص منہ پھیرے اور قبول نہ کرے اور اپنے افعال کے انجام کو بھول جائے اس کو اتی عقل نہ ہو کہ اس کفر اور انکار کا نتیجہ دوزخ ہے اور وہ اس بات کو نہ جانتا ہو کہ انبیاء (علیہ السلام) کی پیروی میں نجات ہے اور کافروں کی پیروی کا انجام برا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں اور ان کو سمجھنے کی قوت نہیں دی۔ اور ان کے کانوں کو بھی بہرا کردیا ہے یعنی انہیں سننے کا بھی شوق نہیں اگر تم ان کو ہدایت کی راہ پر لانا چاہو گے تو بےفائدہ ہے، وہ کب آنے والے ہیں وہ کبھی تمہاری بات نہیں مانیں گے۔
Ayah 18:58

وَ رَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ لَوْ یُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ١ؕ بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْئِلًا Open ayah 18:58 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار بخشنے والا رحمت والا ہے، اگر ان کے اعمال پر ان کو پکڑتا تو فوراً ہی ان پر عذابب بھیجتا ، بلکہ ان کے لئے ایک میعاد مقرر ہے (یعنی قیامت) جس کے سامنے کوئی پناہ نہ پائیں گے

اس آیت میں فرمایا کہ تمہارا پروردگار مغفرت کرنے والا ہے اور بندوں کے حال پر مہربان ہے۔ اگر کافر بھی توبہ کرلیں تو ان کے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ اگر اللہ تعالیٰ یہیں ان کے اعمال کی گرفت کرنا چاہے تو یہیں عذاب بھیج دے مگر اللہ کو یہ منظور نہیں۔ بلکہ اللہ کو یہ منظور ہے کہ دنیا میں ان کو مہلت دے جائے اور قیامت کو ان کی سزا کا دن مقرر کیا جائے۔ خدا کے سوا ان کو کوئی پناہ دینے والا نہیں وہ جس کو چاہے پناہ دے جس کو چاہے نہ دے۔
Ayah 18:59

وَ تِلْكَ الْقُرٰۤى اَهْلَكْنٰهُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَ جَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَّوْعِدًا۠ Open ayah 18:59 in the Quran reader

اور یہ وہ بستیاں ہیں کہ جن کو ہم نے ہلاک کیا جبکہ انہوں نے ظلم کیا تھا اور ان کی ہلاکت کا ہم نے ایک وقت مقرر کر رکھا تھا

یہاں فرمایا کہ وہ دیہات جن کا قصہ ہم نے تمہیں سنایا کہ انہوں نے پیغمبر کی تکذیب کی، تو ہم نے ان کو ہلاک کردیا اور ان کی ہلاکت کو ہم نے ایک وقت مرر رکھا تھا، جب وقت آیا ہم نے ان کو مزہ چکھایا۔ قریش ان کی اجڑی ہوئی بستیوں کو دیکھ کر عبرت کیوں نہیں پکڑتے اور شرک اور نافرمانی سے دست برادار کیوں نہیں ہوجاتے۔ عقلمند وہ ہے جو غیر کو دیکھ کر نصحیت پکڑے۔
Ayahs 18:60–65

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِفَتٰىهُ لَاۤ اَبْرَحُ حَتّٰۤى اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اَوْ اَمْضِیَ حُقُبًا Open ayah 18:60 in the Quran reader

اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا کہ جب تک میں دونوں دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچوں یا سالہا سال نہ چلا چلوں اپنے ارادہ سے باز نہ رہوں گا

فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِهِمَا نَسِیَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا Open ayah 18:61 in the Quran reader

پھر جب کہ دونوں دریاؤں کے ملنے کی جگہ پہنچے تو اپنی مچھلی (وہیں) بھول گئے، پس مچھلی نے دریا میں سرنگ کی طرح اپنا راستہ بنا لیا

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىهُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا١٘ لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا Open ayah 18:62 in the Quran reader

پھر جب وہ دونوں آگے بڑھ گئے تو موسٰی (علیہ السلام) نے اپنے خادم سے کہا کہ ” ہمارا صبح کا کھانا لاؤ بیشک ہمیں اپنے اس سفر میں بڑی مشقت اٹھانا پڑی،

قَالَ اَرَءَیْتَ اِذْ اَوَیْنَاۤ اِلَى الصَّخْرَةِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ١٘ وَ مَاۤ اَنْسٰىنِیْهُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ١ۚ وَ اتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ١ۖۗ عَجَبًا Open ayah 18:63 in the Quran reader

(خادم نے) کہا :” دیکھئے تو جبکہ ہم نے اس چٹان کے پاس آرام لیا تھا تو بیشک مچھلی کو میں وہیں بھول آیا اور مجھے شیطان ہی نے بھلا دیا کہ میں اس کا آپ سے ذکر کروں اور اس نے تو دریا میں اپنا رستہ عجیب طرح سے لیا “

قَالَ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ١ۖۗ فَارْتَدَّا عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًاۙ Open ayah 18:64 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا :” یہی تو (وہ جگہ ہے کہ جس کو) ہم چاہتے تھے “ پھر وہ (دونوں) اپنے قدموں کے نشانوں پر تلاش کرتے ہوئے واپس پھرے

فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَاۤ اٰتَیْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا Open ayah 18:65 in the Quran reader

(موقع پر پہنچ کر) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا کہ جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی اور ہم نے اس کو سکھایا تھا اپنے پاس سے (خاص) علم

حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کی ملاقات کا ذکر ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں وعظ فرما رہے تھے۔ کہ ایک شخص نے پوچھا :” سب میں زیادہ عالم کون ہے “۔ آپ نے فرمایا :” میں “۔ یہ بات خدا کو ناگوار معلوم وہئی کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے جواب کو اللہ تعالیٰ کے علم پر نہیں سونپا۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے خضر (علیہ السلام) سے ملنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ وہ تم سے بھی زیادہ عالم ہے ، جو مجمع البحرین کے موقع پر ملے گا پھر موسٰی (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ ان تک پہنچنے کی کیا صورت ہے۔ فرمایا :” اپنے تھیلے میں رکھ لو پھر جہاں وہ مچھلی گم جاوے وہ وہیں ملیں گے “۔ پس موسیٰ (علیہ السلام) مچھلی تھیلے میں ڈال کر یوشع بن نون کو ہمراہ لے کر چلتے چلتے ایک موقع پر سمندر کے کنارے پہنچے۔ پھر جب وہ دونوں مجمع البحرین میں جہاں خضر (علیہ السلام) کا مکان ہے اور روم وفارس کے دو دریا وہاں باہم ملتے ہیں، گئے تو ایک پتھر پر سر رکھ کر سو گئے۔ مچھلی اس تھیلے میں سے تڑپ کر دریا میں جا گری۔ جہاں تک وہ جاتی تھی پانی میں ایک سوراخ سا ہوتا جاتا تھا۔ حکم الہٰی سے پانی ادھر ادھر سے ملنے نہیں پاتا تھا۔ پھر بیدار ہوئے ، اور دونوں مچھلی کو بھول گئے۔ آگے چلے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے یوشع سے کھانا مانگا اور کہا کہ اس سفر میں ہم تھک گئے۔ پھر جب مچھلی کو دیکھا تو غائب تھی۔ یوشع نے عذر کیا کہ حضرت آپ کو یاد نہیں جہاں آپ نے آرام کیا تھا، مچھلی تو وہیں مفقود ہوگئی تھی یہ سن کر موسیٰ (علیہ السلام) الٹے پاؤں پھرے اور خضر (علیہ السلام) سے ملاقات کے وقت انہوں نے یہ خواہش کی کہ میں تمہارے ساتھ چند روز اس ارادہ سے رہنا چاہتا ہوں کہ جو علم اللہ نے تم کو دیا ہے، اس میں سے تم کچھ مجھ کو بھی سکھا دو ۔
Ayah 18:66

قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا Open ayah 18:66 in the Quran reader

موسیٰ نے ان سے کہا :” کیا میں تمہارے ساتھ رہوں اس شرط سے کہ جو علم مفید آپ کو (اللہ کی طرف سے) تعلیم ہوا اس میں سے آپ مجھ کو بھی سکھا دو گے “

حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کے علم کا ذکر اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) نے ایک چڑیا دکھائی جو دریا میں سے پانی پی رہی تھی۔ فرمایا کہ اے موسیٰ تیرا اور میرا علم اللہ کے علم کے مقابلہ میں ایسا ہے جیسا اس چڑیا نے اس دریا سے پانی پیا اور تو نے دیکھا کہ دریا میں کسی طرح سے بھی کمی نہیں آئی۔
Ayahs 18:67–68

قَالَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:67 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا :” بیشک تم میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکو گے

وَ كَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا Open ayah 18:68 in the Quran reader

اور اس بات پر کیونکر صبر کرسکو گے جسے تمہارا علم محیط نہیں ”۔

پھر خضر (علیہ السلام) نے کہا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکو گے، کیونکہ تمہارا حکم ظاہر پر ہے اور میرے سے ایسے فعل صادر ہوں گے کہ آپ کو حیرانی ہوگی۔ کیونکر صبر کرو گے۔ تم اس چیز پر کہ علم کی رو سے وہ تمہارے احاطہ قدرت سے باہر ہے۔
Ayah 18:69

قَالَ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعْصِیْ لَكَ اَمْرًا Open ayah 18:69 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہا :” انشاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے اور میں تمہارے کسی حکم کے خلاف نہ کروں گا “

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا :” انشاء اللہ میں برداشت کروں گا، اور کسی بات میں آپ سے اختلاف نہ کروں گا “۔ پھر خضر (علیہ السلام) نے کہا :” اچھا اگر تم میرے ساتح رہتے ہو تو مجھ سے کوئی بات نہ پوچھنا ، جب تک کہ میں خود ہی تم سے اس کا ذکر نہ کر دوں “۔ یعنی میرے کسی فعل پر اعتراض نہ کرنا، کہ تم نے یہ کیوں کیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ سب شرائط تسلیم کیں اور مع یوشع (علیہ السلام) کے حضرت خضر (علیہ السلام) کے ساتھ ہو لئے۔ پھر وہ چلے یہاں تک کہ دریا میں ان کو ایک کشتی ملی اس پر سوار ہوئے۔ اگرچہ ناخدا اول دہلہ میں ان کے سوار ہونے پر راضی نہ تھا۔ لیکن بعد معرفت حضرت خضر (علیہ السلام) کے ان کو بقدر تعظیم کشتی پر سوار کرلیا تو حضرت خضر (علیہ السلام) نے لوگوں سے پوشیدہ اس میں شگاف کردیا یعنی ایک تختہ نکال دیا۔ موسیٰ نے کہا :” واہ صاحب یہ کیا کیا ؟ انہوں نے بغیر کرایہ سوار کیا، اس کے عوض آپ کی احسان مندی یہ کہ کشتی لوگوں کے لوگوں کو ڈبانے کے لئے کشتی کو پھاڑ ڈالا۔ حضرت یہ کیا سوجھی ابھی کشتی میں پانی بھر جائے گا۔ حضرت خضر نے کہا :” چل دیجئے کیا میں کہ نہیں چکا تھا کہ تم میرے ساتھ ہرگز نہیں ٹھہر سکو گے “ موسیٰ نے کہا :” آپ بھول چوک پر مجھ سے موخذہ نہ کیجئے اور میرے معاملہ میں مجھ پر سختی نہ کیجئے “۔ یعنی موسیٰ نے عذر کیا کہ بھول کر سوال کیا، آئندہ ایسا نہ ہوگا۔ الغرض کشتی سے اتر کر خشکر میں روانہ ہوئے تو دیکھا ایک گاؤں کے متصل چند لڑکے کھیل رہے تھے۔ ایک ان میں نہایت حسین وخوبصورت تھا۔ جب اس لڑکے کے پاس پہنچے تو خضر (علیہ السلام) نے اس کو علیحدہ کر کے آڑ میں لے جا کر مار ڈالا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا :” اس معصوم بچے کو تم نے ناحق قتل کیا، یہ بری بات کی “۔
Ayahs 18:70–74

قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلَا تَسْئَلْنِیْ عَنْ شَیْءٍ حَتّٰۤى اُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا۠ Open ayah 18:70 in the Quran reader

کہا :” پس اگر تم میرے ساتھ رہتے ہو تو مجھ سے کسی بات کو نہ پوچھنا جب تک میں خود تمہارے سامنے اس کا ذکر شروع نہ کروں “

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِی السَّفِیْنَةِ خَرَقَهَا١ؕ قَالَ اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَا١ۚ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا اِمْرًا Open ayah 18:71 in the Quran reader

پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب کشتی (پر دریا) میں سوار ہوئے تو ان بزرگ (یعنی خضر) نے اس کشتی کو چیر ڈالا، موسیٰ نے کہا :” کیا تم نے اس کو اس لئے چیرا کہ اس کے سواروں کو ڈبا دو بیشک یہ تم نے بری بات کی “

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:72 in the Quran reader

ان بزرگ (یعنی خضر) نے کہا :” کیا میں نہیں کہتا تھا کہ آپ میرے ساتھ ہر گز نہ ٹھہر سکیں گے “

قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِیْ بِمَا نَسِیْتُ وَ لَا تُرْهِقْنِیْ مِنْ اَمْرِیْ عُسْرًا Open ayah 18:73 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا :” آپ میری بھول چوک پر گرفت نہ کیجئے اور میرے معاملہ میں مجھ پر مشکل نہ ڈالیں “

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ١ۙ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِیَّةًۢ بِغَیْرِ نَفْسٍ١ؕ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُّكْرًا Open ayah 18:74 in the Quran reader

پھر دونوں (کشتی سے اتر کر آگے) چلے یہاں تک کہ جب ایک لڑکا ملا، خضر نے اس کو قتل کردیا، موسیٰ نے کہا :” کیا تم نے ایک ستھر جان کو بےقصاص کے واجب ہوئے قتل کردیا بیشک تم نے یہ بڑی بےجا حرکت کی “

فضائل القرآن : (1) امام دارمی وغیرہ نے حضرت عبیدہ بن لبابہ کی سند سے انہوں نے رزبن جیش سے نقل کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں جو شخص سورة کہف کے آخر کی آیتوں کو اس نیت سے پڑھے کہ فلاں شب (اس کی آنکھ کھل جائے اور) وہ اٹھ جائے تو وہ برابر اٹھ جائے گا۔ عبیدہ فرماتے ہیں ہم نے اس کا تجربہ کیا ہے واقعی اسی طرح ہے۔
Ayahs 18:75–78

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:75 in the Quran reader

ان بزرگ (یعنی خضر) نے کہا :'' کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا بیشک تم ہرگز میرے ساتھ صبر نہ کرسکوگے ''

قَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَیْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِیْ١ۚ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا Open ayah 18:76 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہا : (خیر اب کے اور جانے دیں) '' اگر اس کے بعد میں آپ سے کوئی بات پوچھوں پھر مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا۔ بیشک میری طرف سے آپ کا عذر پورا ہوچکا ''

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَهْلَ قَرْیَةِ اِ۟سْتَطْعَمَاۤ اَهْلَهَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْهُمَا فَوَجَدَا فِیْهَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَهٗ١ؕ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْهِ اَجْرًا Open ayah 18:77 in the Quran reader

پھر دونوں آگے چلے یہاں تک کہ جب ایک گاؤں کے لوگوں کے پاس آئے تو ان گاؤں والوں سے کھانا مانگا (کہ ہم مہمان ہیں) تو انہوں نے ان کی مہمانی کرنے سے انکار کردیا پھر ان کو وہاں ایک ایسی دیوار ملی کہ جو گرنا چاہتی تھی تو ان بزرگ (یعنی خضر) نے اس کو سیدھا کردیا (موسیٰ نے) کہا : اگر تم چاہتے تو اس پر کچھ مزدوری لے ہی لیتے ''

قَالَ هٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِكَ١ۚ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاْوِیْلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا Open ayah 18:78 in the Quran reader

(ان بزرگ یعنی خضر نے) کہا کہ یہ وقت میرے اور تمہارے درمیان علیحدگی کا ہے (جیسا کہ خود تم نے شرط کی تھی) اب میں تم سے ان باتوں کا راز بتلائے دیتا ہوں کہ جن پر تم صبر نہ کرسکے

حضرت موسیٰ و حضرت خضر (علیہما السلام) کے علم کا نتیجہ حضرت خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پھر وہی فرمایا کہ میں نہیں کہتا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہ کریں گے، اور معالملات میں دخیل ہوں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ آئندہ اگر میں آپ کے معاملہ کے متعلق کچھ اعتراض کروں تو پھر مجھے ساتھ نہ رکھئے گا۔ اس کے بعد دونون ایک گاؤں میں پہنچے۔ اور اس گا ؤن والوں کہ یہ دستور تھا کہ شام کے وقت سے گاؤں کا دروازہ بند کردیتے تھے تو پھر کسی کے واسطے ہرگز نہ کھولتے تھے۔ یہ شام کے بعد پہنچے اور گاؤں والوں سے کہا کہ دروازہ کھولو۔ کسی نے نہ کھولا پھر حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا کہ اچھا اگر دروازہ نہیں کھولتے تو ہم کو کھانا دو ، ہم مسافر ہیں، اور اس وقت یہاں قیام ہے۔ ان گاؤں والوں نے کھانا دینے سے انکار کردیا۔ دونوں صاحب بھوکے رہے، اور گاؤں کے باہر ہی قیام پذیر رہے۔ اور صبح کو حضرت خضر (علیہ السلام) نے ایک دیوار جو کہ منہدم ہونے کے قریب تھی، سارے دن میں بناکر کھڑی کردی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ حضرت گاؤں والوں نے تو ہمارے ساتھ ایسی بدسلوکی کی، اور آپ نے بلا اجرت کے ان کی دیوار بنادی۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا :'' بس اب میری اور تمہارے درمیان جدائی ہے۔ یعنی اب تو میری ہمراہی سے جدا ہوجاؤ، کیونکہ تم نے خود کہ دیا تھا کہ اگر میں اب سوال کروں تو جدا کردینا۔ لہذا اب میں تم کو اب تمام باتوں کا جو گزری ہیں، ان کی تاویلات (مطللب) بتاتا ہوں ''۔ حاصل کلام یہ ہے کہ چڑیا کے پانی پینے کے قصہ سے اس سفر کا نتیجہ تو موسیٰ (علیہ السلام) سمجھ چکے تھے اور دوسرے اعتراض کے وقت جدائی کی شرط کو ظاہر کردیا۔