18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 18:79–81

اَمَّا السَّفِیْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِیْنَ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْرِ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَهَا وَ كَانَ وَرَآءَهُمْ مَّلِكٌ یَّاْخُذُ كُلَّ سَفِیْنَةٍ غَصْبًا Open ayah 18:79 in the Quran reader

وہ جو کشتی تھی وہ چند مسکینون کی تھی جو (اس کے ذریعہ سے) دریا میں مزدوری کرتے پھرتے تھے۔ پس میں نے چاہا کہ اس میں عیب دال دوں اور (وجہ اس کی یہ تھی کہ) ان لوگوں سے پرے کی طرف ایک (ظالم) بادشاہ تھا جو ہر سالم کشتی زبردستی پکڑ رہا تھا

وَ اَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَاۤ اَنْ یُّرْهِقَهُمَا طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاۚ Open ayah 18:80 in the Quran reader

اور وہ جو لڑکا تھا پس اس کے ماں باپ مسلمان تھے، تو ہم کو اس بات کا خوف ہوا کہ وہ ان پر سرکشی اور کفر کا ثر نہ ڈال دے

فَاَرَدْنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَیْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّ اَقْرَبَ رُحْمًا Open ayah 18:81 in the Quran reader

تو ہم نے چاہا کہ بجائے اس کے ان کا پروردگار ان کو ایسی اولاد دے جو پاکیزگی (یعنی دین) میں اس سے بہتر اور شفقت میں اس سے بڑھ کر ہو

اس ایت کا مطلب یہ ہے کہ کشتی کا تکتہ توڑنے کا سبب حضرت خضر (علیہ السلام) نے یہ بیان کیا کہ وہ کشتی ایسے مھتاجون کی تھی جن کی گزر اسی کشتی کے کرایہ کی آمدنی پر تھی، اور دریا کے پرلے کنارے پر ایک ظالم بادشاہ تھا۔ جس کے حکم سے بادشاہی لوگ ایسی ثابت کشتیاں مفت بیگار میں پکڑ لیتے تھے۔ اس واسطے میں نے اس کشتی کا ایک تختہ توڑ کر اس کو عیب دار کردیا کہ بادشاہی لوگ اس کشتی کو نہ پکڑیں اور ان مھتاجوں کی آمدنی میں خلل نہ پڑے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ جو کوئی اس بادشاہ کی طرح کسی کا کچھ مال زبردستی چھین لے گا قیامت کے دن اس کی اسی قدر نیکیاں چھین کر مالک مال کو دے دی جائیں گی۔
Ayah 18:82

وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَةِ وَ كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا١ۚ فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا١ۖۗ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ۚ وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْ١ؕ ذٰلِكَ تَاْوِیْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا٢ؕ۠ Open ayah 18:82 in the Quran reader

اور رہی وہ دیوار پس وہ اس شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا (جو ان کے باپ نے رکھا تھا) اور ان کا باپ نیک آدمی تھا، تمہارے پروردگار کی رحمت سے اور (سارے کام الہام خداوندی سے) کئے ہیں کوئی کام میں نے اپنی رائے سے نہیں کیا، یہ حقیقت ہے ان باتوں کی جن پر تم سے صبر نہ ہوسکا

اب آگے اس لڑکے کے مار ڈالنے کا سبب بیان کیا کہ وہ لڑکا منکر ایمان و سرکش تھا کہ اس کی محبت میں آن کر اس کے ماں باپ کہیں کفر و سرکشی میں مبتلا نہ ہوجائیں، اس لئے خدا کو منظور ہوا کہ یہ مرجاوے، اور اس کے بدلے ان کو اور اولاد ملے جو تقویٰ و صلاح میں اس سے بہتر ہو، اور جو صلہ رحمی اور ماں باپ کے ساتھ سلوک کرنے میں بھی بہتر ہو۔ چناچہ اس کے بعد ان کے ہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی جو نہایت نیک تھی، جس کے پیٹ سے ایک نبی پیدا ہوا۔ اور دیوار کا حال یہ ہے کہ وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی جس کے نیچے خزانہ مدفون تھا اور ان کا باپ نیک مرد تھا۔ جس کی برکت سے خدا کو اس کی اولاد کے ساتھ احسان کرنا منظور تھا کہ جوان ہوکر وہ اپنا خزانہ نکال لیں اگر اس دیوار کو درست نہ کیا جاتا اور یہ گر پڑتی تو اور لوگ خزانہ لے لیتے۔ اس لئے اسس کو درست کردیا کہ ان کی جوانی تک نہ گرے۔ کہئے اس پر کیا اجرت لینی مناسب تھی ؟ اس کے بعد موسیٰ ، خضر (علیہ السلام) سے جدا ہوکر پھر بنی اسرائیل میں آگئے۔ لیکن معلوم ہوگیا کہ دنیا میں خدا کے بندے مجھ سے بھی زیادہ عالم ہیں۔
Ayahs 18:83–89

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ١ؕ قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًاؕ Open ayah 18:83 in the Quran reader

اور (یہ لوگ) تم سے ذوالقرنین کا حال پوچھتے ہیں تم فرماؤ کہ میں اس کا حال تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں

اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِی الْاَرْضِ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ سَبَبًاۙ Open ayah 18:84 in the Quran reader

بیشک ہم نے اس کو زمین میں قابو دیا اور ہم نے اس کو ہر قسم کا سامان عطا فرمایا

فَاَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:85 in the Quran reader

پس وہ ایک سامان کے پیچھے چلا

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا١ؕ۬ قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّاۤ اَنْ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْهِمْ حُسْنًا Open ayah 18:86 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب آفتاب کے غروب ہونے کی جگہ پہنچا تو اس کو ایک سیاہ رنگ کی کیچڑ کے چشمہ میں ڈوبتا ہوا پایا اور وہ ان اس نے ایک قوم دیکھی ہم نے (الہاما) یہ کہا :'' اے ذوالقرنین ! (اب یہ لوگ تیرے اختیار میں ہیں) خواہ انہیں سزا دے یا ان کے ساتھ بھلائی اختیار کر ''

قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَیُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 18:87 in the Quran reader

ذوالقرنین نے عرض کی کہ جس نے ظلم کیا (یعنی کفر شرک اختیار کیا ایمان نہ لایا) اسے تو ہم عنقریب سزا دیں گے، پھر وہ اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا جائے گا۔ پس وہ اسے سخت عذاب میں مبتلا کرے گا

وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ اِ۟لْحُسْنٰى١ۚ وَ سَنَقُوْلُ لَهٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًاؕ Open ayah 18:88 in the Quran reader

اور جو شخص کہ ایمان لے آوے گا اور نیک عمل کرے گا تو اس کا بدلہ بھلائی ہے (یعنی جنت) اور بیشک ہم (دنیا میں) اپنے معاملہ میں اس کو آسان بات کہیں گے ''

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:89 in the Quran reader

(اس کے بعد) پھر ایک سامان کے پیچھے چلا

حضرت ذوالقرنین (علیہ السلام) کا قصہ : شروع سورة کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ یہود کے سکھانے سے مشرکین مکہ نے روح، اصحاب کہف اور سکندر ذالقرنین کا حال اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھا تھا۔ روح اور اصحان کہف کا حال تو بیان ہوچکا۔ یہ سکندر ذوالقرنین کا حال شروع ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو روئے زمین پر صاحب قدرت بنایا، اور ہر قسم کا سامان اس کو دیا۔ اور جب ان کو معلوم ہوا کہ اولاد سام میں سے ایک شخص چشم حیات سے پانی پئے گا اور اس کو موت نہ آئے گی، تو وہ چشمہ حیات کی طلب میں مغرب و مشرق کی طرف روانہ ہوئے۔ اور آپ کے ساتھ حضرت خضر (علیہ السلام) بھی تھے، وہ چشمہ حیات تک پہنچ گئے اور انہوں نے پی بھی لیا۔ مگر ذوالقرنین کے مقدر میں نہ تھا، انہوں نے نہ پایا۔ اس سفر میں جانب مغرب روانہ ہوئے تو جہاں تک آبادی ہے وہ سب جگہ پہنچ گئے اور سمت مغرب میں وہاں پہنچے جہاں آبادی کا نام ونشان باقی رہا۔ وہاں انہیں آفتاب وقت غروب ایسا نظر آیا گویا کہ سیاہ دلدل کے چشمہ میں ڈوبتا ہے۔ اور اس چشمہ کے قریب ایک بت پرست قوم کو اس نے دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اے ذوالقرنین ! تجھے اختیار ہے خواہ ان کو سزادے اور خواہ ان سے نیک سلوک کر۔ اس پر اس نے کہا :'' جو کوئی ظالم ہوگا پس اس کو ہم جلدی سزا دیں گے، اور پھر وہ اللہ کے پاس روانہ کردیا جائے گا۔ وہاں بھی اسے سخت عذاب ہوگا اور جو ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا پس اس کو نیک بدلہ ملے گا، اور اس سے اپنے معاملہ میں بھی ہم آسانی کریں گے ''۔
Ayahs 18:90–91

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًاۙ Open ayah 18:90 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب سورج نکلنے کی جگہ (یعنی مشرق میں) پہنچا اس نے پایا سورج ایک ایسے گروہ پر نکلتا ہے جن کے لئے ہم نے سورج سے بچنے کے لئے کوئی آڑ نہیں رکھی

كَذٰلِكَ١ؕ وَ قَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْهِ خُبْرًا Open ayah 18:91 in the Quran reader

یہ قصہ اسی طرح ہے اور ذوالقرنین کے پاس جو کچھ تھا اس کی پوری پوری خبر پمارے پاس ہے

حضرت ذوالقرنین (علیہ السلام) کے سفر کا نتیجہ پھر حضرت ذوالقرنین (علیہ السلام) نے مشرق کی طرف کا سفر کیا، اور ایسی سرزمین پر پہنچا جہاں پہلے پہل سورج نکلتا معلوم ہوتا ہے۔ اور وہاں اس نے ایک ایسی قوم کو دیکھا جن کے لئے سورج کی دھوپ سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے کوئی آڑ نہیں بنائی۔ یعنی اس سرزمین پر نہ قدرتی کچھ پہاڑ درخت ایسے ہیں کہ ان کی آڑ سے وہ لوگ دھوپ سے بچ سکیں۔ اور وحشی پن کے سبب سے نہ اتنی عقل ان لوگوں میں ہے کہ وہ مکان بنادیں۔ زمین میں سرنگیں کھود رکھی ہیں، دھوپ کے وقت ان میں گھس جاتے ہیں، اور ٹھنڈے وقت میں ان سرنگوں سے نکل کر دنیا کا کچھ کام دھندا کرلیتے ہیں۔ آگے کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ذوالقرنین (علیہ السلام) نے جو حکم پہلے مغرب والوں کو سنایا تھا، وہی حکم اس مشرقی قوم کو سنایا :'' اس قوم کے جو لوگ شرک پر اڑے رہیں گے، ان کو دنیا میں طرح طرح کے عذاب سے قتل کیا جاوے گا، اور عقبیٰ میں ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ سخت عذاب کرے گا۔ اور اس قوم کے جو لوگ اللہ کی عبادت اور نیک عمل کریں گے، دنیا میں ہم لوگ بھی اس سے اچھی طرح پیش آویں گے، اور عقبیٰ میں بھی ان کو بڑا اجر ملے گا ''۔ پھر فرمایا کہ ہم علام الغیوب ہیں، حضرت ذوالقرنین (علیہ السلام) کا پورا حال ہم کو معلوم ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس کے پاس کس قدر سپاہ تھی، اور اس کے پاس کیا کیا سامان تھا، اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا بالکل برحق ہے۔
Ayahs 18:92–97

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:92 in the Quran reader

پھر ایک سامان کے پیچھے چلا (شمال کی جانب)

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمَا قَوْمًا١ۙ لَّا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ قَوْلًا Open ayah 18:93 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا تو ان پہاڑوں سے اس طرف ایک ایسی قوم کو پایا کہ کوئی بات سمجھتے معلوم نہ ہوتے تھے

قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰۤى اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَهُمْ سَدًّا Open ayah 18:94 in the Quran reader

انہوں نے کہا :'' اے ذوالقرنین ! بیشک یاجوج ماجوج زمین میں فساد مچاتے ہیں پس کیا ہم آپ کے لئے کچھ مال مقرر کردیں اس شرط پر کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک مظبوط دیوار بنادیں ''

قَالَ مَا مَكَّنِّیْ فِیْهِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ رَدْمًاۙ Open ayah 18:95 in the Quran reader

ذوالقرنین نے کہا کہ جو کچھ میرے پروردگار نے مجھے قابو دیا ہے بہتر ہے، پس تم قوت بازو سے میری مدد کرو کہ میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مظبوط دیوار بنادوں

اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًا١ۙ قَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًاؕ Open ayah 18:96 in the Quran reader

مجھے لوہے کے تختے لادو '' (وہ لائے اور کام شروع ہوا) یہاں تک کہ جب وہ دونوں پہاڑوں کے کناروں کے برابر کردی تو کہا :'' (بھٹیاں سلگاؤ اور) اسے دھونکو '' یہاں تک کہ اس لوہے کو آگ کی طرح لال کردیا تو اس نے کہا :'' تم میرے پاس پگھلاکر تانبا لاؤ کہ اس پر ڈال دوں ''

فَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ یَّظْهَرُوْهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا Open ayah 18:97 in the Quran reader

پس (ایسی مظبوط اور بلند دیوار تیار ہوگئی کہ) یاجوج ماجوج نہ تو اس پر چڑھ سکے اور نہ اس میں سوراخ کرسکے

سد یا جو ماجوج کا ذکر مغرب کی طرف اور مشرق کی طرف کے سفر سے فارغ ہوکر حضرت ذوالقرنین (علیہ السلام) نے شمال کی طرف کا جو سفر کیا۔ ان آیتوں میں اس کا ذکر ہے کہ اس سفر میں وہ دو پہاڑوں کی گھاٹی میں پہنچا۔ ان پہاڑوں کی دوسری طرف قوم رہتی تھی، جس کے لوگ نہ دوسری قوم کی بات سمجھ سکتے تھے نہ ان کی بات کوئی دوسری قوم سمجھ سکتی تھی، مگر ذوالقرنین کو اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کی سمجھ دی۔ اور ان لوگوں نے حضرت ذوالقرنین (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ ان پہاڑوں کی پرلی طرف یاجوج ماجوج کی قوم رہتی ہے۔ اس قوم کے لوگ پہاڑوں کی گھاٹی میں سے ارلی طرف آن کر ہماری کھیتی اور جانوروں کو بہت نقصان پہنچاتے ہیں۔ ہم لوگ چندہ کرکے روپیہ دیتے ہیں۔ اس روپے کے خرچ سے ہمارے اور یاجوج ماجوج کے درمیان میں ایک دیوا بنا کر اسگھاٹی کو بند کردیا جوے۔ تو پھر یاجوج ماجوج ہم کو کچھ تکلیف نہ دے سکیں گے ''۔ اس پر ذوالقرنین نے کہا کہ مجھے تمہارا روپیہ لینے کی تو حاجت نہیں، جو کچھ میرے پروردگار نے دیا ہے وہ بہت خوب ہے، اور بہت کچھ ہے۔ تم صرف جسمانی مدد دو ، میں تمہارے اور ان کے درمیان آڑ کردوں گا۔ لوہے کے تختے میرے پاس لاؤ اور بنیاد کھودو جب تک پانی نہ نکلے ''۔ پھر اس میں پگھلائے ہوئے تانبے جمائے گئے، اور لوہے کے تختے اوپر نیچے چن کر ان کے درمیان لکڑی اور کوئل بھروادیا اور آگ دے دی، اس طرح یہ دیوار پہاڑی کی بلندی تک اونچی کردی گئی۔ اور دونوں پہاڑوں کے درمیان کوئی جگہ نہ چھوڑی گئی، اوپر سے پگھلا ہوا تانبہ دیوار میں پلا دیا گیا، یہ سب مل کر ایک سخت جسم بن گیا، اور وہ دیوار اس قسم کی ہوگئی کہ اس کی بلندی کی وجہ سے یاجوج ماجوج اس پر چڑھ نہ سکتے ہیں، اور اس کی مظبوطی کی وجہ سے اس میں سوراخ نہ کرسکتے ہیں۔ پھر حضرت ذوالقرنین (علیہ السلام) نے کہا کہ یہ رحمت الہی ہے، اور اس کے گرنے کا ایک وقت اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھا ہے۔ جب وہ وقت آئے گا تو یہ گرجائے گی اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ برحق ہے یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جب دجال کو قتل کر چکیں گے تو یہ وقت مقررہ آجاوے گا، سد یاجوج ماجوج وہ دیوار ہے جو کوہ یورال کے درہ کو بند کئے ہوئے ہے۔
Ayahs 18:98–101

قَالَ هٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّیْ١ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ١ۚ وَ كَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّاؕ Open ayah 18:98 in the Quran reader

(دیوار کو دیکھ کر) ذوالقرنین نے کہا :'' یہ میرے پروردگار کی مہربانی ہے پھر جب میرے پروردگار کا وعدہ آوے گا تو اس کو پاش پاش کردے گا اور میرے پروردگار کا وعدہ سچا ہے ''

وَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًاۙ Open ayah 18:99 in the Quran reader

اور ہم اس دن انہیں چھوڑیں گے کہ ان کا ایک گروہ دوسرے پر گھس جائے گا اور صور پھونکا جاوے گا تو ہم سب کو اکٹھا کریں گے

وَّ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِّلْكٰفِرِیْنَ عَرْضَاۙ Open ayah 18:100 in the Quran reader

اور ہم اس دن جہنم کو کافروں کے سامنے لائیں گے

اِ۟لَّذِیْنَ كَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِیْ وَ كَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا۠ Open ayah 18:101 in the Quran reader

(یہ) وہ لوگ (تھے) جن کی آنکھوں پر (دنیا میں) میری یاد سے پردہ پڑا تھا (اور وہ آیات الہیہ اور قرآن و ایمان سے اندھے بنے رہے) اور وہ (شدت بغض سے) حق بات سن نہ سکتے تھے

ارشاد ہوتا ہے کہ جس روز وہ دیوار ٹوٹے گی، یہ نقشہ ہوگا ایک دوسرے پو اژدہام کی وجہ سے گریں گے، ٹڈی دل کی طرح امڈ آویں گے۔ پھر اس کے بعد صور پھونکا جاوے گا، اہل دنیا نیست و نابود ہو کر دوبارہ زندہ ہوں گے، اور سب جمع کئے جاویں گے۔ اور اس روز کافروں کے سامنے جہنم کو لاویں گے تاکہ اس میں وہ ڈالے جاویں۔ وہ کافر لوگ ہیں جن کی آنکھوں پر دنیا میں پردے پڑے ہوئے ہیں، اور قرآن کی نصیحت سننے سے ان کے کان گویا بہرے ہیں۔ اس سبب سے ایسے لوگ مرتے دم تک اسی حالت پر رہ کر آخر کو مرجاویں گے اور قیامت کے دن دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔
Ayah 18:102

اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ نُزُلًا Open ayah 18:102 in the Quran reader

تو کیا کافروں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ میرے بندوں کو میرے سوا حمایتی بنائیں گے، بیشک ہم نے کافروں کی مہمانی کے لئے جہنم تیار کر رکھی ہے

قیامت میں عقائد پر جزا و سزا اس آیت میں فرمایا ایسے لوگ شیطان کے بہکا نے سے یہ سمجھتے ہیں کہ جن نیک لوگوں کی مورتوں (مجسموں) کی پوجا دنیا میں کرتے ہیں، عقبیٰ میں بھی نیک لوگ ان بت پرستوں کے کام آویں گے۔ پھر فرمایا یہ سمجھ ان لوگوں کی بڑی نادانی کی بات ہے۔ عقبیٰ میں وہ نیک لوگ ان کی بت پرستی سے بیزاری ظاہر کریں گے، اور اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ آخرت میں مشرک کی کسی طرح بخشش نہیں۔ اس واسطے ایسے لوگوں کی مہمانی کے واسطے دوزخ کی آگ تیار کر رکھی ہے۔
Ayahs 18:103–106

قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاؕ Open ayah 18:103 in the Quran reader

تم فرماؤ :'' کیا ہم تمہیں بتادیں کہ کون لوگ اعمال کے لحاظ سے بالکل خسارہ میں ہیں ''

اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا Open ayah 18:104 in the Quran reader

وہ لوگ جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں گم ہوگئی اور وہ یہی سمجھ رہے ہیں کہ ہم اچھا کام کر رہے ہیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآئِهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا Open ayah 18:105 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کی آیتوں کا اور اس سے ملنے کا (یعنی قیامت کا) انکار کررہے ہیں۔ پس (اس لئے) ان کے سارے کام غارت ہوگئے۔ پس ہم قیامت کے دن ان کے نک اعمال کا کوئی وزن قائم نہ کریں گے

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ رُسُلِیْ هُزُوًا Open ayah 18:106 in the Quran reader

یہ دوزخ ان کا بدلہ ہے اس لئے کہ انہوں نے کفر کیا اور میری آیتوں اور میرے رسولوں کی ہنسی بنائی

اس آیت میں فرمایا کہ اے محمد ﷺ ! ان سے کہ دو :'' کیا ہم تمہیں بتادیں کہ کس کا کام بیہودہ اور کس کی کوشش نکمی ہے، اور کون زیادہ نقصان میں ہے۔ پس زیادہ نقصان میں وہ لوگ ہیں جن کی کوشش دنیا میں الٹی ہوئی، اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے اچھے کام کئے یعنی اچھے عمل کئے، لیکن ان سب کے نیک اعمال اگر قیامت کے دن پہاڑ کے برابر بھی ہوں گے تو فسادعقیدہ کی وجہ سے ان کے سب عمل ایسے اکارت ہوجائیں گے جیسے ہوا میں ریت اڑجاتی ہے۔ اور ان کے عمل تولنے کے لئے ترازو بھی نہ کھڑی کی جاویگی۔ یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کے دلائل قدرت کو نہیں مانتے اور اس کے ملنے کا انکار کرتے ہیں ''۔ اور پھر فرمایا کہ کفار کی سزا جہنم ہے، اور اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے ہمارے ساتھ کفر کیا، اور ہمارے کلام پر اور ہمارے رسولوں پر ٹھٹھے اڑائے ہیں۔
Ayahs 18:107–108

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ Open ayah 18:107 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کہ ایمان لائے اور اچھے کام کئے ان کی مہمانی کے لئے فردوس کے باغات ہیں

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا Open ayah 18:108 in the Quran reader

وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (نہ ان کو کوئی نکالے گا اور) وہاں سے جگہ بدلنا نہ چاہیں گے

اس آیت میں ارشاد ہوا کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے، ان کا ٹھکانا جنت فردوس ہے۔ اللہ کی وحدانیت اور اللہ کے رسول کے سچے ہونے کا یقین ان کے دل میں ہے، اور زبان سے اس کا اقرار اور یقین کرتے ہیں۔ اور اس اقرار یقین کے موافق ہاتھ پیروں سے نیک عمل بھی کرتے ہیں۔ وہ جنت فردوس میں ہمیشہ رہیں گے اور وہاں سے ٹلنا نہ چاہیں گے۔
Ayah 18:109

قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا Open ayah 18:109 in the Quran reader

تم فرماؤ :'' اگر سمندر (کا پانی) میرے رب کی باتوں کے لکھنے کے لئے سیاہی ہو تو ضرور سمندر ختم ہوجائے گا اور میرے پروردگار کی باتیں ختم نہ ہوں گی اگرچہ ہم ویسا ہی اور (سمندر) اس کی مدد کو لے آئیں "

اللہ تعالیٰ کے علم کا ذکر شان نزول : اس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جب روح کی آیت نازل ہوئی کہ روح اللہ کا ایک حکم ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ لوگوں کو بہت تھوڑا سا علم دیا گیا ہے۔ روح کیا چیز ہے، بہت سے بھید اللہ کے بندوں کو معلوم نہیں۔ اس آیت کو سن کر یہود کے علماء نے کہا کہ ہمارا علم تھوڑا نہیں ہے۔ ہمارے پاس توریت ہے، جس میں دین ودنیا کا علم موجود ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، جس کے حاصل معنی وہی ہیں جو الہام الہیٰ سے حضرت خضر نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے رو برو اس وقت بیان کئے جبکہ حضرت موسیٰ اور خضر (علیہ السلام) کشتی میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اور ایک چڑیا نے ایک قطرہ پانی کا دریا میں سے پیا، اور حضرت خضر نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جتلا دیا کہ میرا اور تمہارا علم اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلہ میں اتنا ہے جتنا دریا کے مقابلہ میں یہ چڑیا کا پیا ہوا ایک قطرہ ہے۔ پھر جب حضرت موسیٰ ور حضرت خضر علہما السلام کے علم کو ملا کر اللہ کے علم کے مقابلہ میں قطرہ اور دریا کی نسبت ہے ، تو فقط توریت کے علم کو اللہ کے علم سے جو نسبت ہے وہ ظاہر ہے۔ غرض نظر عبرت سے اس قصہ کو یہود دیکھتے تو بنسبت اللہ کے علم کے توریت کے علم کو تھوڑا کہنے کو ضرور کلام الہی جانتے ۔
Ayah 18:110

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا۠ Open ayah 18:110 in the Quran reader

تو فرماؤ :" ظاہر صورت میں تو میں تم جیسا بشر ہوں۔ مجھے وحی آتی ہے کہ تمہارا معبعود (برحق) ایک ہی معبود ہے، پس جو شخص اپنے پروردگار سے ملنے کی امید رکھتا ہو اسے چاہئے نیک کام کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔

مشرکین کا ذکر : اصحاب کہف اور حضرت ذولقرنین (علیہ السلام) کا قصہ بیان کرنے کے بعد مشرکین کے قائل کرنے کے لئے فرمایا :" اے رسول اللہ کے ! تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ بشر ہونے میں تم اور میں برابر ہیں۔ پھر تم لوگوں کو کیا اتنی سمجھ نہیں کہ بغیر پڑھے لکھے قصے میں اس طرح سے کیونکر بیان کرسکتا ہوں جو پچھلی آسمانی کتابوں کے موافق ہیں۔ اور جو بات میں تم لوگوں کو آسمانی وحی کے موافق سمجھاتا ہوں، وہ بھی ہر شخص کی سمجھ میں آجانے کی بات ہے۔ جب اللہ نے تمہاری سب ضرورت کی چیزوں کو اس طرح سے پیدا کیا کہ اس میں کوئی اس کا شریک ثابت نہیں کرسکتے ، تو پھر اس وحدہ لاشریک کی تعظیم میں شریک ٹھہرانا بڑے وبال کی بات ہے " نیک عمل کرنے پر اپنی تعریف کی خواہش نہ کرنا : فمن کان یرجو لقاء ربہ الخ کا شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص ثواب آخرت کے خیال سے تو نماز روزہ اور نیک کام کرلے، لیکن کسی قدر اس کے دل میں یہ بھی خواہش ہو کہ لوگ اس کے نیک کام کی تعریف کریں، اور اس کو بڑا نیک گمان کریں۔ ایسے شخص کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ بس جو شخص اپنے پروردگار سے ملنے کی توقع رکھتا ہے اسے چاہئے کہ خالص نیک عمل کرے، اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔