Ayah 17:15مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا يَهْــتَدِيْ لِنَفْسِهٖ۔۔ : مطلب یہ ہے کہ جو شخص سیدھے راستے پر چلتا ہے وہ کسی پر احسان نہیں کرتا، بلکہ اس کا فائدہ اسی کو پہنچتا ہے اور جو اس سے ہٹ کر غلط راستے پر چلتا ہے تو اس کا وبال بھی اسی پر ہوگا۔
وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى۔۔ :”تَزِرُ“ ”وَزَرَ یَزِرُ وِزْرًا“ (ض) بوجھ اٹھانا۔ ”وَازِرَةٌ“ اسم فاعل ہے اور ”نَفْسٌ“ کی صفت ہے جو یہاں پوشیدہ ہے، یعنی کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی، بلکہ ہر ایک کو اپنا بوجھ خود اٹھانا پڑے گا۔ اس مفہوم کی کئی آیات ہیں، دیکھیے سورة انعام (164) اور سورة فاطر (18) وغیرہ۔
بعض آیات میں کچھ لوگوں کے اپنے گناہوں کے ساتھ دوسروں کے گناہ بھی اٹھانے کا ذکر ہے، جیسا کہ سورة نحل (25) اور عنکبوت (13) میں ہے :”وہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور ان کے بھی جن کو وہ بغیر علم کے گمراہ کرتے رہے۔“ تو یہ دراصل دوسروں کا بوجھ نہیں بلکہ دوسروں کو گمراہ کرنے کی وجہ سے خود ان کا اپنا بوجھ ہے، گناہ کرنے والے اپنا بوجھ خود اٹھائیں گے۔ سورة مائدہ (32) میں آدم ؑ کے قاتل بیٹے پر ہر قتل کے گناہ کا ایک حصہ ڈالے جانے کا مطلب بھی یہی ہے۔ اسی طرح ابن عمر ؓ سے مروی حدیث کہ ”میت کو اس کے گھر والوں کے اس پر رونے سے عذاب ہوتا ہے“ کا مطلب بھی اہل علم نے یہ بیان فرمایا کہ جب مرنے والا اس کی وصیت کر گیا ہو، یا اسے معلوم ہو کہ گھر والے ایسا کریں گے، مگر اس نے انھیں منع نہ کیا ہو، کیونکہ اس پر لازم تھا کہ گھر والوں کو بھی اللہ کی نافرمانی سے بچاتا۔ (دیکھیے تحریم : 6) اگر اس کے منع کرنے کے باوجود کوئی شخص بین کرتا ہے، یا گریبان چاک کرتا ہے تو وہ اس سے بری ہے۔ امام بخاری ؓ نے ”کِتَابُ الْجَنَاءِزِ“ میں باب باندھا ہے : ”بَابُ قَوْلِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُعَذَّبُ الْمَیِّتُ بِبَعْضِ بُکَاءِ أَھْلِہِ عَلَیْہِ“ یعنی رسول اللہ ﷺ کا فرمان کہ میت کو اس کے گھر والوں کے بعض قسم کے رونے سے عذاب ہوتا ہے۔ امام بخاری ؓ نے فرمایا ہے : ”إِذَا کَان النَّوْحُ مِنْ سُنَّتِہٖ“ یعنی یہ اس وقت ہے جب بین کرنا اور سننا میت کا طریقہ اور معمول ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا) [ التحریم : 6 ] ”اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔“ اور نبی ﷺ نے فرمایا : (کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْءُوْلٍ عَنْ رَّعِیَّتِہِ) [ بخاري، النکاح، باب المرأۃ راعیۃ۔۔ : 5200 ] ”تم میں سے ہر ایک حکمران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہونے والا ہے۔“ تو جب یہ میت کا معمول اور طریقہ نہ ہو تو وہ ام المومنین عائشہ ؓ کے فرمانے کے مطابق (وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى) [ الأنعام : 164 ] (اور کوئی بوجھ اٹھانے والی کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی) کا مصداق ہوگا، یعنی اسے عذاب نہیں ہوگا اور وہ اس فرمانِ الٰہی کی طرح ہوگا : (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ) [ فاطر : 18 ] ”اور اگر کوئی بوجھ سے لدی ہوئی (جان) اپنے بوجھ کی طرف بلائے گی تو اس میں سے کچھ بھی نہ اٹھایا جائے گا۔“ [ بخاری، الجنائز، باب قول النبي ﷺ : یعذب المیت ببعض بکاء أھلہ علیہ۔۔ ، قبل ح : 1284 ]
وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا : یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے عدل کا بیان ہے، فرمایا کہ جب تک ہم کوئی پیغام پہنچانے والا نہ بھیجیں جو ان تک اللہ کے احکام پہنچا دے اور حجت پوری ہوجائے ہم کبھی عذاب دینے والے نہیں۔ یہاں بعض مفسرین نے بچپن یا زمانۂ جاہلیت میں فوت ہونے والوں کے متعلق مختلف اقوال اور ان کے دلائل کے ساتھ لمبی بحث کی ہے، مگر ایسی کہ آدمی کسی نتیجے پر نہیں پہنچتا، اس لیے میں اس بحث کو واضح طریقے سے تحریر کرتا ہوں۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بچپن میں فوت ہوجانے والے بچے، خواہ مسلمانوں کے ہوں یا مشرکین کے، ان کو عذاب نہیں ہوگا۔ امام بخاری ؓ نے ”بَابُ مَا قِیْلَ فِيْ أَوْلَادِ الْمُشْرِکِیْنَ“ میں اس کے متعلق پہلے ابن عباس اور ابوہریرہ ؓ کی روایات ذکر کی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے مشرکین کے بچوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : (اَللّٰہُ أَعْلَمُ بِمَا کَانُوْا عَامِلِیْنَ) [ بخاری، الجنائز : 1383، 1384 ] ”اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو وہ عمل کرنے والے تھے۔“ اس کے بعد ابوہریرہ ؓ کی حدیث بیان کی کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَأَبْوَاہُ یُھَوِّدَانِہِ أَوْ یُنَصِّرَانِہِ أَوْ یُمَجِّسَانِہِ ، کَمَثَلِ الْبَھِیْمَۃِ تُنْتَجُ الْبَھِیْمَۃَ ، ھَلْ تَرَی فِیْھَا جَدْعاءَ ؟) [ بخاری : 1385 ] ”ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی بنا دیتے ہیں یا اسے نصرانی بنا دیتے ہیں، یا اسے مجوسی بنا دیتے ہیں، جیسے چوپایہ پیدا ہوتا ہے (تو مکمل اعضا والا ہوتا ہے) کیا تم ان میں کوئی کان کٹا دیکھتے ہو۔“ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر بچہ مسلمان پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد سمرہ بن جندب ؓ کی طویل حدیث بیان فرمائی ہے، جس میں ہے کہ جبریل اور میکائیل ؑ نے رسول اللہ ﷺ کو ایک رات اپنے ساتھ لے جا کر بہت سی چیزوں کا مشاہدہ کروایا، اس حدیث میں ہے کہ ہم ایک سرسبز باغ میں پہنچے جس میں ایک بہت بڑا درخت تھا، اس کی جڑ کے پاس ایک بزرگ اور بہت سے بچے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے ان مشاہدات کی حقیقت پوچھی تو فرشتوں نے تمام مشاہدات کے آخر میں سب کی حقیقت بیان کی اور اس مشاہدے کے متعلق بتایا کہ یہ بزرگ ابراہیم ؑ تھے اور وہ بچے لوگوں کے بچے تھے۔ [ بخاری : 1386 ] امام بخاری ؓ نے ”کِتَاب التَّعْبِیْرِ ، بَابُ تَعْبِیْرِ الرُّؤْیَا بَعْدَ صَلَاۃِ الصُّبْحِ (7047)“ میں یہی حدیث زیادہ تفصیل سے بیان فرمائی ہے۔ اس میں ہے کہ فرشتوں نے بتایا کہ باغ میں جو لمبے قد کے بزرگ تھے وہ ابراہیم ؑ تھے اور وہ بچے جو ان کے اردگرد تھے وہ ایسے بچے تھے جو فطرت پر فوت ہوئے۔ سمرہ ؓ فرماتے ہیں کہ کچھ مسلمانوں نے پوچھا : (یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! وَ أَوْلاَدُ الْمُشْرِکِیْنَ ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَ أَوْلَادُ الْمُشْرِکِیْنَ) ”یا رسول اللہ ! اور مشرکوں کے بچے بھی ؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اور مشرکوں کے بچے بھی۔“ امام بخاری ؓ کی اس ترتیب سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جب تک آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مشرکوں کے بچوں کے متعلق کوئی بات نہیں بتائی گئی، آپ نے یہ بات اللہ کے علم کے سپرد فرمائی، مگر جب آپ ﷺ کو آگاہ کردیا گیا تو آپ نے مسلم و مشرک تمام لوگوں کے بچوں کے جنتی ہونے کی صراحت فرما دی۔ البتہ دنیوی احکام میں مشرکوں کے بچوں کا حکم ان کے باپوں والا ہی ہوگا۔ اس لیے جہاد کے دوران حملے میں یا لونڈی و غلام بناتے وقت ان کا حکم مشرکین ہی کا ہوگا۔ ہاں، وہ کلمہ پڑھ لیں تو انھیں مسلمان سمجھا جائے گا۔
رہ گئے اہل فترت و جاہلیت، یعنی عرب کے وہ لوگ جو رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے فوت ہوگئے تو ان تمام کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ انھیں اللہ کی طرف سے توحید کا پیغام نہیں پہنچا، بلکہ وہ اپنے آپ کو ملت ابراہیم پر قرار دیتے تھے اور وہ اسماعیل ؑ کی اولاد اور امت تھے۔ ایک لمبی مدت گزرنے کی وجہ سے ممکن ہے دین کے تفصیلی احکام ان کو معلوم نہ رہے ہوں، تاہم اکثریت بلکہ تمام لوگوں کے بت پرستی میں مبتلا ہونے کے باوجود توحید اور دین ابراہیم کا پیغام پہنچانے والے کچھ لوگ ان میں ضرور موجود رہے ہیں، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کو نبوت ملنے سے پہلے بھی کچھ لوگ بتوں کی پرستش نہیں کرتے تھے، یہ لوگ ”حنفاء“ کہلاتے تھے، ان میں زید بن عمرو بن نفیل اور ورقہ بن نوفل بھی شامل ہیں۔ چناچہ صحیح بخاری میں عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے : (أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَقِيَ زَیْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَیْلٍ بِأَسْفَلِ بَلْدَحٍ قَبْلَ أَنْ یَّنْزِلَ عَلَی النَّبِيَّصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ ، فَقُدِّمَتْ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سُفْرَۃٌ فَأَبٰی أَنْ یَّأَکُلَ مِنْھَا، ثُمَّ قَالَ زَیْدٌ إِنِّيْ لَسْتُ آکُلُ مِمَّا تَذْبَحُوْنَ عَلٰی أَنْصَابِکُمْ ، وَلاَ آکُلُ إِلَّا مَا ذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ ، فَإِنَّ زَیْدَ بْنَ عَمْرٍو کَانَ یَعِیْبُ عَلٰی قُرَیْشٍ ذَبَاءِحَھُمْ وَ یَقُوْلُ الشَّاۃُ خَلَقَھَا اللّٰہُ وَأَنْزَلَ لَھَا مِنَ السَّمَاءِ الْمَاءَ ، وَأَنْبَتَ لَھَا مِنَ الْأَرْضِ ، ثُمَّ تَذْبَحُوْنَھَا عَلٰی غَیْرِ اسْمِ اللّٰہِ ؟ إِنْکَارًا لِذٰلِکَ وَ إِعْظَامًا لَّہُ) [ بخاری، مناقب الأنصار، باب حدیث زید بن عمرو بن نفیل : 3826 ] ”نبی ﷺ نبوت ملنے سے پہلے زید بن عمرو بن نفیل کو مقام بلدح کے نچلے حصے میں ملے، نبی ﷺ کے سامنے ایک دستر خوان پیش کیا گیا تو اس نے اس سے کھانے سے انکار کردیا، زید نے کہا : ”میں اس میں سے نہیں کھاتا جو تم اپنے نصب کردہ بتوں وغیرہ پر ذبح کرتے ہو اور میں اس کے سوا نہیں کھاتا جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔“ زید بن عمرو قریش پر ان کے ذبیحوں پر عیب لگاتے تھے اور کہتے تھے : ”بھیڑ بکری جو ہے اسے اللہ نے پیدا فرمایا اور اسی نے اس کے لیے آسمان سے پانی اتارا اور زمین سے اس کے لیے پودے اگائے، پھر تم اسے اللہ کے غیر کے نام پر ذبح کرتے ہو۔“ ان کے اس فعل کا انکار کرتے ہوئے اور اسے بہت بڑا گناہ قرار دیتے ہوئے یہ بات کہتے تھے۔“ ورقہ بن نوفل بت پرستی سے بےزار ہو کر نصرانی ہوگئے تھے۔“ [ بخاری، بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی إلٰی رسول اللہ ﷺ : 2 ] اور ظاہر ہے کہ وہ موحد نصرانی بنے ہوں گے، تثلیث والے مشرک نہیں، کیونکہ پھر انھیں بت پرستی چھوڑ کر نصرانی بننے کی ضرورت نہ تھی اور اسی توحید کی وجہ سے انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی نبوت تسلیم کی۔ صحیح بخاری میں ہے کہ اسماء بنت ابی بکر ؓ فرماتی ہیں : (رَأَیْتُ زَیْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَیْلٍ قَاءِمًا مُسْنِدًا ظَھْرَہُ إِلَی الْکَعْبَۃِ یَقُوْلُ یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ ! وَاللّٰہِ ! مَا مِنْکُمْ عَلٰی دِیْنِ إِبْرَاھِیْمَ غَیْرِيْ) [ بخاری، مناقب الأنصار، باب حدیث زید بن عمرو بن نفیل : 3828 ] میں نے زید بن عمرو بن نفیل کو دیکھا وہ کعبے کے ساتھ پیٹھ کا سہارا لے کر کھڑے کہہ رہے تھے : ”اے قریش کی جماعت ! اللہ کی قسم ! تم میں سے کوئی شخص میرے سوا دین ابراہیم پر نہیں ہے۔“
الغرض جب ابراہیم اور اسماعیل ؑ سے سیکڑوں سال بعد بھی توحید پر قائم اور اس کا پیغام کھلم کھلا کعبہ میں کھڑے ہو کردینے والے موجود تھے تو ان سے پہلے ابراہیم و اسماعیل ؑ کے زمانے کے جس قدر قریب جائیں توحید والے اور اپنے آپ کو دین ابراہیم پر قائم کہنے والے یقیناً موجود رہے ہیں۔ یہ تو یمن سے آنے والے عمرو بن لحی خزاعی کا بیڑا غرق ہوا کہ اس نے کعبہ میں بت لاکر رکھ دیے، جس کے بعد قریش بھی بت پرستی میں مبتلا ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا : (وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ) [ فاطر : 24 ] ”اور کوئی امت نہیں مگر اس میں کوئی نہ کوئی ڈرانے والا گزرا ہے۔“ یہ ڈرانے والا کوئی امتی بھی ہوسکتا ہے، جیسا کہ آج رسول اللہ ﷺ کی وفات کو تقریباً 1421 برس گزر چکے مگر آپ کی دعوت مسلسل دنیا کے ہر خطے میں جاری ہے اور داعیان اسلام بشارت و نذارت کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ زمانۂ فترت میں دو قسم کے لوگ ہوسکتے ہیں، بلکہ آج بھی یہ دونوں قسمیں موجود ہیں، ایک وہ جنھیں کسی ذریعے سے توحید کی دعوت پہنچ گئی، خواہ وہ کسی توحید پر قائم شخص کے ذریعے سے پہنچی ہو یا اس کے مخالف کے ذریعے سے، جیسا کہ ابوسفیان نے اپنے زمانۂ کفر میں ہرقل کے سامنے دین اسلام کا بہترین خلاصہ پیش کیا تھا، پھر انھوں نے نہ توجہ سے سنا، نہ سوچنے کی زحمت کی، نہ اسے تسلیم کیا تو ان کے جہنمی ہونے میں کوئی شک نہیں۔ انھیں صرف اہل فترت ہونے کی وجہ سے جنتی نہیں کہا جاسکتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (كُلَّمَآ اُلْقِيَ فِيْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَــتُهَآ اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَذِيْرٌ قَالُوْا بَلٰي قَدْ جَاۗءَنَا نَذِيْرٌ ڏ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ ښ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ كَبِيْرٍ وَقَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْٓ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ 10 فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِيْرِ) [ الملک : 8 تا 11 ] ”جب بھی اس (جہنم) میں کوئی گروہ ڈالا جائے گا تو اس کے نگران ان سے پو چھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا ؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں ؟ یقیناً ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تو ہم نے جھٹلا دیا اور ہم نے کہا اللہ نے کوئی چیز نہیں اتاری، تم تو ایک بڑی گمراہی میں ہی پڑے ہوئے ہو۔ اور وہ کہیں گے اگر ہم سنتے ہوتے یا سمجھتے ہوتے تو بھڑکتی ہوئی آگ والوں میں سے نہ ہوتے۔ پس وہ اپنے گناہ کا اقرار کریں گے، سو دوری ہے بھڑکتی ہوئی آگ والوں کے لیے۔“
یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَیَنْتَھِیَنَّ أَقْوَامٌ یَفْتَخِرُوْنَ بآبَاءِھِمُ الَّذِیْنَ مَاتُوْا، إِنَّمَا ھُمْ فَحْمُ جَھَنَّمَ ، أَوْ لَیَکُوْنُنَّ أَھْوَنَ عَلَی اللّٰہِ مِنَ الْجُعَلِ الَّذِيْ یُدَھْدِہُ الْخِرَاءَ بِأَنْفِہِ) [ ترمذي، المناقب، باب في فضل الشام والیمن : 3955، حسنہ الألباني ] ”کچھ لوگ جو اپنے ان آباء پر فخر کرتے ہیں جو فوت ہوچکے، جو محض جہنم کے کوئلے ہیں، ان پر فخر کرنے سے باز آجائیں گے ورنہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں پاخانے کے اس کیڑے سے بھی ذلیل ہوں گے جو اپنی ناک کے ساتھ پاخانے کو دھکیلتا جاتا ہے۔“ اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے زمانۂ جاہلیت میں فوت ہونے والوں کو جہنم کے کوئلے قرار دیا۔ مزید تفصیل سورة توبہ کی آیت (113) کی تشریح میں تفسیر کی کسی بھی کتاب سے دیکھ لیں۔
اب اہل فترت کے صرف وہ لوگ رہ گئے جنھیں واقعی دعوت نہیں پہنچی تو یہ صرف اہل فترت ہی کے ساتھ خاص نہیں، اب بھی اگر دنیا کے کسی خطے میں واقعی کوئی ایسا شخص موجود ہے جسے بالکل دعوت نہیں پہنچی تو اس آیت ”وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا“ کے تحت حجت پوری کیے بغیر اسے عذاب نہیں ہوگا، خواہ وہ حجت قیامت کے دن پوری کی جائے۔ جہاں تک میں نے مطالعہ کیا ہے ان لوگوں کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے آنے والی احادیث میں سے سب سے صحیح حدیث وہ ہے جو اسود بن سریع اور ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”چار آدمی قیامت کے دن اپنی حجت (دلیل) پیش کریں گے، ایک بہرا آدمی جو کچھ نہیں سنتا، ایک احمق آدمی، ایک حد سے بوڑھا اور ایک وہ آدمی جو فترت میں فوت ہوا۔ جو بہرا ہے وہ کہے گا، اے میرے رب ! اسلام آیا تو مجھے کچھ سنائی نہ دیتا تھا، احمق کہے گا، اے میرے رب ! اسلام آیا اور میں کچھ عقل نہ رکھتا تھا اور بچے مجھے مینگنیاں مارتے تھے، حد سے بوڑھا کہے گا، اے میرے رب ! اسلام آیا اور میں کچھ سمجھتا نہ تھا اور جو فترت میں فوت ہوا وہ کہے گا، اے میرے رب ! میرے پاس تیرا کوئی پیغام لانے والا نہیں آیا۔ تو اللہ تعالیٰ ان سے ان کے پختہ عہد لے گا کہ وہ جو کہے گا اس کی اطاعت کریں گے ؟ تو ان کی طرف پیغام بھیجا جائے گا کہ آگ میں داخل ہوجاؤ، تو جو داخل ہوجائے گا وہ اس پر ٹھنڈک اور سلامتی بن جائے گی اور جو داخل نہیں ہوگا اسے گھسیٹ کر اس میں ڈال دیا جائے گا۔“ [ مسند أحمد : 4؍24، ح : 16307۔ ابن حبان : 7357 ] صحیح الجامع (881) میں شیخ البانی ؓ نے اسے صحیح فرمایا ہے، ابن کثیر نے فرمایا کہ اسے اسحاق بن راہویہ نے معاویہ بن ہشام سے ایسے ہی روایت کیا اور بیہقی نے اسے کتاب الاعتقاد میں ”حنبل عن علی بن عبد اللہ“ کی سند سے روایت کیا اور فرمایا یہ اسناد صحیح ہے۔ محترم زبیر علی زئی صاحب نے اردو تفسیر ابن کثیر کی تخریج میں اس کی ایک ہم معنی حدیث کو جو اہل جاہلیت کے متعلق ہے، حاکم (4؍449، 450) کے حوالے سے حسن لکھا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ اگر پیغام پہنچ جاتا تو کوئی شخص کیا کرتا، مگر ان چاروں کا عذر بھی باقی نہیں رہنے دیا جائے گا، بلکہ قیامت کے دن ان کے امتحان کے بعد اس کے نتیجے کے مطابق ان سے سلوک ہوگا، البتہ بچوں کے امتحان کی کوئی روایت صحیح نہیں۔ [ وَاللّٰہُ أَعْلَمُ وَعِلْمُہُ أَتَمُّ ]
Ayah 17:16وَاِذَآ اَرَدْنَآ اَنْ نُّهْلِكَ۔۔ : ”اَمَرْنَا“ امر نہی کی ضد ہے، حکم دینا ”مُتْرَفٌ“ وہ شخص جسے نعمت اور خوش حالی عطا کی گئی ہو اور کھلا چھوڑ دیا گیا ہو کہ جو چاہے کرے۔ کہا جاتا ہے : ”أَتْرَفَتْہُ النِّعْمَۃُ“ اسے نعمت نے سرکش اور باغی بنادیا۔ ”تَدْمِیْراً“ تاکید کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”بری طرح برباد کرنا۔“
یہ پچھلی آیت کے مفہوم ہی کی تکمیل ہے کہ اللہ تعالیٰ حجت تمام کیے بغیر عذاب نہیں دیتا۔ فرمایا، ہم اس بستی کے خوش حال لوگوں کو حکم دیتے ہیں۔ ”اَمَرْنَا“ کا مفعول محذوف ہے، وہ یا تو ”بِأَمْرٍ“ ہے، یعنی ہم انھیں کوئی حکم دیتے ہیں، یا ”بِالإِْیْمَانِ وَالْعَمَلِ الصَّالِحِ“ ہے، یعنی ہم اس بستی کے رسول یا دوسرے مصلح لوگوں کے ذریعے سے اس کے خوش حال لوگوں کو ایمان اور عمل صالح کا حکم دیتے ہیں۔ ”فَفَسَقُوْا“ تو وہ اس حکم کو یا ایمان اور عمل صالح کے حکم کو نہیں مانتے، بلکہ ملک بھر میں فسق و فجور بپا کردیتے ہیں تو ان کا عذاب کا حق دار ہونا ثابت ہوجاتا ہے، تو پھر ہم صرف خوش حال لوگوں ہی کو نہیں بلکہ ان کے پیچھے چلنے والے ضعفاء کو بھی بلکہ بستی کی عمارتوں کو بھی بری طرح برباد کردیتے ہیں۔ ضعفاء کی ہلاکت کے سبب کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (166، 167) ، احزاب (64 تا 68) اور اعراف (38، 39) اور بستی کی بربادی لفظ ”قَرْیَةً“ سے ظاہر ہو رہی ہے۔
بعض مفسرین نے ”فَفَسَقُوْا فِيْهَا“ کی مناسبت سے ”اَمَرْنَا“ کا محذوف مفعول ”بِالْفِسْقِ“ نکالا ہے، یعنی جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوش حال لوگوں کو فسق کا حکم دیتے ہیں۔۔ مگر یہ بات درست نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو نیکی کا حکم دیتا ہے اور نافرمانی سے منع کرتا ہے، خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ۭقُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَاْمُرُ بالْفَحْشَاۗءِ) [ الأعراف : 28 ] ”کہہ دیجیے بیشک اللہ بےحیائی کا حکم نہیں دیتا۔“ اور دیکھیے سورة نحل (90) اور سبا (34، 35) ہاں اگر یہ تاویل کی جائے تو الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کا شرعی حکم تو نیکی ہی کا ہوتا ہے مگر کونی حکم (جس کے تحت کائنات چل رہی ہے، کافر کفر کر رہے ہیں، ظالم ظلم کر رہے ہیں، مظلوموں پر ظلم ہو رہا ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی بیشمار حکمتیں ہیں) ہر قسم کا ہوسکتا ہے، اگرچہ یہ کونی حکم بھی شرعی احکام کی نافرمانی اور اللہ اور اس کے رسول کو بھلا دینے کے نتیجے ہی میں ہوتا ہے، چناچہ ان نافرمانوں کی رسی دراز کردی جاتی ہے اور دنیا کی نعمتوں کے دروازے ان کے لیے کھول دیے جاتے ہیں کہ جتنی چاہو نافرمانی کرلو، پھر جب قرار داد جرم مکمل ہوجاتی ہے تو اللہ کا عذاب آجاتا ہے۔ (دیکھیے انعام : 42 تا 45) بعض نے ”مترفیھا“ کا معنی ”أَکْثَرْنَا“ بھی کیا ہے کہ ہم اس کے ”مترفین“ کو بہت بڑھا دیتے ہیں تو وہ فخر میں آ کر نافرمانی پر اتر آتے ہیں۔ ان تینوں معنوں میں سے پہلا معنی زیادہ صحیح ہے جو حاشیہ نمبر (2) میں ذکر ہوا، اگرچہ دوسرے معنوں کی بھی گنجائش ہے۔
Ayah 17:17وَكَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ : یہ ”كَمْ“ خبر یہ ہے، جس کا معنی ہے ”بہت۔“ قرن ایک زمانے کے لوگ، عام طور پر یہ مدت ایک سو سال بتائی جاتی ہے۔ رسولوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حکم آنے کے بعد ان کی نافرمانی (فسق) کی وجہ سے نوح ؑ کے بعد ہلاک ہونے والی قوموں اور نسلوں کا بطور مثال ذکر فرمایا کہ مت پوچھو کہ کتنی نسلوں کو ہم نے ہلاک کردیا، مثلاً عاد، ثمود، شعیب اور لوط ؑ کی قومیں اور قوم فرعون وغیرہ۔ نوح ؑ کے بعد اس لیے فرمایا کہ اس سے پہلے لوگ سب توحید پر تھے۔ دیکھیے سورة بقرہ (213)۔
وَكَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ۔۔ : اس جملے کا یہاں دو طرح سے تعلق ہے، ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام قرون کو ان کے گناہوں کی پاداش ہی میں ہلاک کیا، کیونکہ وہ اپنے بندوں کی پوری خبر رکھنے اور دیکھنے والا ہونے میں بہت ہی کافی ہے۔ ”كَفٰى بِرَبِّكَ“ کی ترکیب کے لیے اسی سورت کی آیت (14) ملاحظہ فرمائیں۔ دوسرا تعلق یہ ہے کہ کفار قریش اور پوری امت کو تنبیہ فرمائی کہ یہ مت سمجھنا کہ یہ معاملہ صرف انھی قوموں کے ساتھ ہوا، بلکہ اگر تم بھی اللہ کے رسول ﷺ اور اس کے احکام نہیں مانو گے اور فسق و فجور کا ارتکاب کرو گے تو تمہارے ساتھ بھی اسی طرح ہوگا، اس لیے اپنی اصلاح کرلو۔ اس میں نافرمانوں کو وعید کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے جانشینوں کے لیے تسلی بھی ہے۔
Ayah 17:18مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ۔۔ : صاحب کشاف نے فرمایا، وہ شخص جس کا مقصود جلدی حاصل ہونے والی (یعنی دنیا) ہو اور اس کے سوا اس کا کچھ مقصد نہ ہو، جیسا کہ کفار اور اکثر فاسقوں کا حال ہے تو ہم دنیا کے فوائد میں سے جس قدر چاہتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں عطا فرما دیتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں دو قیدیں لگا دیں، ایک یہ کہ ہم دنیا کی وہ چیز اتنی دیتے ہیں جتنی ہم چاہتے ہیں، دوسری قید یہ کہ صرف اسے دیتے ہیں جس کا ہم ارادہ کرتے ہیں۔ اور واقعی ایسا ہی ہے، آپ ان میں سے بہت سے لوگوں کو دیکھیں گے کہ وہ جتنی بھی تمنا رکھیں انھیں اس کا کچھ حصہ ہی ملتا ہے اور بعض اوقات کچھ بھی نہیں ملتا، سو ان کے لیے دنیا کا فقر اور آخرت کا فقر دونوں جمع ہوگئے۔ رہا متقی مومن تو اس کا مقصود صرف آخرت ہوتا ہے، چناچہ آخرت میں اس کا غنی ہونا یقینی ہے، اسے پروا نہیں ہوتی کہ دنیا کی آسائش اسے ملتی ہے یا نہیں، اگر اسے دنیا میں بھی مل جائے تو وہ شکر کرتا ہے، اگر نہ ملے تو صبر کرتا ہے، پھر کئی دفعہ فقر اس کے لیے بہتر اور اس کی مراد کے حصول میں زیادہ مددگار ہوتا ہے۔ مزید دیکھیے سورة ہود (15، 16) اور سورة شوریٰ (20)۔
”مَذْمُوْمًا“ ”ذَمَّ“ سے اسم مفعول ہے جو مدح کی ضد ہے۔ ”مَّدْحُوْرًا“ ”دُحُوْرٌ“ سے ہے، جس کا معنی دور کرنا، دفع کرنا ہے، یعنی آخرت میں اس کے عمل کسی طرح بھی قبول نہیں کیے جائیں گے۔
Ayah 17:19وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ۔۔ : اس آیت میں عمل کی قبولیت کی تین شرطیں بیان ہوئی ہیں، جن میں بنیادی شرط ”وَهُوَ مُؤْمِنٌ“ یعنی ایمان ہے، یہ بات بہت سی آیات میں بیان ہوئی ہے۔ دیکھیے سورة نساء (124) ، نحل (97) اور مومن (40) وغیرہ۔ کافر کے نیک اعمال قیامت کے دن بےکار ہوں گے۔ دیکھیے سورة ابراہیم (18) ، فرقان (23) اور نور (39) وغیرہ۔ کیونکہ کافر کی نیکیوں کا بدلہ دنیا ہی میں اسے دے دیا جاتا ہے۔ دیکھیے ہود (15، 16) ، شوریٰ (20) احقاف (20) وغیرہ۔ کافر کی نیکیوں کی مثال صدقہ، صلہ رحمی، مہمان نوازی اور مظلوموں کی مدد وغیرہ ہے۔
دوسری شرط اخلاص ہے، جو ”اَرَادَ الْاٰخِرَةَ“ سے ظاہر ہے اور تیسری شرط آخرت کے لائق عمل صالح ہے، جو ”وَسَعٰى لَهَا سَعْيَهَا“ سے ظاہر ہو رہی ہے اور یہ وہ عمل ہے جو کتاب و سنت کے مطابق ہو، ایسے عمل کا بدلہ ضرور ملے گا اور کئی گنا یا بےحساب ملے گا، جیسا کہ کئی آیات میں مذکور ہے : (اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ) [ الزمر : 10 ] ”صرف کامل صبر کرنے والوں ہی کو ان کا اجر کسی شمار کے بغیر دیا جائے گا۔“ تو جس سعی کو اللہ تعالیٰ مشکور قرار دے وہ ایسی ہی ہوتی ہے۔
Ayah 17:20كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاۗءِ وَهٰٓؤُلَاۗءِ۔۔ : ”مَحْظُوْرًا“ ”حَظَرَ یَحْظُرُ“ (ن) سے اسم مفعول ہے، بمعنی روکنا، یعنی ہم مومن و کافر، نیک و بد ہر ایک کو رزق اور دنیا کی نعمتوں سے نوازتے ہیں، ایسا نہیں کہ گناہ یا کفر کی وجہ سے اس کا رزق بند کردیں، کیونکہ دنیا امتحان کی جگہ ہے، نیکی یا بدی کی وجہ سے رزق بند کرنے سے یہ مقصد فوت ہوجاتا ہے۔ ہاں ! اللہ کی تقدیر کے مطابق مومن کا رزق کم یا زیادہ ہوسکتا ہے اور کافر کا بھی۔
Ayah 17:21اُنْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰي بَعْضٍ۔۔ : یعنی دنیا میں سب لوگ رزق، حسن، ذہانت، قوت، اقتدار، غرض کسی چیز میں ایک جیسے نہیں، خواہ مومن ہوں یا کافر، یہ چیزیں مومن کے پاس بھی ہوسکتی ہیں اور کافر کے پاس بھی۔ مگر یہ دنیائے فانی ساری کی ساری بھی اللہ کے ہاں کوئی قیمت نہیں رکھتی۔ سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَوْ کَانَتِ الدُّنْیَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللّٰہِ جَنَاحَ بَعُوْضَۃٍ مَا سَقَی کَافِرًا مِنْھَا شَرْبَۃَ مَاءٍ) [ ترمذی، الزھد، باب ما جاء في ھوان الدنیا علی اللّٰہ عزوجل : 2320، صححہ الألباني ] ”اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے ہاں مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کافر کو پانی کا ایک گھونٹ بھی پینے کو نہ دیتا۔“ اور دیکھیے سورة انعام (165) اور سورة زخرف (32)۔
آخرت میں جہنم کے درکات اور جنت کے درجات کا فرق اس سے بھی بڑھ کر ہوگا۔ ابوسعید خدری ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ أَھْلَ الْجَنَّۃِ یَتَرَاءَ وْنَ أَھْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِھِمْ ، کَمَا تَتَرَاءَ وْنَ الْکَوْکَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ فِي الْأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ أَوِ الْمَغْرِبِ لِتَفَاضُلِ مَا بَیْنَھُمْ قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! تِلْکَ مَنازِلُ الْأَنْبِیَاءِ لاَ یَبْلُغُھَا غَیْرُھُمْ ؟ قَالَ بَلٰی، وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہِ رِجَالٌ آمَنُوْا باللّٰہِ وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِیْنَ) [ بخاری، بدء الخلق، باب ما جاء في صفۃ الجنۃ و أنہا مخلوقۃ : 3256۔ مسلم : 2831 ] ”اہل جنت اپنے اوپر بالا خانوں والوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح مشرق و مغرب میں دور کسی چمک دار ستارے کو دیکھتے ہیں، باہمی درجات کی کمی بیشی کی وجہ سے۔“ لوگوں نے کہا : ”اے اللہ کے رسول ! یہ تو انبیاء کی منازل ہوں گی، جہاں کوئی دوسرا نہیں پہنچ سکتا ؟“ فرمایا : ”کیوں نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! یہ وہ مرد ہوں گے جو اللہ پر ایمان لائے اور انھوں نے رسولوں کی تصدیق کی۔“
Ayah 17:22فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا۔۔ : ”مَّخْذُوْلًا“ وہ ہے جس کی مدد وہ چھوڑ دے جس سے اسے مدد کی امید ہو۔ اس آیت میں تمام اعمال کی بنیاد شرک سے پاک ہونا بیان فرمائی گئی ہے۔ بظاہر مخاطب نبی کریم ﷺ ہیں، مگر درحقیقت ہر انسان اس کا مخاطب ہے، کیونکہ اللہ کے رسول ﷺ سے شرک کا صدور کیسے ہوسکتا ہے۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ بالفرض اگر اللہ کے ساتھ شریک بنانے کا فعل رسول اللہ ﷺ سے بھی سرزد ہوجائے تو پھر آپ کی بھی کوئی تعریف کرنے والا ہوگا نہ کوئی مدد کرنے والا، بلکہ ہر ایک مذمت ہی کرے گا۔ دیکھیے سورة زمر (64 تا 67) ، حج (31) ، مائدہ (72) اور نساء (116)۔
Ayah 17:23وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ : پچھلی آیت میں شرک سے منع فرمانے کے بعد صرف اپنی عبادت کی تاکید کے لیے لفظ ”قَضٰى“ استعمال فرمایا، جس میں انتہائی تاکید پائی جاتی ہے، کیونکہ فیصلہ قطعی ہوتا ہے اور وہ بدلا نہیں جاتا، چناچہ فرمایا ”قَضٰى“ یعنی قطعی حکم اور فیصلہ کردیا ہے کہ اس کے سو اکسی کی عبادت نہ کرو، یعنی صرف اس کے بندے بن کر رہو، غیبی قوتوں کا مالک صرف اس کو سمجھ کر اس سے مانگو۔ انتہائی درجے کی محبت اور خوف کے ساتھ انتہائی عاجزی صرف اس کے لیے اختیار کرو۔ تمہارے دل، زبان اور جسم کے ہر حصے کا اس طرح کا ہر فعل مثلاً قیام، سجدہ، رکوع اور قربانی بلکہ پوری زندگی ایسی عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہونی چاہیے۔
وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا : ”اِحْسَانًا“ امر ”أَحْسِنُوْا“ کا مصدر ہے، جو تاکید کے لیے ہے اور امر کی جگہ آتا ہے۔ اس کے ساتھ امر کا لفظ ذکر نہیں ہوتا مگر مراد امر تاکیدی ہوتا ہے، یعنی والدین کے ساتھ بہت نیکی کرو۔ ”اِمَّا“ اصل میں ”إِنْ مَا“ ہے، ”مَا“ شرط کی تاکید کے لیے ہے، یعنی ”اگر کبھی۔“ ان آیات کے نزول کے وقت رسول اللہ ﷺ کے والد اور والدہ دونوں فوت ہوچکے تھے، ان دونوں یا ایک کا بڑھاپے میں پہنچنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ معلوم ہوا کہ بظاہر نبی ﷺ کو حکم دینے کے باوجود اصل حکم ہر شخص کو ہے۔ ماں باپ خواہ بوڑھے ہوں یا جوان، ہر حال میں ان کا ادب کرنا اور ان سے نرمی سے بات کرنا فرض اور انھیں جھڑکنا گناہ ہے، مگر چونکہ بڑھاپے میں خدمت کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے اور مزاج میں چڑ چڑا پن پیدا ہوجاتا ہے، بلکہ بسا اوقات زیادہ بڑھاپے کی وجہ سے ہوش و حواس بھی ٹھکانے نہیں رہتے، اس لیے خاص طور پر بڑھاپے کا ذکر فرمایا۔
3 اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر صرف اپنی عبادت کی تاکید کے ساتھ والدین سے احسان کا ذکر فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة نساء (36) اور سورة بقرہ (83) دوسرے مقامات پر واضح فرمایا کہ ان سے حسن سلوک لازم ہے، خواہ وہ کافر و مشرک ہوں، بلکہ اگرچہ شرک و کفر کی دعوت بھی دیتے ہوں۔ دیکھیے سورة لقمان (15) اور سورة عنکبوت (8) احادیث میں بھی والدین سے حسن سلوک کی بہت تاکید آئی ہے۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (رَغِمَ أَنْفُ ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ ، قِیْلَ مَنْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! ؟ قَالَ مَنْ أَدْرَکَ وَالِدَیْہِ عِنْدَہ الْکِبَرِ ، أَحَدَھُمَا أَوْ کِلَیْھِمَا ثُمَّ لَمْ یَدْخُلِ الْجَنَّۃَ) [ مسلم، البر والصلۃ، باب رغم من أدرک أبویہ۔۔ : 10؍2551 ] ”اس کی ناک خاک آلود ہو، پھر اس کی ناک خاک آلود ہو، پھر اس کی ناک خاک آلود ہو۔“ پوچھا گیا : ”یا رسول اللہ ! کس کی ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے میں پایا، ان میں سے ایک کو یا دونوں کو، پھر وہ جنت میں داخل نہ ہوا۔“
”عِنْدَک“ کا مطلب یہ ہے کہ پہلے تم والدین کے پاس تھے اور ان کے محتاج تھے، اب وہ بڑھاپے اور کمزوری کی وجہ سے تمہارے پاس اور تمہارے محتاج ہیں۔ چناچہ انھیں ”اف“ بھی نہ کہو، جو اکتاہٹ اور بےادبی کا ہلکے سے ہلکا لفظ ہے، پھر اس سے زیادہ کوئی سخت لفظ بولنا کیسے جائز ہوسکتا ہے ؟
قَوْلًا كَرِيْمًا : بعض اہل علم نے اس کی تفسیر میں قول کریم کی نقشہ کشی یوں فرمائی کہ ان سے ایسے بات کر جیسے ایک خطا کار غلام اپنے سخت مزاج آقا سے بات کرتا ہے اور بعض نے فرمایا کہ بچپن میں جس طرح تمہارے پیشاب پاخانہ کو صاف کرتے وقت وہ کوئی کراہت محسوس نہ کرتے تھے، بلکہ محبت ہی سے پیش آتے تھے، اب تم بھی ان سے وہی سلوک کرو۔ (بغوی)
Ayah 17:24وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاح الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ : ”جَنَاحَ“ پرندے کے پر کو کہتے ہیں اور بازو کو بھی۔ مطلب یہ کہ جس طرح پرندہ اپنے بچوں کے اوپر اپنے پر جھکا کر انھیں اپنی آغوش میں لے کر ہر سرد و گرم سے محفوظ کرلیتا ہے اس طرح تو بھی رحم کی بنا پر تواضع کے بازو ان پر جھکا دے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد کے حقوق کی والدین کے حقوق کی طرح تاکید نہیں فرمائی، کیونکہ اولاد کے لیے ماں باپ کے دل میں قدرتی طور پر شفقت و محبت موجود ہوتی ہے۔ ہاں جو ظلم وہ اولاد پر کرتے تھے اس سے منع فرمایا۔ اس کا ذکر آگے اسی سورت کی آیت (31) میں آ رہا ہے۔
وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا : معلوم ہوا کہ والدین کے لیے اللہ تعالیٰ سے رحم کی دعا کرنا فرض ہے، کیونکہ یہ اللہ کا حکم ہے، اس لیے روزانہ ان کی زندگی میں اور فوت ہونے کے بعد اپنی دعا کے ساتھ ان الفاظ میں یا دوسرے الفاظ میں ان کے لیے دعا ضرور کرنی چاہیے، جیسا کہ ابراہیم ؑ کی دعا ہے : (رَبَّنَا اغْفِرْ لِيْ وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَابُ) [ إبراہیم : 41 ] ”اے ہمارے رب ! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور ایمان والوں کو، جس دن حساب قائم ہوگا۔“ الا یہ کہ ان میں سے کسی کی وفات کفر پر ہو تو مرنے کے بعد ان کے لیے استغفار جائز نہیں۔ ”رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا“ دعا میں یہ خوبی ہے کہ اس کے ساتھ دعا کرتے ہوئے والدین کے بچپن میں پرورش کا احساس ان کے لیے زیادہ اخلاص اور کوشش کے ساتھ دعا کا تقاضا کرتا ہے۔
Ayah 17:25رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِيْ نُفُوْسِكُمْ۔۔ : ان الفاظ میں والدین کے لیے دل میں شفقت و رحمت نہ رکھنے پر وعید بھی ہے اور ایسی صالح اولاد کے لیے تسلی بھی جن کے والدین کسی جائز وجہ کے بغیر ہی ناراض رہتے ہوں اور اولاد کی ہر قسم کی کوشش کے باوجود کسی طرح خوش نہ ہوتے ہوں، تو فرمایا کہ اگر تم نیک ہو اور تمہارے دل میں والدین کے لیے شفقت و رحمت موجود ہے تو ایسے رجوع کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ بیحد بخشنے والا ہے۔ بعض اہل علم نے یہ معنی بیان فرمایا کہ اگر تم سے خدمت میں کوتاہی ہوگئی یا کوئی زیادتی ہوگئی، پھر تم نے رجوع کیا اور توبہ کرلی تو اللہ معاف فرما دے گا۔
Ayah 17:26وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ۔۔ : قرابت والے سے مراد قریبی رشتے دار ہیں، ماں کی طرف سے ہوں یا باپ کی طرف سے، محرم ہوں یا غیر محرم۔ ان کو پہلے اس لیے رکھا کہ ان کو دینے میں دو اجر ہیں، ایک صلہ رحمی کا اور دوسرا صدقے کا۔ ان کا حق یہ ہے کہ ہر صورت ان سے میل جول اور تعلق قائم رکھا جائے، انھیں دین کی دعوت جاری رکھی جائے، ان کی خوشی اور غم میں شرکت کی جائے۔ جب بھی انھیں مدد کی ضرورت ہو مال و جان سے ان کی مدد کی جائے۔ مسکین اور ابن السبیل (مسافر) کی تفسیر سورة توبہ (60) میں دیکھیں۔
وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًا : ”تَبْذِيْرًا“ ”بَذْرٌ“ سے مشتق ہے، جس کا معنی بیج ہے، یعنی بیج کی طرح بکھیرنا۔ اللہ تعالیٰ نے قرابت دار، مسکین اور ابن السبیل کو اس کا حق دینے کے ساتھ ہی بےجا خرچ کرنے سے منع فرمایا۔ واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے جائز خرچ کرنے میں بھی میانہ روی کی تاکید فرمائی، خواہ گھر میں خرچ کرے یا صدقہ وغیرہ میں دے۔ آگے آیت (29) میں اس کی تفصیل آرہی ہے۔ بےجا خرچ کرنے سے مراد یہ ہے کہ ناجائز کاموں میں خرچ کیا جائے (چاہے ایک پیسہ ہی ہو) ، یا جائز کاموں میں بغیر سوچے سمجھے اتنا خرچ کیا جائے جو حق داروں کے حقوق ضائع کرنے اور حرام کے ارتکاب کا سبب بنے۔
Ayah 17:27اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ كَانُوْٓا اِخْوَان الشَّيٰطِيْنِ۔۔ : بےجا خرچ کرنے والوں کو ہمیشہ سے شیطانوں کے بھائی، یعنی شیطانوں کے ساتھی اور ان جیسے قرار دیا اور وجہ یہ بیان فرمائی کہ شیطان ہمیشہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں اور صلاحیتوں کی ناشکری کرتے ہوئے انھیں غلط جگہ میں خرچ کرتا ہے، اسی طرح جو شخص مالک کے دیے ہوئے مال کو مالک کی نافرمانی میں خرچ کرتا ہے اس کا بھی یہی حال ہے۔ ترجمے میں ”ہمیشہ“ کا مفہوم ”کَانُوا“ اور ”کَانَ“ سے ظاہر ہو رہا ہے۔ مفسر طنطاوی لکھتے ہیں : ”وَکَان الشَّیْطَانُ فِيْ کُلِّ وَقْتٍ وَفِيْ کُلِّ حَالٍ جَحُوْدًا لِنِعَمِ رَبِّہٖ لَا یَشْکُرُہُ عَلَیْھَا“
Ayah 17:28وَاِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَاۗءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ۔۔ :”اِمَّا“ ”إِنْ“ اور ”مَا“ سے مرکب ہے، جس میں ”مَا“ ”إِنْ“ کی تاکید کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”اگر کبھی“ کیا گیا ہے، یعنی ذی القربیٰ ، مسکین اور ابن السبیل سے اعراض (بےرخی) بخل کرتے ہوئے ہرگز جائز نہیں، صرف ایک صورت میں جائز ہے کہ تمہارے پاس دینے کے لیے اس وقت کچھ نہ ہو، ہاں تمہیں اللہ کی رحمت (حلال اور وافر رزق) کے حصول کی امید ہو (جس سے ناامید ہونا کبھی جائز نہیں) تو ان سے ایسے الفاظ میں معذرت کرلو جن میں نرمی اور آسانی ہو۔ ”مَیْسُوْراً“ لفظ عموماً مجہول ہی آتا ہے، جیسے کہا جاتا ہے : ”یُسِرَ فُلاَنٌ فَھُوَ مَیْسُوْرٌ، عُسِرَ فُلَانٌ فَھُوَ مَعْسُوْرٌ، نُحِسَ فُلَانٌ فَھُوَ مَنْحُوْسٌ، سُعِدَ فُلاَنٌ فَھُوَ مَسْعُوْدٌ“ اس آیت کی مزید وضاحت سورة بقرہ (261) میں دیکھیں اور ایسے موقع پر رسول اللہ ﷺ کیا فرماتے تھے، اس کے لیے دیکھیے سورة توبہ کی آیت (92)۔
مہائمی ؓ نے اس کا ایک اور مفہوم بیان کیا ہے کہ اگر تم مذکورہ لوگوں سے اعراض اس وجہ سے کرو کہ ان سے اعراض کرنے میں تمہیں رب تعالیٰ کی رحمت کے حصول کی امید ہو، مثلاً تمہیں معلوم ہو کہ اگر اسے مال دیا تو یہ اسے نشے پر، زنا پر یا کسی گناہ پر صرف کرے گا تو تب بھی نرمی اور خوش اسلوبی سے اس سے معذرت کرو۔ آیت کے الفاظ میں اس مفہوم کی بھی گنجائش ہے۔
Ayah 17:29وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً۔۔ : ”مَغْلُوْلَةً“ ”غُلٌّ“ سے مشتق ہے، جس کا معنی گردن کا طوق ہے، جس کے ساتھ ہاتھ بھی باندھ دیے جائیں، جیسا کہ مجرموں اور قیدیوں سے کیا جاتا ہے، مراد بخل اور کنجوسی ہے اور ”الْبَسْطِ“ (کھولنا) سے مراد سخاوت ہے۔ ”مَّحْسُوْرًا“ جو تھک ہار کر چلنے سے رہ جائے۔ یعنی بالکل بخیلی کرو گے تو خالق و مخلوق دونوں کے ہاں ملامت کیے ہوئے بن جاؤ گے اور پورا ہاتھ کھول دو گے اور سب کچھ دے کر خالی ہاتھ ہوجاؤ گے تو اہل و عیال کی ملامت کے ساتھ ساتھ زندگی کی دوڑ میں تھک ہار کر بیٹھ رہو گے، پھر ممکن ہے کہ بھیک مانگنے تک کی نوبت آجائے۔ سب سے بہتر میانہ روی ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَلَمْ يَـقْتُرُوْا وَكَانَ بَيْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا) [ الفرقان : 67 ] ”اور وہ لوگ (عباد الرحمان ہیں) کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ خرچ میں تنگی کرتے ہیں اور (ان کا خرچ) اس کے درمیان معتدل ہوتا ہے۔“ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (خَیْرُ الصَّدَقَۃِ مَا کَانَ عَنْ ظَہْرِ غِنًی، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُوْلُ) [ بخاری، الزکوٰۃ، باب لا صدقۃ إلا عن ظہر غنی : 1426 ]”بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد غنا موجود رہے (انسان فقیر نہ ہوجائے) اور ابتدا ان سے کرو جن کی تم پرورش کر رہے ہو۔“
Ayah 17:30اِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَــقْدِرُ : یعنی اگر حد سے زیادہ خرچ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ کسی کا فقر دور کرنا چاہتے ہیں تو یہ آپ کے اختیار میں نہیں، آپ جتنا بھی دے لیں اگر رب تعالیٰ اس کے رزق کا دروازہ کشادہ نہ کرے تو کوئی اسے نہیں کھول سکتا، آپ اللہ کے حکم کے مطابق اعتدال سے خرچ کریں، اس کے فقر و غنا کی فکر آپ کا کام نہیں اور نہ یہ آپ کے بس کی بات ہے۔ rnۭ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيْرًۢا بَصِيْرًا : یعنی وہ خوب جانتا ہے کہ کسے کتنا رزق دینا ہے۔ کسی کو زیادہ اور کسی کو کم رزق دینا اس کی حکمت ہے۔ (دیکھیے شوریٰ : 27) اگر سب لوگ برابر ہوتے تو دنیا کے کام چل ہی نہ سکتے۔ (دیکھیے زخرف : 22) دولت مند ہونا یا فقیر ہونا نیکی یا بدی پر منحصر نہیں، بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہے۔ (دیکھیے زخرف : 33 تا 35) زبردستی اس فرق کو مٹایا نہیں جاسکتا، جیسا کہ کمیونسٹوں اور سوشلسٹوں کی خواہش اور کوشش تھی، جس کے لیے انھوں نے لاکھوں لوگ تہ تیغ کیے مگر منہ کی کھائی۔ کیونکہ یہ فطرت سے جنگ ہے جو کبھی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی۔ رہی سرمایہ داری کہ سود اور دوسرے ناجائز طریقوں سے تمام اموال کے مالک صرف چند لوگ بن بیٹھیں اور باقی سب ان کے محتاج ہوں، یہ بھی اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں اور جہاں یہ نظام ہوگا وہ معاشرہ بھی لامحدود ظلم و ستم اور حرص و ہوس کا شکار ہوجائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ امیر و فقیر کے اس فرق کو ختم کرنا نہیں بلکہ اعتدال پر رکھنا ضروری ہے، اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک طرف ناجائز طریقے سے دولت حاصل کرنے کو حرام قرار دیا، چوری ڈاکے، غصب، دھوکے اور سود کی تمام صورتیں حرام قرار دیں، تو دوسری طرف جائز طریقوں سے کمائی ہوئی دولت کو زکوٰۃ، صدقات، میراث اور دوسرے احکام کے ذریعے سے معاشرے میں پھیلا دینے کا حکم دیا۔ ان احکام پر عمل کرنے کی صورت میں معاشرے میں امیری و غریبی میں اعتدال قائم رہے گا، پھر نہ سرمایہ دارانہ طریقے کی وجہ سے امریکہ اور یورپی ممالک کی طرح دولت چند آدمیوں کی مٹھی میں جمع ہونے سے پیدا ہونے والے مظالم ہوں گے اور نہ اس فطری فرق کو زبردستی اور مصنوعی طریقوں سے ختم کرنے کی کوشش سے وہ خرابیاں پیدا ہوں گی جو روس، چین اور دوسرے کمیونسٹ ممالک میں پیدا ہوئیں کہ انسان انسانیت کے مرتبے سے گر کر محض ایک حیوان بن گیا، لوگوں کو ان کی فطری آزادی
سے محروم کردیا گیا، حتیٰ کہ اس نظام پر مبنی تمام ممالک آخر کار ناکام ہونے کی وجہ سے اسے چھوڑنے پر مجبور ہوگئے اور وہاں کے رہنے والے مظلوم مسلم اور غیر مسلم سب لوگوں کو مسلمانوں کے جہاد کی برکت سے اس نظام سے نجات اور آزادی کی زندگی نصیب ہوئی۔ (فالحمد للہ) اب بھی اگرچہ وہاں اس کی باقیات موجود ہیں، جن کی وجہ سے ظلم و ستم کا مکمل خاتمہ نہیں ہوا، اس لیے مسلمانوں کا فرض ہے کہ تمام دنیا کو سرمایہ داری، کمیونزم اور دوسرے تمام ظالمانہ نظاموں سے نجات دلا کر اسلام کا نظام عدل نافذ کریں۔ یہ کام اللہ کے فضل سے شروع ہوچکا ہے اور جہاد اسلامی کی برکت سے تمام دنیا پر اللہ کا دین غالب ہو کر رہے گا۔ (ان شاء اللہ) جیسا کہ فرمایا : (هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بالْهُدٰي وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّهٖ ۙ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ) [ التوبۃ : 33 ] ”وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا، تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے، خواہ مشرک لوگ برا جانیں۔“
Ayah 17:31ۧوَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ۔۔ : اگرچہ اولاد میں لڑکے لڑکیاں دونوں شامل ہیں، مگر عرب کی تاریخ میں اکثر لڑکیوں ہی کو قتل کرنے کا ذکر ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ) [ التکویر : 8 ] ”اور جب زندہ دفن کی گئی سے پوچھا جائے گا۔“ ”الْمَوْءٗدَةُ“ مؤنث لانے سے ظاہر یہی ہے کہ زندہ درگور لڑکی ہی ہوتی تھی، لیکن اگر اسے ”نفس موء ودہ“ کہا جائے تو پھر لڑکا لڑکی دونوں مراد ہوسکتے ہیں، کیونکہ ”نفس“ کا لفظ زبان عرب میں مؤنث ہے، سو معنی ہوگا : ”اور جب زندہ درگور کی ہوئی جان سے سوال کیا جائے گا۔“ اور اگرچہ عام طور پر بیان کیا جاتا ہے کہ وہ لڑکی کو غیرت کی وجہ سے قتل کرتے تھے، مگر اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی سچا نہیں ہوسکتا۔ اس نے مطلق اولاد لڑکے لڑکی دونوں کا ذکر فرمایا ہے اور قتل کا سبب موجودہ فقر یا آئندہ فقر کا خوف بیان فرمایا ہے، ہاں یہ درست ہے کہ اولاد کو قتل کا باعث فقر کے علاوہ بےجا غیرت بھی تھا۔ ”ۭ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَاِيَّاكُمْ“ اور ”ۭ نَحْنُ نَرْزُقُکُم وَاِيَّاھُمْ“ میں تقدیم و تاخیر کی حکمت اور دوسرے فوائد کے لیے دیکھیے سورة انعام (151) ”خِطْاً“ اور ”اِثْمٌ“ کا وزن اور معنی ایک ہی ہے، یعنی دانستہ گناہ۔
Ayah 17:32وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى۔۔ :”فَاحِشَةً“ ایسا قول و فعل جو نہایت قبیح ہو۔ پچھلی آیت میں قتل اولاد سے منع فرمایا، جو نسل انسانی فنا کرنے کا باعث ہے اور اس آیت میں زنا کے قریب جانے سے منع فرمایا، کیونکہ یہ حد سے بڑھی ہوئی برائی کے ساتھ نسب کا نظام خراب کرنے کا باعث ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ خاوند کو نہ بیوی پر اعتماد رہے گا اور نہ اسے اولاد کے اپنا ہونے کا یقین ہوگا، وہ غیرت کی وجہ سے بیوی بچوں کو قتل بھی کرسکتا ہے، جیسا کہ اکثر خبریں آتی رہتی ہیں۔ اگر یہ رسم بد عام ہوجائے تو رشتہ داری کا سارا نظام، جو اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے، ختم ہوجائے گا، نہ باپ کا پتا، نہ کوئی چچا نہ دادا، نہ ان کی اولاد کا علم، نہ ان سے کوئی تعلق نہ رشتہ داری، بلکہ انسان اور حیوان کا فرق ہی ختم ہوجائے گا۔ اس خبیث فعل کی سزا اس وقت مغربی اقوام بھگت رہی ہیں اور انھیں مسلمانوں کے نظام نسب پر شدید حسد ہے، جس کی وجہ سے وہ ان میں بھی بےحیائی اور زنا پھیلانے کا ہر حربہ استعمال کر رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے زنا اور بعض دوسرے کاموں کے قریب جانے سے بھی منع فرمایا ہے اور بعض کاموں کا ارتکاب کرنے سے منع کیا ہے۔ آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس کام کی رغبت طبعی طور پر آدمی کے دل میں ہو اس کے قریب جانے سے بھی منع فرمایا، جیسے زنا کہ جنسی جذبہ آدمی کا سب سے غالب جذبہ ہے، چناچہ فرمایا : (وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى) [ بنی إسرائیل : 32 ] اور فرمایا : (وَلَا تَقْرَبُوْھُنَّ حَتّٰى يَـطْهُرْنَ) [ البقرۃ : 222 ] ”اور ان کے قریب نہ جاؤ، یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائیں۔“ اسی طرح یتیم کے مال کے قریب احسن طریقے سے جانے کے سوا منع فرما دیا، کیونکہ مال کی حرص طبعی جذبہ ہے، چناچہ فرمایا : (وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بالَّتِيْ ھِيَ اَحْسَنُ) [ بنی إسرائیل : 34 ] البتہ قتل کے ارتکاب سے منع کیا، فرمایا : (وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ) [ بنی إسرائیل : 31 ] اور فرمایا : (وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ) [ بنی إسرائیل : 33 ] کیونکہ کسی کو قتل کرنا انسان کا طبعی تقاضا نہیں ہے۔
3 اللہ تعالیٰ نے زنا کے تمام راستے بھی بند فرما دیے جن میں سے چند کا ذکر کیا جاتا ہے : 1 اجنبی عورت کے ساتھ خلوت حرام فرما دی، اسی طرح مردوں کو عورتوں سے عام میل جول سے بھی منع فرما دیا۔ چناچہ عبداللہ بن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لاَ تُسَافِرِ الْمَرْأَۃُ إِلاَّ مَعَ ذِيْ مَحْرَمٍ وَلاَ یَدْخُلُ عَلَیْہَا رَجُلٌ إِلاَّ وَ مَعَہَا مَحْرَمٌ) [ بخاری، جزاء الصید، باب حج النساء : 1862 ] ”کوئی عورت سفر نہ کرے مگر کسی محرم کے ساتھ اور اس کے پاس کوئی مرد نہ جائے مگر اس صورت میں کہ اس عورت کے پاس کوئی محرم موجود ہو۔“ مسلم کی اسی روایت میں ہے : (لاَ یَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِاِمْرَأَۃٍ) [ مسلم، الحج، باب سفر المرأۃ مع محرم إلی حج وغیرہ : 1341 ]”کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ اکیلا نہ ہو۔“ اسی طرح عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِیَّاکُمْ وَالدُّخُوْلَ عَلَی النِّسَاءِ ، فقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! أَفَرَأَیْتَ الْحَمْوَ ؟ قَالَ اَلْحَمْوُ الْمَوْتُ) [ بخاری، النکاح، باب لا یخلون رجل بامرأۃ۔۔ : 5232۔ مسلم : 2172 ] ”عورتوں کے پاس جانے سے بچو۔“ ایک انصاری آدمی نے پوچھا : ”آپ ”حَمْوٌ“ (خاوند کے قریبی مثلاً اس کے بھائی یا چچا زاد یعنی کزن وغیرہ) کے متعلق کیا فرماتے ہیں ؟“ فرمایا : ”حمو“ تو موت ہے (مطلب یہ کہ اس کا زنا تو بعض اوقات موت تک پہنچا دیتا ہے)۔“ 2 مردوں اور عورتوں دونوں کو نگاہ نیچی رکھنے اور اپنی شرم گاہ کی حفاظت کا حکم دیا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة نور (30، 31) کیونکہ آنکھیں اور کان دل کا دروازہ ہیں۔ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ عَلَی ابْنِ آدَمَ حَظَّہُ مِنَ الزِّنَا، أَدْرَکَ ذٰلِکَ لاَ مَحَالَۃَ ، فَزِنَا الْعَیْنِ النَّظَرُ ، وَ زِنَا اللِّسَان المَنْطِقُ ، وَالنَّفْسُ تَتَمَنَّی وَتَشْتَھِيْ ، وَالْفَرْجُ یُصَدِّقُ ذِٰلکَ کُلَّہُ وَ یُکَذِّبُہُ) [ بخاری، الاستئذان، باب زنا الجوارح دون الفرج : 6243۔ مسلم : 2657 ] ”اللہ نے ابن آدم پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا ہے، جسے وہ لامحالہ پانے والا ہے، پس آنکھوں کا زنا ان کا دیکھنا ہے، کانوں کا زنا ان کا سننا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے اور نفس تمنا اور خواہش کرتا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب۔“ 3 عورتوں کو پردے کا حکم دیا اور زینت کے اظہار سے سخت منع فرمایا۔ دیکھیے سورة نور (31) اور سورة احزاب (33) اس کے ساتھ ہی مردوں اور عورتوں کے نکاح کی تاکید فرمائی اور نکاح کو نہایت آسان بنادیا، اگر وسائل مہیا نہ ہوں تو پاک دامن رہنے کی انتہائی کوشش کا حکم دیا۔ دیکھیے سورة نور (32، 33) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَنِ اسْتَطَاعَ الْبَاءَ ۃَ فَلْیَتَزَوَّجْ فَإِنَّہُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ ، وَ أَحْصَنُ لِلْفَرْجِ ، وَ مَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَعَلَیْہِ بالصَّوْمِ ، فَإِنَّہُ لَہُ وِجَاءٌ) [ بخاری، الصوم، باب الصوم لمن خاف علی نفسہ العزبۃ : 1905۔ مسلم : 1400 ] ”تم میں سے جو شخص ضروریات نکاح رکھتا ہو وہ نکاح کرے، کیونکہ یہ نظر کو نیچا رکھنے اور شرم گاہ کو (زنا سے) محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے اور جو طاقت نہ رکھے وہ روزے کو لازم پکڑے، کیونکہ وہ اس کے لیے (شہوت کو) کچلنے کا باعث ہے۔“ 4 زنا کرنے والوں پر، مرد ہوں یا عورت، انتہائی احتیاط کے ساتھ ثبوت قائم کرنے اور پوری شدت کے ساتھ حد نافذ کرنے کا حکم دیا۔ کنواری اور کنوارے کے لیے سو کوڑے اور ایک سال جلاوطنی کی حد مقرر فرمائی، جو رجم سے بہت کم ہے اور غیر کنوارے مرد اور عورت کے لیے سو کوڑے اور رجم کی سزا مقرر فرمائی جو انتہائی سخت سزا ہے۔ اس کی واضح احادیث صحیحین وغیرہ میں معروف ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر اللہ کی حد نافذ ہو تو معاشرہ اس گندگی سے بالکل پاک ہوجائے۔
اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً :”كَانَ“ دوام کے معنی کے لیے ہے۔ طنطاوی ؓ نے اس جگہ ”كَانَ“ کو ”مَا زَالَ“ (ہمیشہ سے) کے معنی میں لیا ہے اور ”فَاحِشَةً“ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”بیشک وہ ہمیشہ سے بڑی بےحیائی ہے اور برا راستہ ہے۔“ ظاہر ہے کہ زنا بےحیائی میں حد سے بڑھا ہوا کام ہے جو خاندانوں، نسلوں اور معاشروں کو برباد کردیتا ہے اور خوف ناک جسمانی اور روحانی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔
وَسَاۗءَ سَبِيْلًا : برا راستہ اس لیے ہے کہ اگر یہ کھل جائے تو اس پر چل کر لوگ آپ کے گھر بھی آپہنچیں گے، پھر کسی کی ماں، بیٹی، بیوی یا بہن کی عزت محفوظ نہیں رہے گی۔ یہی بات آپ ﷺ نے اس نوجوان کو سمجھائی تھی جس نے آپ سے زنا کی اجازت مانگی تھی۔ سیدنا ابو امامہ ؓ بیان کرتے ہیں : ”ایک نوجوان رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے زنا کی اجازت چاہی۔ لوگ اس کی طرف متوجہ ہوئے، اسے ڈانٹا اور کہا کہ خاموش ہوجا، تاہم آپ ﷺ نے فرمایا : (اُدْنُہْ) (میرے) قریب آ۔“ وہ قریب آیا اور جب بیٹھ گیا تو آپ نے فرمایا : (أَتُحِبُّہُ لِأُمِّکَ ؟) ”کیا تو اس کام کو اپنی ماں کے لیے پسند کرتا ہے ؟“ اس نے کہا :”نہیں، اللہ کی قسم ! اے اللہ کے رسول ! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے (ہر گز نہیں)۔“ آپ نے فرمایا : (وَلَا النَّاسُ یُحِبُّوْنَہُ لِأُمَّھَاتِھِمْ) ”تو لوگ بھی اس کام کو اپنی ماں کے لیے پسند نہیں کرتے۔“ پھر آپ نے فرمایا : (أَفَنُحِبُّہُ لابْنَتِکَ ؟) ”اچھا تو اسے اپنی بیٹی کے لیے پسند کرتا ہے ؟“ اس نے کہا : ”نہیں، اللہ کی قسم ! اے اللہ کے رسول ! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے (ہرگز نہیں)۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا : (وَلَا النَّاسُ یُحِبُّوْنَہُ لِبَنَاتِھِمْ) ”لوگ بھی اس کام کو اپنی بیٹیوں کے لیے پسند نہیں کرتے۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا : (أَ فَتُحِبُّہُ لِأُخْتِکَ ؟) ”کیا تو اس کام کو اپنی بہن کے لیے پسند کرتا ہے ؟“ اس نے کہا : ”نہیں، اللہ کی قسم ! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا : (وَلَا النَّاسُ یُحِبُّوْنَہُ لِأَخَوَاتِھِمْ) ”لوگ بھی اس کام کو اپنی بہنوں کے لیے پسند نہیں کرتے۔“ پھر آپ ﷺ نے پوچھا : (أَ فَتُحِبُّہُ لِعَمَّتِکَ) ”کیا تو اس کام کو اپنی پھوپھی کے لیے پسند کرتا ہے ؟“ اس نے کہا : ”نہیں، اللہ کی قسم ! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا : (وَلَا النَّاسُ یُحِبُّوْنَہُ لِعَمَّاتِھِمْ) ”لوگ بھی اس کام کو اپنی پھوپھیوں کے لیے پسند نہیں کرتے۔“ پھر آپ ﷺ نے پوچھا : (أَ فَتُحِبُّہُ لِخَالَتِکَ ؟) ”کیا تو اس کام کو اپنی خالہ کے لیے پسند کرتا ہے ؟“ اس نے کہا : ”نہیں، اللہ کی قسم ! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے (ہرگز نہیں)۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا : (وَلَا النَّاسُ یُحِبُّوْنَہُ لِخَالَاتِھِمْ) ”لوگ بھی اس کام کو اپنی خالاؤں کے لیے پسند نہیں کرتے۔“ پھر آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اس پر رکھا اور یہ دعا کی : (اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ ذَنْبَہُ ، وَ طَھِّرْ قَلْبَہُ وَ حَصِّنْ فَرْجَہُ) ”الٰہی ! اس کے گناہ بخش، اس کے دل کو پاک کر اور اسے عصمت والا بنا۔“ پھر تو یہ حالت تھی کہ یہ نوجوان ایسے کسی کام کی طرف نہیں جھانکتا تھا۔“ [ مسند أحمد : 5؍256، 257، ح : 22274 ]