18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayahs 18:66–70

قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا Open ayah 18:66 in the Quran reader

موسیٰ نے اس سے کہا کیا میں تیرے پیچھے چلوں ؟ اس (شرط) پر کہ تجھے جو کچھ سکھایا گیا ہے اس میں سے کچھ بھلائی مجھے سکھا دے۔

قَالَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:67 in the Quran reader

اس نے کہا بیشک تو میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کرسکے گا۔

وَ كَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا Open ayah 18:68 in the Quran reader

اور تو اس پر کیسے صبر کرے گا جسے تو نے پوری طرح علم میں نہیں لیا۔

قَالَ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعْصِیْ لَكَ اَمْرًا Open ayah 18:69 in the Quran reader

اس نے کہا اگر اللہ نے چاہا تو تو مجھے ضرور صبر کرنے والا پائے گا اور میں تیرے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔

قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلَا تَسْئَلْنِیْ عَنْ شَیْءٍ حَتّٰۤى اُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا۠ Open ayah 18:70 in the Quran reader

کہا پھر اگر تو میرے پیچھے چلا ہے تو مجھ سے کسی چیز کے بارے میں مت پوچھنا، یہاں تک کہ میں تیرے لیے اس کا کچھ ذکر شروع کروں۔

ان آیات اور گزشتہ آیات میں اپنے علم پر عجب سے پرہیز، طلب علم کے لیے سفر، آخری دم تک حصول علم کا عزم مصمم، استاذ کے سامنے طلب علم کے لیے درخواست کا طریقہ، استاد کا ادب، اس کے کسی حکم کی نافرمانی نہ کرنا، اپنے کسی بھی کام یا عہد میں اپنے آپ پر بھروسے کے بجائے ان شاء اللہ کہہ کر اسے اللہ کے سپرد کرنا سکھایا گیا ہے اور یہ کہ استاذ تعلیم کے لیے شاگرد پر بعض شرطیں عائد کرسکتا ہے۔
Ayahs 18:71–73

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِی السَّفِیْنَةِ خَرَقَهَا١ؕ قَالَ اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَا١ۚ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا اِمْرًا Open ayah 18:71 in the Quran reader

سو دونوں چل پڑے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس نے اسے پھاڑ دیا۔ کہا کیا تو نے اسے اس لیے پھاڑ دیا ہے کہ اس کے سواروں کو غرق کر دے، بلاشبہ یقینا تو ایک بہت بڑے کام کو آیا ہے۔

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:72 in the Quran reader

کہا کیا میں نے نہ کہا تھا کہ یقینا تو میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کرسکے گا۔

قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِیْ بِمَا نَسِیْتُ وَ لَا تُرْهِقْنِیْ مِنْ اَمْرِیْ عُسْرًا Open ayah 18:73 in the Quran reader

کہا مجھے اس پر نہ پکڑ جو میں بھول گیا اور مجھے میرے معاملے میں کسی مشکل میں نہ پھنسا۔

ان آیات سے اولو العزم پیغمبروں سے بھول کا صادر ہونا ثابت ہوتا ہے اور کامل استاذ کا شاگرد کی غلطی پر مؤاخذہ، پہلی غلطی پر مؤاخذہ میں نسبتاً نرمی کرنے (”اَ لَمْ اَقُلْ“ ”اَ لَمْ اَقُلْ لَّكَ“ سے نرم ہے) اور بھول کے عذر پر درگزر کرنے کا سبق حاصل ہوتا ہے۔
Ayah 18:74

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ١ۙ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِیَّةًۢ بِغَیْرِ نَفْسٍ١ؕ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُّكْرًا Open ayah 18:74 in the Quran reader

پھر وہ دونوں چل پڑے، یہاں تک کہ جب وہ ایک لڑکے سے ملے تو اس نے اسے قتل کردیا۔ کہا کیا تو نے ایک بےگناہ جان کو کسی جان کے بدلے کے بغیر قتل کردیا، بلاشبہ یقینا تو ایک بہت برے کام کو آیا ہے۔

فَانْطَلَقَا ۪حَتّىٰٓ اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ : اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لڑکا جوان تھا، اگرچہ وہ اپنے جیسے لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ کیونکہ گزشتہ حدیث میں ہے کہ وہ کافر تھا جب کہ اس کے والدین مومن تھے، اگر وہ بچہ ہوتا تو اسے کافر نہ کہا جاتا، کیونکہ مومنوں کی اولاد کو بچپن میں کافر نہیں کہا جاتا۔ موسیٰ ؑ نے بھی اسے کسی کو قتل نہ کرنے کی وجہ سے بےگناہ کہا ہے، بچہ ہونے کی وجہ سے نہیں۔ اس لیے خضر ؑ کا اللہ کے حکم سے ایک کافر کو قتل کرنا کوئی جائے اعتراض نہیں۔ ”غلام“ کا لفظ بچے کے علاوہ جوان اور ادھیڑ عمر پر بھی بولا جاتا ہے، جیسا کہ حدیث معراج میں موسیٰ ؑ نے ہمارے نبی ﷺ کو ”ھٰذَا الْغُلَامُ“ کہا ہے۔ [ بخاری : 3207 ] 3 بعض حضرات نے اس سوال کے جواب میں کہ خضر ؑ کے لیے اس لڑکے کا قتل کیونکر جائز تھا، خضر ؑ کو فرشتوں میں سے قرار دیا ہے جو اللہ کے حکم سے تکوینی امور سرانجام دیتے ہیں، مگر یہ بات درست نہیں، کیونکہ کارکنان قضا و قدرنہ کھاتے ہیں، نہ مہمان نوازی کے طور پر کھانے کا سوال کرتے ہیں۔ ابراہیم ؑ کا بھنا ہوا بچھڑا پیش کرنے کا واقعہ اس کی دلیل ہے۔
Ayahs 18:75–76

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:75 in the Quran reader

کہا کیا میں نے تجھ سے نہیں کہا تھا کہ یقینا تو میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کرسکے گا۔

قَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَیْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِیْ١ۚ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا Open ayah 18:76 in the Quran reader

کہا اگر میں تجھ سے اس کے بعد کسی چیز کے متعلق پوچھوں تو مجھے ساتھ نہ رکھنا، یقینا تو میری طرف سے پورے عذر کو پہنچ چکا ہے۔

قَالَ اَ لَمْ اَقُلْ لَّكَ : ”کیا میں نے تجھے نہیں کہا تھا“ ان الفاظ میں تنبیہ پہلے سے سخت ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ درگزر دو دفعہ ہوتی ہے، تیسری دفعہ کوئی معاف نہ کرے تو وہ حق بجانب اور معذور ہے اور یہ کہ استاذ اگر سمجھے کہ میں طالب علم کو نہیں پڑھا سکتا تو وہ عذر کرسکتا ہے۔
Ayah 18:77

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَهْلَ قَرْیَةِ اِ۟سْتَطْعَمَاۤ اَهْلَهَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْهُمَا فَوَجَدَا فِیْهَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَهٗ١ؕ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْهِ اَجْرًا Open ayah 18:77 in the Quran reader

پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ ایک بستی والوں کے پاس آئے، انھوں نے اس کے رہنے والوں سے کھانا طلب کیا تو انھوں نے انکار کردیا کہ ان کی مہمان نوازی کریں، پھر انھوں نے اس میں ایک دیوار پائی جو چاہتی تھی کہ گر جائے تو اس نے اسے سیدھا کردیا۔ کہا اگر تو چاہتا تو ضرور اس پر کچھ اجرت لے لیتا۔

اسْـتَطْعَمَآ اَهْلَهَا : بعض صوفیوں نے اس آیت سے گدائی کے مستحب ہونے کا استدلال کیا ہے اور اسے باقاعدہ سالک کے آداب میں شمار کیا ہے، اس لیے عموماً صوفی لوگ روزی کمانے کے بجائے گدائی کو اور دوسروں کے ٹکڑوں پر پلنے کو کمال ولایت و توکل سمجھتے ہیں اور اس کام میں مہارت رکھتے ہیں، حالانکہ یہ ان کی جہالت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَا زَال الرَّجُلُ یَسْأَلُ النَّاسَ حَتّٰی یَأْتِيَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَیْسَ فِيْ وَجْھِہِ مُزْعَۃُ لَحْمٍ) [ بخاري، الزکوٰۃ، باب من سأل تکثرًا : 1474۔ مسلم : 104؍ 1040 ] ”آدمی لوگوں سے مانگتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے منہ پر گوشت کی بوٹی نہیں ہوگی۔“ ان دونوں انبیاء نے اپنے حق کا سوال کیا ہے جو بطور ضیافت بستی والوں پر فرض تھا۔ عقبہ بن عامر ؓ نے بیان کیا کہ ہم نے نبی ﷺ سے عرض کیا : (إِنَّکَ تَبْعَثُنَا فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ لَا یَقْرُوْنَنَا، فَمَا تَرَی فِیْہِ ؟ فَقَالَ لَنَا إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍِ فَأُمِرَ لَکُمْ بِمَا یَنْبَغِيْ للضَّیْفِ فَاقْبَلُوْا، فَإِنْ لَّمْ یَفْعَلُوْا فَخُذُوْا مِنْھُمْ حَقَّ الضَّیْفِ) [ بخاري، المظالم، باب قصاص المظلوم إذا وجد مال ظالمہ : 2461۔ مسلم : 1727 ] ”آپ ہمیں بھیجتے ہیں اور ہم کسی قوم کے پاس جاتے ہیں اور وہ ہماری ضیافت نہیں کرتے، تو آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟“ آپ ﷺ نے ہمیں فرمایا : ”اگر تم کسی قوم کے پاس جاؤ اور تمہارے لیے ان چیزوں کا حکم دیا جائے جو مہمان کے لیے چاہییں تو قبول کرلو، اگر وہ ایسا نہ کریں تو ان سے مہمان کا حق لے لو۔“
Ayah 18:78

قَالَ هٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِكَ١ۚ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاْوِیْلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا Open ayah 18:78 in the Quran reader

کہا یہ میرے درمیان اور تیرے درمیان جدائی ہے، عنقریب میں تجھے اس کی اصل حقیقت بتاؤں گا جس پر تو صبر نہیں کرسکا۔

ھٰذَا فِرَاقُ : اس پر اصل میں تنوین تھی، پھر تخفیف کے لیے مضاف کردیا۔
Ayah 18:79

اَمَّا السَّفِیْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِیْنَ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْرِ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَهَا وَ كَانَ وَرَآءَهُمْ مَّلِكٌ یَّاْخُذُ كُلَّ سَفِیْنَةٍ غَصْبًا Open ayah 18:79 in the Quran reader

رہی کشتی تو وہ چند مسکینوں کی تھی، جو سمندر میں کام کرتے تھے، تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی چھین کرلے لیتا تھا۔

فَكَانَتْ لِمَسٰكِيْنَ۔۔ : اس آیت میں کشتی کا مالک ہونے اور اسے کرایہ پر چلانے کے باوجود ان لوگوں کو مسکین کہا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ مسکین وہ ہے جس کی آمدنی اس کی ضروریات سے کم ہو، یعنی وہ ضرورت مند لوگ جو نہ مانگتے ہیں اور نہ کسی کو ان کی حالت کی خبر ہوتی ہے کہ ان پر صدقہ کریں۔ [ دیکھیے بخاري، الزکوٰۃ، باب قول اللہ عز و جل : (لا یسئلون الناس إلحافا۔۔) : 1479۔ مسلم : 1039، عن أبي ہریرہ ؓ ] فقیر کی حالت مسکین سے بدتر ہوتی ہے۔ ”كَانَ وَرَاۗءَهُمْ“ کا معنی ابن عباس ؓ نے ”ان کے آگے“ کیا ہے۔ [ بخاري، التفسیر، باب قولہ : (فلما بلغا مجمع بینھما نسیا۔۔) : 4726 ]
Ayahs 18:80–81

وَ اَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَاۤ اَنْ یُّرْهِقَهُمَا طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاۚ Open ayah 18:80 in the Quran reader

اور رہا لڑکا تو اس کے ماں باپ دونوں مومن تھے تو ہم ڈرے کہ وہ ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں پھنسا دے گا۔

فَاَرَدْنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَیْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّ اَقْرَبَ رُحْمًا Open ayah 18:81 in the Quran reader

تو ہم نے چاہا کہ ان دونوں کو ان کا رب اس کے بدلے ایسی اولاد دے جو پاکیزگی میں اس سے بہتر اور شفقت میں زیادہ قریب ہو۔

وَاَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَيْنِ۔۔ : ان آیات سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اپنے مومن بندوں کی آنے والے فتنوں سے بھی حفاظت کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اِنَّ اللّٰهَ يُدٰفِعُ عَنِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا) [ الحج : 38 ] ”بیشک اللہ ان لوگوں کی طرف سے دفاع کرتا ہے جو ایمان لائے۔“
Ayah 18:82

وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَةِ وَ كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا١ۚ فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا١ۖۗ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ۚ وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْ١ؕ ذٰلِكَ تَاْوِیْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا٢ؕ۠ Open ayah 18:82 in the Quran reader

اور رہ گئی دیوار تو وہ شہر میں دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے ان دونوں کے لیے ایک خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا تو تیرے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور اپنا خزانہ نکال لیں، تیرے رب کی طرف سے رحمت کے لیے اور میں نے یہ اپنی مرضی سے نہیں کیا۔ یہ ہے اصل حقیقت ان باتوں کی جن پر تو صبر نہیں کرسکا۔

وَكَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا : اللہ تعالیٰ اپنے صالح بندوں کی وفات کے بعد بھی ان کی مومن اولاد کی خاص نگہداشت فرماتا ہے اور قیامت کو بھی انھیں خاص رعایت دے گا۔ دیکھیے سورة طور (21)۔ ان تینوں واقعات کی اصل حقیقت بیان کرتے ہوئے خضر ؑ نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ادب کو خاص طور پر ملحوظ رکھا ہے۔ کشتی کو عیب دار کرنے کی نسبت اپنی طرف کی ہے، لڑکے کے قتل کے ارادہ کی نسبت اپنی طرف اور اس کے صالح باپ کو بہتر اولاد عطا کرنے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف فرمائی ہے اور یتیم لڑکوں کے بالغ ہو کر اپنا خزانہ سنبھالنے کے ارادہ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف فرمائی ہے۔ وَمَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِيْ : یہ خضر ؑ کے نبی ہونے کی واضح دلیل ہے، کیونکہ کسی ولی کو اللہ کی طرف سے الہام کی بنا پر کسی بد سے بد کو بھی قتل کرنے کی اجازت نہیں، کیونکہ اس کے الہام میں شیطان دخیل ہوسکتا ہے۔ ”لَمْ تَسْطِعْ“ اصل میں ”لَمْ تَسْتَطِعْ“ تھا، تخفیف کے لیے تاء کو حذف کردیا۔ خضر ؑ کے کلام کی ابتدا میں ”لَمْ تَسْتَطِعْ“ ہے، کیونکہ وہاں بات شروع ہو رہی ہے، اختصار کی ضرورت نہیں، بات ختم ہونے پر قصہ مختصر کیا جاتا ہے، اس لیے یہاں ”لَمْ تَسْتَطِعْ“ فرمایا۔ ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ وضاحت نہ ہونے کی وجہ سے ذہنی بوجھ تھا تو ثقیل لفظ بولا اور وضاحت کے بعد بوجھ اتر جانے پر خفیف لفظ بولا ہے۔
Ayah 18:83

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ١ؕ قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًاؕ Open ayah 18:83 in the Quran reader

اور وہ تجھ سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں تو کہہ میں تمہیں اس کا کچھ ذکر ضرور پڑھ کر سناؤں گا۔

ۄوَيَسْـــَٔـلُوْنَكَ عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ : واؤ کے ساتھ ذوالقرنین کے قصے کا موسیٰ ؑ کے قصے پر عطف ہے۔ بقاعی ؓ نے فرمایا، موسیٰ ؑ کے خضر ؑ کے ساتھ قصہ میں علم کے حصول کے لیے سفروں کا ذکر تھا اور ذوالقرنین کے قصہ میں جہاد فی سبیل اللہ کے لیے سفروں کا ذکر ہے۔ چونکہ علم عمل کی بنیاد ہے، اس لیے اس کا ذکر پہلے فرمایا۔ ایک مناسبت یہ ہے کہ دو باغوں والے شخص اور ابلیس کے تکبر اور ان کے انجام کے بعد موسیٰ ؑ جیسے اولو العزم پیغمبر کا اتنے مرتبے کے باوجود اور ذوالقرنین جیسے عظیم بادشاہ کا مشرق و مغرب کی سلطنت کے باوجود ہر قسم کے کبر و غرور سے پاک ہونے کا اور حد درجہ کی تواضع اختیار کرنے کا ذکر فرمایا، تاکہ ان کے نقش قدم پر چلا جائے۔ 3 ذوالقرنین کون تھا، کس ملک کا تھا، قرآن و حدیث میں اس کا ذکر نہیں۔ البتہ اتنا واضح ہے کہ عرب کے لوگ اس سے واقف تھے۔ ان کے شعروں میں بھی اس کا ذکر موجود ہے، اس لیے انھوں نے اس کے متعلق سوال کیا، مگر ان سے گزشتہ فاتح فرماں رواؤں میں سے کسی ایک کی تعیین نہیں ہوتی، اس لیے مفسرین میں اس کے متعلق بہت ہی اختلاف ہے۔ آلوسی ؓ نے فرمایا کہ ابوریحان البیرونی نے اپنی کتاب ”اَلْآثَارُ الْبَاقِیَۃُ عَنِ الْقُرُوْنِ الْخَالِیَۃِ“ میں ذکر کیا ہے کہ ذوالقرنین (یمن کا) ابوکرب حمیری ہے، جس کی اولاد ہونے پر، مشرق و مغرب کا بادشاہ ہونے پر اور مسلم ہونے پر تبع یمنی نے اپنے اشعار میں فخر کا اظہار کیا ہے، جو روح المعانی میں منقول ہیں۔ البیرونی نے اس قول کے حقیقت کے سب سے زیادہ قریب ہونے کا ایک قرینہ یہ لکھا ہے کہ یمن کے بادشاہوں کے لقب لفظ ”ذو“ سے شروع ہوتے تھے، جیسے ذو نواس اور ذویزن وغیرہ۔ بعض نے یونانی فاتح سکندر مقدونی کو اس کا مصداق ٹھہرایا ہے، جیسے علامہ قاسمی ؓ وغیرہ، جب کہ بہت سے مفسرین مثلاً ابن قیم، طنطاوی اور آلوسی وغیرہ نے شدت سے اس کی تردید کی ہے، کیونکہ یہ سکندر ارسطو کا شاگرد اور بت پرست تھا، جب کہ قرآن میں مذکور ذوالقرنین مومن، موحد اور متقی تھا۔ برصغیر کے ایک مفسر نے ذو القرنین کے متعلق قرآن میں مذکور صفات ایرانی بادشاہ خورس پر چسپاں کرنے کی کوشش کی ہے، ان کے بعد آنے والے ایک صاحب نے تاریخ اور بائبل سے خورس ہی کو سب سے زیادہ ذوالقرنین کا مصداق ٹھہرانے کا حق دار قرار دیا ہے۔ اشرف الحواشی میں ہے کہ بعض کے نزدیک اس سے مراد ایک اور بادشاہ ہے جو ابراہیم ؑ کا ہم عصر تھا اور ابراہیم ؑ کی دعا ہی سے اللہ تعالیٰ نے اسے خارق عادت اسباب و وسائل عطا فرمائے۔ اس کے وزیر خضر تھے، اس لیے خضر کے قصے کے ساتھ اس کا قصہ بیان کیا ہے۔ حافظ ابن حجر ؓ نے فتح الباری میں اور ابن کثیر ؓ نے اپنی تفسیر میں اس کو ترجیح دی ہے۔ ابن کثیر نے اس کا نام بھی اسکندر بیان کیا ہے۔ یہ ہیں بڑے بڑے اہل علم یا متجد دین کے اقوال جن کا ماخذ جاہلی اشعار ہیں، جن کی کوئی سند نہیں، یا زمانۂ قبل مسیح کی تاریخ، جس کے مؤرخین کا حال قابل اعتماد ذرائع سے معلوم ہے نہ ان کی ثقاہت، یا آثار قدیمہ ہیں جن کی معدوم زبانیں یورپی کفار نے اندازے سے پڑھیں، جو کسی طرح بھی اعتماد کے قابل نہیں، یا بائبل جس میں مذکور باتوں کو (جو نہ قرآن و حدیث کے مطابق ہوں نہ مخالف) ہم رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق نہ سچا کہہ سکتے ہیں نہ جھوٹا۔ پھر ایسی باتوں پر یقین کیسے ہوسکتا ہے ! ؟ لطف یہ ہے کہ جو بھی نیا مفسر نئی سے نئی بات نکال کر قدیم تاریخ، آثار قدیمہ، جاہلی اشعار، بائبل کے اقوال کا ڈھیر لگا دیتا ہے، وہ اتنا ہی بڑا صاحب کمال گنا جاتا ہے، حالانکہ ان میں سے کسی سے بھی یقین کی دولت حاصل نہیں ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید کسی قصے کو تاریخ کے طور پر بیان نہیں کرتا، بلکہ اس کے ان حصوں کو اجاگر کرتا ہے جن سے عبرت اور سبق حاصل ہو۔ قرآن کے مطابق ذوالقرنین اللہ کا نیک بندہ تھا جس نے جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے سے مشرق سے مغرب تک اللہ کے دین کو غالب کیا اور اپنے محروسہ (ماتحت) ممالک میں امن قائم کیا اور انھیں دشمنوں سے محفوظ رکھنے کی نہایت عمدہ تدبیر کی۔ اگر ہم کسی قابل یقین ذریعے سے اس کی تعیین نہ کرسکیں یا اس کے مفصل حالات معلوم نہ کرسکیں تو قرآن کے منشا و مقصد میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا۔ آخر کتنے ہی نبی ہیں جن کے نام قرآن و حدیث میں نہیں۔ دیکھیے سورة مومن (78) تو کیا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہر امت میں کوئی نہ کوئی ڈرانے والا گزرا ہے، ہم ان ناقابل اعتماد ذرائع سے ہند، چین، روس، یورپ اور افریقہ میں آنے والے نبیوں کے نام متعین کرنے کی بےکار کوششوں میں وقت ضائع کریں گے، تاکہ لوگ کہیں واہ ! کیا بات نکالی ہے۔ 3 ذوالقرنین کے اس لقب کی مختلف وجہیں بیان کی گئی ہیں، کیونکہ قرن کے کئی معانی ہیں، سینگ، کنارا، بالوں کی مینڈھی۔ دو سینگوں والا سے مراد مرد شجاع ہے، کیونکہ عرب شجاع آدمی کو کبش کہتے ہیں، کیونکہ مینڈھا اپنے سینگوں سے ٹکر مارتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس کے تاج پر دو سینگ بنے ہوئے تھے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ وہ زمین کے مشرق و مغرب کے دونوں کناروں تک پہنچا۔ چوتھی یہ کہ اس کے سر کے بالوں کی دو مینڈھیاں بنی ہوئی تھیں۔ یہ چاروں باتیں بیک وقت بھی وجہ تسمیہ ہوسکتی ہیں۔ قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَيْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًا : ”ذِكْرًا“ تنوین کی وجہ سے ترجمہ ”کچھ ذکر“ کیا گیا ہے، یعنی اس کی پوری تاریخ نہیں بلکہ کچھ ذکر بیان کروں گا، جس سے تم نصیحت اور سبق حاصل کرسکو۔
Ayah 18:84

اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِی الْاَرْضِ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ سَبَبًاۙ Open ayah 18:84 in the Quran reader

بیشک ہم نے اسے زمین میں اقتدار دیا اور اسے ہر چیز میں سے کچھ سامان عطا کیا۔

ۭاِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِي الْاَرْضِ۔۔ : ”مَكَّنَّا“ سے مراد حکومت و اقتدار ہے۔ دیکھیے سورة حج (41) ہر چیز میں سے کچھ سامان سے مراد وہ تمام وسائل ہیں جن کی اقتدار کے لیے ضرورت ہوتی ہے، مثلاً شجاعت، قوت، تدبیر و رائے، فوج، دولت، اسلحہ، سامان سفر، تعمیر و ترقی کے ذرائع وغیرہ۔ ان اسباب کی تفصیل میں بعض مفسرین کی اسرائیلی روایات پر مبنی عجیب و غریب روایات کی کچھ حیثیت نہیں اور نہ کسی صحیح حدیث میں ان کا پتا ملتا ہے۔
Ayahs 18:85–86

فَاَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:85 in the Quran reader

تو وہ کچھ سامان ساتھ لے کر چلا۔

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا١ؕ۬ قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّاۤ اَنْ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْهِمْ حُسْنًا Open ayah 18:86 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ سورج غروب ہونے کے مقام پر پہنچا تو اسے پایا کہ وہ دلدل والے چشمے میں غروب ہو رہا ہے اور اس کے پاس ایک قوم کو پایا۔ ہم نے کہا اے ذوالقرنین ! یا تو یہ ہے کہ تو (انھیں) سزا دے اور یا یہ کہ تو ان کے بارے میں کوئی نیک سلوک اختیار کرے۔

فَاَتْبَعَ سَبَبًا : ”تَبِعَ“ ساتھ گیا، ”أَتْبَعَ“ (افعال) ساتھ لے گیا، یعنی اس نے اپنے اقتدار کو مضبوط اور وسیع کرنے کے لیے اور پوری زمین پر اللہ کا کلمہ غالب کرنے کے لیے ایک لمبے سفر کی تیاری کی اور اس کے لیے درکار افواج، اسلحہ اور سامان سفر ساتھ لے کر مغرب کی طرف جہاد فی سبیل اللہ کے لیے نکل پڑا۔ راستے میں ہر مقابل کو زیر کرتا ہوا اور ہر رکاوٹ کو روندتا ہوا زمین کے اس حصے تک جا پہنچا جہاں تک اس وقت آبادی موجود تھی اور سفر ممکن تھا، اس سے آگے سمندر سے پہلے وسیع و عریض دلدلی علاقہ تھا، جس میں نہ خشکی کے ذرائع سے سفر ہوسکتا تھا، نہ بحری ذرائع سے۔ وہاں اس نے سورج غروب ہونے کا مشاہدہ کیا تو وہ اسے ایک کیچڑ والے چشمے میں غروب ہوتا ہوا نظر آیا، کیونکہ آگے سمندر کے اثر سے اور چشموں کی کثرت سے زمین دلدل اور کیچڑ بنی ہوئی تھی۔ جس طرح سمندر، صحرا یا میدان میں سے جو چیز بھی سامنے ہو سورج اسی میں غروب ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ بعض لوگوں نے جو اعتراض کیا ہے کہ قرآن کے بیان کے مطابق سورج کیچڑ والے چشمے میں غروب ہوتا ہے، انھوں نے غور ہی نہیں کیا کہ قرآن نے ذوالقرنین کا مشاہدہ بیان فرمایا ہے اور اب بھی دیکھنے والے کو ایسے ہی نظر آئے گا۔ اصل حقیقت دوسری جگہ بیان فرمائی ہے، فرمایا : (وَالشَّمْسُ تَجْرِيْ لِمُسْتَــقَرٍّ لَّهَا) [ یٰس : 38 ] ”اور سورج اپنے ایک ٹھکانے کے لیے چل رہا ہے۔ (جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے)۔“ قُلْنَا يٰذَا الْقَرْنَيْنِ۔۔ : یعنی مغرب کی طرف آبادی کے آخری حصے میں اس نے ایک قوم کو پایا تو ہم نے کہا کہ اے ذو القرنین ! تمہیں اختیار ہے، چاہو تو انھیں قتل، قید یا غلامی کی صورت میں یا جس طرح چاہو سزا دو ، یا ان کے بارے میں کوئی نیک سلوک اختیار کرو۔ 3 اللہ تعالیٰ کے فرمان ”قُلْنَا يٰذَا الْقَرْنَيْنِ“ (ہم نے کہا اے ذو القرنین !) کو بعض مفسرین نے ذوالقرنین کے نبی ہونے کی دلیل قرار دیا ہے، مگر یہ الفاظ اس مفہوم کے لیے صریح نہیں ہیں، کیونکہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے ساتھ طالوت کی طرح کوئی نبی ہو، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اسے یہ پیغام دیا ہو، جیسے فرمایا : (فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَا) [ البقرۃ : 73 ] ”تو ہم نے کہا اس پر اس کا کوئی ٹکڑا مارو۔“ یا اس قوم کو مکمل طور پر ذوالقرنین کے اختیار میں دینے کی حالت کو ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہو، اس لیے اکثر سلف اس کے نبی ہونے کے قائل نہیں۔ البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اللہ کا نیک، مخلص اور مجاہد بندہ تھا، جس نے اپنے آرام کو چھوڑ کر ساری زندگی غلبۂ اسلام کے لیے جہاد میں صرف کردی۔
Ayahs 18:87–88

قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَیُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 18:87 in the Quran reader

اس نے کہا جو شخص تو ظلم کرے گا سو ہم اسے جلدی سزا دیں گے، پھر وہ اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ اسے عذاب دے گا، بہت برا عذاب۔

وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ اِ۟لْحُسْنٰى١ۚ وَ سَنَقُوْلُ لَهٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًاؕ Open ayah 18:88 in the Quran reader

اور رہا وہ جو ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیا تو اس کے لیے بدلے میں بھلائی ہے اور عنقریب ہم اسے اپنے کام میں سے سرا سر آسانی کا حکم دیں گے۔

قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ۔۔ : ذوالقرنین نے اپنی فتح و قوت کے نشے میں آکر سب کو تہ تیغ کرنے یا غلام بنانے کے بجائے ہر ایک سے وہ سلوک کرنے کا اظہار کیا جس کے وہ لائق تھا۔ ”قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ“ (جو شخص ظلم کرے گا) سے مراد کفار و مشرکین ہیں۔ دیکھیے سورة انعام (82) اس کا ایک قرینہ یہ ہے کہ ان کے مقابلے میں ایمان اور عمل صالح والوں کا ذکر ہے، یعنی کفار و مشرکین میں سے ہر ایک سے اس کے حسب حال سخت سزا کا سلوک کروں گا، جنگ پر آمادہ لوگوں کو قتل اور قید کروں گا اور غلام بناؤں گا۔ دوسروں سے جزیہ لے کر غلام بنا کر رکھوں گا، پھر قیامت کے دن وہ اپنے کفر و شرک کی بہت بری سزا پائیں گے۔ رہے ایمان اور عمل صالح والے تو ان کے لیے بدلے میں بھلائی ہی بھلائی ہے اور ہم ان کے ساتھ اپنے تمام معاملات میں آسانی کا سلوک کریں گے۔ ہمارے نبی ﷺ نے بھی اپنی جنگوں میں اسی پر عمل فرمایا۔
Ayahs 18:89–90

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:89 in the Quran reader

پھر وہ کچھ اور سامان ساتھ لے کر چلا۔

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًاۙ Open ayah 18:90 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ سورج نکلنے کے مقام پر پہنچا تو اسے ایسے لوگوں پر طلوع ہوتے ہوئے پایا جن کے لیے ہم نے اس کے آگے کوئی پردہ نہیں بنایا تھا۔

ثُمَّ اَتْـبَـعَ سَبَبًا۔۔ : مغرب کی طرف انسانی آبادی کے آخری حصے تک تمام علاقے فتح کرکے اسلام کے زیر نگیں لانے کے بعد اب اس نے مشرق کی طرف آبادی کے آخری حصے تک اسلام کا پیغام پہنچانے کے لیے ایک نہایت طویل اور دشوار سفر کے لیے ہر قسم کا سازوسامان مہیا کیا اور اپنی زبردست افواج اور جنگی سازو سامان ساتھ لے کر بیشمار دریاؤں، پہاڑوں، جنگلوں اور صحراؤں کو عبور کرتا ہوا اور تمام بادشاہوں کو شکست دیتا ہوا مشرق کی طرف آبادی کی ابتدا تک جا پہنچا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ سورج ایسے لوگوں پر طلوع ہوتا ہے جن کے پاس سورج کی تپش سے بچنے کے لیے کوئی پردہ تھا نہ مکان، نہ کوئی عمارت، نہ خیمہ، نہ لباس۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے تفصیل سے ذکر نہیں فرمایا، مگر اہل مغرب کے ساتھ اس کے سلوک سے ظاہر ہے کہ اس نے انھیں بھی اسلام کی دعوت دی اور ہر ایک کے ساتھ اس کے رویے کے مطابق سلوک کیا ہے اور انھیں وحشی زندگی کے بجائے تہذیب و تمدن کی تعلیم دی۔
Ayah 18:91

كَذٰلِكَ١ؕ وَ قَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْهِ خُبْرًا Open ayah 18:91 in the Quran reader

ایسے ہی تھا اور یقینا ہم نے جو کچھ اس کے پاس تھا اس کا علم کی رو سے احاطہ کر رکھا تھا۔

ۙكَذٰلِكَ ۭ وَقَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَيْهِ خُبْرًا۔۔ : یعنی اہل مشرق سے اس کا سلوک بھی اہل مغرب جیسا تھا، یا مطلب یہ ہے کہ کوئی اس کے مغرب و مشرق اور اس کے درمیان تمام علاقوں کے پامال کرنے کو ناممکن نہ سمجھے، یقیناً ایسے ہی ہوا اور اس مقصد کے لیے اس نے جو افواج اور سازو سامان مہیا کیا اور اپنا عیش و آرام ترک کرکے مسلسل سفر اور جنگوں کی جو تکالیف برداشت کیں اس کی پوری خبر ہم ہی کو ہے، کسی دوسرے کو کیا خبر ؟ 3 ذوالقرنین کی زندگی سے جو سبق حاصل ہوتے ہیں ان میں سے پہلا سبق یہ ہے کہ اقتدار حاصل ہوتے ہی بلند ہمت مسلم حکمران نو عمری ہی میں تمام دنیا کو فتح کرنے کا عزم کرلیتے ہیں، کیونکہ ذوالقرنین کے اتنی بےپناہ افواج کو لے کر اتنے طویل اور دشوار گزار سفر اور پیش آنے والے معرکوں کے لیے طویل عرصے کی بھی ضرورت تھی۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ اگرچہ شاہی محلات، طاؤس و رباب، قالین و کمخواب، حسیناؤں اور حاشیہ نشینوں کے جھرمٹ میں زندگی گزارنے میں بھی لذت اور لطف ہے، مگر گھوڑے کی پشت پر پہاڑوں، صحراؤں، جنگلوں اور دریاؤں کو عبور کرتے ہوئے دشمنوں کے ساتھ جہاد کرنے اور زخم کھانے کے بعد فتح میں جو سرور اور اسلام کو سربلند کرنے میں جو لذت ہے عیش پرستی کی لذت کو اس سے کوئی نسبت ہی نہیں۔ 3 اقتدار حاصل ہونے کے بعد ہمارے نبی کریم ﷺ اور آپ کے خلفاء کا مشن بھی مسلسل جہاد کے ذریعے سے مشرق سے مغرب تک اسلام پھیلانا تھا اور آپ ﷺ کو اس وقت تک تمام دنیا کے لوگوں سے لڑنے کا حکم دیا گیا جب تک وہ اسلام قبول نہ کریں، یا جزیہ دے کر محکوم و مقہور نہ بن جائیں۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے زمین کے تمام مشارق و مغارب دکھا دیے اور بتادیا کہ آپ کی امت کی سلطنت یہاں تک پہنچے گی۔ [ ابن ماجہ، الفتن، باب ما یکون من الفتن : 3952 ] اور فی الواقع چند ہی سال میں مشرق کے آخر تک قتیبہ بن مسلم ؓ پہنچ چکے تھے اور مغرب کے آخر تک عقبہ بن نافع ؓ۔ جنوب و شمال کی طرف جو علاقے رہ گئے ان کے متعلق بھی آپ ﷺ نے فرمایا : (لاَ یَبْقٰی عَلٰی ظَہْرِ الْأَرْضِ بَیْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَہُ اللّٰہُ کَلِمَۃَ الْإِسْلَامِ بِعِزِّ عَزِیْزٍ أَوْ ذُلِّ ذَلِیْلٍ إِمَّا یُعِزُّھُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فَیَجْعَلُھُمْ مِنْ أَھْلِھَا أَوْ یُذِلُّھُمْ فَیَدِیْنُوْنَ لَھَا) [ مسند أحمد : 6؍4، ح : 23876، عن المقداد و عائشۃ ]”زمین کی پشت پر اینٹوں یا بالوں کا بنا ہوا کوئی گھر (یا خیمہ) باقی نہیں رہے گا، مگر اللہ تعالیٰ اس میں کلمۂ اسلام کو داخل کر دے گا، عزت والے کو عزت بخش کر اور ذلیل کو ذلت دے کر، یا تو انھیں عزت دے گا اور انھیں یہ کلمہ پڑھنے والوں میں داخل کر دے گا، یا انھیں ذلیل کرے گا اور وہ اس کے محکوم بن جائیں گے۔“ اب دیکھیے وہ محمدی ذوالقرنین کب اٹھتا ہے جو یہ کارنامہ سرانجام دے گا ؟ بہرحال ہم سب کو کسی ذوالقرنین کا انتظار کرنے کے بجائے جتنا ہو سکے خود ہی اسلام کی سربلندی اور کفر کو مٹانے کے لیے جہاد کی ضروریات مہیا کرنے اور دشمنوں کو زیر کرنے کے لیے مسلسل جہاد میں مصروف رہنا لازم ہے، کیا خبر اللہ کس کو یہ سعادت بخش دے ! ! یہی ذوالقرنین کا مشن اور عمل تھا اور یہی ہمارے پیارے پیغمبر اور آپ کے خلفاء کا مشن اور عمل تھا اور یہی کام ہمارے ذمے ہے۔ 3 جیسا کہ شروع سورت کی تفسیر میں گزرا کہ اس سورت کی ابتدائی یا آخری آیات کا حفظ کرنا دجال کے فتنے سے محفوظ رکھتا ہے، جس کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَا بَیْنَ خَلْقِ آدَمَ اِلٰی قِیَام السَّاعَۃِ خَلْقٌ أَکْبَرُ مِنَ الدَّجَّالِ) [ مسلم، الفتن، باب في بقیۃ من أحادیث الدجال : 2946، عن عمران بن حصین ؓ ] ”آدم ؑ کی پیدائش سے لے کر قیامت قائم ہونے تک کوئی مخلوق دجال سے بڑی نہیں ہوئی۔“ پھر جو شخص اس سے محفوظ رہا وہ دوسرے فتنوں سے تو بالاولیٰ محفوظ رہے گا۔ اصحاب کہف اور ذوالقرنین دونوں کے قصوں کا خلاصہ یہ ہے کہ فتنے میں مبتلا کرنے والے کفار کے ساتھ مومن گزارا نہیں کرسکتا۔ اگر اس کے پاس اقتدار نہیں تو وہ ایمان بچانے کے لیے غاروں اور پہاڑوں میں چلا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی جان و ایمان دونوں کی حفاظت فرماتا ہے اور اگر صاحب اقتدار ہے تو پوری عمر کفر اور کفار کی کمر توڑنے میں مصروف رہتا ہے، تاکہ وہ غالب آکر اس کے ایمان کے لیے خطرہ نہ بن سکیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ صرف اس سورت یا اس کی چند آیات کا پڑھنا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے تقاضوں پر عمل بھی فتنوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے۔ یہ نہیں کہ اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ سے دوستی گانٹھ لے، اپنی ایمانی غیرت کو تھپکیاں دے کر سلا دے، کفر و شرک پر زبان بند رکھ کر کافر معاشرے میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتا رہے اور ہر جمعہ کو سورة کہف کی تلاوت کرلیا کرے، بلکہ حفظ آیات میں ان پر عمل بھی شامل ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة کہف (102 تا 104)۔
Ayahs 18:92–93

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:92 in the Quran reader

پھر وہ کچھ اور سامان ساتھ لے کر چلا۔

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمَا قَوْمًا١ۙ لَّا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ قَوْلًا Open ayah 18:93 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا تو ان کے اس طرف کچھ لوگوں کو پایا جو قریب نہ تھے کہ کوئی بات سمجھیں۔

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا۔۔ : مغرب و مشرق کے سفر کے بعد ذوالقرنین کا یہ تیسرا سفر ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی جہت بیان نہیں فرمائی کہ وہ شمال ہے یا جنوب یا چاروں جہتوں کا کوئی کونا۔ معلوم ہوتا ہے اسے پوشیدہ رکھنے ہی میں اللہ کی حکمت ہے۔ چناچہ مدت دراز سے لوہے اور تانبے سے بنی ہوئی دو پہاڑوں کے درمیان اس جیسی بلندی والی یہ دیوار کسی نے نہیں دیکھی۔ دیوار چین یا داغستان میں دربند اور خوزامہ کے درمیان کسی زمانے میں پائی جانے والی دیوار یا کسی اور دیوار کی نہ یہ ہیئت ہے، نہ ان کے پار رہنے والوں میں کہیں یاجوج ماجوج کا وجود ہے۔ 3 بہت سے مفسرین نے ذوالقرنین کا یہ سفر شمال کی طرف قرار دیا ہے، کوئی اسے روس کا علاقہ قرار دیتا ہے، کوئی تاتاریوں کو یاجوج ماجوج کا مصداق ٹھہراتا ہے، جنھوں نے شمال کی جانب سے نکل کر دنیا کو تہ و بالا کردیا تھا اور بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔ بعض انھیں مغل یا ترک قرار دیتے ہیں، مگر سب بلادلیل اندھیرے میں پتھر پھینکتے چلے جاتے ہیں۔ بعض حضرات اپنے دعوے کے کسی جز کی دلیل کے طور پر بائبل سے کچھ نقل کرکے پورے دعوے کی دلیل کے فریضے سے سبکدوش ہوجاتے ہیں، حالانکہ موجودہ بائبل پر یقین ممکن ہی نہیں۔ ان حضرات کی تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ ذوالقرنین کی دیوار ختم ہوچکی اور اس کے پیچھے روکے ہوئے یاجوج ما جوج، جو نکلنے تھے، نکل چکے، حالانکہ قرآن و سنت دونوں سے اس کی تردید ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید کی کسی آیت کی تفصیل کی ضرورت ہو تو وہ قرآن مجید کی کسی دوسری آیت ساتھ ملانے سے پوری ہوجاتی ہے، اگر پھر بھی ضرورت باقی رہے تو صحیح حدیث ملانے سے وہ بھی پوری ہوجاتی ہے۔ قرآن مجید میں یاجوج ماجوج کے نکلنے کا ذکر ایک اور مقام پر بھی آتا ہے، فرمایا : (حَتّٰٓي اِذَا فُتِحَتْ يَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ 96؀ وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا هِىَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۭ يٰوَيْلَنَا قَدْ كُنَّا فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ ھٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِيْنَ) [ الأنبیاء : 96، 97 ] ”یہاں تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کھول دیے جائیں گے اور وہ ہر اونچی جگہ سے دوڑتے ہوئے آئیں گے اور سچا وعدہ بالکل قریب آجائے گا تو اچانک یہ ہوگا کہ ان لوگوں کی آنکھیں کھلی رہ جائیں گی جنھوں نے کفر کیا۔ ہائے ہماری بربادی ! بیشک ہم اس سے غفلت میں تھے، بلکہ ہم ظلم کرنے والے تھے۔“ سورة کہف اور سورة انبیاء دونوں کی آیات کو ملانے سے صاف واضح ہے کہ اس دیوار کے زمین کے برابر ہونے اور یاجوج ماجوج کے موجیں مارتے ہوئے نکلنے کا وقت ایک ہی ہے اور اس کے بعد نفخ صور اور قیامت بالکل قریب ہوں گی۔ اس کی مزید تفصیل صحیح مسلم میں رسول اللہ ﷺ کی زبانی موجود ہے کہ یہ سب کچھ دجال کے نکلنے اور مسیح ؑ کے زمین پر نازل ہونے کے بعد ہوگا۔ چناچہ نواس بن سمعان ؓ سے مروی لمبی حدیث میں دجال کے نکلنے، فتنہ و فساد پھیلانے، پھر مسیح ؑ کے نازل ہو کر اسے قتل کرنے کا ذکر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”عیسیٰ ؑ اسی طرح (مصروف) ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ ؑ کی طرف وحی فرمائے گا کہ میں نے اپنے کچھ ایسے بندے نکالے ہیں کہ کسی میں ان سے لڑنے کی طاقت نہیں، اس لیے میرے بندوں کو طور کی طرف لے جا کر محفوظ کرلو، تو اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو بھیجے گا اور وہ ہر اونچی جگہ سے دوڑتے ہوئے آئیں گے۔ ان کے پہلے لوگ طبریہ جھیل پر پہنچیں گے تو اس میں جو بھی (پانی) ہے پی جائیں گے اور ان کے آخری لوگ گزریں گے اور کہیں گے کہ یہاں کبھی ضرور پانی رہا ہے۔ اللہ کے نبی عیسیٰ ؑ اور ان کے ساتھی محصور رہیں گے، یہاں تک کہ ان میں سے ہر ایک کے نزدیک بیل کا سر آج تمہارے نزدیک سو دینار (تین سو گرام سونے) سے بہتر ہوگا۔ پھر عیسیٰ ؑ اور ان کے ساتھی اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں کیڑے ڈال دے گا تو وہ سب ایک شخص کی موت کی طرح ہلاک ہوجائیں گے، پھر اللہ کے نبی عیسیٰ ؑ اور ان کے ساتھی زمین پر اتریں گے تو زمین میں ایک بالشت جگہ بھی نہیں پائیں گے جسے ان کی سڑاند اور گندگی نے نہ بھر رکھا ہو۔ تو اللہ تعالیٰ بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرندے بھیجے گا جو انھیں اٹھا کر وہاں پھینک دیں گے جہاں اللہ چاہے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ ایسی بارش برسائے گا کہ کوئی مکان یا خیمہ اس کے بغیر نہیں رہے گا۔ چناچہ وہ بارش زمین کو دھو دے گی، یہاں تک کہ اسے آئینے کی طرح صاف کر دے گی۔ پھر زمین کو حکم ہوگا کہ اپنے پھل اگا اور اپنی برکت واپس لا تو ان دنوں ایک جماعت انار کا ایک حصہ کھائے گی اور اس کے چھلکے سے سایہ حاصل کرے گی اور دودھ والے جانوروں میں برکت دی جائے گی، یہاں تک کہ دودھ والی اونٹنی لوگوں کی کئی جماعتوں کو کافی ہوگی اور دودھ والی گائے لوگوں کے ایک قبیلے کو کافی ہوگی اور دودھ والی بکری لوگوں کے ایک خاندان کو کافی ہوگی۔ تو وہ اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ایک طیب ہوا بھیجے گا جو ان کی بغلوں کے نیچے اثر کرے گی اور ہر مومن اور ہر مسلم کی روح قبض کرلے گی اور بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے، جو گدھوں کی طرح ایک دوسرے سے جنسی ملاپ کریں گے تو ان پر قیامت قائم ہوگی۔“ [ مسلم، الفتن، باب ذکر الدجال : 2937 ] اس صحیح حدیث سے ذوالقرنین کی دیوار کا زمین کے برابر ہوچکا ہونا اور یاجوج ماجوج کا روسی، چینی یا تاتاری ہونا اور ان کے خروج کا واقع ہوچکا ہونا صاف غلط ثابت ہوتا ہے اور یہ بات طے شدہ ہے کہ قرآن مجید اور صحیح حدیث کے خلاف جو بات بھی ہے وہ باطل اور جھوٹ ہے، خواہ وہ بات کہنے والا کتنا بڑا ہو اور خواہ وہ بائبل کی کسی کتاب میں موجود ہو، کیونکہ بائبل کے محفوظ نہ رہنے اور اس میں اضافہ اور تبدیلی کی شہادت قرآن مجید میں کئی جگہ موجود ہے۔ دیکھیے سورة مائدہ (13) ، انعام (91) ، بقرہ (79) اور آل عمران (78) اس کے مقابلے میں قرآن و سنت کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے۔ دیکھیے سورة حجر (9) ، قیامہ (16، 17) ، حم السجدہ (42) اور نجم (3، 4) بلکہ اس میں کئی ایسی عبارتیں ہیں کہ کوئی یہودی یا عیسائی انھیں عام مجمع میں پڑھنے کی جرأت نہیں کرسکتا، مثلاً لوط، داؤد اور سلیمان پر تہمتوں کے طوفان والی عبارتیں۔ اور اس بات پر امت کا اتفاق ہے کہ اہل کتاب کی کوئی بات قرآن و سنت کے خلاف ہو تو وہ جھوٹ ہے اور اگر نہ خلاف ہو نہ موافق تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انھیں نہ سچا کہو نہ جھوٹا۔ زیر تفسیر آیات کے بارے میں اسرائیلی روایات قرآن مجید اور صحیح احادیث کے خلاف ہیں، اس لیے بےبنیاد اور باطل ہیں۔ 3 یاجوج اور ماجوج عجمی نام ہیں، اس لیے عجمہ اور تانیث (مجوس کی طرح قبیلہ ہونے) کی وجہ سے غیر منصرف ہیں۔ اگر انھیں عربی مانا جائے تو یاجوج بروزن ”یَفْعُوْلٌ“ مثلاً ”یَرْبُوْعٌ“ اور ماجوج بروزن ”مَفْعُوْلٌ“ مثلاً ”مَعْقُوْلٌ“ ہوگا اور ان کا ماخذ ”اَجَّ یَؤُجُّ“ ہوگا۔ ”اَجَّ الظَّلِیْمُ“ کا معنی نر شتر مرغ تیز دوڑا اور ”اَجَّتِ النَّارُ“ آگ بھڑک اٹھی۔ غرض یاجوج اور ماجوج کا اشتقاق ایک ہی مادے سے ہے اور اس کے مفہوم میں تیزی اور اشتعال شامل ہے اور یہ لفظ معرفہ اور تانیث کی وجہ سے غیر منصرف ہیں۔ (قاسمی) 3 یاجوج اور ماجوج آدم ؑ ہی کی اولاد ہیں، جیسا کہ صحیحین میں ہے : (یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ یَا آدَمُ ! فَیَقُوْلُ لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ وَالْخَیْرُ فِيْ یَدَیْکَ قَالَ یَقُوْلُ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ ، قَالَ وَمَا بَعْثُ النَّارِ ؟ قَالَ مِنْ کُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِاءَۃٍ وَتِسْعَۃً وَتِسْعِیْنَ ، قَالَ فَذَاکَ حِیْنَ یَشِیْبُ الصَّغِیْرُ (وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكٰرٰي وَمَا هُمْ بِسُكٰرٰي وَلٰكِنَّ عَذَاب اللّٰهِ شَدِيْد) قَالَ فَاشْتَدَّ ذٰلِکَ عَلَیْھِمْ قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! أَیُّنَا ذَاک الرَّجُلُ ؟ فَقَالَ أَبْشِرُوْا فَإِنَّ مِنْ یَأْجُوْجَ وَمَأْجُوْجَ أَلْفٌ، وَمِنْکُمْ رَجُلٌ) [ مسلم، الإیمان، باب قولہ : یقول اللّٰہ لآدم۔۔ : 222۔ بخاري : 6530 ] ”اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : ”اے آدم ! وہ عرض کریں گے : ”لبیک وسعدیک اور ہر خیر تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔“ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : ”آگ والی جماعت کو نکالو۔“ وہ عرض کریں گے : ”اور آگ والی جماعت کیا ہے ؟“ فرمائیں گے : ”ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”تو یہ وہ وقت ہوگا کہ بچہ بوڑھا ہوجائے گا اور ہر حمل والی اپنا حمل گرا دے گی اور تو لوگوں کو نشے میں دیکھے گا، حالانکہ وہ ہرگز نشے میں نہیں ہوں گے اور لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔“ راوی نے کہا، تو یہ بات ان پر بہت شاق گزری، انھوں نے کہا : ”اے اللہ کے رسول ! ہم میں وہ ایک آدمی کون ہوگا ؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”خوش ہوجاؤ کہ یاجوج ماجوج میں سے ایک ہزار اور تم میں سے ایک آدمی ہوگا۔“ بعض مفسرین نے یاجوج ماجوج کی شکل و صورت، قد کے لمبے اور چھوٹے ہونے اور ان کے کانوں کے متعلق عجیب و غریب اقوال و روایات لکھی ہیں جن میں سے کوئی بھی قرآن و سنت سے ثابت نہیں۔ (ابن کثیر) 3 اس حقیقت پر بعض کم فہم لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ یورپی اقوام نے زمین کا ہر کونا چھان مارا ہے مگر انھیں نہ کہیں یاجوج ماجوج نظر آتے ہیں نہ پہاڑوں جیسی بلند لوہے اور تانبے کی کوئی دیوار نظر آتی ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے مخفی رکھنا چاہے کوئی اسے نہیں دیکھ سکتا۔ بنی اسرائیل میدان تیہ میں چالیس سال تک چند میل کے دائرے میں گھومتے رہے، نہ وہ اس دائرے سے نکل سکے اور نہ کسی اور کو ان کا پتا چل سکا، ورنہ وہ انھیں نکلنے کا راستہ بتا کر وہاں سے نکال لیتا۔ ایمان ہو تو اس دیوار، یاجوج ماجوج، نزول مسیح، دجال، دا بۃ الارض سب پر یقین آجاتا ہے اور اگر ایمان نہ ہو تو انسان ”ایک جمع ایک، جمع ایک، برابر تین“ کے بجائے ”برابر ایک“ جیسی صریح خلاف عقل بات پر اڑ جاتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ کے رازوں تک اپنی نا رسائی کو تسلیم نہیں کرتا۔
Ayah 18:94

قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰۤى اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَهُمْ سَدًّا Open ayah 18:94 in the Quran reader

انھوں نے کہا اے ذوالقرنین ! بیشک یاجوج اور ماجوج اس سرزمین میں فساد کرنے والے ہیں، تو کیا ہم تیرے لیے کچھ آمدنی طے کردیں، اس (شرط) پر کہ تو ہمارے درمیان اور ان کے درمیان ایک دیوار بنادے۔

قَالُوْا يٰذَا الْقَرْنَيْنِ۔۔ : جب وہ قریب نہ تھے کہ کوئی بات سمجھیں تو ذوالقرنین سے ان کی گفتگو کیسے ہوئی ؟ جواب یہ ہے کہ اشاروں کی زبان میں، جو بین الاقوامی زبان ہے، یا ذوالقرنین کو اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ان کی زبان سمجھا دی ہوگی، جیسا کہ داؤد و سلیمان ؑ کو اللہ تعالیٰ نے پرندوں کی بولی سکھا دی تھی۔ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا۔۔ : اس قوم اور یاجوج ماجوج کے درمیان دو پہاڑ تھے جن کے درمیان ایک درہ تھا، جہاں سے آ کر وہ لوگ لوٹ مار کر کے چلے جاتے تھے۔ دو پہاڑوں کے درمیان ان کے برابر ایک بلند دیوار کوئی اولو العزم بادشاہ ہی بنا سکتا تھا، جس کے پاس ہر قسم کے وسائل ہوں۔ کوئی قوم کتنی بھی مال دار ہو، یہ کام سرانجام نہیں دے سکتی۔ اس لیے انھوں نے اخراجات ادا کرنے کی پیش کش کرکے اپنے اور یاجوج ماجوج کے درمیان رکاوٹ بننے والی دیوار بنانے کی درخواست کی جو پہاڑوں کی طرح ان کا راستہ روک سکے۔
Ayah 18:95

قَالَ مَا مَكَّنِّیْ فِیْهِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ رَدْمًاۙ Open ayah 18:95 in the Quran reader

اس نے کہا جن چیزوں میں میرے رب نے مجھے اقتدار بخشا ہے وہ بہتر ہیں، اس لیے تم قوت کے ساتھ میری مدد کرو کہ میں تمہارے درمیان اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار بنا دوں۔

قَالَ مَا مَكَّــنِّيْ فِيْهِ رَبِّيْ خَيْرٌ : ذوالقرنین نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے جو کچھ میری دسترس میں دیا ہے وہ تمہارے دیے ہوئے اخراجات سے کہیں بہتر ہے، سو تم خرچ کی فکر مت کرو۔ ہاں، تم عملی طور پر آدمیوں اور محنت کے ساتھ میری مدد کرو، تاکہ میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار بنا دوں۔ اس سے ذوالقرنین کی سیر چشمی، فراخ دلی اور سخاوت نفس کے ساتھ ساتھ رعایا کو دشمن سے محفوظ رکھنے کے لیے مضبوط ترین دفاع کا بندوبست کرنا واضح ہوتا ہے۔ سلیمان ؑ نے بھی ملکہ سبا کو ہدیے بھیجنے پر ایسا ہی جواب بھیجا تھا : (فَمَآ اٰتٰىـنِۦ اللّٰهُ خَيْرٌ مِّمَّآ اٰتٰىكُمْ) [ النمل : 36 ] ”جو کچھ اللہ نے مجھے دیا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمہیں دیا ہے۔“ رعایا کی زندگی کے ایک ایک لمحے تک پر ٹیکس لگا دینے والے جمہوری حکمران، جو ملوکیت کو گالی قرار دیتے ہیں، رعایا کے لیے اللہ کی رحمت بننے والے ملوک کے طرز عمل سے سبق حاصل کریں۔ فَاَعِيْنُوْنِيْ بِقُــوَّةٍ۔۔ : ”رَدْمًا“ کا معنی خالی جگہ کو پتھروں سے پر کرنا اور پتھروں کی بنی ہوئی موٹی دیوار ہے، ”سَحَابٌ مُرْدَمٌ“ تہ بہ تہ بادل۔
Ayah 18:96

اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًا١ۙ قَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًاؕ Open ayah 18:96 in the Quran reader

تم میرے پاس لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لاؤ، یہاں تک کہ جب اس نے دونوں پہاڑوں کا درمیانی حصہ برابر کردیا تو کہا دھونکو یہاں تک کہ جب اس نے اسے آگ بنادیا تو کہا لاؤ میرے پاس کہ میں اس پر پگھلا ہوا تانبا انڈیل دوں۔

ۙاٰتُوْنِيْ زُبَرَ الْحَدِيْدِ ۭ حَتّٰى اِذَا سَاوٰى۔۔ : ”زُبَرَ“ ”زُبْرَۃٌ“ کی جمع ہے، جیسا کہ ”غُرْفَۃٌ“ کی جمع ”غُرَفٌ“ ہے، معنی ہے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے۔ پہاڑوں کے درمیان ان کی بلندی کے برابر لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے مہیا کرنا، انھیں اوپر پہنچانا اور جوڑنا ہمارے اس ترقی یافتہ دور میں بھی امر محال نظر آتا ہے، مگر اہرام مصر کو دیکھیں تو ماننا پڑتا ہے کہ ہم سے ہزاروں سال پہلے جر ثقیل (وزنی اشیاء کو کھینچنے اور اوپر لے جانے) کا علم آج سے بہت آگے تھا۔ چناچہ ذوالقرنین نے پہاڑوں کے دونوں کناروں کے برابر لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے جوڑنے کے بعد یک جان کرنے کے لیے انھیں آگ سے سرخ کرنے کا حکم دیا، ادھر تانبے کو پگھلانے کا بندوبست کیا۔ جب لوہے کی اینٹیں اور تختے سراسر آگ بن گئے تو اس نے کہا، اب پگھلا ہوا تانبا لاؤ، تاکہ میں اس پر ڈالوں۔ اس طرح وہ لوہے اور تانبے کی بہت موٹی، مضبوط اور پہاڑوں کے برابر بلند اور چکنی دیوار بن گئی، جس پر نہ یاجوج ماجوج چڑھ سکتے تھے، نہ اس میں سوراخ کرسکتے تھے۔ ہزاروں فٹ اونچی اس دیوار کو بنانے میں سائنس کے کیا کیا علوم استعمال ہوئے، لوہے اور تانبے کی کتنی مقدار صرف ہوئی، اتنی بلندی پر لوہے کو کیسے سرخ کیا گیا اور تانبے کی اتنی مقدار اس قدر بلندی پر پہنچانے تک کیسے پگھلی ہوئی حالت میں رکھی گئی اور اتنی موٹی دیوار جب سرخ ہوئی ہوگی تو اس کے پاس کھڑا ہو کر پگھلا ہوا تانبا کیسے ڈالا گیا ہوگا، پھر یہ کام کتنی مدت میں مکمل ہوا، یہ سب کچھ اب صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ اس سارے عمل میں ذوالقرنین بہ نفس نفیس کام میں شریک رہا، بلکہ اپنے ہاتھوں سے کام کرتا رہا۔ یہی سنت ہمارے پیارے پیغمبر ﷺ کی ہے کہ آپ کعبہ کی تعمیر میں، مسجد نبوی بنانے اور خندق کھودنے میں بہ نفس نفیس برابر شریک رہے۔
Ayah 18:97

فَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ یَّظْهَرُوْهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا Open ayah 18:97 in the Quran reader

پھر نہ ان میں یہ طاقت رہی کہ اس پر چڑھ جائیں اور نہ وہ اس میں کوئی سوراخ کرسکے۔

فَمَا اسْطَاعُوْٓا اَنْ يَّظْهَرُوْهُ۔۔ : ”اسْطَاعُوْٓا“ بھی اصل میں ”اسْتَطَاعُوْا“ تھا، تخفیف کے لیے تاء حذف کردی۔ چڑھنے کے لیے ہلکا لفظ ”اسْطَاعُوْٓا“ اور نقب کے لیے بھاری لفظ ”اسْتَطَاعُوْا“ استعمال فرمایا، کیونکہ ایسی دیوار پر چڑھنا اس میں نقب کی بہ نسبت آسان ہے۔
Ayah 18:98

قَالَ هٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّیْ١ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ١ۚ وَ كَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّاؕ Open ayah 18:98 in the Quran reader

کہا یہ میرے رب کی طرف سے ایک رحمت ہے، پھر جب میرے رب کا وعدہ آگیا تو وہ اسے زمین کے برابر کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ ہمیشہ سے سچا ہے۔

قَالَ ھٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّيْ : ذوالقرنین نے دیوار بنا کر اسے اپنا کارنامہ قرار دینے کے بجائے اپنے رب کی رحمت قرار دیا، جس کی بدولت وہ لوگ یاجوج ماجوج کے حملوں سے محفوظ ہوگئے۔ اس کے ساتھ ہی اس کی مضبوطی کے باوجود اسے لازوال قرار دینے کے بجائے فرمایا کہ جب میرے رب کا وعدہ آئے گا تو وہ اسے زمین کے برابر کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ ہمیشہ سے سچا ہے۔ ذوالقرنین کی بات اور دو باغوں والے بےایمان کی بات کا موازنہ کریں، جو اپنے باغوں کو کبھی برباد نہ ہونے والا کہہ رہا تھا، تو مومن و کافر کی سوچ کا فرق صاف واضح ہوجاتا ہے۔ فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ رَبِّيْ جَعَلَهٗ دَكَّاۗءَ۔۔ : ذوالقرنین کی اس بات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ساری دنیا کی بادشاہت ملنے کے باوجود آخرت کی فکر ہر وقت رہنی چاہیے، کیونکہ دنیا فانی ہے اور آخرت ہمیشہ رہنے والی ہے۔ اس وعدے سے مراد قیامت کے قریب یاجوج ماجوج کے نکلنے کا وقت ہے، جیسا کہ سورة انبیاء (96، 97) میں ہے۔ زینب بنت جحش ؓ فرماتی ہیں : (اِسْتَیْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّوْمِ مُحْمَرًّا وَجْھُہُ وَھُوَ یَقُوْلُ لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، وَیْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ ، فُتِحَ الْیَوْمَ مِنْ رَدْمِ یَأْجُوْجَ وَمَأْجُوْجَ مِثْلُ ھٰذِہِ وَعَقَدَ سُفْیَانُ تِسْعِیْنَ أَوْ ماءَۃً قِیْلَ أَنَھْلِکُ وَفِیْنَا الصَّالِحُوْنَ ؟ قَالَ نَعَمْ إِذَا کَثُرَ الْخَبَثُ) [ بخاری، الفتن، باب قول النبي ﷺ : ویل للعرب۔۔ : 7059 ]”رسول اللہ ﷺ نیند سے لا الٰہ الا اللہ کہتے ہوئے بیدار ہوئے، جب کہ آپ کا چہرہ سرخ تھا، فرمایا : ”عرب کے لیے بہت بڑی تباہی ہے، اس شر سے جو بہت قریب آگیا ہے، آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا حصہ کھول دیا گیا۔“ اور سفیان نے نوے (90) یا سو (100) کی گرہ بنائی، یعنی انگوٹھے اور شہادت کی انگلی ملا کر گول دائرہ بنا کر دکھایا۔ پوچھا گیا : ”کیا ہم اپنے آپ میں صالحین کے موجود ہوتے ہوئے ہلاک ہوجائیں گے۔“ فرمایا : ”ہاں، جب برائی زیادہ ہوجائے گی۔“
Ayah 18:99

وَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًاۙ Open ayah 18:99 in the Quran reader

اور اس دن ہم ان کے بعض کو چھوڑیں گے کہ بعض میں ریلا مارتے ہوں گے اور صور میں پھونکا جائے گا تو ہم ان کو جمع کریں گے، پوری طرح جمع کرنا۔

وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ يَّمُوْجُ فِيْ بَعْضٍ : اس دن سے مراد یہ ہے کہ ذوالقرنین کی بنائی ہوئی دیوار کے مسمار ہونے کے وقت یاجوج ماجوج سمندر کی موجوں کی طرح بےحساب تعداد میں یلغار کرتے ہوئے نکلیں گے۔ اسی کیفیت کو (وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ) [ الأنبیاء : 96 ] میں بیان کیا گیا ہے۔ وَّنُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَـجَـمَعْنٰهُمْ جَمْعًا :”الصُّوْرِ“ سے مراد وہ سینگ ہے جس میں فرشتہ پھونک مارے گا تو حشر برپا ہوجائے گا۔ یہ تفسیر خود رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے، چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا : (اَلصُّوْرُ قَرْنٌ یُنْفَخُ فِیْہِ) [ أبوداوٗد، السنۃ، باب في ذکر البعث والصور : 4742۔ الصحیحۃ : 1080 ] ”صور وہ قرن ہے جس میں پھونکا جائے گا۔“ اس آیت میں مذکور نفخہ سے مراد دوسرا نفخہ ہے جس سے سب لوگ قبروں سے نکل کر میدان حشر میں جمع ہوجائیں گے۔
Ayah 18:100

وَّ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِّلْكٰفِرِیْنَ عَرْضَاۙ Open ayah 18:100 in the Quran reader

اور اس دن ہم جہنم کو کافروں کے عین سامنے پیش کریں گے۔

ۙوَّعَرَضْنَا جَهَنَّمَ۔۔ : یہ پیش کرنا بھی عذاب سے پہلے عذاب ہوگا۔ دیکھیے اسی سورت کی آیت (53) کی تفسیر۔
Ayah 18:101

اِ۟لَّذِیْنَ كَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِیْ وَ كَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا۠ Open ayah 18:101 in the Quran reader

وہ لوگ کہ ان کی آنکھیں میرے ذکر سے پردے میں تھیں اور وہ سن ہی نہ سکتے تھے۔

ۙالَّذِيْنَ كَانَتْ اَعْيُنُهُمْ۔۔ : ”غِطَاۗءٍ“ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، معنی ہے سخت گاڑھا پردہ، یعنی اپنی عقل کی آنکھ نہ تھی کہ قدرتیں دیکھ کر یقین لاتے اور ضد کی وجہ سے کسی کی بات سننے کے لیے تیار نہ تھے کہ سمجھانے سے سمجھ جاتے۔ مزید دیکھیے سورة ملک (10)۔
Ayahs 18:102–103

اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ نُزُلًا Open ayah 18:102 in the Quran reader

تو کیا جن لوگوں نے کفر کیا انھوں نے گمان کرلیا ہے کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو حمایتی بنالیں گے۔ بیشک ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے بطور مہمانی تیار کر رکھا ہے۔

قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاؕ Open ayah 18:103 in the Quran reader

کہہ دے کیا ہم تمہیں وہ لوگ بتائیں جو اعمال میں سب سے زیادہ خسارے والے ہیں۔

ۧاَفَحَسِبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا۔۔ : سورت کی ابتدا اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد بتانے والوں کو ڈرانے اور اصحاب کہف کے اعلان توحید کے ذکر سے ہوئی تھی، آخر میں پھر وہی بات دہرائی، یعنی کیا ان کفار نے میرے خاص بندوں، جیسے مسیح، عزیر، روح القدس اور فرشتوں وغیرہ کو اپنا معبود بنا کر یہ سمجھ رکھا ہے کہ انھیں میرے مقابلے میں لا کھڑا کریں گے اور اپنا حمایتی بنالیں گے۔ استفہام انکاری ہے، یعنی یہ گمان سراسر غلط ہے، بلکہ وہ سب ان کی عبادت سے بےزاری کا اعلان کریں گے اور ان کے مقابل مدعی بن کر کھڑے ہوں گے۔ دیکھیے سورة مریم (82) اور احقاف (5، 6) اگرچہ ”عِبَادِیْ“ سے نیک و بد سبھی مراد ہوسکتے ہیں، کیونکہ سب اللہ کے بندے ہیں (دیکھیے مریم : 93) مگر پہلا معنی زیادہ صحیح ہے، کیونکہ ”میرے بندے“ کہہ کر اپنا بنا لینے میں جو عزت افزائی ہے وہ خاص بندوں ہی کا حصہ ہے۔ اِنَّآ اَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِيْنَ نُزُلًا : ”نُزُلًا“ کا معنی وہ چیزیں ہیں جو مہمان نوازی کے لیے پیش کی جاتی ہیں۔ جہنم بطور مہمانی کفار کو مذاق ہے۔ ”نُزُلًا“ کا ایک معنی منزل بھی ہے، یعنی ہم نے جہنم کو کافروں کی منزل کے طور پر تیار کر رکھا ہے۔
Ayah 18:104

اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا Open ayah 18:104 in the Quran reader

وہ لوگ جن کی کوشش دنیا کی زندگی میں ضائع ہوگئی اور وہ سمجھتے ہیں کہ بیشک وہ ایک اچھا کام کر رہے ہیں۔

اَلَّذِيْنَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ۔۔ : یعنی جتنے نیک اعمال انھوں نے کیے سب کفر کی شامت سے رائگاں گئے۔ دیکھیے سورة ابراہیم (18) ، نور (39، 40) اور فرقان (23) یہ مطلب بھی درست ہے کہ ”جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں گم ہو کر رہ گئی“ یعنی اللہ تعالیٰ اور آخرت کی پروا نہ کی اور دنیا کی خوش حالیوں اور کامیابیوں کو اپنا اصل مقصد بنائے رکھا۔