Ayah 19:1كۗهٰيٰعۗصۗاس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی پہلی آیت کی تفسیر۔
Ayah 19:2ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِيَّا : یہاں ”ہٰذَا“ محذوف ہے، یعنی یہ تیرے رب کی اپنے بندے زکریا پر رحمت کا ذکر ہے۔ رحمت سے مراد یہاں زکریا ؑ کی دعا قبول کرنا اور انھیں سخت بڑھاپے اور بیوی بانجھ ہونے کے باوجود یحییٰ ؑ جیسا عظیم مرتبے والا بیٹا عطا فرمانا ہے۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (کَانَ زَکَرِیَّاءُ نَجَّارًا) [ مسلم، الفضائل، باب من فضائل زکریا۔ : 2379 ] ”زکریا ؑ نجار (ترکھان) تھے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ وہ داؤد ؑ کی طرح اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَا أَکَلَ أَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ خَیْرًا مِنْ أَنْ یَّأْکُلَ مِنْ عَمَلِ یَدِہِ وَ إِنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ دَاوٗدَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ کَانَ یَأْکُلُ مِنْ عَمَلِ یَدِہِ) [ بخاري، البیوع، باب کسب الرجل و عملہ بیدہ : 2072، عن المقدام ؓ ]”کسی شخص نے کبھی اپنے ہاتھ کی کمائی سے بہتر نہیں کھایا اور اللہ کے نبی داؤد ؑ اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے۔“
Ayah 19:3اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَاۗءً خَفِيًّا : اس آیت میں اس جگہ اور وقت کا ذکر نہیں جب ان کے دل میں اس دعا کا داعیہ پیدا ہوا۔ اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة آل عمران (37، 38)۔
نِدَاۗءً خَفِيًّا : چھپی آواز سے آہستہ آواز بھی مراد ہوسکتی ہے اور لوگوں سے الگ جگہ میں دعا بھی۔ اس کی وجہ بعض اہل علم نے یہ لکھی ہے کہ بڑھاپے میں بیٹا مانگنا لوگوں کی ہنسی کا باعث ہوتا، پھر اگر نہ ملتا تو لوگ مزید ہنستے، مگر صحیح بات یہ ہے کہ خفیہ دعا ریا کا امکان نہ ہونے کی وجہ سے افضل ہوتی ہے، چناچہ فرمایا : (اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَةً) [ الأعراف : 55 ] ”اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور خفیہ طور پر پکارو۔“ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز کو قرار دیا۔ [ مسلم، الصیام، باب فضل صوم المحرم : 1163، عن أبي ہریرہ ؓ ] اور اس شخص کو عرش کا سایہ پانے والے سات خوش نصیبوں میں شمار فرمایا جس نے خلوت میں اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھیں بہ پڑیں، حدیث کے الفاظ ہیں : (ذَکَرَ اللّٰہَ خَالِیًا فَفَاضَتْ عَیْنَاہٗ) اسی طرح اس شخص کو بھی جس نے اس طرح چھپا کر صدقہ کیا کہ بائیں ہاتھ کو معلوم نہیں کہ دایاں کیا خرچ کر رہا ہے، حدیث کے الفاظ ہیں : (تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ فَأَخْفَاھَا حَتّٰی لَا تَعْلَمَ شِمَالُہٗ مَا تُنْفِقُ یَمِیْنُہٗ) [ بخاري، الزکوٰۃ، باب الصدقۃ بالیمین : 1423 ]
Ayah 19:4قَالَ رَبِّ اِنِّىْ وَهَنَ الْعَظْمُ۔۔ : ’ الْعَظْمُ“ اگرچہ واحد ہے مگر مراد جنس ہے، یعنی میری جو ہڈی بھی ہے کمزور ہوگئی ہے۔ اگر جمع کا لفظ بولتے ”اَلْعِظَامُ“ یعنی ہڈیاں، تو اس سے ہڈیوں کا کوئی مجموعہ بھی مراد ہوسکتا تھا۔ ”َاشْتَعَلَ الرَّاْسُ“ سارے سر کے بال سفید ہونے کو آگ کے شعلے مارنے سے تشبیہ دے کر آگ کا لفظ حذف کردیا اور بڑھاپے کی وجہ سے سر کو شعلے مارنے والا بنادیا، اسے استعارہ کہتے ہیں۔ ان الفاظ میں اپنی انتہائی کمزوری کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ہے، کیونکہ وہ کمزوروں پر زیادہ رحم فرماتا ہے۔ یہ دعا کے آداب میں سے ایک ادب ہے۔
وَّلَمْ اَكُنْۢ بِدُعَاۗىِٕكَ رَبِّ شَقِيًّا : ”کَانَ“ ہمیشگی کے لیے ہوتا ہے، اس پر نفی آنے سے نفی کی ہمیشگی مراد ہوتی ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا، اس لیے ترجمہ ”میں کبھی بےنصیب نہیں ہوا“ کیا گیا ہے۔ اس میں اپنے آپ پر اللہ تعالیٰ کے ہمیشہ لطف و کرم کا واسطہ دے کر دعا کی ہے، خصوصاً اس بات کا واسطہ دے کر کہ تو نے مجھے ہمیشہ دعا قبول ہوجانے کی عادت ڈال دی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کا ذکر کرکے دعا کرنا بھی دعا کے آداب میں شامل ہے، جیسا کہ سورة فاتحہ میں عرض مطلب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی تعریف ہے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَلِلّٰهِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا) [ الأعراف : 180 ] ”اور سب سے اچھے نام اللہ ہی کے ہیں، سو اسے ان کے ساتھ پکارو۔“
Ayah 19:5وَاِنِّىْ خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَّرَاۗءِيْ۔۔ :”الْمَوَالِيَ“ ”مَوْلٰی“ کی جمع ہے۔ یہاں مراد قریبی رشتے دار اور چچوں کے بیٹے ہیں جو اولاد نہ ہونے کی صورت میں وارث بنتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ مجھے ان میں سے کوئی شخص ایسا نظر نہیں آتا جو اس لائق ہو کہ میرے مرنے کے بعد بنی اسرائیل کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دے سکے اور میرا اور آل یعقوب کا علمی و عملی وارث بن سکے، جس سے تیرے دین پر عمل اور اس کی دعوت و تبلیغ کا سلسلہ جاری رہ سکے، بلکہ مجھے ان سے خطرہ ہے کہ وہ دین کو بگاڑیں گے اور اپنی من مانیاں کریں گے، جیسا کہ سورة اعراف (169) میں بنی اسرائیل میں سے کتاب کے وارث بننے والے بعض لوگوں کا حال ذکر ہوا ہے۔
3 بعض لوگ اس آیت کو انبیاء کی دنیاوی جائداد کی وراثت کی دلیل بناتے ہیں، حالانکہ ان آیات ہی میں اس کا رد موجود ہے، کیونکہ زکریا ؑ ایسے وارث کی دعا کر رہے ہیں جو ان کا اور آل یعقوب کا وارث بنے۔ ظاہر ہے کہ اولاد تو اپنے باپ کی دنیوی جائداد کی وارث ہوتی ہے، پورے خاندان اور قوم کی وارث نہیں ہوتی، اس لیے یہاں علمی ورثہ ہی مراد ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لاَ نُوْرَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ) [ بخاري، ، فرض الخمس، باب فرض الخمس : 3093، عن أبي بکر ؓ ]”ہمارا (یعنی انبیاء کا) کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔“ جو لوگ کہتے ہیں کہ ابوبکر ؓ نے فاطمہ ؓ کو فدک اور دوسری جائدادوں میں سے ورثہ نہیں دیا، انھیں سوچنا چاہیے کہ انھوں نے آپ ﷺ کے چچا عباس ؓ کو اور اپنی بیٹی عائشہ ؓ اور دوسری ازواج مطہرات کو بھی تو حصہ نہیں دیا اور دلیل کے طور پر یہ (مذکورہ بالا) حدیث پڑھی۔ پھر اگر انھوں نے حصہ نہیں دیا تو علی ؓ ہی اپنی خلافت میں عباس اور حسن و حسین ؓ کو اور امہات المومنین کو وہ حصہ دے کر اپنے فرض سے سبک دوش ہوجاتے، مگر ان کا ابوبکر ؓ کے فیصلے پر کار بند رہنا اس حدیث کی عملی تائید و تصدیق ہے۔ مزید دیکھیے سورة نمل کی آیت (16)۔
وَكَانَتِ امْرَاَتِيْ عَاقِرًا : ”عَاقِرًا“ وہ ہے جس کے ہاں اولاد نہ ہوتی ہو۔ یہ لفظ مرد اور عورت دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ”کَانَت“ کا لفظ ہمیشگی پر دلالت کرتا ہے، اس لیے ترجمہ ”شروع سے بانجھ ہے“ کیا گیا ہے۔ اتنے الحاح و اصرار سے اپنی ضرورت بیان کرنے کے بعد اپنی صلب سے وارث عطا کرنے کی دعا کی، جو ان کی اور آل یعقوب ؑ کی نبوت، علم اور اوصاف حمیدہ کا وارث بنے۔
Ayah 19:6وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا : ”رَضِيًّا“ ”فَعِیْلٌ“ بمعنی ”مَفْعُوْلٌ“ ہے، مطلب پسند کیا ہوا، یعنی وہ اللہ تعالیٰ اور لوگوں، سب کا پسندیدہ ہو۔ اللہ جسے پسند کرلے لوگ بھی اس سے محبت کرتے ہیں، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِذَا أَحَبَّ اللّٰہُ الْعَبْدَ نَادَی جِبْرِیْلَ إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ فُلَانًا فَأَحْبِِبْہُ فَیُحِبُّہٗ جِبْرِیْلُ فَیُنَادِيْ جِبْرِیْلُ فِيْ أَھْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحِبُّوْہٗ فَیُحِبُّہٗ أَھْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ یُوْضَعُ لَہٗ الْقَبُوْلُ فِي الْأَرْضِ) [ بخاری، بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ صلوات اللّٰہ علیہم : 3209، عن أبي ہریرہ ؓ ] ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل ؑ سے کہتا ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے تو بھی اس سے محبت کر، تو جبریل ؑ بھی اس سے محبت کرتے ہیں، پھر جبریل ؑ آسمان والوں میں اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتے ہیں، سو تم بھی اس سے محبت کرو، تو آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں، پھر اس کے لیے زمین میں قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔“
3 زکریا ؑ کی بیٹے کے لیے دعا ایک تو یہاں آئی ہے، ایک سورة آل عمران (38) میں اور ایک سورة انبیاء (89) میں۔ تینوں جگہ ہی الفاظ معانی کا خزینہ اور موتیوں کا نگینہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور بانجھ اور بوڑھی بیوی کو اولاد کے قابل بنا کر یحییٰ ؑ عطا فرما دیے۔ دیکھیے سورة انبیاء (90)۔
Ayah 19:7يٰزَكَرِيَّآ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِۨ اسْمُهٗ يَحْــيٰى۔۔ : یہ بشارت دوران نماز ہی فرشتوں کے ذریعے سے مل گئی تھی۔ دیکھیے سورة آل عمران (39) اس میں یحییٰ ؑ کی فضیلت دو پہلوؤں سے بیان کی گئی ہے، ایک یہ کہ ان کا نام اللہ تعالیٰ نے خود رکھا، دوسرے یہ کہ ان کا نام ایسا رکھا جو اس سے پہلے کسی کا نہیں تھا۔ عربی زبان میں ”يَحْــيٰى“ کا معنی ”زندہ رہے“ ہے۔
3 اس سے معلوم ہوا کہ پیدائش سے پہلے بھی بچے کا نام رکھا جاسکتا ہے، ساتویں دن نام رکھنے کا حکم آخری حد ہے۔
Ayah 19:8قَالَ رَبِّ اَنّٰى يَكُوْنُ لِيْ غُلٰمٌ۔۔ :”عِتِيًّا“ ”عَتَا یَعْتُوْ عِتِیًّا“ بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ جانا۔ خشک لکڑی کو ”عَاتٍ“ اور ”عَاسٍ“ کہتے ہیں، جو بھی بڑھاپے یا فساد یا کفر کی انتہا کو پہنچ جائے اسے ”عَاتٍ“ (عَتَا یَعْتُوْسے اسم فاعل) کہا جاتا ہے۔ (طبری)
یہاں خیال پیدا ہوتا ہے کہ خود ہی دعا کی، پھر یہ پوچھنے کا کیا مطلب کہ میرے لیے لڑکا کیسے ہوگا ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ زکریا ؑ نے یہ سوال عام دستور کے خلاف بیٹے کی خوش خبری سن کر مزید اطمینان حاصل کرنے کے لیے غیر اختیاری طور پر کیا۔ اس کے علاوہ یہ سوال بےپناہ خوشی اور تعجب کے اظہار کی ایک شکل بھی ہوسکتا ہے۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”انوکھی چیز مانگنے پر تعجب نہ ہوا، جب سنا کہ ملے گی تب تعجب کیا۔“ (موضح) بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ پوچھنا دراصل معلوم کرنے کے لیے تھا کہ بیٹا اسی بانجھ بیوی سے ہوگا یا کسی اور بیوی سے اور میرے بڑھاپے کا کیا بنے گا ؟
Ayah 19:9قَالَ كَذٰلِكَ۔۔ : یعنی ایسے ہی ہے کہ تیرے بڑھاپے اور تیری اسی بیوی کے بانجھ پن کے باوجود تیرے ہاں لڑکا ہوگا، کیونکہ جس نے تجھے اس وقت پیدا کرلیا جب تو کچھ بھی نہ تھا تو اس کے لیے یہ کام تو بہت آسان ہے۔
Ayah 19:10قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّيْٓ اٰيَةً : یعنی کوئی ایسی نشانی بتادے کہ ان حالات میں ہمارے ہاں لڑکے کی پیدائش ہونے والی ہو تو مجھے پہلے سے اس کا پتا چل جائے۔rnۭ قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ۔۔ : ”ۭ قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ“ تندرست، صحیح اعضاء والا، نہ گونگا نہ بہرا۔ یہاں تین راتوں کا ذکر ہے، جبکہ سورة آل عمران میں تین دنوں کا ذکر ہے، یعنی نشانی یہ ہے کہ تین دن رات صحیح سالم، تندرست ہوتے ہوئے تم لوگوں سے بات چیت نہ کرسکو تو سمجھ لو کہ حمل قرار پا گیا۔ لوگوں کے ساتھ کلام سے زبان بند ہوگئی تھی، اللہ کے ذکر اور تسبیح و تحمید سے نہیں۔ دیکھیے سورة آل عمران (41)۔
Ayah 19:11فَخَرَجَ عَلٰي قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ : ”الْمِحْرَابِ“ نماز کی جگہ، یا وہ کمرہ جس میں وہ عبادت کیا کرتے تھے، یا مسجد، کیونکہ بنی اسرائیل کی مساجد کو ”مَحَارِیْبُ“ کہا جاتا تھا، کیونکہ وہ ایسے مقامات ہیں جن میں شیطانوں سے حرب (جنگ) کی جاتی ہے۔ (طنطاوی)
فَاَوْحٰٓى اِلَيْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّعَشِـيًّ : یعنی حمل کی نشانی کے طور پر زبان بند ہوگئی تو اشارے سے لوگوں کو پہلے اور پچھلے پہر اللہ تعالیٰ کی تسبیح کا حکم دیا، کیونکہ خود انھیں علامت ظاہر ہونے پر اللہ کی طرف سے یہی حکم تھا، جیسا کہ فرمایا : (وَاذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِيْرًا وَّسَبِّحْ بالْعَشِيِّ وَالْاِبْكَارِ) [ آل عمران : 41 ] ”اور اپنے رب کو بہت یاد کر اور شام اور صبح تسبیح بیان کر۔“
Ayah 19:12يٰــيَحْـيٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے بہت سی وہ باتیں چھوڑ دیں جو خود ہی سمجھ میں آجاتی ہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ یحییٰ ؑ پیدا ہوئے، کچھ سمجھدار ہوئے تو والد کے جانشین کے طور پر تیار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں حکم دیا کہ اے یحییٰ ! تورات کو قوت کے ساتھ پکڑو، یعنی اسے حفظ کرو، معانی و مطالب سمجھو، اس پر عمل کرو اور اس کے احکام پوری قوت کے ساتھ اپنے آپ پر اور پوری قوم پر نافذ کرو۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں بچپن ہی میں فیصلہ کرنے کی قوت عطا فرما دی اور وہ نو عمری ہی میں اپنے والد کے علم و فضل، بنی اسرائیل کی سیادت اور وحی و نبوت کے وارث بن گئے اور پوری قوت سے بنی اسرائیل کو تورات پڑھانے اور فیصلے کرنے لگے۔ والد کمزور تھے اور یہ نوجوان، سو والد کی جگہ لوگوں کو کتاب کا علم سکھانے لگے۔ اگر کوئی کہے کہ بچپن میں یہ کیسے ہوسکتا ہے تو جواب اس کا یہ ہے کہ نبوت کا سارا معاملہ خرق عادت یعنی دنیا کے عام معمول، عادت اور دستور کے خلاف ہوتا ہے، اس لیے اس خرق عادت پر بھی تعجب نہیں ہونا چاہیے۔
Ayah 19:13وَّحَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا۔۔ : ”ّحَنَانًا“ کا عطف ”اَلْحُکْمَ“ پر ہے، یعنی ہم نے اسے حکم (قوت فیصلہ) اور بڑی شفقت اور پاکیزگی عطا کی۔ ”حَنَانًا“ اور ”زَکٰوةً“ پر تنوین تفخیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی شفقت اور پاکیزگی“ کیا ہے۔ پاکیزگی سے مراد اخلاق و کردار کی پاکیزگی ہے جو گناہوں سے بچنے سے حاصل ہوتی ہے۔ ”تَقِيًّا“ ”وَقٰی یَقِيْ“ سے ”فَعِیْلٌ“ کے وزن پر ہے، پہلی واؤ کو تاء سے بدل دیا گیا ہے، یعنی اللہ کی نافرمانی سے بہت بچنے والا تھا۔“ ’ من لدنا“ اپنے پاس سے، یعنی یہ حکم حنان اور زکوٰۃ کسی اور کے پاس ہیں ہی نہیں، صرف ہمارے پاس ہیں اور ہم ہی نے اپنے پاس سے انھیں عطا کیے۔
Ayah 19:14وَبَرّاً ابِوَالِدَيْهِ۔۔ : آرزوؤں اور امنگوں سے پیدا ہونے والی اولاد عموماً مغرور، سرکش اور نافرمان ہوتی ہے، یحییٰ ؑ ایسے نہ تھے، بلکہ ماں باپ کے ساتھ بہت نیک سلوک کرنے والے تھے۔ وہ نہ سرکش تھے اور نہ اپنے والدین یا اپنے رب کی نافرمانی کرنے والے تھے۔ ظاہر یہ ہے کہ ”عَصِيًّا“ ”عَصَی یَعْصِيْ“ سے ”فَعُوْلٌ“ کے وزن پر ہے، تعلیل کے بعد ”عَصِيًّا“ بن گیا۔ ”فَعِیْلٌ“ کے وزن پر بھی ہوسکتا ہے، دونوں وزن مبالغہ کے لیے ہیں۔ (شنقیطی)
Ayah 19:15وَسَلٰمٌ عَلَيْهِ۔۔ : یعنی ان تینوں وقتوں میں وہ ہر پریشانی سے سلامت رہیں گے۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”اللہ جو بندے پر سلام کہے اس کا معنی یہ ہے کہ اس پر کچھ پکڑ نہیں۔“ (موضح) سفیان بن عیینہ ؓ نے فرمایا : ”أَوْحَشُ مَا یَکُوْنُ الْخَلْقُ فِيْ ثَلَاثَۃِ مَوَاطِنَ یَوْمَ یُوْلَدُ فَیَرَی نَفْسَہٗ خَارِجًا مِمَّا کَانَ فِیْہِ وَیَوْمَ یَمُوْتُ فَیَرَی قَوْمًا لَمْ یَکُنْ عَایَنَھُمْ وَیَوْمَ یُبْعَثُ فَیَرَی نَفْسَہٗ فِيْ مَحْشَرٍ عَظِیْمٍ قَالَ فَأَکْرَمَ اللّٰہُ فِیْہَا یَحْیَی بْنَ زَکَرِیًّا فَخَصَّہُ بالسَّلاَمِ عَلَیْہِ“ [ طبري : 23751، بسند صحیح ]”آدمی سب سے زیادہ خوف زدہ تین مواقع پر ہوتا ہے، جس دن پیدا ہوتا ہے اور اپنے آپ کو اس جگہ سے نکلتے ہوئے دیکھتا ہے جہاں وہ تھا اور جس دن فوت ہوتا ہے اور ایسے لوگوں کو دیکھتا ہے جنھیں اس نے نہیں دیکھا تھا اور جس دن وہ زندہ کیا جائے گا اور اپنے آپ کو بہت بڑے محشر (اکٹھ) میں دیکھے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تینوں وقتوں میں یحییٰ بن زکریا ؑ کو عزت بخشی اور انھیں سلامت رکھنے کی خاص نعمت عطا فرمائی۔“
یحییٰ ؑ کے کچھ اوصاف حمیدہ اس سے پہلے سورة آل عمران (39) میں گزر چکے ہیں۔
Ayah 19:16وَاذْكُرْ فِى الْكِتٰبِ مَرْيَمَ : زکریا اور مریم ؑ کے واقعات میں مناسبت کی وجہ سے ان کا ذکر سورة آل عمران (35 تا 40) ، سورة انبیاء (39 تا 41) اور یہاں اکٹھا آیا ہے، کیونکہ ان میں کئی طرح سے مناسبت ہے۔ مریم [ کی کرامت بےموسم پھل دیکھ کر زکریا ؑ کے دل میں بےوقت اولاد کی خواہش اور امید پیدا ہوئی۔ پھر زکریا ؑ کو خلاف عادت بیٹا عطا ہوا اور مریم [ کے ہاں ان سے بھی بڑھ کر خلاف عادت بیٹا پیدا ہوا۔ دونوں قصے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی دلیل ہیں۔
اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا : ”نَبَذَ“ کا معنی پھینکنا ہے۔ ”انْتَبَذَتْ“ الگ ہوئی، یعنی بالکل الگ ہوگئی، گویا اس نے اپنے آپ کو گھر والوں سے دور پھینک دیا۔ یاد رہے کہ مریم [ کو ان کی والدہ نے بیت المقدس کی خدمت کے لیے وقف کیا تھا اور وہ اپنے بہنوئی زکریا ؑ کی کفالت میں وہاں مصروف عبادت رہتی تھیں۔ حدیث معراج میں رسول اللہ ﷺ نے یحییٰ اور عیسیٰ ؑ کو خالہ زاد بھائی فرمایا۔ مریم [ کی نیکی، پاکیزگی اور شرافت ضرب المثل تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (کَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ کَثِیْرٌ وَلَمْ یَکْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا آسِیَۃُ امْرَأَۃُ فِرْعَوْنَ وَمَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَ إِنَّ فَضْلَ عَاءِشَۃَ عَلَی النِّسَاءِ کَفَضْلِ الثَّرِیْدِ عَلٰی سَاءِرِ الطَّعَامِ) [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قولہ تعالیٰ : (وضرب اللّٰہ مثلا۔۔) : 3411۔ مسلم : 2431 ] ”مردوں میں بہت سے کامل ہوئے ہیں اور عورتوں میں سے کامل نہیں ہوئیں مگر فرعون کی بیوی آسیہ اور مریم بنت عمران اور عائشہ کی فضیلت عورتوں پر اس طرح ہے جیسے ثرید (گوشت کے سالن میں بھگوئی ہوئی روٹی) کی فضیلت تمام کھانوں پر۔“ علیحدہ ہونے کا مطلب بعض مفسرین نے بیان کیا ہے کہ ایام آنے کی وجہ سے الگ ہوئیں اور بعض نے فرمایا کہ عبادت کے لیے مکمل تنہائی کی خاطر الگ ہوئیں، بظاہر ان دونوں میں سے کوئی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وجہ بیان نہیں فرمائی۔ اصل حقیقت وہی بہتر جانتا ہے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ نصاریٰ نے مشرق کو اسی لیے قبلہ بنا لیا کہ مریم [ کے ہاں مسیح ؑ کی پیدائش بیت المقدس کی مشرقی جانب میں ہوئی۔ [ طبري و صححہ ابن بشیر : 23757 ]
Ayah 19:17فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا : ایام سے فارغ ہونے پر غسل کے لیے پردہ تان لیا، یا عبادت میں مکمل تنہائی کے لیے۔
فَاَرْسَلْنَآ اِلَيْهَا رُوْحَنَا : روح سے مراد یہاں جبریل ؑ ہیں، جیسا کہ سورة شعراء (193) اور سورة قدر (4) میں انھی کے متعلق روح کا لفظ آیا ہے۔ اگرچہ ہر روح کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے مگر جبریل ؑ کو خاص طور پر اپنا قرار دینے میں ان کی شان کی بلندی کا اظہار ہے، جیسا کہ ہر گھر اور ہر اونٹنی اللہ کی ملکیت ہے، مگر بیت اللہ اور ناقۃ اللہ کی شان انوکھی ہے۔ اس لیے ”رُوْحَنَا“ کا ترجمہ ”اپنا خاص فرشتہ“ کیا ہے۔
فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا : ”سَوِيًّا“ پورے اعضا والا تندرست (انسان)۔ جبریل ؑ انسان کی شکل میں اس لیے آئے کہ مریم [ کے لیے انھیں ان کی اصل صورت میں دیکھنا شدید خوف کا باعث یا ناقابل برداشت ہوتا۔ ہمارے نبی ﷺ نے بھی اپنی زندگی میں جبریل ؑ کو ان کی اصل صورت میں صرف دو بار دیکھا ہے۔ دیکھیے سورة نجم (5 تا 18) اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فرشتے اللہ کے حکم سے اپنی شکل بدل سکتے ہیں۔
Ayah 19:18قَالَتْ اِنِّىْٓ اَعُوْذُ بالرَّحْمٰنِ مِنْكَ۔۔ : تنہائی میں ایک کامل حسین و جوان مرد کو دیکھ کر مریم [ سخت گھبرا گئیں کہ کہیں اس کی نیت بری نہ ہو۔ اس لیے بچاؤ کا کوئی اقدام کرنے سے پہلے اس ذات کی پناہ پکڑی جس کے رحم کی کوئی حد نہیں، تاکہ وہ اپنی بندی پر رحم فرما کر اس کی عصمت محفوظ رکھے۔ ساتھ ہی اس مرد کو اللہ کا خوف دلایا کہ اگر تجھ میں اللہ تعالیٰ کا ذرا برابر بھی ڈر ہے تو میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ پکڑتی ہوں۔ ”تَقِیّاً“ کو نکرہ لانے سے یہ مفہوم پیدا ہوا کہ اگر تجھ میں کسی بھی قسم کا اللہ کا خوف ہے، کیونکہ اللہ کا خوف انسان کو برائی سے ہٹا دیتا ہے۔
Ayah 19:19قَالَ اِنَّمَآ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ۔۔ : جبریل ؑ نے کہا کہ میں تو تیرے اسی رب کی طرف سے بھیجا ہوا ہوں جس کی تو پناہ پکڑ رہی ہے، تاکہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکا عطا کروں۔ بعض شرک کے بیمار یہاں سے کشید کرتے ہیں کہ دیکھو ! جبریل بیٹا دے سکتے ہیں۔ حالانکہ اگر وہ غور کرتے تو لفظ ”رَسُوْلُ“ میں ان کی غلط فہمی کا علاج موجود ہے۔ قاصد کا اپنا کچھ نہیں ہوتا، اسے جو پیغام یا جو چیز دے کر بھیجا جاتا ہے وہ اسے وہاں پہنچا دیتا ہے جہاں اسے حکم ہوتا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ صاف الفاظ میں عیسیٰ ؑ کو اپنے کلمہ ”کُنْ“ کے ساتھ پیدا کرنے کا ذکر فرمایا، دیکھیے سورة آل عمران (59) چونکہ وہ چیز قاصد کے ہاتھ بھیجی گئی ہوتی ہے، اس لیے بعض اوقات وہ اس کی نسبت اپنی طرف کردیتا ہے، جیسا کہ یہاں جبریل ؑ نے پاکیزہ لڑکا عطا کرنے کی نسبت اپنی طرف فرمائی، حالانکہ عطا وہ بھیجنے والے ہی کی تھی۔ مشہور سات قراء میں سے ابو عمرو بن العلاء بصری کی قراءت ”لِیَھَبَ لَکِ“ ہے، جس کا معنی ہے کہ میں تو تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں، تاکہ وہ تجھے ایک لڑکا عطا کرے۔ (ابن کثیر) جس طرح دوسرے چھ قاریوں کی قراءت کے صحیح ہونے پر امت کا اتفاق ہے اسی طرح ابوعمرو بن العلاء بصری کی قراءت صحیح ہونے پر بھی امت کا اتفاق ہے۔ اس قراءت سے دوسری قراءت کی بھی تفسیر ہوگئی کہ اصل عطا اللہ تعالیٰ کی ہے۔ رسول ہونے کی وجہ سے اس کی نسبت جبریل ؑ کی طرف کی گئی ہے۔
Ayah 19:20قَالَتْ اَنّٰى يَكُوْنُ لِيْ غُلٰمٌ۔۔ : ”بَغِيًّا“ کا معنی زانیہ ہے، اس کی جمع ”بَغَایَا“ اور مصدر ”بِغَاءٌ“ ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَلَا تُكْرِهُوْا فَتَيٰتِكُمْ عَلَي الْبِغَاۗءِ) [ النور : 33 ] ”اور اپنی لونڈیوں کو زنا پر مجبور نہ کرو۔“ مریم [ نے کہا کہ اولاد کے لیے تو مرد اور عورت کا ملنا ضروری ہے، جبکہ مجھے نہ کسی بشر نے نکاح کے ساتھ چھوا ہے اور نہ میں بدکار ہوں۔ ”َلَمْ يَمْسَسْنِيْ بَشَرٌ“ میں اگرچہ نکاح یا زنا کسی بھی طریقے سے کسی مرد کے چھونے کی نفی ہے اور یہی معنی سورة آل عمران (47) میں مراد ہے، مگر یہاں زنا کے مقابلے میں آنے کی وجہ سے چھونے کا مطلب نکاح کے ساتھ چھونا ہے۔
Ayah 19:21قَالَ كَذٰلِكِ : جبریل ؑ نے کہا، ایسے ہی ہوگا کہ نکاح یا زنا کے بغیر ہی تمہیں بیٹا عطا ہوگا۔
قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ : مزید کہا کہ تیرے رب نے فرمایا ہے کہ کسی مرد کے بغیر تجھے بیٹا دینا میرے لیے بالکل آسان ہے۔
وَلِنَجْعَلَهٗٓ۔۔ : واؤ کے بعد یہاں الفاظ محذوف ہیں، یعنی اور (ہم نے اس طرح کیا) تاکہ ہم اسے اپنی قدرت کی بہت بڑی نشانی اور معجزہ بنائیں کہ ہم صرف عورت سے بھی انسان پیدا کرسکتے ہیں، جیسا کہ اس سے پہلے تین نشانیاں موجود ہیں کہ ماں باپ کے بغیر انسان (آدم ؑ ، ماں کے بغیر انسان (حوا [) اور ماں باپ دونوں کے ساتھ انسان۔ تینوں ہماری قدرت کاملہ کا اظہار ہیں، اب اس سے ہماری قدرت کی چوتھی نشانی بھی پوری ہوگئی۔ چاروں میں سے کوئی بھی اللہ کے سوا کسی کے بس میں نہیں۔ دوسری جگہ فرمایا، انسان تو دور، ایک مکھی پیدا کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں۔ دیکھیے سورة حج (73) اس لحاظ سے ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیت کی دلیل ہے
وَ فِيْ کُلِّ شَيْءٍ لَہُ آیَۃٌ
تَدُلُّ عَلٰی أَنَّہُ وَاحِدٌ
شرک کے بیماروں کو دیکھیے، وہ مسیح ؑ کا خالق جبریل ؑ کو قرار دے رہے ہیں۔ [ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ عَافَانَا مِنْ بَلِیَّۃِ الْإِشْرَاکِ بِہِ وَمَا کُنَّا لِنَھْتَدِيَ لَوْ لَا أَنْ ھَدَانَا اللّٰہُ ]
وَرَحْمَةً مِّنَّا : اور اسے اپنی طرف سے عظیم رحمت بنائیں بنی اسرائیل کے لیے اور قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے بھی، کیونکہ مسیح ؑ نے محمد رسول اللہ ﷺ کی بشارت دی اور آپ پر ایمان لانے اور آپ کی پیروی کا حکم دیا، اس طرح وہ ان کے لیے جہنم سے نجات اور جنت میں داخلے کا باعث بنے۔ ”اٰیَةً“ اور ”رَحْمَةً“ میں تنوین تعظیم و تفخیم کے لیے ہے، لہٰذا ترجمہ بہت بڑی نشانی اور عظیم رحمت کیا گیا ہے۔rnۚ وَكَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا : ”مَّقْضِيًّا“ ”قَضَی یَقْضِیْ“ کا اسم مفعول ہے، جو اصل میں ”مَقْضُوْیٌ“ تھا، معنی فیصلہ کیا ہوا۔ ”کَانَ“ ہمیشگی کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”شروع سے طے کیا ہوا“ کیا ہے، یعنی یہ بات تقدیر میں طے ہوچکی ہے، کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔
Ayah 19:22فَـحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِيًّا : ”قَصِيًّا“ ”قَصِیَ یَقْصَی قُصُوًّا“ ”رَضِیَ یَرْضَی“ کی طرح ناقص واوی ”عَلِمَ یَعْلَمُ“ سے ہے۔ ”قَصِيًّا أَيْ بَعِیْدًا“ یعنی دور۔ ”فَـحَمَلَتْهُ“ جبریل ؑ کے یہ کہنے اور ان میں روح پھونکنے کے بعد وہ حاملہ ہوگئیں۔ روح پھونکنے کی کیفیت کے لیے دیکھیے سورة انبیاء (91) اور سورة تحریم (12) حاملہ ہونے کے بعد فطری تقاضے کے مطابق حمل کی مدت پوری کرنے کے دوران لوگوں کے طعن و ملامت سے بچنے کے لیے وہ بیت المقدس سے دور ایک مقام پر منتقل ہوگئیں۔ ابن کثیر ؓ نے وہب کا قول ذکر کیا ہے کہ وہ بیت اللحم میں منتقل ہوئیں، جو بیت المقدس سے آٹھ میل دور تھا اور وہیں عیسیٰ ؑ کی ولادت ہوئی۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ نصاریٰ اس میں کوئی شک نہیں کرتے۔ مگر وہب کا قول اسرائیلیات ہی سے ماخوذ ہے، نہ اس کے صحیح ہونے کا یقین ہوسکتا ہے اور نہ نصاریٰ کے کہنے کا۔ البتہ اکثر علماء کا کہنا یہی ہے۔ حمل کے کتنا عرصہ بعد عیسیٰ ؑ کی ولادت ہوئی ؟ بعض مفسرین نے فرمایا کہ بس حمل ہونے کی دیر تھی کہ اس کے ساتھ ہی ولادت ہوگئی۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کے لیے یہ کچھ مشکل نہیں مگر یہ بات کسی قابل اعتماد ذریعے سے نہیں آئی اور وحئ الٰہی کے بغیر کسی واقعہ کے متعلق سیکٹروں برس بعد اگر کوئی شخص سنی سنائی بات بیان کرے تو خواہ وہ کتنا عظیم ہو، وہ بات یقین کی ٹھنڈک نہیں پہنچا سکتی۔ اس لیے ظاہر یہی ہے کہ حمل کی عام مدت پوری ہوئی اور جمہور مفسرین کا قول بھی یہی ہے۔
Ayah 19:23فَاَجَاۗءَهَا الْمَخَاضُ۔۔ : ”جَاءَ یَجِيْءُ مَجِیْءًا“ کا معنی ہے آنا اور ”أَجَاءَ یُجِيْءُ“ (افعال) کا معنی ہے لانا، مگر اس کے مفہوم میں مجبور کرکے لانا پایا جاتا ہے۔ (زمحشری) ”الْمَخَاضُ“ عورت کو بچے کی پیدائش کے وقت ہونے والا درد، یعنی درد زِہ۔ ”مَخِضَتِ الْمَرْأَۃُ“ (ع) جب عورت کے ہاں پیدائش کا وقت قریب ہو۔ یہ ”مَخْضٌ“ سے ماخوذ ہے، جس کا معنی شدید حرکت ہے اور یہ نام رکھنے کی وجہ ولادت کے قریب ماں کے پیٹ میں بچے کا شدت سے حرکت کرنا ہے۔ یعنی درد زِہ کی شدت سے مجبور ہو کر وہ کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئیں اور آنے والے وقت کا تصور کرکے، جب ہر طرف سے برائی کی تہمت لگے گی، طعنے ملیں گے، گزشتہ زندگی کی ساری نیکی، پاک بازی اور شرافت کا خاکہ اڑایا جائے گا، کہنے لگیں کہ اے کاش ! میں اس سے پہلے مرگئی ہوتی اور کسی کو یاد ہی نہ ہوتا کہ کوئی مریم بھی تھی۔
3 یہ آیت دلیل ہے کہ دین میں فتنے کے وقت موت کی تمنا جائز ہے۔ حدیث میں کسی تکلیف مثلاً مرض یا فقر وغیرہ کی وجہ سے موت کی تمنا سے منع کیا گیا ہے، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا کسی تکلیف کی وجہ سے جو اسے پہنچے، ہرگز نہ کرے، اگر اسے ضرور ہی کرنی ہے تو یوں کہے : (اَللّٰھُمَّ أَحْیِنِيْ مَا کَانَتِ الْحَیَاۃُ خَیْرًا لِّيْ وَتَوَفَّنِيْ إِذَا کَانَتِ الْوَفَاۃُ خَیْرًا لِّيْ) ”اے اللہ ! مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک زندہ رہنا میرے لیے بہتر ہو اور مجھے فوت کرلے جب وفات میرے لیے بہتر ہو۔“ [ بخاری، المرضٰی، باب تمنی المریض الموت : 5671 ]
Ayah 19:24فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَآ۔۔ : ”سَرِيًّا“ ”سَرَی یَسْرِيْ“ (ض) (چلنا) سے ہو تو معنی ہے ندی، کیونکہ اس میں پانی چلتا ہے اور ”سَرُوَ یَسْرُوْ“ (شَرُفَ یَشْرُفُ) سے ہو تو معنی ہے سردار۔ مریم [ کو ان کے نیچے سے کس نے آواز دی ؟ اس کے متعلق مفسرین کے دو قول ہیں، ایک یہ کہ وہ جبریل ؑ تھے، کیونکہ عیسیٰ ؑ نے قوم کے طعن و ملامت کے وقت ہی بات کی تھی۔ طبری نے ابن عباس ؓ سے یہ بات نقل فرمائی ہے کہ یہ جبریل تھے اور عیسیٰ ؑ نے قوم کے پاس لے جانے سے پہلے کلام نہیں کیا۔ مگر یہ روایت عوفی کے طریق سے ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ سعید بن جبیر، ضحاک، عمرو بن میمون اور قتادہ کا کہنا بھی یہی ہے کہ انھیں نیچے سے جبریل ؑ نے آواز دی تھی اور ان کے نیچے ایک ندی چلنے کی بشارت دی تھی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ انھیں ان کے نیچے سے عیسیٰ ؑ نے آواز دی تھی۔ ابن جریر نے اسے ترجیح دی ہے۔ اس کی تین وجہیں ہیں، ایک یہ کہ اگر کوئی مانع نہ ہو تو ضمیر قریب ترین مرجع کی طرف لوٹتی ہے اور یہاں اس سے پہلے قریب ترین ذکر عیسیٰ ؑ کا ہے، یعنی ”فَـحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ“ اور اگر جبریل ؑ نے آواز دی ہوتی تو ان کا نام آنا تھا۔ دوسری یہ کہ اس وقت مریم [ کا حوصلہ مضبوط کرنے کی ضرورت تھی اور ظاہر ہے کہ عیسیٰ ؑ کا اس وقت بولنا ایک معجزہ تھا، جس سے انھیں اطمینان حاصل ہوا۔ تیسری یہ کہ قوم کے پاس جانے سے پہلے ان کے کلام کرنے سے مریم [ کو یقین ہوجائے کہ قوم کے لوگوں کی ملامت کے وقت بھی یہ بول کر ان کی تسلی کردیں گے۔ بظاہر ابن جریر کی بات زیادہ قوی معلوم ہوتی ہے۔ (واللہ اعلم)
Ayahs 19:25–26وَهُزِّيْٓ اِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ۔۔ : ”قَرِّيْ عَيْنًا“ مشہور نحوی فراء نے فرمایا کہ قریش اور ان کے آس پاس کے لوگ ”قَرَّ یَقَرُّ“ (قاف کے فتحہ کے ساتھ) کہتے ہیں اور قیس، تمیم اور اہل نجد ”قَرَّ یَقِرُّ“ (قاف کے کسرہ کے ساتھ) کہتے ہیں۔ پہلی صورت میں ”قَرِّيْ“ قاف کے فتحہ کے ساتھ ہوگا جو مشہور قراءت ہے، دوسری صورت میں قاف کے کسرہ کے ساتھ ”قِرِّیْ“ ہوگا جو شاذ قراءت ہے۔ مصدر ”قُرَّۃٌ وَ قُرُوْرٌ“ ہے، ٹھنڈا ہونا۔ (بقاعی) تنہائی، بھوک، پیاس، ولادت کی تکلیف، ولادت کے بعد کی کمزوری اور بدنامی کے خوف میں سے ہر چیز کا اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر بہترین علاج فرما دیا۔ ایک کمزور خاتون جو ابھی ولادت کے جان شکن مرحلے سے نکلی ہو، کھجور کے تنے کو کس قدر حرکت دے سکتی ہے ؟ مگر فرمایا کہ اسے حرکت دو ، وہ تازہ پکی ہوئی کھجوریں تم پر گرائے گی۔ اکثر مفسرین کہتے ہیں کہ وہ کھجوروں کے پھل دینے کا وقت نہ تھا۔ ممکن ہے ایسا ہی ہو، کیونکہ مریم [ کو ان کے کمرے میں بےموسم رزق ملتا تھا، تفصیل کے لیے دیکھیے سورة آل عمران (37) لیکن اگر کھجوروں کے پھل کا موسم بھی مانا جائے تو کوئی جوان اور مضبوط آدمی کھجور کا تنا ہلا کر دیکھ لے کہ کتنی کھجوریں گرتی ہیں ؟ ولادت کی کمزوری کے لیے تمام اطباء تازہ پکی ہوئی کھجور کے مفید ہونے پر متفق ہیں۔ پینے کے لیے ان کے نیچے رب تعالیٰ نے ندی جاری فرما دی۔ تنہائی اور پریشانی کے علاج کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک، خوبصورت اور عظیم المرتبت بیٹا عطا کیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی تمام عنایات عام عادت کے خلاف معجزانہ طور پر ہوئیں۔ رہی آئندہ کی ملامت جو قوم کے پاس جانے کی صورت میں پیش آنے والی تھی، اس کا علاج یہ بتایا گیا کہ اگر کسی بھی وقت کوئی آدمی دیکھو تو اسے اشارے سے کہہ دو کہ میں نے رحمٰن کی خاطر روزے کی نذر مانی ہے، اس لیے میں کسی انسان سے کسی صورت بات نہیں کروں گی۔ کسی بھی وقت کسی انسان کو دیکھنے کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سارے عمل کے دوران وہ تنہا رہیں۔
اِنِّىْ نَذَرْتُ للرَّحْمٰنِ صَوْمًا : چونکہ شادی کے بغیر بچہ پیدا ہونے پر ملامت کرنے والوں کا کسی طرح کی صفائی دینے سے بھی مطمئن ہونا ممکن نہ تھا، اس لیے ان کے جواب میں مکمل خاموش رہنے کا حکم دیا گیا۔ جاہلوں کے جواب میں دانش مند لوگوں کا یہی وتیرہ ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا) [ الفرقان : 63 ] ”اور جب جاہل لوگ ان سے بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں سلام ہے۔“ عربی کا مقولہ ہے : ”أَذَلُّ النَّاسِ سَفِیْہٌ لَا یَجِدُ مُسَافِھًا“ کہ سب سے زیادہ ذلیل وہ بیوقوف ہے جسے اپنے جواب میں کوئی بےوقوفی کرنے والا نہ ملے۔
فَلَنْ اُكَلِّمَ الْيَوْمَ اِنْسِـيًّا : اس آیت سے معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل میں خاموشی کا روزہ رکھنا جائز تھا، مگر ہماری شریعت میں اس سے منع کردیا گیا، بلکہ اس طرح کی نذر ماننا بھی منع ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں : (بَیْنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْطُبُ إِذَا ھُوَ بِرَجُلٍ فَسَأَلَ عَنْہٗ فَقَالُوْا أَبُوْ إِسْرَاءِیْلَ نَذَرَ أَنْ یَّقُوْمَ وَلاَ یَقْعُدَ وَلاَ یَسْتَظِلَّ وَلَا یَتَکَلَّمَ وَیَصُوْمَ فَقَال النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُرْہٗ فَلْیَتَکَلَّمْ وَلْیَسْتَظِلَّ وَلْیَقْعُدْ وَلْیُتِمَّ صَوْمَہٗ) [ بخاري، الأیمان والنذور، باب النذر فیما لا یملک و في معصیۃ : 6704 ]”نبی ﷺ خطبہ دے رہے تھے، اس دوران میں آپ نے ایک آدمی کو کھڑے ہوئے دیکھا تو اس کے متعلق پوچھا، لوگوں نے بتایا کہ یہ ابو اسرائیل ہے، اس نے نذر مانی ہے کہ دھوپ میں کھڑا رہے گا، سائے میں نہیں جائے گا اور کلام نہیں کرے گا اور روزہ رکھے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اسے حکم دو کہ بیٹھ جائے اور سائے میں بھی جائے اور کلام کرے اور اپنا روزہ پورا کرے۔“ ”اما“ میں ”اِنْ“ شرطیہ اور ”مَا“ ابہامیہ برائے تاکید ہے، اس لیے ترجمہ ”اگر کبھی“ کیا ہے۔
Ayah 19:27ۚفَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ : اپنے بچے کی بات سن کر اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ کرامات دیکھ کر مریم [ کو اطمینان ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ اسے ذلیل نہیں ہونے دے گا۔ چناچہ وہ ایام نفاس گزرنے اور طبیعت بحال ہونے کے بعد کسی جھجک کے بغیر اپنے بچے کو اٹھائے ہوئے اپنے لوگوں کے پاس آگئیں۔
قَالُوْا يٰمَرْيَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَـيْـــــًٔـا فَرِيًّا : ”فَرَی یَفْرِیْ“ (ض) کا معنی چمڑے کو قطع کرنا ہے۔ ”فَرِيًّا“ بروزن ”فَعِیْلٌ“ بمعنی فاعل یا مفعول ہے، قطع کرنے والی یا قطع کی ہوئی، یعنی عام عادت اور معمول کے خلاف چیز، اس لیے اس کا معنی بعض نے عظیم، بعض نے عجیب اور بعض نے منکر یعنی انوکھی کیا ہے۔ بہتان کو بھی افترا کہتے ہیں، کیونکہ وہ بھی واقعہ کے خلاف ہوتا ہے۔ لفظی معنی ہے ”تو ایک انوکھی چیز کو آئی ہے“ یعنی تو نے ایک انوکھا کام کیا ہے۔ مراد کنواری کے ہاں بچے کی پیدائش ہے۔
Ayah 19:28يٰٓاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ۔۔ : مریم [ کے بھائی کا نام ہارون تھا جو اپنی نیکی اور شرافت میں مشہور تھا، یعنی ایسے صالح بھائی کی بہن، ایسے باپ کی بیٹی جو کسی طرح برا نہ تھا اور ایسی ماں کی بیٹی جس میں بدکاری کی کوئی خصلت نہ تھی، تو نے یہ کیا گل کھلا دیا ؟ ان الفاظ میں وہ مریم [ کو اشارتاً برائی سے متہم کر رہے تھے۔ ”کسی طرح برا“ اور ”بدکاری کی کسی خصلت والی“ کا مفہوم ”امْرَاَ سَوْءٍ“ اور ”بَغِيًّا“ کے نکرہ ہونے سے واضح ہو رہا ہے، جو عموم پر دلالت کرتا ہے۔
عظیم پیغمبر موسیٰ ؑ کے بھائی کا نام بھی ہارون تھا اور وہ بھی نبی تھے۔ اس آیت میں مذکور ہارون کو بعض اہل کتاب نے موسیٰ ؑ کا بھائی ہارون سمجھ لیا اور اعتراض جڑ دیا کہ مریم [ ہارون ؑ کی بہن کیسے ہوسکتی ہیں، ان کے درمیان تو مدت دراز ہے۔ علمائے اسلام نے اس کے مختلف جواب دیے ہیں، مثلاً یہ کہ ہارون ؑ کی بہن سے مراد ہارون ؑ جیسی نیک اور صالح خاتون ہے وغیرہ۔ مگر رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے بعد وہ سب جواب محض تکلف ہیں۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ اس آیت میں مذکور ہارون مریم [ کے بھائی تھے۔ یہ ایک حسن اتفاق ہے کہ موسیٰ و ہارون ؑ کے والد بھی عمران تھے اور عیسیٰ ؑ کی والدہ مریم اور ان کے بھائی ہارون کے والد بھی عمران تھے۔ مغیرہ بن شعبہ ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے نجران بھیجا تو وہاں کے لوگوں (نصاریٰ) نے کہا، یہ بتاؤ کہ تم جو پڑھتے ہو ”يٰٓاُخْتَ هٰرُوْنَ“ (اے ہارون کی بہن !) موسیٰ ؑ تو عیسیٰ ؑ سے اتنی مدت پہلے تھے۔ میں واپس آیا اور اس بات کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : (أَلاَ أَخْبَرْتَہُمْ أَنَّہُمْ کَانُوْا یُسَمُّوْنَ بِأَنْبِیَاءِہِمْ وَالصَّالِحِیْنَ قَبْلَہُمْ) [ ترمذی، تفسیر القرآن، باب و من سورة مریم : 3155۔ مسلم : 2135 ] ”تم نے انھیں یہ کیوں نہ بتایا کہ وہ لوگ اپنے سے پہلے انبیاء اور صالحین کے ناموں پر (اپنے بچوں کے) نام رکھتے تھے (یعنی مریم [ کے بھائی کا نام ہارون، موسیٰ ؑ کے بھائی ہارون ؑ کے نام پر رکھا گیا تھا)۔“
Ayah 19:29فَاَشَارَتْ اِلَيْهِ قَالُوْا كَيْفَ۔۔ : مریم [ نے خاموشی کے روزے کی وجہ سے اپنی پاکدامنی کی شہادت کے لیے عیسیٰ ؑ کی طرف اشارہ کیا کہ اس سے پوچھ لو۔ وہ سب کہنے لگے کہ ہم اس سے کیسے بات کریں جو ابھی تک گود میں بچہ ہے ؟ یہاں ”کَانَ“ زمانۂ حال تک استمرار (ہمیشگی) کے معنی میں ہے۔ یہ آیت دلیل ہے کہ آئندہ آیات میں عیسیٰ ؑ کی گفتگو گود کے وقت کی گفتگو ہے۔ معجزات کے بعض منکروں نے اسے عیسیٰ ؑ کی جوانی کی گفتگو قرار دیا ہے، مگر یہ آیات اور سورة آل عمران کی آیت (46) عیسیٰ ؑ کی گود میں گفتگو کی صریح دلیل ہیں۔ علاوہ ازیں صحیح حدیث میں تین بچوں کی گود میں گفتگو کا ذکر ہے جن میں سے ایک عیسیٰ ؑ ہیں۔ [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب : (و اذکر فی الکتاب مریم۔۔) : 3436، عن أبي ہریرہ ؓ ]
Ayah 19:30قَالَ اِنِّىْ عَبْدُ اللّٰهِ : گویا سب سے پہلا کلمہ جو عیسیٰ ؑ نے اپنی زبان سے ادا کیا وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کا اعتراف تھا، جو ان کے خود اللہ تعالیٰ ہونے یا اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہونے یا تین معبودوں میں سے ایک ہونے کی صاف نفی ہے۔
اٰتٰىنِيَ الْكِتٰبَ : ظاہر ہے کہ کتاب اور نبوت کا ملنا کچھ مدت بعد ہی ہوا ہوگا، کیونکہ دودھ پیتا بچہ نبوت کے فرائض دعوت و تبلیغ، اصلاح امت وغیرہ کیسے ادا کرسکتا ہے ؟ اس لیے اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں اور دونوں ہی درست ہیں۔ ایک تو یہ کہ ازل سے اللہ تعالیٰ نے میرا نبی ہونا اور مجھے کتاب ملنا لکھ دیا ہے، جیسا کہ ہمارے نبی کریم ﷺ نے فرمایا : (کُنْتُ نَبِیًّا وَآدَمُ بَیْنَ الرُّوْحِ وَالْجَسَدِ) [ صحیح الجامع للألباني : 4581، عن میسرۃ الفجر ؓ ]”میں اس وقت نبی تھا جب آدم ؑ روح اور جسم کے درمیان تھے۔“ حالانکہ اس بات پر اتفاق ہے کہ آپ ﷺ کو چالیس برس کی عمر میں نبوت عطا ہوئی، اس لیے مراد تقدیر میں نبی لکھا ہونا ہے۔ دوسرا معنی یہ کہ ماضی کا لفظ بول کر مستقبل مراد لیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے اتنے یقینی ہیں کہ سمجھو واقع ہوچکے ہیں۔ یہ اندازبیان قرآن مجید میں عام ہے، جیسے قیامت کے متعلق فرمایا : (اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ) [ النحل : 1 ] ”اللہ کا حکم آگیا، سو اس کے جلدی آنے کا مطالبہ مت کرو۔“ اسی طرح سورة زمر کی آیت (68) میں ماضی کے چاروں صیغے مستقبل کے معنی میں ہیں۔
Ayah 19:31ۙوَّجَعَلَنِيْ مُبٰرَكًا اَيْنَ مَا كُنْتُ ۠ : ”مُبٰرَكًا“ یہاں باب مفاعلہ مقابلے کے معنی میں نہیں بلکہ مبالغہ کے لیے ہے، یعنی بہت برکت والا۔ برکت کا معنی خیر کثیر ہے جو ”بِرْکَۃٌ“ سے ہے، جس کا معنی تالاب ہے جس میں بہت پانی ہوتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے لوگوں کے لیے بہت خیر و برکت اور نفع پہنچانے والا بنایا ہے۔
وَاَوْصٰىنِيْ بالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ : نماز اور زکاۃ کی خاص تاکید کی وجہ کے لیے دیکھیے سورة توبہ (5، 11) اس آیت سے معلوم ہوا کہ نماز، زکاۃ اور شریعت کے دوسرے احکام موت تک کسی کو معاف نہیں۔ ہمارے نبی کریم ﷺ کو بھی فوت ہونے تک عبادت کا حکم ہوا، چناچہ فرمایا : (وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ) [ الحجر : 99 ] ”اور اپنے رب کی عبادت کر، یہاں تک کہ تیرے پاس یقین (موت) آجائے۔“ موسیٰ ؑ کو نبوت ملی تو توحید کی تاکید کے بعد نماز کا حکم ہوا۔ دیکھیے سورة طٰہٰ (14) ابراہیم ؑ نے اللہ تعالیٰ سے اپنے اور اپنی اولاد کے لیے نماز کا پابند رہنے کی دعا کی۔ دیکھیے سورة ابراہیم (40) جب اولوالعزم پیغمبروں کو کسی صورت نماز معاف نہیں ہوئی تو بعض صوفیوں کو کیسے معاف ہوگئی اور پیغمبروں کو صرف دل کی نماز کافی نہیں ہوئی تو انھیں کیسے کافی ہوگئی ؟ درحقیقت یہ لوگ اسی سورة مریم کی آیت (59) کی حقیقی تصویر ہیں۔
3 چونکہ اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے سے یہ بات موجود تھی کہ کچھ لوگ عیسیٰ ؑ کو معبود بنائیں گے، اس لیے انھیں ساری زندگی نماز اور زکاۃ کا حکم دیا، تاکہ سب لوگ جان لیں کہ جو خود کسی معبود کے سامنے نماز پڑھتا ہے وہ کسی صورت معبود نہیں ہوسکتا۔ (بقاعی)
Ayah 19:32وَځ ا بِوَالِدَتِيْ۔۔ : دیکھیے اسی سورت کی آیت (14) وہاں ”عَصِیّاً“ فرمایا اور یہاں ”شَقِيًّا۔“ معلوم ہوا کہ والدین سے بدسلوکی کرنے والا شقی اور بدنصیب ہے، خصوصاً ایسی والدہ سے جو باپ اور ماں دونوں کی جگہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ قِیْلَ مَنْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! قَالَ مَنْ أَدْرَکَ أَبَوَیْہِ عِنْدَ الْکِبَرِ أَحَدَھُمَا أَوْ کِلَیْھِمَا فَلَمْ یَدْخُلِ الْجَنَّۃَ) [ مسلم، البر والصلۃ، باب رغم من أدرک أبویہ أو أحدھما۔۔ : 2551، عن أبي ہریرہ ؓ ] ”اس کی ناک خاک آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو !“ پوچھا گیا : ”یا رسول اللہ ! کون ؟“ فرمایا : ”جس نے اپنے والدین میں سے ایک کو یا دونوں کو بڑھاپے میں پایا پھر جنت میں داخل نہ ہوا۔“ جنت میں داخلے سے محروم ہوجانے سے بڑھ کر کیا بدبختی ہوگی ؟
3 عیسیٰ ؑ نے صرف والدہ کا نام لیا، تاکہ لوگوں کو ان کے باپ کے بغیر پیدا ہونے کا یقین ہوجائے اور والدہ کا ہر تہمت سے پاک ہونا ثابت ہوجائے۔
Ayah 19:33وَالسَّلٰمُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُّ۔۔ : دیکھیے اسی سورت کی آیت (15) وہاں ”سَلٰمٌ“ اور یہاں ”اَلسَّلٰم“ ہے، اس لیے ترجمہ ”خاص سلامتی“ کیا ہے۔ اس خاص سلامتی میں وہ خصوصیت بھی شامل ہے جو صرف عیسیٰ ؑ اور ان کی والدہ کو حاصل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ إِلَّا وَالشَّیْطَانُ یَمَسُّہُ حِیْنَ یُوْلَدُ فَیَسْتَھِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسِّ الشَّیْطَانِ إِیَّاہُ إِلَّا مَرْیَمَ وَابْنَھَا ثُمَّ یَقُوْلُ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ وَاقْرَؤُوْا إِنْ شِءْتُمْ : (وَاِنِّىْٓ اُعِيْذُھَابِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ) [ بخاري، التفسیر، باب قولہ : (و إنی أعیذھا بک۔۔) : 4548، عن أبی ہریرہ ؓ ]”کوئی بچہ نہیں مگر اس کا حال یہ ہے کہ شیطان اسے پیدا ہوتے وقت چھوتا ہے تو وہ اس کے چھونے کی وجہ سے چلاتے ہوئے اونچی آواز سے روتا ہے، سوائے مریم کے اور اس کے بیٹے کے۔“ پھر ابوہریرہ ؓ فرماتے :”اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو : (وَاِنِّىْٓ اُعِيْذُھَابِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ)”(یعنی مریم [ کی والدہ نے دعا کی تھی کہ یا اللہ !) میں اس (مریم) کو اور اس کی اولاد کو شیطان رجیم سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔“
Ayah 19:34ذٰلِكَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ۔۔ : ”قَوْلَ الْحَــقِّ“ اصل میں ”اَلْقَوْلَ الْحَقَّ“ تھا، یعنی وہ بات جو حق اور سچ ہے، تخفیف کے لیے موصوف کو صفت کی طرف مضاف کردیا، یعنی عیسیٰ ؑ کے بارے میں سچ بات صرف وہ ہے جو یہاں خود ان کی زبانی بیان کردی گئی کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے سچے رسول ہیں اور ان کا نسب ہر شک و شبہ اور ہر عیب سے پاک ہے۔ رہے ان کی والدہ اور ان پر تہمت تراشنے والے یہود اور انھیں رب قرار دینے والے نصاریٰ ، تو ان کی بات محض شکوک و شبہات پر مبنی ہے، اس میں حق کا کوئی شائبہ نہیں۔
Ayah 19:35مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ يَّــتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ۔۔ : ”کَانَ“ استمرار کے لیے ہے، یعنی اللہ کے لائق نہ پہلے کبھی تھا اور نہ ہے کہ وہ کوئی بھی اولاد بنائے۔ ”وَلَدٍ“ نکرہ ہونے کی وجہ سے ترجمہ تھا ”کوئی اولاد“ لیکن اس سے پہلے ”مِنْ“ آنے کی وجہ سے عموم اور زیادہ ہوگیا، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”کہ وہ کوئی بھی اولاد بنائے“ لڑکا یا لڑکی، کسی فرشتے کو یا جن کو، یا انسان کو یا کسی اور مخلوق کو۔
يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ : یعنی جسے یہ قدرت حاصل ہو کہ کلمہ ”کن“ سے ہر چیز وجود میں لاسکتا ہو، اسے بیٹا بنانے کی کیا ضرورت ہے ؟ بیٹے کی ضرورت تو اسے ہے جو بڑھاپے اور کمزوری کی وجہ سے محتاج ہو، یا فنا ہونے والا ہو اور اسے وارث کی ضرورت ہو۔ مزید دیکھیے سورة بنی اسرائیل کی آخری آیت۔ پھر جب وہ آدم کو ”کُنْ“ کہہ کر پیدا کرسکتا ہے تو عیسیٰ ؑ کو بھی آدم ؑ کی طرح ”کُنْ“ کہہ کر پیدا کرسکتا ہے، دیکھیے سورة آل عمران (59، 60)۔
Ayah 19:36وَاِنَّ اللّٰهَ رَبِّيْ وَرَبُّكُمْ۔۔ : یہ گود میں عیسیٰ ؑ کے کلام کا آخری حصہ اور خلاصہ ہے۔ اس کا عطف ”قَالَ اِنِّىْ عَبْدُ اللّٰهِ“ پر ہے، یعنی انھوں نے کہا کہ بیشک میں اللہ کا بندہ ہوں، اس کے بعد اللہ کی عطا کردہ نعمتیں بیان کیں، درمیان میں ”ذٰلِكَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ“ سے ”كُنْ فَيَكُوْن“ تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے جملہ معترضہ ہے، پھر عیسیٰ ؑ کی اس بات ”ۭوَاِنَّ اللّٰهَ رَبِّيْ وَرَبُّكُمْ۔۔“ پر ان کا کلام مکمل ہوتا ہے۔ یعنی عبادت اسی کا حق ہے جو ہمارا رب ہے، میری اور تمہاری پرورش کرنے والا ہے، سو اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔
Ayah 19:37فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَيْنِهِمْ : عیسیٰ ؑ کے متعلق حق بات تفصیل سے بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ پھر بنی اسرائیل سے باہر کے کسی گروہ نے نہیں بلکہ خود ان کے اپنے گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا۔ ”مِنْۢ بَيْنِهِمْ“ میں اسی طرف اشارہ ہے۔ یہود نے انھیں ولد الزنا اور جادوگر قرار دیا اور نصاریٰ کئی گروہوں میں بٹ گئے، کسی نے کہا اللہ مسیح ہی تو ہے۔ (مائدہ : 72) کسی نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ (توبہ : 30) کسی نے کہا مسیح تین (معبودوں) میں سے تیسرا ہے وغیرہ۔ مائدہ (73) یہود نے ان کی شان گھٹانے کی کوشش کی تو نصاریٰ نے انھیں ان کی حد سے بڑھا دیا۔ ہاں اہل حق نے یہی کہا کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ یہود ان کی شان گھٹانے اور ان پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے کافر ہوگئے اور نصاریٰ ان کی شان میں غلو کی وجہ سے کافر ہوگئے، البتہ اہل حق ایمان پر قائم رہے۔
فَوَيْلٌ لِّـلَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔۔ : ”فَوَيْلٌ“ پر تنوین (تہویل) یعنی اس کی ہولناکی کے اظہار کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی ہلاکت“ کیا ہے۔ ”مَّشْهَدِ“ یہاں راجح قول میں مصدر میمی ہے، یعنی اس عظیم دن میں حاضری کی وجہ سے ان لوگوں کے لیے بہت بڑی ہلاکت ہے جنھوں نے کفر کیا، اگر اس دن کی حاضری نہ ہوتی تو یہ لوگ اس ہلاکت سے بچ جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف ”ان لوگوں کے لیے“ کہنے کے بجائے صراحت سے فرمایا : ”ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا بہت بڑی ہلاکت ہے۔“ معلوم ہوا کہ اس ویل کا باعث کفر ہے۔ یوم عظیم پچاس ہزار سال کا دن (معارج : 4) اور اللہ کے سامنے حساب کے لیے پیش ہونے کا دن ہے۔ [ اَللّٰھُمَّ حَاسِبْنَا حِسَابًا یَّسِیْرًا ]
Ayah 19:38اَسْمِعْ بِهِمْ وَاَبْصِرْ۔۔ : یہ دونوں فعل تعجب ہیں۔ اللہ تعالیٰ تعجب سے فرماتے ہیں کہ جس دن وہ ہمارے پاس آئیں گے تو وہ کس قدر سننے والے اور کس قدر دیکھنے والے ہوں گے۔ بعض لوگ اللہ تعالیٰ کے تعجب کرنے کو نہیں مانتے، کیونکہ تعجب تو انسان کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ انسان جیسا تو نہیں کہ تعجب کرے۔ اس لیے وہ اس کی تاویل کرتے ہیں کہ ان کی حالت ایسی ہوگی کہ اس پر تعجب کیا جائے، اگرچہ ان کی حالت واقعی ایسی ہوگی مگر جب انسان کے سننے، دیکھنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کو بھی سننے دیکھنے والا مانتے ہیں تو اس کے تعجب کرنے میں کیا تعجب ہے۔ ہاں انسان کا سننا، دیکھنا اور تعجب اس کی ہستی کے مطابق ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کا اس کی شان کے مطابق، جیسا کہ فرمایا : (لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ) [ الشورٰی : 11 ] ”اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔“ لطف کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تعجب کرنے کے منکر اس کے سمیع وبصیر ہونے اور دوسری صفات کے بھی منکر ہیں، مگر انکار ایسی تاویل کے پردے میں کرتے ہیں جو درحقیقت آیات و احادیث کی تحریف ہے۔ یعنی آج تو حق سے اندھے اور بہرے ہو رہے ہیں مگر آخرت میں ان کے کان اور آنکھیں خوب کھلی ہوں گی اور کہیں گے : (رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا) [ السجدۃ : 12 ] ”اے ہمارے رب ! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا“ مگر اس وقت کا دیکھنا اور سننا کسی کام نہ آئے گا۔ ”الظّٰلِمُوْنَ“ پر الف لام عہد کا ہے، اس لیے ترجمہ ”یہ ظالم“ کیا گیا ہے۔
Ayah 19:39وَاَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ۔۔ : مراد قیامت کا دن ہے جس میں حسرت اور پچھتاوے کے سوا کوئی چارۂ کار نہ ہوگا۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة زمر (56) ، انعام (31) اور بقرہ (167)۔
اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُ ۘ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ۔۔ : ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (یُؤْتٰی بالْمَوْتِ کَھَیْءَۃِ کَبْشٍ أَمْلَحَ فَیُنَادِيْ مُنَادٍ یَا أَھْلَ الْجَنَّۃِ ! فَیَشْرَءِبُّوْنََ وَ یَنْظُرُوْنَ فَیَقُوْلُ ھَلْ تَعْرِفُوْنَ ھٰذَا ؟ فَیَقُوْلُوْنَ نَعَمْ ھٰذَا الْمَوْتُ وَکُلُّھُمْ قَدْ رَاٰہُ ثُمَّ یُنَادِیْ یَا أَہْلَ النَّارِ ! فَیَشْرَءِبُّوْنَ وَ یَنْظُرُوْنَ فَیَقُوْلُ ہَلْ تَعْرِفُوْنَ ہٰذَا ؟ فَیَقُوْلُوْنَ نَعَمْ ، ہٰذَا الْمَوْتُ وَ کُلُّہُمْ قَدْ رَاٰہُ فَیُذْبَحُ ثُمَّ یَقُوْلُ یَا أَہْلَ الْجَنَّۃِ ! خُلُوْدٌ فَلَا مَوْتَ وَ یَا أَھْلَ النَّارِ ! خُلُوْدٌ فَلاَ مَوْتَ ، ثُمَّ قَرَأَ : (وَاَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ) وَھٰؤُلَاءِ فِيْ غَفْلَۃٍ أَھْلُ الدُّنْیَا (وَّهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ) [ بخاري، التفسیر، باب قولہ عز وجل : (و أنذرھم یوم الحسرۃ): 4730 ] ”موت کو ایک چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا، پھر ایک آواز دینے والا آواز دے گا : ”اے جنت والو !“ تو وہ سر اٹھائیں گے اور دیکھیں گے۔ وہ کہے گا : ”کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟“ وہ کہیں گے : ”ہاں ! یہ موت ہے“ اور وہ سب اسے دیکھ چکے ہوں گے، پھر وہ آواز دے گا : ”اے آگ والو !“ تو وہ سر اٹھائیں گے اور دیکھیں گے، وہ کہے گا : ”کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟“ وہ کہیں گے : ”ہاں ! یہ موت ہے“ اور وہ سب اسے دیکھ چکے ہوں گے تو اسے ذبح کردیا جائے گا۔ پھر وہ کہے گا : ”اے جنت والو ! (اب) ہمیشگی ہے، کوئی موت نہیں اور اے آگ والو ! (اب) ہمیشگی ہے، کوئی موت نہیں۔“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : (وَاَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُ ۘ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ) (اور انھیں پچھتاوے کے دن سے ڈرا جب فیصلہ کردیا جائے گا اور وہ سراسر غفلت میں ہیں) یعنی وہ سراسر دنیا کی غفلت میں ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔“ نبی ﷺ کا موت کے ذبح کے ذکر کے بعد اس آیت کو پڑھنا دلیل ہے کہ ”قُضِيَ الْاَمْرُ“ (فیصلہ کردیے جانے) سے مراد موت کا ذبح کردیا جانا ہے۔ مسند احمد (3؍9، ح : 11072) میں اسی حدیث کے شروع میں ہے کہ جب (تمام) جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے۔