Ayahs 18:32–33وَاضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَيْنِ۔۔ : کفار کو مسلمان فقراء کے مقابلے میں اپنے اموال و انصار پر فخر تھا، اس بنا پر وہ مسلمانوں کو حقیر سمجھتے اور مجلس میں ان کے ساتھ بیٹھنا پسند نہ کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ قصہ بیان فرما کر سمجھایا کہ یہ چیزیں فخر کے لائق نہیں ہیں، کیونکہ ایک لمحہ میں فقیر غنی ہوسکتا ہے اور غنی فقیر۔ دنیا میں اگر فخر کی کوئی چیز ہے تو وہ ہے اللہ کی اطاعت اور اس کی عبادت اور یہ ان فقراء کو حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کافر و مومن کی ایک مثال بیان فرمائی کہ دو آدمی تھے (ان کے نام یا زمانہ معلوم نہیں، نہ ہی اس میں کوئی فائدہ ہے) ان میں سے ایک کو، جو کافر تھا، اللہ تعالیٰ نے انگوروں کے دو باغ عطا فرمائے تھے، جو بہت ہی خوب صورت اور نفع آور تھے۔ انگوروں کے باغوں کو کھجوروں نے گھیر رکھا تھا، دونوں باغوں کے درمیان کھیتی تھی اور دونوں باغوں کے درمیان اللہ کے حکم سے نہر چل رہی تھی۔ باغوں اور کھیتوں کو پانی کی کوئی کمی نہ تھی، چناچہ دونوں باغوں نے پوری پیداوار دی اور کسی قسم کی کمی نہیں کی۔
Ayah 18:34وَّكَانَ لَهٗ ثَمَــــرٌ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ۔۔ : ”ثِمَرٌ“ کی تنوین تکثیر کے لیے ہے، یعنی اس کے علاوہ بھی اس کے پاس بہت سا پھل تھا یا بہت نفع تھا، کیونکہ نفع کو بھی ثمر کہہ لیتے ہیں۔ بعض مفسرین نے اس سے مراد اولاد لی ہے کہ کھیتوں اور باغوں کے علاوہ اس کی اولاد بھی بہت تھی۔ اس کی دلیل آگے مومن کا قول ہے : (اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّوَلَدًا) [ الکہف : 39 ] ”اگر تو مجھے دیکھتا ہے کہ میں مال اور اولاد میں تجھ سے کم تر ہوں۔“ دوسرا آدمی مومن تھا مگر نادار تھا، اب اس کافر نے فخر سے گفتگو کرتے ہوئے اسے کہا، میرے پاس تم سے مال بھی زیادہ ہے اور آدمی بھی، یعنی اولاد، نوکر چاکر اور دوست۔ الغرض ! اس بےایمان نے اپنے مال و جاہ کے بھروسے پر مومن بھائی پر فخر کیا اور اسے اپنے باغات کا مشاہدہ کرانے کے لیے ساتھ لے چلا۔ (کبیر)
Ayahs 18:35–36وَدَخَلَ جَنَّتَهٗ وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ۔۔ : اپنی جان پر ظلم کرنے والا اس لیے کہ اس نے تین باتیں کہیں جو تینوں کفر ہیں، اگرچہ وہ رب تعالیٰ کے وجود کو مانتا تھا، جیسا کہ ”وَّلَىِٕنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّيْ“ سے ظاہر ہے۔ پہلی یہ کہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ باغ کبھی برباد ہوگا، حالانکہ اللہ کے سوا کسی بھی چیز کو ہمیشہ سے یا ہمیشہ کے لیے باقی سمجھنا نری جہالت اور دہریت ہے اور اللہ تعالیٰ کے اختیار اور ارادے کا انکار ہے، وہ جب چاہے کسی بھی چیز کو ”کُنْ“ کہہ کر فنا کرسکتا ہے اور کرتا رہتا ہے۔ دوسری یہ کہ میں قیامت کو قائم ہونے والی نہیں سمجھتا، حالانکہ یہ اللہ کی قدرت کا انکار ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ جب پہلی دفعہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو دوبارہ بھی قادر ہے۔ تیسری بات یہ کہ اگر بالفرض میں اپنے رب کی طرف دوبارہ لے جایا گیا تو مجھے یہاں سے بہتر جگہ ملے گی، کیونکہ یہ میرا حق ہے۔ دیکھیے حم السجدہ (50) اور سورة مریم (77) یہ اعمال کی جزا و سزا سے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت و عدل سے انکار ہے اور مذکورہ تینوں باتیں کفر ہیں۔ (مہائمی)
Ayah 18:37قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَهُوَ يُحَاوِرُهٗٓ۔۔ : ”تُرَابٍ“ اور ”نُّطْفَةٍ“ کی تنوین تحقیر کے لیے ہے۔ اس کے مومن ساتھی نے، جسے وہ اپنے مال و جاہ پر فخر کرتے ہوئے فقر کا طعنہ دے رہا تھا، اس سے گفتگو کرتے ہوئے اسے جواب میں کفر کا طعنہ دیا اور کہا کیا تو نے اس ہستی سے کفر کیا جس نے تجھے حقیر مٹی سے، پھر ایک قطرے سے پیدا کیا، پھر ٹھیک ٹھاک ایک آدمی بنادیا۔ دیکھیے حج (5) ، بقرہ (28) اور مومنون (12 تا 14) تفسیر وحیدی میں ہے : ”افسوس کہ اکثر مسلمان مال دار بھی اسی غرور میں مبتلا ہیں، مساکین بلکہ علماء و صلحاء تک کو نظر حقارت سے دیکھتے ہیں۔“
Ayah 18:38ۭلٰكِنَّا۟ هُوَ اللّٰهُ رَبِّيْ۔۔ : ”ۭلٰكِنَّا“ اصل میں ”لٰکِنْ أَنَا“ (لیکن میں) ہے، یعنی تم کفر کرتے ہو تو کرتے رہو، لیکن میں یہ ظلم کبھی نہیں کروں گا، بلکہ وہ اللہ ہی میرا رب ہے اور میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کروں گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس کا ساتھی مشرک تھا۔ اسماء بنت عمیس ؓ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے چند کلمات سکھائے جنھیں میں پریشانی اور بےچینی کے وقت کہوں : (اَللّٰہُ اَللّٰہُ رَبِّيْ لَا أُشْرِکُ بِہِ شَیْءًا) [ أبوداوٗد، الوتر، باب في الاستغفار : 1525 ] ”اللہ، اللہ ہی میرا رب ہے، میں اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں بناتی (بناتا)۔“
Ayah 18:39وَلَوْلَآ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ۔۔ : اس سے معلوم ہوا کہ آدمی کو اپنی کوئی چیز اچھی لگے تو اسے یہ کلمات کہنے چاہییں : (مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا باللّٰهِ) ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : (یَا أَبَا ھُرَیْرَۃَ ! أَفَلاَ أَدُلُّکَ عَلٰی کَنْزٍ مِنْ کَنْزِ الْجَنَّۃِ تَحْتَ الْعَرْشِ ، قَالَ قُلْتُ نَعَمْ فِدَاکَ أَبِيْ وَ أُمِّيْ ، قَالَ أَنْ تَقُوْلَ لَا قُوَّۃَ إِلاَّ باللّٰہِ ، قَالَ أَبُوْ بَلْجٍ وَأَصِبُ أَنَّہُ قَالَ : فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ أَسْلَمَ عَبْدِيْ وَاسْتَسْلَمَ ، قَالَ فَقُلْتُ لِعَمْرٍو قَالَ أَبُوْبَلْجٍ قَالَ عَمْرٌو قُلْتُ لِأَبِيْ ھُرَیْرَۃَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللّٰہِ فَقَالَ : لَا إِنَّھَا فِيْ سُوْرَۃِ الْکَھْفِ : (وَلَوْلَآ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا باللّٰهِ) [ مسند أحمد : 2؍335، ح : 8447 ] ”اے ابوہریرہ ! کیا میں تمہیں عرش کے نیچے جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ بتاؤں ؟“ میں نے کہا : ”ہاں ! آپ پر میرے ماں باپ قربان !“ فرمایا : ”تم کہو ”لَا قُوَّۃَ اِلَّا باللّٰہِ“ ابوبلج راوی کہتے ہیں، میرا گمان ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ”کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، میرا بندہ مطیع ہوگیا اور اس نے اپنا آپ میرے سپرد کردیا۔“ ابوہریرہ ؓ سے ان کے شاگرد نے پوچھا : ”لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللّٰہِ“ تو انھوں نے فرمایا : ”نہیں، یہ کلمہ سورة کہف میں ہے : (وَلَوْلَآ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا باللّٰهِ) شعیب ارنؤوط نے کہا کہ یہ روایت عرش کے لفظ کے بغیر صحیح ہے۔ صحیح بخاری میں انس ؓ نے ”لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللّٰہِ“ کی یہی فضیلت رسول اللہ ﷺ سے بیان کی ہے۔ [ بخاری، القدر، باب لا حول ولا قوۃ إلا باللہ : 6610 ] باقی وہ روایات جن میں یہ کلمات پڑھنے سے نظر بد یا کسی بھی نقصان سے محفوظ رہنے کا ذکر ہے، وہ سب ضعیف ہیں۔ (البانی) مگر ان کی فضیلت کے لیے آیت ہی کافی ہے۔
Ayahs 18:40–41”صَعِيْدًا“ میدان، ”زَلَقًا“ جس میں قدم پھسلتا ہو۔ اس مومن نے اپنے مغرور ساتھی سے کہا کہ اگر تم مجھے مال و اولاد میں اپنے سے کم دیکھتے ہو تو یہ کوئی ہمیشہ رہنے والی چیز نہیں، عین قریب ہے کہ میرا رب دنیا میں یا آخرت میں مجھے تمہارے باغ سے بہتر عطا کر دے اور تمہارے باغ پر آسمان سے کوئی عذاب بھیج کر زمین کو چٹیل میدان بنا دے۔ جہاں قدم پھسلتا ہو، یا وہ چشمہ جس سے اس کی نہر نکلتی ہے، اس کا پانی گہرا چلا جائے اور تم کسی صورت اسے حاصل نہ کرسکو۔ دیکھیے سورة ملک کی آخری آیت۔
Ayah 18:42وَاُحِيْطَ بِثَمَرِهٖ۔۔ : لفظی معنی ہے اس کے پھل کو گھیر لیا گیا، یعنی سب مارا گیا۔ چناچہ ایسا ہی ہوا جیسا اس مومن نے کہا تھا کہ رات اللہ کی طرف سے کسی عذاب مثلاً طوفانی بارش، یا سردی کی شدید لہر، یا آگ لگنے سے اس کا سارا باغ برباد ہوگیا، انگور چھتوں سمیت گرگئے اور صبح ہوئی تو وہاں کچھ بھی نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کافر کی عجیب تصویر کھینچی ہے، کیونکہ جب یک لخت صدمہ پہنچتا ہے تو آدمی پہلے گنگ رہ جاتا ہے، پھر کچھ سنبھلتا ہے تو بات کرتا ہے، یہ مشرک بھی اپنے باغ کی حالت دیکھتے ہی اپنی دونوں ہتھیلیاں پھیرنے لگا۔ اس سے دو صورتیں مراد ہوسکتی ہیں، ایک یہ کہ ایک دوسری پر ملنے لگا اور دوسری یہ کہ حسرت و افسوس سے الگ الگ ہی ان کو الٹ پلٹ کرنے لگا کہ ہائے ہائے ! میں نے اس میں کس قدر رقم خرچ کی تھی، نفع کے بجائے اصل بھی گیا۔ اب اسے یاد آیا کہ مومن بھائی کی بات سچی تھی اور کہنے لگا، کاش ! میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا، غرور و تکبر کی راہ سے اپنے نفس کی پیروی نہ کرتا، بلکہ بھائی کی بات مان لیتا اور اپنی ساری شان و شوکت کو اللہ ہی کا عطیہ سمجھتا۔
Ayah 18:43وَلَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ۔۔ : ”مُنْتَصِرًا“ کا معنی انتقام لینے والا بھی ہے اور خود بچنے والا بھی، یعنی عذاب آیا تو اس کا کوئی گروہ نہ تھا جو اس کی مدد کرتے، سوائے اللہ کے اور نہ وہ خود بچنے والا تھا۔ ”مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ“ کا ایک مطلب یہ ہے جو ترجمے میں گزرا۔ زمحشری اور کئی مفسرین نے یہی معنی کیا ہے، یعنی اس ”وقت اللہ کے سوا“ اسے کوئی بچانے والا نہ تھا، مگر اس کو وہ ناراض کرچکا تھا۔
”مِن دُوْنِ اللّٰهِ“ کا دوسرا معنی یہ ہے کہ پھر ”اللہ کے مقابلے میں“ اس کا کوئی گروہ نہ تھا جو اس کی مدد کو پہنچتا۔۔ یہ معنی بھی کئی مفسرین نے کیا ہے۔ کسی بھی کافر کو جب یہ معاملہ پیش آتا ہے تو وہ اس وقت ہر طرف سے ناامید اور مجبور ہو کر اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے، مگر تب وقت گزر چکا ہوتا ہے اور اس کا ایمان اسے کچھ فائدہ نہیں دیتا، جیسا کہ فرعون غرق ہوتے وقت ایمان لے آیا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے یونس (90 تا 92) انبیاء ؑ کے مخالفین نے اللہ کا عذاب دیکھا تو کہنے لگے، ہم اللہ اکیلے پر ایمان لے آئے۔ (دیکھیے مومن : 84) اور قارون کے متعلق تو اللہ تعالیٰ نے بعینہ یہ الفاظ فرمائے جو زیر تفسیر قصے والے شخص کے متعلق فرمائے، فرمایا : (فَخَسَفْنَا بِهٖ وَبِدَارِهِ الْاَرْضَ ۣ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ يَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۤ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِيْنَ) [ القصص : 81 ]”تو ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا، پھر نہ اس کے لیے کوئی جماعت تھی جو اللہ کے مقابلے میں اس کی مدد کرتی اور نہ وہ اپنا بچاؤ کرنے والوں میں سے تھا۔“ مگر ان میں سے کسی کے ایمان نے اسے فائدہ نہ دیا۔
Ayah 18:44هُنَالِكَ الْوَلَايَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ : ”ۭهُنَالِكَ“ کا معنی اس وقت بھی ہے اور اس جگہ بھی، اس لیے دونوں کو ملحوظ رکھ کر ترجمہ اس موقع پر کیا گیا ہے۔ ”الْوَلَايَةُ“ واؤ کے فتح کے ساتھ معنی ہے ”مدد“ اور واؤ کے کسرہ کے ساتھ معنی ہے ”حکومت، اختیار“ یعنی اس موقع پر صرف اللہ سچے ہی کی مدد کار آمد ہوسکتی ہے، جیسا کہ پچھلی آیت کی تفسیر میں گزرا۔
هُوَ خَيْرٌ ثَوَابًا وَّخَيْرٌ عُقْبًا : اہل علم متفق ہیں کہ ”خَیْرٌ“ اور ”شَرٌّ“ دونوں اسم تفضیل ہیں، یعنی اصل میں ”اَخْیَرُ“ اور ”اَشَرُّ“ تھے، تخفیف کے لیے انھیں ”خَیْرٌ“ اور ”شَرٌّ“ کردیا گیا۔ یعنی بدلہ دینے میں اللہ سب سے بہت رہے، اس جیسا یا اس سے اچھا بدلہ کسی کے پاس نہیں اور اچھے انجام کے لحاظ سے بھی وہی سب سے بہتر ہے۔ اس کے عطا کردہ انجام جیسا انجام بھی کسی کے پاس نہیں۔ ”خَیْرٌ“ کا لفظ دوبارہ تاکید اور مبالغہ کے لیے ہے۔
Ayah 18:45وَاضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا۔۔ : ”هَشِيْمًا“ یہ ”فَعِیْلٌ“ بمعنی ”مَفْعُوْلٌ“ ہے، یعنی چورا چورا کیا ہوا۔ ”تَذْرُوْهُ“ ”ذَرَا یَذْرُوْ“ (ن) ہواؤں کا اڑانا۔ ”مُّقْتَدِرًا“ ”قَدَرَ یَقْدِرُ“ سے باب افتعال کا اسم فاعل ہے، حروف زیادہ ہونے سے معنی زیادہ ہوگیا، یعنی پوری قدرت رکھنے والا۔ یہ دنیا کی بےثباتی کی ایک اور مثال ہے، یعنی دنیا کی مثال اس پانی کی سی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اتارا، اس کے ساتھ زمین سے پودے اگے، پھر اتنے گھنے ہوگئے کہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر نہایت خوب صورت منظر پیش کرنے لگے، جسے دیکھ کر کاشت کار خوش ہوگئے، پھر وہ کھیتی پک کر زرد ہوگئی، پھر ایسی خشک ہوئی کہ ٹوٹ پھوٹ کر چورا ہوگئی۔ اسی طرح آسمان سے روح اتری، زمین سے بننے والے بدن سے مل کر انسان بڑھنا شروع ہوگیا، بچپن کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے جوانی آگئی، ماں باپ جوان اولاد کو دیکھ کر کھل اٹھے، پھر تھوڑی ہی مدت بعد بڑھاپا آگیا۔ اب اس نے فنا ہونا ہی ہونا ہے، جس طرح پکی ہوئی فصل کو پانی دیا جائے یا کھاد، اسے ریزہ ریزہ ہونا ہی ہے، اسی طرح بوڑھے کو مقوی غذا دی جائے یا کشتے، اس نے قبر میں جا کر مٹی کے ذرات میں بدلنا ہی ہے۔ پھر کئی پودے اگتے ہی اکھاڑ لیے جاتے ہیں، کئی سرسبز پودے جوبن پر کاٹ لیے جاتے ہیں، پھر اگر کوئی حادثہ پیش نہ آئے تو پکنے پر کاٹ لیے جاتے ہیں، یا خود ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح انسان کوئی بچپن میں، کوئی جوانی یا ادھیڑ عمر میں فوت ہوجاتے ہیں، اگر یہ مدت خیریت سے گزر جائے تو بڑھاپے کے بعد یہاں رہنے کا معاملہ ہر حال میں ختم ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زندگی کے تمام مرحلوں کے درمیان ”فاء تعقیب“ رکھی، یعنی ”فَاخْتَلَطَ“ اور ”فَاَصْبَحَ“ یعنی یہ مرحلے ایک دوسرے کے پیچھے جلد از جلد آتے چلے جاتے ہیں۔ اس مفہوم کی آیات کے لیے دیکھیے یونس (24) ، زمر (21) اور حدید (20)۔
Ayah 18:46اَلْمَالُ وَالْبَنُوْنَ۔۔ : اس آیت سے مقصود لوگوں کو نیک اعمال کی طرف توجہ دلانا ہے، تاکہ وہ باقی رہنے والے نیک اعمال کو چھوڑ کر، جو آخرت میں کام آنے والے ہیں، محض دنیا کی زندگی کی زینت والی چیزوں میں مشغول نہ رہیں، کیونکہ دنیا کی زندگی بےثبات اور عارضی ہے، جیسا کہ پچھلی آیت میں مثال سے واضح فرمایا، تو اس کی چمک دمک اور زینت اس سے بھی زیادہ بےثبات اور عارضی ہے۔ سو باقی کو فانی پر ترجیح دینا ہی کامیابی ہے۔ اس آیت میں مال اور بیٹوں ہی کا ذکر فرمایا، کیونکہ مال میں انسان کی ملکیت کی ہر چیز آجاتی ہے، مکان، مویشی اور سونا چاندی وغیرہ۔ دوسری آیات میں ان کی تفصیل اور ان کا فتنہ و آزمائش ہونا تفصیل سے ذکر فرمایا، دیکھیے آل عمران (14، 15) ، منافقون (9) اور تغابن (14، 15)۔
وَالْبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ : ان الفاظ میں وہ تمام نیک اعمال آجاتے ہیں جو اللہ کو راضی کرنے والے ہیں اور ان کا اجر قیامت کے دن کے لیے باقی ہے۔ عثمان ؓ سے پوچھا گیا کہ ”الْبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ“ کیا ہیں ؟ تو انھوں نے فرمایا : (لاَ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ سُبْحَان اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا باللّٰہِ) [ مسند أحمد : 1؍71، ح : 515 ] ”الْبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ“ کا ایک خاص مفہوم بھی ہے، یعنی وہ اعمال جن کا ثواب آدمی کو فوت ہونے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِذَا مَاتَ الإِْنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْہُ عَمَلُہُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَۃٍ : إِلَّا مِنْ صَدَقَۃٍ جَارِیَۃٍ ، أَوْ عِلْمٍ یُنْتَفَعُ بِہِ ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ یَدْعُوْ لَہُ) [ مسلم، الوصیۃ، باب ما یلحق الإنسان من الثواب بعد وفاتہ : 1631 ] ”جب انسان فوت ہوجاتا ہے تو اس کا عمل اس سے منقطع ہوجاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے، ایک وہ صدقہ جو جاری رہنے والا ہو (مثلاً مسجد، شفا خانہ، کنواں وغیرہ) ، ایک وہ علم جس سے نفع اٹھایا جائے (مثلاً تدریس، تصنیف، تبلیغ وغیرہ) اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے (یا شاگرد وغیرہ جو دعا کرتے رہیں)۔“ سلمان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (رِبَاطُ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ خَیْرٌ مِنْ صِیَامِ شَھْرٍ وَقِیَامِہِ ، وَإِنْ مَاتَ ، جَرَی عَلَیْہِ عَمَلُہُ الَّذِيْ کَانَ یَعْمَلُہُ ، وَأُجْرِيَ عَلَیْہِ رِزْقُہُ ، وَأَمِنَ الْفَتَّانَ) [ مسلم، الإمارۃ، باب فضل الرباط في سبیل اللہ عز وجل : 1913۔ ترمذي : 1665۔ نساءي : 3169، 3170 ] ”اللہ کے راستے میں ایک دن اور ایک رات کا رباط (سرحد پر دشمن کے مقابلے کے لیے رہنا) ایک ماہ کے روزے اور اس کے قیام سے بہتر ہے، پھر اگر وہ فوت ہوجائے تو اس کا وہ عمل اس کے لیے جاری رکھا جاتا ہے جو وہ کرتا تھا اور اس کے لیے اس کا رزق جاری رکھا جاتا ہے اور آزمائش کرنے والوں (منکر و نکیر) سے امن میں رہتا ہے۔“ مسلم میں ایک دن اور ایک رات کے لفظ ہیں اور اس میں ”فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ“ کے الفاظ نہیں ہیں۔ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ صدقہ جاریہ، تعلیم دین، دعا کرنے والی اولاد صالح اور جہاد فی سبیل اللہ خاص باقیات صالحات ہیں، جن کا ثواب مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔
خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں ان اعمال کا بدلہ تیرے رب کے ہاں تمام بدلوں سے بہتر ہے اور ان کے اجر کی امید بھی سب امیدوں سے بہتر ہے۔
Ayah 18:47وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ۔۔ : ”يَوْمَ“ ”أُذْکُرْ“ محذوف کی وجہ سے منصوب ہے۔ دنیا کی بےثباتی اور آخرت کے اجر کی پائیداری کی مناسبت سے اب قیامت کے دن کا ذکر فرمایا، یعنی اس دن کو یاد کیجیے جب پہاڑوں کو چلایا جائے گا اور وہ مختلف حالتوں سے گزرتے ہوئے آخر سراب کی طرح رہ جائیں گے، زمین کے سمندر، پہاڑ اور اونچی نیچی تمام جگہیں ہموار ہوجائیں گی اور پوری زمین پر نگاہ کے لیے کوئی رکاوٹ یا اوٹ باقی نہیں رہے گی۔ پہاڑوں پر گزرنے والی کیفیات کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة نبا (20) ، حاقہ (13 تا 15) ، طور (9، 10) ، تکویر (3) ، نمل (88) ، معارج (8، 9) ، قارعہ (4، 5) ، مزمل (14) اور واقعہ (5، 6) زمین کے ہموار ہونے کے ذکر کے لیے دیکھیے سورة طٰہٰ (105 تا 107)۔
وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا : اللہ تعالیٰ پہلے اور پچھلے سب لوگوں کو اکٹھا کرے گا، کسی کو باقی نہیں چھوڑے گا۔ دیکھیے سورة واقعہ (49، 50) دوسرے مقام پر وضاحت فرمائی کہ اس حشر میں جن و انس کے علاوہ دوسری تمام مخلوقات بھی شامل ہوں گی، چناچہ فرمایا : وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا طٰۗىِٕرٍ يَّطِيْرُ بِجَنَاحَيْهِ اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ ۭمَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ) [ الأنعام : 38 ] ”اور زمین میں کوئی چلنے والا جان دار نہیں اور نہ کوئی پرندہ ہے جو اپنے دو پروں سے اڑتا ہے مگر تمہاری طرح امتیں ہیں، ہم نے کتاب میں کسی چیز کی کمی نہیں چھوڑی، پھر وہ اپنے رب کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے۔“ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوْقُ إِلٰی أَھْلِھَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتّٰی یُقَاد للشَّاۃِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الشَّاۃِ الْقَرْنَاءِ) [ مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الظلم : 2582 ] ”قیامت کے دن حق والوں کو ان کے حقوق ہر صورت ادا کیے جائیں گے، حتیٰ کہ بغیر سینگ والی بکری کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلوایا جائے گا۔“
Ayah 18:48لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۢ ۡ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ ان سے یہ بات فرمائے گا۔ دیکھیے سورة انعام (94) یہ خطاب آخرت کے منکروں سے ہوگا، جیسا کہ اس آیت کے آخر میں ہے : (بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا) ”بلکہ تم نے گمان کیا تھا کہ ہم تمہارے لیے کبھی وعدے کا کوئی وقت مقرر نہیں کریں گے۔“ ام المومنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (تُحْشَرُوْنَ حُفَاۃً عُرَاۃً غُرْلاً قَالَتْ عَاءِشَۃُ فَقُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ یَنْظُرُ بَعْضُھُمْ إِلٰی بَعْضٍ ؟ فَقَالَ الْأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ یُھِمَّھُمْ ذَاکِ) [ بخاری، الرقاق، باب الحشر : 6527 ] ”تم قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنے کے اکٹھے کیے جاؤ گے۔“ عائشہ ؓ فرماتی ہیں، میں نے کہا : ”یا رسول اللہ ! مرد اور عورتیں ایک دوسرے کو دیکھیں گے ؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”معاملہ اس سے کہیں سخت ہوگا کہ انھیں اس بات کی سوچ آئے۔“ ابن عباس ؓ سے بھی یہ حدیث آئی ہے، اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : (كَمَا بَدَاْنَآ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيْدُهٗ ۭ وَعْدًا عَلَيْنَا ۭ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِيْنَ) [ الأنبیاء : 104 ] ”جس طرح ہم نے پہلی پیدائش کی ابتدا کی (اسی طرح) ہم اسے لوٹائیں گے۔ یہ ہمارے ذمے وعدہ ہے، یقیناً ہم ہمیشہ (پورا) کرنے والے ہیں۔“ اس حدیث میں یہ بھی ہے : (ثُمَّ إِنَّ أَوَّلَ الْخَلاَءِقِ یُکْسٰی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِبْرَاھِیْمُ) [ بخاری، التفسیر، سورة الأنبیاء، باب : (کما بدأنا أول خلق نعیدہ وعداً علینا) : 4740، 6526 ] ”پھر سب سے پہلے جسے لباس پہنایا جائے گا وہ ابراہیم ؑ ہوں گے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ مسلسل بےلباس کفار ہی رہیں گے۔
Ayah 18:49مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ : بقاعی ؓ نے رسم عثمانی میں لام جارہ کو الگ لکھنے کا ایک نکتہ بیان کیا ہے کہ مجرم اتنے خوف زدہ ہوں گے کہ وہ بعض کلمات پر رک جایا کریں گے۔ علامہ قاسمی ؓ فرماتے ہیں کہ یہ بقاعی کے لطیف نکتوں میں سے ایک ہے۔
لَا يُغَادِرُ صَغِيْرَةً۔۔ : اس کی ہم معنی آیات کے لیے دیکھیے آل عمران (30) اور زلزال (7، 8)۔
وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا : یعنی کسی کو بےقصور سزا نہیں دے گا اور نہ ایسا ہوگا کہ اس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو اور اس کے نامۂ اعمال میں درج کردیا جائے۔
Ayah 18:50وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اسْجُدُوْا۔۔ : اس سلسلۂ کلام میں آدم و ابلیس کا قصہ ذکر کرنے کی مناسبت یہ ہے کہ کفار کو متنبہ کیا جائے کہ تم جس غرور و تکبر کی راہ پر چل رہے ہو اور فقراء مسلمین کو حقیر سمجھتے ہو یہ وہی راہ ہے جس پر تم سے پہلے شیطان نے قدم رکھا تھا، پھر دیکھ لو کہ اس کا انجام کیا ہوا ؟rnۭ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ ۭ : ”فَفَسَقَ“ میں فاء تعلیل یعنی وجہ بیان کرنے کے لیے ہے، جیسے کہتے ہیں : ”سَرَقَ فَقُطِعَتْ یَدُہُ“ ”اس نے چوری کی، تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔“ یعنی شیطان جنوں میں سے تھا، اس لیے اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی۔ اگر فرشتوں سے ہوتا تو کبھی نافرمانی نہ کرتا، کیونکہ فرشتے نہ اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں نہ اس کے حکم کے بغیر کوئی کام کرتے ہیں۔ دیکھیے انبیاء (26 تا 28) اور تحریم (6) معلوم ہوا کہ ابلیس کے متعلق یہ کہنا کہ وہ اصل میں فرشتہ تھا، نام اس کا عزازیل تھا، یا جن تھا مگر کثرت عبادت کی وجہ سے فرشتوں کا استاد بن گیا، بالکل بےاصل بات ہے۔ رہا یہ سوال کہ سجدے کا حکم تو فرشتوں کو تھا، جنوں کو تھا ہی نہیں تو اس کے لیے دیکھیے سورة اعراف (12) اور سورة بقرہ (34) کی تفسیر۔
اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَذُرِّيَّتَهٗٓ۔۔ : اس سے معلوم ہوا کہ ابلیس کی اولاد ہے، مگر ان کی نسل کیسے بڑھی اور کیسے بڑھتی ہے اس کے متعلق صحیح ذریعے سے ہمارے پاس کوئی علم نہیں۔
بِئْسَ للظّٰلِمِيْنَ بَدَلًا : ”بِئْسَ“ کا فاعل ”ھُوَ“ ضمیر ہے، جو ابلیس کی طرف لوٹتی ہے، یعنی اللہ کے بدلے میں ابلیس کو دوست بنایا تو تم نے بہت برا بدل حاصل کیا۔
Ayah 18:51مَآ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے اپنے معبود برحق ہونے کی سب سے بڑی دلیل جو قرآن میں بیان فرمائی ہے اور بار بار بیان فرمائی ہے، وہ یہ ہے کہ ہر چیز کا خالق میں ہوں، میرے سوا کوئی مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتا تو پھر میری بندگی اور دوستی چھوڑ کر مخلوق کی بندگی اور دوستی کیوں ؟ مثلاً دیکھیے سورة نحل (17) ، رعد (16) ، لقمان (11) ، فاطر (40) اور احقاف (4) وغیرہ۔ اس آیت میں فرمایا کہ جب میں نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تو ان شیاطین کا کوئی وجود نہ تھا کہ وہ ان کے بنانے میں میرے شریک ہوتے اور نہ میں نے انھیں ان کی اپنی پیدائش میں شریک کیا۔ مطلب یہ کہ یہ خود میرے پیدا کردہ ہیں، پھر یہ میرے شریک اور تمہاری بندگی اور اطاعت کے مستحق کیسے بن گئے ؟ اور مخلوق خالق کی ہمسر کیسے بن گئی ؟
وَمَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّيْنَ عَضُدًا : یعنی نہ میں نے کسی بھی مخلوق سے پیدا کرنے میں کوئی مشورہ یا مدد لی اور نہ میں کبھی اس طرح کے شریروں اور نافرمانوں کو، جن کا کام دوسروں کو گمراہ کرنا اور شرارت پھیلانا ہے، اپنا بازو، یعنی مددگار بنانے والا تھا۔ میں نے کسی کی بھی مدد یا مشورے کے بغیر اپنی مرضی کے مطابق ساری مخلوق پیدا کی۔ گویا ”الْمُضِلِّيْنَ“ پر الف لام عہد کا ہے، مراد شیطان اور اس کی اولاد ہے۔ اس کی ہم معنی آیت کے لیے دیکھیے سورة سبا (22، 23)۔
Ayah 18:52وَيَوْمَ يَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَاۗءِيَ۔۔ : یعنی ان مشرکوں سے اس دن کا ذکر کیجیے جب اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میرے شریکوں کو آواز دو جنھیں تم نے میرے شریک سمجھ رکھا تھا، وہ انھیں پکاریں گے مگر مدد تو کجا، وہ انھیں جواب بھی نہیں دیں گے۔ دیکھیے قصص (62 تا 64) فاطر (13، 14) ، احقاف (5، 6) ، مریم (81، 82) ، انعام (94) اور ابراہیم (22)۔
وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ مَّوْبِقًا : ”وَبَقَ یَبِقُ“ (ض، ع) بروزن ”وَرَثَ“ ہلاک ہونا، یعنی ہم ان مشرکوں اور ان لوگوں کے درمیان جنھیں وہ دنیا میں اپنا معبود سمجھتے تھے ہلاکت کی ایک جگہ بنادیں گے جس سے ان کا ایک دوسرے تک پہنچنا ممکن نہ رہے گا۔
Ayah 18:53وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ۔۔ : آگ میں جانے سے پہلے آگ کو دیکھنا اور اس بات کا یقین کہ اب اس میں جائے بغیر کوئی چارہ نہیں، بجائے خود ایک بہت بڑا عذاب ہے۔ مزید دیکھیے شوریٰ (44 تا 47)۔
Ayah 18:54ۧوَلَقَدْ صَرَّفْــنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ۔۔ : مثال سے بات بہت اچھی طرح سمجھ میں آتی ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے کئی مثالیں بیان فرمائی ہیں، مثلاً دنیا کی زندگی کی مثال اور آخرت پر ایمان رکھنے والے مسکین اور ایمان نہ رکھنے والے دو باغوں کے مالک کی مثال وغیرہ۔ اس کے علاوہ دوسری سورتوں میں بھی مختلف دلیلوں، کئی طریقوں اور مثالوں سے بات سمجھائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کئی باتیں مچھر (بقرہ : 26) ، مکھی (حج : 73) کتے (اعراف : 177) اور گدھے (جمعہ : 5) کی مثالیں دے کر سمجھائی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے مختار مطلق اور مخلوق کے بےاختیار ہونے کے لیے مالک اور غلام کی مثالیں کئی جگہ بیان ہوئی ہیں۔ دیکھیے نحل (75، 76) اور روم (28) قرآن و حدیث کی تمام مثالوں کا مقصد یہ ہے کہ لوگ بات پر غور و فکر کریں اور اسے سمجھیں، مگر انھیں جاننے والے ہی سمجھتے ہیں۔ (دیکھیے حشر : 21۔ عنکبوت : 43) پھر ان مثالوں سے کچھ لوگ فائدہ اٹھا کر ہدایت پالیتے ہیں اور کچھ الٹی سمجھ سے گمراہ ہوجاتے ہیں۔ (دیکھیے بقرہ : 26۔ رعد : 17، 18) آیت کی مزید تفصیل کے لیے دیکھیے بنی اسرائیل (89) اس آیت میں ”فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ“ پہلے ہے، کیونکہ اس سورت کی ابتدا ہی قرآن کے ذکر سے ہوئی ہے اور یہ سورت قرآن کے وصف میں سے ہے اور بنی اسرائیل میں ”لِلنَّاسِ“ پہلے ہے، کیونکہ اس سورت کا بنیادی مضمون ”اَلنَّاسُ“ (لوگوں) کے احوال کی طرف توجہ ہے، جو فی الحقیقت ”اَلنَّاسُ“ (لوگ) ہیں، جن میں تقویٰ اور احسان پایا جاتا ہے۔ (بقاعی)
وَكَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا : یعنی جو چیزیں جھگڑا کرسکتی ہیں، انسان ان میں سب سے زیادہ جھگڑنے والا ہے، اس لیے خواہ مخواہ حیل و حجت کیے جاتا ہے اور حق بات کی طرف نہیں آتا۔ قرآن میں جا بجا ہمارے نبی ﷺ اور دوسرے انبیاء کے ساتھ کفار کے جھگڑے مذکور ہیں۔ جھگڑے کی ایک مثال سورة زخرف (57، 58) میں دیکھیے۔
Ayah 18:55وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ يُّؤْمِنُوْٓا۔۔ : اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں اور دونوں کی تائید میں آیات موجود ہیں۔ ایک مطلب یہ ہے کہ رسولوں کے واضح نشانیاں لانے کے باوجود لوگوں کو ایمان لانے اور استغفار سے روکا تو صرف اس بات نے کہ اللہ کے علم میں تھا کہ یہ لوگ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک ان پر ہمارا عذاب اسی طریقے سے نہ آجائے جس طرح پہلے لوگوں، مثلاً قوم نوح، عاد اور ثمود وغیرہ پر آیا، جس نے انھیں جڑ سے اکھیڑ دیا، یا قیامت کے دن کا عذاب ان کے سامنے نہ آجائے، یعنی ان کی تقدیر ہی میں ایمان لانا نہیں ہے۔ یہ قضیہ ”مَانِعَۃُ الْخَلْوِ“ ہے۔ یعنی ان دونوں چیزوں میں سے ایک ضرور ہوگی کہ اگر دنیا میں پہلے لوگوں جیسے عذاب سے بچے رہے تو قیامت کا عذاب ان کی آنکھوں کے سامنے ضرور آئے گا اور دونوں جمع بھی ہوسکتے ہیں کہ دنیا میں پہلے لوگوں کی طرح عذاب بھی آئے گا اور آخرت میں بھی عذاب کو سامنے دیکھ لیں گے، مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک بھی نہ ہو۔ اس معنی کی تائید میں فرمایا : (اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ 96 ۙوَلَوْ جَاۗءَتْھُمْ كُلُّ اٰيَةٍ حَتّٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ) [ یونس : 96، 97 ] ”بیشک وہ لوگ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی، وہ ایمان نہیں لائیں گے، خواہ ان کے پاس ہر نشانی آجائے، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔“ اس معنی کی مزید آیات کے لیے دیکھیے یونس (101) اور مائدہ (41)۔
دوسرا معنی یہ ہے کہ لوگوں کو ان کے ایمان لانے اور استغفار کرنے سے روکا تو صرف ان کے اس مطالبے نے کہ ان پر پہلے لوگوں جیسا جڑ سے اکھاڑ دینے والا عذاب آجائے، یا قیامت کا عذاب ان کی آنکھوں کے سامنے آجائے، یعنی وہ اپنی سرکشی کی وجہ سے اسی مطالبے پر ڈٹے رہے، نہ ایمان لائے نہ اپنے گناہوں کی معافی مانگی۔ اس مفہوم کی آیات بہت ہیں، مثلاً شعیب ؑ کی قوم نے کہا کہ تو ہم پر آسمان کے ٹکڑے گرا دے، اگر تو سچوں سے ہے۔ (شعراء : 187) اسی طرح قوم ہود کا مطالبہ (احقاف : 22) ، ثمود کا مطالبہ (اعراف : 77) ، قوم لوط (عنکبوت : 29) ، قوم نوح (ہود : 32) اور مشرکین مکہ کا مطالبہ (انفال : 32) آیت میں دونوں معنی کی گنجائش ہے اور دونوں درست ہیں۔
Ayah 18:56وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّا مُبَشِّرِيْنَ۔۔ : یعنی رسولوں کا کام بشارت و نذارت ہے، عذاب لانا یا نہ لانا ان کے اختیار میں نہیں اور کافر لوگ باطل کے ذریعے سے جھگڑا کرکے حق کو شکست دینا چاہتے ہیں، مثلاً یہ کہ تم رسول ہو تو صفا پہاڑ سونے کا بنادو وغیرہ، حالانکہ یہ نہ رسول کا کام ہے نہ اس کے اختیار میں ہے۔ دوسرے کئی مقامات پر فرمایا کہ کافروں کی یہ خواہش نہ کبھی پوری ہوگی اور نہ اللہ کا نور پھونکوں سے بجھایا جاسکے گا۔ دیکھیے توبہ (32) اور شوریٰ (16)۔
وَاتَّخَذُوْٓا اٰيٰتِيْ۔۔ : اللہ کی آیات اور اس کے رسولوں کو مذاق بنا لینا جھٹلانے کی بد ترین صورت ہے۔
Ayah 18:57وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ۔۔ : یعنی اس سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں۔ قرآن مجید میں یہ لفظ جس جس کے متعلق آیا ہے وہ سب ایسے ہیں کہ ان سے بڑا ظالم کوئی نہیں، مثلاً اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ دیکھیے سورة کہف (15)۔
اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً۔۔ : ”اَكِنَّةً“ ”کِنَانٌ“ کی جمع ہے، پردے۔ ”وَقْرًا“ کا معنی ہے بوجھ، بہرا پن۔ یعنی جب کوئی شخص کسی کے سیدھی طرح سمجھانے سے کوئی اثر نہیں لیتا، بلکہ جانتے بوجھتے ہٹ دھرم اور جھگڑالو بن جاتا ہے، اللہ کی واضح آیات کا مذاق اڑاتا ہے اور اپنے کرتوتوں اور ان کے برے نتائج سے بھی کوئی سبق حاصل نہیں کرتا تو آخر کار اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے دل پر پردہ پڑجاتا ہے اور اس کے کان حق بات سننے سے بہرے ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد اگر کوئی شخص اسے سیدھی راہ کی طرف بلائے بھی تو ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ اس کی یہ کیفیت اگرچہ اس کے اپنے عمل سے پیدا ہوتی ہے، مگر خالق چونکہ ہر چیز کا اللہ تعالیٰ ہے، اس لیے اس کیفیت کے پیدا کرنے کے فعل کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کردیا ہے۔
Ayah 18:58وَرَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذو الرَّحْمَةِ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة اعراف (156) ، سورة نجم (32) اور زمر (53)۔
لَوْ يُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة نحل (61) اور فاطر (45)۔
بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ يَّجِدُوْا۔۔ : ”مَوْىِٕلًا“ ”وَأَلَ یَءِلُ اِلٰی مَکَانٍ“ کسی جگہ کی طرف پناہ لینا۔ ”مَوْىِٕلًا“ پناہ کی جگہ، یعنی ان کے عذاب کے وعدے کا ایک وقت ہے، دنیا میں ہو یا آخرت میں۔ جب ان کی گرفت ہوگی تو اس سے بچنے کے لیے وہ کوئی پناہ کی جگہ نہیں پائیں گے۔ تو اے کفار قریش ! تمہیں بھی ڈرتے رہنا چاہیے، ایسا نہ ہو کہ آخر کار تمہارا بھی وہی حشر ہو جو ان بستیوں کا ہوا۔
Ayah 18:59وَتِلْكَ الْقُرٰٓى اَهْلَكْنٰهُمْ۔۔ : مراد ہیں سبا، ثمود، مدین اور قوم لوط کی تباہ شدہ بستیاں، جن کی سرگزشت سے عرب کے تمام لوگ واقف تھے اور جن پر قریش کا اپنے سفروں میں آتے جاتے ہمیشہ گزر ہوتا تھا۔
Ayah 18:60وَاِذْ قَالَ مُوْسٰي لِفَتٰىهُ۔۔ : یہاں سے تیسرا قصہ شروع ہوتا ہے کہ موسیٰ ؑ خضر کے پاس علم حاصل کرنے کے لیے گئے۔ اگرچہ یہ اپنی جگہ ایک مستقل قصہ ہے، تاہم اس میں اس بات کی تائید بھی ہے جو پہلے دونوں قصوں میں گزری۔ اوپر ذکر فرمایا کہ کافر اپنے مال و جاہ پر مغرور رہتے اور مسلمانوں کو ذلیل سمجھ کر آپ ﷺ سے کہتے کہ اگر ان کو اپنے پاس نہ بٹھاؤ تو ہم آپ کے پاس بیٹھیں۔ اس پر دو بھائیوں کا قصہ بیان فرمایا اور پھر دنیا کی مثال بیان فرمائی اور بتایا کہ ابلیس غرور کے سبب ہی ہلاک ہوا اور اب خضر اور موسیٰ ؑ کا واقعہ بیان فرمایا کہ دیکھو موسیٰ ؑ جیسے جلیل القدر اولو العزم پیغمبر اتنے زیادہ علم و عمل کے باوجود خضر ؑ سے علم حاصل کرنے کے لیے گئے اور ان کے سامنے تواضع اختیار کرتے ہوئے ان کی ہر شرط قبول کی۔ (رازی و موضح)
”لِفَتٰىهُ“ ”فَتًی“ کا معنی نوجوان ہے، خادم کو بھی ”فَتًی“ کہہ لیتے ہیں، کیونکہ بہتر خدمت نوجوان ہی کرسکتے ہیں۔ یہ یوشع بن نون تھے جو موسیٰ ؑ سے بہت محبت رکھتے تھے، ان کی خدمت کے لیے ان کے ساتھ رہتے تھے، موسیٰ ؑ کے بعد ان کے جانشین بنے اور انھی کے ہاتھوں بیت المقدس فتح ہوا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص اگر خوش دلی سے خدمت کرے تو اس سے خدمت لی جاسکتی ہے۔
مَجْـمَعَ الْبَحْرَيْنِ : ”بَحْرٌ“ کا لفظ عربی زبان میں نمکین پانی والے سمندر پر بھی بولا جاتا ہے اور میٹھے پانی والے دریا پر بھی۔ (قاموس) فارسی میں بھی دریا کا لفظ دونوں پر بولا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وہ دو بحر ذکر نہیں فرمائے، کیونکہ مراد قصہ گوئی نہیں، نصیحت ہے اور وہ ان دو دریاؤں کی تعیین کے بغیر بھی پوری ہے۔ بعض مفسرین نے ان سے بحر فارس اور بحر روم مراد لیے ہیں، مگر یہ ملتے نہیں۔ بعض نے بحر ابیض اور بحر احمر مراد لیے ہیں۔ بعض نے افریقہ کے اور بعض نے اندلس کے دو دریا مراد لیے ہیں۔ بعض نے دجلہ و فرات مراد لیے ہیں، مگر مصر کو مدنظر رکھیں تو سوڈان کی طرف سے مصر میں آنے والے دریائے نیل میں ملنے والے کئی دریاؤں کے نیل کے ساتھ ملنے کی کوئی جگہ مراد ہوسکتی ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے مچھلی کے وہاں گم ہونے کی علامت کے ساتھ متعین فرمایا۔ اب اندازے سے ان جگہوں میں سے دو دریاؤں کے جمع ہونے کی کوئی ایک جگہ متعین کرنا ممکن نہیں اور اس کا کوئی فائدہ بھی نہیں۔ ”حُقُبًا“ ”حَقْبَۃٌ“ کی جمع ہے، لمبی مدت کو ”حَقْبَۃٌ“ کہتے ہیں۔ اس واقعہ کی تفصیل رسول اللہ ﷺ نے خود بیان فرمائی ہے، قارئین اس پوری حدیث کو غور سے پڑھیں، آئندہ فوائد میں اس کا بار بار ذکر آئے گا۔
3 ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ موسیٰ ؑ بنی اسرائیل میں کھڑے خطبہ دے رہے تھے کہ ان سے پوچھا گیا : ”لوگوں میں سب سے زیادہ علم والا کون ہے ؟“ انھوں نے فرمایا : ”میں ہوں۔“ تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ناراضگی کا اظہار فرمایا، کیونکہ انھوں نے یہ بات اللہ کے سپرد نہیں کی (کہ اللہ بہتر جانتا ہے)۔ سو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ میرا ایک بندہ دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ ہے، وہ تم سے زیادہ عالم ہے۔ موسیٰ ؑ نے عرض کیا : ”اے میرے رب ! پھر میری اس سے ملاقات کیسے ہوسکتی ہے ؟“ فرمایا : ”اپنے ساتھ ایک مچھلی لے لو اور اسے کسی مکتل (کھجور کے نرم پتوں کی بنی ہوئی ٹوکری) میں رکھ لو، تو جہاں مچھلی کو گم پاؤ، وہ وہیں ہوگا۔“ تو انھوں نے ایک مچھلی لی، اسے ایک ٹوکری میں رکھا اور چل پڑے اور اپنے ساتھ اپنے جوان یوشع بن نون کو بھی لے لیا۔ یہاں تک کہ وہ ایک خاص قسم کی چٹان کے پاس پہنچے تو دونوں لیٹ گئے اور سو گئے۔ مچھلی تڑپی اور دریا میں جا گری اور اس نے دریا میں اپنا راستہ سرنگ کی صورت میں بنا لیا اور اللہ تعالیٰ نے مچھلی سے پانی کا بہاؤ روک دیا تو وہ اس پر طاق کی طرح ہوگیا۔ جب (موسیٰ ؑ جاگے تو ان کا ساتھی انھیں مچھلی کے متعلق بتلانا بھول گیا، چناچہ وہ دونوں دن کا باقی حصہ اور رات بھر چلتے رہے۔ اگلا دن ہوا تو موسیٰ ؑ نے اپنے جوان سے کہا : ”ہمارا دن کا کھانا لاؤ، ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ ہوئی ہے۔“ (رسول اللہ ﷺ نے) فرمایا : ”موسیٰ ؑ کو اس وقت تک کوئی تھکاوٹ نہیں ہوئی جب تک وہ اپنی اس جگہ سے آگے نہیں گزرے جس کا انھیں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔“ تو ان کے جوان نے ان سے کہا : ”کیا آپ نے دیکھا کہ جب ہم اس چٹان کے پاس ٹھہرے تھے تو میں مچھلی بھول گیا اور مجھے اس کا ذکر کرنا شیطان ہی نے بھلایا ہے اور اس نے دریا میں اپنا عجیب راستہ بنا لیا۔“ سو مچھلی کے لیے سرنگ بنی اور موسیٰ ؑ اور ان کے جوان کو تعجب ہوا۔ موسیٰ ؑ نے کہا : ”یہی تو ہم ڈھونڈ رہے تھے۔“ چناچہ وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانوں کا پیچھا کرتے ہوئے واپس پلٹے، یہاں تک کہ اس چٹان تک آپہنچے، تو اس وقت (وہاں) ایک آدمی کپڑا اوڑھ کر لیٹا ہوا تھا۔ اسے موسیٰ ؑ نے سلام کہا تو خضر نے کہا : ”اور تیری (اس) سرزمین میں سلام کیسا ؟“ کہا : ”میں موسیٰ ہوں۔“ اس نے کہا : ”بنی اسرائیل والے موسیٰ ؟“ کہا : ”ہاں، میں آپ کے پاس آیا ہوں کہ آپ کو جو کچھ سکھایا گیا ہے اس میں سے کچھ بھلائی مجھے سکھا دیں۔“ اس نے کہا : ”تو میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کرسکے گا، اے موسیٰ ! میں اللہ کے علم میں سے ایک ایسے علم پر ہوں جسے تم نہیں جانتے اور تم اللہ کے علم میں سے ایک ایسے علم پر ہو جسے میں نہیں جانتا۔“ تو موسیٰ ؑ نے کہا : ”تم مجھے اگر اللہ نے چاہا تو صبر کرنے والا پاؤ گے اور میں تمہارے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔“ تو خضر نے اس سے کہا : ”پھر اگر تو میرے پیچھے چلا ہے تو مجھ سے کسی چیز کے بارے میں مت پوچھنا، یہاں تک کہ میں تیرے لیے اس کا کچھ ذکر شروع کروں۔“ چناچہ وہ دونوں چل پڑے، دریا کے کنارے پر جا رہے تھے کہ ایک کشتی گزری، انھوں نے ان سے بات کی کہ وہ انھیں سوار کرلیں۔ ان لوگوں نے خضر کو پہچان لیا، اس لیے انھوں نے ان کو کسی اجرت کے بغیر سوار کرلیا۔ جب وہ دونوں کشتی میں سوار ہوئے تو اچانک ہی خضر نے کشتی کے تختوں میں سے ایک تختہ تیشے کے ساتھ اکھیڑ دیا۔ موسیٰ ؑ نے اس سے کہا : ”ایسے لوگ جنھوں نے ہمیں اجرت کے بغیر سوار کرلیا، تم نے بڑھ کر ان کی کشتی کا تختہ اکھیڑ دیا، تاکہ اس میں سوار لوگوں کو غرق کر دو ، بلاشبہ یقیناً تو ایک بڑے کام کو آیا ہے۔“ کہا : ”کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ یقیناً تو میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کرسکے گا ؟“ کہا : ”مجھے اس پر نہ پکڑ جو میں بھول گیا اور مجھے میرے معاملے میں کسی مشکل میں نہ پھنسا۔“ (ابی بن کعب ؓ نے) کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”یہ پہلی دفعہ موسیٰ ؑ سے بھول ہوئی تھی۔“ فرمایا : ”اور ایک چڑیا آئی اور کشتی کے ایک کنارے پر بیٹھ گئی، اس نے دریا میں ایک ٹھونکا مارا تو خضر نے اس سے کہا : ”میرا علم اور تیرا علم اللہ کے علم میں سے اتنا ہی ہے جتنا اس چڑیا نے اس دریا سے کم کیا ہے۔“ پھر وہ دونوں کشتی سے نکلے، ابھی وہ کنارے پر چل ہی رہے تھے کہ خضر نے ایک لڑکا دیکھا جو لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، تو خضر نے اس کا سر پکڑا اور اسے اپنے ہاتھ سے اکھیڑ کر قتل کردیا۔ موسیٰ نے اس سے کہا : ”کیا تو نے ایک بےگناہ جان کو کسی جان کے بدلے کے بغیر قتل کردیا، بلاشبہ یقیناً تو ایک بہت برے کام کو آیا ہے۔“ کہا : ”کیا میں نے تجھ سے نہیں کہا تھا کہ تو میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کرسکے گا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اور یہ پہلی سے سخت (تنبیہ) تھی۔“ کہا : ”اگر میں تجھ سے اس کے بعد کسی چیز کے متعلق پوچھوں تو مجھے ساتھ نہ رکھنا، یقیناً تو میری طرف سے پورے عذر کو پہنچ چکا ہے۔“ پھر وہ دونوں چل پڑے، یہاں تک کہ جب وہ ایک بستی والوں کے پاس آئے، انھوں نے اس کے رہنے والوں سے کھانا طلب کیا تو انھوں نے انکار کردیا کہ ان کی مہمان نوازی کریں، پھر انھوں نے اس میں ایک دیوار پائی جو چاہتی تھی کہ گرجائے۔ فرمایا، ایک طرف جھکی ہوئی تھی۔ تو خضر اٹھے اور اسے اپنے ہاتھ سے سیدھا کردیا۔ موسیٰ ؑ نے کہا : ”ایسے لوگ جن کے پاس ہم آئے تو نہ انھوں نے ہمیں کھانا کھلایا اور نہ ہماری مہمان نوازی کی، اگر آپ چاہتے تو اس پر کچھ اجرت لے لیتے۔“ (خضر نے) کہا : ”یہ میرے اور تیرے درمیان جدائی ہے۔“ اس کے بعد پورا واقعہ بیان فرمایا جو آیت (78) سے آیت (82) کے آخر تک ہے۔ ابن عباس ؓ پڑھا کرتے تھے : ”وَ أَمَّا الْغُلَامُ فَکَانَ کَافِرًا وَکَانَ أَبَوَاہُ مُؤْمِنَیْنِ“ یعنی وہ لڑکا کافر تھا اور اس کے ماں باپ مومن تھے۔ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ : (و إذ قال موسیٰ لفتاہ لا أبرح۔۔) : 4725 ]
Ayah 18:61الْبَحْرِ سَرَبًا : مچھلی پانی سے باہر زندہ نہیں رہ سکتی، معلوم ہوا وہ مچھلی مردہ تھی، پھر اگر اسے نمک لگا کر خشک نہ کیا جائے تو وہ شدید بدبو دار ہوجاتی ہے اور کیڑوں سے بھر جاتی ہے۔ معلوم ہوا اسے نمک لگا کر خشک کیا گیا تھا۔ اس مردہ مچھلی کا زندہ ہونا معجزہ تھا۔
3 پانی کو موسیٰ ؑ کے لیے پہاڑوں کی شکل دینا (شعراء : 63) یا سرنگ کی، یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے اور معجزۂ ربانی۔ جس طرح پانی کے ایک قطرے (نطفہ) سے احسن تقویم میں انسان کی صورت گری اس خلاق علیم کی قدرت کا ادنیٰ کرشمہ ہے۔
Ayahs 18:62–63اٰتِنَا غَدَاۗءَنَا : معلوم ہوا سفر کے لیے کھانا ساتھ لے جانا انبیاء ؑ کی سنت ہے اور توکل کے منافی نہیں اور یہ کہ بھوک، پیاس، تھکاوٹ، بھول چوک، غرض انسان کو پیش آنے والی چیزیں انبیاء ؑ کو بھی پیش آتی ہیں، کیونکہ وہ بھی انسان ہوتے ہیں اور یہ بھی کہ آدمی کو جو عارضہ پیش آئے، اس کا ذکر کرسکتا ہے، بشرطیکہ اس کا ارادہ اللہ تعالیٰ کے شکوے کا نہ ہو۔ rnۡ لَقَدْ لَقِيْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا : شاید اس تھکاوٹ کی وجہ اس نعمت کا احساس دلانا ہو کہ صحیح راستے پر طلب علم کے لیے جاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی خاص مدد شامل ہوتی ہے، جس سے تھکن نہیں ہوتی اور جب اس کی مدد نہ ہو تو انسان تھک کر رہ جاتا ہے۔
Ayah 18:64فَارْتَدَّا عَلٰٓي اٰثَارِهِمَا قَصَصًا : یہ واقعہ انبیاء و اولیاء، خصوصاً موسیٰ ، یوشع بن نون اور خضر کے غیب نہ جاننے کی کئی طرح سے دلیل ہے : 1 موسیٰ ؑ کا کہنا کہ مجھ سے زیادہ کوئی عالم نہیں، حالانکہ ان سے زیادہ علم والے موجود تھے۔ 2 اللہ تعالیٰ کا ناراض ہونا۔ 3 موسیٰ ؑ کا اللہ تعالیٰ سے خضر کا پتا پوچھنا۔ 4 مجمع البحرین اور مچھلی کی نشانی کی ضرورت عالم الغیب کو نہیں ہوتی۔ 5 مچھلی کے نکل جانے کا علم نہ ہونا۔ 6 اگلا سفر، تھکاوٹ کے احساس کی وجہ معلوم نہ ہونا۔ 7 قدموں کے نشانوں کو دیکھتے ہوئے واپسی کی اسے کیا ضرورت ہے جس کی نگاہ سے کچھ اوجھل نہ ہو۔ مزید اگلی آیات میں ملاحظہ فرمائیے۔
Ayah 18:65عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَآ : اس سے مراد خضر ؑ ہیں (خاء کے فتحہ اور ضاد کے کسرہ کے ساتھ، یا خاء کے کسرہ اور ضاد کے سکون کے ساتھ)۔ نبی ﷺ نے فرمایا : (إِنَّمَا سُمِّيَ الْخَضِرُ لِأَنَّہٗ جَلَسَ عَلٰی فَرْوَۃٍ بَیْضَاءَ فَإِذَا ھِيَ تَھْتَزُّ مِنْ خَلْفِہٖ خَضْرَاءَ) [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب حدیث الخضر۔۔ : 3402 ]”ان کا نام خضر اس لیے پڑا کہ وہ سفید زمین کے ایک قطعے پر بیٹھے تو وہ ان کے پیچھے سرسبز ہو کر لہلہانے لگا۔“ یہ اللہ کے نبی تھے، اس کی دلیل یہ ہے کہ انھوں نے آخر میں فرمایا کہ میں نے یہ اپنی مرضی سے نہیں کیا۔ (کہف : 82) بلکہ یہ سب اللہ کے حکم سے تھا جو وحی کی صورت میں انبیاء کو صادر ہوتا ہے۔ اسی طرح ان کا اوپر مفصل حدیث میں یہ کہنا کہ میرے پاس ایک علم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے سکھایا ہے، تم اسے نہیں جانتے۔۔ ولی کتنا بھی مقرب ہو اس کا الہام حجت نہیں، نہ وہ الہام سے کسی کو قتل کرسکتا ہے، ورنہ ہر مومن اللہ کا ولی ہے۔ (بقرہ : 257) وہ اللہ کے امر کا بہانہ بنا کر جسے چاہے گا قتل کر دے گا، جب کہ اس کا کوئی بھی قائل نہیں۔
محقق علماء جن میں امام بخاری، ابن تیمیہ اور حافظ ابن حجر جیسے عظیم ائمہ شامل ہیں، فرماتے ہیں کہ خضر ؑ فوت ہوچکے ہیں، کیونکہ اگر وہ زندہ ہوتے تو سورة آل عمران کی آیت (81) کے مطابق ان پر لازم تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر آپ پر ایمان لاتے اور آپ کے ساتھ مل کر جہاد کرتے، جب کہ ان کے آنے کا کہیں ذکر نہیں، نہ کسی صحابی سے ان کے ملنے کا کوئی ذکر ہے۔ صحیح بخاری کی وہ حدیث بھی اس کی دلیل ہے جس میں نبی ﷺ نے فرمایا : (أَرَأَیْتَکُمْ لَیْلَتَکُمْ ھٰذِہِ ، فَإِنَّ رَأْسَ ماءَۃِ سَنَۃٍ مِنْھَا لَا یَبْقَی مِمَّنْ ھُوَ عَلٰی ظَھْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ) [ بخاری، العلم، باب السمر في العلم : 116، عن ابن عمر ]”آج رات سے ایک سو سال پورے ہونے تک زمین کی پشت پر جو بھی ہے کوئی باقی نہیں رہے گا۔“ جو لوگ کہتے ہیں کہ وہ زمین پر نہیں بلکہ دریاؤں اور سمندروں میں رہتے ہیں، ان کا رد جابر ؓ سے مروی حدیث سے ہوتا ہے، جس میں رسول اللہ ﷺ نے اپنی وفات سے ایک ماہ قبل فرمایا : (مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوْسَۃٍ الْیَوْمَ ، تَأْتِيْ عَلَیْھَا ماءَۃُ سَنَۃٍ ، وَ ھِيَ حَیَّۃٌ یَوْمَءِذٍ) [ مسلم، فضائل الصحابۃ، باب بیان معنی قولہ ﷺ : علی رأس ماءۃ۔۔ : 2538 ] ”کوئی بھی جان جو آج پیدا ہوچکی ہے اس پر سو سال نہیں آئیں گے کہ وہ اس وقت زندہ ہو۔“ جو لوگ خضر ؑ کے زندہ ہونے کے قائل ہیں ان کے پاس کوئی صحیح دلیل نہیں ہے، ابن قیم ؓ نے فرمایا کہ وہ تمام روایات جن میں خضر ؑ کے اب تک زندہ ہونے کا ذکر ہے سب جھوٹی ہیں۔ سب سے بڑی دلیل جو وہ حضرات بیان کرتے ہیں، یہ ہے کہ بہت سے صالحین سے ان کی ملاقات ہوئی ہے، حالانکہ اسے دلیل کہنا دلیل کی توہین ہے، کیونکہ جنھوں نے انھیں دیکھا ہے انھیں کیسے معلوم ہوا کہ وہ خضر ہیں ؟ کیا انھوں نے پہلے خضر ؑ کو دیکھا ہے کہ ملاقات پر وہ انھیں پہچان گئے ؟ رہا کسی ملنے والے کے کہنے سے کہ ”میں خضر ہوں“ اسے خضر مان لینا سادہ لوحی کی انتہا ہے، جس سے فائدہ اٹھا کر شیطان نے بیشمار لوگوں کو گمراہ کیا ہے، مگر وہ سب وہی ہیں جو صحابہ کے بعد آئے، کیونکہ صحابہ ؓ آسانی سے شیطان کے فریب میں آنے والے نہیں تھے۔ صحیح بخاری اور ترمذی میں جس عین الحیاۃ (آب حیات) کا ذکر ہے وہ رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں اور آپ کے سوا کسی دوسرے کے قول سے کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔
اٰتَيْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا۔۔ : قرآن مجید میں ”رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّکَ“ سے مراد نبوت کئی جگہ لی گئی ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ 31 اَهُمْ يَــقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ) [ الزخرف : 31، 32 ] ”اور انھوں نے کہا یہ قرآن ان دو بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا ؟ کیا وہ تیرے رب کی رحمت (یعنی نبوت) تقسیم کرتے ہیں ؟“ مزید دیکھیے سورة دخان (5، 6) اور قصص (86) اور ”اللہ کی طرف سے علم“ بول کر وحی اور نبوت مراد لی گئی ہے۔ دیکھیے سورة نساء (113) اگرچہ یہ الفاظ نبوت کے ساتھ خاص نہیں، مگر ان کے ساتھ ”وَمَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِيْ ۭ“ واضح دلیل ہے کہ یہاں ان الفاظ سے مراد نبوت اور وحی الٰہی ہی ہے اور بلاشک و شبہ خضر ؑ اللہ کے نبی تھے۔ (شنقیطی) علم لدنی سے صرف اولیاء کا علم مراد لینا اور انھیں نبیوں سے بھی اونچا درجہ دینا صاف الحاد اور بےدینی ہے، جس کے ذریعے سے زندیق لوگ شریعت کا طوق گردن سے اتار پھینکنا چاہتے ہیں۔ اللہ کے احکام جو شیطان کے ہر قسم کے دخل سے محفوظ ہوں، صرف انبیاء کے ذریعے سے نازل ہوتے ہیں۔ دیکھیے سورة جن (26 تا 28) اور سورة حج (52) جو شخص کسی اور کو یہ درجہ دے وہ کافر ہے، اسے توبہ کروائی جائے، اگر نہ کرے تو اسے قتل کردیا جائے۔ (قرطبی ملخص)
3 خضر ؑ کے عالم الغیب نہ ہونے کی دلیل ان کا موسیٰ ؑ سے یہ پوچھنا ہے کہ اس سرزمین میں سلام کیسا ؟ پھر موسیٰ ؑ کے اپنا نام بتانے پر ان کا یہ پوچھنا کہ بنی اسرائیل والے موسیٰ ؟ پھر ان کا موسیٰ ؑ سے صاف کہنا کہ آپ کے پاس جو علم ہے وہ میں نہیں جانتا۔۔ پھر اپنے اور موسیٰ ؑ کے علم کو اللہ کے علم سے چڑیا کی چونچ کے پانی کو دریا سے نسبت کی طرح قرار دینا ہے۔ کس قدر بدنصیب ہیں وہ لوگ جو خضر ؑ کو نبی کے بجائے ولی قرار دیتے ہیں، پھر ان کے چند واقعات کو سامنے رکھ کر اولیاء کو علم لدنی کا ضمیمہ لگا کر عالم الغیب بنا دیتے ہیں۔