Ayahs 18:105–106اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔۔ : یعنی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات اور آخرت کو مانتے ہی نہ تھے، سو انھوں نے اس کے لیے کچھ بھی نہ کیا، نیکیوں کے پلڑے میں کچھ ہے ہی نہیں تو صرف ایک پلڑے کا وزن کیا جائے ؟
Ayah 18:107اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ۔۔ : کفار کے بعد ان کے مقابل اہل ایمان کی مہمانی کا ذکر فرمایا۔ فردوس کا معنی وہ باغ ہے جس میں تمام باغوں کے درخت، پھول اور پودے ہوں۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰہَ فَسَلُوْہُ الْفِرْدَوْسَ ، فَإِنَّہُ أَوْسَطُ الْجَنَّۃِ وَأَعَلَی الْجَنَّۃِ ، وَفَوْقَہُ عَرْشُ الرَّحْمٰنِ ، وَمِنْہُ تَفَجَّرُ أَنْھَارُ الْجَنَّۃِ) ”جب تم اللہ سے مانگو تو اس سے فردوس کا سوال کرو، کیونکہ وہ جنت کا سب سے افضل اور جنت کا سب سے اونچا مقام ہے اور اس کے اوپر رحمٰن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔“ [ بخاري، التوحید، باب وکان
عرشہ علی الماء : 7423 ]
Ayah 18:108لَا يَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا : ایک جگہ زیادہ دیر رہنے سے آدمی اکتا جاتا ہے، مگر جنتی جنت سے کبھی دوسری جگہ منتقل ہونا نہیں چاہیں گے، کیونکہ اس سے بہتر عیش کی کوئی جگہ نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْٓ اَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَۭ نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِيْمٍ) [ حٰآ السجدۃ : 31، 32 ] ”اور تمہارے لیے اس میں وہ کچھ ہے جو تمہارے دل چاہیں گے اور تمہارے لیے اس میں وہ کچھ ہے جو تم مانگو گے۔ یہ بیحد بخشنے والے، نہایت مہربان کی طرف سے مہمانی ہے۔“ اور حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيْ الصَّالِحِیْنَ مَا لَا عَیْنٌ رَأَتْ ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ ، وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ) [ بخاری، بدء الخلق، باب ما جاء في صفۃ الجنۃ۔۔ : 3244۔ مسلم : 2824 ] ”میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کیا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گزرا۔“ اور ان سب نعمتوں سے بڑی نعمت اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوگی، پھر جنت کی نعمتیں ہر آن نئی سے نئی ہوتی رہیں گی، نہ ختم ہوں گی نہ کہیں رکیں گی، کیونکہ وہ اللہ کے کلمۂ کن سے وجود میں آئیں گی اور اللہ کے کلمات کی کوئی انتہا نہیں، دیکھیے اس سے اگلی آیت۔
Ayah 18:109قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا۔۔ : کیونکہ سمندر مخلوق ہے جس کی حد اور انتہا ہے، جب کہ اللہ کا کلام اس کی صفت ہے، مخلوق نہیں، نہ اللہ کی ذات کی کوئی انتہا ہے نہ اس کی صفات کی۔ اگر اللہ کے کلمات لکھنے کے لیے سارے سمندر سیاہی بن جائیں اور زمین کے تمام درخت قلم بن جائیں، پھر اتنی سیاہی ہم اور لے آئیں، بلکہ مزید سات سمندر سیاہی بن جائیں تو سب ختم ہوجائیں گے، مگر اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے۔ (دیکھیے لقمان : 27) کیونکہ محدود چیز لا متناہی اور غیر محدو و کا احاطہ کبھی نہیں کرسکتی۔
3 اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح اللہ کی ذات ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی، اسی طرح اس کی دوسری صفات کی طرح صفت کلام بھی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ وہ جب چاہے، جس سے چاہے، جو چاہے کلام کرتا ہے، اس کے کلام کی کوئی انتہا نہیں، وہ ہمیشہ کلام پر قادر رہے گا، جیسے رسولوں کے متعلق فرمایا : (مِنْھُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ) [ البقرۃ : 253 ] ”ان میں سے بعض سے اللہ نے کلام فرمایا۔“ اور فرمایا : (وَكَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِــيْمًا) [ النساء : 164] ”اور اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا، خود کلام کرنا۔“ اور فرمایا : (وَاِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰي يَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ) [ التوبۃ : 6 ] ”اور اگر مشرکوں میں سے کوئی تجھ سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دے، یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سنے۔“ اتنی واضح آیات کے باوجود مسلمانوں کے بہت سے گمراہ فرقے اللہ تعالیٰ کی صفت کلام کے منکر ہیں۔ ان کے مطابق اللہ کا کلام وہ معانی ہیں جو اس کی ذات میں ہیں۔ وہ بول نہیں سکتا، نہ اس کے الفاظ ہیں نہ آواز۔ الفاظ اور آواز کو اس نے پیدا کیا ہے، اس لیے یہ قرآن بھی مخلوق ہے، اللہ کا کلام نہیں۔ صرف اس کا مفہوم و معنی اللہ کی صفت ہے۔ چناچہ ان میں سے بعض نے کہا کہ نماز میں قرآنی آیت کا مفہوم عربی الفاظ کے بجائے فارسی، اردو یا کسی اور زبان میں ادا کردیا جائے تو نماز ہوجائے گی، کیونکہ قرآن کی تلاوت ہوگئی۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق قرآن عربی ہے۔ دیکھیے سورة یوسف (3) وغیرہ۔ امام اہل السنہ احمد ابن حنبل ؒ نے انھی گمراہ فرقوں کی طرف سے بیشمار عذاب برداشت کیے، مگر قرآن کو اللہ کا کلام کہتے رہے، اسے مخلوق نہیں مانا اور امت کو صراط مستقیم سے ہٹنے نہیں دیا۔ بھلا کوئی شخص اپنے آپ کو تو کلام پر قادر سمجھے اور اپنے لیے گونگا ہونے کو عیب جانے، حالانکہ گونگے کے دل میں بھی معانی موجود ہوتے ہیں، مگر تمام صفات حسنہ کے مالک کے متعلق کہے کہ وہ نہ بولتا ہے نہ سنتا ہے، نہ دیکھتا ہے، نہ کوئی اس کا کلام سن سکتا ہے۔ ایسا عاجز رب انھی کو مبارک ہو قرآن و حدیث میں مذکور ہمارا رب تو بولتا بھی ہے، سنتا بھی اور وہ تمام صفات کمال کا مالک ہے۔ بعض پیغمبروں نے خود اس کا کلام سنا، بعض کو فرشتے کے ذریعے سے پہنچا، رسولوں کی معرفت آیا ہوا کلام ہم پڑھتے بھی ہیں اور سنتے بھی۔ [ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی نِعَمِہِ الشَّامِلَۃِ وَ آلَاءِہِ الْکَامِلَۃِ ]
3 یہاں انسان یہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ ان عقل پرستوں نے صفات کا انکار کیوں کیا ؟ پھر قرآن کے الفاظ کو مخلوق کہنے پر اتنا اصرار کیوں کیا کہ جو بھی قرآن کو مخلوق نہ کہے وہ ہر قسم کے سرکاری عہدے سے معزول ہے، حتیٰ کہ وہ نہ کسی مسجد کا خطیب ہوسکتا ہے نہ امام، نہ اپنے طور پر کسی مسجد میں پڑھا سکتا ہے، نہ درس دے سکتا ہے اور اہل السنہ، خصوصاً ان کے امام احمد ابن حنبل ؒ نے اس کے انکار میں اتنی شدت کیوں کی اور اتنا عذاب کیوں جھیلا ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ خیر القرون گزرنے کے بعد عملی کمزوریوں کی وجہ سے طبائع قرآن و سنت پر عمل کی پابندیوں کو بوجھ سمجھنے لگیں، حکمرانوں کی مطلق العنانی میں بھی یہ دونوں چیزیں رکاوٹ تھیں، جیسا کہ ہم آج کل کے اکثر حکمرانوں اور ان کی اسلامی نظریاتی کونسلوں کے علماء کو دیکھتے ہیں۔ چناچہ علمائے سوء نے عقل کا نام لے کر آزادی کی راہ میں رکاوٹ بننے والی ہر چیز کو راستے سے ہٹا دینے کی کوششیں شروع کردیں۔ انھی دنوں مامون الرشید نے یونانی کتابوں کے تراجم کروائے تھے۔ دنیاوی معاملات میں اپنے پیش رو لوگوں کے تجربات سے فائدہ اٹھانے میں کوئی حرج نہیں، مگر ساتھ ہی یونانی فلسفے کا بھی ترجمہ ہوا تو اللہ تعالیٰ کے متعلق بھی ان کے عقائد ان لوگوں پر اثر انداز ہوئے۔ چناچہ معتزلہ، یعنی عقل پرستوں نے ان کے کچھ بنیادی اصول تسلیم کرلیے، مثلاً ایک سے ایک ہی چیز کا صدور ہوسکتا ہے۔ محل حوادث حادث ہوتا ہے، یعنی جس سے کوئی نئی چیز وجود میں آئے وہ ذات قدیم، یعنی اللہ تعالیٰ نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نہ دیکھتا ہے، نہ سنتا ہے، نہ بولتا ہے، نہ حرکت کرسکتا ہے، نہ وہ عرش پر ہے، نہ آسمان پر اترتا ہے، نہ قیامت کے دن زمین پر آئے گا، کیونکہ یہ سب حوادث ہیں۔ یہ عقائد قرآن و حدیث کا صاف انکار تھے، کیونکہ قرآن کے مطابق اللہ تعالیٰ ہر وقت نئی سے نئی حالت میں ہے، فرمایا : (كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ) [ الرحمٰن : 29 ] ”ہر دن وہ ایک (نئی) شان میں ہے۔“ وہ سمیع ہے، بصیر ہے، قیامت کے دن زمین پر آئے گا وغیرہ۔ ان لوگوں کے مقابلے میں مسلم علماء میں سے ایک تو متکلمین اٹھے جنھوں نے ان کا جواب دیا، مگر بدقسمتی سے ان کے اصول مان بیٹھے، چناچہ انھوں نے فلاسفہ کے اصول بچانے کے لیے قرآن و حدیث کی تاویل بلکہ تحریف کی۔ کلام بھی چونکہ حادث ہے، یعنی ہر لفظ پہلے کے بعد نئے سے نیا آتا ہے اور ان کے بقول اللہ تعالیٰ ایسی چیزوں کا محل نہیں، لہٰذا انھوں نے اللہ کے کلام کا انکار کرنے کے لیے تاویل کا سہارا لیا اور کہا کہ قرآن کے معانی قدیم ہیں، وہ تو اللہ کی ذات میں ہیں، مگر الفاظ مخلوق ہیں، اصل مفہوم جس زبان اور جن الفاظ میں بھی ادا ہوجائے وہی قرآن ہے۔ حدیث سے وہ پہلے ہی یہ کہہ کر جان چھڑا چکے تھے کہ حدیث سے قرآن پر اضافہ نہیں ہوسکتا اور یہ کہ ان کے کہنے کے مطابق غیر فقیہ صحابی کی روایت کردہ حدیث قیاس کے خلاف ہو تو رد کردی جائے گی۔ رہا قرآن تو اس میں من مانی تبدیلی کے لیے اس کے الفاظ کو اللہ کا کلام ماننے سے انکار کردیا، صرف معنی و مفہوم کو قرآن قرار دیا۔ یہود و نصاریٰ میں بھی تحریف کا دروازہ یہیں سے کھلا کہ تورات و انجیل کے تراجم کو اللہ کا کلام کہہ دیا گیا، حتیٰ کہ اصل زبان والی کتابیں دنیا سے مفقود ہوگئیں۔ تراجم میں تبدیلی کچھ مشکل نہ تھی، لہٰذا اب وہ کتب اس قابل ہی نہیں رہیں کہ ان پر اعتماد کیا جاسکے۔ امام احمد ابن حنبل ؒ ان کے عقلی ڈھکوسلوں کے مقابلے میں کہتے تھے کہ کوئی آیت یا حدیث پڑھو جس میں ہو کہ قرآن مخلوق ہے، ہم مان لیں گے۔ امام صاحب اسی پر قائم رہے۔ قرآن کے الفاظ ہی کو اللہ کا کلام کہنے پر ڈٹے رہے، جس کے نتیجے میں قرآن محفوظ رہا اور حدیث بھی حجت رہی۔ یہ (اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ) [ الحجر : 9 ] کے وعدے کی تکمیل تھی۔ ان لوگوں نے مسلمانوں سے ان کی معنوی قوت ختم کرنے کے لیے ایمان کو بھی صرف دل کا فعل قرار دیا، اقرار کو بھی صرف مسلمان تسلیم ہونے کے لیے ضروری قرار دیا، اقرار نہ بھی کرے تو لوگوں کے نزدیک نہ سہی اللہ کے ہاں پکا مومن ہے۔ اقرار کرلے، عمل نہ بھی کرے تو اللہ کے ہاں اور مسلمانوں کے ہاں پکا مومن ہے۔ یہ اہل سنت محدثین ہی تھے جنھوں نے اسلام پر ان حملوں کا دفاع کیا اور جو سختی بھی ان پر گزری اسے برداشت کیا۔ کتنے ہی اس امتحان میں ناکام ہوئے، کتنے شہادت پا کر سرخرو ہوئے۔ اب بھی قرآن و حدیث پر قائم رہنے والوں کا ایسے لوگوں سے مقابلہ جاری ہے جو قرآن کے الفاظ کو اللہ کا کلام نہیں مانتے، اللہ تعالیٰ کی صفات، سننے، دیکھنے، رحم کرنے، اترنے، چڑھنے، عرش پر ہونے کو نہیں مانتے۔ اس کے ساتھ ہی اسلام کے ٹھیکیدار بھی بنے ہوئے ہیں۔ یہ اللہ ہی کا فضل ہے کہ قرآن و سنت پر قائم علماء صریح دلائل سے ان لوگوں کے عقائد کا باطل ہونا بیان کرتے رہتے ہیں اور قرآن و حدیث پر ذرہ برابر آنچ آنے دیتے ہیں نہ ان میں کوئی لفظی یا معنوی تحریف برداشت کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (یَرِثُ ھٰذَا الْعِلْمَ مِنْ کُلِّ خَلَفٍ عُدُوْلُہُ یَنْفُوْنَ عَنْہُ تَأْوِیْلَ الْجَاھِلِیْنَ وَانْتِحَالَ الْمُبْطِلِیْنَ وَ تَحْرِیْفَ الْغَالِیْنَ) [ السنن الکبریٰ للبیھقی : 10؍209، ح : 21439 ] ”قرآن و حدیث کے اس علم کے وارث بعد میں آنے والے تمام لوگوں میں سے ان کے وہ عادل لوگ ہوں گے جو اس سے جاہلوں کی تاویل، باطل پرستوں کے گھڑے ہوئے جھوٹ اور غلو کرنے والوں کی تحریف کو دور کریں گے۔“ [ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ]
Ayah 18:110قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ۔۔ : اللہ کے کبھی ختم نہ ہونے والے کلمات میں سے تمام پیغمبر اور ہمارے نبی ﷺ جو کلمات لے کر آئے، کفار نے ان پر ایمان لانے سے اس لیے انکار کردیا کہ انھیں لانے والے بشر تھے۔ ان کے خیال میں بشر اللہ کا رسول نہیں ہوسکتا تھا۔ دیکھیے سورة ابراہیم (11) اور بنی اسرائیل (94) کی تفسیر۔ عقل کے ان اندھوں کو دیکھو کہ احسن تقویم والے انسان کو اللہ کا رسول ماننے کے لیے تیار نہیں، مگر بےجان پتھروں کو معبود مان رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ان سے کہہ دیجیے کہ میں تمہاری طرح ایک بشر ہونے کے سوا کچھ نہیں، نہ میں رب ہوں، نہ رب ہونے میں میرا کوئی حصہ ہے، نہ عالم الغیب ہوں، نہ اپنے یا تمہارے لیے کسی نفع یا نقصان کا مالک ہوں، بلکہ میں تمہاری طرح صرف ایک بشر ہوں، آدم ؑ کی اولاد ہوں۔ میرے والدین بھی ہیں، بیوی بچے بھی، کھانے پینے کی اور دوسری بیشمار اشیاء کی محتاجی میں بھی تمہارا شریک ہوں۔ پیدائش، بچپن، جوانی، بڑھاپے، تندرستی، بیماری اور وفات سب میں تمہاری طرح ہوں، ہاں اللہ تعالیٰ کا مجھ پر احسان ہے کہ اس نے اپنے کلمات پہنچانے کے لیے مجھے وحی کا شرف عطا فرمایا ہے، جس کا اصل الاصول ایک اللہ کی عبادت ہے۔ سو تم میری نبوت مانو اور اللہ کی توحید پر ایمان لے آؤ۔
واضح رہے کہ قرآن مجید کے مطابق رسول بشر ہوتا ہے، جسے اللہ رسالت کے لیے چن لیتا ہے۔ کوئی یہ کہے کہ بشر رسول نہیں ہوسکتا، یا یہ کہے کہ رسول بشر نہیں ہوسکتا، دونوں کا عقیدہ ایک ہے اور دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ حافظ ابن کثیر ؓ نے اس آیت کی تفسیر یہ کی ہے کہ ”ان مشرکین سے جو آپ کی رسالت کو جھٹلاتے ہیں، کہہ دیجیے کہ میں محض تمہارے جیسا ایک بشر ہوں، پھر جو شخص سمجھتا ہے کہ میں جھوٹا ہوں تو جیسا کلام میں لے کر آیا ہوں وہ لے کر آئے، دیکھو میں نے عالم الغیب نہ ہوتے ہوئے ماضی کے جو واقعات (اصحاب کہف، ذوالقرنین وغیرہ کے) عین واقعہ کے مطابق تمہیں بتائے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ مجھے اطلاع نہ دیتا تو میں تمہیں کبھی نہ بتاسکتا۔“ یہ تفسیر بھی اچھی ہے۔
فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاۗءَ رَبِّهٖ۔۔ : ”يَرْجُوْا“ ”رَجَاءٌ“ کا معنی امید ہے، اس کے ضمن میں خوف بھی ہوتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ امید پوری نہ ہو۔ غرض اس کے معنی امید اور خوف دونوں کرلیے جاتے ہیں۔ بندے اور اس کے رب کے تعلق کو نمایاں کرکے فرمایا کہ جو اپنے رب کی ملاقات اور دیدار کی امید رکھتا ہے، یا اس سے ملاقات کے وقت اس کے عذاب سے ڈرتا ہے، اس کے لیے دو کام ضروری ہیں، پہلا یہ کہ وہ صالح عمل کرے اور صالح عمل وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ذریعے سے بتایا ہے، اس کے علاوہ سب بدعت اور گمراہی ہے۔ دوسرا یہ کہ اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے، نہ کسی دوسرے کی عبادت کرکے اور نہ ریا کاری کرکے، کیونکہ غیر اللہ کی عبادت اگر شرک اکبر ہے تو ریا کاری (دکھاوا) شرک اصغر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (قَال اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی أَنَا أَغْنَی الشُّرَکَاءِ عَنِ الشِّرْکِ ، مَنْ عَمِلَ عَمَلاً أَشْرَکَ فِیْہِ مَعِيَ غَیْرِيْ تَرَکْتُہُ وَ شِرْکَہُ) [ مسلم، الزھد، باب تحریم الریاء : 2985، عن أبي ہریرہ ؓ ] ”اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے، میں تمام حصے داروں سے کہیں زیادہ (ہر قسم کے) حصے سے بےنیاز ہوں، جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس میں میرے سوا کسی اور کو حصے دار بنایا تو میں اس عمل کو اور اس کے حصے کو چھوڑ دیتا ہوں۔“ یعنی میں وہ حصہ بھی قبول نہیں کرتا جو اس عمل میں سے اس نے میرے لیے کیا ہے، کیونکہ اس میں دوسرا بھی حصے دار ہوتا ہے، تو میں اپنا حصہ بھی چھوڑ کر اسی کو دے دیتا ہوں، اب وہ اس کا اجر اسی سے لے، میں تو صرف وہ عمل قبول کرتا ہوں جو سارے کا سارا میرے لیے ہو، کسی دوسرے کا اس میں حصہ نہ ہو۔ جندب ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا : (مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللّٰہُ بِہِ ، وَ مَنْ یُرَاءِيْ یُرَاءِيْ اللّٰہُ بِہِ) ”جو شخص سنانے (شہرت) کی خاطر عمل کرے اللہ تعالیٰ (اس کی بدنیتی) سب کو سنا دے گا اور جو لوگوں کو دکھانے کے لیے کوئی کام کرے گا اللہ تعالیٰ اسے سب لوگوں کو دکھلا دے گا۔“ [ بخاری، الرقاق، باب الریاء والسمعۃ : 6499 ]