Ayahs 20:1–24سورة طہ :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة طہ : مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کا عجیب واقعہ جو انہیں فرعون کے ساتھ پیش آیا بیان کرتی ہے اس سے بھی عجیب واقعہ خود اہل مکہ میں سے سیدنا عمر فاروق ؓ کا ایمان لانا اسی کے سبب سے ہوا ، ایک روز تنگ آکر گھر سے نکل پڑے کہ اس شخص نے شہر کا سکون چھین لیا ہے آخر ایک ہی تو بندہ ہے اسے قتل کر کے قصہ ختم کرنا چاہیے ، مراد نبی اکرم ﷺ کی ذات والا صفات تھی راستے میں ایک صحابی ؓ ملے تیمور دیکھ کر پوچھا کیا ارادے ہیں ، کہا یہ نئے مذہب والا فسانہ ختم کیا چاہتا ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ کسی اور طرف جانے سے پہلے گھر کی خبر لو تمہاری تو بہن بھی مسلمان ہوچکی ہے ، بڑے غصے میں پلٹے تو بہن کے دروازے پہ جا پہنچے اندر حضرت خباب ؓ بن ارت انہیں اور ان کے خاوند کو یہی سورة طہ پڑھا رہے تھے جس کی آواز انہوں نے بھی سنی کچھ سمجھ نہ آیا ، دروازہ کھولنے کو کہا تو انہوں نے حضرت خباب ؓ کو چھپا دیا ، دروازہ کھولا اور پوچھا تم کچھ پڑھ رہے تھے انہوں نے ٹالنا چاہا مگر کہا میں نے سنا ہے تم نے بھی نیا دین قبول کرلیا ہے اور بہنوئی پر جھپٹے ، بہن آڑے آئی تو اس کا سر پھٹ گیا تو ان دونوں نے برملا کہہ دیا کہ آپ نے ٹھیک سنا ہے اور جو کہ سکتے ہیں ضرور کریں ، حضرت (رح) نے حملہ حیدری جو شیعہ کی معروف تاریخ سے ہے علامہ باذل ایرانی کے اشعار نقل فرمائے ہیں کہ ان کی بہن نے کہا ۔
گرشاد باشی در ملول نمودیم دین محمد ﷺ قبول
گربکشی سربرآریم پیش ولے باز نگردیم از دین خویش :
ترجمہ : آپ خوش ہوں یا رنجیدہ خاطر حق یہ ہے کہ ہم نے دین محمد ﷺ قبول کرلیا ہے ، اگر آپ قتل بھی کرنا چاہیں تو سرحاضر ہے مگر اب ہم اپنے دین سے واپس نہ ہوں گے پھٹے ہوئے سر اور بہتے ہوئے خون کے ساتھ بہن کے ان الفاظ نے ان کا دل ہلا دیا ، کہنے لگے آخر پڑھ کیا رہے تھے مجھے بھی تو دکھاؤ ، صاحب علم تھے اور کلام کے حسن وقبحہ سے واقف مگر انہوں نے فرمایا بھائی یہ صحیفہ پاک ہے اور آپ نجس ، اگر دیکھنا ہو تو غسل کرلو یعنی قرآن وقت نزول سے لکھا جاتا تھا ۔
(جس قدر قرآن نازل ہوتا لکھ لیا جاتا)
یہ درست نہیں کہ عہد عثمانی میں لکھا گیا ، ہاں عرب نے اپنی اپنی لغت میں لکھنا شروع کردیا تھا اور وہ بھی جب اسلام عرب میں پھیل گیا تو حضرت عثمان ؓ نے سب کو پھر اسی ایک لہجے پر جمع فرمایا جو رسول اللہ ﷺ کا تھا ۔
انہوں نے غسل کر کے وہ ورق اٹھایا پڑھا تو اسی مبارک سورة کی ابتدائی آیات تھیں ششدر رہ گئے کہ کس قدر عجیب کلام ہے وہ کتنی عظیم ذات ہے جس کے قبضہ قدرت میں ہی سب کچھ ہے یہ سن کر حضرت خباب ؓ بھی باہر آگئے اور فرمایا عمر کل میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو یہ دعا کرتے سنا کہ اللہ ابی الحکم بن ہشام یا عمر بن الخطاب میں سے ایک کو اسلام کی قوت بنا دے میں یہ سمجھ رہا ہوں کہ وہ دعا تمہارے حق میں قبول ہوگئی ، اس طرح حضرت عمر ؓ نے ان کے ساتھ جا کر ایمان قبول کیا جو بہت مشہور واقعہ ہے ۔
(مرید اور مراد)
اور حضرت عمر ؓ مراد نبی قرار پائے جبکہ باقی ساری امت مرید نبی یہ آپ کی ذاتی اور جزوی فضلیت ہے طہ حروف مقطعات جن کی جن کی بات پہلے چکی کہ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے درمیان بھید ہیں ، ارشاد ہوتا ہے کہ نزول قرآن کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ آپ پر مشقت بن جائے نبی اکرم ﷺ دن بھر تبلیغ میں مشقت اٹھاتے تورات کو اس قدر قیام فرماتے کہ تلاوت کرتے کرتے پاؤں مبارک سوج جاتے اللہ کریم نے اس سے منع فرمایا ، چناچہ اس کے بعد آپ ﷺ اول رات آرام فرماتے اور آخرت تہجد میں قرآن پڑھا کرتے تھے ، آپ ﷺ کا یہ فعل خالص قرب الہی کے لیے تھا تو اللہ نے خود کو مشقت میں ڈالنے سے منع فرمایا تو حصول دنیا کے لیے قرآن کے چلے کاٹنا اور راتوں کو ایک ٹانگ پر کھڑا ہو کر پڑھنا کیسے درست ہو سکتا ہے ۔
(حصول دنیا کیلئے قرآن کے چلے اور رت جگے)
بلکہ خود اس غرض سے قرآن پڑھنے کی صورت جائز نہ ہوگی ہاں تلاوت سمجھنے کے لیے کرے ، اللہ کی رضا کے لیے کرے ، اس کے بعد اپنے دنیا کے کاموں کے لیے بھی ضرور دعا کرے تو درست ہے ، یہی مفہوم ان احادیث مبارکہ کا بھی ہے جن میں قرآنی سورتوں کا پڑھنا بعض امور میں مفید بتایا گیا ہے کہ تلاوت تو خلوص سے اللہ کی رضا کی خاطر کرے اور دعا بھی کرے محض حصول دنیا کا ذریعہ نہ بنا لے کہ ضرورت پڑی تو ساری رات پڑھا کام نکل گیا تو چھوڑ دیا ، واللہ اعلم ۔
بلکہ یہ کتاب تو ایسے لوگوں کے لیے جن میں اللہ کا خوف اور خشیت پیدا ہوجائے نصیحت اور رہنما ہے ۔
امام ابن کثیر (رح) نے یہاں ایک حدیث نقل فرمائی ہے جس کا مفہوم ہے کہ اللہ روز حشر علماء سے فرمائے گا میں نے تمہیں علم ہی اس لیے دیا تھا کہ تمہیں بخش دوں خواہ تم نے کتنے قصور کیے مجھے پرواہ نہیں مگر یہ یاد رہے کہ عالم وہی شمار ہوگا جس میں اللہ کی خشیت بھی موجود ہوگی کہ فرما دیا (آیت) ” لمن یخشی “ ۔ اور یہ کسی ایسی ہستی کی باتیں نہیں ہیں جسے جہاں کی خبر ہی نہ ہو یہ تو اس کا کلام ہے اور اس کی طرف سے نازل ہوا ہے جس نے زمینوں کو اور آسمانوں کو بلندیوں کو بنایا ہے اور ان کی ہر بات اس کی پیدا کی ہوئی ہے نیز بنانے کے بعد بھی تو ان کو چھوڑ نہیں دیا ۔
(استوی علی العرش)
بلکہ وہ بہت بڑا مہربان عرش پہ قائم سے مراد ہے کہ عرش الہی کو ان سب باتوں کا مرجع اور مدار بنا دیا ہے یا جدید لغت میں عرش ان سب زمینوں اور آسمانوں کا صدر دفتر یا سیکرٹریٹ ہے ورنہ اللہ جگہ اور جہت سے بہت بلند اور پاک ہے ، آج کل مسلمانوں کا طبقہ اسی مذہب کی اشاعت کرتا ہے کہ اللہ ذاتی طور پر تو عرش پر تشریف فرما ہے مگر اس کا علم ہر شے کے ساتھ ہے جبکہ حق یہ ہے کہ اس کی ذات ہر شے کو محیط ہے اور متقدمین مفسرین نے اس بات کا خوب جواب دیا ہے کہ اگر یہ جانا جائے کہ اللہ کرسی پر تشریف فرما ہے تو اس کی ایک جہت تو معلوم ہوئی جو کرسی کے ساتھ ہے تو محدود ہوا اور محدود فانی ہوتا ہے لہذا یہ عقیدہ درست نہیں ، حضرت (رح) نے اس جگہ نوٹ دیا ہے کہ سلف صالحین کا عقیدہ یہ ہے کہ معنی معلوم کیفیت مجہول یعنی کیفیت کے بارے میں کوئی نہیں جان سکتا ۔
اور سب کچھ جو آسمانوں میں ہے یا زمینوں پر ہے یا زیر زمین جہاں انسانی علوم وآلات بھی نہیں پہنچ پاتے وہ اسی کا ہے کوئی آواز سے بولے یا دل میں سوچے وہ سب جانتا ہے بلکہ وہ ایسی باتیں بھی جانتا ہے جو فی الحال سوچنے والے کے دل میں نہیں آئیں اور وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی بھی عبادت کا مستحق نہیں اور سارے خوبصورت نام اسی کے ہیں ۔
تو کیا آپ نے موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ سنا ؟ کہ اس میں وہ مشکلات بیان ہوئیں ، جو انبیاء کرام (علیہ السلام) کو تبلیغ رسالت میں پیش آتی ہیں اور یقینا آپ کو بھی آئیں گی لہذا ساری رات کھڑا رہنے کی بجائے آپ ﷺ کو اس طرف متوجہ کرنا مقصود تھا یہ بھی ثابت ہوا کہ محض چلہ کشی وغیرہ سے مخلوق کی اصلاح کے لیے محنت کرنا افضل بھی ہے اور ضروری بھی ۔
(خلق خدا کی اصلاح کے لیے محنت زیادہ افضل ہے)
یہاں اس واقعہ کو اس جگہ سے لیا ہے جب انہیں نبی ورسول کی حیثیت سے مبعوث فرمایا گیا ، دوسری جگہ مذکور ہے کہ فرعون نے ان کو قتل کا حکم دیا تو وہ اس کے سپاہیوں سے بچ کر ملک سے نکل گئے ، مدین میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس پہنچے ۔
شادی بھی کی اور ان کی خدمت کرتے رہے حتی کہ جتنے عرصے کا وعدہ کیا تھا پورا کرکے رخصت ہوئے کہ گھر میں رہ جانے والوں ماں بہن اور بھائی سے بچھڑے دس برس ہوچکے تھے اور اتنے عرصے میں بات بھی پرانی ہوچکی ہوگی تو چھپ چھپا کر روانہ ہوئے ، خادم اور اہلیہ ساتھ تھیں راستے سے ہٹ کر سفر کر رہے تھے کہ طور پہاڑ کی دائیں جانب وادی میں پہنچے تو رات نے آلیا موسم سرد تھا لہذا رات کو ٹھنڈ مزید بڑھ گئی تو طور کی ایک گھاٹی میں روشنی دیکھی سمجھے آگ ہے تو گھر والوں سے فرمایا تم لوگ یہاں ٹھہرو میں آگ لے کر آتا ہوں اور وہاں یقینا کوئی راہ بتانے والا بھی مل جائے گا جب وہاں پہنچے تو عجیب منظر تھا کہ ایک درخت کو آگ نما شعلوں نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا اور وہ بجائے جلنے کے مزید شاداب اور تروتازہ لگ رہا تھا ، اسی حیرت میں غرق تھے کہ آواز آئی ، اے موسیٰ میں تمہارا پروردگار تم سے بات کر رہا ہوں ، مفسرین فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ آواز اس طرح سنی کہ ہر طرف سے آرہی ہے اور صرف کان ہی نہیں سن رہے سارا بدن کان بن گیا ہے اور سارا بدن سن رہا ہے ۔
(الھام یا القاء ووجدان میں یقین کی کیفیت موجود ہوتی ہے)
یہاں یہ سوال بھی نقل فرمایا کہ بھلا انہیں یقین کیسے آیا کہ یہ رب ہی کی آواز ہے تو جواب خوب ارشاد فرمایا کہ اللہ جل جلالہ نے ان کے قلب کو اس پر مطمئن کردیا کہ یقین کرلیں ، یعنی جن اہل اللہ کو کشف نہ بھی ہو مگر وجدان نصیب ہو تو اللہ کی طرف سے بات ان کے قلب میں آجاتی ہے اور اس کے ساتھ یقین کی دولت بھی ہوتی ہے کہ قلب مطمئن ہوجاتا ہے ، اگر شیطانی القا شامل ہوجائے تو یقین کی کیفیت ختم ہوجاتی ہے ۔
(اللہ کا کلام بلاواسطہ سننا)
مفسرین کرام نے یہاں احادیث کا حوالہ بھی دیا ہے اور ظاہر بھی ہے کہ جب پکارا ہی براہ راست یا موسیٰ کہہ کر گیا تو آپ نے کلام ربانی کو بلاواسطہ سنا ، گویا اللہ چاہے تو اللہ جل جلالہ کا کلام بلاواسطہ سننا نصیب ہو سکتا ہے کہ معجزات انبیاء ہی کرامات اولیاء بنتے ہیں ، نیز ارشاد ہوا کہ جوتے اتار دیں کہ آپ طوی کی مقدس وادی میں ہیں ۔
(جوتے اگر پاک ہوں تو ان میں نماز ادا کی جاسکتی ہے)
ایک تو جوتے اتارنا ادب کا اظہار بھی ہے نیز اس وقت غالبا جوتے بغیر دباغت کے کھال سے بنتے تھے اگر دباغت کی گئی ہو اور جوتے پاک ہوں تو ان میں نماز تک درست ہے ۔ آپ ﷺ سے اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین سے ثابت ہے مگر یورپ اور مغرب کے بنے ہوئے جوتوں کو خوب پرکھنا چاہیے کہ اندر اکثر سؤر کا چمڑہ لگا دیتے ہیں اور وہ دباغت سے بھی پاک نہیں ہوتا ، ان میں نہ نماز ہوگی اور اگر چھو گیا تو پاؤں بھی ناپاک ہوجائے گا ۔
اور میں نے تمہیں نبوت و رسالت کے لیے چن لیا ہے کہ نبوت ہمیشہ اللہ کی طرف سے عطا ہوتی ہے ، لہذا جو وحی آرہی ہے اسے پوری توجہ سے سنیں اور اسی طرح حدیث شریف میں ارشاد ہے قرآن کو پورے ادب اور توجہ سے سنا جائے حتی کہ ہاتھ پاؤں وغیرہ یا کوئی عضو بھی کسی اور حرکت میں مصروف نہ ہوں تو اللہ کریم سمجھنے کی توفیق عطا فرماتے ہیں ۔
(قرآن سننے کا ادب)
اور میں ہی اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ، لہذا میری ہی عبادت کر اور میری یاد اور میرے ذکر کے لیے نماز ادا کیا کر ، صاحب معارف فرماتے ہیں کہ ذکر اللہ نماز کی روح ہے اور نماز میں دل سے زبان سے ، اعضاوجوارح سے ذکر کی سعادت نصیب ہوتی ہے ۔
(ذکر اللہ نماز کی روح ہے)
بہرحال عبادات سب محدود ہیں جبکہ ذکر بہرحال اور ہر آن لازم ہے اور بیشک قیامت قائم ہونے والی ہے ، یہ اللہ جل جلالہ کی حکمت کہ اس کے وقت کو ہر ایک سے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہے جس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ ہر نفس کو اس کے عمل کا بدلہ دیا جائے یہ تو اللہ کریم کا احسان ہے کہ بندوں کو اس کے قائم ہونے کی خبر کردی کہ اس روز کے لیے تیاری کرسکیں ورنہ ہر شخص کے سر پہ اس کی شخصی قیامت یعنی موت کھڑی ہے اور پھر سب عالم کو یکجا حاضر آکر جواب دینا ہے اور کوئی منکر قیامت کسی طور بھی اللہ جل جلالہ کی عبادت سے نہ روک سکے نہ طاقت سے اور نہ لالچ سے کہ وہ خود تو دنیا اور خواہشات نفس میں ڈوب کر ایمان کھو چکا ہے اور کسی ماننے والے یا ایماندار کو نہ روک دے کہ وہ تباہ ہوجائے ، پھر ارشاد ہوا یہ آپ کے ہاتھ میں کیا ہے ؟ عرض کیا بارے الہا یہ عام سی لاٹھی ہے میں اس پر ٹیک لگا لیتا ہوں اور بکریاں چرانے میں کام آتی ہے اور بہت سے کاموں میں استعمال کرتا ہوں ۔
(حسن طلب)
بڑا سادہ سا سوال تھا اور مختصر جواب دیا جاسکتا تھا کہ عصا ہے مگر عجب لطف وکرم کی بارش دیکھی تو مزید دامن بھر لیا کہ ساری کائنات میں سب سے زیادہ پر لطف اللہ کا کلام ہے اور پھر جب کسی کو بلاواسطہ نصیب ہو تو کیا کہنے ، جنت کی بیشمار نعمتوں میں سے سب سے زیادہ لذید دیدار باری اور لطف کلام ہی ہوگا جو اللہ جل جلالہ جسے چاہے یہاں بھی نصیب کر دے ، لوگ شہروں کی رونقوں پہ فدا ہیں اور وہاں جنگل میں بحر کرم کی موجیں اٹھ اٹھ کر تجلیات ذاتی کو بےنقاب کر رہی ہیں مگر حسن طلب میں حد ادب بہرحال شرط ہے ، اگرچہ بات لمبی ضرور کرلی مگر اتنی نہیں کہ حد ادب عبور کر جائے اور بہت سے کام بھی اس سے لیتا ہوں کہہ کر مختصر بھی کردی ۔ ” سبحان اللہ “۔
ارشاد ہوا پھینک دو اسے اے موسیٰ ، جب آپ نے ڈال دیا تو ایک بہت بڑا اژدھا بن گیا جو ادھر ادھر دوڑنے لگا تو بتقاضائے بشریت آپ ذرا جھجکے ، ارشاد ہوا خوف نہ کھائیں اور اسے پکڑ لیا ، جیسے آپ اسے پکڑیں گے ہم اسے پہلی صورت پہ لوٹا دیں گے یعنی پھر سے عصا بن جائے گا اور اپنا ہاتھ بغل میں دے کر نکالیں ، وہ روشن ہو کر نکلے گا یہ دوسرا معجزہ ہے اور یہ اس لیے ہے کہ آپ اللہ جل جلالہ کی قدرت کا تماشا کرلیں ، اب یہ دلائل نبوت لے کر فرعون کے پاس جائیں کہ وہ حد سے بڑھ چکا ہے ثابت ہوا کہ نبی کا معجزہ اس کی صداقت کی دلیل ہوتا ہے ۔
(معجزہ دلیل حقانیت اور نبی کی قوت اس کی صداقت ہوتی ہے)
اور اس کی اصل قوت اس کی صداقت ہی ہوتی ہے جس کے ساتھ وہ مبعوث ہوتا ہے لہذا ولی کی کرامت بھی وہ محیر العقول واقعہ ہوگا جو نبی (علیہ السلام) کی صداقت کی دلیل اور قیام دین کا سبب بنے ورنہ شعبدہ بازی ہوگی نیز ولی کے کردار کی صداقت بھی ساتھ ہوگی ، تب ظہور کرامت ہو سکے گا ۔