18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 18:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًاؕٚ Open ayah 18:1 in the Quran reader

سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی اور اس میں کوئی کجی نہ رکھی۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ۔۔ : یہ سورت ان پانچ سورتوں میں شامل ہے جن کی ابتدا ”اَلْحَمْدُ“ کے ساتھ ہوئی ہے، دوسری چار سورتیں فاتحہ، انعام، سبا اور فاطر ہیں۔ پچھلی سورت کا خاتمہ بھی ”اَلْحَمْدُ“ کے ساتھ ہوا ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہر کام کی ابتدا اور انتہا اللہ کے پاکیزہ نام کے ساتھ یا اس کی حمد کے ساتھ کرنی چاہیے۔ ان تمام سورتوں میں سے ہر سورت کا طریقہ اگرچہ مختلف ہے مگر مقصود لوگوں کو اس بات کا یقین دلانا ہے کہ حمد کے لائق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے، اور کوئی نہیں، کیونکہ کسی میں کوئی خوبی ہے تو اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کردہ ہے۔ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلٰي عَبْدِهِ الْكِتٰبَ : سورة فاتحہ میں اللہ تعالیٰ کے تمام حمد کا مالک ہونے کی دلیل کے لیے چار صفات بیان ہوئی ہیں، یہاں اللہ تعالیٰ کے تمام حمد اور خوبیوں کا مالک ہونے کی ایک ہی دلیل بیان کی گئی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر ”اَلْکِتٰب“ نازل فرمانا ہے۔ کیونکہ دوسرے تمام انعامات اگرچہ ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں مگر یہ نعمت سب سے اہم ہے، کیونکہ اس پر ہمیشہ کی زندگی یعنی اخروی کامیابی یا ناکامی کا دارومدار ہے۔ عَلٰي عَبْدِهِ : ”اپنے بندے پر، اپنے غلام پر“ اس میں رسول اللہ ﷺ کو اپنا خاص عبد قرار دینے میں آپ ﷺ کی بےانتہا شان بیان ہوئی ہے، اگرچہ زمین و آسمان میں رہنے والی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی غلام ہے، مگر ”اپنا غلام“ کہنے میں آپ ﷺ کو جو عزت ملی وہ بہت کم لوگوں کو ملی ہے، جیسا کہ (سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ) [ بنی إسرائیل : 1 ] میں ہے اور اس کتاب کی بھی تعریف ہے جو نازل کی گئی۔ ”اَلْکِتٰبُ“ میں الف لام عہد کا ہے، یعنی یہ کتاب، مراد قرآن کریم ہے، کیونکہ جب صرف ”اَلْکِتٰب“ کہا جائے تو قرآن کریم ہی مراد ہوتا ہے، اس لیے کہ اس کے سوا کسی اور میں یہ کمال ہی نہیں کہ اسے ”اَلْکِتٰب“ کہا جاسکے۔ وَلَمْ يَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًا : ”عِوَجًا“ کجی، ٹیڑھا پن۔ ”عِوجاً“ پر تنوین عموم کے لیے ہے جو نفی کے بعد آکر مزید عام ہوگیا ہے، یعنی اس کتاب میں کسی بھی قسم کا کوئی ٹیڑھا پن نہیں، نہ الفاظ میں، نہ معانی میں، نہ فصاحت و بلاغت میں، نہ یہ کہ اس کی آیات کا آپس میں کوئی اختلاف ہو، یا اس کی کوئی خبر غلط نکلے، یا کوئی حکم حکمت سے خالی ہو۔ دیکھیے زمر (28) ، بنی اسرائیل (9 تا 10) اور نساء (82)۔
Ayahs 18:2–4

قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَنًاۙ Open ayah 18:2 in the Quran reader

بالکل سیدھی، تاکہ وہ اس کی جانب سے آنے والے سخت عذاب سے ڈرائے اور ان مومنوں کو جو نیک اعمال کرتے ہیں، خوش خبری دے کہ بیشک ان کے لیے اچھا اجر ہے۔

مَّاكِثِیْنَ فِیْهِ اَبَدًاۙ Open ayah 18:3 in the Quran reader

جس میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًاۗ Open ayah 18:4 in the Quran reader

اور ان لوگوں کو ڈرائے جنھوں نے کہا اللہ نے کوئی اولاد بنا رکھی ہے۔

”قَـيِّمًا“ میں مبالغہ ہے، یعنی بالکل سیدھی، پہلے فرمایا تھا کہ اس میں کوئی کجی نہیں رکھی، اب فرمایا بالکل سیدھی ہے۔ بات ایک ہی ہے مگر اس تاکید کا فائدہ یہ ہے کہ بعض اوقات ایک چیز میں بظاہر کوئی کجی نہیں ہوتی، مگر حقیقت میں اور باریکی سے دیکھا جائے تو اس میں کوئی نہ کوئی کجی ہوتی ہے، اس سے اس کی بھی نفی ہوگئی۔ جیسے ایک جگہ ہموار نظر آتی ہے مگر آلہ رکھ کر دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ ہموار نہیں۔ ”قَـيِّمًا“ کا معنی نگران بھی ہے، ”مُھَیْمِنٌ“ کا بھی یہی معنی ہے۔ (دیکھیے مائدہ : 48) اس صورت میں مراد یہ ہوگی کہ یہ کتاب پچھلی تمام کتابوں پر نگران ہے، یعنی ان کے مضامین کا درست یا تحریف شدہ ہونا اس کتاب کی تصدیق یا تکذیب سے معلوم ہوتا ہے۔ لِّيُنْذِرَ بَاْسًا۔۔ : یہاں یہ بتایا کہ اس کتاب کو اپنے بندے پر اس لیے نازل فرمایا کہ وہ اس سخت عذاب سے ڈرائے جو اس کی جانب سے ہوگا، مگر یہ نہیں بتایا کہ کسے ڈرائے، اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ مراد عموم ہے، یعنی کافر و مومن ہر ایک کو اللہ کی جانب سے آنے والے سخت عذاب سے ڈرائے، یا یہ کہ یہ بات اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں بتائی ہے، چناچہ فرمایا : (وَّيُنْذِرَ الَّذِيْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا) [ الکہف : 4 ] ”اور (تاکہ) ان لوگوں کو ڈرائے جنھوں نے کہا اللہ نے کوئی اولاد بنا رکھی ہے۔“ اس آیت (4) میں یہ نہیں بتایا کہ کس چیز سے ڈرائے، اس کا ذکر زیر تفسیر آیت (2) میں ہے کہ اس کی جانب سے آنے والے سخت عذاب سے ڈرائے۔ دونوں آیات کو ملائیں تو مضمون یہ بنے گا : ”تاکہ ان لوگوں کو اپنی جانب سے آنے والے سخت عذاب سے ڈرائے جنھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی اولاد بنا رکھی ہے۔“ دونوں آیتوں میں ڈرانے کا ذکر دو بار آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس کتاب اور پیغمبر کے فرائض میں ڈرانے کا فریضہ زیادہ اہم ہے، کیونکہ ایمان نہ لانے والے زیادہ ہیں، جن میں سے کوئی مسیح ؑ کو اور کوئی عزیر ؑ کو اللہ کا بیٹا قرار دیتا ہے، کوئی فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتا ہے، کوئی اپنے انبیاء و اولیاء کو اللہ کے نور کا ٹکڑا اور کوئی انھیں عین اللہ تعالیٰ قرار دیتا ہے، جیسا کہ نصرانیوں نے کہا : (اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ) [ المائدۃ : 72 ] ”بیشک اللہ مسیح ابن مریم ہی تو ہے۔“ اور ہماری امت کے ایک ظالم نے کہا ہے ؂ وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہو کر اتر پڑا ہے مدینہ میں مصطفیٰ ہو کر اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ کتاب ان سب کو اس کی جانب سے آنے والے سخت عذاب سے ڈراتی ہے، خواہ وہ دنیا و آخرت دونوں میں ہو یا صرف آخرت میں۔ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد رکھنے کی تردید کے لیے دیکھیے سورة مریم (88 تا 95) ”مِّنْ لَّدُنْهُ“ سے عذاب کی ہولناکی بیان کرنا مقصود ہے۔
Ayah 18:5

مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِهِمْ١ؕ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ؕ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا Open ayah 18:5 in the Quran reader

نہ انھیں اس کا کوئی علم ہے اور نہ ان کے باپ دادا کو۔ بولنے میں بڑی ہے، جو ان کے مونہوں سے نکلتی ہے، وہ سراسر جھوٹ کے سوا کچھ نہیں کہتے۔

مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ۔۔ : یعنی اللہ کی اولاد ہونے کی کوئی دلیل نہ ان کے پاس ہے اور نہ ان کے آباء کے پاس، کیونکہ علم وہ ہے جس کی کوئی دلیل ہو۔ ان کے باپ دادا نے کسی علم کے بغیر محض جہل سے یہ بات نکالی اور انھوں نے محض جہالت کی بنا پر ان کی تقلید کی۔ ابن قیم ؓ نے تقلید کے بارے میں کیا خوب کہا ؂ اَلْعِلْمُ قَال اللّٰہُ قَالَ رَسُوْلُہُ مَا ذَاکَ وَالتَّقْلِیْدُ یَسْتَوِیَانِ اِذْ أَجْمَعَ الْعُلَمَاءُ أَنَّ مُقَلِّدًا لِلنَّاسِ وَالْأَعْمَی ھُمَا سَیَّانِ ”علم وہ ہے جو اللہ نے فرمایا اور اس کے رسول نے فرمایا۔ یہ اور تقلید برابر نہیں ہیں، کیونکہ علماء کا اتفاق ہے کہ لوگوں کی تقلید کرنے والا اور اندھا دونوں برابر ہیں۔“ كَبُرَتْ كَلِمَةً۔۔ : ”كَبُرَتْ“ مذمت کے لیے فعل ماضی ہے، گویا افعال مدح و ذم کے قبیل سے ہے۔ ”كَبُرَتْ“ فعل ذم ہے، اس کا فاعل ”ھِیَ“ محذوف ہے، ”كَلِمَةً“ تمیز ہے، یعنی یہ جو کچھ انھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ہے، یہ بطور کلمہ (یعنی منہ سے بولنے کے لحاظ سے) ہی بہت بڑی بات ہے، کجا یہ کہ اس کا عقیدہ رکھا جائے۔ اس میں کچھ تعجب کا اظہار بھی ہے کہ کتنی بڑی بات انھوں نے اپنے منہ سے نکال دی۔ دوسری جگہ فرمایا : (وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا 88؀ۭلَقَدْ جِئْتُمْ شَـيْــــــًٔـا اِدًّا 89؀ۙتَكَاد السَّمٰوٰتُ يَــتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا 90 ۝ ۙاَنْ دَعَوْا للرَّحْمٰنِ وَلَدًا 91۝ۚوَمَا يَنْۢبَغِيْ للرَّحْمٰنِ اَنْ يَّـتَّخِذَ وَلَدًا 92۝ۭاِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا 93؀ۭلَقَدْ اَحْصٰىهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا 94؀ۭوَكُلُّهُمْ اٰتِيْهِ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فَرْدًا) [ مریم : 88 تا 95 ] ”اور انھوں نے کہا رحمٰن نے کوئی اولاد بنا لی ہے۔ بلاشبہ یقیناً تم ایک بہت بھاری بات کو آئے ہو۔ آسمان قریب ہیں کہ اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ڈھے کر گرپڑیں کہ انھوں نے رحمٰن کے لیے کسی اولاد کا دعویٰ کیا، حالانکہ رحمٰن کے لائق نہیں کہ وہ کوئی اولاد بنائے۔ آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے وہ رحمٰن کے پاس غلام بن کر آنے والا ہے۔ بلاشبہ یقیناً اس نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے اور انھیں خوب اچھی طرح گن کر شمار کر رکھا ہے اور ان میں سے ہر ایک قیامت کے دن اس کے پاس اکیلا آنے والا ہے۔“
Ayah 18:6

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا Open ayah 18:6 in the Quran reader

پس شاید تو اپنی جان ان کے پیچھے غم سے ہلاک کرلینے والا ہے، اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائے۔

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ۔۔ : ”بَاخِعٌ“ ”بَخَعَ یَبْخَعُ نَفْسَہُ“ اس نے اپنے آپ کو غم سے مار ڈالا۔ ”لَعَلَّ“ کا لفظ محبوب چیز کے لیے بولا جائے تو ترجی، یعنی امید کرنا مراد ہوتا ہے اور ایسی چیز کے لیے بولا جائے جس کا خطرہ ہو تو اسے اشفاق یعنی ڈرنا کہا جاتا ہے، یہاں یہی مراد ہے۔ اس آیت سے مقصود آپ ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے پر آپ اپنے آپ کو رنج و غم سے کیوں گھلا رہے ہیں ؟ اس آیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کو اپنی قوم کے ایمان نہ لانے کا کس قدر صدمہ تھا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ”بَاخِعٌ نَّفْسَكَ“ (اپنے آپ کو ہلاک کرلینے والے) کے الفاظ استعمال فرمائے۔ مزید دیکھیے سورة شعراء (3) ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّمَا مَثَلِيْ وَمَثَلُ النَّاسِ کَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَہُ جَعَلَ الْفَرَاشُ وَھٰذِھِ الدَّوَابُّ الَّتِيْ تَقَعُ فِي النَّارِ یَقَعْنَ فِیْھَا، فَجَعَلَ الرَّجُلُ یَنْزِعُھُنَّ وَیَغْلِبْنَہُ ، فَیَقْتَحِمْنَ فِیْھَا، فَأَنَا آخُذُ بِحُجَزِکُمْ عَنِ النَّارِ وَاَنْتُمْ تَقْتَحِمُوْنَ فِیْھَا) ”میری اور لوگوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے ایک آگ خوب بھڑکائی، جب اس نے اس کے اردگرد کو روشن کردیا تو پروانے اور اس قسم کے جانور اس آگ میں گرنے لگے۔ وہ اس میں گرتے تھے اور وہ شخص انھیں روکتا تھا اور وہ اس سے زبردستی آگ میں گھستے تھے۔ تو میں آگ سے بچانے کے لیے تمہاری کمروں کو پکڑنے والا ہوں اور تم زبردستی اس میں گھستے ہو۔“ [ بخاری، الرقاق، باب الانتھاء عن المعاصي : 6483۔ مسلم : 16؍2284 ] مزید دیکھیے سورة فاطر (8) ، نمل (70) اور نحل (27) ”عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ“ ان کے قدموں کے نشانات پر، یعنی ان کے پیچھے۔ ”اَسَفًا“ بہت زیادہ فکر و غم، یہ مفعول ہے، یعنی غم کی وجہ سے۔
Ayah 18:7

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا Open ayah 18:7 in the Quran reader

بیشک ہم نے زمین پر جو کچھ ہے اس کے لیے زینت بنایا ہے، تاکہ ہم انھیں آزمائیں ان میں سے کون عمل میں بہتر ہے۔

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَي الْاَرْضِ زِيْنَةً لَّهَا۔۔ : یعنی ہم نے زمین پر جو کچھ بھی ہے، حیوان، انسان، پودے، ندی نالے، سمندر اور پہاڑ، غرض ہر چیز اس زمین کی زینت بنائی ہے۔ زینت کی مزید تفصیل کے لیے دیکھیے آل عمران (14) مقصد انسانوں کی آزمائش ہے کہ ان میں سے عمل میں کون زیادہ اچھا ہے، کون دنیا کی سج دھج کی طرف دوڑتا ہے اور کون اس کو چھوڑ کر آخرت کے حصول کی کوشش کرتا ہے۔
Ayah 18:8

وَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًاؕ Open ayah 18:8 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم جو کچھ اس پر ہے، اسے ضرور ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں۔

وَاِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَيْهَا۔۔ : ”صَعِيْدًا“ مٹی، کیونکہ وہ سمندر سے اوپر اٹھی ہوئی ہے۔ ”صَعِدَ یَصْعَدُ“ چڑھنا۔ ”جُرُزًا“ چٹیل زمین، جس میں کوئی سبزہ نہ ہو۔ ”جُرِزَتِ الْأَرْضُ“ قحط یا ٹڈی دل کی وجہ سے زمین پر کوئی اگی ہوئی چیز نہ رہ گئی۔ سورة سجدہ میں فرمایا : (اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَاۗءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَاَنْفُسُهُمْ ۭ اَفَلَا يُبْصِرُوْنَ) [ السجدۃ : 27 ] ”اور کیا اس بات نے ان کی رہنمائی نہیں کی کہ ہم پانی کو چٹیل زمین کی طرف ہانک کرلے جاتے ہیں، پھر اس کے ذریعے کھیتی نکالتے ہیں جس میں سے ان کے چوپائے کھاتے ہیں اور وہ خود بھی، تو کیا وہ نہیں دیکھتے ؟“ ان دونوں آیتوں میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ کفار جن چیزوں پر اترا رہے ہیں وہ سب چند دن کے لیے زمین کی زینت ہیں، پھر ایک وقت آنے والا ہے کہ نہ اس پر کوئی مکان رہے گا نہ باغ، نہ سبزہ، نہ جانور، نہ آدمی، یعنی یہ ساری چہل پہل ختم ہوجائے گی۔
Ayah 18:9

اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِ١ۙ كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا Open ayah 18:9 in the Quran reader

یا تو نے خیال کیا کہ غار اور کتبے والے ہماری نشانیوں میں سے ایک عجیب چیز تھے ؟

ۭاَمْ حَسِبْتَ۔۔ :”الْكَهْفِ“ پہاڑ میں وسیع غار۔ ”الرَّقِيْمِ“ بمعنی ”مَرْقُوْمٌ“ یعنی لکھی ہوئی تختی یا سل یا کتاب والے۔ ان لوگوں کو ”اصحاب الرقیم“ اس لیے کہتے ہیں کہ جب وہ اچانک غائب ہوگئے اور بہت تلاش کے باوجود نہ ملے تو ان کے نام ایک تختی یا سل پر لکھ کر خزانے میں محفوظ کردیے گئے، یا یہ کہ ان کے پاس شریعت کے احکام پر مشتمل لکھی ہوئی کتاب تھی۔ (شنقیطی) یا یہ کہ ان کے جاگنے کے بعد لوگوں نے غار پر ایک تختی نصب کردی جس پر ان کے نام لکھے ہوئے تھے۔ rnۭاَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ۔۔ : اس آیت کی تفسیر جو اکثر مفسرین، مثلاً طبری، ابن کثیر، شنقیطی ؒ نے کی ہے، یہ ہے کہ ”اَمْ“ منقطعہ انکار کے لیے ہے۔ شنقیطی ؓ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرما رہے ہیں کہ کیا تم نے اصحاب کہف کے قصے کو ہماری نشانیوں میں بڑی عجیب نشانی سمجھ لیا ہے۔ بیشک لوگ اسے بہت بڑی اور عجیب بات سمجھیں، مگر یہ ہماری قدرت اور عظیم نشانیوں کے سامنے کچھ عجیب نہیں، کیونکہ ہمارا آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کرنا، پھر زمین میں اس کی زینت کی ہر چیز پیدا کرنا، پھر قیامت کے دن اسے چٹیل میدان بنادینا اصحاب کہف کے معاملے سے بہت زیادہ عجیب ہے، جنھیں ہم نے تین سو نو (309) سال سلائے رکھا، پھر دوبارہ اٹھا دیا۔ اس کی دلیل بہت سی آیات ہیں، ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کے ذکر سے پہلے زمین اور اس کی زینت پیدا کرنے، پھر اسے چٹیل میدان بنانے کا ذکر فرمایا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ قصہ ان چیزوں کے مقابلے میں کچھ عجیب نہیں جو اس سے کہیں بڑی ہیں۔ قرآن مجید میں بہت سی جگہ لوگوں کو توجہ دلائی گئی ہے کہ آسمان و زمین کو پیدا کرنا لوگوں کو پیدا کرنے سے بہت بڑی بات ہے، جیسا کہ فرمایا : (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ) [ المؤمن : 57 ] ”یقیناً آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کرنا لوگوں کو پیدا کرنے سے بہت بڑا ہے۔“ اور دیکھیے نازعات (27 تا 33) یاد رہے کہ ”اصحاب کہف“ اور ”اصحاب رقیم“ ایک ہی گروہ کے نام ہیں اور صحیح بخاری میں مذکور غار کے اندر پناہ لینے والے تین آدمیوں کا اس واقعہ سے تعلق بہت بعید ہے، جن میں سے ایک والدین سے حسن سلوک کرنے والا، ایک پاک دامن رہنے والا اور ایک اجرت پر مزدور رکھنے والا تھا۔ اور یہ بات یاد رکھیں کہ اصحاب کہف کے قصے، ان کے ناموں اور یہ کہ وہ زمین کے کس حصے میں تھے ؟ اس سب سے متعلق نبی ﷺ سے اس کے علاوہ کوئی بات ثابت نہیں جو قرآن سے زائد ہو۔ مفسرین نے ان کے متعلق بہت سی اسرائیلی روایات بیان کی ہیں جن کے قابل اعتماد نہ ہونے کی وجہ سے ہم نے ان کی طرف توجہ نہیں کی۔“ (شنقیطی ملخصاً) ایک اور تفسیر جو پہلی تفسیر کے علاوہ صاحب روح المعانی اور ابن عاشور ; وغیرہ نے ذکر فرمائی ہے، یہ ہے کہ ”حِسْبَانٌ“ گمان اور علم دونوں معنوں میں آتا ہے، ہاں ”اَم“ انکار کے لیے نہیں بلکہ تقریری ہے، یعنی یہ بتانے کے لیے ہے کہ یقیناً یہ لوگ واقعی عجیب تھے۔ گویا یہ کہا گیا : ”اِعْلَمْ أَنَّھُمْ عَجَبٌ“ ”جان لے کہ یقیناً وہ لوگ بڑے عجیب تھے۔“ جیسا کہ تم کہتے ہو : ”أَعَلِمْتَ أَنَّ فُلاَنًا فَعَلَ کَذَا“ ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ فلاں نے اس طرح کیا۔“ یعنی یقیناً اس نے اس طرح کیا ہے۔ ان مفسرین کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے واقعے کا عجیب ہونا ذکر کرنے کے بعد تفصیل سے واقعہ بیان کر رہے ہیں، تاکہ مخاطب کو سننے کا شوق پیدا ہوجائے۔ یہ تفسیر بھی ہوسکتی ہے۔
Ayah 18:10

اِذْ اَوَى الْفِتْیَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا Open ayah 18:10 in the Quran reader

جب ان جوانوں نے غار کی طرف پناہ لی تو انھوں نے کہا اے ہمارے رب ! ہمیں اپنے پاس سے کوئی رحمت عطا کر اور ہمارے لیے ہمارے معاملے میں کوئی رہنمائی مہیا فرما۔

اِذْ اَوَى الْفِتْيَةُ اِلَى الْكَهْفِ۔۔ : ”اَوَى“ (ض) جگہ پکڑی، پناہ لی۔ ”الْفِتْيَةُ“ ”فَتًی“ کی جمع قلت ہے، جوان جو آغاز شباب میں ہوں۔ ”َهَيِّئْ“ باب تفعیل سے امر ہے، مہیا فرما، میسر فرما، ”رَشَدًا“ بھلائی، رہنمائی۔ ”اِذْ“ یا تو ”کَانُوْا“ کی ظرف ہے، یا ”عَجَباً“ کی اور یا ”أُذْکُرْ“ کی جو محذوف ہے، یعنی جب چند نوجوان جو اپنی مشرک قوم اور مشرک بادشاہ کے سامنے توحید کا برملا اظہار و اعلان کرنے کی وجہ سے انھیں مطلوب تھے، اپنے گھروں سے نکلے اور انھوں نے ایک پہاڑ کے کھلے غار میں پناہ لی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے ہمارے رب ! ہمیں اپنے پاس سے، یعنی محض اپنے فضل اور اپنی جناب سے کوئی بھی رحمت جو تو چاہے عطا فرما، جیسے موسیٰ ؑ نے عرض کیا تھا : (رَبِّ اِنِّىْ لِمَآ اَنْزَلْتَ اِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيْرٌ) [ القصص : 24 ] ”اے میرے رب ! بیشک میں، جو بھلائی بھی تو میری طرف نازل فرمائے، اس کا محتاج ہوں۔“ رحمت میں کھانا پینا، امن و اطمینان اور ضرورت کی ہر چیز شامل ہے۔”َهَيِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا“ اور ہمارے لیے اس معاملے میں کوئی رہنمائی عطا فرما کہ ہم کیا کریں۔
Ayah 18:11

فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِی الْكَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًاۙ Open ayah 18:11 in the Quran reader

تو ہم نے غار میں ان کے کانوں پر گنتی کے کئی سال پردہ ڈال دیا۔

فَضَرَبْنَا عَلٰٓي اٰذَانِهِمْ۔۔ :”فَضَرَبْنَا“ کا مفعول مقدر ہے، یعنی ”حِجَابًا“ ”تو ہم نے ان کے کانوں پر پردہ ڈال دیا“ یعنی ہم نے انھیں سلا دیا، تاکہ ان کی پریشانی اور گھبراہٹ ختم ہوجائے، کیونکہ نیند اس کا سب سے اچھا علاج ہے اور وہ اپنی مشرک قوم سے بھی محفوظ ہوجائیں۔ یہ عربی زبان کا ایک محاورہ ہے، کوئی سو جائے تو اسے کہتے ہیں ”ضُرِبَ عَلٰی آذَانِہِ“ ”اس کے کانوں پر پردہ ڈال دیا گیا۔“ اگرچہ نیند میں آنکھوں اور دوسرے اعضا پر بھی پردہ ہوتا ہے اور انھیں بیرونی دنیا کا کچھ احساس نہیں ہوتا، مگر سب سے آخر میں کانوں کا سننا بند ہوتا ہے اور انسان گہری نیند سو جاتا ہے۔ ”سِنِيْنَ عَدَدًا“ گنتی کے کئی سال، جن کا شمار آگے آ رہا ہے۔
Ayah 18:12

ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْۤا اَمَدًا۠ Open ayah 18:12 in the Quran reader

پھر ہم نے انھیں اٹھایا، تاکہ ہم معلوم کریں دونوں گروہوں میں سے کون وہ مدت زیادہ یاد رکھنے والا ہے جو وہ ٹھہرے۔

ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَيُّ الْحِزْبَيْن۔۔ : ”بَعَثَ“ کا معنی کسی ساکن چیز کو حرکت میں لانا ہے۔ یہ لفظ مردہ کو زندہ کرنے اور سوئے ہوئے کو جگانے کے لیے آتا ہے، یعنی پھر ہم نے انھیں اٹھایا، تاکہ ہم معلوم کریں کہ ان سونے والوں کے دو گروہوں میں سے کون سا گروہ ہے جو اپنے وہاں ٹھہرنے کی مدت کو زیادہ یاد رکھنے والا ہے۔ یہ ترجمہ اس وقت ہے جب ”اَحْصٰى“ کو اسم تفضیل مانیں اور یہ معنی راجح ہے، کیونکہ باب افعال سے بھی ”أَفْعَلُ“ کے وزن پر اسم تفضیل آجاتا ہے۔ دوسرا معنی اس صورت میں ہے کہ ”اَحْصٰى“ کو ماضی معروف قرار دیں، اس وقت معنی یہ ہوگا کہ دونوں گروہوں میں سے کون ہے جس نے اس مدت کو یاد رکھا ہے جو وہ ٹھہرے ہیں۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کو گزشتہ، موجودہ اور آئندہ ہر چیز کا علم ہے کہ کیا ہوا، کیا ہو رہا ہے اور کیا ہوگا، مگر ظاہر ہے کہ یہ علم کہ فلاں کام واقع ہوچکا ہے، اسی وقت ہوسکتا ہے جب وہ کام واقع ہوجائے، یعنی تاکہ ہم اپنے علم کے مطابق اس کا واقع ہونا جان لیں۔
Ayah 18:13

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّهُمْ فِتْیَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْنٰهُمْ هُدًىۗۖ Open ayah 18:13 in the Quran reader

ہم تجھ سے ان کا واقعہ ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں، بیشک وہ چند جوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے انھیں ہدایت میں زیادہ کردیا۔

ۧنَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَاَهُمْ بالْحَقِّ : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ مشہور تھا، مگر اس میں بہت سی خرافات اور غلط باتیں شامل تھیں، اس لیے فرمایا کہ ہم تجھ سے ان کا واقعہ ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں۔ rnۭ اِنَّهُمْ فِتْيَةٌ۔۔ : حافظ ابن کثیر ؓ کے بیان کا خلاصہ یہ ہے، اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ وہ چند نوجوان تھے اور نوجوان بوڑھوں کی نسبت حق کو زیادہ قبول کرنے والے ہوتے ہیں، اسی لیے اللہ اور اس کے رسول کی دعوت پر لبیک کہنے والے اکثر نوجوان تھے۔ قریش کے بوڑھے بزرگ اپنے دین ہی پر باقی رہے، ان میں سے بہت کم ہی ایمان لائے۔ کئی ایک ائمہ مثلاً بخاری ؓ وغیرہ نے ”وَزِدْنٰهُمْ هُدًى“ (اور ہم نے انھیں ہدایت میں زیادہ کردیا) سے استدلال فرمایا کہ ایمان زیادہ ہوتا ہے اور کم بھی۔ امام بخاری ؓ نے اس کے لیے آٹھ آیات اور بہت سی احادیث بیان فرمائی ہیں۔ اتنی واضح آیات و احادیث کو پڑھ کر بھی کئی حضرات اڑے ہوئے ہیں کہ اصل ایمان میں سب برابر ہیں، وہ نہ کم ہوتا ہے نہ بڑھتا ہے، ہمارا اور ابوبکر ؓ اور جبرائیل ؑ سب کا ایمان برابر ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں اپنے نبی کی بات پر ”سَمِعْنَا وَ آمَنَّا“ کہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین) اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ : یعنی یہ چند جوان تھے جو اپنی قوم کے اونچے طبقے سے تعلق رکھتے تھے، جیسا کہ ان کے کھانا منگواتے ہوئے سب سے ستھرا کھانا رکھنے والے شخص سے کھانا منگوانے کی فرمائش سے ظاہر ہو رہا ہے۔ ان کی قوم اور بادشاہ مشرک بت پرست تھے، مگر یہ نوجوان بت پرستی چھوڑ کر اپنے رب کی توحید پر پختہ اور خالص ایمان لے آئے اور اس پر ڈٹ گئے اور اللہ کی خاطر خویش و اقارب، مال و منال اور وطن کو چھوڑ کر ہجرت کر گئے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اور زیادہ ہدایت و ایمان سے نواز دیا۔
Ayah 18:14

وَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا Open ayah 18:14 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے دلوں پر بند باندھ دیا، جب وہ کھڑے ہوئے تو انھوں نے کہا ہمارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے، ہم اس کے سوا کسی معبود کو ہرگز نہ پکاریں گے، بلاشبہ یقینا ہم نے اس وقت حد سے گزری ہوئی بات کہی۔

وَّرَبَطْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْ : ”رَبْطٌ“ کا معنی باندھنا ہے، یعنی بادشاہ اور قوم کے ڈر سے جس گھبراہٹ اور پریشانی کا خطرہ تھا اس سے بچانے کے لیے ہم نے ان کے دلوں پر بند باندھ دیا، جس سے وہ مضبوط ہوگئے، جس طرح بکھری ہوئی چیزیں گٹھڑی میں ڈال کر ان کو گرہ لگا کر مضبوطی سے باندھ دیا جائے تو وہ بکھرنے سے بچ جاتی ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ کے ان کے دلوں پر بند باندھ دینے سے وہ حق گوئی کے وقت ہر قسم کے خوف سے محفوظ ہوگئے۔ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔۔ : یعنی جب وہ بادشاہ کے سامنے اس کے بھرے دربار میں کھڑے ہوئے اور انھوں نے صاف اعلان کردیا کہ ہم نہ بادشاہ کو اپنا رب مانتے ہیں نہ تمہارے بتوں کو، بلکہ ان سے ہزاروں لاکھوں سال پہلے موجود آسمانوں اور زمین کے رب کو اپنا رب مانتے ہیں۔ یہ توحید ربوبیت کا اعلان تھا کہ رب صرف ایک ہے۔ ”اور ہم اس کے سوا کسی معبود کو ہرگز نہ پکاریں گے“ یہ توحید الوہیت کا اعلان ہے کہ ہم عبادت بھی صرف اسی کی کریں گے، اسی سے دعا، اسی سے امید اور اسی سے خوف رکھیں گے۔ اگر ہم بادشاہ کو یا اس کے بتوں کو رب یا معبود مانیں تو اس وقت ہم بہت بڑی زیادتی کی بات کہیں گے۔ ”شَطَطًا“ پر تنوین تعظیم کی ہے، کیونکہ شرک سے بڑھ کر نہ کوئی ظلم ہے نہ زیادتی۔ گویا یہ آیت اور سورة لقمان (13) میں لقمان ؑ کا قول : (ڼ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) ہم معنی ہیں۔ ”اِذْ قَامُوْا“ کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ جب انھوں نے اپنی قوم کے باطل عقائد و اعمال چھوڑنے کا پختہ عزم کرلیا اور توحید کی دعوت لے کر اٹھ کھڑے ہوئے اور وہ تقریر کی جو آگے مذکور ہے۔
Ayah 18:15

هٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ لَوْ لَا یَاْتُوْنَ عَلَیْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَیِّنٍ١ؕ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاؕ Open ayah 18:15 in the Quran reader

یہ ہماری قوم ہے، جنھوں نے اس کے سوا کئی معبود بنا لیے، یہ ان پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے، پھر اس سے بڑا ظالم کون ہے جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا۔

هٰٓؤُلَاۗءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اٰلِهَةً۔۔ : انھوں نے صرف توحید کے اعلان پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنی قوم کے فعل کا رد بھی فرمایا کہ یہ ہماری قوم کے لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کی کوئی دلیل کیوں نہیں پیش کرتے۔ معلوم ہوا یہ اپنے دعویٰ میں سراسر جھوٹے ہیں۔ چند آیات جن میں مشرکین سے شرک کی دلیل کا مطالبہ کیا گیا ہے، دیکھیے انعام (148) اور احقاف (4)۔ فَمَنْ اَظْلَمُ۔۔ : یعنی اللہ کے سوا دوسروں کو پکارنا محض جھوٹ ہے اور جو اللہ پر جھوٹ باندھے اس سے بڑا ظالم کون ہے ؟
Ayah 18:16

وَ اِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗۤا اِلَى الْكَهْفِ یَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یُهَیِّئْ لَكُمْ مِّنْ اَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا Open ayah 18:16 in the Quran reader

اور جب تم ان سے الگ ہوچکے اور ان چیزوں سے بھی جن کی وہ اللہ کے سوا عبادت کرتے ہیں تو کسی غار کی طرف (جاکر) پناہ لے لو، تمہارا رب تمہارے لیے اپنی کچھ رحمت کھول دے گا اور تمہارے لیے تمہارے کام میں کوئی سہولت مہیا کر دے گا۔

ۭوَاِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَمَا يَعْبُدُوْنَ۔۔ :”مِّرْفَقًا“”اَلْاِرْتِفَاقُ“ کا معنی فائدہ اٹھانا ہے، یعنی کوئی سہولت، آسانی۔ ان کی قوم اور بادشاہ میں سے کسی نے ان کی دعوت قبول نہ کی تو انھوں نے مشورہ کیا کہ جب تم ان لوگوں سے اور ان کے معبودوں سے علیحدہ ہوچکے تو اب یہاں رہ کر جان یا ایمان بچانا مشکل ہے، اس لیے کسی پہاڑ کے کھلے غار میں پناہ لے لو۔ رہا کھانا پینا اور دوسری ضروریات زندگی تو جب تم اپنے رب کی راہ میں ہجرت کر رہے ہو تو وہ خود اپنی رحمت کا دامن پھیلا دے گا اور ہر معاملے میں تمہارے لیے آسانی مہیا فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بھی اس کا وعدہ فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة نساء (100) باہمی مشورے سے یہ فیصلہ کرکے وہ ایک پہاڑ کے کھلے غار میں جا بیٹھے، نیند غالب آئی تو سو گئے۔ معلوم ہوا کہ جب معاشرے میں رہ کر دین پر عمل ممکن نہ رہے تو ہجرت کے لیے پہاڑ ہی بہترین مقام ہیں، چناچہ ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا : (یُوْشِکُ أَنْ یَّکُوْنَ خَیْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ یَتْبَعُ بِھَا شَعَفَ الْجِبَالِ ، وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ ، یَفِرُّ بِدِیْنِہِ مِنَ الْفِتَنِ) [ بخاري، الإیمان، باب من الدین الفرار من الفتن : 19، عن أبي سعید الخدری ؓ ] ”قریب ہے کہ مسلمان کا بہترین مال چند بکریاں ہوں گی، جن کو لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے مقامات کے پیچھے پھرتا رہے گا، اپنے دین کو فتنوں سے بچانے کے لیے بھاگتا پھرے گا۔“ جب کفار مکہ نے ہمارے نبی ﷺ کو قتل کرنے کا منصوبہ طے کرلیا تو آپ ﷺ ابوبکر ؓ کے ہمراہ تین راتیں غار ثور میں چھپے رہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو کفار سے محفوظ رکھا۔ دیکھیے سورة توبہ (40)۔ 3 بعض لوگوں نے اس سے عزلت یعنی لوگوں سے علیحدگی اختیار کرنے کا استدلال کیا ہے، حالانکہ اصحاب کہف نے کفار سے علیحدگی اختیار کی، اپنوں سے نہیں، بلکہ آپس میں تو وہ اکٹھے ہی رہے۔ اسلام میں رہبانیت کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ (قاسمی)
Ayah 18:17

وَ تَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ اِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَ هُمْ فِیْ فَجْوَةٍ مِّنْهُ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا۠ Open ayah 18:17 in the Quran reader

اور تو سورج کو دیکھے گا جب وہ نکلتا ہے تو ان کی غار سے دائیں طرف کنارہ کرجاتا ہے اور جب غروب ہوتا ہے تو ان سے بائیں طرف کو کترا جاتا ہے اور وہ اس (غار) کی کھلی جگہ میں ہیں۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے، جسے اللہ ہدایت دے سو وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے گمراہ کر دے، پھر تو اس کے لیے ہرگز کوئی رہنمائی کرنے والا دوست نہ پائے گا۔

وَتَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ۔۔ : یعنی ان کے غار کا منہ شمال کی طرف تھا، جب سورج چڑھتا تو دھوپ دائیں طرف ہوجاتی اور غروب کے وقت بائیں طرف ہوجاتی تھی۔ ان کے بدن غار کے کشادہ حصے میں سورج کی تیز شعاؤں سے محفوظ تھے۔ مَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ : ”ھُوَ“ معرفہ کے بعد خبر ”الْمُهْتَدِ“ بھی معرفہ ہے، اس سے حصر کا معنی حاصل ہوا، یعنی جسے اللہ سیدھی راہ پر چلائے سو وہی سیدھی راہ پانے والا ہے، جیسا کہ اصحاب کہف کو ایمان کی نعمت، پھر اعلان حق کی ہمت، پھر ہجرت کی توفیق اور غار میں جانے کا راستہ عطا فرمایا، جہاں زندہ رہنے کے لیے دھوپ اور ہوا کی جس مقدار میں ضرورت تھی موجود تھی اور وہ لوگوں کی نگاہوں اور دشمن کی دسترس سے بھی محفوظ رہے۔
Ayah 18:18

وَ تَحْسَبُهُمْ اَیْقَاظًا وَّ هُمْ رُقُوْدٌ١ۖۗ وَّ نُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ١ۖۗ وَ كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِ١ؕ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَیْهِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَّ لَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا Open ayah 18:18 in the Quran reader

اور تو انھیں جاگتے ہوئے خیال کرے گا، حالانکہ وہ سوئے ہوئے ہیں اور ہم دائیں اور بائیں ان کی کروٹ پلٹتے رہتے ہیں اور ان کا کتا اپنے دونوں بازو دہلیز پر پھیلائے ہوئے ہے۔ اگر تو ان پر جھانکے تو ضرور بھاگتے ہوئے ان سے پیٹھ پھیر لے اور ضرور ان کے خوف سے بھر دیا جائے۔

ۧوَتَحْسَبُهُمْ اَيْقَاظًا وَّهُمْ رُقُوْدٌ : ”اَيْقَاظًا“ جمع ہے ”یَقِظٌ“ کی اور ”رُقُوْدٌ“ جمع ہے ”رَاقِدٌ“ کی، یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا عجیب کرشمہ ہے کہ تم انھیں دیکھو تو سمجھو گے کہ جاگ رہے ہیں، حالانکہ وہ سوئے ہوئے ہیں، یعنی سوتے میں آنکھیں کھلی ہونے اور کروٹیں بدلنے کی وجہ سے تم انھیں جاگتے ہوئے سمجھو گے۔ اور ہم دائیں اور بائیں ان کی کروٹ بدلتے رہتے ہیں، تاکہ ایک ہی پہلو پر پڑے رہنے سے مٹی ان کے بدنوں کو نہ کھاجائے اور ان کا کتا اپنے دونوں بازو دہلیز پر پھیلائے ہوئے ہے، جیسے پہرا دے رہا ہے۔ ایک الگ تھلگ غار میں ان کا اس طرح لیٹا ہونا اور چوکھٹ پر کتے کا بیٹھا ہونا ایک ایسا دہشت ناک منظر پیش کرتا تھا کہ اگر کوئی شخص اندر جھانکنے کی کوشش بھی کرتا تو خوف کے مارے بھاگ کھڑا ہوتا، یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے انھیں ایک لمبی مدت تک آرام و سکون سے سلائے رکھنے کا انتظام تھا۔ 3 کتے کے دہلیز پر بیٹھے رہنے اور غار میں نہ جانے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لاَ تَدْخُلُ الْمَلَاءِکَۃُ بَیْتًا فِیْہِ کَلْبٌ وَلاَ تَصَاوِیْرُ) [ بخاری، اللباس، باب التصاویر : 5949 ] ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتا یا تصویر ہو۔“ البتہ کھیتی کے لیے، مویشیوں کی حفاظت کے لیے اور شکار کے لیے کتا رکھنے کی اجازت ہے۔
Ayahs 18:19–20

وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ لِیَتَسَآءَلُوْا بَیْنَهُمْ١ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ١ؕ فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّهَاۤ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْیَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَ لْیَتَؔلَطَّفْ وَ لَا یُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا Open ayah 18:19 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے انھیں اٹھایا، تاکہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھیں، ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا تم کتنی دیر رہے ؟ انھوں نے کہا ہم ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہے، دوسروں نے کہا تمہارا رب زیادہ جاننے والا ہے جتنی مدت تم رہے ہو، پس اپنے میں سے ایک کو اپنی یہ چاندی دے کر شہر کی طرف بھیجو، پس وہ دیکھے کہ اس میں کھانے کے لحاظ سے زیادہ ستھرا کون ہے، پھر تمہارے پاس اس سے کچھ کھانا لے آئے اور نرمی و باریک بینی کی کوشش کرے اور تمہارے بارے میں کسی کو ہرگز معلوم نہ ہونے دے۔

اِنَّهُمْ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ یَرْجُمُوْكُمْ اَوْ یُعِیْدُوْكُمْ فِیْ مِلَّتِهِمْ وَ لَنْ تُفْلِحُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:20 in the Quran reader

بیشک وہ اگر تم پر قابو پالیں گے تو تمہیں سنگسار کردیں گے، یا تمہیں دوبارہ اپنے دین میں لے جائیں گے اور اس وقت تم کبھی فلاح نہیں پاؤ گے۔

وَكَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ۔۔ : یعنی جیسے ہم نے انھیں ایک حیرت انگیز طریقے سے غار کے اندر سلایا تھا اسی طرح انھیں اٹھا دیا کہ ان کے جسم صحیح سالم تھے، ان میں کوئی تبدیلی نہ آئی تھی، تاکہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے سوال کریں اور جب انھیں پتا چلے کہ وہ اتنی لمبی مدت سونے کے بعد بیدار ہوئے ہیں تو انھیں ہماری قدرت کا اور مردوں کو زندہ کرنے کا اپنی ذات میں عملی مشاہدہ ہوجائے، ان کا ایمان و یقین مزید مضبوط ہوجائے اور وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت پر اس کا شکر ادا کریں۔ قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ۔۔ : حافظ ابن کثیر ؓ نے فرمایا : ”معلوم ہوتا ہے کہ وہ غار میں دن کے پہلے پہر داخل ہوئے تھے اور دن کے آخری حصے میں بیدار ہوئے۔ اس لیے اس سوال کے جواب میں کہ تم کتنی مدت یہاں ٹھہرے، کسی نے ایک دن اور کسی نے دن کا کچھ حصہ کہا، مگر جب غار کے اردگرد کا عالم بالکل ہی بدلا ہوا نظر آیا تو کہنے لگے، تمہارا رب زیادہ جانتا ہے کہ تم کتنی مدت ٹھہرے ہو۔“ 3 اس آیت سے معلوم ہوا کہ نہ پہلے سوال کرنے والے ولی کو وہاں ٹھہرنے کی مدت کا علم تھا، نہ دوسرے ولیوں کو، جب کہ کئی لوگ اپنے ائمہ اور اولیاء کو ”مَا کَانَ وَمَا یَکُوْنُ“ (جو ہوچکا اور جو ہوگا) کا جاننے والا سمجھتے ہیں۔ 3 یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ کے نیک بندے بھی بعض اوقات اندازے اور گمان سے کوئی بات کہہ دیتے ہیں، مگر ایسی بات میں وہ اصل علم اللہ کے حوالے کرنے سے غفلت نہیں کرتے۔ rnۭ فَابْعَثُوْٓا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖٓ۔۔ : غار میں ٹھہرنے کی مدت پر بحث کے بعد جب وہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو انھوں نے اصل مدت کے اندازے کے لیے اپنے کسی ایک ساتھی کو چاندی (کا سکہ) دے کر شہر بھیجنے کا فیصلہ کیا اور اسے چند باتوں کا خیال رکھنے کی تاکید کی۔ ایک یہ کہ کھانا لاتے وقت یہ دیکھ لے کہ شہر میں سب سے ستھرا کھانا کس کا ہے، اس سے تمہارے لیے کچھ کھانا لے آئے۔ ”اَزْکٰی“ کا معنی سب سے پاکیزہ، سب سے ستھرا ہے، اس میں کھانے کا حلال و طیب ہونا بھی شامل ہے اور سب سے صاف ستھرا ہونا بھی۔ معلوم ہوا کہ یہ نوجوان شہزادے تھے، یا امراء و وزراء کے چشم و چراغ تھے، جو شہر کے سب سے ستھرے ہوٹل سے کم پر راضی نہ تھے۔ دوسری بات یہ کہ نرمی اور باریک بینی کی کوشش کرے، کیونکہ سختی سے کام بگڑ جاتے ہیں اور باریک بینی اختیار نہ کرنے سے راز کھل جاتے ہیں اور مطلوبہ معلومات بھی حاصل نہیں ہوتیں۔ کوشش کا مفہوم ”وَلْيَتَلَطَّفْ“ (باب تفعل) سے ظاہر ہو رہا ہے اور ”لطف“ کے مفہوم میں نرمی اور باریک بینی دونوں شامل ہیں۔ تیسری تاکید یہ کی کہ تمہارے بارے میں کسی کو ہرگز معلوم نہ ہونے دے۔ کیونکہ اگر مشرکین کو تمہارا پتا چل گیا تو وہ تمہیں سنگ سار کردیں گے، یا جبراً تمہیں دوبارہ اپنے مشرکانہ دین میں واپس لے آئیں گے۔ ایسی صورت میں تم کبھی فلاح نہ پا سکو گے، کیونکہ مشرکوں پر اللہ نے جنت حرام کردی ہے۔
Ayah 18:21

وَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَیْهِمْ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ لَا رَیْبَ فِیْهَا١ۗۚ اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْهِمْ بُنْیَانًا١ؕ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا Open ayah 18:21 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے (لوگوں کو) ان پر مطلع کردیا، تاکہ وہ جان لیں کہ بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ بیشک قیامت، اس میں کوئی شک نہیں۔ جب وہ ان کے معاملے میں آپس میں جھگڑ رہے تھے تو انھوں نے کہا ان پر ایک عمارت بنادو۔ ان کا رب ان سے زیادہ واقف ہے، وہ لوگ جو ان کے معاملے پر غالب ہوئے انھوں نے کہا ہم تو ضرور ان پر ایک مسجد بنائیں گے۔

وَكَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ۔۔ : یعنی جس طرح ہم نے انھیں ثابت قدم رکھا اور حیرت انگیز طریقے سے سلائے رکھا اسی طرح ہم نے شہر والوں کو ان کی حقیقت حال اور جگہ سے مطلع کردیا۔ بہت سے مفسرین کا بیان ہے اور واقعہ کی صورت خود بخود بھی یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب وہ شخص کھانا خریدنے کے لیے روانہ ہوا تو اس نے دیکھا کہ شہر کے راستے، لوگوں کی تہذیب، رہن سہن، زبان اور لباس ہر چیز بدل چکی ہے، اس نے خیال کیا کہ شاید میں پاگل ہوگیا ہوں یا خواب دیکھ رہا ہوں۔ بالآخر وہ شہر پہنچا اور ایک دکاندار سے کھانا خریدنے لگا اور اس نے سکہ نکالا تو دکاندار ششدر رہ گیا اور اس نے ایک دوسرے دکاندار کو بلایا، بالآخر کچھ لوگ جمع ہوگئے اور انھیں شک گزرا کہ شاید اس شخص کو کہیں سے پرانا خزانہ ہاتھ لگا ہے۔ مگر جب اس نے بتایا کہ میں اسی شہر کا رہنے والا ہوں اور کل ہی یہاں فلاں بادشاہ کو چھوڑ کر گیا ہوں تو لوگوں کی حیرت اور بڑھ گئی اور وہ اسے پکڑ کر بادشاہ کے پاس لے آئے۔ وہاں جب پوچھ گچھ ہوئی تو سب معاملہ کھل گیا، اس لیے اصحاب کہف کو دیکھنے اور انھیں سلام کرنے کے لیے بادشاہ اور اس کے ساتھ لوگوں کا ایک ہجوم غار پر پہنچ گیا۔ شہر جانے والا ساتھی اندر داخل ہوگیا اور سارے ساتھی دوبارہ لیٹ گئے، اسی حال میں اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض کرلی۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا وہاں تین سو نو (309) سال ٹھہرنا بیان فرمایا ہے، اگر وہ اس کے بعد بھی زندہ ہوتے تو ان پر عمارت بنانے یا مسجد بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، بلکہ ان کی کرامت دیکھنے والے خوش عقیدہ لوگ انھیں شہر لے جاتے اور ہر طرح ان کی خدمت بجا لاتے۔ 3 اس آیت سے کئی ساتھیوں کا مال برابر جمع کرکے کھانے وغیرہ کے لیے اکٹھا خرچ کرنا ثابت ہوتا ہے، خواہ کوئی کم کھاتا ہو یا زیادہ اور یہ آیت اس بات کی بھی دلیل ہے کہ کسی کو اپنا نائب یا وکیل بنایا جاسکتا ہے۔ لِيَعْلَمُوْٓا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ۔۔ : یعنی ان پر مطلع ہونے والے شہر کے لوگوں کو یقین آجائے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ اِذْ يَتَنَازَعُوْنَ بَيْنَهُمْ۔۔ : یعنی ہم نے شہر والوں کو ان پر اس وقت مطلع کیا جب وہ آپس میں اپنے معاملے میں جھگڑ رہے تھے۔ کوئی کہتا تھا کہ مر کر جی اٹھنا برحق ہے، کوئی اس کا انکار کرتا تھا، کوئی کہتا کہ حشر صرف روح کا ہوگا بدن کا نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے انھیں اصحاب کہف کا حال آنکھوں سے دکھا کر یقین دلا دیا کہ قیامت آئے گی اور حشر بدن اور روح دونوں کا ہوگا۔ ”اِذْ يَتَنَازَعُوْنَ بَيْنَهُمْ“ کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب شہر والے اصحاب کہف کے بارے میں جھگڑ رہے تھے کہ یہ کون لوگ تھے ؟ غار میں کب آئے ؟ کتنی دیر سوئے رہے ؟ اب ان کے مرنے پر ان کے ساتھ کیا کیا جائے ؟ بعض نے کہا، ان پر دیوار بنا کر غار کا منہ بند کردیں۔ بعض نے کہا، ان پر ایک عمارت ان کی یادگار کے طور پر بنادیں۔ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ : یعنی اصحاب کہف اور شہر والوں کے احوال ان کا رب بہتر جانتا ہے۔ قَالَ الَّذِيْنَ غَلَبُوْا عَلٰٓي اَمْرِهِمْ۔۔ : جن لوگوں کے پاس غلبہ و اقتدار تھا وہ کہنے لگے کہ ہم تو ضرور ان پر ایک مسجد بنائیں گے اور اس طرح ان کی یاد گار کو باقی رکھیں گے۔ گزشتہ قوموں میں اسی راستے سے شرک داخل ہوتا رہا اور اب بھی شرک کے سب سے بڑے مراکز انھی قبروں پر تعمیر شدہ عمارتیں مثلاً خانقاہیں وغیرہ یا مسجدیں ہی ہیں۔ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی اس بیماری میں فرمایا جس میں آپ فوت ہوئے : (لَعَنَ اللّٰہُ الْیَھُوْدَ وَالنَّصَارَی اتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِیَاءِھِمْ مَسَاجِدَ) [ بخاری، الجنائز، باب ما یکرہ من اتخاذ المساجد۔۔ : 1330۔ مسلم : 529 ] ”اللہ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے، انھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا۔“ جندب ؓ نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ سے آپ کے فوت ہونے سے پانچ دن پہلے سنا، آپ نے فرمایا : (أَلَا وَإِنَّ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ کَانُوْا یَتَّخِذُوْنَ قُبُوْرَ أَنْبِیَاءِھِمْ وَصَالِحِیْھِمْ مَسَاجِدَ ، أَلَا فَلاَ تَتَّخِذُوا الْقُبُوْرَ مَسَاجِدَ ، إِنِّيْ أَنْھَاکُمْ عَنْ ذٰلِکَ) [ مسلم، المساجد، باب النہي عن بناء المساجد علی القبور۔۔ : 532 ] ”جان لو ! جو لوگ تم سے پہلے تھے وہ اپنے نبیوں اور صالحین کی قبروں کو مسجدیں بنا لیتے تھے، سن لو کہ تم قبروں کو مسجدیں نہ بنانا، میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں۔“ ایک حدیث میں آپ ﷺ نے ایسا کرنے والوں کو اللہ کے ہاں سب سے بدتر مخلوق قرار دیا، فرمایا : (فَأُولٰءِکَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ) [ بخاري، الصلاۃ، باب ھل تنبش قبور مشرکي الجاھلیۃ۔۔ : 427۔ مسلم : 528، عن عائشۃ ] ان احادیث میں قبروں پر مسجدیں بنانے سے مراد ان کے پاس مسجدیں بنانا ہے، کیونکہ یہود و نصاریٰ کے عبادت خانے ان کے انبیاء و اولیاء کی قبروں کے پاس ہوا کرتے تھے۔ افسوس کہ بعض مسلمانوں نے یہ تکلف بھی ختم کرکے اپنے بزرگوں کی قبریں عین مسجدوں کے اندر بنانا شروع کردیں۔ ان لوگوں کی کوئی مسجد کم ہی کسی نہ کسی قبر سے خالی نظر آئے گی، ان کے مولویوں نے اس بدترین فعل کے جواز کے لیے زیر تفسیر آیت کو دلیل بنا لیا، حالانکہ اس میں صرف یہ ذکر ہے کہ ان کے غالب اور بااثر لوگوں نے یہ کہا۔ رہی یہ بات کہ انھوں نے درست کہا یا غلط، اس کی وضاحت رسول اللہ ﷺ نے فرما دی، چناچہ جابر ؓ بیان کرتے ہیں : (نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُّجَصَّصَ الْقَبْرُ ، وَأَنْ یُّقْعَدَ عَلَیْہِ ، وَأَنْ یُّبْنٰی عَلَیْہِ) [ مسلم، الجنائز، باب النھي عن تجصیص القبر۔۔ : 970 ]”رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا کہ قبر چونا گچ (سیمنٹڈ) بنائی جائے اور اس سے کہ اس پر بیٹھا جائے اور اس سے کہ اس پر عمارت بنائی جائے۔“ بلکہ آپ ﷺ نے ایسی قبروں کو برابر کرنے کا حکم دیا۔ چناچہ ابو الہیاج الاسدی، علی ؓ کے داماد فرماتے ہیں کہ علی بن ابی طالب ؓ نے مجھ سے فرمایا : (أَلاَ أَبْعَثُکَ عَلٰی مَا بَعَثَنِيْ عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ أَنْ لاَّ تَدَعَ تِمْثَالاً إِلَّا طَمَسْتَہُ وَلاَ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلاَّ سَوَّیْتَہُ) [ مسلم، الجنائز، باب الأمر بتسویۃ القبر : 969 ] ”کیا میں تمہیں اس کام پر مقرر نہ کروں جس پر مجھے رسول اللہ ﷺ نے مقرر فرمایا ؟ وہ یہ ہے کہ کوئی مورتی نہ چھوڑ جسے تو مٹا نہ دے اور نہ کوئی اونچی قبر جسے تو برابر نہ کر دے۔“ اللہ کی حکمت دیکھیے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبریں برابر کرنے پر اس شخص کو مقرر فرمایا جس کے نام لیواؤں نے سب سے زیادہ قبروں کو پختہ اور اونچا بنانا تھا، تاکہ کسی کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے۔
Ayah 18:22

سَیَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِالْغَیْبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّ ثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ١۫۬ فَلَا تُمَارِ فِیْهِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا١۪ وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِیْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا۠ Open ayah 18:22 in the Quran reader

عنقریب وہ کہیں گے تین ہیں، ان کا چوتھا ان کا کتا ہے اور کہیں گے پانچ ہیں، ان کا چھٹا ان کا کتا ہے، بن دیکھے پتھر پھینکتے ہوئے اور کہیں گے سات ہیں، ان کا آٹھواں ان کا کتا ہے۔ کہہ دے میرا رب ان کی تعداد سے زیادہ واقف ہے، انھیں بہت تھوڑے لوگوں کے سوا کوئی نہیں جانتا، سو تو ان کے بارے میں سرسری بحث کے سوابحث نہ کر اور ان لوگوں میں سے کسی سے ان کے بارے میں فیصلہ طلب نہ کر۔

سَيَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ۔۔ : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نزول قرآن کے وقت اہل کتاب میں اور ان کے ذریعے سے مشرکین عرب میں اصحاب کہف سے متعلق طرح طرح کی باتیں موجود تھیں، مگر مستند معلومات کسی کے پاس نہ تھیں۔ 3 اصحاب کہف کے ناموں کے بارے میں کوئی صحیح مرفوع روایت نہیں ہے۔ ناموں کی صراحت غالباً اسرائیلی کتب تواریخ سے ماخوذ ہے اور ان اسماء کے تلفظ میں بھی بہت اختلاف ہے، کسی قول پر بھی اعتماد نہیں ہوسکتا۔ (فتح الباری) پھر بعض لوگ ان ناموں کے خواص اور فائدے بیان کرتے ہیں اور مختلف بیماریوں کے لیے ان کو لکھتے ہیں جو کسی صورت بھی صحیح نہیں، بلکہ اگر ”یا“ حرف ندا کے ساتھ لکھے جائیں، یا ان ناموں میں نفع پہنچانے یا نقصان سے بچانے کی تاثیر کا عقیدہ رکھا جائے تو صاف شرک ہے۔ عجیب بات ہے کہ اس بارے میں بعض روایات بھی گھڑ لی گئی ہیں جو ابن عباس اور دیگر اصحاب ؓ کی طرف منسوب ہیں، مگر ان میں سے کوئی روایت بھی ابن عباس ؓ یا سلف صالحین سے ثابت نہیں۔ نواب صدیق حسن خاں ؒ نے اپنی تفسیر میں ان ناموں کے ساتھ علاج کی تردید کی ہے۔ 3 نبی ﷺ کے زمانے کے اہل کتاب یہ تو جانتے تھے کہ کسی زمانے میں یہ واقعہ ہوا ہے، مگر وہ اس کی حقیقت سے بیخبر تھے۔ اس لیے محض اٹکل سے اس کی تفصیلات بیان کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعداد کے متعلق ان کے دو قول ذکر فرما کر ان کی تردید فرمائی، البتہ تیسرے قول کا ذکر فرما کر کہ وہ سات تھے، اس کی تردید نہیں فرمائی، بلکہ فرمایا، کہہ دے میرا رب ان کی تعداد سے متعلق زیادہ جانتا ہے اور انھیں بہت تھوڑے لوگوں کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھر اس بحث کے بےفائدہ ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان لوگوں سے سرسری بحث کے سوا کوئی بحث کریں، نہ ان کے متعلق ان میں سے کسی سے کچھ پوچھیں، کیونکہ ان کے پاس اس کا کچھ علم نہیں۔ اکثر اہل علم نے، جن میں ابن عباس ؓ بھی ہیں، آخری قول کو صحیح قرار دیا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؓ نے فرمایا کہ جس بات میں مختلف اقوال ہوں اسے بیان کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ تمام اقوال ذکر کیے جائیں اور صحیح قول کی طرف اشارہ کردیا جائے اور بحث کا فائدہ بھی بیان کیا جائے کہ اس سے کیا حاصل ہوا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے تینوں باتیں بیان فرما دیں۔ (قاسمی ملخصاً)
Ayahs 18:23–24

وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًاۙ Open ayah 18:23 in the Quran reader

اور کسی چیز کے بارے میں ہرگز نہ کہہ کہ میں یہ کام کل ضرور کرنے والا ہوں۔

اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١٘ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِیْتَ وَ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّهْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا رَشَدًا Open ayah 18:24 in the Quran reader

مگر یہ کہ اللہ چاہے اور اپنے رب کو یاد کر جب تو بھول جائے اور کہہ امید ہے کہ میرا رب مجھے اس سے قریب تر بھلائی کی ہدایت دے گا۔

ۧوَلَا تَقُوْلَنَّ لِشَايْءٍ۔۔ : یہاں شان نزول میں ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اصحاب کہف، روح اور ذو القرنین سے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ”میں تمہیں کل جواب دوں گا“ اور ”ان شاء اللہ“ نہ کہا، تو پندرہ (15) دن وحی رکی رہی، پھر یہ آیت اتری : (ۧوَلَا تَقُوْلَنَّ لِشَايْءٍ اِنِّىْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًا 23؀ۙاِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ) رازی ؓ نے فرمایا کہ قاضی نے اسے کئی وجہوں سے بےکار قرار دیا ہے۔ قاسمی نے فرمایا کہ ان کی بات حق ہے، کیونکہ محمد بن اسحاق نے یہ روایت ایک مجہول شیخ سے بیان کی ہے، جیسا کہ ابن کثیر (اور طبری) میں اس کی سندیں موجود ہیں۔ (محاسن التاویل) 3 اس آیت کا ایک معنی تو مشہور ہے کہ کسی کام کے متعلق یہ مت کہو کہ میں کل یہ کام کرنے والا ہوں، مگر اس کے ساتھ ”ان شاء اللہ“ ضرور کہو، کیونکہ اللہ نے چاہا تو کام ہوگا، ورنہ نہیں۔ اس کی مثال سلیمان ؑ کا واقعہ ہے کہ انھوں نے کہا : (لَأَطُوْفَنَّ اللَّیْلَۃَ عَلٰی ماءَۃِ امْرَأَۃٍ أَوْ تِسْعٍ وَّتِسْعِیْنَ ، کُلُّھُنَّ یَأْتِيْ بِفَارِسٍ یُجَاھِدُ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَقَالَ لَہُ صَاحِبُہُ قَُلْ إِنْ شَاء اللّٰہُ ، فَلَمْ یَقُلْ إِنْ شَاء اللّٰہُ ، فَلَمْ تَحْمِلْ مِنْھُنَّ إِلَّا امْرَأَۃٌ وَاحِدَۃٌ جَاءَ تْ بِشِقِّ رَجُلٍ ، وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ ! لَوْ قَالَ إِنْ شَاء اللّٰہُ ، لَجَاھَدُوْا فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فُرْسَانًا أَجْمَعُوْنَ) [ بخاري، الجہاد والسیر، باب من طلب الولد للجہاد : 2819 ]”آج رات میں اپنی سو (100) یا فرمایا ننانوے (99) عورتوں کے پاس جاؤں گا اور ہر عورت ایک بیٹا جنے گی، جو جہاد فی سبیل اللہ کا شہ سوار ہوگا۔“ ان کے ایک ساتھی نے کہا : ”ان شاء اللہ کہیے۔“ مگر سلیمان ؑ نے (مشغولیت وغیرہ کی وجہ سے) ان شاء اللہ نہ کہا، تو ان عورتوں میں سے صرف ایک عورت کو حمل ہوا اور وہ بھی ادھورا بیٹا ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ! اگر وہ ان شاء اللہ کہتے تو سب عورتوں کے بیٹے ہوتے جو شہ سوار ہوتے اور سب اللہ کے راستے میں جہاد کرتے۔“ دوسرا معنی یہ ہے کہ اے نبی ! کسی کام کے بارے میں (اپنی مرضی سے) یہ مت کہیے کہ کل میں یہ کام کرنے والا ہوں، مگر یہ کہ اللہ چاہے، یعنی اللہ چاہے گا کہ آپ وہ کام کریں تو وہ آپ کو اجازت دے گا، پھر آپ اس کے اذن سے یہ کہہ سکتے ہیں۔ (قاسمی) یہ معنی ”ۙاِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ“ الفاظ کے زیادہ قریب ہے اور سورة نجم کی آیات (3، 4) : (وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى ۝ۭاِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى) میں بھی یہی مفہوم ہے۔ وَاذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِيْتَ : یعنی جب بھول جائیں تو یاد آنے پر ”ان شاء اللہ“ کہہ لیں۔ یاد رہے کہ قسم کے ساتھ ”ان شاء اللہ“ کہہ لے تو قسم پوری نہ کرنے پر کوئی کفارہ نہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر قسم سے متصل ”ان شاء اللہ“ نہ کہے تو اس کا اعتبار نہیں ہوگا، مگر یہ آیت دلیل ہے کہ اگر اس کا ارادہ ”ان شاء اللہ“ کہنے کا تھا مگر بھول کر نہیں کہہ سکا اور یاد آتے ہی اس نے کہہ لیا تو اس کا اعتبار ہوگا۔ مستدرک حاکم (4؍303، ح : 7833) میں صحیح سند کے ساتھ ابن عباس ؓ کا قول مروی ہے کہ جب آدمی کسی بات پر قسم کھالے تو وہ ایک سال تک ”ان شاء اللہ“ کہہ سکتا ہے۔“ ابن قیم ؓ نے مدارج السالکین میں فرمایا : ”یہ نسیان کی صورت میں ہے۔“ (محاسن التاویل ملخصاً) وَقُلْ عَسٰٓي اَنْ يَّهْدِيَنِ رَبِّيْ۔۔ : اور کہہ دیجیے کہ مجھے اپنے رب سے امید ہے کہ وہ مجھے اصحاب کہف کی خبر سے بھی قریب تر لوگوں کی ہدایت کا باعث بننے والی خبریں بتائے گا جن سے میری رسالت ثابت ہوگی، چناچہ اللہ تعالیٰ نے غیب کی بہت سی خبریں آپ کو بتائیں جن کی کسی کو کچھ خبر نہ تھی۔
Ayah 18:25

وَ لَبِثُوْا فِیْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِیْنَ وَ ازْدَادُوْا تِسْعًا Open ayah 18:25 in the Quran reader

اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے اور نو (سال) زیادہ رہے۔

وَلَبِثُوْا فِيْ كَهْفِهِمْ۔۔ : بعض مفسرین نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے نو سالوں کا ذکر الگ اس لیے فرمایا کہ اگر شمسی سال ہوں تو تین سو سال اور قمری ہوں تو ان کے ٹھہرنے کی مدت تین سو نو سال تھی۔ ان حضرات کا کہنا یہ ہے کہ اگر یہ بات نہ ہوتی تو ”ثَلاَثَمِاءَۃٍ وَ تِسْعَ سِنِیْنَ“ (یعنی تین سو نو سال) کہنا کافی بھی تھا اور مختصر بھی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ شمسی اور قمری کے اس فرق کی کوئی دلیل نہیں۔ نو سالوں کو الگ ذکر کرنے کی وجہ آیات کے فواصل (آخری الفاظ) ہیں، جن سے کلام میں حسن پیدا ہوتا ہے اور بلاغت کے لحاظ سے قرآن کے الفاظ ”ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِيْنَ وَازْدَادُوْا تِسْعًا“ کے درمیان اور ”ثَلاَثَمِاءَۃٍ وَ تِسْعَ سِنِیْنَ“ کے درمیان فرق زمین و آسمان کا ہے۔ بلاغت کا قاعدہ ہے کہ کبھی اختصار میں حسن ہوتا ہے اور کبھی تطویل میں۔ اس لیے ان کے ٹھہرنے کی مدت تین سو نو سال ہی تھی، قمری سال تھے تو سب قمری اور شمسی تھے تو سب شمسی۔ تین سو شمسی اور تین سو نو قمری کی تفریق ایک ذہنی اپج کے سوا کچھ نہیں۔ (محاسن التاویل)
Ayah 18:26

قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا١ۚ لَهٗ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَبْصِرْ بِهٖ وَ اَسْمِعْ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ١٘ وَّ لَا یُشْرِكُ فِیْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 18:26 in the Quran reader

کہہ دے اللہ زیادہ جاننے والا ہے جتنی مدت وہ رہے، اسی کے پاس آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی باتیں ہیں، وہ کس قدر دیکھنے والا اور کس قدر سننے والا ہے، نہ اس کے سوا ان کا کوئی مددگار ہے اور نہ وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک کرتا ہے۔

قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا۔۔ : یعنی اگر اہل کتاب آپ سے اس مدت میں اختلاف کریں تو آپ کہہ دیجیے کہ اللہ کا علم تم سے زیادہ ہے، لہٰذا جو مدت اس نے بتائی ہے وہی صحیح ہے، تمہاری بات کا اعتبار نہیں۔rnۚ لَهٗ غَيْبُ السَّمٰوٰتِ۔۔ : یہ اللہ کے ”اَعْلَمُ“ ہونے کی دلیل ہے کہ آسمانوں کا اور زمین کا غیب صرف اس کے پاس ہے۔ رہا دیکھنے اور سننے کے ذریعے سے علم تو وہ کس قدر دیکھنے والا اور کس قدر سننے والا ہے، اس پر تعجب تو ہوسکتا ہے، بیان میں نہیں آسکتا۔ تو پھر اس کی بات درست ہے یا ان کی جو ان صفات سے خالی ہیں۔ ان کا حال یہ ہے کہ اس کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں اور اس کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے فیصلے میں کسی کو بھی شریک نہیں کرتا۔
Ayah 18:27

وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ١ؕۚ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١۫ۚ وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا Open ayah 18:27 in the Quran reader

اور اس کی تلاوت کر جو تیری طرف تیرے رب کی کتاب میں سے وحی کی گئی ہے، اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور نہ اس کے سوا تو کبھی کوئی پناہ کی جگہ پائے گا۔

وَاتْلُ مَآ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ : یعنی اصحاب کہف کے بارے میں جو بات آپ کو اس کتاب میں بتائی جا رہی ہے وہ بالکل کافی اور جامع مانع ہے۔ آپ اسی کو جوں کا توں پڑھ کر سناتے رہیے، یا یہ کہ قرآن اللہ تعالیٰ کی سچی کتاب ہے، یہی ان کو پڑھ کر سنائیں اور ان کی مخالفت کی پروا نہ کریں۔ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ڟ وَلَنْ تَجِدَ۔۔ : ’ مُلْتَحَدًا“ کا معنی التحاد کی جگہ ہے، جو ”لَحْدٌ“ سے باب افتعال ہے، جس کا معنی مائل ہونا ہے۔ قبر کو بھی اسی لیے لحد کہتے ہیں کہ وہ ایک طرف ہٹی ہوتی ہے۔ چناچہ ”مُلْتَحَدًا“ سے مراد ایسی جگہ ہے جہاں آدمی ایک طرف جا کر پناہ لے لے۔ یعنی اگر آپ کسی کی خاطر داری سے اس کتاب کی تبلیغ میں کوتاہی کریں گے، یا اس میں کوئی رد و بدل کریں گے تو آپ کو اس کے سوا کہیں پناہ نہ ملے گی۔ اس مفہوم کی آیات کے لیے دیکھیے سورة مائدہ (67) اور یونس (15) یہ خطاب بظاہر آپ ﷺ سے ہے مگر مقصود اہل کتاب اور کفار مکہ سب کو متنبہ کرنا ہے کہ تمہاری خاطر آپ ﷺ اپنے مالک کی کتاب میں کوئی رد و بدل کرنے والے نہیں۔ 3 اس آیت پر اور بعض علمائے تفسیر کے قول کے مطابق اوپر کی آیت پر اصحاب کہف کا قصہ ختم ہوگیا۔ اس کے بعد دوسرا مضمون شروع ہو رہا ہے جس میں ان حالات پر تبصرہ ہے جو نبی ﷺ اور مسلمانوں کو ان دنوں مکہ میں درپیش تھے۔
Ayah 18:28

وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْ١ۚ تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا Open ayah 18:28 in the Quran reader

اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ روکے رکھ جو اپنے رب کو پہلے اور پچھلے پہر پکارتے ہیں، اس کا چہرہ چاہتے ہیں اور تیری آنکھیں ان سے آگے نہ بڑھیں کہ تو دنیا کی زندگی کی زینت چاہتا ہو اور اس شخص کا کہنا مت مان جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام ہمیشہ حد سے بڑھا ہوا ہے۔

وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ : ”لَا تَعْدُ عَيْنٰكَ“ ”عَدَا یَعْدُوْ“ (ن) سے نہی کا صیغہ ہے، تجاوز نہ کریں تیری آنکھیں۔ یہ وہی حکم ہے جو اس سے پہلے سورة انعام (52) میں گزر چکا ہے۔ مراد وہ کمزور مسلمان ہیں جن کے پاس قریش کے چودھریوں کو بیٹھنا گوارا نہ تھا۔ سعد بن ابی وقاص ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ چھ آدمی تھے تو مشرکین نے آپ سے کہا، ان لوگوں کو دور ہٹا دیں کہ یہ لوگ ہم پر جرأت نہ کریں۔ میں تھا، ابن مسعود، قبیلہ ہذیل کا ایک آدمی، بلال اور دو آدمی اور جن کا میں نام نہیں لیتا۔ تو رسول اللہ ﷺ کے دل میں آیا جو اللہ نے چاہا کہ آئے، تو آپ ﷺ نے اپنے دل میں کوئی بات سوچی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ) [ الأنعام : 52 ] ”اور ان لوگوں کو دور نہ ہٹا جو اپنے رب کو پہلے اور پچھلے پہر پکارتے ہیں، اس کا چہرہ چاہتے ہیں۔“ [ مسلم، فضائل الصحابۃ، باب في فضل سعد بن أبي وقاص ؓ : 46؍2413 ] اس آیت میں بھی آپ کو ایسے لوگوں کے ساتھ اپنے آپ کو روک کر رکھنے کا حکم ہے جن میں مذکورہ صفات پائی جاتی ہیں، کیونکہ ان صفات کی وجہ سے وہی اس قابل ہیں کہ آپ ان کے ساتھ رہیں۔ ان کو چھوڑ کر آپ کی نگاہیں آگے مت بڑھیں کہ آپ دنیا کی زندگی کی زینت کا ارادہ رکھتے ہوں اور ایسے لوگوں کی بات مت مانیں جن کے دلوں کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چل رہے ہیں۔
Ayah 18:29

وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ١ۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا١ؕ وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ١ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ١ؕ وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا Open ayah 18:29 in the Quran reader

اور کہہ دے یہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے، پھر جو چاہے سو ایمان لے آئے اور جو چاہے سو کفر کرے۔ بیشک ہم نے ظالموں کے لیے ایک آگ تیار کر رکھی ہے، جس کی قناتوں نے انھیں گھیر رکھا ہے اور اگر وہ پانی مانگیں گے تو انھیں پگھلے ہوئے تانبے جیسا پانی دیا جائے گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا، برا مشروب ہے اور بری آرام گاہ ہے۔

وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ : ”الْحَقُّ“ پر الف لام عہد کا ہے، اس لیے اس کا ترجمہ ”یہ حق“ کیا ہے۔ فَمَنْ شَاۗءَ فَلْيُؤْمِنْ۔۔ : یعنی مجھے تمہاری کوئی پروا نہیں، مانو گے تو اپنا بھلا کرو گے اور نہ مانو گے تو اپنی شامت لاؤ گے، میں مومنوں کو اپنی مجلس سے نہیں اٹھا سکتا۔ اِنَّآ اَعْتَدْنَا للظّٰلِمِيْنَ نَارًا : ”اَعْتَدْنَا“ میں تاء اصلی ہے۔ ”لِلظّٰلِمِيْنَ“ سے مراد کفار و مشرکین ہیں۔ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا۔۔ : ”سُرَادِقٌ“ وہ پردہ جو خیمے کے اردگرد لگایا جاتا ہے، یعنی قنات، جمع ”سُرَادِقَاتٌ“ (قاموس) ”اَلْمُھْلُ“ پگھلی ہوئی دھات، وہ تانبہ ہو یا سیسہ وغیرہ اور نہایت گرم تیل کی تلچھٹ۔ ”مُرْتَفَقًا“ ظرف مکان ہے، ارتفاق کی جگہ، اصل اس کا یہ ہے کہ آدمی اپنی مرفق (کہنی) پر ٹیک لگا کر آرام کرتا ہے۔ جہنم کو آرام کی جگہ بطور طنز کہا ہے، ورنہ وہاں کہنی پر سر رکھ کر کیسے سو سکتا ہے۔ یعنی چاروں طرف آگ کی دیوار ہوگی، کہیں بھاگنے کا راستہ نہیں ملے گا۔
Ayahs 18:30–31

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ Open ayah 18:30 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، بیشک ہم اس کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اچھا عمل کرے۔

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ؕ نِعْمَ الثَّوَابُ١ؕ وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۠ Open ayah 18:31 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے لیے ہمیشگی کے باغات ہیں، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ان میں انھیں کچھ کنگن سونے کے پہنائے جائیں گے اور وہ باریک اور گاڑھے ریشم کے سبز کپڑے پہنیں گے، ان میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوں گے۔ اچھا بدلہ ہے اور اچھی آرام گاہ ہے۔

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۔۔ : ظالمین یعنی کفار کے بعد اہل ایمان اور ان کے اجر کا ذکر فرمایا۔ اس مفہوم کی آیات کہ جو اچھا عمل کرے ہم اس کا اجر ضائع نہیں کرتے، کے لیے دیکھیے آل عمران (171، 195)۔