Ayah 17:1سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ : اس سورت کی ابتدا اللہ تعالیٰ کو ہر ایسی چیز سے پاک قرار دینے سے کی جو اس کے جلال کے لائق نہیں، چناچہ فرمایا : (سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ) طنطاوی نے فرمایا، اس کی سب سے اچھی نحوی ترکیب یہ ہے کہ ”سُبْحٰنَ“ اسم مصدر ہے اور فعل محذوف ”سَبَّحْتُ“ یا ”اُسَبِّحُ“ کا مفعول مطلق ہے اور ”الَّذِيْٓ“ کی طرف مضاف ہے، یعنی میں اس (اللہ) کا ہر عیب اور کمی سے پاک ہونا بیان کرتا ہوں جو اپنے بندے۔۔ (التفسیر الوسیط) معلوم ہوا کہ آگے کوئی ایسا کام بیان ہونے والا ہے جس کا واقع ہونا انسانی طاقت سے باہر ہے، اس لیے بات یہیں سے شروع فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ان تمام عیبوں، کمزوریوں اور نارسائیوں سے پاک ہے جو مخلوق میں پائی جاتی ہیں اور وہ ان کاموں پر قادر ہے جن پر اس کے سوا کوئی قدرت نہیں رکھتا۔
اَسْرٰى : شیخ سلیمان الجمل نے فرمایا : ”اَسْرٰى“ اور ”سَرٰی“ دونوں کا معنی ہے، وہ رات کو چلا، دونوں فعل لازم ہیں، پہلے کا مصدر ”اَلإِْسْرَاءُ“ ہے اور دوسرے کا ”اَلسُّرٰی“ بروزن ”اَلْھُدٰی“ ، اس لیے اسے متعدی بنانے کے لیے ”بِعَبْدِهٖ“ میں باء لائی گئی ہے، جس سے معنی ”وہ رات کو چلا“ کے بجائے ”اس نے (اپنے بندے کو) رات کو چلایا“ ہوگیا۔“ اس سے رات کی فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے، رسول اللہ ﷺ کا راتوں کو قیام، دعائیں، اسراء و معراج، راتوں کا سفر سب اس کی دلیل ہیں۔
بِعَبْدِهٖ : ”اپنے بندے“ کا لفظ اس محبت اور تعلق کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کو اپنے آخری پیغمبر محمد ﷺ سے ہے۔ اہل علم فرماتے ہیں کہ اگر پیار و محبت اور آپ کی عظمت و شان کے اظہار کے لیے اس سے زیادہ یہاں کوئی لفظ موزوں ہوتا تو اللہ تعالیٰ اسی کو ذکر فرماتا، لفظ ”عَبْدٌ“ منتخب ہی اس لیے فرمایا کہ تمام مخلوقات کی صفات میں سب سے اونچی اور بڑی صفت اللہ تعالیٰ کی عبودیت اور بندگی ہے، پھر خاص اپنی طرف نسبت کرکے مزید رتبہ بڑھا دیا۔
رسول اللہ ﷺ کو اپنا عبد (بندہ، غلام) قرار دینے میں یہ بھی اشارہ ہے کہ مالک اور معبود صرف اللہ تعالیٰ ہے، باقی سب اس کے بندے، غلام، اس کے سامنے عاجز اور مطیع ہیں، کیونکہ ”عَبْدٌ“ کا معنی یہی ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا) [ مریم : 93 ] ”زمین و آسمان میں جو کوئی بھی ہے وہ رحمٰن کے پاس غلام بن کر آنے والا ہے۔“ مقصد یہ ہے کہ عبودیت اور الوہیت، یعنی بندگی اور خدائی کے مقام کا فرق بالکل واضح ہوجائے، انھیں ایک نہ سمجھ لیا جائے، جیسا کہ مسیحیت میں ہوا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو، عیسیٰ ؑ کو اور ان کی والدہ کو ایک ہی معبود قرار دے دیا، انھوں نے عبودیت اور الوہیت کے فرق کو نہ سمجھا۔ بعض جھوٹے مسلمانوں نے بھی احد اور احمد کو ایک قرار دے لیا۔ یہ آیت ان کی واضح تردید کرتی ہے۔ علامہ قاسمی نے امام ابن قیم ؓ کی کتاب ”طَرِیْقُ الْہِجْرَتَیْنِ“ سے نقل فرمایا کہ تمام مخلوق میں سے کامل وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبودیت (بندگی) میں سب سے کامل ہے اور رسول اللہ ﷺ پوری مخلوق میں سے اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب اور بلند مرتبہ تھے، آپ ﷺ فرماتے تھے : (وَاللّٰہِ ! مَا أُحِبُّ أَنْ تَرْفَعُوْنِيْ فَوْقَ مَنْزِلَتِيَ الَّتِيْ أَنْزَلَنِيَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ) [ مسند أحمد : 3؍153: 12558، سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : 1097، عن أنس ]”اللہ کی قسم ! اے لوگو ! میں پسند نہیں کرتا کہ تم مجھے میرے اس مرتبے سے بلند قرار دو جو مجھے اللہ عزوجل نے عطا کیا ہے۔“ اور آپ ﷺ فرماتے تھے : (لَا تُطْرُوْنِيْ کَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَی ابْنَ مَرْیَمَ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُہُ فَقُوْلُوْا عَبْدُ اللّٰہِ وَ رَسُوْلُہُ) [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللّٰہ تعالیٰ : (واذکر فی الکتاب مریم۔۔) : 3445 ] ”مجھے اس طرح حد سے نہ بڑھاؤ جیسا کہ نصاریٰ نے مسیح ابن مریم کو حد سے بڑھا دیا، میں تو صرف اس کا عبد (بندہ) ہوں، سو تم مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو۔“ اللہ تعالیٰ نے آپ کا ذکر آپ کے بلند ترین مقام اسراء و معراج میں عبودیت کے نام سے فرمایا، چناچہ فرمایا : (سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ) اور دعوت کے مقام میں فرمایا : (وَّاَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ يَدْعُوْهُ كَادُوْا يَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِ لِبَدًا) [ الجن : 19 ] اور چیلنج کے مقام میں فرمایا : (وَاِنْ كُنْتُمْ فِىْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰي عَبْدِنَا) [ البقرۃ : 23 ]
لَيْلًا : زمحشری نے فرمایا، اگر تم کہو کہ ”إِسْرَاءٌ“ کا معنی ہی رات کو چلنا ہے، پھر ”لَيْلًا“ کہنے کا مقصد کیا ہے ؟ تو میں کہتا ہوں کہ ”لَيْلًا“ کا لفظ نکرہ کی صورت میں لانے سے رات کی اس مدت کو جس میں سفر کیا، کم بتانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رات کے ایک تھوڑے سے حصے میں مکہ سے شام تک کا چالیس راتوں کا فاصلہ طے کروا دیا، کیونکہ تنکیر یہاں بعضیہ (بلکہ بقول بعض تقلیل و تحقیر) کا معنی دے رہی ہے (یہ بات ترجمہ میں بھی ملحوظ رکھی گئی ہے)۔ یاد رہے ! چالیس راتوں یا ایک مہینے سے زائد دنوں کا سفر ایک طرف کا ہے، آنے جانے کا دگنا سمجھ لیں۔
مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا : مسجد حرام کعبہ کے اردگرد والی مسجد، کیونکہ اسے کئی طرح کی حرمت حاصل ہے۔ بعض علماء پورے حرم کو مسجد حرام کہتے ہیں۔ جس رات یہ سفر ہوا آپ ﷺ ام ہانی ؓ کے گھر سوئے ہوئے تھے۔ وہاں سے آپ کو حطیم کعبہ میں لایا گیا اور پھر آپ حطیم سے براق پر سوار ہو کر مسجد اقصیٰ (دور ترین مسجد) یعنی بیت المقدس پہنچے، اس وقت مکہ سے سب مسجدوں سے دور پائی جانے والی مسجد یہی تھی، چونکہ سفر کی ابتدا حطیم سے ہوئی، اس لیے کئی علماء صرف مسجد کے حصے ہی کو مسجد حرام کہتے ہیں۔ بیت المقدس سے معراج (سیڑھی) کے ذریعے سے اوپر ساتوں آسمانوں سے گزر کر سدرۃ المنتہیٰ پہنچے، راستے میں متعدد جلیل القدر انبیاء ؑ سے ملاقاتیں ہوئیں، جنت و دوزخ کا مشاہدہ بھی کیا، سدرہ کے پاس ہی جبریل ؑ کو ان کی اصل صورت میں دیکھا، وہیں آپ کو پہلے پچاس نمازوں اور آخر میں روزانہ پانچ نمازوں کا حکم ہوا، پھر پلٹ کر بیت المقدس آئے تو آپ نے امام بن کر تمام انبیاء ؑ کے ساتھ نماز ادا کی۔ ابن کثیر ؓ نے اسی کو ترجیح دی ہے، لیکن قاضی عیاض وغیرہ کا خیال ہے کہ انبیاء کی امامت آپ نے واپسی پر نہیں بلکہ معراج کو جاتے ہوئے کروائی ہے۔ بہرحال اس کے بعد مسجد حرام تشریف لائے۔ واقعۂ اسراء و معراج کی تفصیلات کے لیے تفسیر ابن کثیر اور کتب احادیث کا مطالعہ فرمائیں۔ حافظ ابن کثیر ؓ نے بڑی تفصیل، ترتیب اور سلیقے سے روایات جمع فرما دی ہیں۔
3 مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کے سفر کا نام ”اسراء“ ہے، جو یہاں مذکور ہے اور وہاں سے سدرۃ المنتہیٰ تک کا سفر ”معراج“ کہلاتا ہے۔ اس کا ذکر سورة نجم اور کتب احادیث میں ہے۔ حافظ ابن کثیر ؓ نے اس آیت کی تفسیر میں بہت سی احادیث مع سند ذکر فرمائی ہیں، ان میں سے بعض روایات کے آخر میں فرمایا کہ امام بیہقی ؓ نے فرمایا : ”اس حدیث کے الفاظ دلیل ہیں کہ معراج اسی رات ہوئی ہے جب آپ مکہ سے بیت المقدس گئے ہیں اور یہی حق ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔“
3 قرطبی نے فرمایا کہ اسراء کا واقعہ حدیث کی تمام کتابوں میں ثابت ہے اور اسلام کے زیر نگیں تمام علاقوں کے صحابہ سے مروی ہے، اس لحاظ سے یہ متواتر ہے۔ نقاش نے اسے نقل کرنے والے بیس صحابہ ذکر کیے ہیں۔ گو بعض جزئیات میں اختلاف ہے مگر اصل واقعہ بلاشک و شبہ ثابت ہے۔ (قرطبی)
3 علمائے سلف و خلف کا عقیدہ ہے کہ یہ واقعہ بیداری میں روح اور جسم سمیت پیش آیا اور قرآن میں لفظ ”بعبدہ“ سے بھی اس کی شہادت ملتی ہے، کیونکہ عبد صرف روح کو نہیں کہتے، بلکہ روح مع جسد کو کہتے ہیں۔ پھر اگر یہ خواب کا واقعہ ہوتا تو کفار قریش اسے نہ جھٹلاتے، کیونکہ خواب میں تو ہر ایک کو عجیب و غریب واقعات پیش آتے رہتے ہیں اور نہ قرآن ہی ”سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ“ کی تمہید کے ساتھ اسے بیان کرتا، کیونکہ ان تمہیدی الفاظ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اہم اور خرق عادت واقعہ بیان کیا جا رہا ہے، پھر ”لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیَاتِنَا“ اور ”ۙمَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰى“ (نجم : 17) میں بھی سر کی آنکھوں سے دیکھنے کا ذکر ہے، پھر براق پر سواری بھی جسمانی معراج کی دلیل ہے۔ بعض علماء نے آیت کریمہ : (وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ) [ بنی إسرائیل : 60 ] میں لفظ ”اَلرُّوْیَا“ سے استدلال کیا ہے کہ یہ خواب کا واقعہ ہے، مگر محققین علمائے لغت نے تصریح کی ہے کہ لفظ ”اَلرُّوْیَا“ (جو ”رَأَی یَرَی“ کا مصدر ہے) بیداری میں آنکھوں کے دیکھنے پر بھی استعمال ہوتا ہے، یہاں یہی مراد ہے اور عبداللہ بن عباس ؓ نے تصریح فرمائی ہے : (ھِیَ رُؤْیَا عَیْنٍ أُرِیَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ لَیْلَۃَ أُسْرِيَ بِہِ إِلٰی بَیْتِ الْمَقْدِسِ) [ بخاری، مناقب الأنصار، باب المعراج : 3888 ] ”یہ آنکھوں کا دیکھنا تھا جو رسول اللہ ﷺ کو اس رات دکھایا گیا جس رات آپ کو بیت المقدس لے جایا گیا۔“ معلوم ہوا کہ اس آیت سے ان علماء کا استدلال درست نہیں ہے، تمام صحابہ روایتاً و درایتاً اس پر متفق ہیں کہ آپ ﷺ کو معراج بیداری کی حالت میں ہوئی اور جسم کے ساتھ ہوئی۔ صرف عائشہ اور معاویہ ؓ سے مروی ہے کہ معراج خواب میں ہوئی، مگر ایک تو یہ روایت سنداً منقطع ہے اور پھر ان کی اپنی رائے اور آیت کریمہ (وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ) [ بنی إسرائیل : 60 ] سے استدلال ہے جو صحابہ کے متفقہ فیصلے کے مقابلے میں توجہ کے قابل نہیں۔ (شوکانی، ابن کثیر)
3 علامہ جمال الدین قاسمی کے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ اکثر اہل علم کا کہنا ہے کہ اسراء بعثت نبوی کے بعد ہوا ہے اور یہ کہ وہ ہجرت سے ایک سال پہلے تھا۔ زہری اور ابن سعد وغیرہ کا یہی کہنا ہے، امام نووی نے بھی یہ بات یقین سے کہی ہے، ابن حزم ؓ نے مبالغہ کرتے ہوئے اس پر اجماع نقل فرمایا ہے اور کہا ہے کہ یہ (اسراء و معراج) رجب 12 نبوی میں ہوئی ہے۔ طبیعت کو اطمینان اس بات پر ہوتا ہے کہ اسراء و معراج کے واقعات ابوطالب اور خدیجہ ؓ کی وفات کے بعد ہوئے ہیں، کیونکہ اس دوران میں مشرکین کی ایذا بہت بڑھ گئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ انعام ان کی طرف سے پیش آنے والی ایذا سے تسلی دینے کے لیے اور آپ کی عزت افزائی اور تکریم کے لیے عطا فرمایا۔ اشرف الحواشی میں ہے کہ اکثر روایات کے مطابق یہ قصہ ہجرت سے ایک سال قبل کا ہے۔ امام ابن حزم ؓ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے اور ملا امین عمری نے اسے قطعی قرار دیا ہے۔ بعض روایات میں تین سال قبل بھی مذکور ہے۔
علامہ شنقیطی ؓ فرماتے ہیں کہ صحیحین میں ”شریک عن انس“ کی سند سے جو مذکور ہے کہ اسراء مذکور خواب میں واقع ہوا، وہ کتاب و سنت کی صریح نصوص اور اہل السنۃ والجماعہ کے عقیدے (کہ اسراء و معراج بیداری میں جسمانی ہوئی) کے خلاف نہیں، کیونکہ یہ عین ممکن ہے کہ پہلے یہ سب کچھ آپ کو خواب میں دکھایا گیا ہو اور پھر اس کی تصدیق بیداری میں دکھا کر کی گئی ہو، جیسا کہ آپ ﷺ نے خواب میں دیکھا : (لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ ۙ مُحَلِّقِيْنَ رُءُوْسَكُمْ وَمُقَصِّرِيْنَ) [ الفتح : 27 ] ”تم مسجد حرام میں ضرور بصرور داخل ہوگے، اگر اللہ نے چاہا، امن کی حالت میں، اپنے سر منڈاتے ہوئے اور کتراتے ہوئے۔“ پھر بیداری میں اس کی تصدیق بالفعل بھی فرما دی گئی۔ اس کی تصدیق عائشہ ؓ کی حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ آپ جو کچھ خواب میں دیکھتے وہ صبح کے طلوع ہونے کی طرح دن کو سامنے آجاتا۔ علاوہ ازیں انس ؓ سے شریک کے علاوہ بہت سے حفاظ نے یہ روایت بیان کی ہے، لیکن کسی نے بھی شریک کے خواب میں دیکھنے والے الفاظ بیان نہیں کیے۔ اہل علم کی ایک جماعت نے فرمایا کہ شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے انس ؓ سے یہ روایت صحیح یاد نہیں رکھی۔ امام مسلم نے فرمایا کہ شریک نے یہ حدیث ثابت بنانی (انس ؓ کے شاگرد) کی طرح بیان کی اور اس میں کچھ چیزیں آگے پیچھے کردیں اور کچھ کم زیادہ کردیں۔ دوسرے تمام حفاظ کی روایت صحیح ہے اور اس میں شریک والے الفاظ نہیں ہیں۔
3 بعض لوگ معراج کی رات میں لیلۃ القدر کی طرح خصوصی قیام اور تلاوت و ذکر کا اہتمام کرتے ہیں، اگر اس کی کوئی حقیقت ہوتی تو کم از کم کسی صحیح سند کے ساتھ اس مہینے اور دن کی تعیین ضرور معلوم ہوتی، جس میں یہ واقعہ ہوا اور صحابہ بھی اس رات اس کا اہتمام کرتے، جبکہ ستائیس (27) رجب کی کوئی صحیح روایت موجود نہیں اور نہ نبی کریم ﷺ یا صحابہ سے اس رات کی خاص عبادت کا کہیں ذکر ہے، رہی آتش بازی اور چراغاں تو وہ آتش پرستوں کے ساتھ مشابہت ہے جس سے پرہیز لازم ہے۔
3 اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی زیارت کی ہے یا نہیں، یہ بحث سورة نجم (9) (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى) میں آئے گی اور معراج کے واقعہ کا بقدر ضرورت ذکر بھی وہیں ہوگا۔ (ان شاء اللہ)
الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ : یعنی وہاں ظاہری اور مادی برکات بھی ہیں کہ وہاں چشموں، نہروں اور ہر قسم کے غلے اور پھلوں کی بہتات ہے اور معنوی و باطنی اعتبار سے بھی وہ خطہ بابرکت ہے کہ بیت المقدس میں چاروں مقدس کتابیں پڑھی گئیں، بہت سے انبیاء و رسل وہاں مبعوث ہوئے، وہاں دنیا میں کعبۃ اللہ کے بعد بنائی جانے والی دوسری مسجد ہے، جو ان تین مساجد میں شامل ہے جن کے علاوہ کسی جگہ ثواب کی نیت سے کجاوے کس کر جانا منع ہے۔ قرآن مجید میں کئی جگہ یہ اصطلاح بیت المقدس اور شام کے لیے آئی ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَنَجَّيْنٰهُ وَلُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا لِلْعٰلَمِيْن) [ الأنبیاء : 71] ”اور ہم نے اسے اور لوط کو اس سرزمین کی طرف نجات دی جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی۔“ اور فرمایا : (وَلِسُلَيْمٰنَ الرِّيْحَ عَاصِفَةً تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖٓ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا) [ الأنبیاء : 81 ] ”اور سلیمان کے لیے ہوا (مسخر کردی) جو تیز چلنے والی تھی، اس کے حکم سے اس زمین کی طرف چلی تھی جس میں ہم نے برکت رکھی۔“ ان تمام آیات سے مراد سرزمین شام ہے۔
لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا : اسراء میں پیش آنے والی نشانیاں، مثلاً آپ کے مکان کی چھت کا کھولا جانا، جبریل ؑ کا آپ کا سینہ مبارک چاک کرکے دل کو زم زم سے دھو کر ایمان و حکمت سے بھر کر پھر ملا دینا، براق کی سواری جس کا قدم حد نگاہ پر پڑتا تھا، مہینوں کا سفر لمحوں میں طے ہونا، بیت المقدس میں دودھ اور شراب کا پیش کیا جانا اور آپ کا دودھ کو پسند فرمانا، انبیاء ؑ کی ملاقات اور امامت وغیرہ، پھر سفر معراج کی بیشمار نشانیاں ان کے علاوہ ہیں جن کے متعلق فرمایا : (لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰيٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى) [ النجم : 18 ] ”بلاشبہ یقیناً اس نے اپنے رب کی بعض بہت بڑی نشانیاں دیکھیں۔“
اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پہلے ”سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى“ میں اپنا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ فرمایا، پھر ”بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ“ اور ”لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا“ میں تین مرتبہ جمع متکلم برائے تعظیم کے ساتھ، پھر اس آیت کے آخر میں ”ۭ اِنَّهٗ هُوَ“ غائب کے ساتھ اور اس سے اگلی آیت میں پھر جمع متکلم کے ساتھ فرمایا ہے، پھر بھی سمجھنے میں کسی جگہ کوئی الجھن پیش نہیں آئی بلکہ لطف محسوس ہوتا ہے۔ کلام کا یہ اسلوب بلاغت کا کمال ہے، اسے عربی میں التفات کہتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ واقعۂ اسراء سن کر اہل ایمان کے اسے تسلیم کرنے کو اور کفار کے اس سے انکار کو اور دونوں نے اس پر جو کچھ کہا اور کیا یقیناً وہ صرف وہی (اللہ) ہے جو سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا اور اس کے مطابق ہر ایک سے معاملہ کرنے والا اور جزا و سزا دینے والا ہے۔
Ayah 17:2وَاٰتَيْنَا مُوْسَي الْكِتٰبَ : یعنی جس طرح نبی کریم ﷺ کو اسراء کا شرف عطا فرمایا، اسی طرح ہم نے موسیٰ ؑ کو ”الْكِتٰبَ“ (تورات) سے نوازا۔ قرآن مجید میں عموماً نبی کریم ﷺ کے ذکر کے ساتھ موسیٰ ؑ اور بنی اسرائیل کا ذکر ہوتا ہے، تاکہ رسول اللہ ﷺ کو دعوت میں پیش آنے والی مشکلات کی مثال پیش نظر رہے اور آپ کی امت کو رسول کی اطاعت اور اس کی نافرمانی کے نتائج پیش نظر رہیں۔
وَجَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِيْٓ : اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا، یعنی تورات کو یا موسیٰ ؑ کو۔ یہ آیت سورة سجدہ کی آیت (23) کے مشابہ ہے۔
اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِيْ وَكِيْلًا : ”اَلَّا تَتَّخِذُوْا“ اصل میں ”أَنْ لَا تَتَّخِذُوْا“ ہے۔ یہاں ”أَنْ“ کو مصدریہ مان کر اس سے پہلے لام محذوف مانیں گے، یعنی ”لِءَلَّا تَتَّخِذُوْا“ (تاکہ تم۔۔) یا ”أَنْ“ بمعنی ”أَیْ“ (تفسیر یہ) ہے، یعنی ہم نے موسیٰ کو کتاب دی جس کا خلاصہ اور مطلب یہ ہے کہ۔۔ ”وَكِيْلًا“ ”وَکَلَ یَکِلُ“ (سپرد کرنا) سے ”فَعِیْلٌ“ بمعنی مفعول ہے، جس کے سپرد اپنا کام کیا جائے، یعنی میرے سوا کسی کو اپنا کارساز نہ سمجھو، نہ اپنے کام کسی اور کے سپرد کرو۔
Ayah 17:3ذُرِّيَّــةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ۔۔ :”ذُرِّيَّــةَ“ سے پہلے ”یَا“ حرف ندا محذوف ہے، ”اے ان لوگوں کی اولاد۔۔ !“ یعنی تم ان صالح لوگوں کی اولاد ہو جنھیں ہم نے نوح ؑ کے ساتھ کشتی میں سوار کرکے نجات بخشی۔ مقصد بنی اسرائیل کو ایمان اور عمل صالح پر ابھارنا ہے کہ دیکھو تم کن لوگوں کی اولاد ہو، تمہارے لیے اپنے صالح آبا و اجداد کے نقش قدم پر چل کر ایک اللہ کی عبادت کا پابند رہنا، اپنے باپ نوح ؑ کی طرح ہر وقت اسی کا شکر گزار رہنا اور اس کے سوا کسی کو اپنا وکیل، کارساز اور بھروسے کے قابل نہ سمجھنا لازم ہے۔
Ayah 17:4وَقَضَيْنَآ اِلٰى بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ فِي الْكِتٰبِ۔۔ : ”لَتُفْسِدُنَّ“ اور ”وَلَتَعْلُنَّ“ اصل میں ”لَتُفْسِدُوْنَنَّ“ اور ”لَتَعْلُوُوْنَنَّ“ تھے۔ اللہ تعالیٰ کا علم بندوں کی طرح محدود نہیں کہ اسے صرف گزشتہ اور موجودہ باتوں ہی کا علم ہو، بلکہ اسے آئندہ کسی بھی وقت ہونے والی ہر بات کا اسی طرح علم ہے جس طرح گزشتہ یا موجودہ کا پوری طرح علم ہے اور ہر گزشتہ یا آنے والا کام اس کے کمال علم و حکمت کے مطابق طے شدہ ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ کائنات میں اللہ تعالیٰ کی محکم و مضبوط تدبیر و تقدیر کی وجہ سے کوئی خرابی، کوئی حادثہ پیش نہیں آتا۔ اسی تقدیر کے مطابق انسان کو کچھ اختیار دے کر آزمایا گیا ہے اور وہ اپنے اختیار کو کس طرح استعمال کرے گا، اللہ تعالیٰ کو اس کا بھی پہلے سے علم ہے۔ اس علم کے مطابق اس نے بنی اسرائیل کو تورات سے پہلے ہی آگاہ کردیا کہ تم زمین میں دو مرتبہ فساد کرو گے اور بہت بڑی سرکشی کرو گے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کو پہلے بتانے کا اور ہماری امت کو یہ خبر دینے کا کیا فائدہ ؟ تو جواب یہ ہے کہ مقصد انھیں بتانے کا اور ہمیں اس کی خبر دینے کا یہ ہے کہ فساد اور سرکشی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے، تاکہ ہر شخص اس سے بچنے کی پوری جدوجہد کرے۔ ”اَلْاَرضِ“ سے مراد سرزمین شام ہے اور لام عہد کا ہے۔ پچھلی تفسیری آیات یعنی سورة انبیاء (81) میں مذکور ”اَلْاَرْضِ الَّتِی بَارَکْنَا فیھَا“ سے بھی شام ہی مراد ہے، یا مراد ساری زمین ہے اور یہودیوں کا فساد اور ان کو ملنے والی سزا شام میں بھی واقع ہوئی اور دوسرے علاقوں میں بھی۔
Ayahs 17:5–6فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا۔۔ : اس دو مرتبہ کے فساد اور اس کی سزا کی تعیین کا کوئی مضبوط اور قابل اعتماد ذریعہ ہمارے پاس قرآن و سنت کے سوا کچھ نہیں، کیونکہ تاریخ خصوصاً قبل مسیح کی تاریخ کی نہ کوئی سند ہے نہ اس کے ثبوت کی کوئی اور پختہ دلیل، رہا ان کا فساد تو اس کا شمار ہی نہیں۔ قرآن مجید میں ان کے مذکور فسادات ہی دیکھ لیں، سمندر سے پار ہوتے ہی معبود بنانے کا مطالبہ، پھر سامری کا بچھڑا بنانا اور اس کی عبادت، پھر موسیٰ ؑ سے مسلسل مختلف تقاضے، حتیٰ کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے دیکھنے کو موسیٰ ؑ پر ایمان لانے کی شرط قرار دے دیا۔ پھر جہاد کے لیے نکلنے کی دعوت پر (فَاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰهُنَا قٰعِدُوْنَ) [ المائدۃ : 24 ] کہنا، پھر ان کا سود کھانا، رشوت لینا، سبت (ہفتے کے دن) کی تعظیم کے بجائے حیلے کے ساتھ اس میں شکار کرنا۔ ہمسایہ قوموں کے اثر سے بت پرستی اور زنا کا عام ہونا، کتاب اللہ میں تحریف کرنا، لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھانا، اپنے بزرگوں اور نبیوں کو خدا کا درجہ دینا، احبارو رہبان کی تقلید کرنا، احبارو رہبان کا لوگوں کے اموال باطل طریقے سے کھانا اور صحیح دین سے لوگوں کو ہٹانا، اللہ کے نبیوں کو اور نیکی کا حکم دینے والے صالحین کو قتل کرنا، پھر رسول اللہ ﷺ کو پہچاننے کے باوجود ان پر ایمان نہ لانا، بلکہ آپ ﷺ کو قتل کرنے کے در پے ہونا۔ غرض ان کے فسادات کا کوئی شمار ہی نہیں، اسی طرح ان پر اللہ کے عذاب کا کوڑا مسلسل برستے رہنا بھی صرف دو دفعہ تک محدود نہیں بلکہ قیامت تک بار بار بدترین عذابوں کا نشانہ بننا قرآن مجید میں مذکور ہے، فرمایا : (وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ يَّسُوْمُهُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ) [ الأعراف : 167 ] ”اور جب تیرے رب نے صاف اعلان کردیا کہ وہ قیامت کے دن تک ان پر ایسا آدمی ضرور بھیجتا رہے گا جو انھیں برا عذاب دے۔“ اس لیے ان دو مرتبہ کی تعیین ایک مشکل کام ہے۔ مفسرین کا اس تعیین میں اختلاف بھی اس کی دلیل ہے۔ کوئی بابل کے بادشاہ سن حاریب اور اس کے جنگجو ساتھیوں کو اس کا مصداق قرار دیتا ہے، کوئی عمالقہ کو، کوئی بخت نصر کو، بعض جدید مفسرین نے یہاں بائبل سے لمبی چوڑی عبارتیں نقل کیں اور ان میں مذکور بعض واقعات اور شخصیتوں کو اس کا مصداق قرار دیا، حالانکہ بائبل کی کسی بات پر یقین جائز نہیں، سوائے ان باتوں کے جو قرآن و حدیث میں مذکور ہیں، رسول اللہ ﷺ نے صاف الفاظ میں فرمایا : (لاَ تُصَدِّقُوْا أَھْلَ الْکِتَابِ وَلَا تُکَذِّبُوْھُمْ وَ قُوْلُوْا : (اٰمَنَّا باللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ) [ البقرۃ : 136 ]) [ بخاري، الشہادات، باب لا یسأل أہل الشرک۔۔ ، قبل ح : 2685، تعلیقاً عن أبي ہریرہ ؓ ] ”اہل کتاب کو نہ سچا کہو اور نہ انھیں جھوٹا کہو، بلکہ یہ کہہ لیا کرو کہ ہم اللہ پر اور جو کچھ اس نے نازل کیا سب پر ایمان لائے۔“ اسی باب میں امام بخاری ؓ نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا : (یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِیْنَ ! کَیْفَ تَسْأَلُوْنَ أَھْلَ الْکِتَابِ ؟ وَکِتَابُکُمُ الَّذِيْ أُنْزِلَ عَلٰی نَبِیِّہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَحْدَثُ الْأَخْبَار باللّٰہِ تَقْرَؤُنَہُ لَمْ یُشَبْ وَقَدْ حَدَّثَکُمُ اللّٰہُ أَنَّ أَھْلَ الْکِتَابِ بَدَّلُوْا مَا کَتَبَ اللّٰہُ وَغَیَّرُوْا بِأَیْدِیْھِمُ الْکِتَابَ فَقَالُوْا : (ھٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِيَشْتَرُوْا بِهٖ ثَــمَنًا قَلِيْلًا) [ البقرۃ : 79] أَفَلاَ یَنْھَاکُمْ مَا جَاءَکُمْ مِنَ الْعِلْمِ عَنْ مُسَاءَلَتِھِمْ ؟ وَلَا وَاللّٰہِ ! مَا رَأَیْنَا مِنْھُمْ رَجُلاً قَطُّ یَسْأَلُکُمْ عَنِ الَّذِيْ أُنْزِلَ عَلَیْکُمْ) [ بخاری، الشھادات، باب لا یسأل أھل الشرک عن الشھادۃ وغیرھا : 2685 ] ”اے مسلمانو کی جماعت ! تم اہل کتاب سے کس طرح سوال کرتے ہو، حالانکہ تمہاری کتاب جو اس کے نبی ﷺ کی طرف نازل کی گئی وہ تمام خبروں میں سے اللہ کی طرف سے نئی ہے۔ تم اسے ایسی حالت میں پڑھتے ہو کہ اس میں کوئی ملاوٹ نہیں کی گئی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بتادیا ہے کہ اللہ نے جو کچھ لکھا تھا اہل کتاب نے اسے بدل دیا اور اپنے ہاتھوں سے کتاب کو تبدیل کردیا اور یہ کہہ دیا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، تاکہ اس کے ساتھ تھوڑی قیمت خریدیں۔ کیا وہ علم جو تمہارے پاس آیا ہے تمہیں ان سے سوال کرنے سے منع نہیں کرتا ؟ اور نہیں، قسم ہے اللہ کی ! ہم نے ان میں سے کسی آدمی کو کبھی نہیں دیکھا کہ وہ تم سے اس کے متعلق سوال کرتا ہو جو تم پر نازل کیا گیا ہے۔“ اب ایسی بات جسے سچا کہا ہی نہیں جاسکتا اس پر یقین کیسے ہوسکتا ہے۔ اگرچہ یہ تعیین نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ قرآن مجید محض تاریخ کی کتاب نہیں، نہ ہر جگہ اس میں واقعات پوری ترتیب اور تفصیل کے ساتھ مذکور ہوتے ہیں بلکہ اس میں واقعات کا صرف وہی حصہ بیان ہوتا ہے جو نصیحت و عبرت سے تعلق رکھتا ہے، تاہم اگر کسی معتبر ذریعے سے اس کی تفصیل معلوم ہوجائے تو نصیحت و عبرت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
3 قرآن مجید کے مطابق مصر سے نکلنے کے بعد موسیٰ ؑ نے بنی اسرائیل کو ارض مقدس میں داخلے کے لیے جہاد کا حکم دیا اور بتایا کہ اس سرزمین کو اللہ تعالیٰ نے تمہاری ملکیت بنانا طے فرما دیا ہے، مگر غلامی کی خوگر اس نسل نے نہایت گستاخانہ الفاظ میں جہاد کے لیے نکلنے سے انکار کردیا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة مائدہ (20 تا 26) اس کے نتیجے میں وہ چالیس سال وہیں صحرا میں سرگرداں رہے۔ موسیٰ ؑ اس دوران وفات پا گئے، اللہ کے اس جلیل القدر پیغمبر کو ارض مقدس میں جانے کی اس قدر حسرت تھی کہ انھوں نے وفات کے وقت دعا کی کہ یا اللہ ! مجھے ارض مقدس سے اتنا قریب کر دے کہ پتھر پھینکنے سے اس زمین میں پہنچ جائے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اگر میں وہاں ہوتا تو تمہیں ان کی قبر راستے کی ایک جانب سرخ ٹیلے کے نیچے دکھاتا۔“ [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب وفاۃ موسیٰ و ذکرہ بعد : 3407 ] جب وہ نسل جو ان ہوئی جو آزادی کے دور میں پیدا ہوئی تھی تو انھوں نے ارض شام اور بیت المقدس کو فتح کیا اور اللہ تعالیٰ نے انھیں آزادی کے ساتھ حکومت کی نعمت بھی عطا فرمائی۔ یہ دور کتنے عرصے پر محیط تھا، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دین سے دوری اور دنیا کی محبت کی بنا پر وہ آپس میں لڑنے لگے، اللہ تعالیٰ کے احکام کو پس پشت پھینک دیا اور اس قدر فساد فی الارض کے مرتکب ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے وہ سخت جنگ والے بندے بھیجے جن کا یہاں اس آیت میں ذکر ہے۔ وہ ان کے گھروں کے اندر گھس گئے اور ان کے گھروں، زمینوں، عورتوں اور بچوں پر قابض ہوگئے اور انھیں بیت المقدس اور ارض شام سے نکال باہر کیا، بیت المقدس میں داخل ہو کر اس کی جتنی بےحرمتی کرسکتے تھے انھوں نے کی۔ یہ پہلے فساد کی سزا تھی۔ اس وقت ان حملہ آوروں کا بادشاہ کون تھا، اللہ تعالیٰ نے واضح نہیں فرمایا۔ اس کے ایک عرصہ بعد بنی اسرائیل کے کچھ سرداروں نے ارض مقدس اور اپنے اسیروں کی واپسی کے لیے وقت کے نبی سے کوئی بادشاہ مقرر کرنے کی درخواست کی، جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق طالوت مقرر کیے گئے۔ یہ مفصل واقعہ سورة بقرہ (246 تا 251) اور اس کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ اس وقت کفار کا بادشاہ جالوت تھا، ممکن ہے بنی اسرائیل پر عذاب کا کوڑا بھی اسی کے ہاتھوں برسا ہو۔ بہرحال کفار کو شکست ہوئی اور داؤد ؑ نے جالوت کو قتل کردیا۔ ارض مقدس پر پھر بنی اسرائیل قابض ہوگئے اور اللہ کا دین پھر غالب ہوگیا۔ طالوت کے بعد داؤد ؑ نے جہاد کے ذریعے سے اس سلطنت کو مزید وسیع کیا، ان کے بعد سلیمان ؑ کو ایسی حکومت عطا ہوئی جو ان کی دعا کے مطابق ان کے بعد کسی کے لائق ہی نہیں۔ اس کی تفصیل سورة نمل (15 تا 44) ، سورة ص (17 تا 40) ، سورة انبیاء (77 تا 82) اور سورة سبا (10 تا 14) میں ملاحظہ فرمائیں۔ یہ سب آیات زیر تفسیر آیت : (ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ وَاَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ وَجَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِيْرًا) کی تفسیر ہیں۔ ان کی وفات کے بعد پھر اخلاقی زوال اور دنیا پرستی کا دور شروع ہوا، حتیٰ کہ کئی انبیاء وصلحاء، جو گناہ سے منع کرتے تھے، شہید کردیے گئے۔ اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل ختم ہوگیا، مشرک قوموں کی ہمسائیگی اور دوستی کے نتیجے میں شرک، جادو، قتل ناحق، زنا، ڈاکے وغیرہ پھیل گئے اور اللہ کی حدود معطل ہوگئیں، حتیٰ کہ مسیح ؑ کو بھی انھوں نے اپنے خیال میں سولی پر چڑھا دیا۔ اس سے پچھلے حاشیے میں بھی کئی خرابیاں ذکر ہوئی ہیں۔ وہ آپس میں لڑ کر کئی فرقوں اور کئی سلطنتوں میں بٹ گئے۔ انبیاء کو قتل کرنے اور مسیح ؑ کو اپنے خیال میں سولی دینے کے بعد پھر ان پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا سخت ترین کوڑا برسا۔ یہ دوسرا موقع تھا کہ ان پر اللہ کے سخت لڑاکا لوگ حملہ آور ہوئے اور ان سے وہ سلوک کیا جو اس سے اگلی آیت ”فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِيَسُوْۗءٗا وُجُوْهَكُمْ“ میں مذکور ہے۔
Ayah 17:7فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ۔۔ :”لِيَسُوْۗءٗا“ ”سَاءَ ہُ یَسُوْءُ ہُ“ کا فعل مضارع ہے، جو اصل میں ”یَسُوْءُ وْنَ“ تھا۔ ”لام کَیْ“ کے بعد ”اَنْ“ مقدر کی وجہ سے نون گرگیا۔ یہ فعل متعدی ہے، غمگین کرنا، برا کردینا، بگاڑ دینا۔ خوشی ہو یا غم، جسمانی یا قلبی راحت ہو یا اذیت اس کا اثر چہرے پر نمایاں ہوتا ہے، خوشی میں چہرہ چمک اٹھتا ہے اور غم سے کالا ہوجاتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِيْۗـــــَٔتْ وُجُوْهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا) [ الملک : 27 ] ”پس جب وہ اس (عذاب) کو قریب دیکھیں گے تو ان لوگوں کے چہرے بگڑ جائیں گے (بگاڑ دیے جائیں گے) جنھوں نے کفر کیا۔“ لوط ؑ کے غمگین ہونے کے متعلق فرمایا : (سِی ءَ بِھِم) [ ھود : 77 ] ”وہ ان (مہمانوں) کی وجہ سے مغموم ہوگیا۔“ اور فرمایا : (ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّهُوَ كَظِيْمٌ) [ النحل : 58] ”(لڑکی پیدا ہونے کی بشارت ملنے پر) اس کا منہ سارا دن کالا رہتا ہے اور وہ غم سے بھرا ہوتا ہے۔“ عَلَوْا“ ”عَلَا یَعْلُوْ“ سے ماضی معلوم جمع مذکرغائب ہے، اس کا مفعول محذوف ہے، یعنی ”مَا عَلَوْہُ۔“ ”تَتْبِیْراً“ ویران کرنا، برباد کرنا، ٹکڑے ٹکڑے کر کے بکھیر دینا۔ ”وَّلِــيُتَبِّرُوْا“ کی تاکید ”تَتْبِيْرًا“ سے کی ہے، اس لیے ترجمہ میں اس کا معنی بری طرح برباد کرنا کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ پہلی دفعہ کا عذاب مکمل ”تَتْبِيْرًا“ یعنی دوسری مرتبہ جیسا بری طرح برباد کرنا نہیں تھا، جب کہ دوسری مرتبہ کا عذاب دشمن کے گھروں میں گھسنے اور مسجد کی بےحرمتی سے کہیں بڑھ کر تھا، اس سے بنی اسرائیل بری طرح خوف و غم میں مبتلا ہوئے، حتیٰ کہ ان کے چہرے بگڑ گئے اور دشمن نے بنی اسرائیل کو اس بری طرح برباد کیا کہ وہ مدتوں اٹھ نہیں سکے۔
3 اس دوسری دفعہ والے بندوں سے مراد کون لوگ ہیں، اگرچہ قرآن نے ان کی تعیین نہیں فرمائی، تاہم اگر دیکھا جائے کہ رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری کے وقت یہودی بیت المقدس سے مکمل بےدخل تھے، وہاں نصرانیوں کا قبضہ تھا اور یہودیوں کو داخلے تک کی اجازت نہیں تھی، وہ مدینہ، خیبر اور دنیا کے مختلف خطوں میں بکھرے ہوئے تھے تو اللہ کی طرف سے ان زبردست بندوں کے ان پر مسلط ہو کر انھیں مکمل طور پر تباہ و برباد کرکے قدس سے نکال دینے کا اندازہ ہوتا ہے۔ مؤرخین دوسری مرتبہ کا حملہ آور طیوطوس (ٹیوٹس) رومی کو قرار دیتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس اس کی تعیین کا کوئی معتبر ذریعہ نہیں۔ یہاں آکر اسرائیلیوں کی تاریخ ختم ہوجاتی ہے، کیونکہ اس کے بعد وہ دنیا کے مختلف علاقوں میں بکھر گئے، چناچہ اس کے بعد ان ممالک کی تاریخ کے ضمن ہی میں یہود کی تاریخ کا ذکر آتا ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں نے بیت المقدس پر حملہ کیا تو اس وقت یہاں نصرانیوں کی حکومت تھی جنھوں نے مقابلے کی تاب نہ لا کر 16 ھ میں صلح کے ذریعے سے شہر کی چابیاں امیر المومنین عمر بن خطاب ؓ کے حوالے کردیں۔ قدس سے نکلنے کے بعد تقریباً دو ہزار سال تک یہودی بیت المقدس سے بےدخل رہے۔ مگر جب مسلمانوں نے اللہ کے احکام سے بغاوت اختیار کی، شرک و بدعت، فرقہ پرستی، عیش و عشرت، زنا، شراب، موسیقی، کفار سے دوستی اور ان کی تقلید اختیار کرلی، اپنے ہی دستور و قانون بنا کر کتاب و سنت پر عمل ترک کردیا۔ دنیا کی محبت میں جہاد چھوڑ بیٹھے تو ان کی بدعملیوں کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دشمن یہودیوں کو دوسرے کفار کی مدد (بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰه) کے ساتھ پھر 1967 ء میں بیت المقدس پر قبضے کا موقع دے دیا، مگر یہ سمجھ لینا کہ اب یہ یہودیوں کے قبضے ہی میں رہے گا درست نہیں، مسلمان اپنے دین کی طرف پلٹیں گے، بلکہ پلٹنا شروع ہوچکے ہیں اور مسلمانوں اور یہودیوں کی جنگ ہوگی، اس میں مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی نصرت عطا ہوگی جس کا ذکر اس حدیث میں ہے جو ابوہریرہ ؓ نے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یُقَاتِلَ الْمُسْلِمُوْنَ الْیَھُوْدَ ، فَیَقْتُلُھُمُ الْمُسْلِمُوْنَ ، حَتّٰی یَخْتَبِئَ الْیَھُوْدِيُّ مِنْ وَرَاءِ الْحَجَرِ أَوِ الشَّجَرِ ، فَیَقُوْلُ الْحَجَرُ أَوِ الشَّجَرُ یَا مُسْلِمُ ! یَا عَبْدَ اللّٰہِ ! ھٰذَا یَھُوْدِیٌّ خَلْفِيْ ، فَتَعَالَ فَاقْتُلْہُ ، إِلَّا الْغَرْقَدَ ، فَإِنَّہُ مِنْ شَجَرِ الْیَھُوْدِ) [ مسلم، الفتن، باب لا تقوم الساعۃ حتی یمر الرجل۔۔ : 2922 ] ”قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ مسلمان یہود سے جنگ کریں گے اور مسلمان انھیں قتل کریں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپے گا تو پتھر یا درخت کہے گا : ”اے مسلم ! اے اللہ کے بندے ! یہ یہودی میرے پیچھے ہے تو اسے قتل کر دے۔“ سوائے ”غرقد“ نامی درخت کے، کیونکہ وہ یہود کے درختوں میں سے ہے۔“
Ayah 17:8عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ : یہ اللہ کی رحمت کا بیان ہے کہ اتنی سرکشی اور سزا کے بعد بھی اگر تم واپس پلٹ آؤ اور حد سے بڑھی ہوئی اس دوسری سرکشی اور اس کی وجہ سے ناقابل بیان تباہی سے دو چار ہونے کے بعد بھی تورات و انجیل میں مذکور نبی محمد ﷺ کی پیروی اختیار کرو تو پوری امید ہے کہ تمہارا رب تم پر رحم فرمائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورة اعراف کی آیات (156، 157) میں فرمایا کہ میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے، سو میں اسے ان لوگوں کے لیے ضرور لکھ دوں گا جو اس رسول کی پیروی کریں گے جو امی نبی ہے، جسے وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ چناچہ اس بشارت کے مطابق جو اسرائیلی، مثلاً عبداللہ بن سلام ؓ وغیرہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائے وہ رحمت الٰہی کے حق دار بن گئے۔
وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا : یعنی اگر تم پھر دوبارہ حد سے بڑھے اور فساد کبیر کے مرتکب ہوئے تو ہم دوبارہ تمہارے ساتھ وہی پہلے جیسا سلوک کریں گے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو آپ نے یہود مدینہ کے ساتھ صلح کے ساتھ رہنے کا اور متحد ہو کر حملہ آور دشمن کا مقابلہ کرنے کا معاہدہ کیا، مگر بنوقینقاع نے ایک مسلم خاتون کی بےحرمتی کی، پھر معاہدہ توڑ دیا، رسول اللہ ﷺ نے ان کا محاصرہ کرلیا اور آخر کار انھیں مدینہ سے جلا وطن کردیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ ایک دفعہ کسی معاملے کے لیے بنونضیر قبیلہ میں تشریف لے گئے تو انھوں نے آپ کو چھت سے پتھر گرا کر شہید کرنے کی سازش کی، جو آپ کے علم میں آگئی، آپ نے ان کا محاصرہ کرلیا، وہ مقابلہ کی تاب نہ لاسکے اور رسول اللہ ﷺ نے انھیں ان کی کتاب تورات میں مذکور سزا دینے کا ارادہ کیا، مگر ان کے ہمدرد عبداللہ بن ابی منافق کے حد سے بڑھے ہوئے اصرار پر آپ نے ان کی جاں بخشی کرکے انھیں بھی جلاوطن کردیا۔ پھر تیسرے قبیلے بنوقریظہ نے خندق کے موقع پر جب دس ہزار کفار کے لشکر جرار نے مدینہ جیسی چھوٹی سی بستی پر یلغار کرکے محاصرہ کیا ہوا تھا، انھوں نے عین حالت جنگ میں معاہدہ توڑ کر دشمن کا ساتھ دیا، تو حملہ آوروں سے فارغ ہو کر آپ ﷺ نے بنوقریظہ کا محاصرہ کرلیا۔ وہ مقابلہ نہ کرسکے تو مسلمانوں میں سے اپنے پرانے خیر خواہ اور ہمدرد سعد بن معاذ ؓ کے فیصلے پر اپنے آپ کو مسلمانوں کے حوالے کردیا، اگر وہ نبی ﷺ کے فیصلے پر حوالے ہوتے تو شاید آپ ﷺ ان سے پہلے قبیلوں کی طرح رعایت فرماتے، مگر جب انھوں نے سعد بن معاذ ؓ کو حکم مانا، اس امید پر کہ وہ عبداللہ بن ابی منافق کی طرح ہماری پرانی دوستی کا خیال رکھیں گے تو سعد ؓ نے فرمایا : ”اب وقت آگیا ہے کہ سعد کو اللہ کا حکم نافذ کرنے کے راستے میں کوئی دوستی حائل نہ ہو۔“ چناچہ انھوں نے وہ فیصلہ کیا جو تورات میں مذکور تھا اور جسے رسول اللہ ﷺ نے بھی اللہ کا فیصلہ قرار دیا۔ چناچہ ان کے تمام بالغ مرد جو سات سو تھے، قتل کردیے گئے اور ان کی عورتوں اور بچوں کو لونڈی و غلام بنا لیا گیا۔[ دیکھیے بخاری، المغازی، باب مرجع النبي ﷺ من الأحزاب۔۔ : 4122 ] یہ ”وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا“ کی ایک تفسیر تھی۔ پھر خیبر والوں نے عبداللہ بن عمر ؓ کے ہاتھ پاؤں توڑ دیے تو امیر المومنین عمر بن خطاب نے تمام یہود و نصاریٰ کو پورے جزیرۂ عرب سے جلا وطن کردیا۔ پھر اللہ کے وعدے کے مطابق ان کی ہر سرکشی پر ان کی سرکوبی کرنے والا کوئی نہ کوئی فرماں روا ہمیشہ ان کا بندوبست کرتا رہا۔ (دیکھیے اعراف : 167) قریب زمانے میں ہٹلر نے انھیں عبرت ناک انجام سے دو چار کیا۔ اب تمام کفار نصاریٰ ، کمیونسٹوں اور بت پرست ہندوؤں کی پشت پناہی سے، پھر یہ لوگ فلسطین میں قدس پر قبضہ کرکے اپنی ریاست اسرائیل کے نام سے بنا کر فلسطین کے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں اور مسلم دشمنی کی وجہ سے تمام کفار ان کے ساتھ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا تو اس کے وعدے کے مطابق عنقریب ان کے ساتھ دوبارہ وہی کچھ ہونے والا ہے جو پہلے ہوتا رہا ہے۔ پھر وہ وقت بھی آ کر رہے گا جب مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں پتھر اور درخت بھی ان کے قتل کے لیے مسلمانوں کو ان کی اطلاع دیں گے، جیسا کہ اس سے پہلے صحیح مسلم کی حدیث میں گزرا ہے۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہے جسے نافذ ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ بنی اسرائیل کی یہ ساری داستان مسلمانوں کو عبرت کے لیے سنائی گئی ہے کہ اگر تم نے ایسا کیا تو تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا۔
وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِيْنَ حَصِيْرًا :”حَصِيْرًا“ یا تو ”حَصَرَ یَحْصُرُ حَصْرًا“ (ن) سے ہے، جس کا معنی قید کرنا، گھیرنا ہے، یعنی قید خانہ، یا مراد وہ حصیر (چٹائی) ہے جو بچھائی جاتی ہے، یعنی جہنم ان کا بچھونا بنے گی، جیسا کہ فرمایا : (لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ) [ الأعراف : 41 ] ”ان کے لیے جہنم کے بستر ہوں گے۔“
Ayahs 17:9–10اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِيْ لِلَّتِيْ ھِيَ اَقْوَمُ۔۔ : یعنی یہ قرآن تمام دینی اور دنیوی معاملات میں سب سے سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم رکھنے کا وہ طریقہ سکھایا گیا ہے جس سے اچھا کوئی طریقہ نہیں، مگر ترک دنیا اور رہبانیت اختیار کرنے اور انسانی فطرت کے تقاضوں کو پامال کرنے سے بھی منع فرمایا گیا ہے، بلکہ اس کے بجائے دنیا میں باعزت اور غالب ہو کر رہنے کا اور انسان کے فطری تقاضوں اور دنیا کی آسائشوں سے بہرہ ور ہونے کا بھی ایسا عمدہ طریقہ سکھایا گیا ہے جو ہر قسم کی زیادتی، سرکشی اور ہوس پرستی سے پاک ہے اور دنیا میں ہر مسلم اور غیر مسلم کے لیے امن و سلامتی کا ضامن ہے۔
ہاں جو لوگ اس پر ایمان لے آئیں اور اس کے مطابق عمل صالح کریں انھیں وہ اجر کبیر کی بھی بشارت دیتا ہے اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہ لائیں انھیں اس بات سے بھی آگاہ کرتا ہے کہ دنیا میں وہ بظاہر کتنے ہی خوش حال اور صاحب مال و اولاد ہوں دنیا میں بھی ان کے لیے عذاب ہے (دیکھیے توبہ : 55۔ طٰہٰ : 124 تا 127) اور آخرت میں بھی ان کے لیے عذاب الیم ہے جو دنیا کے عذاب سے کہیں زیادہ سخت ہے، جیسا کہ سورة طٰہٰ کی مذکورہ آیات کے آخر میں فرمایا : (وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَشَدُّ وَاَبْقی) ”اور یقیناً آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ باقی رہنے والا ہے۔“ مسلمانوں کے لیے ان دو آیتوں میں دو بشارتیں ہیں، ایک ان کے لیے اجر کبیر کی، دوسری ان کے دشمنوں کا عذاب الیم میں مبتلا ہونا بھی ان کے لیے خوشی کی خبر ہے۔
Ayah 17:11وَيَدْعُ الْاِنْسَان بالشَّرِّ : ”يَدْعُ“ اصل میں ”یَدْعُوْ“ تھا، مگر مصحف عثمانی کے خط میں اسے پڑھنے کے مطابق لکھ دیا گیا، کیونکہ یہ واؤ پڑھنے میں نہیں آتی، جیسا کہ : (سَـنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ) [ العلق : 18 ] میں بھی واؤ نہیں لکھی گئی، اسی لیے مسلمانوں نے اسی مصحف کے خط کی حفاظت کرتے ہوئے واؤ نہیں لکھی۔ فراء نے فرمایا کہ اگر یہ واؤ کے ساتھ لکھا جائے تو بھی درست ہوگا۔ (ابن عاشور)
دُعَاۗءَهٗ بالْخَيْرِ یہ ”کَدُعَاءِہِ بالْخَیْرِ“ تھا، کاف حذف کرنے سے منصوب ہوگیا۔ مفعول مطلق کا بھی یہی معنی ہے، یعنی انسان بعض اوقات غصے میں یا اکتا کر اپنے لیے یا اپنے اہل و عیال کے لیے اللہ تعالیٰ سے بد دعائیں کرتا ہے، مثلاً اللہ کرے میں مرجاؤں، اللہ کرے تمہارا بیڑہ غرق ہوجائے، تمہارا خانہ خراب ہوجائے وغیرہ۔ انسان اسی طرح اصرار سے بددعا کرتا ہے جس طرح حالت اعتدال میں اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لیے خیر کی دعا کرتا ہے، مثلاً یا اللہ ! ہمیں بخش دے، یا اللہ ! ہماری حفاظت فرما وغیرہ۔ اسی طرح وہ کفار کے ایمان نہ لانے پر ان کے لیے تباہی و بربادی کی فوراً بددعا کرنے لگتا ہے، حالانکہ اسے کیا خبر کہ ان میں سے کئی لوگوں نے آگے چل کر ایمان لے آنا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کی طبیعت میں شروع سے بہت جلد بازی پائی جاتی ہے۔ ”کَانَ“ جلد بازی کے استمرار اور تمکن کو ظاہر کر رہا ہے اور ترجمہ بھی اسی کے مطابق کیا گیا ہے۔ ”عَجُوْلًا“ مبالغے کا صیغہ ہے، بہت جلد باز۔ اپنے حق میں بددعا کی ایک بدترین مثال ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کی وہ دعا ہے جس میں انھوں نے اپنے آپ پر پتھر برسانے یا عذاب الیم لانے کی بددعا کی تھی۔ دیکھیے سورة انفال (32، 33)۔
3 مگر اللہ تعالیٰ ایسا مہربان ہے کہ بددعاؤں کو فوراً قبول نہیں فرماتا اور اگر وہ قبول کرے تو انسان تباہ و برباد ہوجائے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة یونس کی آیت (11)۔
Ayah 17:12وَجَعَلْنَا الَّيْلَ وَالنَّهَارَ اٰيَـتَيْنِ : ان دونوں کو نشانیاں اس لیے قرار دیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے وجود کا، اس کی کمال کاریگری اور قدرت کا اور اس اکیلے کے عبادت کا حق دار ہونے کا پتا چلتا ہے۔ رات اور دن کو بطور دلیل اور نعمت کے قرآن نے متعدد مقامات پر بیان فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة حم السجدہ (37) ، یٰسٓ (37) ، یونس (6) ، آل عمران (190) ، بقرہ (164) ، فرقان (62) ، سورة زمر (5) اور دیگر آیات۔
فَمَــحَوْنَآ اٰيَةَ الَّيْلِ۔۔ : ”مَحَا یَمْحُوْ مَحْوًا“ (ن) کسی چیز کا نشان ختم کردینا، مٹا دینا، یعنی رات اور دن جس طرح نشانیاں ہیں اسی طرح ان کا وجود اور ان کا کم یا زیادہ ہوتے ہوئے مسلسل روزانہ ایک دوسرے کے پیچھے آنا بھی نعمت ہیں، کیونکہ رات کی تاریکی اور خاموشی انسان کے سکون، راحت اور نیند کے لیے ضروری ہے اور دن کی روشنی ہر کام کے لیے اور اللہ کا فضل تلاش کرنے کے لیے ضروری ہے۔ یہ اللہ کا انعام ہے کہ آرام کے لیے رات بنادی، پھر اسے مٹا کر کام کے لیے دن بنادیا، اگر اللہ تعالیٰ ہمیشہ رات یا ہمیشہ دن بنا دیتا تو زندگی کا سلسلہ کس طرح قائم رہ سکتا تھا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة قصص (71 تا 73) ، سورة نبا (9 تا 11) اور سورة روم (23)۔
وَلِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِيْنَ وَالْحِسَابَ : یعنی اگر نہ دن رات ہوتے اور نہ رات اور دن کے بتدریج روزانہ چھوٹے یا بڑے ہونے کا سلسلہ ہوتا، نہ چاند کے ہلال سے بدر اور بدر سے ہلال بننے کی منزلیں ہوتیں تو ہمیشہ ایک جیسا موسم رہتا اور سال اور مہینوں کا کچھ پتا نہ چلتا، نہ وقت کا وجود ہوتا جس پر کئی دینی معاملات، مثلاً نماز، روزے، زکوٰۃ، حج، عید، عدت وغیرہ کا اور تمام دنیوی معاملات کا انحصار ہے۔ rnۭ وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِيْلًا : یعنی ہر وہ چیز جس میں تمہاری دنیا و آخرت کی کامیابی ہے، اسے ہم نے خوب کھول کر بیان کردیا ہے۔ ”تَفْصِيْلًا“ مصدر تاکید کے لیے ہے، اس لیے معنی کیا ہے خوب کھول کر بیان کرنا۔ مزید دیکھیے سورة انعام (38) اور سورة نحل (89)۔
ان آیات (10 تا 13) کی باہمی مناسبت ابن عاشور اور شاہ عبد القادر ; کے کلام کو ملا کر یہ ہے کہ آیت (10) میں جب کفار کے لیے عذاب الیم تیار کرنے کا ذکر فرمایا تو آیت (11) میں کفار کے اس عناد پر مبنی مطالبے کی وجہ بتائی جو وہ مسلمانوں سے کرتے تھے کہ وہ عذاب الیم ابھی لاؤ، چلو ہم پر آسمان گرا دو ، اللہ تعالیٰ ہم پر پتھروں کی بارش برسا دے۔ فرمایا انسان جلد بازی سے بغیر سوچے سمجھے اپنے نقصان کی دعا کرتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت اور خود انسان کی مصلحت کا تقاضا اس کی بددعا کو قبول نہ کرنا ہے۔ (ابن عاشور) آیت (13) میں بتایا کہ کفار کے جلد عذاب کے مطالبے سے یا مسلمانوں کے کفار کو فوراً برباد کرنے کی بددعا سے کچھ حاصل نہیں۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”گھبرانے سے فائدہ نہیں، ہر چیز کا وقت اور اندازہ مقرر ہے، جیسے رات اور دن، کسی کے گھبرانے سے رات کم نہیں ہوجاتی، اپنے وقت پر آپ صبح ہوجاتی ہے۔“ (موضح)
Ayahs 17:13–14وَكُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ۔۔ : ”طَاءِرٌ“ کا لفظی معنی اڑنے والا ہے۔ مراد کسی بھی چیز کا وہ جز ہے جو انسان کے حصے میں آئے، گویا وہ اڑ کر اس کے پاس آتا ہے۔ شگون لینے یا قرعہ ڈالنے کی صورت میں اس کے حق میں نکلنے والا نتیجہ خواہ اچھا ہو یا برا۔ انسان کے حصے میں آنے والی چیز یا اس کا عمل جو اس نے کرنا ہے اور اس کا رزق جو اسے ملنا ہے، سب پر یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل وتمیز دے کر یہ اختیار دیا ہے کہ وہ سیدھے راستے پر چلے یا غلط راستے پر، نیک عمل کرے یا بد، پھر بھی اس نے جو کچھ کرنا ہے، خواہ اس کے اختیار میں ہے، جیسے نیکی یا بدی اور خواہ اس کے اختیار میں نہیں ہے، جیسے اس کی عمر، اسے پیش آنے والے اچھے یا برے حوادث، سب اللہ تعالیٰ کو پہلے سے معلوم ہے اور وہ ہر انسان نے کرنا ہی کرنا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا علم اور اندازہ (تقدیر) غلط نہیں ہوسکتے۔ اس بات کو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا کہ ہر انسان کے نصیب اور حصے میں جو کچھ آنے والا ہے وہ ہم نے اس کی گردن کے ساتھ لازم کردیا ہے، جیسے گردن میں پڑا ہوا طوق یا ہار۔ جو چیز کسی کو لازم کردی جائے اور وہ اس سے جدا نہ ہو سکے اس کے متعلق کہا جاتا ہے : ”أَلْزَمْتُہُ فِيْ عُنُقِہِ“ کہ میں نے اسے اس کی گردن میں چپکا دیا ہے۔
يَوْمَ الْقِيٰمَةِ۔۔ : آیت کا پہلا حصہ تقدیر کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور یہ حصہ انسان کے ان اعمال سے متعلق ہے جو اس نے دنیا میں کیے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے تحریر کرنے کے لیے فرشتے مقرر فرما رکھے ہیں۔ دیکھیے سورة قٓ (16 تا 18) اور انفطار (10 تا 12) ان کی تیار کردہ کتاب اعمال قیامت کے دن ہر انسان کے سامنے آجائے گی، ایسی صورت میں کہ خودبخود کھلی ہوگی، آدمی خواہ پڑھا ہوا ہے یا ان پڑھ، ہر ایک کو حکم ہوگا کہ اپنے اعمال کی کتاب پڑھ لے اور ہر شخص اسے پڑھ لے گا، گویا اس کی زندگی کی مکمل تصویر اس کے سامنے آجائے گی، جسے وہ پہلے بھی بہانہ سازیوں کے باوجود خوب جانتا ہوگا۔ (دیکھیے قیامہ : 13 تا 15) اس کتاب اعمال میں اس کا کوئی چھوٹا یا بڑا عمل درج ہونے سے رہ نہیں جائے گا۔ دیکھیے سورة کہف (49)۔rnۭ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا : اس کی ترکیب یہ کی جاتی ہے ”كَفٰى“ فعل، باء زائدہ، ”نَفْسِکَ“ فاعل، ”حَسِيْبًا“ تمیز اور ”عَلَيْكَ“ اس کے متعلق ہے۔ یہ ترکیب درست ہے، مگر اس میں کمی صرف یہ ہے کہ باء کو محض زائدہ کہہ دیا گیا ہے، حالانکہ قرآن مجید میں ایک حرف بھی بےمقصد و زائد نہیں، چناچہ شنقیطی، طنطاوی اور کئی مفسرین نے صراحت فرمائی ہے کہ یہ ”کَفیٰ“ کی تاکید کے لیے ہے، یعنی آج تو خود اپنے آپ پر بطور محاسب بہت کافی ہے۔ یہی بات ”وَكَفٰى بِرَبِّكَ وَكِيْلًا“ (بنی اسرائیل : 65) میں بھی ملحوظ رکھیں۔
نفس کے بطور محاسب کافی ہونے میں وہ صورت بھی شامل ہے کہ جب انسان اس کتاب اعمال کو جھٹلا دے گا، پھر اللہ کے حکم سے زبان پر مہر لگ جائے گی اور خود انسان کے جسم کا ہر حصہ اپنے اعمال کی شہادت دے گا۔ اب خود اپنے جسم سے زیادہ کافی محاسب کون ہوسکتا ہے۔ دیکھیے سورة یس (65) ، حم السجدہ (19 تا 23) اور سورة مجادلہ (18)۔