Ayah 20:1طٰهٰ : ظاہر یہی ہے کہ یہ حروف مقطعات میں سے ہیں، کیونکہ یہ دونوں حرف دوسری جگہ مقطعات میں استعمال ہوئے ہیں، ”طا“ ”طٰسۗمّۗ“ (شعراء) میں اور ”ہا“ ”كۗهٰيٰعۗصۗ“ (مریم) میں۔ مقطعات کی تفسیر کے لیے سورة بقرہ کی پہلی آیت کی تفسیر دیکھیے۔ عبد الرزاق نے اپنی صحیح سند کے ساتھ قتادہ اور حسن کا قول نقل کیا ہے کہ ”طٰهٰ“ کا معنی ہے ”یَا رَجُلُ !“ اے آدمی ! کیونکہ قبیلہ بنوعک میں یہ ` لفظ اس معنی میں بولا جاتا تھا، مگر پہلی بات زیادہ صحیح ہے، کیونکہ قرآن مجید قریش کی لغت میں نازل ہوا ہے۔
Ayah 20:2مَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰٓی : ”شَقِيَ یَشْقٰی شَقَاوَۃً وَ شَقَاءً“ بروزن ”رَضِیَ یَرْضَی“ یہ سعادت کی ضد ہے۔ سعادت کی دو قسمیں ہیں، دنیوی اور اخروی۔ اسی طرح شقاوت کی بھی دو قسمیں ہیں، دنیوی اور اخروی۔ اخروی شقاوت بدبختی و بدنصیبی ہے، جیسا کہ کفار کہیں گے : (رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا) [ المؤمنون : 106 ] ”پروردگار ! ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی۔“ دنیوی شقاوت ایسے کاموں میں پھنس جانا جو مشقت اور تھکاوٹ کا باعث ہوں، جیسے کہتے ہیں ”فُلاَنٌ أَشْقَی مِنْ رَاءِضِ مُھْرٍ“ ”فلاں گھوڑی کے بچھیرے کو سدھانے والے سے بھی زیادہ مشقت اور مصیبت میں پھنسا ہوا ہے۔“ مفسرین نے اس آیت کے دو معنی بیان فرمائے ہیں اور دونوں درست ہیں۔ ایک یہ کہ رسول اللہ ﷺ نزول وحی کے بعد ہر وقت اس فکر میں رہتے تھے کہ سب لوگ مسلمان ہوجائیں، اس کے لیے آپ دن رات دعوت و تبلیغ کے لیے اتنی مشقت اٹھاتے اور کفار کی بےرخی پر اس قدر غمزدہ ہوتے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ اتنی بھی مشقت اور فکر کیا کہ آپ مصیبت ہی میں پڑجائیں، ہم نے آپ پر یہ قرآن شقاوت کے لیے نہیں بلکہ آپ کی سعادت کے لیے اتارا ہے۔ آپ کے ذمے یہ نہیں کہ تمام لوگوں کو مسلمان کرکے چھوڑیں۔ آپ کا کام نصیحت ہے، پھر جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ قبول کرلے گا، دوسروں کے آپ ذمہ دار نہیں ہیں۔ لوگوں کے مسلمان نہ ہونے پر رسول اللہ ﷺ کے غم و افسوس کا اور آپ کو تسلی دینے کا ذکر بہت سی آیات میں ہے، مثلاً : (فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا) [ الکہف : 6 ] ”پس شاید تو اپنی جان ان کے پیچھے غم سے ہلاک کرلینے والا ہے، اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائے۔“ اور فرمایا : (لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ) [ الشعراء : 3 ] ”شاید تو اپنے آپ کو ہلاک کرنے والا ہے، اس لیے کہ وہ مومن نہیں ہوتے۔“ دوسرا معنی اس آیت کا یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ عبادت خصوصاً قیام میں بہت محنت کرتے، تو اللہ تعالیٰ نے اس میں میانہ روی کا حکم دیا اور فرمایا : (فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ) [ المزمل : 20 ] یعنی اے نبی ! آپ جتنا قیام آسانی سے کرسکتے ہیں کریں۔ تفصیل کے لیے سورة مزمل کا آخری رکوع ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 20:3ۙاِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ يَّخْشٰى : ”ۙاِلَّا“ کے ساتھ استثنا منقطع ہے، کیونکہ ”تَذْكِرَةً“ شقاوت میں شامل نہیں ہے، لہٰذا یہاں ”ۙاِلَّا“ بمعنی ”لٰکِنَّ“ ہے، چناچہ یہاں اس کا ترجمہ ”بلکہ“ کیا گیا ہے اور یہ جو فرمایا کہ اس قرآن کو اس شخص کی نصیحت کے لیے اتارا جو ڈرتا ہے، اس سے مراد یہ نہیں کہ قرآن دوسرے لوگوں کی نصیحت کے لیے نہیں اترا، کیونکہ قرآن بلکہ پورا دین ہر انس و جن تک پہنچانے کے لیے اتارا گیا ہے، جیسا کہ فرمایا : (يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ) [ المائدۃ : 67 ] ”اے رسول ! پہنچا دے جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے۔“ اور نبی ﷺ قیامت تک آنے والے تمام لوگوں کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ (دیکھیے سبا : 28) بلکہ مقصد یہ ہے کہ اس سے فائدہ وہی اٹھائے گا جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، جسے اللہ اور آخرت کا ڈر نہیں اسے صحیح راستے پر ڈال دینا آپ کے ذمے نہیں، جیسا کہ فرمایا : (ۭسَيَذَّكَّرُ مَنْ يَّخْشٰى 10 ۙوَيَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَى) [ الأعلٰی : 10، 11 ] ”عنقریب نصیحت حاصل کرے گا جو ڈرتا ہے اور اس سے علیحدہ رہے گا جو سب سے بڑا بدنصیب ہے۔“ علاوہ ازیں دیکھیے سورة بقرہ (1 تا 5) ، سورة ق (45) اور نازعات (45)۔
Ayah 20:4”َنْزِيْلًا“ فعل محذوف کی وجہ سے منصوب ہے جو ”مَا اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ“ سے معلوم ہو رہا ہے، یعنی ”نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْآنُ تَنْزِیْلاً۔“ تنزیل کا معنی تھوڑا تھوڑا کرکے اتارنا ہے، اس کی حکمت کے لیے دیکھیے سورة فرقان کی آیت (32) ”الْعُلٰى“ ”عُلْیَا“ کی جمع ہے جو ”أَعْلٰی“ کی مؤنث ہے، جیسے ”کُبْرٰی“ کی جمع ”کُبَرٌ“ ہے، یعنی یہ قرآن کسی جادوگر، کاہن، شاعر، شیطان، جن، انسان، فرشتے یا کسی بھی مخلوق کا کلام نہیں، بلکہ اس خالق کا نازل کردہ ہے جو صرف تمہارا ہی خالق نہیں بلکہ اس عظیم الشان زمین کا، جس کے اوپر اور ان بیحد بلند و بالا آسمانوں کا، جن کے نیچے تم رہتے ہو، سب کا خالق وہی ہے۔ دیکھیے سورة نازعات (27 تا 33) اس سے اس قرآن کی عظمت سمجھ لو کہ کیا یہ اپنے لانے والے یا اپنے ماننے والوں کے لیے کسی طرح بھی باعث شقاوت ہوسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں ! بلکہ یہ ان کے لیے سراسر سعادت ہی سعادت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ الدِّیْنَ یُسْرٌ وَلَنْ یُّشَادَّ الدِّیْنَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَہٗ فَسَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَأَبْشِرُوْا وَاسْتَعِیْنُوْا بالْغَدْوَۃِ وَالرَّوْحَۃِ وَشَيْءٍ مِنَ الدُّلْجَۃِ) ”بیشک یہ دین آسان ہے اور کوئی بھی شخص دین میں جب بھی بےجا سختی کرے گا تو وہ اس پر غالب آجائے گا۔ تو تم سیدھے چلو اور قریب رہو اور (اللہ سے ملنے والے اجر پر) خوش ہوجاؤ اور صبح و شام اور رات کے کچھ حصے (میں عبادت) کے ساتھ مددحاصل کرو۔“ [ بخاري، الإیمان، باب الدین یسر : 39، عن أبي ہریرہ ؓ ]
Ayah 20:5اَلرَّحْمَنُ عَلَي الْعَرْشِ اسْتَوٰى: یعنی آپ پر قرآن کا نازل کرنا اور زمین اور بلند آسمان کو پیدا کرنا جس بیحد رحم والے کی رحمت کا نتیجہ ہے وہ رحمٰن عرش پر بلند ہے۔ عرش کا لفظی معنی تخت ہے اور ”اسْتَوٰى“ کا معنی ”اِرْتَفَعَ“ (بلند ہوا) ہے۔ عرش کے اوپر اللہ تعالیٰ ہے اور پوری کائنات کی تدبیر فرما رہا ہے، فرمایا : (ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ) [ یونس : 3 ] ”پھر وہ عرش پر بلند ہوا، ہر کام کی تدبیر کرتا ہے۔“ اس آیت اور دوسری آیات سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر ہے، مگر یہ بات کہ وہ عرش کے اوپر کس طرح ہے ؟ کھڑا ہے یا بیٹھا ہے یا کس کیفیت میں ہے ؟ کوئی نہیں جانتا، نہ جان سکتا ہے، کیونکہ مخلوق محدود ہے اور وہ لامحدود۔ مخلوق میں سے کوئی بھی خالق کو تو کجا اس کی معلومات میں سے بھی کوئی چیز پوری طرح نہیں جان سکتا، مگر جو وہ چاہے، فرمایا : (وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ) [ البقرۃ : 255 ] ”اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرتے مگر جتنا وہ چاہے۔“ صحابہ کرام ؓ نے، جو انبیاء ؑ کے بعد اللہ تعالیٰ کے بارے میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے تھے، نبی ﷺ سے یہ سوال نہیں کیا کہ وہ اپنے تخت پر کس طرح ہے ؟ اسی لیے کسی شخص نے امام مالک ؓ سے ”اَلرَّحْمَنُ عَلَي الْعَرْشِ اسْتَوٰى“ کے متعلق پوچھا کہ کس طرح ؟ تو انھوں نے فرمایا : ”اَلْاِسْتِوَاءُ مَعْلُوْمٌ وَالْکَیْفُ مَجْھُوْلٌ وَالسُّؤَالُ عَنْہُ بِدْعَۃٌ“ ”یہ بات سب جانتے ہیں کہ وہ عرش کے اوپر ہے، مگر یہ کسی کو معلوم نہیں کہ کس طرح ہے اور اس کے متعلق سوال بدعت ہے۔“ مزید فرمایا : ”میں تمہیں برا آدمی خیال کرتا ہوں، اسے میرے پاس سے نکال دو۔“ تو سوال کرنے والا یہ کہتا ہوا چلا گیا کہ اے ابو عبد اللہ ! میں نے اس کے متعلق اہل عراق اور اہل شام سے پوچھا مگر کسی کو آپ (کے صحیح جواب) جیسی توفیق عطا نہیں ہوئی۔ (تفسیر بغوی)
خلاصہ یہ کہ جو بات اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے بتائی ہے اس پر ایمان رکھنا فرض ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے، اللہ تعالیٰ کے عرش کو قیامت کے دن آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے (دیکھیے حاقہ : 17) اس کے پائے بھی ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَلنَّاسُ یَصْعَقُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَأَکُوْنُ أَوَّلَ مَنْ یُّفِیْقُ فَإِذَا أَنَا بِمُوْسٰی آخِذٌ بِقَاءِمَۃٍ مِنْ قَوَاءِمِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِيْ أَفَاقَ قَبْلِيْ أَمْ جُوْزِيَ بِصَعْقَۃِ الطُّوْرِ) ”لوگ قیامت کے دن بےہوش ہوجائیں گے تو سب سے پہلا شخص جو ہوش میں آئے گا میں ہوں گا۔ اچانک میں موسیٰ ؑ کو دیکھوں گا کہ وہ عرش کے پایوں میں سے ایک پائے کو پکڑے ہوئے ہوں گے، تو میں نہیں جانتا کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے، یا انھیں طور کی بےہوشی کا بدلہ دیا گیا۔“ [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللّٰہ تعالیٰ : (وواعدنا موسیٰ ثلاثین۔۔) : 3398، عن أبي سعید الخدري۔ ] مگر اللہ کا عرش پر ہونا یا اس کی کوئی بھی صفت مخلوق کی صفت کے مشابہ نہیں، فرمایا : (لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ) [ الشورٰی : 11 ]”اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔“ تمام سلف کا اللہ تعالیٰ کے عرش پر بلند ہونے اور دوسری صفات کے متعلق یہی عقیدہ ہے۔ خیر القرون گزرنے کے بعد جب عقیدہ و اعمال کی بدعات شروع ہوئیں تو اللہ تعالیٰ کے متعلق آیات و احادیث کی بھی اپنی اپنی بدعات کے مطابق تاویل بلکہ تحریف کی جانے لگی۔ چناچہ بہت سے لوگوں نے کہا کہ عرش کے اوپر ہونے کا مطلب زمین و آسمان کی حکومت کا مالک ہونا ہے، ورنہ نہ کوئی عرش ہے اور نہ اللہ تعالیٰ اس کے اوپر ہے۔ وہ نہ اوپر ہے نہ نیچے اور نہ کسی اور جہت میں، نہ وہ آسمان دنیا پر اترتا ہے اور نہ قیامت کے دن زمین پر آئے گا۔ غرض تاویل کے نام پر صریح آیات و احادیث کا انکار کردیا۔ مگر اتنے بڑے بڑے علماء پر تعجب ہوتا ہے کہ انھوں نے اتنی جرأت کے ساتھ اس عرش عظیم و کریم کا انکار کیسے کردیا کہ جس پر اپنے بلند ہونے کا ذکر خود رحمٰن نے فرمایا اور جسے قیامت کے دن تمام لوگوں کے اوپر آٹھ فرشتوں کے اٹھانے کا ذکر قرآن کریم نے فرمایا ہے اور جس کے پایوں کا ذکر اس کے حبیب ﷺ نے فرمایا ہے۔ [ فَنَعُوْذُ باللّٰہِ مِنْ ھٰذِہِ الْأَھْوَاءِ الْمُضِلَّۃِ وَالْعَقَاءِدِ الْبَاطِلَۃِ وَ خُذْلَانِ رَحْمَۃِ اللّٰہِ تَعَالٰی ] مزید دیکھیے سورة اعراف (54) ، حاقہ (17) اور سورة فجر (22) مفسر جمال الدین قاسمی لکھتے ہیں : ”فلکیات کے جدید ماہرین کی تحقیق سے ثابت ہوچکا ہے کہ عرش ایک حقیقی وجود ہے جس کا باقاعدہ جسم ہے، کائنات کے جتنے عالم ہیں وہ سب کا مرکز ہے، یعنی جذب، تاثیر، تدبیر اور نظام سب کا مرکز ہے (تمام کہکشائیں جن کا ایک ایک سیارہ سورج سے بھی ہزاروں گنا بڑا ہے، اسی کے گرد گردش کر رہی ہیں اور اس کے انکار یا تاویل کی گنجائش ہی نہیں)۔“ اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ”کہ ہم انصاف کے ترازو قیامت کے دن رکھیں گے“ کے متعلق جب عقل پرستوں کی عقل میں یہ بات نہ آسکی کہ اعراض کا وزن کیسے ہوگا تو انھوں نے وزن اعمال کا انکار کردیا، یا تاویل کردی۔ جب کہ جدید ایجادات میں تقریباً ہر چیز کا میٹر تیار ہوچکا ہے، بجلی، بخار، حرارت، سردی، کثافت، نمی، خشکی غرض بیشمار اعراض کے ماپنے تولنے کے پیمانے وجود میں آ چکے ہیں جن کی وجہ سے عقل پرستوں کے انکار اور تاویل کا تاروپود بکھر چکا ہے۔
3 اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے زمین پر قرآن نازل فرمایا، اس لیے پہلے اس کا ذکر فرمایا، پھر بلند آسمان کا، پھر رحمٰن کے عرش پر ہونے کا کہ دیکھو یہ رحمت کہاں سے نازل ہوئی اور کس عظیم شخصیت پر نازل ہوئی۔ اس میں قرآن کی رفعت و عظمت کا بھی بیان ہے اور صاحب قرآن کی عظمت کا بھی۔ مزید آپ ﷺ کو اور آپ کی امت کو اس نعمت کی قدر کا احساس دلانا بھی ہے اور کفار کی طرف سے پیش آنے والی مزاحمت اور مصائب و تکالیف کے مقابلے میں تسلی اور خوش خبری بھی کہ اس رحمٰن کی پشت پناہی حاصل ہونے کے بعد تمہیں کس بات کی پروا ہے۔ اس کے بعد موسیٰ ؑ کا ذکر تفصیل سے کیا کہ انبیاء اور ان کے ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ کی نصرت و تائید کس کس طرح حاصل ہوتی ہے اور انھیں کیا کیا آزمائشیں پیش آتی ہیں۔
Ayah 20:6لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ۔۔ : ”الثَّرٰى“ گیلی مٹی کے نیچے سے مراد زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے، یعنی وہ عرش پر مستوی ہو کر آسمانوں سے لے کر زمین کی آخری گہرائی تک ہر چیز کی تدبیر ہی نہیں کر رہا بلکہ ان سب کا مالک بھی وہ اکیلا ہی ہے۔ ملک بھی اسی کا ہے، ملکیت بھی اسی کی۔ حاکم بھی وہی ہے، مالک بھی وہی۔ ہر چیز کا وجود، حرکت، سکون، تغیر یا ثبات سب کچھ اسی کے امر سے ہے۔
Ayah 20:7وَاِنْ تَجْــهَرْ بالْقَوْلِ۔۔ : یعنی اگر تم اونچی آواز سے بات کرو تو وہ اسے بالاولیٰ سنتا ہے، کیونکہ وہ تو سر (پوشیدہ بات) کو جانتا ہے اور اخفی (اس سے زیادہ پوشیدہ) کو بھی۔ سر سے مراد وہ بات ہے جو تنہائی میں چپکے سے کہی جائے اور اخفیٰ (اس سے زیادہ چھپی بات) وہ ہے جو ابھی دل میں ہو اور زبان پر نہ آئی ہو۔
Ayah 20:8اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ۔۔ : یعنی جس ہستی کی یہ صفات بیان ہوئی ہیں وہ اللہ ہے جس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ ”لَهُ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة اعراف (180)۔
Ayahs 20:9–11وَهَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ مُوْسٰى : قرآن کی عظمت کے ذکر اور دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کی مشقت اور تکلیف کی طرف اشارہ فرما کر اب یہاں سے موسیٰ ؑ کا قصہ بیان کیا جا رہا ہے، اس سے مقصود آپ ﷺ کو تسلی دینا ہے، کیونکہ جن دنوں یہ سورت نازل ہوئی مکہ میں نبی ﷺ کو ایسے ہی حالات درپیش تھے، جیسے موسیٰ ؑ کو پیش آچکے تھے۔ اس کے علاوہ گزشتہ آیت میں ”اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ“ کے ساتھ توحید کا جو بیان ہوا تھا اس کی مزید وضاحت مقصود ہے کہ ہر نبی یہی دعوت لے کر آیا۔ خصوصاً گزشتہ انبیاء میں سے جس نبی کے واقعات سب سے زیادہ مشہور ہیں انھیں بھی پہلی وحی میں آگاہ کردیا گیا : (اِنَّنِيْٓ اَنَا اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدْنِيْ) [ طٰہٰ : 14 ] اور سورت کے آخر میں بھی یہی بات دہرائی : (اِنَّمَآ اِلٰــهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۭ وَسِعَ كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا) [ طٰہٰ : 98 ] ”تمہارا معبود تو اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس نے ہر چیز کو علم سے گھیر رکھا ہے۔“
”وَهَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ مُوْسٰى“ یہ ”مَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰٓي“ پر عطف ہے، یعنی نزول وحی آپ کے لیے باعث شقاوت نہیں بلکہ باعث سعادت ہے، جیسا کہ موسیٰ ؑ کے لیے یہ نعمت باعث سعادت تھی۔ اور کیا آپ کو موسیٰ کی خبر پہنچی کہ ان کو یہ سعادت ملنے کا آغاز کیسے ہوا ؟ استفہام ان کی خبر سننے کا شوق دلانے کے لیے ہے، پوچھنے کے لیے نہیں۔ آگ دیکھنے کا ذکر مزید شوق دلانے کے لیے ہے کہ معلوم ہو آگ دیکھنے کے بعد کیا ہوا ؟ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب مدین میں دس سال تک جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے بعد موسیٰ ؑ اپنے اہل و عیال سمیت مصر آ رہے تھے۔ اس قصے کا کچھ حصہ سورة یونس اور سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔ یہاں جو بات ذکر ہوئی ہے اس سے پہلے کی سرگزشت کا ذکر سورة قصص میں ہے۔
”جب اس نے آگ دیکھی“ سے معلوم ہوا کہ یہ رات کا وقت تھا اور سردی کا موسم تھا۔ گھر والے ساتھ تھے اور سب کو رات گزارنے کے لیے آگ کی ضرورت تھی۔ سورة قصص (29) اور سورة نمل (7) میں ہے : (لَعَلَّکُمْ تَصْطَلُوْنَ) ”تاکہ تم تاپ لو۔“ ”اَوْ اَجِدُ عَلَي النَّارِ هُدًى“ سے معلوم ہوا کہ موسیٰ ؑ راستہ بھول گئے تھے، آگ جلانے کا پتھر (چقماق) پاس نہیں تھا، اگر تھا تو سردی کی شدت یا لکڑیوں کی نمی کی وجہ سے آگ نہیں جل رہی تھی۔ اندھیرے میں آگ کے ذریعے سے متوجہ کرنے میں ایک مناسبت یہ بھی ہے کہ اسی طرح موسیٰ ؑ گمراہی کی تاریکی میں ہدایت کی روشنی کا باعث بنیں گے۔ [ التحریر والتنویر ]
اِنِّىْٓ اٰنَسْتُ نَارًا : ”آنَسَ“ (افعال) اس نے واضح طور پر دیکھا، اسی لیے آنکھ کی پتلی کو ”انسان العین“ کہتے ہیں، کیونکہ اسی سے کوئی چیز واضح معلوم ہوتی ہے۔ ”إِنَّ“ کے ساتھ تاکید اور لفظ ”اٰنَسْتُ“ کے استعمال سے ظاہر ہو رہا ہے کہ موسیٰ ؑ پورے یقین کے ساتھ ایک بہت بڑی آگ دیکھنے کا ذکر فرما رہے ہیں، کیونکہ ”نَاراً“ کی تنوین بھی تعظیم کے لیے ہے۔ یہ آگ موسیٰ ؑ کو متوجہ کرنے کے لیے تھی جو انھیں ایک درخت میں لگی ہوئی نظر آئی اور درخت ہی سے آواز آئی کہ بیشک میں تیرا رب ہوں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نور نہیں تھا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جب موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کی درخواست کی تو جواب ”لَنْ تَرَانِیْ“ ملا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (143)۔
لَّعَلِّيْٓ اٰتِيْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ : ”قَبَسٌ“ مصدر بمعنی مفعول، اخذ کی ہوئی چیز۔ آگ جلانے کے لیے جلتی ہوئی آگ میں سے لکڑی یا سرکنڈے وغیرہ کے سرے پر آگ کا شعلہ لیا جائے تو اسے ”قَبَسٌ“ کہتے ہیں اور ”جَذْوَۃٌ“ بھی۔ ”جَذْوَۃٌ“ کا ایک معنی انگارا بھی ہے۔ (قاموس)
ھُدیً : یعنی کوئی راستہ بتانے والا مل جائے، یا آگ کی روشنی میں راستے کے آثار مل جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کی زبان پر وہی چیز جاری فرما دی جو فی الواقع وجود میں آنے والی تھی، چناچہ انھیں کفر کی برودت سے بچانے والا ایمان کا شعلہ بھی مل گیا اور صراط مستقیم کی رہنمائی بھی حاصل ہوگئی۔
”نُوْدِيَ“ (آواز دی گئی) یہ آواز ایک درخت سے آرہی تھی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة قصص (30) فعل مجہول لانے میں بھی یہ جاننے کا شوق ابھارنا مقصود ہے کہ آواز دینے والا کون تھا اور اس نے کیا آواز دی ؟
Ayah 20:12فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ : غالباً اسی سے یہودیوں نے یہ مسئلہ بنا لیا ہے کہ جوتا پہن کر نماز پڑھنا جائز نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ غلط فہمی دور کرنے کے لیے فرمایا : (خَالِفُوا الْیَھُوْدَ فَإِنَّھُمْ لَا یُصَلُّوْنَ فِيْ نِعَالِھِمْ وَلَا خِفَافِھِمْ) [ أبوداوٗد، الصلاۃ، باب الصلاۃ في النعل : 652، و صححہ الألباني ] ”یہودیوں کے خلاف عمل کرو، کیونکہ وہ اپنے جوتوں اور موزوں میں نماز نہیں پڑھتے۔“ اگر دوسری حدیث نہ ہوتی تو اس حدیث کی رو سے جوتوں سمیت نماز پڑھنا فرض تھا۔ وہ حدیث یہ ہے، عبداللہ عمرو ؓ فرماتے ہیں : (رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّيْ حَافِیًا وَمُنْتَعِلًا) [ أبوداوٗد، الصلاۃ، باب الصلاۃ في النعل : 653 ] ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو ننگے پاؤں اور جوتا پہن کر (دونوں طرح) نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔“
اِنَّكَ بالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى : ابن عباس ؓ نے فرمایا : ”طویٰ اس وادی کا نام ہے۔“ [ طبري بسند حسن ] یہ الفاظ دلیل ہیں کہ اس وقت موسیٰ ؑ کے جوتے ناپاک تھے، اگر وہ پاک ہوتے تو اس وادی کو پاک بتا کر جوتے اتارنے کا حکم نہ دیا جاتا۔ ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں : (بَیْنَمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّيْ بِأَصْحَاَبِہِ إِذْ خَلَعَ نَعْلَیْہِ فَوَضَعَھُمَا عَنْ یَسَارِہِ ، فَلَمَّا رَأَی ذٰلِکَ الْقَوْمُ أَلْقَوْا نِعَالَھُمْ ، فَلَمَّا قَضَی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّیْ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَاتَہُ قَالَ مَا حَمَلَکُمْ عَلٰی إِلْقَاءِکُمْ نِعَالَکُمْ ؟ قَالُوْا رَأَیْنَاکَ أَلْقَیْتَ نَعْلَیْکَ فَأَلْقَیْنَا نِعَالَنَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ أَتَانِيْ فَأَخْبَرَنِيْ أَنَّ فِیْھِمَا قَذَرًا، أَوْ قَالَ أَذًی، وَقَالَ إِذَا جَاءَ أَحَدُکُمْ إِلَی الْمَسْجِدِ فَلْیَنْطُرْ فإِنْ رَأَي فِيْ نَعْلَیْہِ قَذَرًا أَوْ أَذًی فَلْیَمْسَحْہُ وَلْیُصَلِّ فِیْھِمَا) [ أبوداوٗد، الصلاۃ، باب الصلاۃ في النعل : 650، و صححہ الألباني ] ”رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب کو نماز پڑھا رہے تھے، دوران نماز آپ نے اپنے جوتے اتارے اور اپنی بائیں طرف رکھ دیے۔ جب لوگوں نے یہ دیکھا تو انھوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے۔ جب آپ نے اپنی نماز پوری کی تو فرمایا : ”تمہارے جوتے اتارنے کا باعث کیا ہوا ؟“ انھوں نے کہا : ”ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے جوتے اتارے تو ہم نے بھی اتار دیے۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”میرے پاس جبریل آئے اور انھوں نے مجھے بتایا کہ ان میں گندگی لگی ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی مسجد کو آئے تو دیکھ لے، پھر اگر اپنے جوتوں میں کوئی گندگی دیکھے تو اسے مل کر صاف کرلے اور انھیں پہن کر نماز پڑھ لے۔“
یہ حدیث دلیل ہے کہ موسیٰ ؑ کو جوتے اتارنے کے حکم کی وجہ وادی کا پاک ہونا اور جوتوں کا ناپاک ہونا تھا۔ یہ وجہ نہ تھی کہ کسی مقدس جگہ میں جوتے پہن کر جانا منع ہے، کیونکہ یہ تو سب جانتے ہیں کہ مسجد پاک ترین جگہ ہے اور اسے پاک رکھنے کا حکم بھی ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (125) اور سورة حج (26) اور عائشہ ؓ سے روایت ہے : (أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِبِنَاءِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّوْرِ وَأَنْ تُنَظَّفَ وَتُطَیَّبَ) [ أبوداوٗد، الصلاۃ، باب اتخاذ المساجد فی الدور : 455۔ ترمذی : 594۔ ابن ماجہ : 758، صحیح ] ”رسول اللہ ﷺ نے محلوں میں مسجدیں بنانے کا حکم دیا اور حکم دیا کہ انھیں صاف ستھرا رکھا جائے اور خوشبو دار بنایا جائے۔“ جوتے پاک ہوں تو مسجد میں جاسکتے ہیں تو کسی اور جگہ کیوں نہیں جاسکتے ؟ بعض روایات میں ہے کہ موسیٰ ؑ کے جوتے مردار گدھے کے چمڑے کے تھے، اس لیے انھیں اتارنے کا حکم ہوا، مگر یہ روایات پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتیں۔ اس لیے یہ بات اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کے جوتوں میں کیا چیز تھی جو وادی مقدس کے لائق نہ تھی، کیونکہ پاک جوتے جب مسجد نبوی میں پہنے جاسکتے ہیں تو تین مسجدوں سے زیادہ مقدس جگہ کون سی ہوگی ؟
3 اس آیت اور حدیث سے معلوم ہوا کہ نہ موسیٰ ؑ غیب جانتے تھے اور نہ ہمارے رسول کریم ﷺ ، ورنہ جبریل ؑ کو جوتوں میں نجاست کی اطلاع کے لیے دوران نماز آپ کے پاس آنے کی ضرورت نہ تھی اور اگر موسیٰ ؑ غیب جانتے ہوتے تو نہ راستہ بھولتے اور نہ آگ کو عام آگ سمجھتے، نہ اللہ تعالیٰ کو وادی مقدس کا بتا کر انھیں جوتے اتارنے کا حکم دینا پڑتا اور نہ یہ کہہ کر تعارف کروانا پڑتا کہ میں تیرا رب تجھ سے مخاطب ہوں اور نہ اس کے بعد جبریل ؑ کو بار بار آ کر وحی پہنچانا پڑتی۔ مگر افسوس کہ ولیوں اور نبیوں کو غیب دان کہنے والے ذرہ برابر نہیں سوچتے۔
3 اوپر کی حدیث سے معلوم ہوا کہ جوتے پاک کرنے کے لیے کپڑے کو پاک کرنے کی طرح دھونا ضروری نہیں، بلکہ صرف مٹی سے مل کر صاف کردینا کافی ہے۔ علاوہ ازیں یہ حدیث ہر اس بہانے کا جواب ہے جو جوتوں سمیت نماز سے روکنے والے کرتے ہیں، مثلاً یہ کہ یہ سفر کے لیے ہے، یا یہ کسی میدان وغیرہ میں نماز کے لیے ہے مسجد کے لیے نہیں، یا یہ کہ جوتا نیا ہو تو جائز ہے، یا یہ کہ دھویا ہوا ہو تو ٹھیک ہے، یا یہ کہ جوتا پہننا اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی کے ادب کے خلاف ہے وغیرہ، ان تمام باتوں کا جواب اسی حدیث پر غور کرنے سے مل جاتا ہے۔
3 جیسا کہ اوپر گزرا جوتوں سمیت نماز پڑھنا فرض نہیں مستحب ہے۔ اس لیے اگر لا علم لوگوں کے فتنے میں پڑنے کا خوف ہو تو جوتوں سمیت نماز پڑھنے سے پہلے انھیں اچھی طرح سمجھانا لازم ہے، ایسا نہ ہو کہ وہ متنفر ہو کر نماز پڑھنا ہی چھوڑ دیں۔
Ayah 20:13ۭوَاَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوْحٰى : نبوت کے حصول میں کسی کی جد و جہد یا محنت کا کچھ دخل نہیں، یہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہے۔ دیکھیے سورة حج (75) قادیانی دجال نے اسے مجاہدہ و کسب سے حاصل ہوسکنے کا دعویٰ کیا، چناچہ اس کی زندگی ہی میں اس کے پیروکاروں میں سے تیرہ آدمیوں نے نبوت کا دعویٰ کردیا۔ دیکھیے قادیانیت از ابوالحسن علی ندوی۔
Ayah 20:14اِنَّنِيْٓ اَنَا اللّٰهُ : اللہ تعالیٰ نے پہلے موسیٰ ؑ کو اس تعلق سے آگاہ کیا جو اللہ تعالیٰ اور موسیٰ ؑ کے درمیان تھا کہ بلاشبہ میں تیرا رب ہوں جو تجھ سے مخاطب ہوں، یعنی تجھے پیدا کرنے والا، تیری پرورش کرنے والا اور تیری ہر ضرورت پوری کرنے والا میں ہی ہوں۔ پھر جوتے اتارنے کے حکم کے بعد وحی کو غور سے سننے کی تاکید فرمائی، کیونکہ چننے سے مقصود ہی وحی کے ذریعے سے رسالت کی ذمہ داریاں سونپنا تھا۔ اب ضمیر متکلم ”اَنَا“ کے بعد اپنا ذاتی نام بتایا، کیونکہ ملاقات میں پہلی چیز یہی ہے کہ ایک دوسرے کا نام معلوم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا کہ میں تو اپنے کلیم کا نام جانتا ہی ہوں، میرا نام اللہ ہے۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کے باقی سب نام صفاتی ہیں جن میں اس کے ننانوے نام بھی شامل ہیں اور وہ بیشمار نام بھی جن سے اس نے ابھی تک کسی کو آگاہ نہیں کیا۔ لفظ ”اللہ“ عربی زبان میں اس ذات پاک کا نام ہے۔ جب ”اللہ“ کہہ دیا تو اس میں اس کے تمام نام بھی آگئے اور تمام صفات بھی۔ ”إِنَّ“ کے ساتھ تاکید موسیٰ ؑ سے شک کا امکان دور کرنے کے لیے ہے، کیونکہ انوکھی بات سن کر جلدی یقین نہیں آتا۔
لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا :”اِنَّنِيْٓ“ کی پہلی خبر ”اَنَا اللّٰهُ“ تھی، ”لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا“ دوسری خبر ہے۔ یہ سب سے پہلی بات ہے جسے جاننا، اس پر یقین رکھنا اور اس کے مطابق عمل کرنا ہر جن و انس پر واجب ہے۔ اسی بات کی تعلیم کے لیے تمام انبیاء مبعوث فرمائے گئے۔ دیکھیے سورة انبیاء (25) ”فَاعْبُدْنِيْ“ یہ ہے وہ مقصد جس کے لیے جن و انس کو پیدا کیا گیا، جیسا کہ فرمایا : (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ) [ الذاریات : 56 ] ”اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔“ یعنی جب میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو میری عبادت کر۔ عبادت میں ہر وہ عمل آجاتا ہے جو انتہائی محبت کے ساتھ انتہائی درجے کی عاجزی اور تعظیم پر دلالت کرتا ہو، اس میں قول، فعل اور دل کا اخلاص سب شامل ہیں۔
وَاَ قِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ : ”فَاعْبُدْنِيْ“ میں اگرچہ ہر قسم کی بدنی و مالی عبادت کا ذکر آگیا تھا، لیکن چونکہ نماز تمام عبادتوں کی جامع اور سب سے اہم عبادت ہے اور اسلام قبول کرنے کے بعد ایمان کی سب سے پہلی شرط اور علامت ہے کہ جس سے مسلمان کی پہچان ہو کر اس کا خون اور مال محفوظ ہوجاتا ہے (دیکھیے توبہ : 5، 11) اس لیے اس کا خاص طور پر الگ ذکر بھی فرمایا۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”موسیٰ ؑ کو پہلی وحی میں نماز کا حکم ہے اور ہمارے پیغمبر ﷺ کو بھی ”وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ“ فرمایا گیا۔“ (موضح)
”لِذِكْرِيْ :“ کی دو تفسیریں ہیں اور دونوں درست ہیں۔ پہلی یہ کہ نماز کا مقصد یہ ہے کہ بندہ اللہ کی یاد سے غافل نہ ہو، ایک نماز سے فارغ ہو تو اگلی کے انتظار میں مشغول رہے، جیسا کہ حدیث مبارکہ میں آتا ہے : (وَ رَجُلٌ قَلْبُہُ مُعَلَّقٌ بالْمَسْجِدِ)[ بخاری : 6806] اس طرح اس کا سارا وقت ہی نماز میں شمار ہوگا جو اللہ کی یاد کا سب سے اچھا طریقہ ہے۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل کی آیت (78) کی تفسیر۔ ہر وقت یاد رکھنے کا نتیجہ اللہ کی نافرمانی سے اجتناب ہوگا، جیسا کہ فرمایا : (ۭاِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ) [ العنکبوت : 45 ] ”بیشک نماز بےحیائی اور برائی سے روکتی ہے۔“ دوسری تفسیر یہ کہ اگر بھول جائے تو یاد آنے پر نماز پڑھ لے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ نَسِيَ صَلَاۃً فَلْیُصَلِّ إِذَا ذَکَرَھَا لاَ کَفَّارَۃَ لَھَا إِلاَّ ذٰلِکَ (وَاَ قِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ) [ بخاری، مواقیت الصلاۃ، باب من نسي صلاۃ فلیصل إذا ذکر۔۔ : 597، عن أنس ] ”جو شخص کوئی نماز بھول جائے تو جب اسے یاد آئے پڑھ لے، اس کا کفارہ اس کے سوا کچھ نہیں۔“ اور پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : (وَاَ قِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ) ”اور نماز میری یاد کے وقت قائم کر۔“ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ نَسِيَ صَلَاۃً أَوْ نَامَ عَنْھَا فَکَفَّارَتُھَا اَنْ یُصَلِّیَھَا إِذَا ذَکَرَھَا) [ مسلم، المساجد، باب قضاء الصلاۃ الفائتۃ۔۔ : 315؍684، عن أنس ؓ ]”جو شخص کوئی نماز بھول جائے، یا اس سے سویا رہ جائے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب اسے یاد آئے پڑھ لے۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ۡ وَاذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِيْتَ) [ الکہف : 24 ] ”اور اپنے رب کو یاد کر جب تو بھول جائے۔“
Ayah 20:15اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ : توحید، عبادت اور نماز کی تاکید کے بعد ایمان کے ایک اور بنیادی رکن قیامت کے یقینی ہونے کا ذکر فرمایا، تاکہ ہر شخص کو اس کی سعی و کوشش کی جزا دی جائے۔ اس صورت میں ”لِتُجْزٰى“ ”اٰتِيَةٌ“ کے متعلق ہوگا۔ قیامت کا یقین ہی ایسی چیز ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی اطاعت پر آمادہ کرتی ہے، ورنہ باز پرس اور اللہ کے سامنے پیش ہونے کا یقین نہ ہو تو جائز و ناجائز کی تمیز کون کرتا ہے ؟
اَكَادُ اُخْفِيْهَا لِتُجْزٰى۔۔ : یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ جس کام کے متعلق ”کَادَ یَکَادُ“ استعمال ہو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ واقع ہونے کے قریب ہے مگر واقع نہیں ہوا، جیسا کہ سورة بقرہ کی آیت (20) : (يَكَادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ اَبْصَارَھُمْ) (بجلی قریب ہے کہ ان کی نگاہوں کو اچک لے) میں ہے۔ مفسرین نے اس کے بہت سے جواب دیے ہیں، مگر مجھے ابن جزی ؓ کے جواب پر اطمینان ہوتا ہے کہ ”اللہ تعالیٰ نے قیامت کے وقت کو پوشیدہ رکھا ہے اور کسی کو نہیں بتایا، یہاں تک کہ قریب تھا کہ وہ قیامت کے واقع ہونے کو بھی چھپا کر رکھتا اور کسی کو اس کی خبر نہ دیتا، مگر یہ اس کا کرم ہے کہ اس نے اسے پوشیدہ نہیں رکھا، بلکہ اس کے واقع ہونے کی بات سب کو بتادی ہے، تاکہ لوگ بالکل غافل نہ رہیں۔ اس صورت میں ”کَادَ“ اور ”أُخْفِیْ“ دونوں اپنے اصل معنی پر رہتے ہیں کہ قریب تھا کہ قیامت کا واقع ہونا چھپالیا جاتا، مگر ایسا نہیں ہوا۔“ (التسہیل)
Ayah 20:16فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنْهَا۔۔ : اس آیت سے حاصل ہونے والے فوائد میں سے ایک فائدہ مفسر زمخشری کے الفاظ میں یہ ہے : ”جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ جم غفیر ہیں، کیونکہ کفار کے لیے قیامت کو تسلیم کرنے سے زیادہ مشکل کوئی چیز نہیں، نہ ہی وہ اس سے زیادہ کسی چیز کا انکار کرتے ہیں۔ سو ایسا ہرگز نہ ہو کہ ان کی طرف سے آنے والے مصائب کی کثرت اور ان کی بہت بڑی تعداد تمہیں خوف زدہ کر دے اور ان کی کثرت تمہارے قدم پھسلنے کا باعث بن جائے۔ یاد رکھو کہ وہ جس قدر بھی تعداد میں زیادہ ہوں، وہ صرف اور صرف اپنی خواہش نفس کے پیچھے چل رہے ہیں، کسی دلیل وبرہان کے پیچھے نہیں اور اس میں بہت بڑی ترغیب ہے کہ دلیل کا علم اور اس کی پیروی لازم ہے اور تقلید سے بچنا نہایت ضروری ہے، کیونکہ تقلید اور اہل تقلید کا انجام ہلاکت ہے۔“ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ دنیا پرست لوگوں، خصوصاً کفار کی مجلس اور ان سے نرمی اور مداہنت اختیار کرنے سے پرہیز لازم ہے۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”نہ روک دے اس سے“ یعنی قیامت کے یقین لانے سے یا نماز سے۔ جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو برے کی صحبت سے منع کیا تو اور کوئی کیا ہے ؟“ (موضح)
Ayah 20:17وَمَا تِلْكَ بِيَمِيْنِكَ يٰمُوْسٰى : اللہ تعالیٰ کے اس سوال کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم نہ تھا کہ موسیٰ ؑ کے ہاتھ میں کیا ہے، بلکہ اس میں حکمت یہ تھی کہ موسیٰ ؑ کو اس کے عصا ہونے کا یقین ہوجائے، بعد میں سانپ بننے پر انھیں یہ شک پیدا نہ ہو کہ شاید میں نے کوئی اور چیز پکڑی ہوئی تھی۔ (واللہ اعلم) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کے دل سے ہیبت دور کرنے اور مانوس کرنے کے لیے لاٹھی کے متعلق سوال فرمایا ہو، تاکہ انھیں اگلا حکم دیں۔
Ayah 20:18قَالَ هِىَ عَصَايَ۔۔ : جواب میں اگرچہ اتنا ہی کہہ دینا کافی تھا کہ ”یہ میری لاٹھی ہے“ مگر موسیٰ ؑ نے یہ بتانے کے بعد اس کے کئی فوائد بھی بیان کردیے۔ اس کی ایک توجیہ تو یہ ہے کہ موسیٰ ؑ نے خیال کیا کہ یہ بات ظاہر ہے کہ میرے ہاتھ میں لاٹھی ہے اور ظاہر بات کے متعلق سوال نہیں ہوتا، اس لیے انھوں نے سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ اس لیے پوچھا ہے کہ میں بتاؤں کہ میں نے لاٹھی کیوں پکڑ رکھی ہے ؟ اس لیے جواب میں ”یہ لاٹھی ہے“ کہہ کر اس کے چند فوائد بیان کیے، مگر آخر میں بات مختصر کردی کہ اگر مزید وضاحت کی ضرورت ہوئی تو پھر پوچھ لیا جائے گا۔ (ابن عاشور)
دوسری توجیہ علمائے معانی نے یہ بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کی لذت میں بےاختیار بات لمبی ہوتی گئی، مگر ایک طرف فرط محبت کا تقاضا تھا کہ بات لمبی سے لمبی ہوتی جائے، تو دوسری طرف ادب زیادہ بات کرنے سے مانع تھا، اس لیے ایک اپنی ضرورت ”ٹیک لگانا“ اور ایک اپنی بکریوں کی ضرورت ”پتے جھاڑنا“ بیان کر کے آخر میں یہ کہہ کر بات مختصر کردی کہ ”وَلِيَ فِيْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى“ یہ توجیہ بھی بہترین ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ موسیٰ ؑ نے لاٹھی کے بہت سے دیگر فوائد بھی بیان کیے ہوں جن کا ماحصل اللہ تعالیٰ نے اپنے الفاظ میں بیان فرما دیا ہو۔ اس صورت میں یہ اختصار موسیٰ ؑ کے کلام میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں ہوگا۔ (واللہ اعلم)
وَاَهُشُّ بِهَا عَلٰي غَنَمِيْ۔۔ : حافظ ابن کثیر ؓ نے امام مالک ؓ سے ”ہَشٌّ“ کا معنی یہ نقل کیا ہے کہ لاٹھی کے ساتھ ٹہنی کو ہلانا، تاکہ پتے گرپڑیں مگر شاخ نہ ٹوٹے۔ یہ لفظ لاٹھی مار کر پتے جھاڑنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ ”مَاٰرِبُ“ ”مَأْرَبَۃٌ“ (را کے فتحہ، کسرہ اور ضمہ کے ساتھ) کی جمع، حاجت یعنی وہ کام جن کی ضرورت پڑتی ہے۔ لاٹھی کے فوائد پر جاحظ نے ”کتاب العصا“ لکھی ہے جس میں لاٹھی کے فوائد اور عربوں کے بہت سے واقعات لکھے ہیں۔ اس میں لکھا ہے کہ ابن الاعرابی سے پوچھا گیا کہ ”وَلِيَ فِيْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى“ سے کیا مراد ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا : ”میں موسیٰ ؑ کی تمام ضروریات تو بیان نہیں کرسکتا، البتہ لاٹھی کی ضرورت کی چند چیزیں تمہیں بتاتا ہوں، وہ یہ کہ لاٹھی سانپ، بچھو، بھیڑیے، بپھرے ہوئے سانڈ اور کھیت اجاڑنے والے جانوروں کے لیے ساتھ رکھی جاتی ہے۔ بڑی عمر کے بوڑھے، کمزور و بیمار لوگ، کٹی ہوئی ٹانگ والے اور لنگڑے اس کا سہارا لیتے ہیں، یہ انھیں دوسری ٹانگ کا کام دیتی ہے۔ اندھے کو قائد کا کام دیتی ہے۔ دھوبی، رنگ ریز اور تنور اور چولھے کی راکھ ہلانے والوں کے کام آتی ہے۔ چونا کوٹنے، تل وغیرہ چھڑنے کے کام آتی ہے۔ ڈاک لے جانے والوں اور کرائے کے جانوروں کے ساتھ جانے والوں کے کام آتی ہے کہ فاصلہ لمبا ہو تو وہ لاٹھی کے سہارے چھلانگ لگاتے جاتے ہیں۔ فالج زدہ کے جھکاؤ کو سیدھا کرتی ہے اور رعشہ کے مریض کے لرزہ کو کنٹرول کرتی ہے۔ چرواہے اسے بکریوں کے لیے اور تمام سوار اپنی سواری کے لیے ساتھ رکھتے ہیں۔ کوئی بھاری بوجھ ہو تو اس میں داخل کرکے اسے دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا جاتا ہے۔ بعض اوقات دو آدمی اس کا ایک ایک کنارہ پکڑ لیتے ہیں۔ چاہو تو دیوار میں ٹھونک کر میخ بنا لو یا کھلی جگہ میں گاڑ کر سترہ بنا لو یا چھتری بنا لو۔ اگر نوک لگا دو تو برچھی بن جائے گی، کچھ اور بڑھا دو تو نیزہ بن جائے گی۔ لاٹھی کوڑے کا کام بھی دیتی ہے اور اسلحہ بھی ہے۔ کندھے پر رکھ کر اس کے ساتھ کمان، ترکش اور پانی یا دودھ وغیرہ کا برتن بھی لٹکا سکتے ہو۔ کنویں سے پانی نکالنے کے لیے رسی چھوٹی ہو تو لاٹھی ساتھ ملا کر پانی نکال سکتے ہو۔ چادر اس کے اوپر ڈال کر سایہ حاصل کرسکتے ہو اور درندوں کا مقابلہ کرسکتے ہو وغیرہ۔“
Ayahs 20:19–21اللہ تعالیٰ کے حکم پر موسیٰ ؑ نے اپنا عصا پھینکا تو اچانک وہ سانپ بن گیا جو دوڑتا تھا، یعنی حقیقی اور زندہ سانپ تھا۔ قرآن مجید میں اس کے لیے تین الفاظ استعمال ہوئے ہیں ”حَیَّةٌ“ (سانپ) ، ”جَانٌّ“ (پتلا چھڑی جیسا چمکتا ہوا سانپ) اور ”ثُعْبَانْ“ (بہت بڑا اژدہا)۔ معلوم ہوا کہ لاٹھی پھینکتے ہی پتلے سانپ جیسی بنی، پھر بڑھتے بڑھتے بہت بڑا اژدہا بن گئی۔ موسیٰ ؑ خوف زدہ ہو کر بےاختیار بھاگ اٹھے اور مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ دیکھیے سورة نمل (10) اور قصص (31) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اسے پکڑو اور ڈرو نہیں، ہم اسے دوبارہ پہلی حالت میں لوٹا دیں گے۔
3 اہل علم نے لاٹھی کے ایک لمحہ میں سانپ اور پھر دوبارہ لاٹھی بننے میں کئی حکمتیں بیان فرمائی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کے جد امجد ابراہیم ؑ کی طرح اپنی قدرت کا عین الیقین عطا فرما دیا کہ کس طرح اس کے حکم سے ایک بےجان چیز اتنی خطرناک ہوجاتی ہے کہ اس کے سامنے کوئی چیز ٹھہر نہیں سکتی اور پھر کس طرح اتنی خطرناک چیز اس کے حکم سے بےجان لکڑی بن جاتی ہے، جو حرکت بھی نہیں کرسکتی۔ مقصد یہ یقین دلانا تھا کہ فرعون اپنی تمام تر قہرمانیوں کے باوجود اللہ کے حکم کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ دوسری حکمت یہ کہ اس زمانے میں جادو اپنے عروج پر تھا، اس کے توڑ کے لیے یہ معجزہ دیا اور انھیں مشاہدہ بھی کروا دیا، تاکہ میدان میں لاٹھی کے سانپ بننے سے موسیٰ ؑ خوف زدہ ہو کر بھاگ نہ اٹھیں، بلکہ انھیں آنکھوں سے دیکھنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ قوت کا ہر وقت احساس رہے۔ تیسری حکمت بقاعی ؓ نے ربط آیات کے ضمن میں لکھی ہے کہ موسیٰ ؑ کے واقعہ کے آغاز سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے آنے کا ذکر فرمایا ہے، جسے ”اَلسَّاعَۃُ“ کہتے ہیں، یعنی ایک لمحہ، ایک گھڑی، قیامت کا ذکر کرنے کے بعد موسیٰ ؑ کو ایک لمحے میں لاٹھی کو سانپ اور سانپ کو لاٹھی بنا کر ایک گھڑی میں قیامت قائم ہونے کا مشاہدہ کروا دیا۔ (نظم الدرر)
Ayah 20:22وَاضْمُمْ يَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ۔۔ : دوسری جگہ اس کی تفصیل آئی ہے کہ حکم ہوا کہ اپنے گریبان میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے پہلو کے ساتھ لگاؤ گے تو وہ چمکتا ہوا سفید نکلے گا، مگر وہ سفیدی برص وغیرہ جیسا عیب نہیں ہوگی، بلکہ ایک معجزہ ہوگی۔ ”کسی عیب کے بغیر“ کی تصریح اس لیے فرمائی کہ برص کو بہت ہی معیوب سمجھا جاتا ہے۔
Ayah 20:23لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى : یہاں ”مِنْ“ بعض کے معنی میں ہے، یعنی ہم نے عصا اور ید بیضا تمہیں اپنے چند بڑے معجزے دکھانے کے لیے عطا کیے ہیں۔ یہ معنی بھی ہے کہ ہم نے یہ معجزے تمہیں اپنے کچھ مزید بڑے معجزے دکھانے کے لیے دیے ہیں۔ ان کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بنی اسرائیل (101)۔
Ayah 20:24اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ۔۔ : نبوت اور معجزات عطا کرنے کے بعد حکم ہوا کہ یہ معجزات لے کر فرعون کے پاس جاؤ جو تکبر اور سرکشی میں ہر حد سے تجاوز کر گیا ہے، حتیٰ کہ بندہ ہو کر رب اعلیٰ ہونے کا دعویٰ کر بیٹھا ہے۔ اس حکم کی مزید تفصیل آگے آیات (42 تا 48) میں آرہی ہے۔
Ayahs 20:25–26قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِيْ صَدْرِيْ۔۔ : دوسری جگہ فرمایا : (وَيَضِيْقُ صَدْرِيْ وَلَا يَنْطَلِقُ لِسَانِيْ) [ الشعراء : 13 ] ”اور میرا سینہ تنگ ہوتا ہے اور میری زبان چلتی نہیں۔“ یعنی اتنی بڑی ذمہ داری اٹھانے سے میرے دل میں جو تنگی محسوس ہوتی ہے وہ دور فرما دے اور اس منصب عظیم کا بوجھ اٹھانے کے لیے جس ہمت، پامردی اور حوصلہ مندی کی ضرورت ہے وہ میرے دل میں پیدا فرما دے اور میرا تبلیغ رسالت کا کام میرے لیے آسان فرما دے۔
Ayahs 20:27–30وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِيْ۔۔ : سورة شعراء کی آیت (13) : (وَيَضِيْقُ صَدْرِيْ وَلَا يَنْطَلِقُ لِسَانِيْ) سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ ؑ کی زبان میں وہ روانی نہ تھی جسے وہ اللہ کا پیغام پہنچانے کے لیے ضروری سمجھتے تھے۔ فرعون کو بھی ان پر طعن کے لیے یہی کمزوری ملی کہ کہا : (وَلَا یَکَادُ یُبِیْنُ) [ الزخرف : 52 ] ”اور یہ (موسیٰ) قریب نہیں کہ بات واضح کرے۔“ اگرچہ فرعون کی بات کا کچھ اعتبار نہیں، کیونکہ جھوٹا الزام لگا دینا اس سے کچھ بعید نہ تھا۔ الغرض ! اس کے لیے انھوں نے دو دعائیں کیں، ایک تو یہ کہ اے میرے رب ! میری زبان کی کچھ گرہ کھول دے، تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ کچھ گرہ کا مفہوم ”عُقْدَةً“ کی تنوین سے ظاہر ہو رہا ہے۔ زبان سے مکمل گرہ دور کرنے کی دعا کے بجائے انھوں نے یہ کہہ کر اپنے بھائی ہارون ؑ کے لیے نبوت کی درخواست کردی کہ وہ مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہیں اور میرے اہل خانہ میں سے میرا بوجھ بٹانے والے ہوں گے۔ اہل علم فرماتے ہیں کہ کسی بھائی نے اپنے بھائی کے لیے موسیٰ ؑ سے زیادہ بہتر دعا نہیں کی۔ بعض تفاسیر میں موسیٰ ؑ کے بچپن میں انگارا منہ میں ڈالنے کا ذکر ہے، مگر وہ اسرائیلی روایات میں سے ہے، جن سے کسی بات کا یقین حاصل نہیں ہوتا۔
وَاجْعَلْ لِّيْ وَزِيْرًا۔۔ : یعنی مددگار جو اس عظیم بوجھ کو اٹھانے میں میرا شریک ہو۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”ایسے بڑے پیغمبروں کو (ساری) خلق کی طرف بہت (یعنی مکمل) خیال نہیں ہوتا، ایک پیش کار چاہیے کہ خلق کو سہج میں سمجھائے، ہمارے پیغمبر ﷺ کے پیش کار ابوبکر صدیق ؓ تھے، ابتدا میں ابوبکر ؓ کی تبلیغ ہی سے بہت سے لوگ مسلمان ہوئے ہیں، جن کا شمار کبار صحابہ میں ہے۔“ (موضح)
Ayahs 20:31–32اشْدُدْ بِهٖٓ اَزْرِيْ۔۔ : ”اشْدُدْ“ اکثر قراء کی قراءت کے مطابق یہ ”شَدَّ یَشُدُّ“ (ن) سے ہمزہ کے ضمہ کے ساتھ فعل امر ہے۔ اسی طرح ”اَشْرِکْهُ“ ”اَشْرَکَ یُشْرِکُ“ (افعال) سے فعل امر ہے۔
Ayahs 20:33–34كَيْ نُسَبِّحَكَ كَثِيْرًا۔۔ : یعنی ان دعاؤں سے ہمیں کوئی دنیاوی مفاد مقصود نہیں، بلکہ مقصد یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے تعاون سے تیری تسبیح اور تیرا ذکر بہت زیادہ کرسکیں گے، مثلاً دنیوی ضروریات آپس میں تقسیم کرلیں گے تو تسبیح و ذکر اور دعوت کے لیے زیادہ وقت نکل سکے گا۔
Ayah 20:35اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِيْرًا : ”كُنْتَ“ میں ”کَانَ“ استمرار کے لیے ہے کہ ”بیشک تو ہمیشہ ہمارا نگران اور نگہبان رہا ہے۔“ یعنی جب ہم بچے تھے اس وقت بھی تو نے ہماری پرورش کی اور ہمیں دشمنوں سے محفوظ رکھا، اب بھی تیری اسی رحمت کے وسیلے سے تیری جناب میں درخواست ہے کہ ہماری یہ دعائیں قبول فرما۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفات اور پہلی نوازشوں کے وسیلے سے دعا کا سبق بھی ہے۔
Ayah 20:36قَالَ قَدْ اُوْتِيْتَ سُؤْلَكَ يٰمُوْسٰى۔۔ : یعنی تم نے منہ مانگی مراد پالی اور ہم نے تمہاری ہر درخواست کو منظور فرما لیا۔ سینہ کھل گیا، کام آسان ہوگیا، زبان کی گرہ بھی مکمل یا بقدر ضرورت کھل گئی۔ چناچہ اس کے بعد ہر جگہ موسیٰ ؑ نے خود ہی فرعون اور جادوگروں سے بحث کی ہے، کہیں ہارون ؑ کا ذکر نہیں آیا اور ہارون ؑ کو بھی نبی بنا کر وزیر بنادیا گیا۔
Ayah 20:37وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَيْكَ مَرَّةً اُخْرٰٓى : اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی، نبوت و رسالت کے منصب پر فائز ہونے، عصا و ید بیضا کے معجزے عطا ہونے، ان کا آنکھوں سے مشاہدہ کرنے اور اس موقع پر کی ہوئی چاروں دعاؤں کی قبولیت میں سے ہر ایک عظیم احسان تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے ان سے پہلے کیے گئے آٹھ احسانات کا ذکر فرمایا۔ مقصد یہ کہ میں نے تم پر پہلے بھی احسان کیے، اب بھی کیے اور آئندہ بھی کرتا رہوں گا، کیونکہ میں نے تمہیں بنایا ہی خاص اپنے لیے ہے، فرمایا : (وَاصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِي) [ طٰہٰ : 41 ] ”اور میں نے تجھے اپنے لیے خاص طور پر بنایا ہے۔“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو آئندہ کے وعدے کا یقین دلانے کے لیے پچھلے احسانات یاد دلائے، فرمایا : (وَلَسَوْفَ يُعْطِيْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰى ۭاَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى ۠وَوَجَدَكَ ضَاۗلًّا فَهَدٰى ۠وَوَجَدَكَ عَاۗىِٕلًا فَاَغْنٰى) [ الضحیٰ : 5 تا 8 ] ”اور یقیناً عنقریب تیرا رب تجھے عطا کرے گا، پس تو راضی ہوجائے گا۔ کیا اس نے تجھے یتیم نہیں پایا، پس جگہ دی اور اس نے تجھے راستے سے ناواقف پایا تو راستہ دکھا دیا اور اس نے تجھے تنگدست پایا تو غنی کردیا۔“ (ابن عاشور)
”اور بلاشبہ یقیناً ہم نے تجھ پر ایک اور بار بھی احسان کیا“ اس میں احسان کو مجمل رکھا ہے، تاکہ شوق پیدا ہو کہ وہ کیا احسان تھا، پھر چار آیات (38 تا 41) میں پے در پے آٹھ احسان ذکر فرمائے : 1 ”ۙاِذْ اَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّكَ مَا يُوْحٰٓي“ 2”ۭ وَاَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّيْ“ 3”وَلِتُصْنَعَ عَلٰي عَيْنِيْ“ 4”فَرَجَعْنٰكَ اِلٰٓى اُمِّكَ كَيْ تَقَرَّ عَيْنُهَا وَلَا تَحْزَنَ“ 5”وَقَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّيْنٰكَ مِنَ الْغَمِّ“ 6 ”وَفَتَنّٰكَ فُتُوْنًا“ 7 ”فَلَبِثْتَ سِنِيْنَ فِيْٓ اَهْلِ مَدْيَنَ ڏ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰي قَدَرٍ يّٰمُوْسٰى“ 8 ”وَاصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِيْ“
Ayah 20:38اِذْ اَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّكَ مَا يُوْحٰٓي : جب کسی چیز کی عظمت بیان کرنا مقصود ہو تو یہ انداز اختیار کیا جاتا ہے ”جو وحی کی جاتی تھی“ یعنی اس کی عظمت محدود الفاظ میں بیان نہیں ہوسکتی، جیسا کہ (فَغَشِيَهُمْ مِّنَ الْيَمِّ مَا غَشِيَهُم) [ طٰہٰ : 78 ] اور (فَاَوْحٰٓى اِلٰى عَبْدِهٖ مَآ اَوْحٰى) [ النجم : 10 ] میں ہے۔
3 یہاں موسیٰ ؑ کی والدہ کو بتانے اور مطمئن کرنے کے لیے ”اَوْحَيْنَآ“ (ہم نے وحی کی) اور ”يُوْحٰٓي“ (جو وحی کی جاتی تھی) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ وحی کے لفظی معنی اشارۂ سریعہ یا دل میں کوئی بات ڈال دینے کے ہیں۔ اصطلاح میں جب یہ لفظ کسی نبی کے لیے استعمال ہوتا ہے تو اس کے معنی فرشتے کے ذریعے سے پیغام بھیجنا ہوتے ہیں۔ قرآن میں دونوں معنوں کے اعتبار سے وحی کا لفظ استعمال ہوا ہے، چناچہ موسیٰ ؑ کی والدہ کی طرف جو وحی بھیجی گئی وہ بھی لفظی معنی کے اعتبار سے تھی، یعنی خواب میں یا کسی خفیہ طریقے سے ان کے دل میں یہ بات ڈال دی گئی جس سے ان کو یقین و اطمینان حاصل ہوگیا، کیونکہ اس بات پر تقریباً علماء کا اتفاق ہے کہ اللہ کے جتنے نبی ہوئے ہیں مردوں میں سے ہوئے ہیں، عورتوں میں سے کسی عورت کو نبی نہیں بنایا گیا۔ دیکھیے سورة یوسف (109) اور انبیاء (7) لہٰذا موسیٰ ؑ کی والدہ نبی نہیں تھیں کہ ان کے لیے وحی کے وہ معنی مراد لیے جائیں جو کسی نبی کے لیے ہوتے ہیں۔ (کبیر)
Ayah 20:39اَنِ اقْذِفِيْهِ فِي التَّابُوْتِ۔۔ : یعنی تمہارا کام بس اتنا ہے کہ صندوق میں ڈال کر دریا (نیل) میں ڈال دو۔ آگے دریا کو ہمارا حکم یہ ہے کہ اسے راستے میں روکنے یا لے جا کر سمندر میں ڈالنے کے بجائے عین فرعون کے محل کے پاس ساحل پر لگا دے۔ اس واقعہ کی پوری تفصیل سورة قصص (7 تا 13) میں ہے۔
وَاَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّيْ۔۔ : یعنی تمہاری صورت ایسی بنائی اور اس میں اپنی طرف سے ایسی انوکھی دل ربائی رکھی کہ جو کوئی تمہیں دیکھتا بےاختیار محبت کرنے لگتا۔ ”وَلِتُصْنَعَ عَلٰي عَيْنِيْ“ کا عطف ”وَاَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّيْ“ سے حاصل ہونے والے مفہوم پر ہے، جس کی تقدیر یوں ہوگی : ”وَ أَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیْ لِتُحَبَّ وَلِتُصْنَعَ عَلٰی عَیْنِیْ“ ”اور میں نے تجھ پر ایک انوکھی محبت ڈال دی، تاکہ تجھ سے محبت کی جائے اور تاکہ تیری پرورش میری آنکھوں کے سامنے کی جائے۔“ اس عطف کی مزید توجیہات مفصل کتب میں دیکھیں۔ ”مَحَبَّةً“ میں تنوین تنکیر کے لیے ہے، اس لیے ”ایک انوکھی محبت“ ترجمہ کیا ہے، یعنی جو اسباب کی وجہ سے نہیں تھی، بلکہ بلا اسباب خاص اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی۔